78. Surah An-Naba
النبإThe Announcement · 40 ayahsتفسیرِ مظہری
اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِیْبًا١ۖۚ۬ یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ وَ یَقُوْلُ الْكٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ تُرٰبًا۠ Open ayah 78:40 in the Quran reader
ہم نے تم کو عذاب سے جو عنقریب آنے والا ہے آگاہ کر دیا ہے جس دن ہر شخص ان (اعمال) کو جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے دیکھ لے گا اور کافر کہے گا کہ اے کاش میں مٹی ہوتا
انا انذرتاکم عذابا قریبا اے کافرو ! ہم تم کو عذاب قریب سے ڈراتے ہیں۔ عذاب قریب سے مراد یا عذاب
آخرت ہے کیونکہ جو آنے والا ہے وہ قریب ہی ہے یا عذاب قبر مراد ہے اور مدت جوتہ کے تسمہ سے بھی زیادہ قریب ہے۔
یوم ینظر المرئی ما قدمت یداہ . یوم ‘ عذابًا کا مفعول فیہ ہے کیونکہ عذاب بمعنی تعذیب (مصدر) ہے۔ ما
قدمت میں مَا سوالیہ ہے اور قدمت (کا مفعول ہونے) کی وجہ سے محل نصب میں ہے یا موصولہ ہے اور ینظر کا مفعول ہے اور صلہ میں ضمیر محذوف ہے یعنی قَدَّمَتْہُ ۔ مطلب یہ ہے کہ ہر شخص قیامت کے دن اپنے اس عمل کو جو پہلے اس نے دنیا سے بھیجا ہوگا اپنے اعمالنامہ میں دیکھے گا یا اس کا بدلہ آخرت میں دیکھے گا یا قبر میں دیکھے گا۔ اعمال کو بھیجنے کی نسبت ہاتھوں کی طرف اس لیے کی کہ عموماً کام ہاتھ سے ہی ہوتے ہیں۔ یا یَدْ (ہاتھ) سے بطور کنایہ قدرت اور قوت مراد ہے۔ حضرت عثمان ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آخرت کی منزلوں میں قبر پہلی منزل ہے ‘ اگر اس سے بچ گیا تو اس کے بعد والی منزلیں آسان (ہو جاتی) ہیں اور اس سے نہ بچا تو بعد والی منزلیں اس سے زیادہ سخت ہوتی ہیں۔ عذاب قبر کے متعلق احادیث بہت ہیں۔ صحیحین میں حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دو قبروں کی طرف سے گزرے۔ فرمایا : ان دونوں پر عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑی چیز کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا ہے (بلکہ معمولی چیز کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے جس سے پرہیز رکھنا بہت آسان ہے) ایک تو پیشاب سے آڑ نہیں کرتا تھا اور مسلم کی روایت میں ہے ایک تو پیشاب سے اپنا بچاؤ نہیں رکھتا تھا اور دوسرا چغلیاں کھاتا پھرتا تھا۔
قبر کے اندر بعض اعمال کے سامنے آنے پر حضرت براء بن عازب ؓ والی لمبی حدیث دلالت کرتی ہے اس حدیث میں مؤمن کے تذکرہ کے ذیل میں آیا ہے ‘ پھر اس کے لیے وہاں تک کشادگی ہوجاتی ہے جہاں تک اس کی نظر پہنچے اور اس کے پاس ایک خوبصورت ‘ خوش لباس ‘ پاکیزہ خوشبو والا آدمی آتا ہے اور کہتا ہے خوش کن چیزوں کی تجھے بشارت ہو۔ یہ تیرا وہی دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ مؤمن اس سے کہتا ہے تیرا چہرہ تو بڑا خوبصورت چہرہ ہے ‘ تو خیر کو لے کر آ رہا ہے (تو کون ہے ؟ ) وہ کہتا ہے میں تیرا نیک عمل ہوں۔ کافر کے سلسلہ میں آیا ہے کہ اس کی قبر تنگ کی جاتی ہے (اور اس کو زمین اتنا دباتی ہے) کہ اس کی پسلیاں ادھر ادھر نکل جاتی ہیں اور ایک بدرو ‘ بد لباس ‘ بدبودار آدمی اس کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے : میرا تیرا عمل بد ہوں ‘ تجھے بشارت ہو ایسی چیز کی جو تیرے لیے ناگوار ہے۔ یہ تیرا وہی دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ وہ کہتا ہے ‘ تو کون ہے ؟ تیرا چہرہ تو بڑا بدصورت ہے ‘ تو بری چیز لے کر آیا۔ وہ کہتا ہے ‘ میں تیرا عمل خبیث ہوں۔ (الحدیث) رواہ احمد۔
و یقول الکافر یلیتنی کنت ترابا . اور کافر کہے گا کاش میں خاک ہوجاتا۔ حاکم نے حضرت عبداللہ بن
عمر ؓ کا قول نقل کیا ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ دیا جائے گا اور اللہ ساری مخلوق یعنی انسان ‘ جنات ‘ چوپایوں اور وحشی جانوروں کو اٹھائے گا ‘ اس روز اللہ چوپایوں کا آپس میں بدلہ دلوائے گا۔ یہاں تک کہ منڈی بکری کا سینگ والی بکری سے بھی بدلہ دلوائے گا۔ جب چوپایوں کے باہمی قصاص سے فارغ ہوجائے گا تو فرمائے گا ‘ خاک ہوجاؤ۔ (وہ خاک ہوجائیں گے) کافر یہ بات دیکھ کر کہے گا : کاش میں بھی خاک ہوجاتا۔
دینوری نے یحییٰ بن جعدہ کی روایت سے اور ابن جریر و ابن ابی حاتم و بیہقی نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے ایسی ہی حدیث نقل کی ہے اور بغوی نے مقاتل کا قول بھی اسی طرح نقل کیا ہے ‘ اس قول میں یہ الفاظ ہیں کہ کافر کہے گا : کاش میں دنیا میں خنزیر کی شکل پر ہوتا اور آج میں خاک ہوجاتا۔
بغوی نے کہا : زیاد اور عبداللہ بن ذکوان کا قول ہے ‘ جب اللہ لوگوں کا فیصلہ کرچکے گا ‘ جنتیوں کو جنت کی طرف اور دوزخیوں کو دوزخ کی طرف لے جانے کا حکم دے چکے گا ‘ تو دوسری انواع کے حیوانات اور مؤمن جنات کے متعلق فیصلہ صادر فرمائے گا اور وہ لوٹ کر خاک بن جائیں گے ‘ اس وقت کافر کہے گا : کاش میں خاک ہوجاتا۔ ابن سلیم نے کہا : مؤمن جنات لوٹ کر خاک ہوجائیں گے۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ الکافر سے مراد ہے ابلیس ‘ کیونکہ اس نے آدم کی تخلیق خاکی کی تحقیر کی تھی اور اپنے آتشی خلقت ہونے پر فخر کیا تھا۔ جب قیامت کے دن آدم اور ایماندار اور اولاد آدم کے ثواب و رحمت کو دیکھے گا اور اپنی سزا و سختی کی حالت اس کو نظرآئیگی تو کہے گا : کاش میں مٹی ہوتا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا : اللہ فرمائے گا : ایسا نہیں ہوسکتا جس نے میری مثل کسی کو قرار دیا ‘ اسکی کوئی عزت نہیں۔
الحمد اللہ ! سورة النباء ختم ہوئی بعونہٖ و منہٖ و تعالیٰ