76. Surah Al-Insaan

الانسانMan · 31 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 76:21

عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ١٘ وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ١ۚ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا Open ayah 76:21 in the Quran reader

ان (کے بدنوں) پر دیبا سبز اور اطلس کے کپڑے ہوں گے۔ اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا پروردگار ان کو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا

علیھم ثیاب سندس . ثیاب مبتداء ہے یا خبر ہے یا عٰلِیَِھُمْ کا فاعل ہے۔ لفظ سندس معرب ہے ‘ ایک قسم کا باریک ریشمی دیبا ہوتا ہے۔ (قاموس) خضر واستبرق . موٹی ریشمی دریائی۔ استبرہ کا معرب ہے یا زربفت یا دیبا (دریائی) کی طرح کوئی ریشمی دبیز کپڑا ہوتا ہے۔ (قاموس) حضرت ابن عمر ؓ کی روایت ہے ‘ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ جنتیوں کے کپڑوں کے متعلق ارشاد فرمائیے ‘ کیا وہ کوئی پیدا ہونے والی چیز ہے ‘ جس کی تخلیق کی جائے گی یا بننے والی چیز ہے جس کو بنا جائے گا ؟ فرمایا : نہیں ‘ وہ ایسی چیز ہے جو جنت سے پھوٹ کر نکلے گی وہ جنت کا ایک پھل ہے۔ (رواہ النسائی و البزار والبیہقی بسند جید) حضرت جابرکا قول مروی ہے کہ جنت میں ایک درخت سے سندس پیدا ہوگا جس سے اہل جنت کے کپڑے (تیار) ہوں گے۔ (رواہ البزار والطبرانی و ابو یعلی بسند صحیح) حضرت عمر کی روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس (مرد) نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں نہ پہنے گا۔ (بخاری و مسلم) نسائی اور حاکم نے یہ حدیث حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بھی بیان کی ہے۔ اس میں اتنا زائد ہے کہ جس نے دنیا میں شراب پی وہ آخرت میں نہیں پئے گا اور جس نے سونے ‘ چاندی کے برتنوں میں دنیا میں کچھ کھایا ‘ پیا وہ آخرت میں سونے چاندی کے برتنوں میں پینے سے محروم رہے گا۔ صحیحین میں حضرت عمر کی روایت کی طرح حضرت انس ؓ اور حضرت زبیر ؓ سے بھی حدیث مروی ہے اور حضرت ابو سعید خدری ؓ سے بھی ایسی ہی روایت آئی ہے مگر اس روایت میں اتنا زائد ہے اگر وہ جنت میں داخل ہو بھی جائے گا تو ریشم تب بھی نہیں پہنے گا۔ ابوداؤد نے صحیح سند سے اس کو بیان کیا ہے۔ نسائی ‘ ابن حبان اور حاکم بھی اس کے ناقل ہیں۔ و حلوا س اور من فضۃ . یہ یطوف علیھم پر معطوف ہے یا عالیھُم کی ضمیر سے حال ہے اور قَدْ محذوف ہے۔ اَسَاوِرَ سے پہلے حرف جر محذوف ہے۔ مِنْ فِضَّۃٍ میں من بیانیہ ہے۔ یعنی اہل جنت کو چاندی کے کنگنوں سے آراستہ کیا جائے گا۔ دوسری آیت میں : اساور من ذہب آیا ہے۔ سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ ان دونوں آیات میں تعارض نہیں ہے ‘ ہوسکتا ہے کہ دونوں قسم کے ساتھ پہنائے جائیں ‘ یا ایک کے بعد دوسرے پہنائے جائینگے یا کسی کو کوئی اور کسی کو کوئی پہنائے جائیں یہ بھی ممکن ہے کہ اساَوِر کو خادموں کی حالت کا بیان قرار دیا جائے۔ اس وقت خادموں کے کنگن چاندی کے ہوں گے اور اہل جنت کے سونے کے اور ایک کنگن چاندی کا دوسرا موتیوں کا۔ ابو الشیخ نے العظمۃ میں کعب احبار کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ کا ایک فرشتہ اہل جنت کیلئے زیور آغاز آفرنیش سے بنا رہا ہے اور قیامت بپا ہونے تک بناتا رہیگا اور اہل جنت کا کوئی ایک زیور بھی نمودار ہوجائے تو سورج کی روشنی (پر غالب آجائے اور وہ) جاتی رہے۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مؤمن کے (ہاتھ کے) زیور وہاں تک پہنچیں گے جہاں تک وضو کا پانی پہنچے گا (یا پہنچتا ہے) نسائی اور حاکم نے حضرت عقبہ بن عامر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے اگر تم جنت کا زیور اور ریشمی لباس پسند کرتے ہو تو دنیا میں اس کو نہ پہنو۔ و سقھم ربھم شرابا طھورا . تمام گندگیوں سے اور ہاتھوں کے چھونے سے پاک۔ ابو قلابہ اور ابراہیم کا قول ہے کہ جنت کی شراب اہل جنت کے بدن میں ناپاک پیشاب نہیں بن جائے گی بلکہ پسینہ بن جائے گی۔ جس کی خوشبو مشک کی طرح ہوگی ‘ اس کی صورت یہ ہوگی کہ پہلے کھانا دیا جائے گا ‘ پھر شراب طہور دی جائے گی۔ شراب پینے سے ان کے پیٹ پاک ہوجائیں گے اور جو کچھ کھایا ہوگا وہ پسینہ بن کر جلد بدن سے خارج ہوجائے گا جس کی خوشبو خالص مشک جیسی ہوگی (پسینہ آنے کے بعد) پھر کھانے کی خواہش لوٹ آئے گی۔ مقاتل نے کہا : جنت کے دروازہ پر پانی کے ایک چشمہ کا نام طہور ہے جو شخص اس کا پانی پئے گا ‘ اللہ اس کے دل سے ہر طرح کا کینہ اور حسد نکال دے گا۔ بیضاوی نے کہا ان اقوال سے بہتر وہ قول ہے کہ جس میں کہا گیا ہے کہ یہاں شراب کی ایک اور خاص قسم مراد ہے جو دونوں مذکورہ اقسام سے اعلیٰ ہے ‘ اسی کو عطا فرمانے کی نسبت اللہ نے اپنی طرف کی ہے اور اسی کو طہور فرمایا ہے کیونکہ اس کو پینے والا تمام حسی لذتوں کی طرف میلان اور غیر اللہ کی طرف رغبت سے پاک ہوجاتا ہے۔ صرف جمال ذات کا معائنہ کرتا اور دیدارِ الٰہی سے لذت اندوز ہوتا ہے۔ یہ درجہ ثواب ابرار کا آخری درجہ اور صدیقین کے ثواب کا ابتدائی مرتبہ اور مبتداء ہے۔ صاحب مدارک نے لکھا ہے ‘ بعض کا قول ہے کہ فرشتے اہل جنت کو شراب پیش کریں گے مگر وہ قبول کرنے سے انکار کردیں گے اور کہیں گے درمیانی وسائل سے تو ہم مدت دراز سے لیتے ہی رہیں ہیں (اب تو براہ راست لیں گے) اچانک غیب سے بغیر ہاتھوں کی وساطت کے پیالے منہ سے لگ جائیں گے ‘ اس قول کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جو ابن ابی الدنیا نے جید سند کے ساتھ نقل کی ہے کہ حضرت ابو امامہ نے فرمایا : جنتی آدمی شراب کی خواہش کرے گا ‘ شراب فوراً اس کے ہاتھ میں آجائے گی ‘ وہ پی لے گا پینے کے بعد پیالہ لوٹ کر اپنی جگہ چلا جائے گا۔ شیخ یعقوب کرخی (رح) نے فرمایا کہ سابقین مقربین کو زیرین عرش سے بغیر کسی درمیانی ذریعہ کے شراب ملے گی اور درمیانی درجہ والوں کو یعنی ابرار کو فرشتے دیں گے ‘ باقی اہل جنت کو یعنی ان لوگوں کو جو گناہوں کی بخشش کے بعد یا سزا بھگتنے کے بعد جنت میں داخل ہوئے ہوں گے ‘ غلمان شراب پیش کریں گے۔ میں کہتا ہوں ہوں ‘ ان آیات میں تو ابرار کے احوال کا تذکرہ ہے ‘ اس لیے ممکن ہے کہ کبھی ان کے غلمان کے ذریعہ سے ‘ کبھی ملائکہ کے ذریعہ سے اور کبھی بغیر کسی ذریعہ کے شراب دی جائے البتہ اہل قربت کو اکثر بغیر واسطہ کے دی جائے گی۔
Ayah 76:22

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا۠ Open ayah 76:22 in the Quran reader

یہ تمہارا صلہ اور تمہاری کوشش (خدا کے ہاں) مقبول ہوئی

ان ھذا کان لکم جزاء . یہ راحت تمہارے اعمال کے عوض ہے۔ وکان سعیکغم مشکورا . مشکور کا معنی مقبول ‘ پسندیدہ ‘ ستائش کے لائق ‘ قابل ثواب۔ اللہ کی طرف سے یہ قول گویا انکے حسن اعمال کا شکریہ ہوگا کیونکہ وہ یتیموں اور مسکینوں سے شکریہ کے طالب نہیں تھے۔ میں کہتا ہوں اللہ نے اپنی مہربانی سے جنت کی نعمتوں کو ابرار کے اعمال کی جزاء قرار دیا ورنہ آدمی کا کونسا عمل اس قابل ہوسکتا ہے کہ اسکی جزاء جنت ہو (یعنی کوئی نیکی جنت کا مستحق نہیں بنا سکتی ‘ نہ خدا پر لازم ہے کہ وہ نیکوں کو جنت عطا فرمائے بلکہ اس نے اپنی مہربانی سے نیکی کے عوض جنت دینے کا وعدہ فرما لیا ہے)
Ayah 76:23

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًاۚ Open ayah 76:23 in the Quran reader

اے محمد (ﷺ) ہم نے تم پر قرآن آہستہ آہستہ نازل کیا ہے

انا نحن نزلنا علیک القران تنزیلا . حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : مراد یہ ہے کہ آیت آیت کر کے قرآن نازل کیا۔ یک دم مجموعہ نازل نہیں کیا۔ نحن مسند الیہ (مبتداء) ہے۔ نزلنا خبر فعلی ہے۔ جملہ کو انّ سے شروع کیا ہے۔ نزلنا خود جمع متکلم ہے لیکن نحن کا اس پر اضافہ کر کے فاعل کی طرف فعل کی اسناد کو مکرر کردیا۔ یہ طرز کلام ‘ کلام کو بہت مؤکد کردیتا ہے۔ اس میں اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ تفریق کے ساتھ قرآن کو نازل کرنے ہی میں حکمت اور مصلحت ہے (یکدم مجموعہ نازل کرنے سے وہ مصلحت اور فائدہ حاصل نہیں ہوتا) پھر فعل کی نسبت اپنی طرف مکرر کرنے سے اختصاص کا فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے (کہ ہم نے ہی نازل کیا کسی دوسرے نے نہیں ‘ یہ فعل ہمارا ہی ہے) اور حکیم کا فعل پر از حکمت ہوتا ہے (خدا حکیم ہے ‘ اس کا یہ فعل حکمت سے خالی نہیں) ۔
Ayah 76:24

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًاۚ Open ayah 76:24 in the Quran reader

تو اپنے پروردگار کے حکم کے مطابق صبر کئے رہو اور ان لوگوں میں سے کسی بد عمل اور ناشکرے کا کہا نہ مانو

فاصبر لحکم ربک . فاء سببی ہے (ف سے پہلے کا کلام بعد والے حکم کا سبب ہے) یعنی جب تم نے نیکوں اور بدوں کا حال اور سزا و جزا کی تاخیر کا سبب جان لیا تو کافروں کی طرف سے پہنچنے والے دکھ پر صبر کرو۔ ان کو عذاب دینے کی جلدی نہ کرو ‘ کافروں پر تمہارے فتح یاب ہونے میں جو تاخیر ہو رہی ہے ‘ اس سے رنجیدہ نہ ہو اور جب تم جانتے ہو کہ قرآن خدا ہی نے نازل فرمایا ہے تو اس کے تشریعی احکام پر صبر کرو۔ ولا تطع منھم اثما او کفورا . یعنی فتح یابی میں تاخیر ہونے کی وجہ سے تنگ دل ہو کر کافروں میں سے کسی آثم یا کفور کے کہنے پر نہ چلو۔ اٰثم سے مراد وہ گنہگار جو گناہ کی طرف چلانے والا ہے خواہ وہ گناہ کفر نہ ہو۔ کفور سے مراد وہ کافر جو کفر کی طرف بلانے والا ہے۔ ایک شبہ (آیت مذکورہ کے مضمون سے سطحی نظر رکھنے والے کے دل میں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے وہ یہ کہ آثم یا کفور کی اطاعت سے منع کیا گیا ہے ‘ یعنی اختیار دیا گیا ہے کہ آثم کی اطاعت مت کرو یا کفور کی اطاعت مت کرو۔ دونوں میں سے کسی ایک کی اطاعت مت کرو ‘ یعنی ایک کا کہنا مت مانو ‘ دوسرے کا مانو) ۔ ازالہ اٰثمًا اور کفورًا دونوں نکرہ ہیں جو نفی (لا تطع) کے زیر عمل ہیں ‘ اس لیے ممانعت میں عموم مستفاد ہو رہا ہے یعنی کوئی گناہ کی دعوت دے یا کفر کی یا دونوں کی ‘ تم کسی کی اطاعت نہ کرو۔ اگر بجائے اَوْ کے آیت میں واؤ ہوتا تو یہ مطلب ہوجاتا کہ اس شخص کی اطاعت نہ کرو جو تم کو اثم اور کفر دونوں کی دعوت دیتا ہو ‘ اس سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ تنہا آثم یا صرف کفر کی دعوت دینے والے کی اطاعت نہ کرو۔ آیت کا اقتضاء آیت سے اقتضاءً ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی کافر کسی ایسے امر کی دعوت دے جو نہ گناہ ہو ‘ نہ کفر تو اس کی اطاعت جائز ہے۔ بعض اہل تفسیر نے کہا کہ آیت میں اَوْ بمعنی واؤ ہے اور آثم و کفور دونوں سے مراد ابوجہل ہے ‘ واقعہ یہ ہوا کہ جب نماز فرض ہوئی تو ابوجہل نے حضور ﷺ کو نماز سے روکا اور کہا : اگر میں نے محمد ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا تو اس کی گردن توڑ دوں گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (رواہ عبدالرزاق و ابن المنذر و ابن جریر عن قتادہ) مقاتل نے کہا کہ آثم سے مراد ہے عتبہ بن ربیعہ اور کفور سے مراد ہے ولید بن مغیرہ۔ دونوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا کہ تم جو کچھ کر رہے ہو ‘ اگر عورتوں کے اور مال کے لیے کر رہے ہو تو ا سے باز آجاؤ۔ عتبہ نے کہا : میں تم سے اپنی بیٹی کا نکاح بغیر مہر کے کر دوں گا اور ولید نے کہا : میں تم کو تمہاری پسند کے موافق مال دے دوں گا ‘ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayah 76:25

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًاۖۚ Open ayah 76:25 in the Quran reader

اور صبح وشام اپنے پروردگار کا نام لیتے رہو

واذکر اسم ربک . ذکر سے مراد ہے نماز ‘ ذکر نماز کا جزء ہے اور جزء بول کر (مجازاً ) کُل مراد لے لیا جاتا ہے (بشرطیکہ جزاء ہم ہو) تکبیر تحریمہ نماز کا رکن ہے (اس لیے اہم جزء ہے) یا یوں کہا جائے گا کہ نماز کا ہر عمل اور ہر قول ذکر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس نماز میں کوئی حصہ انسانی کلام کا نہیں۔ یہ صرف تسبیح ‘ تکبیر اور قراءت ِ قرآن ہے۔ (رواہ مسلم من حدیث معاویۃ بن الحکم) بکرۃ . دن کا شروع حصہ۔ اس سے مراد فجر کی نماز ہے۔ واصیلا . دن کا پچھلا حصہ۔ اس سے مراد ظہر اور عصر کی نمازیں ہیں۔
Ayah 76:26

وَ مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا Open ayah 76:26 in the Quran reader

اور رات کو بڑی رات تک سجدے کرو اور اس کی پاکی بیان کرتے رہو

ومن اللیل فاسجد لہ . سجدہ سے مراد نماز ہے اور اس سے مغرب اور عشاء کی نمازیں مراد ہیں۔ چونکہ رات کی نمازوں میں تکلیف زیادہ برداشت کرنی ہوتی ہے اس لیے من الّیل کو فاسجد سے پہلے ذکر کیا۔ فاسجد میں فاء زائد ہے اور اما شرطیہ مقدر ہے۔ اصل کلام یوں تھا : وَاَمَّا مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ ۔ و سبحہ لیلا . تسبیح سے مراد ہے نماز یعنی نماز شب۔ طویلا . یہ مصدر محذوف کی صفت ہے یعنی تسبیحًا طویلاً اس سے مراد ہے آدھی رات یا اس سے کچھ کم و بیش۔
Ayah 76:27

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَ یَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا Open ayah 76:27 in the Quran reader

یہ لوگ دنیا کو دوست رکھتے ہیں اور (قیامت کے) بھاری دن کو پس پشت چھوڑے دیتے ہیں

ان ھولاء یحبوب العاجلۃ . مکہ کے کافر ‘ دار عاجلہ یعنی دنیا کو چاہتے ہیں۔ و یذرون وراء ھم . اور اپنے آگے یا پست پشت چھوڑ دیتے ہیں۔ یوما ثقیلا . بھاری دن یعنی سخت دن۔ ثقیل اصل میں سخت دشوار کام ہوتا ہے۔ مجازاً دن کو ثقیل کہہ دیا گیا (یعنی اس روز امر اتنا بھاری ہوگا کہ گویا وہ دن بھاری ہوجائیگا) ان ھؤلآء یحبون ...... پورا جملہ ممانعت اطاعت کی علت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کفار مکہ تو خطا کار ہیں یہ جو کچھ کرتے ہیں ‘ دنیا کیلئے کرتے ہیں انکو آخرت کی پروا نہیں اسلئے تم انکے کہنے پر نہ چلو۔
Ayah 76:28

نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ١ۚ وَ اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِیْلًا Open ayah 76:28 in the Quran reader

ہم نے ان کو پیدا کیا اور ان کے مقابل کو مضبوط بنایا۔ اور اگر ہم چاہیں تو ان کے بدلے ان ہی کی طرح اور لوگ لے آئیں

نحن خلقنھم و شددنا اسرھم . ہم نے ہی انکو پیدا کیا اور انکی بناوٹ کمر اور جوڑ جوڑ کی بندش مضبوط کی۔ واذا شئنا بدلنا امثالھا تبدیلا . اور ہم جب چاہیں گے ان جیسی بناوٹ اور بندش مفاصل والے دوسرے لوگ ان کی جگہ لے آئیں گے۔ تبدیلاً مفعول مطلق تاکید کے لیے ہے۔ واذا شءْنا جملہ شرطیہ ہے ‘ اس کا عطف شددنا پر ہے اور نحن خلقنٰھم یعنی اس پورے کلام سے کافروں کی مذمت کا اظہار مقصود ہے کہ انہوں نے اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کے مقابلہ میں ناشکری کی۔ تخلیق اور طاقت بخشی کا تذکرہ خصوصیت کے ساتھ اس لیے کیا کہ تمام نعمتوں کی بنیاد یہی ہے۔ اذا شئنا کے جملہ سے رسول اللہ ﷺ کو اذیت کفار پر تسکین بخشی مقصود ہے اور کافروں کو تباہی اور ہلاکت کی دھمکی ہے اور ان کی جگہ دوسروں کو قائم کردینے کی وعید آمیز اطلاع ہے۔ چناچہ بدر کی لڑائی میں ان کو ہلاک بھی کردیا۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ اِذَا اس جگہ بمعنی اِنْ (محض فرض کے لیے) ہے یعنی اگر اللہ چاہے گا تو تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے گا لیکن اس کی مشیت نہیں ہوئی ‘ اس لیے اس نے عام طور پر کفار مکہ کو تباہ نہیں کیا۔ )
Ayah 76:29

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 76:29 in the Quran reader

یہ تو نصیحت ہے۔ جو چاہے اپنے پروردگار کی طرف پہنچنے کا رستہ اختیار کرے

ان ھذہ . یہ سورت یا یہ آیات۔ تذکرۃ . نصیحت اور یادداشت ہیں جو اللہ تک پہنچنے کا راستہ اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کا طریقہ بتاتی ہیں۔ فمن شاء اتخذ الی ربہ سبیلا . اب جو اللہ کی قربت اور اس کے راستہ پر چلنا چاہے وہ رب تک پہنچنے کا راستہ اختیار کرے یعنی اس کی طاعت کرے ہمیشہ اس کی یاد کرے اور دل سے خلوص رکھے اور رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرے۔
Ayah 76:30

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۗۖ Open ayah 76:30 in the Quran reader

اور تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے مگر جو خدا کو منظور ہو۔ بےشک خدا جاننے والا حکمت والا ہے

وما تشاء ون الان یشاء اللہ . یعنی اے لوگو ! یا اے کافرو ! تمہاری مشیت راہ خدا پر چلنے کے متعلق ہو یا کسی اور چیز کے متعلق۔ کسی وقت بھی اس کا وجود نہیں ہوسکتا مگر اسی وقت تمہاری مشیت کا وجود ہوگا جب خدا کی مشیت تمہاری مشیت کی موجد ہو (یعنی تمہاری مشیت خود بخود پیدا نہیں ہوسکتی ‘ تمہاری مشیت کی ہستی اور تخلیق اللہ کی مشیت پر موقوف ہے) ۔ حضرت عبداللہ بن عمرو کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمام بنی آدم کے دل ایک دل کی طرح رحمن کی چٹکی میں ہیں ‘ جس طرح چاہتا ہے اس کو پھیر دیتا ہے اس کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! اے دلوں کو پھیرنے والے ! میرے دل کو اپنی طاعت پر موڑ دے۔ (مسلم) چونکہ مؤمنوں کو ہدایت یاب کرنے کی اللہ کی مشیت تھی ‘ اس لیے اس کی مشیت کے موافق اہل ایمان نے اس کی راہ اختیار کی اور کافروں کو ہدایت یاب کرنے کی اس کی مرضی نہ تھی ‘ اس لیے اس نے کافروں کو راہ حق پر چلانا نہ چاہا۔ ان اللہ کان علیما . اللہ ہر شخص کی اہلیت سے خوب واقف ہے۔ اس لیے ہر شخص کو وہی دیتا ہے جس کا وہ اہل ہوتا ہے۔ یہ آیت چاہتی ہے کہ انسانوں میں خیر و شر کی قابلیت پہلے سے ہوتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ تعین مؤمن کا مبدأ اللہ کا اسم ہادی ہے اور تعین کافر کا مبدأ اللہ کا اسم مضل۔ حکیما . اللہ حکیم ہے ‘ تقاضائے حکمت کے مطابق اس کی مشیت ہوتی ہے۔
Ayah 76:31

یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 76:31 in the Quran reader

جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ظالموں کے لئے اس نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

یدخل من یشاء فی رحمتہ . اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے ‘ اپنی جنت میں داخل کرتا ہے ‘ رحمت سے مراد ہے جنت کیونکہ آخرت میں جنت ہی محل رحمت ہے۔ رحمت میں داخل کرنے کی مشیت اس طرح ظاہر ہوتی ہے کہ دل میں ایمان اور یقین ڈال دیتا ہے اور سر میں اپنی محبت پیدا کردیتا ہے اور طاعت کی توفیق دے دیتا ہے اور اطاعت پر قائم رکھتا ہے اور کفر و معصیت سے نفرت پیدا کردیتا ہے۔ والظلمین اعدلھا عذابا الیما . الظّٰلمین فعل محذوف کا مفعول ہے۔ اس کا عطف یُدْخِل پر ہے اور دونوں جملوں میں سے ما تشاء ون الاّ ان یشاء اللہ کے مضمون کی تاکید ہوتی ہے ‘ واللہ اعلم۔ الحمد اللہ ! سورة الدہر ختم ہوئی ‘ بعونہ و منہ تعالیٰ