67. Surah Al-Mulk

الملكThe Sovereignty · 30 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 67:28

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 67:28 in the Quran reader

کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر خدا مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کردے یا ہم پر مہربانی کرے۔ تو کون ہے کافروں کو دکھ دینے والے عذاب سے پناہ دے؟

قل . اے محمد ﷺ مکہ کے مشرک جو تمہاری موت کے آرزو مند ہیں ‘ تم انسے کہہ دو ۔ ارایتم ان اھلکنی اللہ ومن معی اور حمنا . بھلا بتاؤ کہ اللہ اگر مجھے اور میرے ساتھیوں کو مار ڈالے یا ہماری موت کو مؤخر کر کے ہم پر رحم کرے (تم کو دونوں صورتوں میں کیا فائدہ پہنچے گا ؟ ) اَرَأیْتُمْ میں ابتدائی ہمزہ استفہام تقریری کے لیے ہے رویت (دیکھنے) سے مراد جاننا ہے ( ارایتم کا صیغہ اگرچہ ماضی ہے لیکن) اس کا معنی ہے مجھے بتاؤ (یعنی امر کے معنی میں ہے) اور افعال قلوب (راٰی ‘ عَلِمَ ‘ وَجَدَ ‘ حَسِبَ وغیرہ) کے بعد جملۂ شرطیہ نفی کی طرح ہوتا ہے اور استفہام مفید تعلیق ہوتا ہے۔ فمن یجیرا الکافرین من عذاب الیم . استفہام (یعنی مَنْ بمعنی کون) انکاری ہے یعنی عذاب الیم سے کافروں کو کوئی پناہ نہیں دے گا۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ ہماری موت کے جو تم خواستگار ہو اس سے تم کو کچھ فائدہ نہ ہوگا تمہارے لیے مفید تو یہ امر ہے کہ اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی تلاش کرو اور بت عذاب خداوندی سے بچا نہیں سکتے۔ بعض اہل تفسیر نے اس طرح آیت کا مطلب بیان کیا ہے کہ اگر خدا مجھے اور میرے ساتھیوں کو مار ڈالے تو ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں عذاب دے گا اور اگر رحم کر کے ان کو معاف کر دے تب بھی باوجود ایماندار ہونے کے اپنے گناہوں کی وجہ سے ہم کو اس کے عذاب کا ڈر لگا رہتا ہے کیونکہ اس کا حکم ہمارے معاملہ میں بہرحال نافذ ہے لیکن تم تو کافر ہو ‘ تم کو اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔
Ayah 67:29

قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 67:29 in the Quran reader

کہہ دو کہ وہ جو (خدائے) رحمٰن (ہے) ہم اسی پر ایمان لائے اور اسی پر بھروسا رکھتے ہیں۔ تم کو جلد معلوم ہوجائے گا کہ صریح گمراہی میں کون پڑ رہا تھا

قل ھو الرحمن . یعنی گزشتہ کلام میں جس ہستی کے وجود ‘ قدرت اور تسلط کے دلائل بیان کیے گئے ہیں ‘ وہی بڑے رحم والا ہے جس کی عبادت میں خود بھی کرتا ہوں اور تم کو بھی اسی کی عبادت کی دعوت دیتا ہوں۔ تمام نعمتیں عطا کرنے والا (الرحمن) وہی ہے (عطاء نعمت کا تقاضا ہے کہ اسی کی عبادت کی جائے) ۔ امنا بہ . ہم اس کے رحمن ہونے سے واقف ہیں ‘ اس لیے ہمارا اس پر ایمان ہے۔ اس جملہ کا مضمون ھو الرحمٰن کے مضمون کی تائید کر رہا ہے۔ و علیہ توکلنا . چونکہ اس پر ہمارا ایمان ہے اس لیے اسی پر ہمارا بھروسہ ہے۔ اس جملہ میں علیہ کو توکلنا سے مقدم ذکر کرنا حصر پر دلالت کر رہا ہے (اسی پر ہمارا بھروسہ ہے) حصر کا مفہوم ھو الرحمٰن سے بھی مستفاد ہوتا ہے (وہی رحمن ہے) اس جملہ سے اس کی تائید ہوجاتی ہے۔ گویا یہ جملہ سابق دونوں جملوں کی تائید کر رہا ہے۔ حقیقت میں اس آیت کا مفہوم نتیجہ ہے ان دلائل کا جو پہلے بیان کیے گئے ہیں اور اسی پر مؤمنوں اور کافروں کے آئندہ حکم کی بناء ہے ‘ اسی لیے فستعلمون من ھو فی ضلال مبین . میں فاء سببیت لائی گئی ہے (فاء کا ما قبل فاء کے ما بعد کے لیے علت اور سبب ہے) یعنی تم جزا و سزا کے دن جان لو گے کہ ہم دونوں میں سے کون کھلی ہوئی گمراہی میں تھا تم یا ہم۔ اس آیت میں کافروں کے لیے تہدید اور تخویف ہے۔ اسی طرح آئندہ آیت میں بھی کافروں کو ڈرایا گیا ہے۔
Ayah 67:30

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠ Open ayah 67:30 in the Quran reader

کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر تمہارا پانی (جو تم پیتے ہو اور برتے ہو) خشک ہوجائے تو (خدا کے) سوا کون ہے جو تمہارے لئے شیریں پانی کا چشمہ بہا لائے

قل ارایتم . اس کی تشریح اوپر کی جا چکی ہے۔ ان اصبح ماء و کم غورا . اگر تمہارا پانی (تمہارے کاموں میں استعمال ہونے والا پانی) زمین کے اندر اتنے گہراؤ پر چلا جائے کہ ڈول وہاں تک نہ پہنچ سکیں (یعنی تمہاری رسائی وہاں تک نہ ہو سکے) غور مصدر ہے (گہراؤ میں چلا جانا) یہاں وصفی معنی مراد ہیں (بہت گہرا) ۔ فمن یاتیکم بماء معین . لفظ معین (بمعنی اسم فاعل) العین الجاریۃ (جاری چشمہ) سے مشتق ہے۔ یعنی بہتا ہوا پانی یا (بمعنی اسم مفعول) العین الباصرۃ سے مشتق ہے۔ یعنی ظاہر ‘ نمایاں ‘ آسانی سے حاصل ہوجانے والا (مطلب یہ ہے کہ اگر پانی ناقابل رسائی گہرائی تک پہنچ جائے تو پھر کون (سوائے خدا کے) یہ بہتا ہوا یا آسانی کے ساتھ حاصل ہونے والا پانی تمہارے لیے فراہم کرسکتا ہے) عقل بدیہی شاہد ہے کہ بت ایسا نہیں کرسکتے بلکہ اللہ کے سوا کسی میں بھی اس کی قدرت نہیں۔ شیخ جلال الدین محلی (رح) نے بیان کیا ہے کہ سورت کو ختم کرنے پر اللہ رب العالمین کہنا مستحب ہے (یعنی پروردگار عالم ہی کو یہ قدرت ہے کہ ناقابل حصول پانی اپنی رحمت سے آسانی کے ساتھ بندوں کو عطا فرماتا ہے) ۔ فصل : حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : قرآن کی ایک سورت جس کی تیس آیات ہیں ‘ آدمی (یعنی پڑھنے والے) کی سفارش اتنی کرے گی کہ اس شخص کو بخش دیا جائے گا اور وہ سورت تبارک الذی بیدہ الملک ہے۔ (احمد ‘ ابوداؤد ‘ ترمذی ‘ نسائی ‘ ابن ماجہ ‘ ابن حبان ‘ حاکم) حاکم نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد صحیح بھی قرار دیا ہے) ۔ بغوی کی روایت ان الفاظ کے ساتھ ہے کہ کتاب اللہ کی ایک سورت ہے جو صرف تیس آیات کی ہے۔ وہ آدمی کے لیے سفارش کرے گی اور قیامت کے دن اس کو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کر دے گی ‘ یہ سورت تبارک ہے۔ حضرت جابر ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ جب تک الم تنزیل اور تبارک الذی بیدہ الملک پڑھ نہ لیتے تھے ‘ سوتے نہ تھے۔ (احمد ‘ ترمذی ‘ دارمی) ترمذی نے اس کو صحیح کہا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وہ حفاظت کرنے والی ہے ‘ وہ اللہ کے عذاب سے نجات دینے والی ہے۔ (ترمذی) خالد بن معدان نے فرمایا : مجھے ” الم تنزیل “ اور اسی طرح ” تبارک الذی “ کے متعلق یہ اطلاع پہنچی ہے کہ ایک آدمی ان سورتوں کو پڑھا کرتا تھا ‘ ان کے علاوہ اور کچھ نہیں پڑھتا تھا اور تھا بڑا گناہ گار (قبر میں) اس سورت نے (پرندہ کی شکل میں آکر) اس پر اپنے پروں کا سایہ کرلیا اور عرض کیا : الٰہی اس کو بخش دے۔ یہ مجھے بہت پڑھتا تھا اللہ نے اس کی سفارش قبول فرمائی اور فرمایا : اس شخص کے ہر گناہ کی جگہ ایک نیکی لکھ دو اور اس کا درجہ اونچا کر دو ۔ یہ بھی خالد کا قول ہے کہ قبر کے اندر یہ سورت اپنے پڑھنے والے کی طرف سے جھگڑا کرتی ہے اور کہتی ہے : الٰہی ! اگر میں تیری کتاب میں سے ہوں تو میری سفارش اس (قاری) کے متعلق قبول فرما اور اگر تیری کتاب میں سے نہیں ہوں تو مجھے کتاب سے مٹا دے ‘ یہ سورت (قبر میں) پرندہ کی طرح ہوگی اور اپنے بازو صاحب قبر پر پھیلا دے گی اور اس کی سفارش کرے گی اور قبر کے عذاب سے اس کو بچا لے گی۔ طاؤس نے فرمایا : دونوں (غالباً ” الم تنزیل “ اور ” تبارک الذی “ ) قرآن کی ہر سورت سے بقدر ساٹھ نیکیوں کے بڑھ کر ہیں۔ (دارمی) الحمد اللہ سورة ملک کا ترجمہ ختم ہوا اور سو رۂ قلم کا شروع)