58. Surah Al-Mujaadila

المجادلةThe Pleading Woman · 22 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 58:4

فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْكِیْنًا١ؕ ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 58:4 in the Quran reader

جس کو غلام نہ ملے وہ مجامعت سے پہلے متواتر دو مہینے کے روزے (رکھے) جس کو اس کا بھی مقدور نہ ہوا (اسے) ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا (چاہیئے) ۔ یہ (حکم) اس لئے (ہے) کہ تم خدا اور اسکے رسول کے فرمانبردار ہوجاؤ۔ اور یہ خدا کی حدیں ہیں۔ اور نہ ماننے والوں کے لئے درد دینے والا عذاب ہے

فمن لم یجد فیصایم شھرین متتابعین من قبل ان یتماسا . ” پھر جس کو غلام یا باندی میسر نہ ہو تو اسکے ذمہ لگاتار دو مہینے کے روزے ہیں ‘ قبل اس کے کہ دونوں باہم اختلاط کریں۔ “ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ : یعنی جس کے پاس غلام یا باندی موجود نہ ہو اور حاصل بھی نہ کرسکتا ہو ‘ خواہ اس کی وجہ یہ ہو کہ غلام خریدنے کی قیمت میسر نہ ہو یا غلام دستیاب نہ ہوسکتا ہو اور قیمت موجود ہو یا غلام کی جتنی قیمت ہو اتنا ہی ظہار کرنے والا مقروض ہو یا اپنے اور اپنے اہل و عیال کے مصارف کا ضرورت مند ہو۔ اگر غلام خریدتا ہے تو نفقہ اہل و عیال سے معذور ہوجاتا ہے۔ ان سب صورتوں میں امام ابوحنیفہ ‘ امام شافعی اور امام احمد (رحمہم اللہ تعالیٰ ) کے نزدیک غلام آزاد نہ کرنا اور روزے رکھنا جائز ہے۔ امام مالک (رح) اور اوزاعی (رح) کے نزدیک اگر بردہ کی قیمت پاس ہو اور خریدنا ممکن ہو تو خرید کر آزاد کرنا واجب ہے۔ خواہ اتنا ہی قرضدار بھی ہو جتنی رقم پاس ہو یا اپنی ضرورت کا حاجتمند ہو۔ بہرحال ان تمام صورتوں میں بردہ آزاد کرنا لازم ہے ‘ روزے رکھنا کافی نہیں۔ ہم کہتے ہیں جو روپیہ اپنی ضروری حاجتوں (اداء قرض اور ضروری مصارف ذاتی و خانگی) میں مستغرق ہو تو گویا موجود ہی نہیں ہے (پھر غلام خریدنے کے لیے روپیہ میسر نہیں تو کہاں سے اور کیسے خرید کر آزاد کرسکتا ہے) ۔ مسئلہ اگر باندی یا غلام تو موجود ہو لیکن اس کا مالک خدمت لینے کا محتاج ہو (مثلاً لُولا ‘ لنگڑا یا زیادہ کمزور یا بیمار ہو) تو بردہ آزاد نہ کرنا اور روزے رکھنا ‘ امام شافعی (رح) اور امام احمد کے نزدیک جائز ہے۔ جس طرح بقدر پیاس پانی موجود ہو (زیادہ نہ ہو) تو بےوضو کو تیمم کرنا جائز ہے۔ اسی طرح اگر مال موجود ہو اور صرف اتنا ہو کہ قرض میں مستغرق ہو (زکوٰۃ واجب نہیں ‘ نہ اس مال کو اداء کفارہ میں صرف کرنا لازم ہے) ہمارے نزدیک اگر غلام برائے خدمت ہو تو اس کو آزاد کرنا اداء کفارہ میں لازم ہے۔ رہا باوجود پانی ہونے کے تیمم کا جواز اور قرض میں مستغرق ہونے کی صورت میں زکوٰۃ وغیرہ کا عدم وجوب تو اس پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ فرق واضح ہے۔ پیاس کی صورت میں پانی کو روک رکھنے (اور وضو میں صرف نہ کرنے کا) تو حکم ہے ‘ استعمال ممنوع ہے اور قرض کو ادا کرنے کا بھی وجوبی حکم ہے۔ خادم کو خدمت کے لیے روک رکھنے کا تو شرعی حکم نہیں ہے۔ مسئلہ ادائے کفارہ کے وقت کی ہی فراخ دستی یا تنگ دستی معتبر ہے۔ امام مالک کا یہی مسلک ہے۔ امام احمد (رح) اور ظاہریہ گروہ کے نزدیک وجوب کفارہ کے وقت تنگدست یا فراخدست ہونا قابل اعتبار ہے (اداء کفارہ کے وقت کی کسی حالت کا اعتبار نہیں) امام شافعی کا ایک قول امام مالک کے قول کے مطابق اور دوسرا قول امام احمد (رح) کے قول کے مطابق منقول ہے اور ایک تیسرا قول بھی کہ وقت وجوب اور وقت اداء دونوں میں جو وقت زیادہ سخت ہو ‘ اسکا اعتبار ہے۔ فَصِیَامُ شَھْرَیْنِ : دو ماہ کے روزوں میں رمضان کا مہینہ یا فطر اور نحر کا دن اور ایّام تشریق نہ آنا چاہیے۔ رمضان کا وجوب تو اللہ کی طرف سے ہے۔ اس میں ظہار کے روزے کیسے رکھے جاسکتے ہیں ‘ ورنہ ایجاب من اللہ کا ابطال لازم آئے گا۔ باقی رہے ایّام ممنوعہ تو ظاہر ہے کہ ان میں ہر طرح کا روزہ رکھنے کی ممانعت ہے اور ایّام ممنوعہ کے روزے واجب کامل کے قائم مقام کیسے ہوسکتے ہیں۔ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا : اگر تسلسل ٹوٹ جائے خواہ کسی عذر کی وجہ سے یا بغیر عذر کے بہرحال ازسر نو دو ماہ کے روزے رکھنے لازم ہوں گے۔ یہ قول باجماع علماء ہے (یعنی کوئی دن ناغہ نہ ہونا چاہیے) اگر ظہار کرنے والے نے دو مہینے کے درمیان رات کو قصداً یا دن کو بھول کر مباشرت کرلی تو امام شافعی (رح) اور امام ابو یوسف (رح) کے نزدیک ازسر ِنو دوبارہ روزے رکھنا لازم نہیں ہیں کیونکہ تسلسل فوت نہیں ہوا۔ اگر مباشرت سے پہلے روزے رکھنے ضروری ہیں اور صورت مذکورہ میں کل روزے ازسرنو رکھنے ضروری قرار دیئے جائیں گے تو کل روزوں کی مباشرت سے تاخیر لازم آئے گی اور استیناف کا حکم نہیں دیا جائے گا تو کچھ روزے مباشرت سے پہلے ہوچکے ہوں گے (کچھ بعد کو پورے ہوجائیں گے) ایک قول امام احمد کا بھی یہی ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور امام مالک (رح) کے نزدیک ازسرنو کل روزے رکھنے ہوں گے کیونکہ مباشرت سے پہلے روزے رکھنے کی ضرورت ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ روزے رکھنے کی پوری مدت میں مباشرت نہ کی جائے۔ اس لیے صورت مذکورہ میں از سر نو کل روزے رکھنے واجب ہیں۔ امام احمد کا ظاہر قول بھی یہی ہے۔ فمن لم یستطع فاطعام ستین مسکینا . ” پھر جس سے یہ بھی نہ ہو سکے تو اس کے ذمہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ “ اگر بیماری یا ضعف پیری کی وجہ سے یا ایسی شدتِِ شہوت کی وجہ سے کہ مباشرت سے باز نہ رہ سکے ‘ روزے نہ رکھ سکے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا دینا لازم ہے۔ ہر مسکین کو دو سیر عراقی یعنی نصف صاع غلہ کسی قسم کا ہو ‘ بغوی نے لکھا ہے حضرت عمر ؓ اور حضرت علی ؓ کا یہی قول ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک ہر مسکین کو نصف صاع گندم یا ایک صاع جو یا چھوارے دیئے جائیں گے۔ شعبی ‘ نخعی ‘ سعید بن جبیر ‘ حاکم ‘ مجاہد اور کرخی کا بھی یہی قول ہے۔ کرخی نے تو اپنی اسناد سے مجاہد کی طرف اس عمومی قاعدہ کی نسبت کی ہے کہ قرآن میں جس کفارہ کا حکم دیا گیا ہے وہ نصف صاع گندم ہی ہے۔ امام مالک (رح) کے نزدیک ایک مد یعنی دور طلب غدا دیدینا لازم ہے۔ امام احمد (رح) کے نزدیک گندم یا اسکا آٹا ایک مد بغدادییا دو مد جو اور چھوارے دیئے جائیں یا دو رطل روٹی یعنی گیہوں کی (ایک مد تقریبا اسّی تولہ اور دو رطل تقریباً ایک مد یعنی ایک اسٹینڈرڈ سیر) امام شافعی نے کہا : رسول اللہ ﷺ کے مد کے برابر (یعنی ایک رطل اور ایک تہائی رطل 3/1۔ 1) اس غلہ کا جو شہر میں زیادہ کھایا جاتا ہو۔ ابن جوزی نے التحقیق میں لکھا ہے کہ سلیمان بن یسار نے کہا : میں نے ایسے لوگوں کو پایا جو (کفارہ میں) مسکینوں کو ایک ایک مد دیتے تھے اور اس کو کافی سمجھتے تھے۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے سلمہ (رح) بن صخر کی حدیث سے استدلال کیا ہے جسمیں حکم دیا گیا ہے کہ ایک وسق (ساٹھ صاع) چھوارے ساٹھ مسکینوں کو دو لیکن ہم بیان کرچکے ہیں کہ یہ روایت منقطع ہے۔ ترمذی نے حضرت ابو سلمہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ سلمہ (رح) بن صخر نے رمضان بھر کے لیے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا۔ اس حدیث کے آخر میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سلمہ کو حکم دیا کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا دو سلمہ ؓ نے عرض کیا : حضور ﷺ ! میں نادار ہوں۔ حضور ﷺ نے عروہ ؓ بن عمر سے فرمایا : اس کو ایک فرق ساٹھ مسکینوں کو کھلانے کے لیے دے دو ۔ فَرَق ایک پیمانہ لگ بھگ پندرہ صاع کا ہوتا تھا۔ ممکن ہے کہ : ’ فَرق لگ بھگ پندرہ سولہ صاع کا ہوتا تھا “ یہ کلام راوی کا ہو۔ حدیث مبارک کا جزء نہ ہو۔ حدیث میں صرف اتنا ہو کہ اس کو ایک فرق دے دو ۔ فَرق لغت میں ٹوکرے کو کہتے ہیں ‘ چھوٹا ہو یا بڑا۔ طبرانی نے حضرت اوس ؓ بن صامت کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : ساٹھ مسکینوں کے کھلانے کے لیے تیس صاع دے دو ۔ میں نے عرض کیا : بغیر آپ ﷺ کی مدد کے میرے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔ حضور ﷺ نے پندرہ صاع دے کر میری مدد کی اور پندرہ صاع لوگوں نے جمع کردیا۔ اس طرح تیس صاع ہوگئے۔ ابوداؤد نے لکھا ہے کہ حضرت خولہ بنت ثعلبہ نے بیان کیا ہے ‘ میرے شوہر حضرت اوس بن صامت نے ظہار کرلیا۔ میں اس کی شکایت لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ حضور ﷺ اس کے معاملہ میں مجھ سے جھگڑنے لگے اور فرمانے لگے : اللہ سے ڈر ‘ وہ تیرے چچا کا بیٹا ہے۔ میں وہاں سے ہٹی بھی نہ تھی کہ آیت : قَدْ سَمِعَ اللہ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ...... نازل ہوئی۔ حضور ﷺ نے ایک بردہ آزاد کرنے کا حکم دیا۔ میں نے کہا : ان کے پاس کوئی بردہ نہیں ہے۔ فرمایا : دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے۔ میں نے عرض کیا : وہ بہت بوڑھے ہیں ‘ روزے رکھنے کی ان میں سکت نہیں ہے۔ فرمایا : تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے۔ میں نے عرض کیا : ان کے پاس تو خیرات کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ فرمایا : ایک فرق چھوارے دے کر میں اس کی مدد کروں گا۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ پھر میں بھی ایک فرق چھوارے مزید دے کر ان کی مدد کروں گی۔ فرمایا : تو نے خوب کیا۔ اب اپنے چچا کے بیٹے کے پاس واپس چلی جا اور دونوں فرق ساٹھ مسکینوں کو کھانے کو دے دو ۔ راوی کا بیان ہے کہ ایک فرق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے۔ بعض نے کہا : فرق وہ پیمانہ ہوتا ہے جس میں 37 صاع آجاتے تھے۔ ابوداؤد نے اسی تشریح کو زیادہ صحیح قرار دیا ہے۔ ابن ہمام نے ابو داؤد کے ول کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ اگر ایک فرق ساٹھ صاع کا پیمانہ ہوتا تو کفارہ ادا کرنے کے لیے حضرت خولہ کی طرف سے مزید ایک فرق دینے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ امام شافعی (رح) اور ان کے ساتھیوں نے کفارۂ صوم کے سلسلہ میں حضرت ابوہریرہ کی حدیث کو بطور استدلال پیش کیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ کا بیان ہے ایک شخص جس نے رمضان میں روزہ توڑ دیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ الحدیث۔ راوی نے کہا : پھر ایک فرق (چھواروں سے بھرا ہوا) لایا گیا۔ جو پندرہ صاع کے بقدر تھا۔ حضور ﷺ نے اس سے فرمایا : تو خود کھا اور اپنے بیوی ‘ بچوں کو کھلا اور ایک دن کا روزہ رکھ لے اور اللہ سے استغفار کر۔ ابو داؤد نے یہ حدیث ہشام بن سعد کی روایت سے بیان کی ہے لیکن نسائی وغیرہ نے ہشام کو ضعیف قرار دیا ہے۔ ابوداؤد نے بروایت اسماعیل جو حدیث بیان کی ہے اس میں بھی پندرہ صاع کا لفظ آیا ہے۔ ابن ابی حفصہ کی روایت میں بھی اسی طرح آیا ہے۔ بخاری نے اسماعیل کو منکر الحدیث کہا ہے۔ نسائی نے اس روایت کی تضعیف کی ہے لیکن دوسرے لوگوں نے اس کو قوی کہا ہے۔ دارقطنی نے بروایت حجاج بن ارطاۃ از زہری فرق کی مقدار پندرہ صاع نقل کی ہے اور یہ بھی بیان کیا ہے کہ حضور ﷺ نے حکم دیا تھا ‘ یہ ساٹھ مسکینوں کو دے دو ۔ حجاج بن ارطاۃ (اہل روایت کے نزدیک) ضعیف اور مدلس تھا۔ عبداللہ بن احمد نے اپنے باپ کے حوالہ سے یحییٰ کا قول نقل کیا ہے کہ حجاج نے (زہری کا زمانہ پایا ہی نہیں) زہری کو دیکھا ہی نہیں۔ اس حدیث کی تائید حضرت علی کی حدیث سے ہوتی ہے ‘ جو دار قطنی نے بیان کی ہے۔ اس حدیث میں ہے ساٹھ مسکینوں کو کھلائے۔ ہر مسکین کو ایک مُد۔ اس حدیث میں پندرہ صاع کا تذکرہ ہے (ایک صاع چار مد پندرہ صاع ساٹھ مُد) ۔ بخاری نے کہا : حدیث میں اضطراب ہے۔ بعض روایات میں پندرہ صاع آیا ہے ‘ ابن خزیمہ کی روایت بطریق مہران جو آئی ہے۔ اس میں پندرہ یا بیس صاع کے الفاظ آئے ہیں۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے جو حدیث آئی ہے۔ اس میں صاع کا ذکر ہی نہیں ہے بلکہ ایک فرق چھواروں کا لفظ آیا ہے اور فرق ایک بڑے ٹوکرے کو کہتے تھے۔ سعید بن مسیب کی روایت میں فرق کی مقدار پندرہ سے بیس صاع تک بیان کی گئی ہے۔ اس روایت کی اسناد میں ایک راوی عطاء خراسانی ہے۔ جس کو عقیلی نے ضعفاء میں داخل کیا ہے۔ بخاری نے کہا اس کی روایت کردہ عام احادیث مقلوب ہیں یعنی روایات میں قطعیت کے ساتھ بیس صاع کا ذکر کیا گیا ہے۔ دارمی نے سعید بن مسیب کی مرسل حدیث اس طرح بیان کی ہے۔ ابن خزیمہ نے حضرت عائشہ کی روایت سے بیان کیا ہے ‘ ایک فرق لایا گیا جس میں بیس صاع تھے۔ یہ احادیث کفارۂ صوم کے متعلق آئی ہیں ‘ جن سے امام ابوح نیفہ (رح) نے کفارۂ ظہار پر استدلال کیا ہے۔ امام شافعی (رح) نے از روئے احتیاط ان احادیث کو اختیار کیا ‘ جن میں کم سے کم مقدار طعام بیان کی گئی ہیں۔ سب سے زیادہ قوی حدیث حضرت کعب بن عجرہ کی ہے جو صحیحین میں مذکور ہے۔ ہم نے وہ حدیث سورة بقرہ کی آیت : فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِہٖ اَذًی مِّنْ رَّاْسِہٖ فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَۃٍ اَوْ نُسُکٍکی تفسیر میں ذکر کردی ہے۔ اس روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ایک فرق کھانا چھ مسکینوں کو تقسیم کر دے یا ایک بکری کی قربانی کردے یا تین روزے رکھے اور فرق تین صاع کا ہے ‘ اسی حدیث میں طبرانی کی روایت میں یہ بھی ہے کہ ہر مسکین کے لیے نصف صاع چھوارے دے دے۔ امام احمد کی روایت میں نصف صاع کھانے کا ذکر ہے ‘ بشر بن عمر نے بروایت شعبہ نصف صاع گندم بیان کیا ہے۔ حکم نے بروایت ابن ابی لیلیٰ نصف صاع کشمش کہا ہے کیونکہ اس روایت میں ایک فرق کشمش چھ مسکینوں کو دینے کا ذکر ہے۔ ابن حزم نے لکھا ہے کہ ان مختلف روایات میں کسی ایک کو ترجیح دینی لازم ہی ہے کیونکہ ایک ہی واقعہ ہے اور ایک ہی جگہ کا ہے (اس لیے سب روایات تو صحیح نہیں ہوسکتیں) ۔ حافظ ابن حجر نے کہا : شعبہ کی روایت نصف صاع طعام والی محفوظ ہے ‘ ہاں چھوارے ہوں یا گندم اس میں اختلاف ضروری ہے۔ شاید اس میں راویوں کے تصرف کا دخل ہو۔ کشمش کی صراحت تو صرف حکم کی روایت میں مجھے نظر آئی۔ یہ روایت ابوداؤد نے بیان کی ہے۔ اس کی سند میں ابو اسحاق شامل ہیں اور ابو اسحاق مغازی میں تو معتبر ہیں لیکن احکام میں اگر وہ دوسرے سے اختلاف کریں تو ان کا اختلاف قابل اعتبار نہیں۔ بعض اہل علم نے کہا : چھواروں والی روایت محفوظ ہے باسناد ابو قلابہ۔ مسلم نے اس پر جزم کیا ہے۔ اس میں ابو قلابہ کے خلاف کسی نے کچھ نہیں کہا۔ طبرانی نے بھی بطریق شعبی کعب سے اس کو نقل کیا ہے۔ حافظ نے کہا : مسلم کے جو بعض نسخوں میں آیا ہے کہ ہر مسکین کے لیے ایک صاع ہے یہ تحریف ہے۔ مسلم سے کم درجہ والوں کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ صحیح نسخوں میں ہر مسکین کے لیے نصف صاع کی صراحت ہے اور یہ ہی صحیح ہے۔ آیت میں اطعام کا حکم مجمل ہے۔ واجب کی مقدار کیا ہے۔ اس میں اجمال ہے اور مقدار کی تعیین میں جو احادیث صوم اور ظہار کے باب میں آئی ہیں وہ مضطرب ہیں۔ اس لیے صدقۂ فطر پر محمول کرنے سے اس صحیح متفق علیہ حدیث پر محمول کرنا اولیٰ ہے۔ صدقۂ فطر میں تو ادائیگی کا حکم ہے ! طعام کا حکم نہیں ہے اور یہاں اطعام کا حکم ہے۔ اس لیے اہل عراق کی رائے زیادہ قوی ہے اور امام ابوحنیفہ کا قول مبنی بر احتیاط ہے۔ مسئلہ اگر صبح اور شام ساٹھ صاع بھر کر گیہوں کی روٹی کھلا دی خواہ روکھی کھلائی ہو تو بھی کافی ہے لیکن جو کی روٹی کے ساتھ تو سالن ضروری ہے۔ صبح و شام دونوں وقت ایک ہی مسکین کو کھلائے یا ایک مسکین کو دو روز دن کا کھانا اور دوسرے مسکین کو دو وقت شام کا کھانا دے (اور اس طرح ساٹھ مسکینوں کی خوراک ہوجائے) تو جائز ہے لیکن اگر ساٹھ مسکینوں کو صبح کا کھانا اور دوسرے ساٹھ مسکینوں کو شام کا کھانا کھلایا تو جائز نہیں۔ وہ بچہ جس کا دودھ چھوٹا ہو اور وہ شخص جس کا پیٹ بھرا ہوا ہو ‘ ان کو کھانا کھلانا کافی نہیں ہے۔ بھوکوں کا پیٹ بھرنا اور شکم سیر کرنا ضروری ہے خواہ وہ تھوڑا کھائیں یا زائد (یعنی ان کی معمولاً خوراک کم ہو یا زائد) ۔ مسکین کو مالک بنا دینا (کہ وہ جس کو چاہے کھلائے) شرط نہیں ہے۔ شافعی (رح) تملیک کے قائل ہیں۔ ایک ایک ہی مسکین کو ساٹھ دن کھلایا تو امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک جائز ہے۔ جمہور ائمہ کا قول اس کے خلاف ہے۔ سورت مائدہ میں کفارۂ قسم کی بحث میں ہم نے ائمہ کے اختلاف اور ہر ایک کے استدلال کی تفصیل کردی ہے۔ فائدہ غلام ‘ باندی کی آزادی اور دو ماہ کے روزوں کے حکم سے پہلے اللہ نے مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا (یعنی مباشرت سے پہلے) کی شرط ذکر کی ہے لیکن مسکینوں کو کھانا کھلانے کے حکم کو اس شرط سے مشروط نہیں کیا۔ اسی بناء پر امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا : اگر ظہار کرنے والا کھانا کھلانے کے دوران ظہار کردہ عورت سے مباشرت کرلے تو دوبارہ ازسر نو کھلانا ضروری نہیں ہے۔ امام مالک کا قول ہے جو شخص بشکل اطعام کفارہ ادا کرنے کا ارادہ کرلے۔ اس کے لیے مباشرت کرنی جائز ہے ‘ جمہور کے نزدیک ناجائز ہے۔ مباشرت کفارہ دینے سے پہلے جمہور کے نزدیک مطلقاً حرام ہے ‘ خواہ کفارہ کی کوئی شکل ہو۔ کیونکہ ظہار موجب حرمت ہے اور کفارہ ہی حرمت کو زائل کرنے کا سبب ہے ‘ اس لیے جب تک کفارہ نہ ہوگا حرمت زائل نہ ہوگی۔ اصحاب السنن نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کیا۔ پھر (دوران ظہار) اس پر جا پڑا۔ حضور ﷺ نے دریافت کیا : تو نے ایسی حرکت کیوں کی ؟ اس شخص نے جواب دیا : میں نے چاندنی میں اس کی پازیب (یا اس کی گوری پنڈلیاں) دیکھ لیں (مجھ سے صبر نہ ہوسکا) فرمایا : تو جب تک کفارہ نہ دے دے ‘ اس سے کنارہ کش رہو۔ اس حدیث میں مطلق کفارہ سے پہلے کنارہ کش ہونے کا حضور ﷺ نے حکم دیا۔ ترمذی کے نزدیک یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ منذر نے کہا : اس کے تمام راوی ثقہ ہیں اور ہر ایک کا دوسرے سے سننا مشہور ہے۔ (لہٰذا حدیث معتبر ہے) ۔ بغوی نے لکھا ہے غلام کو آزاد کرنے اور روزے رکھنے کے حکم کو قبل از مباشرت کی شرط سے مشروط کیا ہے اور کھانا کھلانے کا حکم غیر مشروط اور مطلق دیا ہے۔ اس لیے مطلق کو بھی مقید پر محمول کیا جائے گا اور جو شرط مقید میں ذکر کی گئی ہے اس کو مطلق میں بھی ضروری قرار دیا جائے گا۔ بغوی کا یہ قول ان کے ایک مسلمہ ضابطہ پر مبنی ہے کہ مطلق کو مقید پر محمول کرنا لازم ہے۔ میں کہتا ہوں غلام کی آزاد اور روزے کے حکم کو اس شرط سے مشروط کرنا کہ اس سے پہلے مباشرت نہ کرے جواز کفارہ کی شرط نہیں ہے ‘ ورنہ لازم آئے گا کہ ظہار کرنے والا کفارہ دینے سے پہلے اگر مباشرت کرلے اور مباشرت کے بعد کفارہ دے تو اس کا کفارہ جائز نہ ہو اور عورت اس کے لیے حلال نہ ہو بلکہ من قبل ان یتماسا کی شرط یہ بیان کرنے کے لیے ہے کہ کفارہ سے پہلے مباشرت حرام ہے۔ شاید تیسرے نمبر (یعنی حکم اطعام) کے بعد من قبل ان یتماسا صرف اس وجہ سے ذکر نہیں کیا کہ نمبر ایک اور نمبر دو میں اس کی صراحت کردی ہے۔ یہ قرینہ ہے اس امر کا کہ نمبر تین میں یہ شرط لازم ہے۔ تیسری جگہ ذکر کرنے سے کلام میں بےفائدہ طول ہوجاتا لیکن اسی دلیل کی روشنی میں کفارہ نمبر : 2 میں بھی یہ شرط مذکور نہ ہوتی تو اس وقت یہ گمان ہوسکتا تھا کہ یہ شرط صرف بردہ آزاد کرنے کے ساھ مخصوص ہے۔ دوسرے اور تیسرے نمبر کے کفارہ کے لیے اس کی ضرورت نہیں ‘ اس لیے کفارہ کی دو شکلوں کے ساتھ تو یہ قید ذکر کردی اور تیسری شکل کو مطلق چھوڑ دیا۔ مسئلہ اگر ظہار کرنے والا کفارہ دینے سے پہلے مباشرت کر گزرے تو استغفا کرلے کیونکہ یہ عمل ناجائز ہے اور امر حرام کے ارتکاب کے بعد توبہ و استغفار لازم ہے۔ اس کے بعد کفارۂ ظہار دے دے تاکہ حرمت مباشرت آئندہ کے لیے زائل ہوجائے۔ کفارۂ ظہار کے علاوہ دوسرا کفارہ جس کو کفارۂ مباشرت کہا جاسکتا ہے ‘ واجب نہیں۔ بعض اہل علم کے نزدیک دو کفارے دینے ہوں گے۔ کفارۂ ظہار اور کفارۂ مباشرت قبل از ادائے کفارہ۔ مگر یہ قول غلط ہے۔ حضرت سلمہ ؓ بن صخر کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ حضور ﷺ نے ان کو صرف ایک کفارہ کا حکم دیا تھا (یعنی کفارۂ ظہار کا ‘ باقی دوسرے کسی کفارہ کا حکم نہیں دیا) حضرت ابن عباس ؓ کی حدیث میں بھی ایک ہی کفارہ کا ذکر ہے۔ ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت سلمہ ؓ بن صخر کے واقعہ میں صراحت کردی ہے کہ جب حضور ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ ظہار کرنے والا اگر عورت پر قبل از اداء کفارۂ پڑجائے تو کیا حکم ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : ایک کفارہ ادا کرے۔ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح غریب کہا ہے۔ امام مالک (رح) نے موطا میں ایسے شخص کے بارے میں میں جو ظہار کرنے کے بعد کفارہ ادا کرنے پہلے مرتکب مباشرت ہوجائے ‘ ذکر کیا ہے کہ ایسا شخص آئندہ کفارہ ادا کرنے تک مباشرت نہ کرے اور اللہ سے استغفار کرے۔ امام مالک (رح) نے فرمایا : میں نے اس سلسلہ میں جو کچھ سنا ہے ‘ سب سے بہتر یہی صورت ہے۔ ذلک لتومنوا باللہ و رسولہ و تلک حدود اللہ و للکفرین عذاب الیم . ” یہ (حکم اس لیے بیان کیا گیا ہے) کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر تم ایمان لے آؤ اور یہ اللہ کی (مقررہ کردہ) حدیں ہیں اور کافروں کے لیے سخت درد ناک عذاب ہوگا۔ “ ذٰلِکَ : یہ بیان کردہ احکام۔ لِتُؤْمِنُوْا : ایمان سے مراد ہے احکام شرعیہ پر عمل۔ جیسے آیت : وَمَا کَانَ اللہ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ میں ایمان سے مراد نماز ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے یہ احکام اس لیے دیئے ہیں کہ تم ان پر عمل کرو اور جاہلیت کے دستور و رواج کو چھوڑ دو ۔ وَ تِلْکَ : اور یہ کفارے اللہ کی قائم کردہ بندشیں ہیں جو لوگ ان کے مامور ہیں وہ ظہار جیسے ممنوعات کے ارتکاب سے باز رہتے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں ‘ ان سے تجاوز کرنا جائز نہیں۔ وَلِلْکٰفِرِیْنَ : یعنی ان لوگوں کے لیے جو اللہ کے احکام کو قبول نہیں کرتے ‘ ممنوعات کے ارتکاب سے باز نہیں رہتے اور حدود اللہ سے تجاوز کرتے ہیں ‘ دردناک عذاب ہے۔
Ayah 58:5

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ قَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌۚ Open ayah 58:5 in the Quran reader

جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ (اسی طرح) ذلیل کئے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے لوگ ذلیل کئے گئے تھے اور ہم نے صاف اور صریح آیتیں نازل کردی ہیں۔ جو نہیں مانتے ان کو ذلت کا عذاب ہوگا

ان الذین یحادون اللہ و رسولہ کبتوا کما کبت الذین من قبلھم و قد انزلنا ایت بینت وللکفرین عذاب مھین . ” جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں وہ (دُنیا میں بھی) ایسے ذلیل ہوں گے جیسے ان سے پہلے لوگ ذلیل ہوئے اور ہم نے کھلے کھلے احکام نازل کردیئے ہیں اور کافروں کو ذلت کا عذاب ہوگا۔ “ اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُوْنَ..... یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے عداوت رکھتے اور انکے احکام کی مخالفت کرتے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی قائم کردہ حدوں کو چھوڑ کر دوسری حدود قائم کرتے ہیں۔ کُبِتُوْا : صاحب قاموس نے لکھا ہے : کَبَتَہٗ : اس کو پچھاڑ دیا ‘ اس کو رسوا کردیا ‘ اس کو پھیر دیا ‘ اس کو توڑ دیا۔ دشمن کو لوٹا دیا ‘ اس کو ذلیل کردیا۔ مُکْبَتْ : پُر غم ‘ اندوہ گیں۔ اَلَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ : یعنی گزشتہ کافر امتیں۔ اٰیٰتٍ بَیِّنٰتٍ : اللہ کے رسول ﷺ کی سچائی پر واضح دلالت کرنے والی آیات۔ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ : بےعزت کردینے والا اور کافروں کو مٹا دینے والا عذاب۔
Ayah 58:6

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اَحْصٰىهُ اللّٰهُ وَ نَسُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ۠ Open ayah 58:6 in the Quran reader

جس دن خدا ان سب کو جلا اٹھائے گا تو جو کام وہ کرتے رہے ان کو جتائے گا۔ خدا کو وہ سب (کام) یاد ہیں اور یہ ان کو بھول گئے ہیں اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا ۭ اَحْصٰىهُ اللّٰهُ وَنَسُوْهُ ۭ وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ ” جس روز ان سب کو اللہ دوبارہ زندہ کرے گا ‘ پھر ان کا سب کیا ہوا ان کو بتادے گا۔ اللہ نے اس کو محفوظ کر رکھا ہے اور یہ لوگ اس کو بھول گئے اور اللہ ہر چیز پر مطلع ہے۔ جَمِیْعًا : سب کو۔ فَيُنَبِّئُهُمْ : یعنی علی الاعلان سب کے سامنے رسوا کرنے کے لیے اللہ ان کو ان کے اعمال سے باخبر کرے گا تاکہ سب کے سامنے ان کو عذاب دیا جاسکے۔ اَحْصٰہُ اللہ : یعنی اللہ کا علم ان کے سارے اعمال کو محیط ہے۔ ان کا کوئی عمل اللہ کے علم سے باہر نہیں۔ وَ نَسُوْہُ : یعنی بد عملی کی کثرت یا ان کی بےپروائی اور بےباکی کی وجہ سے وہ اپنے کیے ہوئے اعمال کو بھول گئے۔ جو اہم اور عظیم کام ہوتا ہے ‘ اسی کو یاد رکھا جاتا ہے اور ان کی نظر میں گناہوں کی اہمیت نہیں ‘ اس لیے ان کو بھول گئے۔ عَلٰی کُلِّ شَیْ ءٍ شَھِیْدٌ : یعنی اللہ سے کوئی چیز غائب نہیں۔
Ayah 58:7

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَا یَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَ لَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَ لَاۤ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَیْنَ مَا كَانُوْا١ۚ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 58:7 in the Quran reader

کیا تم کو معلوم نہیں کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے خدا کو سب معلوم ہے۔ (کسی جگہ) تین (شخصوں) کا (مجمع اور) کانوں میں صلاح ومشورہ نہیں ہوتا مگر وہ ان میں چوتھا ہوتا ہے اور نہ کہیں پانچ کا مگر وہ ان میں چھٹا ہوتا ہے اور نہ اس سے کم یا زیادہ مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے خواہ وہ کہیں ہوں۔ پھر جو جو کام یہ کرتے رہے ہیں قیامت کے دن وہ (ایک ایک) ان کو بتائے گا۔ بےشک خدا ہر چیز سے واقف ہے

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ مَا يَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَآ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَيْنَ مَا كَانُوْا ۚ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭاِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ ” کیا آپ نے اس پر نظر نہیں کی کہ اللہ (سب کچھ) جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ کوئی تین کی سرگوشی ایسی نہیں ہوتی جس میں وہ (اللہ) چوتھا نہ ہو اور نہ کوئی پانچ کی سرگوشی ایسی ہوتی ہے جس میں اللہ چھٹا نہ ہو اور نہ اس سے کم (تعداد) کی اور نہ زائد (تعداد) کی سرگوشی ہوتی ہے مگر اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے خواہ وہ لوگ کہیں بھی ہوں ‘ پھر قیامت کے دن ان کو ان کے کیے ہوئے کام بتادے گا ‘ بیشک اللہ ہر بات سے باخبر ہے۔ “ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ..... یعنی کلی ہو یا جزئی ‘ اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔ مَا یَکُوْنُ : جو کچھ واقع ہوتا ہے ‘ یکون تامہ ہے ‘ اس کو خبر کی ضرورت نہیں۔ مِنْ نَّجْوٰی ثَلٰثَۃٍ : مِنْ زائد ہے۔ نَجْوٰی اسم مصدر ہے (سرگوشی) ۔ (کذا فی القاموس) نجوٰی ‘ نجوۃ سے مشتق۔ نجوہ کا معنی ہے زمین میں ابھرا ہوا ٹیلہ۔ اسرار (یعنی خاص راز) بھی ذہن کی طرف اٹھائے جاتے ہیں۔ ہر شخص کو ان کا معلوم کرنا آسان نہیں ہوتا۔ مطلب یہ ہے کہ تین مردوں میں جو سرگوشیاں ہوتی ہیں۔ اِلاَّ ھُوَ رَابِعُھُمْ : یعنی اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے اور اس طرح تین کے عدد کو چار کردیتا ہے ‘ اللہ کی معیت بےکیفیت ہے اس کی کیفیت بیان نہیں کی جاسکتی ‘ مطلب یہ ہے کہ اللہ کو ان کی سرگوشی کا علم ہوتا ہے۔ وَلاَ خَمْسَۃٍٍ الاَّ ھُوَ سَادِسُھُمْ : تین اور پانچ کا خصوصیت کے ساتھ ذکر یا تو اس وجہ سے کیا گیا کہ آیت کا نزول مخصوص واقعہ سے تعلق رکھتا ہے ‘ منافقوں نے باہم سرگوشیاں کی تھیں۔ انہیں کے سلسلہ میں اس آیت کا نزول ہوا۔ یا تخصیص عددی کی یہ وجہ ہے کہ اللہ طاق ہے ‘ طاق عدد ہی کو پسند کرتا ہے (اگرچہ اس کے طاق ہونے کا معنی ہے ایک ہونا اور ایک عدد نہیں ‘ آغاز عدد جفت سے ہوتا ہے اور تین کا عدد پہلا طاق عدد ہے اور پانچ دوسرا طاق عدد ہے) اور باہم مشورہ کے لیے کم سے کم تین آدمی ہونے چاہئیں۔ دو تو وہ ہوں گے جن کی رائے میں باہم اختلاف ہوگا اور تیسرا وہ ہوگا جو فریقین میں سے کسی ایک کی رائے کو ترجیح دے گا۔ اس طور پر باہم مشورہ کے لیے کم سے کم تین آدمیوں کا ہونا ضروری ‘ یہ تو انفرادی مشورہ کی صورت ہے یعنی ایک شخص ایک رائے رکھتا ہے اور دوسرا شخص دوسرا خیال رکھتا ہے لیکن باہم مشورہ کبھی جماعتوں میں بھی ہوتا ہے اور جماعت کا ادنیٰ درجہ دو ہے۔ اس صورت میں کم سے کم ایک طرف دو ہوں گے اور دوسری رائے رکھنے والے بھی کم سے کم دو ہوں گے اور دونوں فریقوں کا فیصلہ کرنے والا اور ایک فریق کی رائے کو فریق ثانی کی رائے پر ترجیح دینے والا پانچواں شخص ہوگا۔ اس طرح یہ کمیٹی پانچ آدمیوں کی ہوجائے گی۔ اب رہا تین سے کم کا باہم مشورہ۔ یعنی دو کا مشورہ یا تین اور پانچ سے زائد۔ یعنی چار اور چھ اور اس سے زائد تو اس کی طرف اشارہ ولا ادنٰی من ذٰلک ولا اکثر میں کردیا گیا ہے۔ اِلاَّ ھُوَ مَعَھُمْ : مگر اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے ‘ یعنی اللہ کو ان کے مشورہ کی اطلاع ہوتی ہے۔ اللہ کے ساتھ ہونے کی کیفیت ناقابل بیان ہے۔ ثُمَّ یَنَبِّءُھُمْ : یعنی (علی الاعلان) رسوا کرنے اور مستحق سزا کو سزا قرار دینے کے لیے ان کو قیامت کے دن اللہ ان کے سارے اعمال سے آگاہ فرمائے گا۔ اِنَّ اللہ بِکُلِّ شَیْ ءٍ عَلِیْمٌ : چونکہ اللہ تمام ذات وصفات کا خالق اور احوال کو الٹ پلٹ کرنے والا ہے اس لیے یقیناً ہر چیز سے بخوبی واقف ہے۔ ابن ابی حاتم نے بروایت مقاتل بن حبان بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ اور یہودیوں کے درمیان معاہدۂ مصالحت تھا ‘ اسی زمانے میں جب کوئی صحابی یہودیوں کی طرف سے گزرتا تھا تو وہ چپکے چپکے آپس میں کچھ باتیں کرنے لگتے تھے۔ صحابی کو یہ خیال ہوتا تھا کہ یہ لوگ مجھے قتل کرنے یا دکھ پہنچانے کی سازش کر رہے تھے۔ بغوی کی روایت میں اتنا زائد ہے کہ مسلمان جب یہودیوں کو چپکے چپکے سرگوشیاں کرتے دیکھتے تو کہتے تھے ‘ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ ان کو ہمارے فوجی دستوں کے مارے جانے یا مرنے یا شکست کھا کر بھاگنے کی کوئی اطلاع ملی ہے۔ اس وجہ سے تو یہ سرگوشیاں کر رہے ہیں۔ اس خیال سے مسلمانوں کے دلوں کو دکھ پہنچتا تھا اور وہ غمگین ہوجاتے تھے۔ جب ایسے واقعات بہت ہونے لگے اور رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کی زبانی بار بار اس کی شکایات سنیں تو حضور ﷺ نے یہودیوں کو اس طرح سرگوشیاں کرنے کی ممانعت فرما دی لیکن وہ باز نہیں آئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئیں :
Ayah 58:8

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ یَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ١٘ وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَیَّوْكَ بِمَا لَمْ یُحَیِّكَ بِهِ اللّٰهُ١ۙ وَ یَقُوْلُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ١ؕ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 58:8 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو سرگوشیاں کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ پھر جس (کام) سے منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگے اور یہ تو گناہ اور ظلم اور رسول (خدا) کی نافرمانی کی سرگوشیاں کرتے ہیں۔ اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو جس (کلمے) سے خدا نے تم کو دعا نہیں دی اس سے تمہیں دعا دیتے ہیں۔ اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ (اگر یہ واقعی پیغمبر ہیں تو) جو کچھ ہم کہتے ہیں خدا ہمیں اس کی سزا کیوں نہیں دیتا؟ (اے پیغمبر) ان کو دوزخ (ہی کی سزا) کافی ہے۔ یہ اسی میں داخل ہوں گے۔ اور وہ بری جگہ ہے

الم تر الی الذین نھوا عن النجوی ثم یعودون لما نھوا عنہ و یتنجون بالاثم والعدوان و ...... یعذبونا اللہ بما نقول حسبھم جھنم یصلونھا فبئس المصیر . ” کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نظر نہیں کی جن کو سرگوشی سے منع کردیا گیا تھا پھر بھی لوٹ کر وہ وہی کام کرتے ہیں جن سے ان کو منع کردیا گیا تھا اور گناہ اور (مسلمانوں پر) زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشیاں کرتے ہیں اور جبِ پ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو ایسے لفظ سے سلام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کے سلام کے لیے استعمال نہیں کیا اور اپنے آپس میں کہتے ہیں کہ (اگر یہ پیغمبر ہیں تو) اللہ نے ہم کو ہمارے اس کہنے پر (فوراً ) سزا کیوں نہیں دی ؟ ان کے لیے جہنم کافی ہے جس میں یہ داخل ہوں گے ‘ سو وہ برا ٹھکانا ہے۔ اَلَمْ تَرَ : اے محمد ! ﷺ کیا آپ نے نہیں دیکھا۔ النَّجْوٰی : باہم سرگوشیاں کرنا۔ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ : صیغۂ مضارع بمعنی ماضی۔ مضارع کا اسلئے استعمال کیا گیا تاکہ گزشتہ عود کی صورت نظروں کے سامنے آجائے۔ بِالْاِثْمَدِ : یعنی ایسی باتوں کی سرگوشیاں کرتے ہیں جو اللہ کے نزدیک گناہ ہیں۔ وَالْعُدْوَانِ : اور مسلمانوں پر زیادتی۔ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ : اور رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کے مشورے ہیں۔ نفس سرگوشی ہی معصیت رسول تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی ممانعت فرما دی تھی۔ احمد اور بزار نے بسند جید حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا کہ) (سلام کرتے وقت) یہودی رسول اللہ ﷺ کو سام علیک (تم پر ہلاکت ہو) کہتے تھے ‘ پھر اپنے آپس میں کہتے تھے کہ یہ لفظ کہنے پر اللہ ہم کو عذاب نہیں دیتا (آگر یہ رسول سچے ہیں تو اس گستاخانہ لفظ پر خدا کی طرف سے ہم پر عذاب کیوں نہیں آتا) اس پر یہ آیت : وَاِذَا جَآءُ وْکَ ...... نازل ہوئی۔ بِمَا لَمْ یُحَیِّکَ بِہِ اللہ : یہودی بجائے السلام علیکم کے السّام علیکم کہتے تھے۔ سام کا معنی ہے موت (گویا دھوکہ دیتے تھے اور دعا کی بجائے درپردہ بددعا کرتے تھے) ۔ وَیَقُوْلُوْنَ فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ : اور اپنے دلوں میں یا رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ہٹ کر آپس میں کہتے تھے۔ حَسْبُھُمْ جَھَنَّمُ : ان کو عذاب دینے کے لیے جہنم کافی ہے۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : یہودیوں کی ایک جماعت نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کی درخواست کی (اجازت ملنے کے بعد وہ آئے اور) کہا : السّام علیکم۔ میں نے (یہ لفظ سن لیا اور) کہا : بل السّام واللعنۃ (تم پر ہلاکت اور لعنت ہو) حضور ﷺ نے فرمایا : عائشہ ! اللہ رقیق ہے (یعنی رقیق الکلام ہے) اور ہر کلام میں نرمی کو پسند فرماتا ہے۔ میں نے عرض کیا : کیا آپ ﷺ نے ان کی بات نہیں سنی ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : میں نے بھی وعلیکم کہہ دیا تھا۔ دوسری روایت میں ہے ‘ میں نے بھی علیکم (بغیر واؤ کے) کہہ دیا تھا۔ بخاری کی روایت ہے کہ یہودی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے السّام علیکم کہا۔ حضور ﷺ نے بھی (جواب میں) وعلیکم فرما دیا۔ حضرت عائشہ ؓ (سے ضبط نہ ہوا اور آپ) نے کہا : السّام علیکم و لعنکمّ اللہ و غَضِبَ علیکم۔ ( رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عائشہ ! نرمی اختیار کرو ‘ درشت کلامی اور فحش سے پرہیز کرو۔ حضرت عائشہ ؓ نے عرض کیا : کیا آپ ﷺ نے ان کی بات نہیں سنی ؟ فرمایا : میں نے جو کہا وہ تم نے نہیں سنا۔ میں نے تو ان کی بات انہیں پر لوٹا دی۔ میری بددعا ان کے حق میں قبول ہوگی اور ان کی بددعا میرے حق میں قبول نہیں ہوگی۔ مسلم کی روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : تم فحش گو نہ بنو ‘ اللہ فحش گوئی کو پسند نہیں کرتا۔ حضرت ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب یہودی تم کو سلام کرتے ہیں تو ان میں سے کچھ لوگ السّام علیکم کہتے ہیں ‘ تم بھی وعلیک کہہ دیا کرو۔ (متفق علیہ) حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب اہل کتاب تم کو سلام کریں تو تم وعلیکم کہہ دیا کرو۔ (متفق علیہ)
Ayah 58:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 58:9 in the Quran reader

مومنو! جب تم آپس میں سرگوشیاں کرنے لگو تو گناہ اور زیادتی اور پیغمبر کی نافرمانی کی باتیں نہ کرنا بلکہ نیکوکاری اور پرہیزگاری کی باتیں کرنا۔ اور خدا سے جس کے سامنے جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہنا

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَـنَاجَوْا بالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُوْلِ وَتَنَاجَوْا بالْبِرِّ وَالتَّقْوٰى ۭ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ ۔ ” اے ایمان والو ! جب تم (کسی ضرورت سے) سرگوشی کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشیاں نہ کرو اور نفع رسانی اور پرہیزگاری کی باتوں کی سرگوشی کیا کرو اور اللہ سے ڈرو۔ جس کے پاس تم سب جمع کیے جاؤ گے۔ “ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا : مقاتل نے کہا : اس آیت میں خطاب منافقوں کو ہے جو صرف زبانوں سے اسلام کا دعویٰ کرتے تھے۔ دلوں میں ایمان نہیں تھا۔ عطاء نے کہا : وہ مؤمن مراد ہیں جو اپنے خیال کے بموجب ایمان لے آئے تھے۔ فَلاَ تَتَنَاجَوْا : یعنی یہودیوں کی طرح سرگوشیاں نہ کرو۔ وَتَنَاجَوْا بالْبِرِّ : البرّ سے مراد ہے اداء فرض۔ طاعت اور ہر وہ بات جس میں مسلمانوں کی بھلائی ہو۔ وَالتَّقْوٰی : یعنی رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی سے پرہیز۔ وَاتَّقُوا اللہ : یعنی ہر عمل اور ترک عمل سے ڈرتے رہو کیونکہ ہر عمل و ترک عمل کا بدلہ اللہ ضرور دے گا۔ ابن جریر نے بحوالۂ قتادہ بیان کیا ہے کہ منافق آپس میں سرگوشیاں کرتے تھے ‘ مسلمانوں کو ان کا یہ فعل شاق گزرتا تھا اور غصہ آتا تھا۔ اس پر یہ آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 58:10

اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیْسَ بِضَآرِّهِمْ شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 58:10 in the Quran reader

کافروں کی) سرگوشیاں تو شیطان (کی حرکات) سے ہیں (جو) اس لئے (کی جاتی ہیں) کہ مومن (ان سے) غمناک ہوں مگر خدا کے حکم کے سوا ان سے انہیں کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ تو مومنو کو چاہیئے کہ خدا ہی پر بھروسہ رکھیں

اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّيْطٰنِ لِيَحْزُنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَيْسَ بِضَاۗرِّهِمْ شَـيْـــــًٔا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ. ” سوائے اس کے نہیں کہ سرگوشی شیطان کی جانب سے ہے تاکہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں ‘ رنجیدہ کرے حالانکہ مؤمنین کو خدا کے حکم کے بغیر کچھ بھی نقصان نہیں پہنچانے والا ہے اور اللہ ہی پر مؤمنین بھروسہ کرتے ہیں۔ “ اِنَّمَا النَّجْوٰی : یعنی وہ سرگوشیاں جو مسلمانوں کو غصہ دلانے اور غمگین کرنے کے لیے یہودی کرتے ہیں۔ مِنَ الشَّیْطٰنِ : شیطان کی طرف سے ہیں ‘ شیطان ہی ان کو سرگوشی پر آمادہ کرتا اور آراستہ و حسین (یعنی مفید) شکل میں دکھاتا ہے۔ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا : تاکہ مسلمان غمگین ہوں یہ گمان کر کے کہ ان کو کوئی دکھ پہنچانے والا ہے۔ وَلَیْسَ بَضَآرِّھِمْ : یعنی کافروں کی سرگوشی یا شیطان ان کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ بغوی نے حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم تین آدمی ہو تو ایک کو چھوڑ کر دو باہم سرگوشی نہ کریں ‘ اس سے اس کو دکھ ہوگا البتہ اگر وہ (تیسرا) اجازت دے دے ‘ (تو خیر) ۔ امام احمد ‘ بخاری ‘ مسلم ‘ ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت ابن مسعود کی مرفوع روایت بیان کی ہے اور ترمذی نے اس کو صحیح کہا ہے کہ جب تم تین شخص ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آپس میں سرگوشی نہ کریں۔ اس سے تیسرے کو دکھ ہوگا۔ ہاں ! سب لوگ مخلوط ہوں (تو دو باہم سرگوشی کرسکتے ہیں) بغوی نے مقاتل بن حبان کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بدری مہاجرین و انصار کی عزت فرماتے تھے۔ ایک روز کچھ بدری حضرات خدمت گرامی میں حاضر ہوئے ‘ ان کے آنے سے پہلے اور لوگ مجلس میں بیٹھ چکے تھے۔ مجبوراً یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے گردا گرد کھڑے ہوگئے اور حضور ﷺ کو سلام کیا۔ آپ ﷺ نے سلام کا جواب دیا۔ پھر انہوں نے حاضرین کو سلام کیا ‘ انہوں نے بھی جواب دیا۔ یہ حضرات کھڑے انتظار کرتے رہے کہ مسلمان ان کو جگہ دے دیں لیکن کسی نے جگہ نہیں دی۔ حضور ﷺ کو یہ بات ناگوار ہوئی اور اپنے پاس والے شخص کو حکم دیا : اے فلاں ! کھڑا ہوجا۔ اسی طرح دوسرے سے بھی فرمایا : تو بھی (اُٹھ جا) غرض جتنے بدری صحابہ کھڑے تھے ‘ ان کی تعداد کے بقدر حضور ﷺ نے دوسرے حاضرین کو اٹھایا اور بدریوں کو ان کی جگہ پر بیٹھ جانے کا حکم دیا۔ اٹھنے والوں کو یہ حکم شاق گزرا اور رسول اللہ ﷺ نے بھی ان کے چہروں پر ناگواری کے آثار محسوس کرلیے ‘ اس پر آیات ذیل کا نزول ہوا :
Ayah 58:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ١ۚ وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:11 in the Quran reader

مومنو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں کھل کر بیٹھو تو کھل بیٹھا کرو۔ خدا تم کو کشادگی بخشے گا۔ اور جب کہا جائے کہ اُٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہوا کرو۔ جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں اور جن کو علم عطا کیا گیا ہے خدا ان کے درجے بلند کرے گا۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قِيْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِي الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا يَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ ۚ وَاِذَا قِيْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ ۙ وَالَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ ۔ ” اے ایمان والو ! جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں جگہ کھول دو تو تم جگہ کھول دیا کرو ‘ اللہ تم کو کھلی جگہ (جنت میں) دے دے گا اور جب تم سے کہا جائے کہ مجلس سے اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ جایا کرو اللہ تم میں سے ایمان والوں کے اور (ایمان والوں میں خاص طور پر) ان لوگوں کے جن کو علم (دین) عطا کیا گیا ہے (آخرت میں) درجے بلند کر دے گا۔ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قِیْلَ : ابن ابی حاتم کی روایت ہے کہ یہ آیت جمعہ کے دن نازل ہوئی۔ بدری صحابہ ؓ جمعہ کے روز آئے تھے۔ انہیں کے سلسلہ میں آیت کا نزول ہوا۔ باقی قصہ ابن حبان کی روایت کے مطابق بیان کیا گیا۔ بغوی نے کلبی کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت ثابت بن قیس بن شماس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔ سورت الحجرات میں حضرت ثابت کا قصہ مفصل بیان کردیا گیا ہے۔ ابن جریر نے قتادہ کا بیان نقل کیا ہے کہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اپنی اپنی جگہ بیٹھے ہوتے اور اس حالت میں کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آتے۔ یہ سب لوگ اس آیت میں مراد ہیں۔ تَفَسَّحُوْا : جگہ کھول دو ۔ ایک دوسرے سے ہٹ جائے۔ عرب کہتے ہیں : اِفْسَحَ عَنِّیْ : مجھ سے ہٹ جا ‘ الگ ہوجا۔ فِی الْمَجَالِسِ : المجالس سے مراد جنس مجلس ہے ‘ کوئی مجلس ہو یا رسول اللہ ﷺ کی مجلس مراد ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے قریب بیٹھنے اور آپ کا کلام سننے کے صحابہ بہت حریص تھے۔ یَفْسَحِ اللہ لَکُمْ : جس چیز کی کشائش کے تم خواستگار ہو ‘ اللہ اس میں تمہارے لیے کشائش کر دے گا خواہ جگہ کی وسعت ہو یا رزق کی یا سینہ کی یا جنت کی۔ بغوی نے اپنی سند سے بیان کیا ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کوئی ایسا نہ کرے کہ کسی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر پھر اس جگہ بیٹھ جائے بلکہ کشائش اور وسعت کرلیا کرو۔ بغوی نے بطریق شافعی (رح) حضرت جابر (رح) بن عبداللہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن اپنے (مسلمان) بھائی کو (اس جگہ سے) نہ اٹھائے بلکہ یوں کہے : جگہ کھول دو (مجھے بھی جگہ دے دو ) ۔ ابو العالیہ ‘ قرطبی اور حسن نے کہا : یہ حکم لڑائی کے مقامات اور دشمن سے جنگ کرنے کی جگہ کے سلسلہ میں تھا ‘ بعض لوگ مجاہدوں کی لائن میں داخل ہوجاتے اور کہتے تھے : ہمارے لیے جگہ کھول دو لیکن پہلے سے جو مجاہد موجود ہوتے تھے وہ دشمن سے لڑنے اور شہید ہونے کے بڑے حریص ہوتے تھے ‘ اس لیے نو واردوں کو لائن میں جگہ نہیں دیتے تھے ‘ اس پر یہ حکم نازل ہوا۔ وَاِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا : یعنی اگر تم سے کہا جائے کہ جگہ چھوڑ کر اٹھ جاؤ تو اٹھ جاؤ۔ بغوی نے عکرمہ اور ضحاک کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اذان ہونے پر کچھ لوگ نماز کے لیے اٹھنے میں سستی کرتے تھے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اس قول پر آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ جب نماز کے لیے اذان دی جائے تو اٹھ کھڑے ہو۔ مجاہد اور اکثر اہل تفسیر نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ جب تم کو نماز یا جہاد اور کسی کار خیر اور نیکی کے لیے بلایا جائے تو فوراً اٹھ کھڑے ہو ‘ کوتاہی نہ کرو۔ یَرْفَعِ اللہ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ : یعنی اللہ ان کی مدد کرتا ہے۔ انہیں نیک نام کرتا ہے۔ لوگوں کی نظر میں ان کو باوقار بنا دیتا ہے۔ یہ تو دنیا میں ہوتا ہے ‘ آخرت میں اللہ جنت عطا فرمائے گا اور بہشت کی نعمتوں سے سرفراز کرے گا۔ اَلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ : خاص طور پر علماء کے درجات اونچے کرتا ہے۔ علماء سے مراد باعمل علماء ہیں۔ باعمل اہل علم کو اللہ وہ درجات عنایت کرتا ہے جو جاہل باعمل لوگوں کو نہیں عطا فرماتا کیونکہ عالم کے علم و عمل کی اقتداء کی جاتی ہے۔ پس عالم کو اپنے کیے ہوئے کا ثواب تو دیا ہی جاتا ہے۔ ان لوگوں کے عمل کا بھی پورا پورا اجر عنایت کیا جاتا ہے جو عالم کی اقتداء میں نیک عمل کرتے ہیں لیکن اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ اصل نیکی کرنے والوں کا کچھ ثواب کاٹ کر عالم کو دے دیا جاتا ہے ‘ ایسا نہیں ہوتا بلکہ ان مقتدیوں کو بھی ان کی نیکی کا ثواب پورا پورا دیا جاتا ہے۔ مسلم نے حضرت جریر کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس شخص نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا (اور اس پر لوگوں نے عمل کیا) تو اس کو اس طریقہ پر عمل کرنے کا اجر ملے گا اور ساتھ ہی ان لوگوں کے عمل کا بھی ثواب ملے گا ‘ جو اس طریقہ پر چلتے رہیں گے لیکن عمل کرنے والوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ عابد پر عالم کی برتری ایسی ہے جیسی چودہویں رات کے چاند کی برتری باقی ستاروں پر ‘ علماء انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء نے وراثت میں نہ کوئی دینار چھوڑا نہ درہم۔ صرف علم کی میراث چھوڑی۔ جس نے اس میراث کو لیا وہ بڑا خوش نصیب ہے۔ امام حمد (رح) اور اصحاب السنن نے یہ حدیث کثیر بن قیس کی روایت اور بقول ترمذی قیس بن کثیر کی روایت سے بیان کی۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے : عابد پر عالم کی فضیلت ایسی ہے جیسی (تم میں سے سب سے) اعلیٰ کی (سب سے) ادنیٰ پر۔ (رواہ الترمذی من حدیث ابی امامۃ الباہلی) حضرت عبداللہ بن عمر کا بیان ہے : مسجد میں دو جگہ جلسہ ہو رہا تھا۔ رسول اللہ ﷺ ادھر سے گزرے ‘ فرمایا : دونوں مجلسیں مبنی بر خیر ہیں لیکن ایک دوسری سے افضل ہے۔ یہ لوگ تو اللہ سے دعا کر رہے ہیں اور اس کی طرف راغب ہیں ‘ اگر اللہ چاہے گا تو ان کو دے گا ‘ نہ دینا چاہے گا تو نہیں دے گا اور وہ لوگ فقہ اور (دین کا) علم سیکھتے ہیں اور ناواقفوں کو سکھاتے ہیں۔ اس لیے یہ لوگ (اوّل گروہ سے) بڑھ کر ہیں اور مجھے تو تعلیم دہندہ بنا کر بھیجا گیا ہے۔ اس کے بعد حضور ﷺ اسی (معلمین اور متعلمین کے) گروہ کے پاس بیٹھ گئے۔ حسن نے کہا : حضرت ابن مسعود ؓ نے یہ آیت پڑھی اور فرمایا : لوگو ! اس آیت کو سمجھو۔ یہ تم کو علم کی رغبت دلا رہی ہے۔ اللہ فرما رہا ہے کہ مؤمن عالم ‘ مؤمن ناواقف سے بہت درجے اونچا ہے۔ آیت مذکورہ سے یہ بات بطور اشارہ معلوم ہو رہی ہے کہ بدری صحابی اس اعزاز کے مستحق تھے۔ جو رسول اللہ ﷺ ان کا کرتے تھے اور (بدریوں کے لیے جگہ چھوڑ دینے کا) جو حکم اللہ کے رسول ﷺ نے دیا تھا ‘ وہ ٹھیک تھا اور جن لوگوں نے اس حکم کی تعمیل کی ان کو ثواب دیا جائے گا۔ واللہ بما تعملون خبیر . ” اور اللہ تمہارے اعمال سے پورے طور پر باخبر ہے یعنی تم جو کچھ کرتے ہو ‘ اللہ تم کو اس کا بدلہ دے گا۔ “ اس جملہ میں عمل کی ترغیب ہے اور جن لوگوں نے حکم کی تعمیل نہیں کی بلکہ اس کو نامناسب سمجھا ‘ ان کے لیے تہدید ہے۔
Ayah 58:12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 58:12 in the Quran reader

مومنو! جب تم پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہو تو بات کہنے سے پہلے (مساکین کو) کچھ خیرات دے دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہت بہتر اور پاکیزگی کی بات ہے۔ اور اگر خیرات تم کو میسر نہ آئے تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَاَطْهَرُ ۭ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ . ” اے ایمان والو ! جب تم رسول سے سرگوشی کا ارادہ کیا کرو تو اپنی سرگوشی سے پہلے (مسکینوں کو) کچھ خیرات دے دیا کرو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اور گناہوں سے پاک ہونے کا اچھا ذریعہ ہے ‘ پھر اگر تم کو خیرات دینے کا مقدور نہ ہو تو اللہ معاف کرنے والا ‘ بڑا مہربان ہے۔ “ اِذَا نَاجَیْتُمْ الرَّسُوْلَ : یعنی جب تم رسول سے بات کرنے کا ارادہ کرو۔ بغوی نے مقاتل بن حبان کا بیان نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول دولت مندوں کے حق میں ہوا۔ بات یہ تھی کہ مالدار لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ ﷺ سے اتنی زیادہ باتیں کرتے تھے کہ غریبوں کو رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھنے کا موقع ہی نہیں ملتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کو بھی ان کا دیر تک بیٹھنا اور گفتگو کرنا ناگوار گزرتا تھا۔ ابن ابی حاتم کی روایت ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جب یہ آیت نازل ہوئی تو بہت لوگ رسول اللہ ﷺ سے بات کرنے سے رک گئے اور (مسائل) دریافت کرنے سے باز رہے۔ بغوی نے لکھا ہے لوگ حضور اقدس ﷺ سے گفتگو سے رک گئے ‘ تنگدست تو اپنی ناداری کی وجہ سے حضور ﷺ سے گفتگو کرنے سے معذور ہوگئے اور مالدار لوگ اپنی کنجوسی کی وجہ سے محروم ہوگئے۔ صحابہ ؓ پر یہ محرومی بڑاں گراں گزری ‘ اس کے بعد (بغیر کچھ خیرات کیے) رسول اللہ ﷺ سے مسائل پوچھنے کی اجازت ہوگئی۔ مجاہد نے کہا : جب رسول اللہ ﷺ سے بات کرنے سے پہلے کچھ خیرات کرنے کا حکم نازل ہوا تو سوائے حضرت علی ؓ کے کسی نے (رسول اللہ ﷺ سے) کوئی سوال نہیں کیا۔ آپ ؓ نے ہی (سب سے پہلے) ایک دینار خیرات کر کے حضور ﷺ والا سے بات کی۔ پھر آیت اجازت نازل ہوئی ‘ اسی بنیاد پر حضرت علی ؓ نے فرمایا تھا کہ کتاب اللہ میں ایک ایسی آیت ہے کہ اس پر مجھ سے پہلے کسی نے عمل نہیں کیا اور نہ میرے بعد کوئی کرے گا ‘ یہ آیت مناجات : (اِذَا نَاجَیْتُمْ الرَّسُوْلَ ) ہے۔ ابن ابی شیبہ نے مصنف میں اور حاکم نے مستدرک میں بیان کیا کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا : کتاب الٰہی میں ایک آیت ایسی ہے کہ اس پر میرے سوا کسی نے عمل نہیں کیا۔ میرے پاس ایک دینار تھا اس کو بھنایا (یعنی ایک دینار کے چھوٹے سکّے لیے) جب میں رسول اللہ ﷺ سے کوئی کلام کرتا تو (پہلے) ایک درہم خیرات کردیا کرتا تھا۔ تفسیر مدارک میں آیا ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا : جب میں رسول اللہ ﷺ سے بات کرتا تو ایک درہم خیرات کردیا کرتا تھا اور میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے دس مسائل دریافت کیے۔ آپ ﷺ نے مجھے ان کے جواب دیئے : 1) میں نے پوچھا تھا یا رسول اللہ ! ﷺ (عہد کی) وفا کیا ہے ؟ فرمایا : اقرار وحدانیت اور لا اِلٰہ الاّ اللہ کی شہادت ‘ 2) میں نے پوچھا : فساد سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : کفر باللہ اور شرک ‘ 3) میں نے کہا : حق کیا ہے ؟ فرمایا : اسلام اور قرآن اور ولایت ‘ 4) میں نے پوچھا : حیلہ کیا ہے ؟ فرمایا : ترک حیلہ (قطع اسباب) ‘ 5) میں نے کہا : مجھ پر کیا چیز لازم ہے ؟ فرمایا : اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت ‘ 6) میں نے کہا : اللہ سے دعائیں کس طرح کروں ؟ فرمایا : خلوص اور یقین کے ساتھ ‘ 7) میں نے عرض کیا : اللہ سے میں کیا مانگوں ؟ فرمایا : عافیت (دوزخ سے اور دنیوی مصائب سے حفاظت) ‘ 8) میں نے عرض کیا : میں اپنی نجات کے لیے کیا کروں ؟ فرمایا : حلال (روزی) کھاؤ اور سچ کہو ‘ 9) میں نے عرض کیا : سرور (خوشی) کیا ہے ؟ فرمایا : جنت ‘ 10) میں نے عرض کیا راحت (چین ‘ آرام ‘ سکون) کیا ہے ؟ فرمایا : اللہ سے ملاقات (یعنی اللہ کا دیدار) جب میں یہ سوالات کرچکا اور جو اب مل چکا تو اس حکم کو منسوخ کرنے والی آیت نازل ہوئی۔ ذٰلِکَ خَیْرٌ لَّکُمْ : یہ خیرات کرنی تمہارے لیے مال کی محبت سے) بہتر ہے۔ وَاَطْھَرُ : اور تمہارے گناہوں (کی کثافت و نجاست) کو پاک کرنے والی ہے۔ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا : یعنی اگر ناداری کی وجہ سے خیرات کرنے کے لیے تمہارے پاس کچھ نہ ہو۔ فَاِنَّ اللہ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ : تو اللہ معاف کرنے والا ہے (بغیر خیرات کیے ہی رسول اللہ ﷺ سے بات کرسکتے ہو) ۔ یہ اجازت ان لوگوں کو دی گئی جو محتاج اور نادار ہوں ‘ عمومی حکم نہیں ہے بلکہ عام مخصوص البعض ہے۔ ترمذی نے حضرت علی کی روایت سے بیان کیا اور اس روایت کو حسن کہا ہے کہ جب آیت : یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوَاکُمْ صَدَقَۃً نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (علی ؓ تمہاری کیا رائے ہے ؟ (مقدار صدقہ) ایک دینار ہونا چاہیے (یعنی دس درہم) میں نے عرض کیا : لوگوں میں اس کی طاقت نہیں ہوگی۔ فرمایا : (اچھا) تو نصف دینا۔ میں نے عرض کیا : اس کی بھی استطاعت نہیں ہوگی۔ فرمایا تو پھر کیا مقدار ہونی چاہیے ؟ میں نے عرض کیا : ایک جو (مثلاً ایک پیسہ) فرمایا : تم بڑے زاہد ہو۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
Ayah 58:13

ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ١ؕ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 58:13 in the Quran reader

کیا تم اس سےکہ پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہنے سے پہلے خیرات دیا کرو ڈر گئے؟ پھر جب تم نے (ایسا) نہ کیا اور خدا نے تمہیں معاف کردیا تو نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے رہو اور خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے رہو۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے

ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ ۭ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَتَاب اللّٰهُ عَلَيْكُمْ فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ۭوَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ۔ ” کیا تم اپنی سرگوشی کے قبل خیرات دینے سے ڈر گئے ‘ سو (خیر) جب تم اس کو نہ کرسکے اور اللہ نے تمہارے حال پر عنایت فرمائی تو تم نماز کے پابند رہو اور زکوٰۃ دیا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو اور اللہ تمہارے تمام اعمال سے پورے طور پر باخبر ہے۔ “ ءَ اَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا : یعنی کیا تم کو مفلسی کا اندیشہ ہوگیا یا یہ مطلب ہے کہ شیطان نے جو محتاج ہوجانے سے تم کو ڈرایا ہے تو اس وجہ سے تم خیرات کرنے سے ڈر گئے۔ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا : یعنی جب مفلسی یا کنجوسی کی وجہ سے تم نے خیرات نہیں کی۔ وَ تَابَ اللہ عَلَیْکُمْ : یعنی اللہ نے تم سے درگزر کی اور عذاب نہیں دیا ‘ یا تاب عَلَیْکُمْ کا یہ معنی ہے کہ اللہ نے تم کو صدقات کی فرضیت سے لوٹا دیا اور خیرات کے حکم کو منسوخ کردیا اور خیرات نہ کرنے کی تم کو اجازت دے دی۔ آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ مفلس ہوجانے کا اندیشہ گناہ تھا۔ مگر اللہ نے اس کو معاف کردیا۔ مقاتل بن حبان نے کہا : یہ حکم دس راتوں تک قائم رہا۔ کلبی نے کہا : دن کی ایک ساعت سے زیادہ نہیں رہا۔ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ : یعنی فرض نماز قائم کرو اور فرض زکوٰۃ ادا کرو۔ اداء زکوٰۃ میں سستی نہ کرو۔ وَاَطِیْعُوا اللہ وَرَسُوْلَہٗ : اور تمام اوامر کی تعمیل کرو اور ان پر ہمیشہ قائم رہو۔ یہ اداءَِ صلوٰۃ و زکوٰۃ اس کوتاہی کی تلاوفی کر دے گی جو تم سے عطاء صدقات میں ہوگئی ہے۔ وَ اللہ ُ خَبِیْرٌ : یعنی اللہ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے خواہ وہ اعمال پوشیدہ ہوں یا ظاہر ‘ سب کا بدلہ تم کو دے گا۔ امام احمد ‘ بزار ‘ ابن جریر ‘ طبرانی اور حاکم نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے کسی حجرہ میں تشریف فرما تھے یا کسی حجرہ کے سایہ میں فروکش تھے اور سایہ سکڑ رہا تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : ایک جبار آدمی تمہارے پاس (ابھی) آئے گا۔ دوسری روایت میں آیا ہے : اس کا دل جبار کے دل کی طرح ہوگا یعنی وہ شیطان ہوگا۔ جب وہ آئے تو تم لوگ اس سے کلام نہ کرنا۔ حضور ﷺ کے اس فرمان کو تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ سامنے سے ایک شخص نمودار ہوا ‘ جو نیلی آنکھوں والا اور کانا تھا۔ حضور ﷺ نے اس کو آتا دیکھا تو بلایا اور فرمایا : تم اور تمہارے ساتھی مجھے گالیاں کیوں دیتے ہو ؟ اس شخص نے جواب دیا : مجھے ذرا دیر کی اجازت دیجئے ‘ میں جا کر ابھی آپ ﷺ کے پاس آتا ہوں۔ چناچہ وہ شخص گیا اور ساتھیوں کو بلا لایا اور سب نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے قسمیں کھائیں کہ ہم نے نہ یہ باتیں کہیں ہیں ‘ نہ کی ہیں۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :