73. Surah Al-Muzzammil

المزملThe Enshrouded One · 20 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 73:18

اِ۟لسَّمَآءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ١ؕ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا Open ayah 73:18 in the Quran reader

(اور) جس سے آسمان پھٹ جائے گا۔ یہ اس کا وعدہ (پورا) ہو کر رہے گا

السماء منفطر بہ . یعنی آسمان اپنی عظمت اور مضبوطی کے باوجود اس روز کی شدت کی وجہ سے پھٹ جائے گا۔ دوسری چیزوں کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ مُنْفَطِرٌ مذکر ہے السماء کی خبر ہے اور سماء مؤنث ہے اور مبتداء خبر میں تذکیر و تانیث کے اعتبار سے یکسانی ہونی چاہیے ‘ یہاں السماء کو سقف قرار دے کر اس کی خبر کو مذکر کیا ہے کیونکہ لفظ سقف مذکر ہے ‘ یا یوں کہو کہ منفطر سے پہلے لفظ شئی محذوف ہے ‘ یعنی آسمان پھٹ جانے والی چیز ہوگی۔ کان وعدہ مفعولا . وَعْدَہٗ میں مصدر کی اضافت فاعل کی طرح ہے یعنی اللہ کا عذاب کے متعلق کیا ہوا وعدہ ضرور پورا ہوگا اور ضمیر مفعول محذوف ہے ‘ یا اضافت مفعول کی طرف ہے اور ضمیر کا رجوع یوم کی طرف ہے ‘ بہرحال یہ جملہ یومًا کی صفت ثالثہ ہے اور ان دونوں جملوں کا اوّل جملہ پر عطف بغیر حرف عطف کے ہوگا جیسے الرحمٰن ‘ علم القراٰن ‘ خلق الانسان ‘ علمہ البیان میں خلق الانسان اور علمہ البیان کا عطف علم القراٰن پر بغیر عطف کے ہے۔
Ayah 73:19

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا۠ Open ayah 73:19 in the Quran reader

یہ (قرآن) تو نصیحت ہے۔ سو جو چاہے اپنے پروردگار تک (پہنچنے کا) رستہ اختیار کرلے

ان ھذہ . یہ آیات جن کا القاء ہم تم پر کر رہے ہیں۔ تذکرۃ . یادداشت ہیں ‘ مبدء اور معاد کی یاد دلانے والی۔ اللہ تک ‘ اللہ کے جود و انعام اور اس کی رضا اور ہدایت تک پہنچنے کا راستہ بتانے والی ہیں۔ فمن شاء . جو نصیحت قبول کرنا اور رب کے راستہ پر چلنا چاہے۔ اتخذ الی ربہ سبیلا . وہ اپنے رب تک پہنچنے کا راستہ پکڑ لے۔ فمن شاء میں فاء سببی ہے۔ یعنی یہ تذکرہ ہی اللہ تک پہنچانے کا راستہ ہے ‘ اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ بات یہ ہے کہ اللہ کا قرب ہم سے ہماری اپنی جانوں سے بھی زیادہ ہے مگر ہماری غفلت اور اللہ کی عظمت و بزرگی کا پردہ حائل ہے ‘ انہی حجابوں کی طرف ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے اشارہ کیا ہے ‘ فرمایا ہے اللہ کے ستّر ہزار حجاب ‘ نور اور تاریکی کے ہیں۔ عظمت و کبریاء کے حجابات تو نورانی ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے : بزرگی میری چادر ہے اور عظمت میری ازار (یعنی بزرگی و برتری میرا لباس ہے ‘ جو بندوں سے مجھے چھپائے ہوئے ہے) اور بندوں کی غفلت کے حجابات تاریکی کے پردے ہیں ‘ اگر اللہ ان پردوں کو دور کر دے تو اس کے چہرہ کے جلوے تمام چیزوں کو جلا ڈالیں جہاں تک اس کی بصر کی رسائی ہو (اور چشم الٰہی کی رسائی سے تو کوئی چیز باہر نہیں ‘ لا محالہ ہر چیز سوختہ ہوجائے گی) پردوں کو دور کرنے کی سہولت صرف یادداشت سے ہوتی ہے۔ یادداشت سے غفلت دور ہوجاتی ہے اور مرتبہ معیت پر فائز ہونے کی وجہ سے استحقاق محبت پیدا ہوجاتا ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ آدمی اپنے محبوب کے ساتھ ہوتا ہے۔ محبت ‘ محب کو محبوب تک پہنچا دیتی ہے ‘ عظمت و بزرگی کے پردے بھی اس کو نہیں روکتے ‘ جلوہائے چہرہ کا سوختہ کردینا۔ فناء اور بقاء سے کنایہ ہے خواہ یہ علمی مرتبہ میں ہی ہو (ظاہراً جسمانی سوختگی نہ ہو) بعض علماء نے کہا کہ پورے کلام کا مضمون تحیر ہے (یعنی وہ دن حیران کن ہوگا) اور مجازاً اس سے مقصود ڈرانا ہے۔
Ayah 73:20

اِنَّ رَبَّكَ یَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَیِ الَّیْلِ وَ نِصْفَهٗ وَ ثُلُثَهٗ وَ طَآئِفَةٌ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَكَ١ؕ وَ اللّٰهُ یُقَدِّرُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَیْكُمْ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ١ؕ عَلِمَ اَنْ سَیَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۖ٘ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنْهُ١ۙ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًا١ؕ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 73:20 in the Quran reader

تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے کہ تم اور تمہارے ساتھ کے لوگ (کبھی) دو تہائی رات کے قریب اور (کبھی) آدھی رات اور (کبھی) تہائی رات قیام کیا کرتے ہو۔ اور خدا تو رات اور دن کا اندازہ رکھتا ہے۔ اس نے معلوم کیا کہ تم اس کو نباہ نہ سکو گے تو اس نے تم پر مہربانی کی۔ پس جتنا آسانی سے ہوسکے (اتنا) قرآن پڑھ لیا کرو۔ اس نے جانا کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوتے ہیں اور بعض خدا کے فضل (یعنی معاش) کی تلاش میں ملک میں سفر کرتے ہیں اور بعض خدا کی راہ میں لڑتے ہیں۔ تو جتنا آسانی سے ہوسکے اتنا پڑھ لیا کرو۔ اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰة ادا کرتے رہو اور خدا کو نیک (اور خلوص نیت سے) قرض دیتے رہو۔ اور جو عمل نیک تم اپنے لئے آگے بھیجو گے اس کو خدا کے ہاں بہتر اور صلے میں بزرگ تر پاؤ گے۔ اور خدا سے بخشش مانگتے رہو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

ان ربک یعلم انک تقوم ادنی من ثلثیالیل و نصفہ و ثلثہ . ادنیٰ کا معنی ہے اقرب (تقریباً ) ابن کثیر اور قراء کوفہ نے نصفہ و ثلثہ پڑھا ہے ‘ اس وقت اس کا عطف ادنیٰ پر ہوگا۔ یعنی آپ دو تہائی رات کے قریب اور آدھی رات اور ایک تہائی رات قیام کرتے ہیں۔ باقی قراء نے نصفہ و ثلثہ کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اس وقت ثلثی پر عطف ہوگا یعنی آپ دو تہائی اور نصف اور ایک ثلث رات کے قریب قیام کرتے ہیں۔ اس قراءت سے ثابت ہوتا ہے کہ تہائی رات سے کم اور چوتھائی رات سے زیادہ قیام بھی ہوتا ہے ‘ چوتھائی رات سے زیادہ کی قید ہم نے اسلئے لگائی کہ آیت : او انقص منہ قلیلا کی تفسیر میں ہم لکھ چکے ہیں کہ اسکا تقاضا یہ ہے کہ قیام چوتھائی رات سے زیادہ ہو۔ و طائفۃ من الذین معک . یعنی آپ کے طریقہ کی اقتداء میں آپ ﷺ کے صحابہ ؓ کی ایک جماعت بھی ایسا ہی قیام کرتی ہے۔ بغوی نے تفسیر میں کہا ہے یعنی سب مؤمن جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ قیام کرتے تھے۔ یہ تفسیر بہت بعید از فہم ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تو مؤمن ہی تھے۔ کافر کب تھے۔ اللہ نے فرمایا ہے : محمد رسول اللہ والّذین معہٗ اور من الذین میں مِنْ تبعیضیہ ہے۔ یعنی قیام کرنے والے بعض تھے ‘ سب کے سب نہ تھے۔ معلوم ہوا کہ بعض صحابہ مراد ہیں۔ وا اللہ یقدر الیل والنھار . اس کا عطف ربّک پر ہے ‘ بجائے ضمیر کے اسم ظاہر (لفظ اللہ) کو ذکر کیا یعنی اللہ ہی مقدارِ شب و روز سے واقف ہے ‘ تم ان کی واقعی مقدار سے ناواقف ہو (اس وقت گھڑی اور کوئی دوسرا وقت شناسی کا آلہ نہیں تھا) ۔ بیضاوی نے لکھا ‘ لفظ ” اللہ “ کو شروع میں لانا اور پھر خبر کو فعل کی صورت میں ذکر کرنا (اور اس طرح جملۂ اسمیہ بنانا جس کی خبر جملہ فعلیہ ہے) بتارہا ہے کہ مقادیر اوقات سے واقفیت اللہ کے لیے مخصوص ہے۔ یہ قول مسلک عبدالقاہر و زمخشری کے موافق ہے۔ سکاکی اس کا قائل نہیں۔ علم ان لن تحصوہ . اللہ واقف ہے کہ تم اوقات کا صحیح اندازہ نہیں کرو گے اور تحدید ساعات نہ کرسکو گے۔ اسی لیے اللہ نے پنجگانہ نمازوں کے اوقات کی تعیین کے لیے ظاہری چیزوں کا اعتبار کیا۔ سورج کا طلوع ‘ غروب ‘ زوال ‘ سایہ کی مقدار اور شفق کا غروب یہ ظاہری امور ہیں جن سے اوقات نماز وابستہ ہیں۔ فتاب علیکم . یعنی اللہ نے سختی سے تخفیف کی طرف رجوع کرلیا اور مذکورہ مقدار کو ساقط کردیا تاکہ امت کے لیے آپ کی اقتداء دشوار نہ رہے۔ فاقرء وا ما تیسر من القران . فاء سببی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جتنی نماز بسہولت رات کو پڑھ سکو ‘ پڑھو۔ قراءت کے لفظ سے نماز مراد ہے۔ جزء بول کر کل مراد لے لیا جاتا ہے۔ ابتدائی آیت میں قیام بول کر نماز مراد لی تھی۔ اس آیت کا اقتضاء ہے کہ قراءت کو رکن صلوٰۃ کہا جائے جیسے مذکورۂ سابق آیت کا اقتضاء تھا کہ قیام کو رکن صلوٰۃ قرار دیا جائے۔ قیام اور قراءت کے رکن صلوٰۃ ہونے پر اجماع ہے۔ اس آیت سے قیام محدود (جس کا ذکر اوپر آیات میں گزر چکا ہے) منسوخ ہوگیا لیکن مطلق نماز شب واجب رہی۔ پھر پنجگانہ نمازوں کی فرضیت کے بعد نماز تہجد کی فرضیت بالکل منسوخ ہوگئی اور تہجد بصورت نفل باقی رہی۔ حضرت عائشہ ‘ حضرت ابن عباس ‘ مقاتل اور ابن کیسان کے اقوال اسی پر دلالت کر رہے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اگر ابتداء میں تہجد کی نماز کو رسول اللہ ﷺ پر اور امت پر فرض قرار دیا جائے پھر منسوخ ہونے کا قول اختیار کیا جائے تو امت کے حق میں بالاجماع تہجد کی فرضیت منسوخ ہوگی۔ لیکن کیا رسول اللہ ﷺ سے بھی قیام شب منسوخ ہوگیا۔ خواہ یوں کہا جائے کہ پہلے صرف رسول اللہ ﷺ پر فرض تھا اور آیت فاقرء وا کے نزول کے بعد حضور ﷺ سے فرضیت ساقط ہوگئی ‘ یا یوں کہو حضور ﷺ پر اور تمام امت پر تہجد پہلے فرض تھی پھر اس آیت کے نزول کے بعد سب سے فرضیت ساقط کردی گئی۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ پر تہجد فرض نہ رہنا اختلافی مسئلہ ہے۔ کوئی قائل ہے کہ حضور ﷺ سے تہجد کی فرضیت ساقط نہیں ہوئی ‘ آپ ﷺ پر آخر عمر تک تہجد کی نماز فرض ہی رہی ‘ کوئی کہتا ہے فرضیت حضور ﷺ سے بھی جاتی رہی اور سب کے لیے تہجد کی نماز نفل ہوگئی۔ میرے نزدیک مؤخر الذکر صحیح اور مختار ہے۔ اس پر آیت : ومن الیل فتھجد بہٖ نافلۃ لک دلالت کر رہی ہے۔ اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کے لیے تہجد کے نفل ہونے کی صراحت ہے ‘ اگر کوئی کہے کہ نافلہ کا معنی ہے زائد یعنی امت سے زیادہ تم پر چھٹا فرض تہجد کی نماز کا ہے۔ میں اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ اگر یہ مطلب ہوتا تو لَکَ (تمہارے لیے) کی جگہ عَلَیْکَ (تم پر) کہا جاتا کیونکہ وجوب کے بعد لک نہیں آتا۔ عَلَیْک آتا ہے (یعنی تم پر یہ زائد واجب ہے) اگر سوال کیا جائے کہ پھر نفل ہونے کی تخصیص رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہی کیا ہے ‘ تہجد تو سب کے لیے نفل ہے۔ میں کہوں گا کہ خصوصیت رسول اللہ ﷺ کی وجہ وہ قول ہے جو مجاہد ‘ حسن بصری (رح) اور ابو امامہ (رح) سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے حق میں اس کو خصوصیت کے ساتھ نافلہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کے لیے تہجد کی نماز ترقی درجات کا سبب تھی اور دوسروں کے حق میں اس کی نفلیت کا یہ معنی ہے کہ اکثر گناہوں کا کفارہ اس کی وجہ سے ان کے لیے ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ حضرت مغیرہ کی روایت کردہ حدیث بھی بتارہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے تہجد کی نماز بصورت نفل باقی رکھی گئی تھی حضرت مغیرہ ؓ کی روایت میں ہے ‘ حضور ﷺ نے اس قدر قیام شب کیا کہ دونوں پاؤں پر ورم آگیا۔ عرض کیا گیا ‘ آپ ﷺ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ آپ ﷺ کی تو اگلی پچھلی لغزشیں اللہ معاف کرچکا ہے۔ فرمایا : کیا میں شکر گزارہ بندہ نہ بنوں۔ یہ نہیں فرمایا کہ یہ مجھ پر فرض ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ سفر کی حالت میں اونٹنی پر سوار ہی نماز شب پڑھتے تھے جس میں (رکوع ‘ سجود) اشارہ سے کرتے تھے۔ اونٹنی کا رخ جدھر بھی ہوتا (اُسی رخ پر آپ ﷺ نماز پڑھتے تھے) سوائے فرائض کے (آپ فرائض سوار ہونے کی حالت میں نہیں پڑھتے تھے) ہاں ! وتر سواری کی حالت میں پڑھ لیتے تھے۔ (بخاری و مسلم) مسئلہ تہجد کی نماز سنت مؤکدہ ہے یا مستحبہ ؟ یہ مسئلہ اختلافی ہے ‘ بعض علماء کا قول ہے کہ ہمارے لیے مستحبہ ہے اور رسول اللہ ﷺ پر وقت وفات تک فرض تھی۔ قولی دلیل مفید استحباب ہوتی ہے اور فعلی مداومت بطور نفل نہ تھی اور سنت وہی فعل ہوتا ہے جس پر رسول اللہ ﷺ نے مداومت بطور نفل کی ہو (نہ کہ بطور وجوب) لہٰذا تہجد کا استحباب باقی رہا۔ میرے نزدیک صلوٰۃ تہجد سنن ہدیٰ میں سے ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی اس پر مداومت ہمارے نزدیک بطور نفل تھی اور بطور وجوب بھی مداومت اگر مان لی جائے تب بھی کوئی حرج نہیں ‘ رسول اللہ ﷺ کی کسی عمل پر مداومت خواہ بطور وجوب ہو یا بطور نفل جس طرح بھی ہو ‘ اس عمل کے مسنون ہونے پر دلالت کرتی ہے بشرطیکہ دوسروں کو اس سے روک نہ دیا گیا ہو۔ جیسے صول وصال (تَہ کے روزے) سے روک دیا گیا (اس لیے صوم وصال باوجود رسول اللہ ﷺ کی مداومت کے امت کے لیے مسنون نہیں رہا) ۔ تہجد کے سنت مؤکدہ ہونے پر حضرت ابن مسعود ؓ کی حدیث دلالت کر رہی ہے۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : ایک آدمی کا رسول اللہ ﷺ کے سامنے تذکرہ آیا کہ وہ صبح تک سوتا رہتا ہے (تہجد کی) نماز کو نہیں اٹھتا ‘ فرمایا وہ ایسا آدمی ہے کہ اس کے کان میں ‘ یا فرمایا : اس کے دونوں کانوں میں شیطان پیشاب کردیتا ہے۔ (بخاری و مسلم) مستحب کا ترک مستحق ملامت و عتاب نہیں بناتا (اور حضور ﷺ نے ملامت فرمائی۔ معلوم ہوا کہ تہجد کی نماز مستحب نہیں ‘ سنتِ مؤکدہ ہے) ۔ آیت : فاقرء وا ما تیسر من القراٰن کی تفسیر میں بعض علماء نے کہا کہ اس سے مراد ہے پانچوں نمازوں میں قرآن کی قراءت اور حسن بصری (رح) نے مغرب و عشاء میں قراءت مراد لی ہے۔ بغوی نے قیس بن حازم کا قول نقل کیا ہے۔ قیس نے کہا : میں نے بصرہ میں حضرت ابن عباس ؓ کے پیچھے نماز پڑھی۔ آپ نے پہلی رکعت میں الحمد اور سورة بقرہ کی پہلی آیت پڑھی اور دوسری رکعت میں الحمد کے بعد سورة بقر کی دوسری آیت پڑھی۔ پھر رکوع کردیا اور نماز سے فارغ ہو کر ہماری طرف رخ کر کے فرمایا ‘ اللہ فرماتا ہے : فاقرء وا ما تیسر من القراٰن ممکن ہے آیت کا یہ مطلب ہو کہ نفس قرآن پڑھو ‘ جیسے بھی آسان ہو۔ مسئلہ مقدار قراءت کتنی واجب ہے ‘ جس کے بغیر نماز درست نہیں۔ یہ مسئلہ اختلافی ہے ‘ ایک روایت میں امام اعظم (رح) کا قول یہ ہے کہ جتنی قراءت رکن صلوٰۃ ہے اور جس کے بغیر نماز نہیں ہوتی وہ کم از کم اتنا حصہ ہے جس پر لفظ قرآن کا اطلاق کیا جاسکتا ہو۔ یعنی کسی انسان کے کلام کے مشابہ نہ ہو ‘ اس روایت کا تقاضا ہے کہ ایک آیت سے کم کی قراءت بھی جواز صلوٰۃ کے لیے کافی ہے۔ قدوری نے اسی روایت پر اعتماد کیا ہے۔ امام اعظم کا قول دوسری روایت میں یہ منقول ہے اور یہی امام احمد (رح) کا بھی مسلک ہے کہ ایک آیت سے کم پڑھنے سے نماز نہیں ہوتی۔ اس روایت کو صاحب ہدایہ نے اختیار کیا ہے۔ امام اعظم (رح) سے تیسری روایت یہ ہے کہ چھوٹی تین آیات جیسے سورة کوثر کی اور بڑی ایک آیت جو تین آیات کے برابر ہو پڑھنا لازم ہے۔ اتنی قراءت کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ امام محمد (رح) اور امام ابو یوسف (رح) کا بھی یہی قول ہے لیکن اسی کے ساتھ امام اعظم ‘ امام ابو یوسف اور امام محمد (رحمہم اللہ تعالیٰ ) کا یہ بھی قول ہے کہ سورة فاتحہ اور اس کے ساتھ ایک سورت (تین آیات یا ایک بڑی آیت) کی مقدار پڑھنی واجب ہے۔ اگر سہواً ترک ہوگئی تو سجدۂ سہو واجب ہے۔ اگر سجدہ نہ کیا اور قصداً چھوڑ دیا تو گنہگار ہوگا۔ نماز کا اعادہ واجب ہے ‘ مگر فرض نہیں۔ امام مالک (رح) امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک بغیر سورة فاتحہ کے نماز ہی درست نہیں اور سورة فاتحہ کے ساتھ کسی سورت کو ملانا مسنون ہے ‘ واجب نہیں۔ ان ائمہ (رح) نے اپنے دعوے کے ثبوت میں یہ حدیث پیش کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے فاتحۂ کتاب نہیں پڑھی ‘ اس کی نماز ہی نہیں۔ (بخاری و مسلم) اس حدیث کے راوی حضرت عبادہ ؓ بن صامت ہیں۔ دارقطنی کی روایت میں ہے کہ جس نے فاتحۃ الکتاب نہیں پڑھی ‘ اس کی نماز جائز نہیں۔ دارقطنی نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ ابن خزیمہ اور ابن حبان نے انہی الفاظ میں یہ حدیث حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے نقل کی ہے ‘ اس روایت میں اتنا زائد ہے کہ راوی نے کہا : اگر میں امام کے پیچھے ہوں ؟ تو میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا ‘ دل میں پڑھ لیا کرو۔ مسلم اور امام احمد نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت اس طرح نقل کی ہے کہ جس نے نماز پڑھی اور اس میں امّ القران (سورۂ فاتحہ) نہیں پڑھی تو نماز ناقص ہے ‘ ناقص ہے ‘ ناتمام ہے (راوی کہتا ہے) میں نے کہا : ابوہریرہ ؓ ! میں کبھی امام کے پیچھے ہوتا ہوں۔ ابوہریرہ ؓ نے جواب دیا : اے فارسی ! دل میں پڑھ لیا کر۔ حاکم نے بطریق اشہب از ابو عتبہ بروایت ابوہریرہ از محمد بن ربیع از عبادہ بن صامت مرفوعاً نقل کیا ہے کہ امّ القرآن دو سری (سورت) کا تو بدل ہے لیکن کوئی دوسری (سورت) امّ القرآن کا بدل نہیں۔ ہم نے حدیث فاتحۃ الکتاب کو جو مختلف الفاظ کے ساتھ مختلف راویوں کے حوالہ سے نقل کیا ہے ‘ اس سے ظاہر ہوگیا کہ لا صلٰوۃ الا بفاتحۃ الکتاب کا معنی جو لوگ بیان کرتے ہیں کہ بغیر فاتحۃ الکتاب کے نماز کامل نہیں ہوتی (مگر ہوجاتی ہے اور فرض ساقط ہوجاتا ہے) جیسا کہ ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : لا صلٰوۃ لجار المسجد الا فی المسجد۔ مسجد کے ہمسایہ کی نماز بغیر مسجد کے نہیں ہوتی ‘ یعنی کامل نہیں ہوتی۔ یہ توضیح حدیث غلط ہے کیونکہ دوسرے الفاظ سے جو یہ حدیث مروی ہے وہاں یہ تاویل نہیں چلتی۔ اس کے علاوہ لا صلٰوۃ الا بفاتحۃ الکتاب میں بفاتحۃ الکتاب ‘ جار مجرو فعل محذوف کے متعلق ہے اور جار مجرور جو کلام میں خبر واقع ہو اس کا تعلق کسی فعل عام سے (بشرطیکہ کسی فعل خاص کا قرینہ موجبہ نہ ہو) ضروری ہے کہ اب لا صلٰوۃ الا بفاتحۃ الکتاب کی اصل اس طرح ہوئی۔ لا صلٰوۃ الا بفاتحۃ الکتاب۔ یعنی نماز بغیر فاتحۃ الکتاب کے نہیں ہوتی اور نہ ہونے کا معنی شرعی یہ ہے کہ اسکا شرعی وجود نہیں ہوتا اور صحیح نہیں ہوتی لہٰذا حدیث کا معنی اس طرح ہوا کہ بغیر فاتحہ کے نماز صحیح نہیں ہوتی البتہ حدیث : لا صلٰوۃ لجار المسجد الاّ فی المسجد میں نفی کمال ہے یعنی مسجد کے ہمسایہ کی بغیر مسجد کے نماز کامل نہیں ہوتی۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ یہاں جار مجرور خبر نہیں ہے بلکہ خبر محذوف ہے۔ اسی لیے نفی کمال پر اجماع منعقد ہے۔ ایک اور حدیث قدسی ہے جس میں سورة فاتحہ کی تقسیم کی گئی ہے اور فرمایا ہے : قسمت الصلٰوۃ بینی و بین عبدی نصفین ..... یہ حدیث بھی دلالت کر رہی ہے کہ بغیر سورة فاتحہ کے نماز نہیں ہوتی۔ امام اعظم (رح) نے اس حدیث کو بھی لیا ہے اور ایک اور حدیث کو بھی لیا ہے جس کو مسلم ‘ ابوداؤد اور ابن حبان نے روایت کیا ہے کہ لا صلٰوۃ لم لم یقرء بفاتحۃ الکتاب فصاعدًا۔ جس نے فاتحۃ الکتاب اور اس سے زیادہ کی قراءت نہ کی اس کی نماز نہیں۔ اسی لیے بعض روایات میں آیا ہے کہ امام اعظم کے نزدیک سورة فاتحہ کی قراءت اور اس کے ساتھ کوئی سورت ملانی واجب ہے۔ ابن ماجہ نے حضرت ابوسعید کی روایت نقل کی ہے کہ جس نے ہر رکعت میں الحمد اور کوئی سورت نہیں پڑھی خواہ فرض نماز ہو یا فرض نہ ہو تو اس کی نماز نہیں (اس حدیث کی سند ضعیف ہے) ۔ ابو داؤد نے بطریق ہمام از قتادہ از ابو بصرہ از ابو سعید ؓ بیان کیا۔ حضرت ابو سعید ؓ نے کہا : ہم کو رسول اللہ ﷺ نے فاتحۃ الکتاب کو اور جو کچھ آسان ہو اس کو پڑھنے کا حکم دیا اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) فاتحہ کو رکن صلوٰۃ نہیں کہتے کہ بغیر فاتحہ کی قراءت کے نماز ہی جائز نہ ہو کیونکہ اس معاملہ میں آیت : فاقرء وا ما تیسر من القراٰن کے عموم پر عمل کرتے ہیں۔ صاحب ہدایہ نے لکھا ہے کہ قرآن پر خبر واحد سے زیادتی (یعنی بطور فرضیت) جائز نہیں مگر موجب عمل ہے۔ اس لیے ہم فاتحہ اور ضم سورت دونوں کو واجب کہتے ہیں۔ میرے نزدیک صحیح یہ ہے کہ قراءت فاتحہ اور ضم سورت دونوں نماز کے ارکان ہیں ‘ دونوں کے بغیر نماز جائز نہیں ‘ آیت فاقرء وا سے رکنیت فاتحہ کی نفی پر استدلال صحیح نہیں کیونکہ اس آیت کی تفسیر ظاہری طور پر یہی ہے کہ قراءت سے مراد پوری نماز شب ہے اور فتاب علیکم فاقر ؤا ما تیسر کا یہ مطلب ہے کہ اللہ نے قیام شب (کی فرضیت) میں تخفیف کردی۔ اب جتنی نماز بسہولت پڑھ سکتے ہو پڑھو۔ مقدار قراءت کا اس آیت میں بیان ہی نہیں ہے۔ آیت کو پنجگانہ نماز کی قراءت سے متعلق قرار دینا ‘ ایک ضعیف احتمال ہے اور احتمال ضعیف وجوب کی دلیل نہیں بن سکتا۔ ایسی ضعیف تشریح کو اس قطعی حکم کا مرتبہ دینا جس پر خبر واحد سے زیادتی جائز نہیں کس طرح درست ہوسکتا ہے۔ حدیث کو ساری امت نے قبول کیا ہے۔ جمہور اسلامیہ کا اس پر عملی اجماع ہے۔ مسلسل نقل متواتر المعنی ہے کہ نہ رسول اللہ ﷺ نے ‘ نہ سلف (خلف میں کسی دوسرے شخص) نے سورة فاتحہ کے بغیر کبھی نماز پڑھی۔ ایسی متواتر المعنی خبر اور ایسی اجماعی نقل سے تو کتاب پر زیادتی بالاجماع صحیح ہے۔ مزید یہ کہ نماز (اپنی ہیئت اور حقیقت کے لحاظ سے) مجمل ہے اور احادیث احاد مجمل کا بیان کرسکتی ہیں اور ارکان صلوٰۃ کی تفصیل کرسکتی ہیں ‘ دیکھو حنفیہ آخری قعدہ کو فرض کہتے ہیں اور دلیل میں حضرت ابن مسعود کی حدیث کو پیش کرتے ہیں ‘ جس میں وارد ہے کہ جب تم یہ کہہ چکو یا کر چکو تو تمہاری نماز پوری ہوگئی۔ اب چاہو ‘ اٹھ جاؤ ‘ چاہو بیٹھے رہو۔ حنفیہ کہتے ہیں کہ اس حدیث میں تکمیل صلوٰۃ کو دو باتوں میں سے ایک کے ساتھ وابستہ کیا گیا ہے۔ اس لیے احد الامرین فرض ہے۔ یہ حدیث اخبار احاد میں سے ہے۔ اس کے باوجود حنفیہ نے اس سے قعدۂ آخرہ کی فرضیت پر استدلال کیا ہے۔ حنفیہ نے رکنیت فاتحہ کی نفی پر ابوہریرہ ؓ والی حدیث سے بھی استدلال کیا ہے۔ جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ‘ جب تم نماز کو کھڑے ہو تو تکبیر کہو پھر جتنا قرآن میسر ہو پڑھو ‘ الخ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث سے مطلق قراءت کا وجوب ثابت ہوتا ہے اور لا صلٰوۃ الاّ بفاتحۃ الکتاب۔ تعیین فاتحہ پر دلالت کر رہی ہے۔ لہٰذا مطلق کو مقید پر حمل کیا جائے گا اور دونوں حدیثوں پر عمل کیا جائے گا اور فاتحہ کو صلوٰۃ کا رکن قرار دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ حضرت ابوہریرہ کی روایت کردہ حدیث حضرت رفاعہ بن رافع کے طریق سے ان الفاظ کے ساتھ منقول ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : جب تم نماز کو کھڑے ہو تو تکبیر کہو ‘ پھر امّ القرآن (فاتحہ) پڑھو ‘ پھر جو کچھ چاہو پڑھو۔ امام احمد (رح) نے اس روایت کو بیان کیا ہے اور دارقطنی کی روایت کے یہ الفاظ ہیں پھر اللہ اکبر کہے اور ثناء کرے ‘ پھر امّ القرآن پڑھے اور جس چیز کو پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے اور جو کچھ بآسانی پڑھ سکے ‘ پڑھے ‘ الخ۔ مسئلہ مقتدی پر قراءت ِ فاتحہ واجب ہے یا نہیں ؟ امام شافعی کے نزدیک منفرد اور امام کی طرح مقتدی پر بھی قراءت ِ فاتحہ واجب ہے۔ حضرت عمر ‘ حضرت عثمان ‘ حضرت علی ‘ حضرت ابن عباس اور حضرت معاذ ؓ سے اسی طرح منقول ہے۔ امام ابوحنیفہ ‘ امام مالک اور امام احمد کے نزدیک واجب نہیں۔ امام اعظم (رح) کے نزدیک تو مقتدی کے لیے قراءت ِ فاتحہ مطلقاً مکروہ ہے۔ امام مالک جہری نمازوں میں مکروہ کہتے ہیں۔ امام احمد کا قول ہے کہ سری نماز میں مقتدی کے لیے قراءت ِ فاتحہ مستحب ہے اور جہری میں بھی اس وقت مستحب ہے جب امام کسی آیت پر سکتہ کرے۔ امام کی قراءت کی حالت میں مکروہ ہے۔ زہری ‘ امام مالک اور ابن مبارک سے بھی یہی مروی ہے۔ حضرت ابن عمر ‘ حضرت عروہ بن زبیر اور ابو القاسم بن محمد سے بھی یہی روایت ہے۔ قراءت امام کے وقت مقتدی سے قراءت فاتحہ کا سقوط اس حدیث سے ثابت ہے جس کے راوی حضرت جابر ؓ ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا : جس (نمازی) کے لیے امام ہو تو امام کی قراءت اس کی قراءت ہے۔ راوہ احمد والدارقطنی من طریق جابر الجعفی۔ دارقطنی نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے۔ ابن جوزی کا بیان ہے کہ ثوری اور شعبہ نے اس کی توثیق کی ہے۔ دارقطنی نے اس حدیث کو ایک اور سند سے جس میں لیث راوی ہے ‘ نقل کیا ہے لیکن ابن علیہ نے لیث کو ضعیف کہا ہے۔ امام احمد (رح) نے یحییٰ بن سلام کے طریق سے حدیث ان الفاظ میں نقل کی ہے کہ جس نماز میں امّ الکتاب نہ پڑھی جائے وہ ناتمام ہے۔ مگر امام کے پیچھے ہو (تو ناتمام نہیں) ۔ دارقطنی نے یحییٰ کو ضعیف قرار دیا ہے۔ ابن جوزی نے کہا : ہم نے نہیں دیکھا کہ کسی نے یحییٰ کو ضعیف قرار دیا ہو۔ دارقطنی ‘ بیہقی اور ابن عدی نے کہا : صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث مرسل ہے کیونکہ حفاظ احادیث جیسے سفیان بن عیینہ ‘ سفیان ثوری ‘ ابا الاحوص ‘ شعبہ ‘ اسرائیل ‘ شریک ابن خلددالانی ‘ جریر ‘ عبدالحمید ‘ زائدہ اور زہیر نے اس حدیث کو بروایت موسیٰ ابن عائشہ ‘ بحوالہ عبداللہ بن شداد رسول اللہ ﷺ سے مرسل نقل کیا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک مرسل حجت ہے اور ابن جوزی نے تو اس کے اتصال کی تضعیف کا ہی انکار کیا ہے۔ پھر امام ابوحنیفہ (رح) نے تو اس سند سے اس کو بیان کیا ہے جو شیخین کی شرط پر بھی صحیح ہے۔ دیکھو امام محمد (رح) نے موطا میں لکھا ہے : اخبرنا ابو حنیفۃ حدثنا ابو الحسن موسیٰ بن ابی عائشہ عن عبد اللہ بن شداد عن جابر عن النبی ﷺ ۔ احمد بن منیع نے مسند میں ایسی سند کے ساتھ اس حدیث کو روایت کیا ہے جو شرط مسلم کے موافق ہے۔ قال احمد اخبرنا اسحاق الازرق حدثنا سفیان و شریک عن موسیٰ ابن ابی عائشۃ عن عبد اللہ بن شداد عن جابر۔ اس مبحث کے سلسلہ کی کچھ اور احادیث بھی ہیں ‘ جو ضعیف ہیں۔ بخوف طوالت ہم نے ان کو ترک کردیا۔ ایک شبہ آیت : فاقرؤا ما تیسر من القراٰن کا حکم ہر نمازی کے لیے عام ہے۔ پھر امام اعظم کے ضابطہ کے مطابق اخبار احاد سے اس حکم کی تخصیص نہیں ہوسکتی۔ جواب اجماعاً آیت عام مخصوص البعض ہے ‘ یعنی وہ شخص جس نے امام کو رکوع میں آکر پایا۔ اس حکم سے بالاجماع الگ ہے ‘ اس کے بعد مقتدی کی تخصیص بھی جائز ہے۔ سری نماز میں قراءت فاتحہ کے مستحب ہونے کی دلیل حضرت عبادہ بن صامت کی روایت کردہ حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر قراءت جہر کے ساتھ کی جائے تو تم میں سے کوئی قرآن کا کوئی حصہ نہ پڑھے ‘ سوائے امّ القرآن کے۔ اس حدیث کو دارقطنی نے بیان کرنے کے بعد لکھا ہے کہ اس کے سب راوی ثقہ ہیں۔ اس حدیث میں جہری نماز میں قراءت سے مقتدی کو منع فرمایا ہے ‘ جہری کی خصوصیت چاہتی ہے کہ سری میں قراءت ِ فاتحہ مستحب ہو۔ پھر امّ القرآن کا استثناء چاہتا ہے کہ اس کی قراءت امام کے مختلف ٹھہراؤ کی حالت میں کی جائے تاکہ تمام احادیث پر بھی عمل ہوجائے اور آیت : اذا قرئ القراٰن فاستمعوا لہٗ وانصتوا کی بھی تعمیل ہوجائے۔ صحابہ کی ایک جماعت سے قراءت خلف الامام کا ترک منقول ہے۔ امام مالک (رح) نے مؤطا میں بروایت نافع بیان کیا ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ امام کے پیچھے قراءت ِ فاتحہ نہیں کرتے تھے۔ طحاوی نے حضرت زید بن ثابت اور حضرت جابر کا قول نقل کیا ہے کہ امام کے پیچھے نماز کے کسی حصہ میں قراءت ِ (فاتحہ) نہ کرو۔ امام محمد (رح) نے مؤطا میں لکھا ہے کہ ابن مسعود سے امام کے پیچھے قراءت کا مسئلہ پوچھا گیا ‘ فرمایا : خاموشی کے ساتھ متوجہ رہو کیونکہ نماز میں (قراءت سے) روکنے والی چیز موجود ہے اور امام تمہارے لیے کافی ہے۔ محمد بن سعد (رح) نے کہا جو امام کے پیچھے قراءت کرے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس کے منہ میں انگارے بھرے۔ عبدالرزاق نے ایسی ہی روایت نقل کی ہے مگر اس میں انگاروں کی جگہ پتھر کا لفظ ہے۔ محمد (رح) نے بروایت داؤد بن قیس از عجلان بیان کیا کہ عمر ؓ بن خطاب نے فرمایا جو امام کے پیچھے پڑھتا ہے ‘ کاش اسکے منہ میں پتھر ہوں۔ ابن ابی شیبہ نے مصنف میں حضرت جابرکا قول نقل کیا ہے کہ امام جہر کے ساتھ پڑھے یا پوشیدہ اس کے پیچھے قراءت نہ کی جائے۔ ان اقوال سے مطلق قراءت کی کراہت (امام کے پیچھے) ثابت ہوتی ہے ‘ نماز جہری ہو یا سری۔ جہری نماز میں ترک قراءت اس آیت کا بھی مقتضاء ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : واذ قراء القراٰن فاستمعوا لہ وانصتوا۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی ارشاد فرمایا تھا : اذا قرء فانصتوا۔ قراءت کی جائے تو خاموشی کے ساتھ متوجہ رہو۔ اس حدیث کو حضرت ابوہریرہ کی روایت سے ابوداؤد ‘ نسائی اور ابن ماجہ نے بیان کیا ہے۔ آیت مذکورہ کی تفسیر ہم انشاء اللہ عنقریب کریں گے۔ مسئلہ کیا فرض و نفل کی ہر رکعت میں قراءت واجب ہے ؟ امام شافعی ‘ امام احمد (رح) اور امام مالک (رح) کے نزدیک ہر رکعت میں علی الاطلاق واجب ہے کیونکہ رکوع و سجود کے حکم کی طرح قراءت کا بھی حکم ہے۔ صرف امام مالک کا ایک روایت میں یہ قول آیا ہے کہ اگر تین یا چار رکعتوں والی فرض نماز کی ایک رکعت میں قراءت ترک کردی تو سجدۂ سہو کی طرف یہ عمل کھینچ کرلے جائے گا (یعنی سجدۂ سہو واجب ہوگا اور ترک قراءت کی تلافی سجدۂ سہو سے ہوجائے گی) امام ابوحنیفہ (رح) وتر و نفل کی ہر رکعت میں وجوب قراءت کے قائل ہیں مگر اس حد تک نہیں کہ ترک قراءت سے سجدۂ سہو واجب ہوجائے۔ امام ابوحنیفہ (رح) نفل میں جو ہر رکعت کے اندر وجوب قراءت کے قائل ہیں ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ نفل کا ہر دوگانہ مستقل نماز ہے۔ ہاں ! فرض کے اندر صرف دو رکعتوں میں قراءت واجب ہے۔ قیاس کا تقاضا تو یہ تھا کہ صرف ایک رکعت میں قراءت کو واجب کہا جاتا کیونکہ امر تکرار (تعمیل) کا مقتضی نہیں ہوتا لیکن جب (دو رکعتوں میں) ہم قراءت اور مقدار قراءت کے قائل ہیں تو ان کے ساتھ آخری رکعت یا آخری رکعتوں کو اس حکم میں شریک نہیں کیا جاسکتا۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے اس قول کا مدار یہ امر ہے کہ آیت : فاقرؤُا ما تیسر من القراٰن کو پنجگانہ نمازوں کی قراءت کے متعلق قرار دیا جائے گا مگر یہ بات ناقابل تسلیم ہے (وجہ پہلے گزر چکی) ۔ جمہور کے قول کا ثبوت مختلف احادیث سے ہوتا ہے۔ مثلاً حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ ایک شخص نے مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھی۔ رسول اللہ ﷺ اس وقت مسجد کے اندر ہی تشریف فرما تھے ‘ نماز پڑھ کر وہ شخص خدمت گرامی میں حاضر ہوا اور سلام کیا۔ حضور اقدس ﷺ نے سلام کا جواب دینے کے بعد فرمایا : لوٹ کر جاؤ ‘ نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی (وہ لوٹ کر گیا ‘ نماز پڑھی ‘ پھر آیا پھر واپسی کا اور نماز پڑھنے کا حکم ہوا۔ وہ پھر گیا اور نماز پڑھی اور حاضر ہوا) اس طرح اس نے تین بار کیا ‘ آخر میں عرض کیا : قسم ہے اس کی جس نے آپ ﷺ کو برحق نبی بنا کر بھیجا ہے ‘ میں اسکے علاوہ (یا اس سے زیادہ) اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا ‘ مجھے سکھا دیجئے۔ ارشاد فرمایا : جب نماز کو کھڑے ہو تو اللہ اکبر کہو ‘ پھر جتنا قرآن بسہولت پڑھ سکو پڑھو ‘ پھر رکوع کرو ‘ جب اطمینان سے رکوع کرلو تو سر اٹھا کر سیدھے کھڑے ہو ‘ پھر سجدہ کرو ‘ اطمینان سے سجدہ کر چکو تو سر اٹھاؤ اور ٹھیک ٹھیک بیٹھ جاؤ ‘ پھر تمام نماز میں اسی طرح کرو۔ (متفق علیہ) اسی حدیث کی طرح رفاعہ رزقی نے بھی بیان کیا ہے جس کو احمد ‘ ابوداؤد ‘ ترمذی اور نسائی نے نقل کیا ہے۔ حضرت ابو قتادہ کی حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ظہر اور عصر کی اوّل دو رکعتوں میں سورة فاتحہ اور دو سورتیں (اور) پڑھتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں (صرف) سورة فاتحہ اور فجر و ظہر کی پہلی رکعت (دوسری رکعت سے) لمبی پڑھتے تھے۔ (بخاری و مسلم) ان احادیث کو جب حدیث : صلوا کما رأیتمونی اصلی جس طرح مجھے نماز پڑھتے دیکھو ‘ اسی طرح نماز پڑھو ‘ کے ساتھ دیکھا جاتا ہے تو یہ حدیثیں مجمل کتاب کا بیان ہوجاتی ہیں۔ حضرت ابودرداء ؓ کی روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ کیا ہر نماز میں قرآن ہے ؟ فرمایا : ہاں۔ یہ سن کر ایک انصاری بولا ‘ یہ واجب ہوگئی ‘ اگر شبہ کیا جائے کہ یہ تمام احادیث آحاد ہیں اور خبر واحد سے قرآن پر زیادتی جائز نہیں تو ہم جواب دیں گے کہ اصول فقہ کے اس ضابطہ کو ماننے کے بعد بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ حکم اس وقت ہے جب قرآن کی (کسی خاص حکم پر) دلالت قطعی (ناقابل تاویل) ہو اور آیت فاقرؤُا تو مختلف تاویلات کا احتمال رکھتی ہے اور جس قراءت کا نماز کے لیے حکم دیا گیا ہے وہ مجمل ہے۔ احادیث آحاد اس کا بیان ہوسکی ہیں ‘ واللہ اعلم۔ علم ان سیکون منکم مرضی . عَلِمَ کا فاعل اللہ ہے اور اَنْ مخففہ ہے اور فاقرؤا کی تکرار تاکید کیلئے بھی ہے ٗ یہ بھی کہا گیا کہ دوسرا فاقرؤُا پہلے اقرؤا کی تاکید نہیں بلکہ جو نئی مصلحت مقتضی تخفیف تھی ‘ اسکے بیان کیلئے ہے اسی لیے حکم کو اس پر متفرع کیا ہے۔ واخرون یضربون فی الارض . یعنی کچھ اور لوگ تجارت ‘ تحصیل علم اور حج کے لیے سفر کریں گے۔ یبتغون من فضل اللہ فضل اللہ سے مراد ہے تجارتی نفع اور علم اور ثواب۔ واخرون یقاتلون فی سبیل اللہ . اور کچھ لوگ جہاد کریں گے ‘ غرض یہ تمام لوگ (بیمار ‘ طالب تجارت ‘ طالب علم ‘ حج کو جانے والے اور جہاد کے لیے نکلنے والے) قیام شب کی سنت کو ادا نہیں کرسکیں گے۔ بغوی نے بروایت ابراہیم بیان کیا کہ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : جو آدمی مسلمانوں کے کسی شہر میں (کسی ملک سے) کچھ مال (فروخت کرنے کے لیے) بامید ثواب تکلیفیں اٹھا کر لائے اور اسی روز کے نرخ پر فروخت کر دے ‘ وہ اللہ کے ہاں شہیدوں کے ہم پلہ ہوگا۔ پھر حضرت ابن مسعود ؓ نے یہ آیت تلاوت کی : واخرون یضربون فی الارض یتبغون من فضل اللہ واخرون یقاتلون فی سبیل اللہ۔ 1 ؂ فاقرء وا ما تیسر منہ . یعنی جس قدر قرآن بسہولت پڑھ سکو ‘ پڑھو۔ شبہ لفظ ما عام ہے۔ اسکے عموم کا تقاضا ہے کہ جتنا قرآن بآسانی پڑھا جاسکے سب پڑھا جائے کیونکہ لفظ ما سب کو شامل ہے۔ جواب کلام کی رفتار بتارہی ہے کہ جتنا قرآن بآسانی پڑھا جانا ممکن ہو ‘ اس سب کی قراءت مراد نہیں ہے بلکہ اس کے حصوں میں سے جو حصہ پڑھ لیا جائے گا ‘ تعمیل حکم (بقدر کفایت) ہوجائے گا۔ مسئلہ قراءت میں توسط مستحب ہے ‘ افراط وتفریط دونوں نامناسب ہیں ‘ ہمیشہ ہی اعتدال کے ساتھ پڑھنا چاہیے ‘ ایسا نہ کرنا چاہیے کہ کبھی تو بہت زیادہ حد سے بڑھ کر پڑھ لیا اور کبھی ترک کردیا۔ قراءت کی درمیانی مقدار ایک سو پچاس آیات اور زیادہ سے زیادہ ایک ہزار آیات ہے تاکہ ایک ہفتہ میں قرآن ختم ہوجائے۔ طبرانی نے بروایت حضرت ابن عباس ؓ بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : فاقرء وا ما تیسر منہ (یعنی) سو آیات۔ ابن کثیر نے کہا : یہ روایت بہت ہی غریب ہے۔ بغوی نے اپنی سند سے بروایت حضرت انس ؓ بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے جس نے ایک دن ‘ رات میں پچاس آیات پڑھ لیں اس کا شمار غافلوں میں نہیں ہوگا اور جس نے سو آیات کی قراءت کی اس کو عبادت گزاروں میں لکھا جائے گا اور جس نے دو سو آیات کی تلاوت کی قیامت کے دن قرآن مجید حجت میں اس پر غالب نہیں ہوگا اور جس نے پانچ سو آیات پڑھیں اس کے لیے ثواب کا ڈھیر لکھا جائے گا۔ دارمی نے حسن بصری (رح) کی روایت مرسلاً لکھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے ایک رات میں سو آیات پڑھ لیں ‘ اس رات قرآن اس سے جھگڑا نہیں کرے گا اور جس نے ایک رات میں دو سو آیات کی تلاوت کی اس کے لیے پوری رات کی عبادت لکھی جائے گی اور جس نے پانچ سو سے ایک ہزار آیات تک کی قراءت کی ‘ اس کے لیے ثواب کا ایک ڈھیر لکھا جائے گا۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا : ڈھیر کیا ؟ فرمایا : بارہ ہزار درجے۔ مسلم نے عبداللہ بن عمر ؓ کی روایت لکھی ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا : ہر مہینہ میں (ایک) قرآن پڑھا کرو۔ میں نے عرض کیا : میں (اس سے زیادہ) طاقت (اپنے اندر) پاتا ہوں۔ فرمایا : تو بیس رات میں (ایک ختم کیا کرو) میں نے عرض کیا : میں (اس سے بھی زیادہ) قوّت پاتا ہوں۔ فرمایا : تو سات رات میں (ایک بار ختم کرلیا کرو) اور اس سے زیادہ نہ کرو۔ (صحیح بخاری) اور صحیح مسلم میں عائشہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ کی نظر میں سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جس پر مداومت (پابندی) کی جائے ‘ خواہ عمل تھوڑا ہی ہو۔ یہ بھی حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : جتنی طاقت ہو اتنا عمل اختیار کرو کیونکہ (زیادہ کرنے سے) تم اکتا جاؤ گے اور خدا نہیں اکتائے گا۔ صحیحین میں حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : چستی رہنے تک نماز پڑھو ‘ سستی آجائے تو بیٹھ جاؤ۔ صحیحین میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کسی کو نماز پڑھتے میں اونگھ آنے لگے تو اس کو سو جانا چاہیے تاکہ نیند کا غلبہ جاتا رہے کیونکہ اونگھتے میں نماز پڑھے گا تو اس کو معلوم نہ ہوگا (کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے ؟ ) شاید وہ استغفار کرنا چاہتا ہو اور خود اپنے کو گالیاں دینے لگے۔ واقیموا الصلوۃ . نماز سے مراد فرض نماز ہے ‘ اس جملہ کا عطف فاقرء وا پر ہے اور واؤ جمعیت کے لیے ہے (اور معطوف ‘ معطوف علیہ سے غیر ہوتا ہے اس لیے) عطف کا تقاضا ہے کہ تہجد کی نماز پنجگانہ نمازوں سے منسوخ نہ قرار دی جائے جیسا کہ بعض لوگ کہتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ قیام شب کا احکم استحبابی ہے ‘ وجوبی نہیں۔ واتوا الزکوۃ . یعنی فرض زکوٰۃ ادا کرو۔ واقرضوا اللہ قرضا حسنا . حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس سے مراد ہے زکوٰۃ کے علاوہ دوسرا صرف خیر ......... 1 ؂ حضرت مؤلف رحمۃ اللہ نے فضل کی تشریح تجارتی نفع ‘ علم اور ثواب تین الفاظ سے (غالباً بطور تعمیم) کی ہے اور حضرت ابن مسعود ؓ نے جس موقع پر آیت کی تلاوت کی ‘ اس کا سیاق بتلا رہا ہے کہ فضل سے مراد تجارتی نفع اور غیر ملکوں سے مسلمانوں کے ملک میں ضرورت کی چیزیں لانا اور معمولی نرخ پر فروخت کر کے ان سے نفع اور ثواب حاصل کرنا ہے۔ شاید حضرت ابن مسعود نے اس موقع پر یہ آیت کی تلاوت اپنے قول کے ثبوت میں فرمائی ہو ‘ فضل خدا میں تجارتی نفع کو داخل کرنا مقصود ہے ‘ تجارتی نفع میں فضل کا حصر مقصود نہیں۔ جیسے رشتہ داروں سے حسن سلوک ‘ مہمان نوازی۔ میں کہتا ہوں ممکن ہے کہ اس سے عام اطاعت الٰہیہ مراد ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ زکوٰۃ کو اچھے طور پر ادا کرنا مراد ہے۔ لفظ قرضًا حسنًا اس امر پر دلالت کر رہا ہے۔ لفظ حسنًا میں معاوضہ دینے کے وعدہ کی طرف طبائع کو مائل کرنا مقصود ہے۔ وما تقدموا لانفسکم من خیر . خیر سے مراد ہے بدنی عبادت یا پھر وہ بھلائی جس میں شرط تقدیم متحقق ہو۔ تجدوہ عند اللہ ھو خیرا وا عظم اجرا . یعنی جو بھلائی پہلے ہی سے (صحت و زندگی کی حالت میں) کر بھیجو گے ‘ وہ اس بھلائی سے بہتر اور عظیم الاجر ہے۔ جسکے متعلق مرتے وقت وصیت کرو یا وارثوں کے پاس دنیوی مال و متاع چھوڑ کر مرو۔ خیرًا ‘ تجدوہُ کا دوسرا مفعول ہے اور ھُوَ ضمیر شان ہے جو معرفہ کے حکم میں ہے۔ عبداللہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کس کو اپنا مال (یعنی اپنے کام آنے والا مال) وارث کے مال (وارث کے کام آنے والے مال) سے زیادہ مرغوب ہے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا : ہم میں کوئی ایسا نہیں جس کو اپنا مال وارث کے مال سے زیادہ محبوب نہ ہو۔ فرمایا : سمجھ لو ‘ کیا کہہ رہے ہو۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ہم تو یہی جانتے ہیں۔ فرمایا : تم میں سے کوئی ایسا نہیں جس کو وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب نہ ہو۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! یہ کیسے ؟ فرمایا : تمہارا مال وہ ہے جو پہلے بھیج دیا ہو اور وارث کا مال وہ ہے جو پیچھے چھوڑ دیا ہو۔ (رواہ بغوی) واستغفروا اللہ . اپنے گناہوں کی اللہ سے معافی مانگو۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ آدمی اپنی نیکیوں پر اعتماد اور بھروسہ نہ کرلے بلکہ نیکی کے ساتھ استغفار بھی کرتا رہے کیونکہ آدمی کی کوئی طاعت قصور سے خالی نہیں ہوتی۔ پھر بندہ سے کتنی ہی بڑی نیکی سرزد ہو ‘ بارگاہ خداوندی کے شایان شان نہیں ہوتی ‘ جب تک اسکے ساتھ اپنی عاجزی ‘ قصور اور حقارت کا اقرار شامل نہ ہو۔ ان اللہ غفور رحیم . اللہ تمہارے قصوروں کو معاف کرنے والا اور تم پر رحم فرمانے والا ہے ‘ تھوڑے عمل کا بھی بڑا ثواب عطا فرماتا ہے۔ الحمد اللہ ! سورة مزمل کی تفسیر ختم ہوئی