Ayah 66:8یایھا الذین امنوا تو بوا ... الانھر .
” اے ایمان والو ! اللہ کے سامنے سچی توبہ کرو (تمہارے لیے) اُمید (یعنی وعدہ) ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناہ (سچی توبہ سے) معاف کر دے گا اور تم کو ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا جس کے (محلات اور درختوں کے) نیچے نہریں بہتی ہونگی۔ “
تَوْبَۃً نَّصُوْحًا : نصوح مبالغہ کا صیغہ ہے ‘ نصح سے مشتق ہے۔ نصح کا معنی ہے قول و عمل سے اپنے ساتھی کی خیر خواہی ‘ حقیقت میں ناصح تائب کی صفت ہوتی ہے۔ توبہ کے ساتھ نصوح کا صیغہ کہنا مجازاً بطور مبالغہ ہے۔ یا
نصوح نصاحت سے مشتق ہے۔ نصاحت کا معنی ہے سینا (کپڑے کے ٹکڑوں کو جوڑ دینا) گناہوں کی وجہ سے دین وتقویٰ میں شگاف ہوجاتا ہے توبہ اس شگاف کو جوڑ دیتی ہے۔
یا نصح کا معنی خلوص۔ عسل ناصح۔ خالص شہد۔ خالص توبہ یعنی ریا ‘ دکھاوٹ اور طلب شہرت سے خالص توبہ۔
بغوی نے لکھا ہے ‘ عمرو نے کہا توبۂ نصوح یہ ہے کہ گناہ سے توبہ کرلے پھر گناہ کی طرف دوبارہ نہ لوٹے جیسے دودھ لوٹ کر تھن میں نہیں جاتا۔
حسن نے کہا : توبۂ نصوح یہ ہے کہ پچھلے گناہوں پر پشیمان ہو اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرلے۔
کلبی نے کہا : زبان سے استغفار کرنا ‘ دل سے پشیمان ہونا اور اعضاء کو گناہ سے روک دینا ‘ پختہ ارادہ کرلینا۔
قرظی نے کہا : توبہ نصوح چار چیزوں کا مجموعہ ہے ‘ زبان سے استغفار ‘ اعضاء بدن کو (گناہوں سے) روکنا ‘ دوبارہ گناہ نہ کرنے کا دل سے عہد اور (برے) بدکار دوستوں کو چھوڑ دینا۔
بیضاوی نے لکھا ہے کہ حضرت علی ؓ سے توبہ کے متعلق دریافت کیا گیا ‘ فرمایا :
توبہ چھ چیزوں کا مجموعہ ہے۔ گزشتہ گناہوں پر ندامت (ترک شدہ) فرائض کو دوبارہ ادا کرنا ‘ حقوق لوٹا دینا ‘ دعویداروں کو راضی کرلینا ‘ دوبارہ گناہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرلینا اور اللہ کی طاعت پر قائم رہ کر نفس کو پاک کرنا۔
عَسٰی رَبُّکُمْ : اس آیت میں گناہوں کو معاف کرنے کی امید دلائی گئی ہے ‘ اس میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ توبہ بجائے خود گناہوں کی معافی کی موجب نہیں ‘ اللہ تعالیٰ (مختار کامل ہے ‘ اس) پر کچھ واجب نہیں۔ بندے کو امید و بیم کی حالت میں ہی رہنا چاہیے۔
ابو نعیم نے حضرت علی کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے انبیاء بنی اسرائیل میں سے ایک نبی کے پاس وحی بھیجی کہ تمہاری امت میں جو اہل طاعت ہیں ‘ ان سے کہہ دو کہ اپنے اعمال پر بھر وسہ نہ کرلیں کیونکہ قیامت کے دن جس بندہ کو میں حساب فہمی کے لیے کھڑا کر دوں گا (اور اس سے محاسبہ کروں گا) اور اس کو عذاب دینا چاہوں گا تو (اس سے سخت حساب لوں گا اور) اس کو عذاب دوں گا اور اپنی امت کے گناہ گاروں سے کہہ دو کہ وہ مایوس نہ ہوں۔ میں بڑے گناہ معاف کر دوں گا اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔
بزار نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن آدمی کے تین رجسٹر ہوں گے ‘ ایک رجسٹر میں اس کے نیک اعمال کا اندراج ہوگا۔ دوسرے رجسٹر میں اس کے گناہ لکھے ہوئے ہوں گے اور تیسرے میں اللہ تعالیٰ کی نعمتیں درج ہوں گی۔ رجسٹر میں مندرجہ نعمتوں میں سے سب سے چھوٹی نعمت سے اللہ فرمائے گا کہ اس آدمی کے نیک اعمال میں سے تیرے مساوی جو عمل ہو اس کو لے لے وہ نعمت تمام نیک اعمال کو لے لے گی اور عرض کرے گی تیری عزت کی قسم ! ابھی تو میں نے اپنا پورا معاوضہ لیا بھی نہیں کہ تمام نیکیاں ختم ہوگئیں اور گناہ (تو سب کے سب) باقی ہیں ‘ پھر جب اللہ بندہ پر رحم کرنا چاہے گا تو فرمائے گا ‘ میرے بندے ! میں نے تیری نیکیاں بڑھا کر چند گنا کردیں اور تیری بد اعمالیوں سے درگزر کی اور اپنی نعمت تجھے بخش دی۔
صحیح بخاری و صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کسی کو اس کا عمل ہرگز نجات (دوزخ سے حفاظت) نہیں دے گا۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا : آپ کو بھی اے اللہ کے رسول ! ﷺ فرمایا مجھے بھی نہیں سوائے اس کے کہ اللہ اپنی رحمت اور فضل سے مجھے ڈھانک لے (اور کوئی نجات کا ذریعہ نہیں) ۔
اس موضوع کی احادیث بہت آئی ہیں۔
یوم لا یخزی اللہ النبی والذین ... کل شیء قدیر .
” جس دن کہ اللہ نبی ﷺ کو اور جو مسلمان (دین میں) انکے ساتھ ہیں انکو رسوا نہیں کرے گا ‘ ان کا نور ان کے سامنے اور ان کے داہنے جانب دوڑتا ہوگا اور (منافقوں کا نور بجھا ہوا دیکھ کر) وہ کہیں گے۔ اے ہمارے ربّ ! ہمارے اس نور کو آخر تک رکھنا اور ہم کو بخش دے ‘ تو ہر شے پر قادر ہے۔
یَوْمَ : اس کا تعلق یُدْخِلَکُمْ سے ہے۔
وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا : اس کا عطف النبی پر ہے۔ اس میں اہل ایمان کی ستائش اور ان کے مخالفوں پر تعریض ہے۔
نُوْرُھُمْ یَسْعٰی : یہ رسوا نہ کرنے کی علت ہے۔ پل صراط پر مؤمنوں کے آگے آگے اور داہنی جانب نور دوڑتا ہوگا اور جب وہ منافقوں کے نور کو بجھتا دیکھیں گے تو کہیں گے : اے ہمارے ربّ ! ہم کو ہمارا پورا نور عطا کر۔ حسب تفاوت اعمال انوار میں تفاوت ہوگا۔ اس لیے وہ نور کامل کی درخواست کریں گے۔
تفاوت انوار و اعمال کا سورة حدید میں ہم نے ذکر کردیا ہے۔
Ayah 66:9یایھا النبی جاھد الکفار والمنفین واغلظ علیھم وماواھم جھنم و بئس المصیر .
” اے نبی ‘ کافروں اور منافقوں سے (تلوار اور دلائل کے ساتھ) جہاد کرو اور ان پر سختی کرو اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔ “
جَاھِدِ الْکُفَّارَ : یعنی تلوار سے اور دلائل سے کافروں اور منافقوں کے مقابلہ کی کوشش کرو ‘ ان کا رد کرو اور ان کا نفاق ظاہر ہوجائے تو ان کو رسوا کرو اور جہاد میں سختی کرو ‘ ان پر رحم نہ کرو۔
Ayah 66:10ضرب اللہ ....
الداخلین ” اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے نوح کی بی بی کا اور لوط کی بی بی کا حال (بطور مثال) بیان فرمایا ہے ‘ وہ دونوں ہمارے خاص بندوں میں سے دو نیک بندوں کے نکاح میں تھیں۔ سو ان عورتوں نے ان دونوں بندوں کا حق ادا نہیں کیا تو یہ نیک بندے اللہ کے مقابلہ میں ان دونوں عورتوں کے کچھ کام نہ آسکے اور دونوں عورتوں کو حکم دے دیا گیا کہ دوزخ میں جانے والوں کے ساتھ تم دونوں بھی دوزخ میں چلی جاؤ۔ “
حضرت نوح کی بی بی کا نام واعلہ تھا اور حضرت لوط کی بی بی واہلہ تھی۔ اللہ نے بطور مثال ان دو عورتوں کا تذکرہ یہ بتانے کے لیے کیا کہ کافروں کا رشتۂ قرابت یہاں تک کہ رشتۂ زوجیت بھی اگر پیغمبروں سے ہو تو کافروں کے لیے وہ بےسود ہے۔ پیغمبروں کی قرابت اور زوجیت بھی کام نہیں آسکتی۔ یہ تنبیہ رسول اللہ ﷺ سے رشتۂ قرابت رکھنے والوں کو ہے کہ کفر کی حالت میں پیغمبر ﷺ بھی تمہارے کام نہیں آسکتے۔
صَالِحَیْنِ : حضرت نوح اور حضرت لوط کو عبد صالح فرمایا کیونکہ نبوت سے عصمت حاصل ہوتی ہے اور عصمت نام ہے کمال صلاح کا۔
فَخَانَتٰھُمَا : دونوں عورتوں کی خیانت کرنے سے مراد ہے کافر اور منافق ہونا (زنا اور بدکاری مراد نہیں ہے) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : کسی نبی کی بی بی نے بدکاری اور زنا نہیں کی۔ نوح اور لوط کی بیبیوں کے خیانت کرنے کا یہ معنی ہے کہ وہ عورتیں ان پیغمبروں کے دین پر نہیں تھیں۔ حضرت نوح کی بی بی لوگوں سے کہتی تھی ‘ نوح دیوانہ ہے اگر حضرت نوح پر کوئی ایمان لے آتا تھا تو وہ قوم والوں کو خبر پہنچا دیتی تھی اور حضرت لوط کی بی بی حضرت کے مہمانوں کی اطلاع (قوم والوں کو خبر) پہنچا دیتی تھی ‘ اگر کوئی مہمان رات کو آتا تو وہ روشنی کردیتی تھی تاکہ روشنی دیکھ کر لوگ سمجھ جائیں کہ لوط کے گھر کوئی مہمان آیا ہے اور اگر دن میں کوئی مہمان اترتا تو دھونی دیدیتی تاکہ مہمان کی آمد کی اطلاع ہوجائے۔
کلبی نے کہا : خیانت کرنے کا یہ معنی ہے کہ انہوں نے دلوں میں نفاق چھپا رکھا تھا اور بظاہر مؤمن تھیں۔
فَلَمْ یُغْنِیَا : یعنی یہ پیغمبر بھی اللہ کے عذاب کو دفع نہ کرسکے یا بحق زوجیت کسی قسم کا فائدہ نہ پہنچا سکے۔
وَقِیْلَ : اور دونوں عورتوں سے ان کے مرنے کے وقت کہا گیا یا قیامت کے دن کہا جائے گا۔
مَعَ الدّٰاخِلِیْنَ : یعنی ان کافر دوزخیوں کے ساتھ جن کا انبیاء سے یا کسی بھی مؤمن سے رشتۂ قرابت و زوجیت باقی نہیں رہا۔
اس آیت میں اللہ نے ان کافروں کی امید کو منقطع کردیا جو آس لگائے ہوئے تھے کہ دوسروں کا ایمان ان کو فائدہ پہنچائے گا ‘ اس سے اگلی آیت میں بتایا کہ اگر بندہ مؤمن ہے تو دوسروں کا کفر اس کو کسی طرح کا ضرر نہیں پہنچا سکتا۔
Ayah 66:11و ضرب اللہ ...
الظالمین .
” اور اللہ مسلمانوں (کی تسلی) کیلئے فرعون کی بی بی کا حال بیان کرتا ہے جب کہ اس بی بی نے دعا کی ‘ اے میرے ربّ ! میرے لیے اپنے قرب میں جنت کے اندر ایک مکان بنا دے اور مجھے فرعون اور اسکے عمل (کفر و شرک) سے محفوظ رکھ اور مجھے ان ظالموں (یعنی کافروں سے) بچا۔ “
اِمْرَاَتَ فِرْعَوْنَ : فرعون کی بی بی کا نام آسیہ بنت مزاحم تھا ‘ فرعون جو دشمن خدا تھا ان کا شوہر تھا لیکن فرعون کے کافر ہونے کا کوئی ضرر ان کو نہیں پہنچا (یہ مخلص مؤمنہ اور اللہ کی مقبول بندی تھیں) ۔
اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ جادوگروں پر غالب آگئے تو اس سے متاثر ہو کر آسیہ ایمان لے آئیں (اور حضرت موسیٰ کی سچائی کا ان کو یقین ہوگیا) فرعون کو جب ان کے مسلم ہوجانے کی اطلاع ملی تو اس نے آپ کو دھوپ میں ڈلوا کر چومیخا کرا دیا۔ سلیمان کا بیان ہے کہ فرعون کی بی بی کو دھوپ میں ڈلوا کر (طرح طرح کی) ایذائیں دی جاتی تھیں لیکن جب فرعون کے کارندے واپس چلے جاتے تو فرشتے آسیہ پر سایہ کرلیتے تھے۔
عِنْدَکَ : تیرے پاس۔ اللہ ہر (قریب اور بعید) مکان سے پاک ہے ‘ اس لیے اس کا قرب بےکیف ہے (اس کے قرب کی کیفیت نہیں بیان کی جاسکتی) ۔
بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ : اللہ نے آسیہ کا جنتی مکان اس زندگی میں ان کو دکھا دیا تھا ‘ بذریعہ کشف انہوں نے اپنا جنتی مکان دیکھ لیا تھا۔
وَ عَمَلِہٖ : اور اس کے عمل سے مجھے نجات دی یعنی اس کی سخت ایذاء رسانی سے نجات دے ‘ مقاتل نے کہا : عمل فرعون سے مراد شرک ہے۔ ابو صالح کی روایت میں آیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : فرعون کے کارندے مراد ہیں۔
مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ : یعنی ان لوگوں سے نجات دے جنہوں نے کفر و معصیت کر کے خود اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور اللہ کے بندوں کو عذاب دیتے اور ان پر ظلم کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان قبطیوں سے نجات دے جو فرعون کے تابع ہیں۔
اس قصہ کے ذیل میں بیان کیا گیا ہے کہ فرعون نے ایک بڑا پتھر آسیہ کے اوپر ڈال دینے کا حکم دیا۔ حسب الحکم جب ان پر ڈالنے کیلئے ایک عظیم پتھر لایا گیا تو انہوں نے کہا : رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَکَ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ ۔ دعا کرنی تھی کہ انہوں نے اپنا موتی کا گھر جنت میں دیکھ لیا اور روح بدن سے پرواز کرگئی ‘ جب پتھر ان پر ڈالا گیا تو نعش بےجان تھی ‘ پتھر کے نیچے دبنے کی کوئی اذیت ان کو نہیں پہنچی۔
حسن نے بیان کیا کہ اللہ نے فرعون کی بی بی کو جنت کی طرف اٹھا لیا تھا وہ جنت میں کھاتی پیتی ہیں (یعنی فرعون کو ان پر قدرت ہی حاصل نہیں ہوئی) ۔
Ayah 66:12و مریم ابنت عمران
.
” اور (مسلمانوں کی تسلی کے لیے) اللہ مریم بنت عمران کا حال بیان کرتا ہے جس نے اپنے ناموس کو محفوظ رکھا۔ سو ہم نے اس کے ناموس (یعنی چاک گریبان) کے اندر اپنی روح پھونک دی اور اس نے اپنے رب کے پیغاموں کی (جو ملائکہ کے ذریعہ سے اس کو پہنچے تھے) اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اطاعت گزاروں میں سے تھی۔ “
اَلَّتِیْ اَحْصَنَتْ فَرْجَھَا : یعنی مردوں سے اپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھا۔
فَنَفَخْنَا : ہم نے پھونک دی یعنی ہمارے حکم سے جبرئیل نے مریم کے گریبان میں پھونک دیا ‘ جس کا اثر شرمگاہ تک پہنچا اور مریم حاملہ ہوگئی۔ بندوں کے تمام افعال کا خالق اللہ ہی ہے اور اللہ کے حکم سے ہی جبرئیل نے پھونکا تھا اور پھونک کا خالق اللہ ہی تھا اس لیے پھونکنے کی نسبت بجائے جبرئیل کے اپنی طرف کردی۔
مِنْ رُّوْحِنَا : مِن زائد ہے ‘ بغیر کسی کے توسط کے اللہ نے روح کو پیدا کیا۔ پس تخلیق روح کا تعلق براہ راست اللہ سے ہوا۔ اخفش کے نزدیک کلام مثبت ہے اور من زائد ہے لیکن سیبویہ کے نزدیک اس جگہ مِن تبعیضیہ ہے جیسے : یَغْفِرَلَکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ میں مِن بعضیہ ہے۔ یعنی کچھ گناہ اللہ معاف فرما دے گا۔
بِکَلِمٰتِ رَبِّھَا : کلمات سے مراد ہیں وہ صحیفے جو انبیاء پر نازل ہوئے یا وحی انبیاء مراد ہے۔ دونوں صورتوں میں اللہ کے بھیجے ہوئے قوانین اور شریعتیں مراد ہوں گی جو اللہ نے بندوں کے لیے نازل فرمائیں۔
وَ کُتُبِہٖ : یعنی لوح محفوظ کی تحریریں یا وہ کتابیں جو اللہ نے پیغمبروں پر نازل کیں۔
مِنَ الْقَانِتِیْنَ : یعنی مریم ان لوگوں میں سے تھیں جو اطاعت شعار اور عبادت گزار اور پابند طاعت ہیں۔ قانتین (بصیغۂ جمع مذکر) کا استعمال تغلیباً ہے (عورتیں بھی قانت ہوتی ہیں اور مرد بھی ‘ صراحۃً مذکر کا صیغہ استعمال کیا گیا۔ ضمناً عورتیں بھی اس کے اندر آگئیں) یا صیغۂ مذکر کے ذکر سے اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت مریم کامل مردوں سے کم نہیں تھیں ‘ ان کی ہم پلہ تھیں۔ یہاں تک کہ ان کو کامل مردوں میں شمار کیا گیا۔
حضرت ابو موسیٰ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کامل مرد تو بہت ہیں ‘ کامل عورتیں سوائے آسیہ زوجۂ فرعون اور مریم بنت عمران کے اور کوئی نہیں اور عائشہ ؓ کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہے جیسے دوسرے کھانوں پر ثرید کی برتری۔ (رواہ احمد و الشیخان فی الصحیحین والترمذی و ابن ماجہ) ثعلبی اور ابو نعیم کی روایت میں حدیث مذکور بالفاظ ذیل آئی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : کامل مرد تو بہت ہی ‘ کامل عورتیں صرف چار ہیں : آسیہ بنت مزاحم زوجۂ فرعون ‘ مریم بنت عمران ‘ خدیجہ بنت خویلد اور فاطمہ بنت محمد ﷺ کا ئشہ کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہے جیسے کھانوں پر ثرید کی برتری۔
میں کہتا ہوں کامل ہونے سے مراد غالباً کمالات نبوت تک پہنچنا ہے۔ صحیحین کی روایت میں گویا اقوام گزشتہ کی خبر دی گئی ہے کیونکہ ان میں (کامل مرد یعنی) انبیاء بکثرت ہوئے اور کمالات نبوت تک پہنچنے والی (گزشتہ امتوں میں) صرف آسیہ اور مریم ہوئیں۔
حضرت انس راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دنیا بھر کی عو رتوں میں سے مریم بنت عمران ‘ خدیجہ بنت خویلد ‘ فاطمہ بنت محمد ﷺ اور آسیہزنِفرعون تمہارے لیے کافی ہیں (یعنی صرف یہ ہی چار عورتیں کامل ہیں) ۔
حضرت علی ؓ نے فرمایا : میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا (گزشتہ اقوام کی) عورتوں میں مریم بنت عمران سب سے بہتر عورت تھیں اور ہماری عورتوں میں سب سے بہتر خدیجہ بنت خو یلد ہیں۔ (متفق علیہ)
حضرت امّ سلمہ ؓ راوی ہیں کہ فتح مکہ کے سال رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ کو طلب فرمایا اور ان کے کان میں کچھ ارشاد فرمایا۔ حضرت فاطمہ سن کر رونے لگیں ‘ پھر حضور ﷺ نے ان سے کوئی بات اور فرمائی جس کو سن کر وہ ہنس پڑیں۔ جب حضور کی وفات ہوگئی تو میں نے حضرت فاطمہ سے رونے اور پھر ہنسنے کا سبب دریافت کیا ‘ تو کہنے لگیں ‘ رسول اللہ ﷺ نے (پہلے) فرمایا تھا کہ عنقریب حضور ﷺ کی وفات ہوجائے گی ‘ میں یہ سنکر رونے لگی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سوائے مریم بنت عمران کے تمام جنتی عورتوں کی میں سردار ہوں گی۔ یہ سن کر میں ہنس دی۔ (رواہ الترمذی)
حضرت مریم ‘ ( علیہ السلام) حضرت آسیہ ‘ ( علیہ السلام) حضرت خدیجہ ؓ ‘ حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت عائشہ ؓ کی باہم برتری کی تفصیل سورة آل عمران کی آیت : یَا مَرْیَمُ اِنَّ اللہ اَصْطَفٰکِ وَطَھَّرَکِ وَاصْطَفٰکِ عَلٰی نِسَآءِ الْعَالَمِیْنَ کی تفسیر کے ذیل میں ہم کرچکے ہیں۔
فائدہ دونوں تمثیلوں میں حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ ؓ پر تعریض ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف اس بات پر باہم تعاون کیا جو حضور ﷺ کو پسند نہیں تھی اور سخت ترین زجر بھی ہے اور اس امر کی طرف اشارہ بھی ہے کہ دونوں کے ایمان کا تقاضا ہے اور دونوں پر لازم ہے کہ گزشتہ دونوں مؤمن عورتوں کی طرح ہوجائیں اور رسول اللہ ﷺ کی زوجیت پر بھروسہ نہ کر بیٹھیں۔
الحمد اللہ سورة التحریم کے ختم کے ساتھ تفسیر مظہری اردو جلد یازدہم (11) کی تکمیل ہوئی