Ayah 74:41عن المجرمین . مجرموں کی حالت کے متعلق سوال کریں گے۔
Ayah 74:42ما سلکم فی سقر . یہ سوال اور اس کا آئندہ جواب اس واقعہ کا بیان ہے جو سائل ‘ مسؤل اور مجرموں کے
درمیان ہوگا۔ مسؤل مجرموں سے کیا پوچھیں گے ‘ مجرم کیا جواب دیں گے اور سوال کرنے والے دوسروں سے کیا دریافت کریں گے ‘ کس کی حالت دریافت کریں گے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کلام میں اختصار ہو۔ اصل کلام اس طرح تھا کہ اہل جنت کچھ لوگوں سے مجرموں کی حالت پوچھیں گے اور وہ مجرموں سے سوال کریں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ عن المجرمین میں عن زائد ہے۔ اس وقت یہ مطلب ہوگا کہ اہل جنت مجرموں سے دریافت کریں گے۔
Ayah 74:43قالوا . مجرم جواب دیں گے۔
لم نک من المصلین . ہم فرض پڑھنے والوں میں سے نہیں تھے۔
Ayah 74:44ولم نک نطعم المسکین . اور جو چیز مسکین کو دینی واجب تھی ‘ ہم اس کو کھانے کو نہیں دیتے تھے ‘ آیت
بتا رہی ہے کہ آخرت میں فروع اعمال پر گرفت کرنے کے لیے کافروں سے خطاب کیا جائے گا البتہ دنیا میں کفار فروع اعمال کے مخاطب اس لیے نہیں ہیں کہ خطاب بالاعمال کی شرط یعنی ایمان مفقود ہے لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کفار اعمال پر مکلف نہیں ہیں۔ کیونکہ کفر کا تقاضا تو شدت تکلیف ہے۔ تخفیف ‘ تکلیف مقتضاء کفر کے خلاف ہے۔ ہاں ! اسلام لانے سے گزشتہ حقوق اللہ ‘ نماز ‘ روزہ ‘ اور مختلف سزائیں ساقط ہوجاتی ہیں۔ حالت کفر میں کافر اللہ کی جو حق تلفیاں کرتا ہے ‘ مسلمان ہونے کے بعد ان کا مواخذہ نہ ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اسلام پہلے کے گناہوں کو نابود کردیتا ہے ‘ الخ۔ یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے۔
Ayah 74:45و کنا نخوض مع الخائضین . اور جس لہو و باطل میں اللہ نے گھسنے کی ممانعت فرما دی تھی ‘ ہم اس میں گھستے تھے۔
Ayah 74:46و کنا نکذب بیوم الدین . یعنی ان تمام جرائم کے بعد (سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ) ہم روز جزا کو غلط
جانتے تھے۔ تکذیب یوم الدین کو تمام جرائم کے بعد ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے ‘ کہ یہ سب سے بڑا جرم ہے۔
Ayah 74:47حتی اتنا الیقین . الیقین سے مراد ہے موت۔
Ayah 74:48فما تنفعھم شفاعۃ الشافعین . بالفرض اگر سب سفارشی بھی مل کر ان کی سفارش کریں تو سفارش قبول نہیں کی
جائے گی۔ اس جملہ کی وابستگی یا تو کل نفس بما کسبت رھینۃٌ سے ہے یا لم نک من المصلّین سے۔ یہ آیت بطور مفہوم مخالف بتارہی ہے کہ اہل ایما کے لیے خواہ وہ فاسق (مرتکب کبیرہ) ہوں ‘ شفاعت سود مند ہوگی۔
اسحق بن راہویہ نے اپنی مسند میں حضرت ام حبیبہ ؓ یا حضرت ام سلمہ ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ ہم عائشہ ؓ کے گھر تھے ‘ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا : جس مسلمان کے تین خورد سال بچے جوانی کو پہنچنے سے پہلے مرجائیں گے ‘ ان کو قیامت کے دن لا کر جنت کے دروازہ پر کھڑا کیا جائے گا اور جنت کے اندر داخل ہونے کا حکم دیا جائے گا ‘ وہ کہیں گے کہ اگر ہمارے ماں ‘ باپ داخل ہوں گے (تو ہم بھی داخل ہوں گے ‘ بغیر ان کے ہم اندر نہیں جائیں گے) آخر دوسری یا تیسری بار حکم دیا جائے گا اور کہا جائے گا جنت میں تم بھی جاؤ اور تمہارے باپ بھی ‘ آیت : فما تنفعھم شفاعۃ الشافعین سے یہی مراد ہے (یعنی شافعین سے مراد خورد سال اطفال ہیں اور شفاعت سے مراد ان کی شفاعت ہے) ۔
حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : ملائکہ اور انبیاء اور شہید اور نیک بندے اور تمام اہل ایمان شفاعت کریں گے ‘ پھر دوزخ کے اندر سوائے چار (قسم کے آدمیوں) کے اور کوئی نہیں رہے گا۔ اس کے بعد آپ نے آیات : قالوا لم نک من المصلّین سے بیوم الدین تک تلاوت کیں (یعنی ان آیات میں جن چار اقسام کا بیان ہے ‘ وہی دوزخ میں رہیں گے۔ )
حضرت عمران بن حصین نے فرمایا : شفاعت مفید ہوگی مگر ان لوگوں کے لیے سود مند نہ ہوگی جن کا تذکرہ تم (آیات مذکورہ میں) سنتے ہو۔ حضرت ابن مسعود ؓ اور حضرت عمران کا قول بتارہا ہے کہ نماز کو ترک کرنے والے ‘ زکوٰۃ نہ دینے والے ‘ لہو اور باطل میں گھسنے والے خواہ مؤمن ہی ہوں مگر شفاعت سے بھی ان کو کچھ حاصل نہ ہوگا۔ ان دونوں بزرگوں کے قول کی بناء اسی آیت پر ہے کیونکہ اس آیت میں فاء سببی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اوصاف اربعہ جن کا ذکر ان آیات میں آیا ہے ‘ شفاعت کے غیر مفید ہونے کے موجب ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ عدم افادۂ شفاعت کا ترتب اوصاف اربعہ کے مجموعہ پر ہے جن میں ایک وصف تکذیب قیامت بھی ہے تو افادۂ شفاعت سے مانع یہ اوصاف بحیثیت مجموعہ ہیں (ایک ایک انفرادی وصف افادۂ شفاعت سے مانع نہیں) ۔
ہر مؤمن کے لیے شفاعت کے جواز پر اجماع ہے ‘ دوزخ میں داخل ہونے کے قابل بعض مؤمن شفاعت کی وجہ سے دوزخ میں داخل ہی نہیں ہوں گے اور داخل ہوچکے ہوں گے تو نکال لیے جائیں گے۔ معتزلہ ‘ خوارج اور ان جیسے دوسرے بدعتی شفاعت کے منکر ہیں ‘ حالانکہ احادیث شفاعت متواتر المعنی ہیں ‘ تمام احادیث کو ذکر کرنا تو موجب طوالت ہے۔ ہم بعض احادیث بیان کرتے ہیں۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں اپنی امت کی شفاعت کروں گا۔ آخر میرا رب ندا دے گا : محمد ﷺ کیا تو اب خوش ہوگیا ؟ میں عرض کروں گا : جی ہاں ! میرے رب میں راضی ہوں۔ (بزار ‘ طبرانی ‘ ابو نعیم) حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کبیرہ گناہوں والے امتیوں کے لیے میری شفاعت ہے۔ (ترمذی ‘ ابن حبان ‘ حاکم ‘ احمد ‘ ابوداؤد) ایسی ہی روایت حضرت جابر ؓ کی بھی ترمذی ‘ ابن حبان ‘ حاکم اور ابن ماجہ نے بیان کی ہے۔ اسی قسم کی روایت حضرت ابن عباس ؓ کی بھی طبرانی نے لکھی ہے اور خطیب نے حضرت ابن عمر اور حضرت کعب بن عجرہ ؓ کی روایات بھی اسی طرح کی درج کی ہیں۔
حضرت عثمان بن عفان ؓ نے مرفوعاً بیان کیا کہ (قیامت کے دن) عالم اور عابد کو لایا جائے گا۔ عابد سے کہا جائے گا جنت میں چلا جا اور عالم سے کہا جائے گا تو شفاعت کے لیے ٹھہرا رہ۔ (اصبہانی) یہ بھی حضرت عثمان غنی ؓ کی مرفوع روایت ہے کہ میری امت کے بدکردار (بھی) اچھے لوگ ہیں۔ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ﷺ ! یہ کیسے ؟ فرمایا : میری امت کے بدکردار لوگوں کو میری شفاعت سے اللہ جنت میں داخل فرمائے گا اور نیکوں کو ان کے اعمال کی وجہ سے اللہ کی طرف سے جنت میں داخلہ ملے گا۔ (طبرانی و ابو نعیم) حضرت ابن عمر ؓ کی موقوف روایت ہے کہ عالم سے کہا جائے گا اپنے شاگردوں کی شفاعت کر ‘ خواہ انکی تعداد آسمان کے ستاروں کے برابر ہوجائے۔ (دیلمی) حضرت ابودرداء ؓ کی مرفوع روایت ہے کہ شہید اپنے ستّر گھر والوں کی شفاعت کرے گا۔ (ابوداؤد)
حضرت انس ؓ کی مرفوع روایت ہے کہ قیامت کے دن لوگ قطار در قطار کھڑے ہوں گے ‘ پھر ایک جنتی آدمی ایک دوزخی کی طرف سے گزرے گا ‘ دوزخی اس سے کہے گا : کیا تجھے یاد نہیں کہ ایک روز تو نے مجھ سے پینے کے لیے کچھ مانگا تھا اور میں نے تجھے شربت پلایا تھا۔ یہ سن کر جنتی اس دوزخی کی سفارش کرے گا۔ پھر وہ (شفاعت یافتہ دوزخی یا وہی جنتی) ایک اور دوزخی شخص کی طرف سے گزرے گا اور مؤخر الذکر ‘ اوّل الذکر شخص سے کہے گا ‘ کیا تجھے یاد نہیں کہ میں نے تجھے پاک پانی دیا تھا۔ یہ سن کر وہ اس دوزخی کی شفاعت کرے گا پھر وہ (نجات یافتہ نمبر دوئم یا اوّل الذکر جنتی) ایک اور دوزخی کی طرف سے گزرے گا اور دوزخی اس سے کہے گا : کیا تجھے یاد نہیں کہ تو فلاں کام کو جا رہا تھا اور میں نے تیرا وہ کام کردیا تھا۔ یہ سن کر وہ شخص اس دوزخی کی شفاعت کرے گا۔
مسئلہ شفاعت کس کو نصیب نہ ہوگی۔ حضرت انس ؓ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے (عقیدۂ ) شفاعت کی تکذیب کی اس کو شفاعت نصیب نہیں ہوگی اور جس نے حوض (کوثر) کی تکذیب کی اس کو حوض سے کچھ حصہ نہیں ملے گا۔ اس روایت کے راوی سعید بن منصور ہیں۔
حضرت زید بن ارقم اور کچھ اوپر دس صحابیوں سے حضور اقدس ﷺ کا یہ فرمان مروی ہے کہ قیامت کے دن میری شفاعت حق ہے ‘ جس کا شفاعت پر ایمان نہ ہوگا وہ شفاعت کا مستحق بھی نہیں ہوگا ‘ ابن منیع۔
حضرت عبدالرحمن ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری شفاعت (ہر مؤمن کے لیے) مباح ہے ‘ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے میرے صحابہ کو گالیاں دیں۔ (ابو نعیم فی الحلیۃ)
حضرت انس ؓ کی مرفوع روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : میری امت کے دو قسم کے لوگوں کو میری شفاعت نہیں حاصل ہوگی : 1) مرجیہ ‘ 2) قدریہ۔ 1 (ابونعیم)
مسئلہ احادیث میں آیا ہے کہ بعض گناہ شفاعت سے محروم رکھنے والے ہیں۔ حضرت عثمان ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے عرب سے کھوٹ کی (دغا دی ‘ فریب کیا) اس کو میری شفاعت حاصل نہ ہوگی۔ بیہقی نے اس کو جید سند سے روایت کیا ہے۔
حضرت معقل بن یسار کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دو آدمیوں کو قیامت کے دن میری شفاعت نصیب نہ ہوگی :
1) بڑا ظالم ‘ لوگوں کی بڑی حق تلفیاں کرنے والا ‘ 2) دنیا میں بہت زیادہ گھسنے والا ‘ دین سے نکل جانے والا۔ بیہقی اور طبرانی نے اس کو عمدہ سند سے بیان کیا ہے۔
حضرت ابو درداء ؓ وغیرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آپس کے جھگڑے چھوڑ دو ‘ قیامت کے دن میں جھگڑالو کی شفاعت نہیں کروں گا۔ (طبرانی)
Ayah 74:49فمالھم عن التذکرہ معرضین . التذکرۃ سے مراد صرف قرآن ہے یا وہ تمام یادداشتیں جن میں قرآن بھی
شامل ہے ‘ استفہام انکاری ہے یعنی دنیا میں ان کا حال ایسا کیوں ہے جو عذاب آخرت تک پہنچانے والا ہے۔
Ayah 74:50کانھم حمر مستنفرۃ . مستنفر بکسر فاء بھاگنے والا۔ نفر اور استنفر دونوں ہم معنی ہیں جیسے : عجب اور
استعجب۔ مستنفرہ بفتح فاء خوفزدہ ‘ بد کے ہوئے ‘ دونوں طرح مروی ہے۔
Ayah 74:51فرت من قسورۃ . قسورۃ بروزن فعولہ . قسر سے مشتق ہے اور قسر کا معنی ہے قہر۔ حضرت ابوہریرہ ؓ
نے فرمایا : قسورۃ سے مراد ہیں شیر۔ عطاء اور کلبی کا بھی یہی قول ہے۔ مجاہد ‘ قتادہ اور ضحاک کے نزدیک تیر انداز (شکاری) مراد ہیں۔ قسورۃ کا واحد اس لفظ سے نہیں آتا۔ عطاء کی روایت سے حضرت ابن عباس ؓ کا قول بھی یہی منقول ہے۔ زید بن اسلم نے کہا : طاقتور اور ہر موٹے قوی کو عرب قسورۃ کہتے ہیں۔ ابو المتوکل نے کہا : لوگوں کے شور و شغب کو قسورۃ کہتے ہیں۔
عکرمہ کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ کا قول آیا ہے کہ قسورۃ شکاری کے جال کو کہتے ہیں ‘ سعید ابن جبیر نے شکاری ترجمہ کیا ہے۔ ابن المنذر نے سدی کی روایت سے بیان کیا کہ کافروں نے کہا : اگر محمد ﷺ سچے ہیں تو ہم میں سے ہر ایک کے سرہانے صبح کو
ایک پروانہ لکھا ہوا ملنا چاہیے جس میں دوزخ سے امان اور حفاظت کی تحریر ہو ‘ اس پر مندرجہ ذیل آیت نازل ہوئی۔
..............
1 مرجیہ : فرقہ قائل ہے کہ اگر ایمان صحیح ہو تو ہر کبیرہ معاف ہے ‘ نہ ترک فرائض پر گرفت ہوگی ‘ نہ ارتکاب حرام پر۔
قدریہ : یعنی معتزلہ وغیرہ قائل ہیں کہ بندہ اپنے افعال کا خود خالق ہے۔ مرجیہ اور قدریہ دونوں گروہ شفاعت کے منکر ہیں۔
Ayah 74:52بل یرید کل امرء منھم ان یوتی صحفا منشرۃ . اس جگہ بَلْ ابتدائیہ ہے اور محض انتقال مضمون
کے لیے لایا گیا ہے۔ کلام سابق سے اعراض مقصود نہیں۔ اہل تفسیر نے بیان کیا ہے کہ کفار قریش نے رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا کہ (اگر تم سچے ہو تو) ہم میں سے ہر شخص کے سرہانے صبح کو ایک کھلی چٹھی برآمد ہونا چاہیے جس میں لکھا ہو کہ آپ خدا کے رسول ﷺ ہیں۔ آپ ﷺ کے کہنے پر عمل کرنا ضروری ہے۔ منشّرۃ اور منشورۃ ہم معنی ہیں۔
Ayah 74:53کلا . وضوح امر کے بعد طلب معجزات سے یہ بازداشت ہے۔
بل لا یخافون الاخرۃ . بَل ابتدائیہ ہے۔ کلا سے کلام کا رخ پھیر دینے کے لیے نہیں ہے۔ یعنی ان کو آخرت کا
خوف نہیں۔ اسی لیے تذکرۃ (قرآن) سے انہوں نے منہ پھیرلیا ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ بَل اضراب کے لیے ہو۔ رفتار کلام بتارہی ہے کہ اصل کلام اس طرح تھا ‘ اگر ان کو کھلے پروانے بھی دے دیئے جائیں تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے کیونکہ ان کو معجزہ کی طلب اس غرض کے لیے نہیں ہے کہ معاملہ مبہم ہے (نبوت کی صداقت ان پر واضح نہیں ہے) معاملہ تو ان پر کھلا ہوا ہے۔ اب جو معجزہ کے طلبگار ہیں ‘ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان کو آخرت کا اندیشہ ہی نہیں ہے۔
تنبیہ خو فِ آخرت ایک وہبی امر ہے۔ صداقت رسول واضح ہوجانے کے بعد بھی ضروری نہیں کہ کا فرمان ہی لیں اور روز قیامت کا اس کو خوف ہوجائے۔
Ayah 74:54کلا . یقینا۔ یا کلمۂ روع ہے۔ بےباکی پر ایک بازداشت ہے یا گزشتہ کلا کی تاکید ہے۔
انہ تذکرۃ . یعنی قرآن یادداشت ہے ‘ اللہ کی ذات اور جمالی و جلالی صفات اور رحمت و عذاب کا اس میں ذکر ہے۔
Ayah 74:55فمن شاء ذکرہ . جو نصیحت پذیر ہونا چاہے وہ اس کو یاد رکھے۔ فاء سببی ہے۔ نصیحت پذیری کو
انسانی مشیت سے وابستہ کرنا بظاہر لفظ تو تخییر ہے (یعنی انسان کو نصیحت پذیر ہونے کا اختیار دیا گیا ہے) لیکن معنوی حیثیت سے یہ زجر ہے۔
Ayah 74:56وما یذکرون الا ان یشاء اللہ . یعنی وہ کسی وقت نصیحت پذیر نہیں ہوسکتے مگر اسی وقت جب خدا ان کی مشیت
اور نصیحت پذیری کا ارادہ کرے۔ یہ آیت صراحۃً دلالت کر رہی ہے کہ انسانی اعمال ‘ اللہ کی مشیت و ارادہ سے وابستہ ہیں۔
ھو اھل التقوی . یعنی اللہ ہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے عذاب سے خوف کیا جائے جس کی
صورت صرف یہ ہے کہ اس کے احکام کی مخالفت سے اجتناب کیا جائے۔
واھل المغفرۃ . اللہ مغفرت کا اہل ہے یعنی مؤمن بندوں کے گناہ معاف کردینے کا مالک ہے
حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت : ھو اھل التقوٰی کے سلسلہ میں فرمایا : تمہارے رب نے فرمایا کہ میں اسی قابل ہوں کہ میرا شریک قرار دینے سے اجتناب کیا جائے اور کسی کو میرا ساجھی نہ بنایا جائے اور میں اس بات کا اہل ہوں کہ جو تقویٰ رکھے اور کسی کو میرا شریک نہ بنائے۔ میں اس کی بخشش کر دوں۔ (احمد ‘ ترمذی ‘ نسائی ‘ ابن ماجہ ‘ حاکم وغیرہ) واللہ اعلم۔
الحمد للہ سورة المدثر ختم ہوئی