Ayah 58:14اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ ۭ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَلَا مِنْهُمْ ۙ وَيَحْلِفُوْنَ عَلَي الْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُوْنَ ۔
” کیا آپ نے ان لوگوں (کی حالت) کو نہیں دیکھا جو ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ نے غضب نازل کیا ہے۔ یہ (منافق لوگ) نہ تو (پورے پورے) تم میں سے ہیں اور نہ ان (کافروں) میں سے اور دانستہ جھوٹ پر قسمیں کھاتے ہیں۔
اَلَمْ تَرَ : استفہام انکاری ہے اور نفی کا انکار موجب اثبات ہوتا ہے اس لیے اَلَمْ تَرَ کا مطلب ہوا ” آپ نے دیکھا “۔
اِلَی الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا . الّذین : سے مراد ہیں منافق یعنی عبداللہ بن نبتل اور اس کے ساتھی اور قَوْمًا غَضِبَ اللہ عَلَیْھِمْ : سے مراد ہیں یہودی۔ یہ منافق یہودیوں کے دوست اور خیر خواہ تھے۔ رسول اللہ ﷺ کے راز یہودیوں سے جاکر کہہ دیتے تھے۔
مَاھُمْ مِنْکُمْ : یعنی دین اور دوستی میں وہ تم میں سے نہیں ہیں ‘ دین کے لحاظ سے مؤمن نہیں اور دوستی یہودیوں سے رکھتے ہیں۔
وَلاَ مِنْھُمْ : اور نہ یہودیوں میں سے ہیں۔
عَلَی الْکَذِبِ : اور قسمیں کھا کر جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں یعنی اسلام کا دعویٰ کرنے میں جھوٹے ہیں۔
وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ : اور دانستہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں ‘ ایسا نہیں ہے کہ وہ اپنے کو سچا جانتے ہیں اور خیال کرتے ہوں کہ ہم سچی قسمیں کھا رہے ہیں۔
سدی اور مقاتل کا بیان ہے کہ یہ آیت عبداللہ منافق کے حق میں نازل ہوئی۔ عبداللہ ‘ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھتا تھا پھر حضور ﷺ کی باتیں یہودیوں سے جاکر کہہ دیتا تھا۔ اس سے دونوں راویوں نے حضرت ابن عباس کی روایت کے موافق واقعہ بیان کیا جس کے آخر میں ہے کہ عبداللہ نے قسم کھالی کہ میں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی ‘ پھر جا کر اپنے ساتھیوں کو لے آیا اور انہوں نے آکر قسمیں کھا کر کہہ دیا کہ ہم نے آپ ﷺ کو کبھی گالی نہیں دی۔
Ayah 58:15اعد اللہ لھم عذابا شدیدا انھم ساء ما کانوا یعملون .
اللہ نے ان لوگوں کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے ‘ بیشک وہ برے کام کیا کرتے تھے۔ “
سَآءَ مَا کَانُوْا : جو کام وہ پہلے کرتے تھے وہ برے تھے اور انہیں اعمال پر وہ جمے ہوئے تھے۔
Ayah 58:16اتخذوا و ایمانھم جنۃ فصدوا عن سبیل اللہ فلھم عذاب مھین : انہوں نے اپنی قسموں کو (اپنے
بچاؤ کے لیے) سپر بنا رکھا ہے۔ پھر خدا کی راہ سے (دوسروں کو) روکتے ہیں۔ سو ان کے لیے ذلت کا عذاب ہونے والا ہے۔ ان کے مال و اولاد اللہ کے عذاب سے ان کو ذرا نہ بچا سکیں گے اور یہ لوگ دوزخی ہیں ‘ جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ “
اَیْمَانَھُمْ : اپنی جھوٹی قسموں کو۔
جُنَّۃً : جان و مال کے بچاؤ اور حفاظت کا ذریعہ۔
فَصَدُّوْا : امن کی حالت میں لوگوں کو اللہ کی اطاعت اور ایمان سے انہوں نے روکا ‘ یا یہ مطلب ہے کہ مسلمانوں کو قتل کرنے اور ان کا مال لوٹنے کی وجہ سے جہاد سے روکا۔
فَلَھُمْ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ : اوّل الذکر وعید عذاب کفر کی وجہ سے تھی اور یہ دوسری وعید اللہ کے راستہ سے روکنے کی بنا پر ذکر کی گئی ایک اور آیت میں بھی اسی طرح آیا ہے ‘ ارشاد فرمایا ہے : اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللہ زِدْنَاھُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ ۔
بعض اہل علم کا قول ہے ‘ اوّل وعید عذاب قبر سے کی گئی اور یہ دوسری وعید عذاب آخرت سے۔
Ayah 58:17لن تغنی عنھم اموالھم ولا اولادھم من اللہ شیئا اولئک اصحب النار ھم فیھا خلدون
لَنْ تُغْنِیَ عَنْھُمْ : یعنی قیامت کے دن یہ دولت و اولاد ان کے کچھ کام نہیں آئے گی اور اللہ کے عذاب سے نہیں بچائے گی۔
Ayah 58:18یوم یبعثھم اللہ جمیعا فیحلفون لہ کما یحلفون لکم و یحسبون انھم علی شی ءٍ الا انھم ھم الکذبون .
” جس روز اللہ ان سب کو زندہ کر کے اٹھائے گا ‘ پھر اس کے سامنے وہ (جھوٹی) قسمیں کھائیں گے ‘ جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں اور خیال کریں گے کہ وہ کسی اچھی حالت پر ہیں۔ سن لو وہ بلاشبہ جھوٹے ہیں۔ “
یَوْمَ یَبْعَثُھُمُ اللہ : یعنی یہ عذاب مہین اس دن ہوگا ‘ جب اللہ ان کو زندہ کر کے اٹھائے گا اور وہ اللہ کے سامنے قسمیں کھا کھا کر کہیں گے ‘ بخدا ! ہم مشرک نہیں تھے جس طرح اب دنیا میں قسمیں کھا کر تم سے کہتے ہیں کہ ہم تم میں سے ہیں (کافر ‘ غیر مسلم نہیں ہیں)
وَیَحْسَبُوْنَ.... اور خیال کرتے ہیں کہ یہ ان کی نجات کا ذریعہ ہے اور جھوٹی قسمیں اللہ کے سامنے بھی ان کے کام آئیں گی۔ یقیناً یہ انتہائی جھوٹے ہیں ‘ وہ خدا جو عالم الغیب ہے اس سے بھی یہ جھوٹ بول لیں گے۔
Ayah 58:19استحوذ علیھم الشیطان فانسھم ذکر اللہ اولئک حزب الشیطان الا ان حزب الشیطان ھم الخسرون . ” ان پر شیطان غالب آگیا ہے ‘ شیطان نے ان کو اللہ کی یاد بھلا دی ہے۔ یہ لوگ
شیطان کا گروہ ہیں۔ خوب سن لو ‘ شیطان کا گروہ ضرور برباد ہونے والا ہے۔ “
اِسْتَحْوَذَ : ان پر شیطان غالب آگیا ہے ‘ ان پر شیطان کا تسلط ہوگیا ہے۔
فَاَنْسٰھُمْ ذِکْرَ اللہ : شیطان نے ان کو یاد خدا فراموش کر ادی اور ان کو غافل بنا دیا۔ اس قدر کہ یہ اللہ کے عذاب سے بھی نہیں ڈرتے۔ ان کو خیال نہیں آتا کہ اللہ ان کو سزا دے گا۔ یہ جانتے ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے تمام پوشیدہ اسرار سے واقف ہے۔
حِزْبُ الشَّیْطَانِ : شیطان کا لشکر ‘ شیطان کا گروہ۔
ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ : یقیناً یہ گھاٹا اٹھانے والے ہیں۔ جنت کے عوض انہوں نے دوزخ خرید لی۔
حضرت ابوہریرہ کی روایت کردہ ایک طویل حدیث میں آیا ہے کہ کافر کے لیے قبر کے اندر جنت کی طرف ایک شگاف کسی قدر کھول دیا جاتا ہے۔ جس سے وہ جنت کے اندر کی چیزیں اور تروتازگی دیکھ لیتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ وہ چیزیں ہیں ‘ جن کا رخ اللہ نے تیری طرف سے پھیر دیا ہے۔ پھر دوزخ کی طرف ایک شگاف کھول دیا جاتا ہے جس سے کافر دوزخ کی طرف دیکھتا ہے تو دکھائی دیتا ہے کہ (آگ کے شعلے آپس میں ایسے لپٹ رہے ہیں کہ) ایک دوسرے کو کھائے جاتا ہے۔ کافر سے کہا جاتا ہے یہ تیرا ٹھکانہ ہے۔ (رواہ ابن ماجہ)
یہ بھی حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے ہر ایک کے دو گھر ہیں۔ ایک جنت میں ‘ دوسرا دوزخ میں۔ جو شخص مر کر دوزخ میں چلا جاتا ہے۔ اس کے جنت والے گھر کے وارث اہل جنت ہوجاتے ہیں۔ اللہ نے انہیں کے متعلق فرمایا ہے : اُوْلٰٓءِکَ ھُمُ الْوَارِثُوْنَ ۔
Ayah 58:20ان الذین یحادون اللہ و رسولہ اولئک فی الاذلین
جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ سخت ذلیل لوگوں میں سے ہیں۔
فِی الْاَذَلِّیْنَ : یعنی اللہ کی ذلیل ترین مخلوق میں اس کا شمول ہے۔ اس سے زیادہ ذلیل اور کوئی مخلوق نہیں۔
Ayah 58:21کتب اللہ لاغلبن انا و رسلی ان اللہ قوی عزیز
اللہ نے
(لوح محفوظ میں) لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے پیغمبر (آخر کار) غالب رہیں گے۔ بلاشک اللہ قوّت والا (اور) غلبہ والا ہے۔ “
کَتَبَ اللہ : یعنی اللہ نے لوح محفوظ میں یہ اٹل فیصلہ لکھ دیا ہے۔
لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ : زجاج نے کہا : رسولوں کا غلبہ دو صورتوں میں ہے۔ جن پیغمبروں کو کافروں سے لڑنے کا حکم دیا گیا وہ لڑائی میں غالب آئے اور جن کو لڑنے کا حکم نہیں دیا گیا ان کو دلائل وبراہین کے ذریعے سے غلبہ حاصل ہوا۔
قَوِیٌّ : یعنی ایسا طاقتور ہے کہ کوئی اس کی مشیت میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتا۔
عَزِیْزٌ : ایسا غالب ہے کہ کوئی اس پر غلبہ نہیں پاسکتا۔
Ayah 58:22لا تجد قوما یومنون باللہ والیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ ولو کانوا اباء ھم او ابناء ھم او اخوانھم او عشیرتھم اولئک کتب فی قلوبھم الایمان وایدھم بروح منہ و یدخلھم جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا ؓ و رضوا عنہ اولئک حزب اللہ الا ان حزب اللہ ھم المفلحون .
” جو لوگ اللہ پر اور روز قیامت پر (پورا پورا) ایمان رکھتے ہیں ‘ آپ ان کو نہیں دیکھیں گے کہ وہ ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں ‘ خواہ وہ مخالفت کرنے والے ان کے باپ ہوں یا ان کے بیٹے ہوں یا ان کے بھائی ہوں یا ان کے کنبے والے ہوں۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان جما دیا ہے اور ان کو اپنے نور سے (یعنی فیضان نور سے) قوّت دی ہے اور ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ‘ ان جنتوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوگا اور وہ اللہ سے راضی ہوں گے۔ یہ اللہ کا گروہ ہے اور اللہ کا گروہ ہی یقیناً کامیاب ہونے والا ہے۔ “
لَا تَجِدُ قَوْمًا یُؤْمِنُوْنَ بِ اللہ ِ.... اس آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ کافروں کی دوستی سے مؤمن کے ایمان میں خرابی آجاتی ہے ‘ مؤمن کسی کافر سے دوستی نہیں کرتا خواہ وہ کافر اس مؤمن سے کتنا ہی قریب ترین رشتہ رکھتا ہو۔
بعض روایات میں آیا ہے کہ اس آیت کا نزول حاطب بن ابی بلتعہ کے حق میں ہوا۔ حاطب نے مکہ والوں کو رسول اللہ ﷺ کے بعض مخفی ارادوں کی اطلاع کے لیے ایک تحریر بھیج دی تھی (جو راستہ ہی میں پکڑی گئی) تفصیلی واقعہ کا بیان سورة ممتحنہ میں آئے گا۔
ابن المنذر نے بحوالہ ابو جریج بیان کیا کہ ابو قحافہ ؓ نے (مسلمان ہونے سے پہلے) رسول اللہ ﷺ کو کچھ برا کہا تھا۔
حضرت ابوبکر ؓ نے (اپنے باپ) ابو قحافہ کے مکہ مارا جس سے وہ گرپڑے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : ابوبکر ! کیا تم نے ایسی حرکت کی ؟
حضرت ابوبکر ؓ نے جواب دیا : اگر اس وقت میرے پاس تلوار ہوتی تو میں تلوار سے ان کو مارتا۔ اسپر یہ آیت نازل ہوئی۔
ابن ابی حاتم نے ابن سودہ کی روایت سے بیان کیا کہ اس آیت کا نزول حضرت ابو عبیدہ ؓ بن جراح کے بارے میں ہوا ‘ جنہوں نے معرکہ بدر میں اپنے باپ کو قتل کردیا تھا۔ حاکم نے مستدرک میں اور طبرانی نے یہ واقعہ مذکورہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ بدر کی لڑائی کے دن ابوعبیدہ کے والد ابوعبیدہ کو قتل کرنے کے درپے تھے۔ حضرت ابوعبیدہ ؓ اس سے کترا جاتے تھے۔ آخر جب ان کی طرف سے بار بار بکثرت ایسا واقعہ ظاہر ہوتا رہا تو ابوعبیدہ ؓ نے ان کو قتل کردیا۔ مقاتل بن حبان نے بوساطت مرہ ہمدانی بیان کیا کہ آیت : وَلَوْ کَانُوْٓا اٰبَآءَ ھُمْ کے متعلق حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ ابو عبیدہ ؓ بن جراح نے اپنے باپ عبداللہ بن جراح کو جنگ احد میں قتل کردیا تھا۔
اَوْ اَبْنَآءَ ھُمْ : یعنی ابوبکر ؓ ! آپ نے بدر کی لڑائی کے دن اپنے بیٹے کو مقابلہ کی دعوت دی تھی اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ یا رسول اللہ ! ﷺ مجھے اجازت دیجئے کہ پہلے دستہ میں میں بھی شامل ہوجاؤں۔
حضور ﷺ نے فرمایا : ابوبکر ؓ ! ہم کو ابھی) اپنی ذات سے فائدہ اٹھانے دو (یعنی خود میدان میں نہ جاؤ بلکہ مشیر کی حیثیت سے ہمارے ساتھ رہو۔ )
اَوْ اِخْوَانَھُمْ : یعنی حضرت مصعب ؓ بن عمیر جنہوں نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو احد کے دن قتل کیا تھا۔
اَوْ عَشِیْرَتَھُمْ : یعنی حضرت عمر ‘ حضرت علی ‘ حضرت حمزہ اور حضرت عبیدہ ؓ ۔ حضرت عمر ؓ نے بدر کی لڑائی میں اپنے ماموں عاصم بن ہشام کو قتل کیا تھا اور حضرت علی ‘ حضرت حمزہ اور حضرت عبیدہ ؓ نے بدر کے دن عتبہ ابن ربیعہ ‘ شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ کو مارا تھا۔ (قتل کیا تھا) ۔
اُوْلٰٓءِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْ بِھِمُ الْاِیْمَانَ : یعنی اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان کو جما دیا ہے۔ ان کے دلوں میں شک آ ہی نہیں سکتا۔
وَاَیَّدَھُمْ.... روح سے مراد ہے نور یا اللہ کی مدد۔ سدی نے کہا : ایمان مراد ہے۔ ربیع نے کہا : قرآن اور وہ استدلالات جو قرآن میں مذکور ہیں۔ بعض کے نزدیک اللہ کی رحمت مراد ہے اور بعض نے کہا جبرئیل (علیہ السلام) مراد ہیں۔
رَضِیَ اللہ عَنْہُمْ : یعنی ان کی طاعت کی وجہ سے اللہ ان سے راضی ہوگا اور اللہ کی طرف سے عطائے ثواب پر وہ راضی ہوں گے یا یہ مراد ہے کہ دنیا میں ان کے متعلق اللہ نے جو فیصلہ کردیا ہے اس پر وہ راضی ہیں۔
اُوْلٰٓءِکَ حِزْبُ اللہ : یہ اللہ کا گروہ ہے ‘ اس کے دین کے مددگار ہیں ‘ اللہ کے اوامرو نواہی کے پابند ہیں۔
اُلْمُفْلِحُوْنَ : فلاح دارین حاصل کرنے والے ہیں۔ دنیا اور آخرت میں کامیاب ہونے والے ہیں۔ ہر خوف سے محفوظ و مامون ہیں۔
الحمد اللہ ! سورة مجادلہ کی تفسیر کا ترجمہ ختم ہوا۔ فشکرًا لہٗ