Ayah 69:41وما ھو بقول شاعر . کسی شاعر کا قول نہیں جیسا کہ تم کبھی کبھی دعویٰ کرتے ہو۔
قلیلا ما تو منون . قلیلا میں نصب مصدریت (یعنی مفعول مطلق) کی بناء پر ہے یا ظرفیت
(مفعول فیہ) کی بناء پر اور ما سے تاکید قلت ہو رہی ہے۔ بہت ہی کم یا بہت تھوڑے وقت میں ایمان لاتے ہو کیونکہ اس کی سچائی جب تم پر نمایاں ہوجاتی ہے تو مجبوراً کسی قدر یا تھوڑے وقت کے لیے اس کو سچا مان لیتے ہیں (لیکن پھر عناد اور دشمنی کی وجہ سے انکار کرنے لگتے ہیں) قلت ایمان چاہتی ہے کہ کثرت ایمان منفی ہو کیونکہ کثرت ایمان کی نفی۔ عناد اور ضد پر مبنی ہے اور وہ لوگ عناد و ضد کی وجہ سے پورے مؤمن ہی نہ تھے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ قلیل ایمان سے مراد نفی ایمان ہے یعنی بالکل ایمان نہیں رکھتے ہو جیسے اس شخص سے تم کہو جو تمہاری ملاقات کو نہیں آتا کہ آپ تو بالکل کم ہی ہم سے ملاقات کرتے ہیں ‘ یعنی نہیں کرتے۔
Ayah 69:42ولا بقول کا ھن . لا زائد ہے یعنی نہ یہ کسی کاہن کا قول ہے۔
قلیلا ما تذکرون . تم بہت کم غور کرتے ہو۔ نفی شاعریت کے ساتھ قلت ایمان اور نفی کہانت کے ساتھ قلت
تدبر کا ذکر اس وجہ سے کیا کہ قرآن کا شعر نہ ہونا ایک واضح امر تھا۔ جسکے انکار کی سوائے عناد کے اور کوئی وجہ نہیں ہوسکتی لیکن الفاظ کاہن سے قرآن کا فرق غور طلب تھا۔ جب تک رسول اللہ ﷺ کے احوال ‘ اطوار اور قرآن کے حقائق پر غور نہ کیا جائے واضح طور پر اسکو سمجھنا مشکل ہے۔
Ayah 69:43تنزیل . مصدر بمعنی اسم مفعول ہے یعنی وہ قرآن اتارا ہوا ہے۔
من رب العالمین . اللہ کی طرف سے جبرئیل کی زبانی۔
Ayah 69:44ولو تقول علینا . اگر ہماری وحی کے بغیر وہ ہم پر بناوٹ ‘ دروغ اور افتراء بندی کرتا۔
بعض الاقاویل . کسی قول کی بھی۔ اقاویل ‘ اقولہ کی جمع ہے قول سے مشتق ہے۔ بروزن اضاحیک
خود ساختہ افترائی اقوال کو اقاویل کہا جاتا ہے۔
Ayah 69:45لاخذنا منہ بالیمین . تو ہم دائیں ہاتھ سے اس کی گرفت کرلیتے یعنی اس کو ذلیل کرنے کے لیے اس کا دایاں
ہاتھ پکڑ لیتے یا اپنے دائیں ہاتھ سے اس کو پکڑ لیتے مؤخر الذکر صورت میں منہ میں من زائد ہے یمین اللہ متشابہات میں سے ہے) جس کی صحیح مراد سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا) کسی نے اس کا معنی قوت اور قدرت بھی بیان کیا ہے کیونکہ دائیں ہاتھ میں (اصل) قوت ہوتی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے قوت اور قدرت ہی سے تفسیر کی ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ منہ میں من سببی ہو یعنی اس کے جھوٹ بنانے کی وجہ سے ہم اس کی گرفت کرلیتے۔
Ayah 69:46ثم لقطعنا منہ الوتین . پھر اس کی زندگی کی رگ کاٹ دیتے۔ وتین دل میں ایک رگ ہے جس کے کٹنے سے
زندگی منقطع ہوجاتی ہے۔
Ayah 69:47فما منکم من احد . اوّل من بیانیہ ہے اور منکم حال ہے من احد میں من زائد ہے تم میں سے کوئی بھی ہم کو
عنہ حاجزین . قتل یا مقتول مفتری کی گرفت سے ہم کو روکنے والا نہیں۔ اَحْدٍ لفظ مفرد اور معنیً جمع ہے
اس لیے حاجزین کو جمع لایا گیا۔
Ayah 69:48وانہ لتذکرۃ للمتقین . بلاشبہ قرآن اہل تقویٰ کیلئے ایک یادداشت ہے کیونکہ اہل تقویٰ کو ہی اس سے فائدہ پہنچتا ہے
فائدہ حضرت مجدد علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ للمتقین میں لام تخصیص کا ہے یعنی صرف متقیوں کے لیے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تلاوت قرآن فناء نفس کے بعد موجب ترقی درجات ہے کیونکہ تقویٰ کا (کامل) تصور فناء نفس سے پہلے ممکن نہیں اور قرآن صرف اہل تقویٰ کے لیے تذکرہ ہے (اس سے نتیجہ نکلا کہ قرآن فناء نفس کے بعد ہی موجب ترقی ہے) فناء نفس سے پہلے تلاوت اگرچہ نیک کام ہے اور نیکوں کا عمل ہے مگر رذائل نفس سے اجتناب رکھنے والے اہل قربت کے لیے نیکی نہیں ہے۔
Ayah 69:49وانا لنعلم ان منکم مکذبین . ہم واقف ہیں کہ تم میں سے کچھ لوگ اس کو جھوٹا قرار دیتے ہیں تو ہم اس
تکذیب اور عدم ذکر کی ان کو ضرور سزا دیں گے۔
Ayah 69:50وانہ لحسرۃ علی الکافرین . جب نصیحت اندوز اہل ایمان کے ثواب کو کافر دیکھیں گے اس وقت یہ قرآن
اُن کے لیے حسرت آفریں ہوگا۔
Ayah 69:51وانہ لحق الیقین . بلاشبہ قرآن حق الیقین ہے۔ یقین کا معنی ہے زوال شک (قاموس) صحاح میں
جوہری نے لکھا ہے کہ یقین علم کی صفت ہے۔ معرفت سے اونچی قرآن کو یقین کہنا مبالغہ ہے جیسے زید عدل۔ زید انصاف ہے۔ یعنی قرآن یقینی ہے اور اتنا یقینی ہے کہ گویا عین یقین بن گیا۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن واضح ہے ‘ اس کے دلائل روشن ہیں ‘ اس میں کسی سمجھ دار کو شبہ نہیں ہوسکتا۔ ہر عقلمند کو اس کا یقین ہے۔
حق ‘ باطل کی ضد کو کہتے ہیں۔ صاحب سحر نے کہا ہے حق الیقین میں صفت کی موصوف کی جانب اضافت ہے۔ اصل میں الیقین الحق تھا یعنی قرآن یقین حق ہے باطل یقین نہیں۔ باطل یقین جہل مرکب ہوتا ہے۔
ایک شبہ یقین سے اس جگہ مراد وہی ہے جو اپنی روشنی اور دلائل کی چمک کی وجہ سے عقلمند آدمی کے لیے موجب یقین ہو ‘ اس صورت میں یقین عین حق ہے ‘ باطل (جہل مرکب) کو یہ لفظ شامل ہی نہیں ہے ‘ پھر حق کی یقین کی طرف اضافت بےکار ہے۔
ازالہ بیشک بات یہی ہے لیکن حق کی یقین کی طرف اضافت تاکید اور زیادت توضیح کے لیے ہے (بیکار نہیں ہے) بغوی نے لکھا ہے کہ اضافت الی نفسہٖ ہے (یقین اور حق دونوں ایک ہیں) لیکن لفظ دو ہیں (اس لیے اضافت درست ہے) ۔
Ayah 69:52فسبح باسم ربک العظیم . یعنی اللہ کو کسی مفتری کی افتراء پر رضامند رہنے اور نا مناسب اوصاف کے ساتھ
موصوف ہونے سے پاک قرار دو اور اللہ کی بھیجی ہوئی وحی کا شکر ادا کرو (مطلب یہ کہ سبح کا مفعول محذوف ہے اور اسم سے پہلے اذکر محذ وف ہے یعنی عظمت والے اللہ کے نام کا ذکر کرو اور اس ذکر کے ساتھ اس کی پاکی کا اقرار کرو۔ )
بعض نے کہا : تسبیح سے نماز مراد ہے یعنی اللہ کی یاد اور اس کے حکم کے ذکر کے ساتھ نماز پڑھو۔ بعض کا قول ہے کہ باء زائد ہے اور لفظ اسم بھی زائد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے رب عظیم کی پاکی بیان کرو۔
حضرت عقبہ بن عامر جہنی سے مروی ہے کہ جب آیت : فسبح باسم ربک العظیم (رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا : اسکو اپنے رکوع میں (داخل) کرلو اور جب سبح اسم ربک الاعلٰی نازل ہوئی تو فرمایا : اس کو اپنے سجدہ میں (داخل) کرلو۔ (ابوداؤد ‘ ابن ماجہ)
حضرت حذیفہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رکوع میں سبحان ربی العظیم اور سجدہ میں سبحان ربی الاعلٰی پڑھتے تھے اور جب آیت رحمت پر پہنچتے تو ٹھہر کر دعا کرتے اور آیت عذاب پر پہنچتے تو ٹھہر کر پناہ مانگتے۔ (ترمذی ‘ ابوداؤد ‘ دارمی)
ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح کہا ہے۔ نسائی اور ابن ماجہ نے آیت رحمت اور آیت عذاب پر ٹھہرنے اور دعا کرنے اور پناہ مانگنے کا ذکر نہیں کیا۔
عون بن عبداللہ نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی رکوع کرے اور تین بار رکوع میں ” سبحان ربی العظیم “ کہہ لے تو اس کا رکوع پورا ہوگیا اور یہ کمترین (مقدار) ہے اور جب سجدہ کرے اور سجدہ میں تین بار ” سبحان ربی العلٰی “ کہہ لے تو اس کا سجدہ ہوگیا اور یہ قلیل ترین (تعداد) ہے۔
ترمذی نے لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند متصل نہیں ہے کیونکہ عون نے حضرت ابن مسعود کو نہیں پایا ہے۔
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : دو لفظ ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں۔ وزن میں بھاری ہیں ‘ رحمن کو محبوب ہیں (وہ دو لفظ یہ ہیں) ” سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم “۔ (بخاری و مسلم)
حضرت جابر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو : ” سبحان اللہ العظیم وبحمدہ “ کہتا ہے ‘ اس کے لیے جنت کے اندر ایک کھجور کا درخت بو دیا جاتا ہے۔ (ترمذی)
مسئلہ جمہور کے نزدیک رکوع اور سجدہ میں تسبیح پڑھنی سنت ہے اور تکمیل کا ادنیٰ درجہ تین بار ہے ‘ امام احمد (رح) ان تسبیحات کو واجب کہتے ہیں ‘ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس کو اپنے رکوع میں (داخل) کرلو۔ یہ امر ہے اور امر وجوب کے لیے ہے۔ اس کے علاوہ حضرت ابن مسعود کی حدیث میں بھی تکمیل رکوع کو اس سے وابستہ کیا گیا ہے۔ جمہور امر کو ندب (استحباب) کے لیے قرار دیتے ہیں۔
قیام سے رکوع پھر رکوع سے قیام کے بعد سجود پھر سجدہ سے سر اٹھا کر جلسہ پھر جلسہ سے سجدہ پھر سجدہ کے بعد قیام غرض ہر رکن سے دوسرے رکن کی طرف انتقال کے وقت تکبیر کہنے میں بھی یہی اختلاف ہے۔ جمہور کے نزدیک سنت ہے اور امام احمد (رح) کے نزدیک واجب ہے۔ اسی طرح قومہ میں سمع اللہ لمن حمدہ اور ربنا لک الحمد کہنا بھی مختلف فیہ ہے۔ جمہور کے نزدیک سنت اور امام احمد (رح) کے نزدیک واجب ہے۔ ہاں ! جلسہ کے اندر رب اغفرلی پڑھنے میں کوئی اختلاف نہیں۔ اس کے وجوب کا کوئی قائل نہیں ‘ واللہ اعلم۔
الحمد اللہ کہ سورة الحاقۃ کی تفسیر ختم ہوئی