Ayah 62:10(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر)
قباء کے رہنے والے بھی (قبا سے آکر جمعہ کی نماز) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پڑھتے تھے۔ کذا روی ابن ماجۃ و ابن خزیمۃ۔ قباء کے ایک باشندے نے اپنے باپ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو حکم دیا تھا کہ قباء سے (مدینہ میں آ کر) ہم جمعہ کی نماز میں حاضر ہوں۔
بیہقی کی روایت ہے کہ ذوالحلیفہ کے باشندے مدینہ میں آکر جمعہ کی نماز پڑھتے تھے۔
دور صحابہ میں مختلف ممالک اور متعدد شہر فتح ہوئے ‘ وہاں مسجدیں تعمیر کی گئیں ‘ منبر نصب کیے گئے اور جمعہ کی نماز قائم کی گئی لیکن اقامت جمعہ صرف شہروں میں ہوئی ‘ گاؤں میں نہیں ہوئی۔ اگر کسی گاؤں میں جمعہ کی نماز قائم کی گئی ہوتی تو تاریخی روایات میں کہیں اس کا ذکر ضرور ہوتا۔
جو علماء قریہ (گاؤں) میں جواز جمعہ کے قائل ہیں وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سب سے اوّل جمعہ کی نماز بنی عمرو بن سلیم کے محلہ میں پڑھی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جو بستی شہر کے قریب ہو اس میں جمعہ کی اقامت اسی طرح جائز ہے جیسے شہر کے کسی حاشیہ کے محلہ میں اور یہی نہیں بلکہ شہر کے باہر یعنی بستی کے باہر میدان میں جس کا تعلق شہر سے ہو ‘ جمعہ جائز ہے۔
خلاصۂ مبحث
آیت : فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللہ : باجماع علماء مطلق نہیں ہے (بلکہ مخصوص البعض ہے) صحراء میں جمعہ جائز نہیں ‘ نہ جمعہ کا جواز ہر گاؤں میں ہے بلکہ امام شافعی (رح) وغیرہ کے نزدیک تو جواز جمعہ کے لیے بستی کی تعداد بھی محدود ہے اور امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک شہر ہونا ضروری ہے اور شہر قریہ سے بڑا ہوتا ہے اگر شہر (مصر) میں جمعہ کی نماز پڑھ لی تو بالاتفاق جمعہ ادا ہوگیا اور ظہر ساقط ہوگئی۔ لیکن اگر مصر (شہر) سے چھوٹی آبادی میں جمعہ پڑھا تو جمعہ کی صحت ‘ جمعہ کے وجوب اور ظہر کے ساقط ہونے میں شک ہے اور جمعہ شک کی حالت میں واجب نہیں ہوسکتا ‘ نہ ظہر جو واجب فی الذمہ یقیناً ہے ‘ شک سے ساقط ہوسکتی ہے۔
طبرانی اور ابن عدی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جمعہ ہر اس بستی میں واجب ہے جس میں حاکم ہو ‘ خواہ وہاں چار آدمیوں سے زائد نہ ہوں ‘ دوسری روایت میں چار کی جگہ تین کا لفظ آیا ہے۔
اس حدیث سے استدلال نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس کے سلسلۂ روایت میں حکم بن عبداللہ اور ولید بن محمد ہیں۔ دونوں نے زہری کے حوالہ سے یہ حدیث نقل کی ہے اور دارقطنی نے صرحت کردی ہے کہ جس نے بحوالہ زہری یہ روایت کی ہے وہ متروک ہے ‘ ولید بھی متروک ہے اور حکم بھی۔ امام احمد (رح) نے فرمایا : حکم کی بیان کی ہوئی ساری احادیث موضوع ہیں۔
حکم کی سند میں ایک شخص مسلمہ بن علی بھی ہے اور یحییٰ نے مسلمہ کو ہیچ (کچھ نہیں) قرار دیا ہے۔ نسائی نے اس کو متروک کہا ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ کی طرف اس قول کی نسبت کی گئی ہے کہ سنت جاریہ ہے کہ چالیس اور اس سے زائد آدمنیوں میں جمعہ (واجب) ہے اور عیدالاضحی اور عیدالفطر کی نمازیں بھی (واجب) ہیں۔ اس رویت کی سند میں عبدالعزیز بن عبدالرحمن ایک راوی ہے جس کے متعلق امام احمد (رح) نے فرمایا : اس کی احادیث سراسر جھوٹ ہیں ‘ ان سے اجتناب کرو۔ ایک روایت میں جھوٹ کی بجائے موضوع کا لفظ آیا ہے۔ اسی طرح حضرت ابو امامہ کی حدیث (بیان کی جاتی) ہے کہ پچاس افراد (ہوں تو ان) پر جمعہ (واجب) ہے ‘ پچاس سے کم پر جمعہ (واجب) نہیں۔ (رواہ الطبرانی) اس حدیث کی سند میں جعفر بن زبیر آتا ہے جو متروک ہے ‘ دوسرا راوی ہبیاج ہے یہ بھی متروک ہے۔ یہ حدیث بیہقی نے بھی بیان کی ہے ‘ اس کی سند میں نحاش آتا ہے ‘ نحاش بھی بہت ضعیف ہے۔
حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں جمعہ ہونے کے بعد جو جمعہ سب سے پہلے پڑھا گیا وہ جواثا میں پڑھا گیا ‘ جواثا بحرین میں ایک قریہ تھا۔ (رواہ البخاری) اس حدیث سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ ہر گاؤں میں صلوٰۃ جمعہ جائز ہے کیونکہ لفظ قریہ کا اطلاق شہر پر بھی ہوتا ہے ‘ اللہ نے فرمایا ہے : لَوْلَآ نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ : القریتین سے مراد ہیں طائف اور مکہ (اور یہ دونوں گاؤں نہیں ہیں ‘ مکہ شہر تھا لیکن قریہ کہا گیا) ۔
جوہری نے صحاح میں لکھا ہے کہ جواثا بحرین میں ایک قلعہ تھا ‘ جب قلعہ کا نام جواثا تھا تو یقیناً جواثا شہر ہوا کیونکہ قلعہ کا ایک حاکم بھی ہوتا ہے اور دینی عالم بھی (اس لیے ہر قلعہ شہر ہوگیا) مبسوط میں ہے کہ جواثا بحرین میں ایک مدینہ (بڑا شہر) تھا۔
کسی قابل استدلال حدیث میں جمعہ کے انعقاد کے لیے کسی معین محدود تعداد کا ذکر نہیں آیا ‘ اس لیے حسن اور ابو الثور کے نزدیک دو آدمیوں سے انعقاد جمعہ ہوجاتا ہے کیونکہ دو پر بھی جماعت کا اطلاق ہوتا ہے۔ امام ابویوسف ‘ امام محمد اور امام اوزاعی کے نزدیک تین سے جمعہ ہوجاتا ہے بشرطیکہ ان میں ایک والی (حاکم بستی) ہو۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک (کم سے کم) چار ہونا ضروری ہیں کیونکہ اللہ نے جمعہ کے متعلق فرمایا ہے : فاسعوا الی ذکر اللہ ‘ فاسعوا کے مخاطب تین ہوئے (تین سے جمع شروع ہوتی ہے) اور ذکر کے لیے ایک ذاکر (خطیب) ہونا چاہیے مجموعہ چار ہوگئے ‘ میں کہتا ہوں امام صاحب کا یہ استدلال صحیح نہیں کیونکہ جمع کا صیغہ اس لیے ذکر کیا کہ خطاب عام ہے ‘ تعداد جماعت شرط نہیں ورنہ لازم آئے گا کہ : اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ اور تمام مامورات میں جماعت کی شرط ضروری ہوجائے۔
یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ پنج وقتی جماعتوں سے جمعہ کی جماعت بڑی ہونا ضروری ہے جماعت ہر وقت کی نماز کی ہوتی ہے لیکن جمعہ کا لفظ بتارہا ہے کہ دوسری جماعتوں سے جمعہ کی جماعت بڑی ہونی چاہیے۔ اسی لیے جمعہ کو جامع الجماعات کہا جاتا ہے اور کم سے کم جماعت کا اطلاق دو پر ہوتا ہے ‘ اس لیے امام ابو یوسف (رح) نے تین مقتدی مع امام ہونے کی شرط لگائی ہے اور امام ابوحنیفہ (رح) نے امام کے علاوہ تین مقتدیوں کا ہونا ضروری قرار دیا ہے۔
مسئلہ صحت جمعہ کے لیے امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک حاکم شہر یا اس کی اجازت سے کسی دوسرے کا امام ہونا لازم ہے۔ امام مالک ‘ امام شافعی (رح) اور امام احمد (رح) کے نزدیک امامت جمعہ کے لیے یہ شرط ضروری نہیں اور ایسی شرط ضروری قرار دینے کی کوئی قابل اعتماد دلیل بھی موجود نہیں ہے۔ امام مالک ‘ امام شافعی (رح) اور ابن حبان نے بیان کیا ہے کہ بنی نضیر کے آزاد کردہ غلام ابو عبیدہ نے کہا : جس زمانہ میں حضرت عثمان ؓ محصور تھے ‘ میں نے عید کی نماز حضرت علی ؓ کی اقتداء میں پڑھی۔
حافظ ابن حجر نے لکھا ہے کہ محاصرہ چالیس روزہ تک رہا۔ اس مدت میں کبھی حضرت طلحہ ‘ کبھی حضرت عبدالرحمن بن عدیس اور کبھی کوئی اور امامت کرتا رہا۔
ابن ہمام نے لکھا ہے : یہ ایک حالت کا بیان ہے جس میں دونوں احتمال ہیں۔ حضرت عثمان کی اجازت سے امامت کی گئی ہو یا بغیر اجازت کے اس لیے کسی ایک احتمال کو قابل استدلال نہیں کہا جاسکتا۔ لامحالہ رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان اپنی جگہ اٹل رہے گا کہ جس نے ایسی حالت میں جمعہ کو ترک کیا کہ اس کا امام (ظالم ہو یا عادل) موجود تھا تو سن لو ‘ اللہ اس کی پریشان حالی دور نہیں کرے گا ‘ نہ اس کے کام میں برکت عطا فرمائے گا۔ خوب سن لو اس کی نماز نہیں ہوگی۔ (رواہ ابن ماجۃ وغیرہ) اس حدیث میں امام کو لازم قرار دیا ہے : ” ولہ امام جابر او عادل “ جملہ حالیہ ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ امام کا خود (یا اس کی اجازت سے دوسرے کا) امام ہونا ضروری ہے۔
میں کہتا ہوں یہ حدیث حضرت جابر سے مرفوعاً آئی ہے لیکن اس کی سند میں ایک شخص عبداللہ عدوی ہے جو ضعیف ہے۔
بزار نے ایک اور سند سے اس کو بیان کیا ہے ‘ اس سند میں علی بن زید بن جدعان ایک راوی ہے (جو قابل اعتماد نہیں) ۔
دارقطنی نے کہا : یہ دونوں طریقے ثابت نہیں ہیں ‘ ابن عبدالبر نے کہا : یہ حدیث ضعیف الاسناد ہے۔
مسئلہ جمہور کے نزدیک ظہر کے وقت اداء جمعہ کی ضروری شرط ہے کیونکہ صلوٰۃ جمعہ ظہر کے قائم مقام ہے اداء جمعہ سے ظہر کا فرض ساقط ہوجاتا ہے اور جب تک ظہر واجب نہ ہو جمعہ بھی واجب نہ ہوگا اور ظہر کا قائم مقام نہ ہو سکے گا۔
امام احمد (رح) کے نزدیک زوال سے پہلے اداء جمعہ جائز ہے۔ حضرت سہل بن سعد کی روایت ہے کہ ہم جمعہ کے بعد ہی دوپہر کا کھانا کھاتے اور قیلولہ کرتے تھے۔
حضرت سلمہ بن اکوع کا بیان ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھنے کے بعد جب لوٹتے تھے تو دیواروں کا سایہ اتنا بھی نہیں ہو پاتا تھا کہ اس میں (بیٹھ یا) چل سکیں ‘ دونوں حدیثیں صحیحین میں آئی ہیں۔
حضرت انس بن مالک کا بیان ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز جمعہ پڑھنے کے بعد قیلولہ کرنے کیلئے لوٹتے تھے۔ (رواہ البخاری)
امام احمد (رح) کے استدلال کا جواب یہ ہے کہ جمعہ کی نماز سے پہلے دوپہر کا کھانا نہ کھانے سے زوال سے پہلے جمعہ کا جواز ثابت نہیں ہوتا۔ دوسری حدیث میں استثناء کی بناء مجاز پر ہے۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم نماز جمعہ پڑھ کر واپس ہوتے تھے تو دیواروں کا اتنا سایہ نہیں ہو پاتا تھا کہ پیدل یا سوار ہو کر ہم اس میں چل سکیں اور ظاہر ہے کہ سایہ میں تنا طول شروع وقت میں نہیں ہوتا (تیسری حدیث سے جمعہ قبل الزوال ثابت نہیں ہوتا) ۔
ہمارے مسلک کا ثبوت ان احادیث سے ہوتا ہے ‘ جو ہم ذکر کرچکے ہیں کہ :
1) ہمارے رسول اللہ ﷺ نے حضرت مصعب بن عمیر کو لکھ بھیجا تھا : امام بعد ! دیکھو جس روز یہودی جہر کے ساتھ زبور کی تلاوت کرتے ہیں (یعنی جمعہ کے دن) تم اپنی عورتوں اور بیٹوں کو اس روز جمع کرو اور جب زوال ہوجائے تو دو رکعتیں پڑھ کر اللہ کا تقرب حاصل کرو۔
2) حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ جب سورج جھک جاتا تھا (یعنی زوال ہوجاتا تھا) تو رسول اللہ ﷺ جمعہ کی نماز پڑھتے تھے۔ (رواہ البخاری والترمذی) ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔
3) حضرت سلمہ ؓ بن اکوع کا بیان ہے کہ جب سورج ڈھل جاتا تھا تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہم جمعہ کی نماز پڑھتے تھے۔ (رواہ مسلم)
یوسف بن مالک کا بیان ہے کہ حضرت معاذ ؓ بن جبل جب مکہ شریف میں آئے تو اس وقت لوگ جمعہ کی نماز پڑھ رہے تھے اور سایہ حجروں کے اندر تھا۔ حضرت معاذ ؓ نے فرمایا : اس وقت تک جمعہ کی نماز نہ پڑھا کرو جب تک کعبہ کا سایہ سامنے سے نہ آجائے (یعنی زوال نہ ہوجائے) ۔ (رواہ الشافعی)
مسئلہ اگر جمعہ کی نماز وقت پر شروع کی لیکن تکمیل سے پہلے وقت ختم ہوگیا تو امام شافعی (رح) کے نزدیک (جتنی پڑھ لی اسی پر ظہر کی بنا کرے گا یعنی) تکمیل ظہر کرے گا۔
امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا : نماز باطل ہوجائے گی ‘ از سر نو ظہر کی نماز پڑھے کیونکہ جمعہ الگ ہے اور ظہر کی نماز الگ۔ ایک کی بنا دوسری پر صحیح نہیں ‘ جمعہ کی نماز سے ظہر کی نماز کا سقوط خلاف قیاس ہے (لیکن منصوص ہے اس لیے نص پر تو عمل کیا جائے گا مگر اس پر قیاس نہیں کیا جائے گا) اور ان تمام امور کو لازم قرار دیا جائے گا جو جمعہ کے لیے ضروری ہیں۔ ان ضروری امور میں سے وقت ظہر ہونا بھی لازم ہے (جب وقت نکل گیا تو جمعہ کی نماز بھی صحیح نہیں ہوئی) ۔
امام مالک (رح) نے فرمایا : اگر جمعہ کی نماز وقت عصر آنے تک نہیں پڑھی تو عصر کے وقت غروب آفتاب تک پڑھ لینا ضروری ہے۔ یہاں تک کہ غروب سے پہلے اگر جمعہ کی نماز شروع کی اور غروب کے بعد نماز سے فراغت ہوئی تب بھی نماز جمعہ ہوجائے گی۔
امام احمد کا بھی یہی قول ہے ‘ امام مالک (رح) کا یہ قول اس امر پر مبنی ہے کہ آپ کے نزدیک بوقت ضرورت جمعہ کی نماز کا وقت ظہر سے غروب آفتاب تک ہے۔
مسئلہ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک اداء جمعہ کے لیے عام اجازت ہونی ضروری ہے اگر حاکم نے شہر کا دروازہ بند کرا دیا ہو اور لوگوں کو باہر سے آنے کی ممانعت کردی ہو تو جمعہ کی نماز درست نہ ہوگی۔ جمہور کا قول اس کے خلاف ہے۔ ابن ہمام نے امام صاحب (رح) کے قول کی تائید میں کہا ہے کہ : نُوْدِیَ للصَّلٰوۃِ میں اس طرف اشارہ ہے کہ عمومی اجازت ہو کیونکہ اذن کا عام ہونا مقتضی ہے۔ ہم کہتے ہیں یہ استدلال کمزور ہے کیونکہ نداء (اذان) کو تو نماز جمعہ کے لیے سعی کرنے کا موجب قرار دیا گیا ہے ‘ نماز جمعہ کے لیے نداء کو شرط نہیں قرار دیا گیا ہے جیسے آیت : اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ وَاَنْصِتُوْا میں قراءت قرآن کے وقت سننا اور چپ رہنا واجب کیا گیا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ‘ نہ اس کی طرف اشارہ ہے کہ اگر کوئی نہ سنے اور خاموش نہ ہو تو قرآن کی تلاوت ناجائز ہے ورنہ لازم آئیگا کہ اگر مقتدی قراءت کر رہا ہو (اور امام کی قراءت کو نہ سنے اور اس کی طرف متوجہ نہ ہو) تو امام قراءت ہی نہ کرے ‘ نہ نماز میں ‘ نہ خطبہ میں۔
میں کہتا ہوں ‘ نماز جمعہ کے لیے عمومی اجازت کی ضرورت اس حدیث سے ثابت ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت مصعب بن عمیر کو تحریری حکم بھیجا تھا کہ مدینہ میں لوگوں کو جمعہ پڑھائیں لیکن مکہ میں حضور ﷺ نے اس وقت خود جمعہ نہیں پڑھا حالانکہ اپنے گھر میں صرف صحابہ کو جمع کر کے جمعہ پڑھنا ممکن تھا لیکن اعلان عام ممکن نہیں تھا ‘ اس لیے جمعہ نہیں پڑھا۔
مسئلہ اگر کوئی ایسے گاؤں یا صحراء میں رہتا ہو ‘ جہاں جمعہ کی نماز نہیں ہوتی تو کیا شہر میں جمعہ کے لیے حاضر ہونا اس پر واجب ہے ‘ امام ابوحنیفہ کے نزدیک گاؤں اور صحراء کے رہنے والوں پر بالکل جمعہ واجب نہیں (خواہ اس کا مسکن شہر سے کتنا ہی قریب ہو) یہی قول امام احمد (رح) کا ہے۔
امام ابویوسف ‘ امام شافعی ‘ امام احمد اور اسحاق کا قول ہے کہ وہ گاؤں یا صحراء جہاں جمعہ نہیں ہوتا اگر وہاں کوئی رہتا ہو اور اس گاؤں اور صحراء کی شہر سے دوری اتنی ہو کہ بلند آواز مؤذن کی اذان کی آواز وہاں پہنچ جاتی ہو ‘ بشرطیکہ ہوا میں سکون ہو اور شور و شغب نہ ہو تو ایسی صورت میں اس شخص پر شہر میں آکر جمعہ پڑھنا واجب ہے۔ امام مالک کا بھی یہی قول ہے لیکن آپ نے دوری کی حد ایک فرسخ مقرر کی ہے اور ربیعہ کے نزدیک چار میل کے فاصلہ پر ہونے کی تعیین ہے۔ ابن ہمام نے لکھا ہے کہ بعض علماء نے ایک میل کی اور بعض نے دو میل کی مسافت ضروری قرار دی ہے۔
امام شافعی (رح) نے دوری کی کوئی حد بندی نہیں کی۔ امام احمد کا قول ‘ امام ابوحنیفہ (رح) کے قول کی طرح منقول ہے۔ زہری نے چھ میل کی دوری لازم قرار دی ہے (اس سے زیادہ دور رہنے والوں پر جمعہ واجب نہیں ہوگا) ایک روایت میں امام مالک کا قول بھی اسی طرح آیا ہے۔
امام ابویوسف کا ایک قول مروی ہے کہ تین فرسخ دوری ہونی ضروری ہے ‘ سعید بن مسیب کا قول ہے کہ جمعہ ان پر واجب ہے جو نماز کے بعد اپنی بستی میں جا کر رات کو رہ سکیں۔
صاحب بدائع نے امام ابو یوسف (رح) کے قول کو بہتر قرار دیا ہے ‘ مسافت کی حد بندی نہ کرنے والوں نے کہا کہ آیت : اِذَا نُوْدِیَ للصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا عام ہے اس میں مسافت کی حد بندی نہیں کی گئی۔
اس کے علاوہ ابوداؤد وغیرہ نے حضرت عبداللہ بن عمرو کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جمعہ ان لوگوں پر (واجب) ہے جنہوں نے اذان سنی ہو (اس حدیث میں بھی مسافت کی تحدید نہیں کی گئی) ۔
غالباً سعید بن مسیب کی روایت ہی کی حد بندی زہری (رح) اور امام مالک (رح) اور امام ابویوسف (رح) کے اقوال میں کی گئی ہے کیونکہ بارہ میل یا اٹھارہ میل کی ایک منزل ہوتی ہے ‘ منزل کی ادنیٰ مسافت بارہ میل اور زیادہ سے زیادہ اٹھارہ میل ہوتی ہے۔
اس قول کا ثبوت حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بھی ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جمعہ اس شخص پر ہے جو (جمعہ کی نماز کے بعد) رات تک گھر لوٹ سکے۔ (رواہ الترمذی) یہ روایت قابل استدلال نہیں ہے۔ امام احمد (رح) نے جب یہ حدیث سنی تو فرمایا : اپنے رب سے استغفار کرو (یعنی یہ روایت غلط ہے) اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن نصیر ہے۔ ابو حاتم رازی نے کہا : اہل حدیث نے اس کی روایت کو متروک قرار دیا ہے۔ اس حدیث کا ایک راوی معارک بن عباد ہے۔ ابو حاتم نے کہا : اس کی احادیث منکر (غیر معروف) ہیں۔ ابو ذرعہ نے کہا : یہ راوی (ضعیف) الحدیث ہے۔ یہ عبداللہ کو یحییٰ بن سعید مقبری کی روایت میں بیان کرتا ہے اور عبداللہ کو یحییٰ بن سعید شیبانی نے مکذب قرار دیا ہے اور یحییٰ بن معین نے کہا ‘ یہ کچھ نہیں ہے اس کی حدیث نہ لکھی جائے ‘ جو علماء کہتے ہیں کہ جمعہ کی نماز ان لوگوں پر واجب ہے جو جمعہ کی اذان سن لیں یا رات تک گھر لوٹ کر آسکیں ‘ وہ عوالی مدینہ کے باشندے اور قبا کے رہنے والوں کی نماز کو پیش کرتے ہیں (کہ یہ حضرات مدینہ میں جمعہ کی نماز ادا کرتے تھے ‘ اس کے علاوہ بیہقی نے بیان کیا ہے کہ ذی الحلیفہ والے بھی جمعہ کی نماز مدینہ میں پڑھتے تھے) ۔
مگر یہ استدلال غلط ہے ‘ اس سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ مدینہ میں جمعہ کی نماز ادا کرنی ان پر واجب تھی۔ ظاہر حال سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرات رسول اللہ ﷺ کی معیت میں نماز ادا کرنے کا شرف حاصل کرنا چاہتے تھے۔ مدینہ میں حاضر ہو کر جمعہ پڑھنا ان پر واجب نہیں تھا۔
ترمذی کی روایت ہے کہ قباء کے ایک (مجہول نامعلوم الاسم) شخص نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے باپ نے جو صحابی تھے ‘ کہا رسول اللہ ﷺ نے ہم کو حکم دیا کہ قباء سے (چل کر مدینہ میں پہنچ کر) ہم جمعہ کی نماز میں حاضر ہوا کریں۔ اس حدیث کا راوی معلوم نہیں کون تھا (نام معلوم نہیں اس لیے اس روایت کو بھی استدلال میں نہیں لایا جاسکتا) ۔
مسئلہ اگر جمعہ کے روز عید ہوجائے تو کیا حکم ہے ؟ امام احمد (رح) نے فرمایا : صلوٰۃِ عید میں شریک ہونے نے ہم سے جمعہ کی نماز کو مؤخر کردیا (یعنی جمعہ پڑھنے کی ضرورت نہیں) بجائے جمعہ کے صرف ظہر پڑھتے ہیں۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ نماز عید پڑھ لینے کے بعد جمعہ کا وجوب بھی ساقط ہوجائے گا اور ظہر کا بھی ‘ بس عصر کی نماز پڑھی جائے گی۔ یہ قول عطاء کا ہے۔
صحیح تر قول امام شافعی کا یہ ہے کہ بستیوں کے رہنے والے جب عید کی نماز میں شریک ہوجائیں تو عید کی نماز کے بعد بغیر جمعہ پڑھے اپنی بستیوں کو واپس چلا جانا ان کے لیے جائز ہے لیکن بادیہ نشین (صحرائی) لوگوں سے جمعہ ساقط نہیں ہوتا۔
امام ابوحنیفہ (رح) اور امام مالک کا قول ہے کہ جس شخص پر جمعہ واجب ہے اس سے نماز عید کے بعد بھی جمعہ ساقط نہیں ہوتا کیونکہ جمعہ کا ثبوت قرآن ‘ سنت اور اجماع سے ہے پھر حدیث آحاد سے اس کا سقوط کیسے ہوسکتا ہے۔ علاوہ ازیں صلوٰۃ جمعہ کو نافلہ قرار دینا اور یہ کہنا کہ جو چاہے شریک جمعہ ہوجائے نافلہ کو فرض کے قائم مقام قرار دیتا ہے اور نفل فرض کے قائم مقام نہیں ہوسکتا۔
حضرت ابن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں دو عیدیں ایک دن جمع ہوگئیں (یعنی عید جمعہ کے دن ہوگئی) حضور ﷺ نے لوگوں کو عید کی نماز پڑھانے کے بعد فرمایا : جو شخص جمعہ میں شریک ہونا چاہے شریک ہوجائے اور نہ چاہے تو شریک نہ ہو۔ اس حدیث کی سند میں مبدل بن علی ضعیف راوی ہے اور قبارہ بن مفلس بھی اس کا راوی ہے جس کو یحییٰ بن معین نے بڑا دروغ گو کہا ہے۔
اسی مضمون کی ایک حدیث حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بھی آئی ہے لیکن اس کی اسناد میں ایک راوی بقیہ بھی ہے جو مدلس (فریب کار) ہے۔ یہ دونوں حدیثیں ابن جوزی نے نقل کی ہیں۔
مسئلہ جس پر جمعہ واجب ہے اور زوال کے بعد جمعہ پڑھنے سے پہلے وہ سفر کا ارادہ رکھتا ہو تو جائز نہیں۔ ہاں ! اگر جمعہ کی نماز راستہ میں پڑھ سکے یا رفقاء سفر سے پیچھے رہ جانے اور کٹ جانے کا اندیشہ ہو تو زوال کے بعد اداء جمعہ سے پہلے بھی روانہ ہوسکتا ہے۔ البتہ جمعہ کے دن زوال سے پہلے امام ابوحنیفہ (رح) اور امام مالک (رح) کے نزدیک سفر پر روانہ ہوسکتا ہے۔
امام شافعی بہرحال جمعہ کے روز سفر ‘ نماز جمعہ ادا کیے بغیر ‘ ناجائز قرار دیتے ہیں۔ زوال سے پہلے ہو یا زوال کے بعد۔ امام احمد (رح) کے نزدیک عام سفر ناجائز ہے لیکن (بغیر جمعہ پڑھے) جہاد کے سفر پر جانا جائز ہے۔
جو لوگ مطلقاً عدم جواز کے قائل ہیں وہ اپنے استدلال میں کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر کی مرفوع روایت ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن سفر کرتا ہے ‘ فرشتے اس کے لیے بددعا کرتے ہیں ‘ الخ۔ اس روایت میں ابن لہیعہ ضعیف راوی ہے۔
جو لوگ (جمعہ پڑھے بغیر جمعہ کے دن) صرف سفر جہاد کو جائز قرار دیتے ہیں وہ حضرت ابن عباس ؓ کی اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن رواحہ کو ایک فوجی دستے کا امیر بنا کر بھیجا۔ اتفاقاً وہ دن جمعہ کا تھا ‘ ابن رواحہ کے ساتھی تو دوپہر سے پہلے روانہ ہوگئے اور ابن رواحہ نماز (جمعہ) پڑھنے کا ارادہ سے پیچھے رہ گئے ‘ ان کا ارادہ ہوا کہ نماز پڑھ کر روانہ ہوں گے اور ساتھیوں سے جا ملیں گے ‘ نماز پڑھنے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ سے دریافت فرمایا ‘ تم پیچھے کیسے رہ گئے ؟ عبداللہ نے عرض کیا : میں نے حضور ﷺ کے ساتھ نماز پڑھنے کے بعد ساتھیوں سے جا ملنے کا ارادہ کیا تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اگر زمین کی ساری دولت تم (راہ خدا میں) خرچ کر دو گے تب بھی جو ثواب دوپہر سے پہلے روانہ ہوجانے کا تھا اس کو نہ پا سکو گے۔ (رواہ احمد والترمذی) ترمذی نے اس روایت کے منقطع ہونے کی وجہ سے اسکو معلل قرار دیا ہے۔ بیہقی نے کہا : اس کی سند میں حجاج بن ارطاۃ ہے اور حجاج (اگر منفرد ہو تو) ضعیف ہے۔
جواز سفر کے قائل کہتے ہیں کہ ابوداؤد نے مراسیل میں بیان کیا ہے کہ زہری نے جمعہ کے دن دوپہر سے پہلے سفر پر جانے کا ارادہ کیا ‘ لوگوں نے کچھ اعتراض کیا تو زہری نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے روز سفر کیا تھا۔
شافعی کی روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے ایک شخص کو مسافرانہ ہیئت پر دیکھا (یعنی وہ سفر کرنے کا ارادہ رکھتا تھا مگر روانہ نہیں ہوا تھا) وہ کہہ رہا تھا ‘ اگر آج جمعہ کا دن نہ ہوتا تو میں روانہ ہوگیا ہوتا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : جا چلا جا ‘ جمعہ سفر سے نہیں روکتا۔
سعید بن منصور کی روایت ہے کہ حضرت ابو عبیدہ ؓ بن جراح جمعہ کے دن سفر پر روانہ ہوگئے اور نماز کا انتظار نہیں کیا۔
امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا : جمعہ کا وجوب زوال کے بعد ہوتا ہے ‘ اس لیے اداء واجب سے پہلے روانگی جائز نہیں اور زوال سے پہلے جمعہ کی نماز واجب نہیں ہوتی اس لیے روانگی جائز ہے۔ زہری اور حضرت ابن عمر کی روایت اسی پر دلالت کر رہی ہے۔
مسئلہ شہر کتنا ہی بڑا ہو ‘ صرف ایک بار جمعہ کی نماز ہوگی ‘ ایک سے زائد جائز نہیں۔ یہ قول امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ کا ہے۔
طحاوی (رح) نے لکھا ہے یہی قول امام مالک کا ہے اور امام شافعی کا قدیم قول بھی یہی ہے۔ اصحاب املاء (ملفوظات کو لکھنے والوں) نے امام ابو یوسف کا قول نقل کیا ہے کہ ایک شہر میں دو جگہ جمعہ جائز نہیں ‘ ہاں ! اگر شہر کے وسط میں ایک بڑا دریا بہتا ہو جس کی وجہ سے ایک شہر تقسیم ہو کر دو شہروں کی طرح ہوجائے تو دو جگہ جمعہ پڑھا جاسکتا ہے ‘ اسی لیے امام ابویوسف (رح) فرمایا کرتے تھے کہ پل کو توڑ دیا جائے (تاکہ دو نوں جگہ جمعہ ہو سکے) اگر پل نہ توڑا گیا ہو اور ایک ہی شہر ہو تو جہاں جمعہ پہلے پڑھ لیا جائے وہ درست ہوگا اور دوسری جگہ ناجائز اور اگر ایک ہی وقت میں دونوں جگہ پڑھا جائے تو دونوں جگہ صلوٰۃ جمعہ فاسد ہوجائے گی۔
امام ابویوسف کا ایک دوسرا قول ایک روایت میں آیا ہے کہ بڑے شہر میں دو جگہ جمعہ ہوسکتا ہے ‘ اس سے زائد مساجد میں نہیں ہوسکتا۔
امام احمد (رح) نے فرمایا : اگر شہر بہت بڑا ہو جیسے بغداد اور آبادی بہت ہو اور ضرورت ہو تو دو جگہ جمعہ ہوسکتا ہے اور ضرورت نہ ہو تو صرف ایک جگہ پڑھا جائے ‘ تعدد ناجائز ہے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ بغداد اصل میں شہر نہیں تھا الگ الگ متفرق بستیاں اور گاؤں تھے ‘ پھر آبادی اتنی بڑھ گئی کہ سب آبادیاں مل کر ایک شہر بن گئیں لیکن جمعہ حسب سابق متعدد جگہ ہوتا رہا۔
امام شافعی (رح) کے متعدد اقوال میں سے راجح قول یہ ہے کہ آبادی اگر اتنی بڑھ جائے کہ سب لوگوں کا ایک جگہ جمع ہو کر نماز پڑھنا دشوار ہوجائے ‘ تو دو جگہ بلکہ حسب ضرورت متعدد مساجد میں جمعہ جائز ہے۔
امام محمد بن حسن نے فرمایا : تعدد جمعہ مطلقاً جائز ہے (خواہ شہر بڑا ہو یا چھوٹا) امام محمد (رح) نے اس قول کی نسبت امام ابوحنیفہ (رح) کی طرف کی ہے۔ سرخسی نے کہا : امام ابوحنیفہ کا صحیح قول یہ ہے کہ دو مسجدوں میں بلکہ متعدد مساجد میں اقامت جمعہ جائز ہے۔ ابن ہمام نے کہا : ہمارے نزدیک یہی قول مختار ہے کیونکہ اقامت جمعہ کے لیے شہر ہونے کی شرط ہے اور شہر کا ہر گوشہ شہر ہی ہوتا ہے (لہٰذا متعدد گوشوں اور مختلف مسجدوں میں اقامت جمعہ جائز ہے) ۔
ایک شہر میں متعدد جگہ اقامت جمعہ کی ممانعت اس وجہ سے ہے کہ لفظ جمعہ چاہتا ہے کہ شہر کی تمام جماعتیں ایک جگہ جمع ہو کر صلوٰۃ جمعہ ادا کریں ‘ جمعہ کی یہی وجہ تسمیہ ہے۔
اثرم نے امام احمد سے کہا : کیا ایک شہر میں دو جگہ جمعہ پڑھا جاسکتا ہے ؟ امام احمد (رح) نے فرمایا : مجھے نہیں معلوم کہ کسی نے ایسا کیا ہو۔
ابن المنذر نے کہا : اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اور خلفاء راشدین کے دور میں ہمیشہ جمعہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد مبارک میں ہی ہوا کرتا تھا۔ جمعہ کے دن تمام مسجدوں کو چھوڑ کر ایک مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنا بتارہا ہے کہ جمعہ کا حکم دوسری جماعتوں کے حکم سے الگ ہے ‘ جمعہ کی نماز صرف ایک ہی جگہ ادا کی جائے (باقی جماعتیں الگ الگ مساجد میں ہوسکتی ہیں) تعدد جمعہ کا قول سوائے عطاء کے اور کسی کا نہیں ہے۔
تاریخ بغداد میں خطیب نے لکھا ہے کہ ایک شہر کے اندر قدیم مسجد میں جمعہ ہونے کے باوجود دوسری جگہ بھی جمعہ کی اقامت معتصم کے زمانہ میں 280 ھ میں ہوئی۔ معتصم نے قصر سلطانی میں نماز جمعہ پڑھی کیونکہ ہجوم عام میں شریک ہونے سے خلفاء ڈرنے لگے تھے لیکن جمعہ کے لیے دوسری مسجد مقرر نہیں کی گئی تھی۔ (صرف قصر خلافت میں دوسرا جمعہ ہونے لگا تھا) پھر مکتفی کے عہد میں جمعہ کے لیے ایک مسجد دوسری بھی بنا دی گئی اور لوگ اس میں بھی جمع ہونے لگے۔
ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں لکھا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت عمرو بن عاص اور حضرت سعد بن ابی وقاص کو لکھا کہ جامع مسجد (اپنے شہر میں) ایک تعمیر کریں جہاں اقامت جمعہ کی جائے اور مختلف قبائل کے لیے الگ الگ مسجدیں (ان کے علاقہ میں پنجگانہ نمازوں کے لیے) بنا دیں۔
فائدہ ابن ہمام نے لکھا ہے اگر شرائط جمعہ کے موجود ہونے میں شبہ ہو تو جمعہ کی نماز کے بعد چار رکعتیں بہ نیت ظہر پڑھ لینی چاہیں۔ اگر جمعہ کی نماز صحیح نہیں ہوگی تو ظہر کا فریضہ ادا ہوجائے گا اور اگر جمعہ کی نماز صحیح ہوجائے گی تو یہ چار رکعتیں نفل ہوجائیں گی۔
(اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ کتابی یا آن لائن نسخے سے ملاحضہ فرمائیں۔ طوالت کے باعث اس سے زیادہ نقل نہیں کیا جا رہا)
Ayah 62:11واذا راوا تجارۃ او لھوا انفضوا الیھا و ترکوک قائما .
” اور جب انہوں نے تجارت اور کھیل تماشا ہوتے دیکھا تو اس کی طرف لپک گئے اور تمہیں کھڑا چھوڑ دیا۔ “
تجارت اور لہو۔ دو لفظ پہلے ذکر کیے پھر الیھا کی ضمیر صرف تجارت کی طرف راجع کی ‘ یہ کنایہ ہے اس امر کا کہ اصل مقصد تجارت ہی تھا کیونکہ لہو سے مراد ہر کھیل نہیں ہے بلکہ وہ طبل مقصود ہے جو قافلہ کے استقبال کے لیے بجایا جاتا تھا۔ تجارت اور لہو کے درمیان لفظ اَوْ کا ذکر کرنا ‘ دلالت کر رہا ہے اس امر پر کہ بعض لوگ صرف طبل کی آواز سننے اور قافلہ کو دیکھنے کے لیے خطبہ چھوڑ کر مسجد سے چلے گئے تھے (گو عمومی طور پر اکثر کا مقصد تجارت تھا) ۔ ابن جریر نے حضرت جابر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ وہ لوگ جب نکاح کرتے تھے تو لڑکیاں باجے ‘ بجاتی تھیں۔ باجے کی آواز سن کر لوگ رسول اللہ ﷺ کو منبر پر کھڑا چھوڑا کر باجے کی آواز کی طرف چلے جاتے تھے۔
صاحب لباب النقول نے لکھا ہے گویا دونوں واقعات کے سلسلہ میں اس آیت کا نزول ہوا۔ صاحب لباب نے یہ بھی کہا : میں نے دیکھا کہ ابن المنذر نے حضرت جابر ؓ کی روایت سے ہی دونوں واقعات کا ذکر کیا۔ نکاح کا واقعہ بھی اور قافلہ کے آنے کا بھی اور طریق روایت دونوں کا ایک ہی ہے۔ فالحمد اللہ۔
اگر دونوں واقعات کو آیت کا مورد نزول قرار دیا جائے تو اس صورت میں تنہا تجارت کی طرف ضمیر راجع کرنے سے یہ بات سمجھ لی جائے گی کہ تجارت کی طرف جانا باوجود ضروری ہونے کے جب مذموم ہے تو لہو کی طرف خطبہ چھوڑ کر مسجد سے جانا تو بدرجۂ اولیٰ قابل مذمت ہے۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ : انْفَضُّوْٓا اِلَیْہِ کا محذوف ہے۔ اصل کلام اس طرح تھا : اِذَا رَاَوْا تِجَارَۃً اِنْفَضُّوْٓا اِلَیْھَا وَاِذَا رَاَوْا لَھْوًا انْفَضُّوْٓا اِلَیْہِ ۔
حسن اور ابو مالک نے کہا : اہل مدینہ کو (ایک سال) بھوک نے بہت ستایا ‘ اشیاء کے نرخ گراں ہوگئے ‘ (دحیہ بن خلیفہ ملک شام سے کچھ روغن زیتون مدینہ میں فروخت کرنے کے لیے لایا۔ رسول اللہ ﷺ اس وقت جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے۔ حاضرین کو اندیشہ ہوا کہ دوسرے لوگ پہلے سے جا کر خرید لیں گے اور ہم رہ جائیں گے۔ اس لیے خطبہ چھوڑ کر بقیع کی طرف چلے گئے۔ دحیہ بقیع میں ہی تھا۔ رسول اللہ ﷺ کے خطبہ میں صرف چند آدمی رہ گئے جن میں حضرت ابوبکر ؓ و حضرت عمر بھی تھے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے اگر تم میں سے (خطبہ میں) کوئی باقی نہ رہتا تو وادی آگ سے بھر جاتی اور تم سب کو بہا کرلے جاتی (یعنی جلا کر خاک کر ڈالتی) ۔
مقاتل کا بیان ہے رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ دحیہ بن خلیفہ کلبی کچھ تجارتی مال لے کر ملک شام سے ایا۔ دستور تھا کہ جب دحیہ (تجارتی مال لے کر) آتا تو مدینہ کی ہر پردہ نشین عورت بھی وہاں پہنچ جاتی تھی کیونکہ دحیہ آٹا ‘ گیہوں اور تمام ضروریات کی (غذائی) چیزیں لے کر آتا تھا۔ دحیہ مدینہ پہنچ کر بازار مدینہ کے احجار الزیت مقام پر اترتا تھا اور اس کی آمد کی اطلاع کے لیے طبل بجایا جاتا تھا ‘ لوگ آواز سنتے ہی خریداری کے لیے نکل پڑتے تھے۔ یہ دستور دحیہ کے مسلمان ہونے سے پہلے کا تھا۔ چناچہ ایک بار جمعہ کے دن دحیہ آگیا۔ رسول اللہ ﷺ اس وقت منبر پر کھڑے خطبہ دے رہے تھے ‘ لوگ فوراً مسجد سے نکل پڑے۔ مسجد کے اندر صرف بارہ مرد اور ایک عورت رہ گئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : مسجد میں کتنے لوگ باقی ہیں ؟ عرض کیا گیا : بارہ مرد اور ایک عورت۔ فرمایا : اگر یہ بھی باقی نہ رہتے تو آسمان سے نامزد پتھر برسا دیئے جاتے۔ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ لہو سے مراد وہی طبل ہے۔
بعض اہل علم نے کہا : قافلہ جب مدینہ میں آتا تھا تو طبل اور تالیاں بجا کر اس کا استقبال کیا جاتا تھا (اس صورت میں طبل بجانے والے اہل قافلہ نہیں ہوتے تھے بلکہ اہل مدینہ ہوتے تھے) ۔
وَ تَرَکُوْکَ قَاءِمًا : یعنی آپ کو خطبہ دیتے چھوڑ گئے۔ مسلم نے صراحت کی ہے کہ حاضرین مسجد رسول اللہ ﷺ کو خطبہ دیتے چھوڑ گئے تھے۔ بیہقی نے بھی اسی روایت کو ترجیح دی ہے لیکن دوسری روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس وقت نماز میں تھے کہ نماز کو چھوڑ کر لوگ قافلہ کی طرف چلے گئے۔ دونوں روایتوں میں بعض لوگوں نے اس طرح مطابقت دی ہے کہ نماز میں تھے اور اس سے مراد مجازاً خطبہ دینا ہے گویا خطبہ بھی نماز ہی تھا۔ کعب بن عجرہ کی حدیث اوپر نقل کی جا چکی ہے۔ بیہقی نے نماز والی روایت کو مرجوح قرار دیا ہے۔ علقمہ کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ سے دریافت کیا گیا ‘ کیا رسول اللہ ﷺ اس وقت کھڑے ہوئے تھے یا بیٹھے ہوئے تھے ؟ فرمایا : کیا تم نے آیت : وَ تَرَکُوْکَ قَاءِمًا نہیں پڑھی۔
جو لوگ کہتے ہیں کہ چالیس آدمیوں سے کم ہوں تب بھی جمعہ کی نماز ہوجاتی ہے وہ اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں کہ صرف بارہ آدمی رہ گئے تھے۔ ان ہی کو رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کی نماز پڑھائی لیکن احتمال ہے کہ جمعہ کی نماز نہ پڑھائی ہو ‘ ظہر پڑھائی ہو یا منتشر ہونے کے بعد پھر لوگ لوٹ آئے ہوں یا ان کے چلے جانے کے بعد اور لوگ آگئے ہوں۔ یہ تمام احتمالات رفتار کلام کے خلاف ہیں ‘ اگر ان احتمالات میں سے کوئی واقعہ ہوتا تو کسی روایت میں آجاتا۔
اس کے علاوہ جمعہ میں بارہ آدمیوں کی موجودگی سے یہ ثابت نہیں ہوسکتا کہ (کم سے کم) بارہ آدمی ضرور ہی ہونے چاہئیں جیسا کہ حضرت اسعد بن زرارہ کے قصہ میں آیا ہے کہ انہوں نے پہلا جمعہ چالیس آدمیوں کے ساتھ پڑھا۔ اس سے بھی چالیس کا عدد ضروری نہیں قرار پاتا۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے بنی سالم بن عمرو کے محلہ میں سو آدمیوں کو جمعہ پڑھایا اس سے بھی ثابت نہیں ہوتا کہ جمعہ میں سو مقتدیوں کا ہونا لازم ہے۔
مسئلہ کم سے کم شرکاء جمعہ کی تعداد میں مختلف ائمہ (رح) کے مختلف اقوال ہیں ‘ اب اگر ہر امام کی مقررہ تعداد سے ایک عدد کی کمی نماز کے اندر ہوجائے تو کیا کیا جائے ؟ اس میں اقوال کا اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا : اگر پہلی رکعت میں امام کے سجدہ کرنے سے پہلے ایک فرد چلا جائے گا (اور مقررہ تعداد سے ایک شخص کم ہوجائے گا) تو جمعہ باطل ہوجائے گا۔ ازسر نو ظہر کی نماز پڑھی جائے اور اگر امام کے سجدہ کرنے کے بعد مقتدی چلا گیا ہے تو امام جمعہ کی نماز پوری کرے۔
امام مالک (رح) نے فرمایا : اگر پہلی رکعت کے دونوں سجدوں کے بعد مقتدی چلا گیا تو امام (باقی لوگوں کے ساتھ) جمعہ کی نماز پوری کرے گا۔
امام احمد (رح) نے فرمایا : تکبیر تحریمہ کے بعد مقتدی نماز توڑ کر چلا گیا تب بھی امام جمعہ کی نماز ہی پوری کرے گا۔
امام شافعی کا صحیح تر قول یہ ہے کہ آخر نماز تک چالیس کی موجودگی ضروری ہے جیسے نماز کے آخر تک وقت کا باقی رہنا ضروری ہے۔ اگر امام کے سلام پھیرنے سے پہلے چالیس سے ایک آدمی بھی کم ہوجائے گا تو باقی لوگوں پر دوبارہ ظہر کی نماز پڑھنا و اجب ہے۔
امام شافعی کا ایک قول یہ بھی منقول ہے کہ امام کے ساتھ اگر دو آدمی بھی نماز کے ختم ہونے تک باقی رہیں تو امام جمعہ کی نماز ہی پوری کرے۔ امام شافعی کا یہ بھی ایک قول آیا ہے کہ اگر آخر نماز تک ایک شخص بھی باقی رہے تو امام جمعہ کی نماز پوری کرے۔
مزنی نے کہا : امام کے ایک رکعت پڑھانے کے بعد اگر مقتدی منتشر ہوجائیں اور خواہ ایک بھی امام کے ساتھ نہ رہے تب بھی امام جمعہ کی نماز پوری کرے اور اگر پہلی رکعت میں ہی منتشر ہوجائیں اور چالیس سے کم رہ جائیں تب (ظہر کی) چار رکعتیں پوری کرے۔ امام زفر نے فرمایا : اگر قعدہ سے پہلے مقتدی منتشر ہوجائیں اور تعداد مقررہ باقی نہ رہے تو جمعہ جاتا رہا ‘ ازسر نو ظہر پڑھے۔
مسئلہ اگر مسبوق امام کے ساتھ جمعہ کی نماز کا کوئی حصہ پالے خواہ قعدہ یا سجدۂ سہو میں ہی شریک ہوجائے تو جمعہ کی نماز پوری کرے۔ یہ امام ابوحنیفہ کا قول ہے۔ امام مالک ‘ امام شافعی (رح) اور امام احمد (رح) نے فرمایا : اگر ایک رکعت پا لی تو جمہور پا لیا۔ دوسری رکعت پوری کرے۔ اگر ایک رکعت پوری نہیں ملی تو جمعہ نہیں ملا۔ ظہر کی چار رکعتیں پوری کرے۔ طاؤس نے کہا : اگر دونوں خطبے نہ پائے تو جمعہ نہیں پایا۔
قل ما عند اللہ خیر من اللھو ومن التجارۃ واللہ خیر الرازقین .
” ان سے کہو جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کھیل تماشے اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔ “
مَا عِنْدَ اللہ : یعنی اللہ کے پاس جو نماز کا اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جمے رہنے کا ثواب ہے وہ لہو اور تجارت سے کہیں بہتر ہے ‘ تم نے جس کام کو بہتر سمجھا ہے اس کا نفع تو یقینی نہیں لیکن اللہ کی طرف سے جو ثواب ملنے والا ہے وہ یقینی بھی ہے اور بہت بڑا بھی۔
مسئلہ مال کی محبت اور حرص ممنوع ہے۔ طلب رزق میں اعتدال رکھنا اور راہ خوب اختیار کرنا مستحب ہے۔ حضرت ابو حمید ساعدی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : طلب دنیا میں اقتصاد (یعنی اختصار و اعتدال) کر ‘ کیونکہ جو کچھ لکھ دیا گیا ہے وہ تو ہر ایک کو ملیگا۔
(رواہ الحاکم و ابو الشیخ و ابن ماجہ)
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لوگو ! دنیوی سامان کی کثرت سے غنا حاصل نہیں ہوتا ‘ استغناء تو دل کا استغناء ہے ‘ اللہ نے جو کچھ بندے کے لیے لکھ دیا ہے وہ ضرور عطا فرمائے گا اس لیے حسن طلب سے کام لو ‘ جو حلال ہے وہ لے لو اور جو حرام ہے اس کو چھوڑ دو ۔ رواہ ابو یعلی۔ اس کی اسناد حسن ہے۔ اس حدیث کی روایت کا ابتدائی حصہ متفق علیہ بھی ہے۔ حضرت ابو درداء راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : رزق بندہ کو ڈھونڈتا ہے جیسے انسان کو موت ڈھونڈتی ہے۔ (رواہ ابن حبان والبزار والطبرانی) طبرانی کی روایت کے یہ الفاظ ہیں : جتنا بندہ رزق کو ڈھونڈتا ہے اس سے زیادہ رزق بندہ کو ڈھونڈتا ہے۔
حضرت ابو سعید خدری راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے اگر کوئی اپنے رزق سے گا بھاگے تب بھی رزق اس کو جا پکڑے گا جس طرح آدمی (تلاش کر کے) اپنے رزق کو پاتا ہے۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط والصغیر بسند حسن)
حضرت سعد بن ابی وقاص کا بیان ہے میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ‘ آپ ﷺ فرما رہے تھے بہترین ذکر خفی ذکر ہے اور بہترین رزق وہ ہے جو کافی ہو۔ (رواہ ابو عوانہ و ابن حبان)
حضرت ابوذر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص ایسی حالت میں صبح کرتا ہے کہ اس کا مقصد دنیا ہوتی ہے وہ اللہ کی طرف سے کسی ذمہ داری میں نہیں ہے ‘ جو مسلمانوں کی پرواہ نہیں کرتا وہ ان میں سے نہیں ہے جو اپنے نفس کو بخوشی بغیر کسی جبر کے ذلیل کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں۔ (رواہ الطبرانی)
حضرت کعب بن مالک راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دو بھوکے بھیڑیئے ‘ جن کو بکریوں میں چھوڑ دیا جائے ‘ بکریوں کے لیے اس سے زیادہ تباہ کن نہیں ہیں جتنی تباہ کن مالی حرص اور بےجا خرچ ہے۔ (رواہ الترمذی و ابن حبان) ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس علم سے جو فائدہ رساں نہ ہو اور اس دل سے جس میں خشوع نہ ہو اور اس نفس سے جو کبھی سیر نہ ہو اور اس دعا سے جو سنی نہ جائے۔ (رواہ النسائی)
مسلم اور ترمذی نے یہ حدیث حضرت زید بن ارقم کی روایت سے بیان کی ہے۔
حضرت انس راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر آدمی کے پاس مال بھری ہوئی دو وادیاں ہوں ‘ تب بھی وہ تیسری کا خواستگار ہوگا۔ آدمی کے پیٹ کو خاک کے سوا کوئی چیز نہیں بھرتی اور جو (حرص سے) توبہ کرتا ہے ‘ اللہ اپنی رحمت کے ساتھ اس کی طرف التفات کرتا ہے۔
الحمد اللہ رب العالمین۔ سورة الجمعہ کی تفسیر ختم ہوئی