57. Surah Al-Hadid

الحديدThe Iron · 29 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 57:19

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ١ۖۗ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 57:19 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے یہی اپنے پروردگار کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔ ان کے لئے ان (کے اعمال) کا صلہ ہوگا۔ اور ان (کے ایمان) کی روشنی۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی اہل دوزخ ہیں

اَلصِّدِّیْقُوْنَ : یعنی بہت تصدیق کرنے والے یا بڑے سچے۔ اللہ اور اللہ کے رسول کی دی ہوئی تمام خبروں کو سچا جاننے والے اور ان کی تصدیق کرنے والے۔ یہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ ہر مؤمن کو صدیق کہا جاسکتا ہے۔ اسی آیت کی روشنی میں ‘ مجاہد نے کہا ہے جو بھی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا ‘ وہ صدیق اور شہید ہے۔ عمرو بن میمون نے کہا : صدیق کا ایک اور مخصوص مفہوم بھی ہے (جس کے لحاظ سے ہر مؤمن کو صدیق نہیں کہا جاسکتا بلکہ خاص اوصاف رکھنے والوں پر ہی لفظ صدیق کا اطلاق کیا جاتا ہے) یعنی وہ لوگ جو کمالات نبوت کے وارث ہوں اور اتباع نبوت کی وجہ سے ان کے اندر اوصاف نبوت پیدا ہوگئے ہوں ‘ ان کو صدیق کہا جاتا ہے۔ صدیق کا یہی معنی مراد ہے۔ آیت : فَاُوْلٰٓءِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللہ عَلَیْھِمْ مِّنَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّھَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَ میں۔ میں کہتا ہوں ممکن ہے کہ آیت زیر تفسیر میں صدیقوں سے مراد یہی لوگ ہوں اور الَّذِیْن سے معین اشخاص یعنی صحابہ ؓ مراد ہوں کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے زما نہ میں صحابہ ہی موجود تھے اور اولئک اور الصدیقون کے درمیان جو ضمیر فصل لائی گئی ہے وہ مفید حصر ہے یعنی صرف صحابہ ہی صدیق ہیں اور یہ حصر اضافی ہے۔ یعنی اکثر لوگوں کی نسبت سے صحابہ ہی صدیق ہیں ‘ شیخ مجدد نے فرمایا : تمام صحابہ کمالات نبوت میں مستغرق تھے۔ جس نے رسول اللہ ﷺ کو ایک بار بنظر ایمان دیکھ لیا وہ کمال نبوت میں ڈوب گیا۔ لفظ صدیق کا اطلاق ایک اور معنی پر بھی ہوتا ہے جو بہت ہی زیادہ خاص ہے اور اس معنی کے لحاظ سے حضرت علی ؓ نے فرمایا تھا میں ہی سب سے بڑا صدیق ہوں۔ میرے بعد صرف جھوٹا ہی ایسی بات (یعنی صدیق اکبر ہونے کا دعویٰ ) کرسکتا ہے ‘ اسی معنی کے پیش نظر ضحاک نے کہا کہ اس امت میں ایسے (صدیق) آٹھ تھے جو اپنے زمانے میں تمام روئے زمین کے باشندوں سے پہلے ایمان لائے تھے : 1) ابوبکر ‘ 2) علی ‘ 3) زید ‘ 4) عثمان ‘ 5) ‘ طلحہ ‘ 6) زبیر ‘ 7 (سعد ‘ 8) حمزہ ؓ اور نویں ایک اور تھے جن کی نیت کے خلوص کی وجہ سے اللہ نے ان کو آٹھ کے ساتھ شامل کردیا یعنی عمر بن خطاب۔ شامل کردینے کا یہ مطلب ہے کہ مذکور حضرات سے چھ سال بعد نویں شخص کو صدیق بنا دیا۔ یہ معنی نہیں کہ کم درجہ والے کو اعلیٰ مرتبہ والوں کے ساتھ (ذیلی طور پر) شامل کردیا کیونکہ حضرت عمر کا درجہ تو سوائے حضرت ابوبکر ؓ کے باقی تمام صحابہ ؓ سے بلند تھا۔ وَالشُّھْدَآءُ : یعنی اللہ اور رسول ﷺ کی شہادت دینے والے یا قیامت کے دن تمام امتوں پر شہادت دینے والے۔ یہ قول حضرت ابن عباس ؓ اور مسروق اور جماعت مفسرین کا ہے۔ اس قول پر بعض علماء کے نزدیک شہداء سے مراد ہیں انبیاء کیونکہ اللہ نے (انبیاء کو شہید قرار دیا ہے اور) فرمایا ہے : فَکَیْفَ اِذَا جِءْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَھِیْدِ وَّ جِءْنَابِکَ عَلٰی ھٰٓؤْ لَآءِ شَھِیْدًا۔ یہ تشریحی قول حضرت ابن عباس اور مقاتل بن حبان کا ہے۔ مقاتل بن سلیمان نے کہا : الشُّھَدَاءُ سے مراد ہیں راہ خدا میں شہید ہونے والے۔ اُوْلٰٓءِکَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ : یعنی وہ ہی ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ دوسرے لوگ دوامی دوزخی نہیں ہوں گے۔ ترکیب جملہ حصر پر دلالت کر رہی ہے اور صاحب الجحیم ہونا بتارہا ہے کہ دوزخ سے وہ جدا نہیں ہوں گے۔
Ayah 57:20

اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ١ؕ كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًا١ؕ وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ۙ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 57:20 in the Quran reader

جان رکھو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشا اور زینت (وآرائش) اور تمہارے آپس میں فخر (وستائش) اور مال واولاد کی ایک دوسرے سے زیادہ طلب (وخواہش) ہے (اس کی مثال ایسی ہے) جیسے بارش کہ (اس سے کھیتی اُگتی اور) کسانوں کو کھیتی بھلی لگتی ہے پھر وہ خوب زور پر آتی ہے پھر (اے دیکھنے والے) تو اس کو دیکھتا ہے کہ (پک کر) زرد پڑ جاتی ہے پھر چورا چورا ہوجاتی ہے اور آخرت میں (کافروں کے لئے) عذاب شدید اور (مومنوں کے لئے) خدا کی طرف سے بخشش اور خوشنودی ہے۔ اور دنیا کی زندگی تو متاع فریب ہے

” تم خوب جان لو کہ (آخرت کے مقابلہ میں) دُنیوی زندگی محض لہو و لعب اور ایک (ظاہری) زینت اور باہم ایک دوسرے پر فخر کرنا اور مال و اولاد کی کثرت پر بعض سے مقابلہ کرنا ہے۔ “ اَلْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا : یعنی حیات دنیا کی وہ مرغوبات جو منافع آخرت کے حصول کا ذریعہ نہیں ہیں۔ لَعِبٌ : یعنی بےفائدہ ہیں۔ منافع آخرت کے مقابلہ میں ہیچ ہیں ‘ جلد فنا ہوجانے والی ہیں ‘ گویا کھیل ہیں۔ وَلَھْوٌ : اور دل کا بہلاوا ہیں اہم امور اخرویہ سے روکنے اور غافل کرنے والی ہیں۔ وَزِیْنَۃٌ : اور ظاہری سجاوٹ ہیں جیسے خوبصورت بڑھیا لباس ‘ اعلیٰ سواریاں اور اونچے مکان وغیرہ۔ وَ تَفَاخُرٌ بَیْنَکُمْ : نسب (طاقت ‘ مال وغیرہ) پر بےجا تفاخر ہے جس کا اللہ کے نزدیک کوئی درجہ نہیں۔ وَ تَکَاثُرٌ : اور مال و اولاد کی کثرت پر باہمی مقابلہ ہے۔ ایک کا دوسرے پر تفاخر ہے (بس اسی کا نام دنیوی زندگی ہے ‘ اس کو خوب جان لو) ۔ جیسے بارش کہ اسکی پیداوار کاشتکاروں کو اچھی لگتی ہے ‘ پھر وہ خشک ہوجاتی ہے کہ تم کو زرد دکھائی دیتی ہے پھر وہ چورا چورا ہوجاتی ہے اور آخرت میں عذاب شدید ہے اور اللہ کی طرف سے مغفرت اور رضا مندی (بھی) ہے اور دنیوی زندگی محض سامان فریب ہے۔ “ کَمَثَلِ غَیْثٍ..... امور دنیا کی بےثباتی ‘ سرعت زوال اور قلیل المنفعت ہونے کی یہ ایک تمثیل ہے۔ کافروں کا مطمح نظر صرف ظاہری روئیدگی و بالیدگی ہوتی ہے اور اس کے آگے ان کی نظر نہیں جاتی اس لیے اَعْجَبَ الْکُفَّار فرمایا لیکن مؤمن کوئی تعجب آگیں چیز دیکھتا ہے تو اس کی نگاہ قادر مطلق کی قدرت کا مشاہدہ کرتی ہے۔ وہ دنیوی زندگی کی ٹیپ ٹاپ کو نہیں دیکھتا بلکہ محاسن آخرت کی طرف اس کا ذہنی انتقال ہوتا ہے۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ کفار سے مراد ہیں کاشتکار۔ صاحب قاموس نے کافر کے معنی کاشتکار بھی لکھے ہیں کیونکہ کفر کا لغوی معنی ہے چھپانا اور کاشتکار بیج کو زمین میں چھپاتا ہے۔ ثُمَّ یَھِیْجُ : پھر کسی آفت اور حادثہ کی وجہ سے وہ خشک ہوجاتی ہے۔ خُطَامًا : حطام ‘ بھوسہ ‘ یعنی پودے کو خشک ہوجانے کے بعد جو چورا اور ریزہ ہوجاتا ہے ‘ کذا فی القاموس۔ وَفِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ : یعنی اللہ کے دشمنوں کے لیے آخرت میں عذاب شدید ہوگا کیونکہ وہ دنیوی زندگی میں لہو و لعب میں مشغول تھے اور آخرت میں جو امور ان کے لیے فائدہ رساں ہوسکتے تھے ‘ ان سے غافل تھے۔ وَ رِضْوَانٌ : یعنی اللہ کے دوستوں کے لیے کیونکہ وہ اس فریب گاہ ہستی سے دور رہتے تھے اور آخرت کے عیش دوامی کو حاصل کرنے کے لیے ایسے امور کی تیاری میں منہمک رہتے تھے جو آخرت میں ان کے لیے مفید تھے۔ مَتَاعُ الْغُرُوْرِ : یعنی جو شخص زندگی کو آخرت کی بہبودی کے لیے صرف نہ کرے اس کے لیے یہ دنیا فریب گاہ ہے اور جو شخص اوقات زندگی کو آخرت کے لیے استعمال کرے اس کے لیے یہ زندگی حصول خیر کی موجب ہے۔
Ayah 57:21

سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 57:21 in the Quran reader

(بندو) اپنے پروردگار کی بخشش کی طرف اور جنت کی (طرف) جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کا سا ہے۔ اور جو ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو خدا پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے ہیں لپکو۔ یہ خدا کا فضل ہے جسے چاہے عطا فرمائے۔ اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

تیزی سے بڑھو ‘ اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین کی وسعت کے برابر ہے وہ ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے وہ اپنا فضل جس کو چاہے عنایت کرے۔ “ سَابِقُوْٓا .... یعنی ایمان ‘ خوف ‘ اُمید اور اعمال صالحہ کے ساتھ مغفرتِ ربّ اور جنت کی طرف تیزی سے بڑھو۔ عَرْضُھَا : یعنی جنت کا پھیلاؤ ‘ آسمان و زمین کے پھیلاؤ کی طرح ہے۔ سدی نے کہا : عرض سے مراد ہے چوڑائی جو طول کے مخالف جہت کو ہوتی ہے ‘ یعنی سات آسمانوں اور سات زمینوں کو اگر برابر برابر کر کے ملا دیا جائے تو جنت کا عرض اس کے برابر ہوگا۔ جب جنت کا عرض اتنا ہے تو اس کی لمبائی کا کیا ٹھکانہ۔ طول تو عرض سے بڑا ہوتا ہی ہے۔ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ.... یہ جملہ دلالت کر رہا ہے کہ جنت پیدا کردی گئی ہے (کیونکہ اعدت ماضی کا صیغہ ہے ‘ مترجم) اس جملہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ صرف ایمان استحقاق جنت کے لیے کافی ہے اور اللہ پر ایمان لانا اس وقت تک قابل اعتبار نہیں جب تک اس کے رسول پر ایمان نہ ہو۔ ذٰلِکَ فَضْلُ اللہ ..... یعنی جنت میں داخل کرنا اللہ کی مہربانی ہے۔ اللہ جس کو چاہے گا ‘ اپنی مہربانی سے نوازے گا۔ اللہ پر کسی کا وجوبی حق نہیں ہے بلکہ عطائے جنت کا اللہ نے وعدہ کر رکھا ہے ‘ اس لیے ضروری ہے (اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرے گا) معتزلہ فرقہ کے نزدیک اللہ پر واجب ہے کہ مؤمین صالحین کو جنت میں داخل کرے (اور نہ یہ ظلم ہوگا) ۔ ابو نعیم نے حضرت علی کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے بنی اسرائیل میں سے ایک نبی کے پاس وحی بھیجی کہ اپنی امت کے ان لوگوں سے جو میرے فرمانبردار ہیں کہہ دو کہ اپنے اعمال پر بھروسہ نہ کرلیں کیونکہ قیامت کے دن جس کو میں حساب کے لیے کھڑا کروں گا اور اس کو عذاب دینا چاہوں گا تو (حساب فہمی میں سختی اور خوردہ گیری کر کے) اس کو عذاب ضرور دوں گا اور اپنی امت کے گناہگاروں سے کہہ دو کہ وہ خود اپنے کو ہلاکت میں نہ ڈالیں (یعنی رحمت سے مایوس نہ ہوں) میں بڑے بڑے گناہ بخش دوں گا اور مجھے کچھ پرواہ نہ ہوگی۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کسی کو اس کا (نیک) عمل (دوزخ سے) نہیں بچائے گا۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ کیا آپ کو بھی نہیں ؟ فرمایا : (ہاں ! ) مجھے بھی نہیں۔ سوائے اس کے کہ اللہ اپنی رحمت اور فضل سے مجھے ڈھانک لے۔ حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سیدھی چال رکھو ‘ لگے لگے چلو (اور بشارت پاؤ) خوش رہو ‘ کسی کا عمل اس کو جنت میں نہیں لے جائیگا۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ اور آپ بھی (اپنے عمل سے جنت میں نہیں جائینگے ؟ ) فرمایا : اور نہ میں ‘ سوائے اس کہ کہ اللہ مغفرت اور رحمت سے ڈھانک لے۔ مسلم نے بھی حضرت جابر کی روایت سے ایسی ہی حدیث بیان کی ہے۔ یہ حدیث حضرت ابو سعید کی روایت سے امام احمد نے اور حضرت ابو موسیٰ اور حضرت شریک بن طارق کی روایت سے بزار اور حضرت شریک بن ظریف اور حضرت اسامہ بن شریک اور حضرت اسد بن کدر کی روایت سے طبرانی نے بھی نقل کی ہے۔ ایک اعتراض اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اُدْخُلُوا الْجَنَّۃَ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ : تم اپنے اعمال کے سبب سے جنت میں داخل ہوجاؤ (اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں داخلہ اعمال کی وجہ سے ہوگا) ۔ ازالہ جنت کے اندر مراتب اور درجات مختلف ہیں ‘ تفاوت درجات اعمال کی تفاوت پر مبنی ہے لیکن جنت کے اندر ابتدائی داخلہ اور وہاں دوامی قیام محض اللہ کے فضل و رحمت سے ہوگا۔ اس کی تائید حضرت ابن مسعود ؓ کے اس قول سے ہوتی ہے جس کو ہناد نے الزہد میں نقل کیا ہے کہ تم لوگ پل صراط سے بعفو خدا گزرجاؤ گے اور اللہ کی رحمت سے جنت میں داخل ہوجاؤ گے اور جنت کے مکانوں میں اپنے اپنے اعمال کے مطابق قیام کرو گے۔ ابو نعیم نے عون بن عبداللہ کی روایت سے بھی اسی طرح بیان کیا ہے۔ واللہ ذوالفضل العظیم . یعنی اللہ کے فضل سے بعید نہیں کہ وہ جنت میں داخل کر دے۔ وہ بڑے فضل والا ہے۔
Ayah 57:22

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌۚۖ Open ayah 57:22 in the Quran reader

کوئی مصیبت ملک پر اور خود تم پر نہیں پڑتی مگر پیشتر اس کے کہ ہم اس کو پیدا کریں ایک کتاب میں (لکھی ہوئی) ہے۔ (اور) یہ (کام) خدا کو آسان ہے

کوئی مصیبت نہ دنیا میں آتی ہے ‘ نہ تمہاری جانوں میں مگر وہ ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے قبل اس کے کہ ہم ان کو پیدا کردیں ‘ یہ اللہ کے نزدیک آسان کام ہے ‘ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ : کوئی مصیبت جیسے قحط اور دوسری (ارضی) آفات۔ وَلاَ فِیْ اَنْفُسِکُمْ : جیسے بیماری اور احباب کی موت۔ فِیْ کِتٰبٍ : یعنی لوح محفوظ میں لکھی ہوئی اور اللہ کے علم میں پہلے سے موجود ہے۔ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَھَا : یعنی مصائب کو یا زمین کو یا نفوس کو پیدا کرنے سے پہلے۔ اِنَّ ذٰلِکَ : یعنی باوجود کثرت مصائب کے ان کو (تفصیل کے ساتھ) لوح محفوظ میں لکھ دینا اللہ کے لیے آسان ہے۔
Ayah 57:23

لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِۙ Open ayah 57:23 in the Quran reader

تاکہ جو (مطلب) تم سے فوت ہوگیا ہو اس کا غم نہ کھایا کرو اور جو تم کو اس نے دیا ہو اس پر اترایا نہ کرو۔ اور خدا کسی اترانے اور شیخی بگھارنے والے کو دوست نہیں رکھتا

یہ بات اسلئے ہے کہ جو چیز تم سے جاتی رہے تم اس پر غمگین نہ ہو اور جو چیز تم کو عطا فرمائی ہے اس پر اترا نہ جاؤ۔ “ لِکَیْلَا تَاْسَوْا : یعنی دنیوی نعمتیں جو فوت ہوجائیں ان کا غم نہ کرو اور جو نعمتیں اللہ نے تم کو عطا فرمائی ہیں ان پر اترا نہ جاؤ کیونکہ جب یہ معلوم ہوگیا کہ ہر چیز مقدر ہے ‘ بدلی نہیں جاسکتی تو پھر کسی نعمت کے زوال کا افسوس و غم اور ملنے والی نعمت پر غرور جائز نہیں۔ (اس آیت سے یہ بات مترشح ہو رہی ہے کہ فوت نعمت کسی علّت و سبب پر مبنی نہیں ہے کیونکہ فوت نعمت کا معنی ہے عدم نعمت اور عدم اصل ہے۔ ہاں وجود نعمت اور بقاء وجود بغیر علت کے نہیں ہوسکتا اور اس کی علت محض عطاء خداوندی ہے۔ (مترجم) غم نہ ہونے سے مراد ہے ایسا غم نہ ہونا جو اللہ کے حکم پر راضی ہونے اور صبر کرنے سے مانع ہو (فطری غم مراد نہیں ہے ‘ فوت نعمت کا فطری تاثر تو ہوتا ہی ہے) اسی طرح فرح نہ ہونے سے مراد ہے وہ مسرّت جو غرور اور اکڑ پیدا کر دے جس کی وجہ سے آدمی اترا جائے (فطری مسرّت نہ ہونا مراد نہیں ہے) اسی لیے آگے فرمایا : وَ اللہ ُ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتال فخور . ” اور اللہ کسی اترانے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتا۔ یعنی اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اللہ کی عطا کردہ نعمتوں پر مغرور ہوجائے اور دوسروں پر فخر جتانے لگے۔ عکرمہ نے کہا : ہر شخص (حصول نعمت سے) خوش اور (فوت نعمت سے) غمگین تو ہوتا ہی ہے اس لیے مراد یہ ہے کہ تم خوشی کو (باعثِ ) شکر اور غم کو (موجبِ ) صبر بنا لو۔ حضرت جعفر ؓ صادق نے فرمایا : اے ابن آدم ! تو کیوں ایسی چیز کے مفقود ہونے پر افسوس کرتا ہے جو دست فوت تجھے واپس نہیں دے گا اور کیوں ایسی چیز پر اتراتا ہے جو تیرے پاس موجود ہے کیونکہ موت اس کو تیرے پاس رہنے نہ دے گی۔
Ayah 57:24

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 57:24 in the Quran reader

جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل سکھائیں اور جو شخص روگردانی کرے تو خدا بھی بےپروا (اور) وہی سزاوار حمد (وثنا) ہے

” وہ ایسے ہیں کہ خود بھی بخل کرتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو بخل کرنے کی تعلیم دیتے ہیں اور جو شخص روگردانی کرے گا تو اللہ بےنیاز اور سزاوار حمد ہے (اس کا کچھ نہیں بگڑے گا) ۔ وَمَنْ یَّتَوَلَّ : یعنی جو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے اعراض کرے گا ‘ کترائے گا۔ فَاِنَّ اللہ ھُوَ الْغَنِیُّ : اس سے یعنی اس کے اعراض سے اور راہ خدا میں خرچ نہ سے اللہ بےپرواہ ہے اور شکر نعمت جو موجب تقرب ہے اس سے بھی اللہ غنی ہے ‘ نہ اوّل سے اللہ کو کوئی ضرر پہنچتا ہے نہ دوسرے سے اس کو کوئی فائدہ ہے۔ اَلْحَمِیْدُ : یعنی اللہ بذاتہ ٖ مستحق حمد ہے (کوئی اس کی حمد کرے یا نہ کرے ‘ مترجم)
Ayah 57:25

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۠ Open ayah 57:25 in the Quran reader

ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی نشانیاں دے کر بھیجا۔ اور اُن پر کتابیں نازل کیں اور ترازو (یعنی قواعد عدل) تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔ اور لوہا پیدا کیا اس میں (اسلحہٴ جنگ کے لحاظ سے) خطرہ بھی شدید ہے۔ اور لوگوں کے لئے فائدے بھی ہیں اور اس لئے کہ جو لوگ بن دیکھے خدا اور اس کے پیغمبروں کی مدد کرتے ہیں خدا ان کو معلوم کرے۔ بےشک خدا قوی (اور) غالب ہے

ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلے کھلے احکام دے کر بھیجا اور ہم نے ان کے ساتھ کتاب اور انصاف (کرنے کا حکم) اتارا تاکہ لوگ (حقوق اللہ اور حقوق العباد میں) اعتدال پر قائم رہیں اور ہم نے لوہے کو پیدا کیا جس میں شدید ہیبت ہے اور لوگوں کے طرح طرح کے فائدے ہیں۔ رُسُلَنَا : یعنی ملائکہ کو انبیاء کے پاس اور انبیاء کو ان کی امتوں کے پاس ہم نے بھیجا۔ بِالْبَیِّنٰتِ : دلائل اور معجزات کے ساتھ۔ وَاَنْزَلْنَا مَعَھُمُ الْکِتٰبَ : اور ان کے ساتھ کتاب اتاری تاکہ حق کا باطل سے عمل صالح کا عمل فاسد سے اور حلال کا حرام سے امتیاز ہوجائے۔ وَالْمِیْزَانَ : میزان سے مراد ہے عدل۔ مقاتل بن سلیمان نے کہا میزان سے مراد یہی ترازو ہے جس سے چیزوں کا وزن کیا جاتا ہے اور ترازو اتارنے سے مراد ہے ترازو کے استعمال کا حکم نازل کرنا تاکہ لوگوں کے حقوق میں ظلم نہ ہونے پائے اور ٹھیک ٹھیک تولا جائے۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) ترازو لے کر نازل ہوئے تھے اور حضرت نوح کو وہ ترازو دی تھی تاکہ وہ اپنی امت کو ترازو سے تولنے کا حکم دے دیں۔ لِیَقُوْمَ النَّاس بالْقِسْطِ قسطٌ : انصاف۔ تاکہ لوگ عدل کریں ‘ کوئی کسی کی حق تلفی نہ کرے۔ یہ کتاب اور میزان نازل کرنے کی علت ہے۔ وَاَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ : حضرت ابن عمر کی مرفوع روایت میں آیا ہے کہ اللہ نے چار برکتیں آسمان سے زمین پر نازل فرمائی ہیں : لوہا ‘ آگ ‘ پانی ‘ نمک (یعنی یہ چیزیں خیر کثیر کی حامل ہیں ‘ مترجم) اہل معانی نے لکھا ہے کہ اتارنے سے مراد ہے پیدا کرنا ‘ اللہ نے کانوں سے لوہا برآمد کیا اور وحی کے ذریعہ سے لوہے کی مصنوعات کی صنعت لوگوں کو سکھائی۔ قطرب نے کہا : اَنْزَلْنَا نُزُلٌ سے ماخوذ ہے ‘ جیسے کہا جاتا ہے : اَنْزَلَ الْاَمِیْرُ عَلٰی فُلاَنٍ نُزُلًا حَسَنًا : امیر نے فلاں شخص پر بہترین نوازش کی ‘ اس وقت آیت کا معنی ہوگا ‘ اللہ نے لوگوں کو لوہا عطا کیا۔ یہی مراد ہے آیت : انزل لکم من الانعام ثمانیۃ ازواج میں ‘ انزل کی۔ فِیْہِ بَاْسٌ : باس بمعنی جنگ (یعنی آلات جنگ) جنگ کے آلات لوہے سے ہی بنائے جاتے ہیں۔ وَّ مَنَافِعُ للنَّاسِ : لوہے سے لوگوں کے بڑے کام وابستہ ہیں ‘ ہر صنعت میں لوہے ہی کے اوزار استعمال کیے جاتے ہیں۔ و لیعلم اللہ من ینصرہ و رسلہ بالغیب ان اللہ قوی عزیز . ” اور تاکہ اللہ جان لے کہ بےدیکھے اس کی اور رسولوں کی کون مدد کرتا ہے ‘ بلاشبہ اللہ قوی اور زبردست ہے۔ “ وَلِیَعْلَمَ اللہ : اس جملہ کا عطف محذوف جملہ پر ہے اصل کلام اس طرح تھا تاکہ تم اللہ کی راہ میں اس کے دشمنوں سے لڑو اور اللہ جان لے کہ اس کی اور اس کے رسولوں کی کون مدد کرتا ہے۔ اِنَّ اللہ قَوِیٌّ : اللہ قوی ہے ‘ جس کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اس کو ہلاک کرسکتا ہے۔ عَزِیْزٌ : زبردست ہے ‘ وہ محتاج نہیں کہ کوئی اس کی مدد کرے۔ لوگوں کو جہاد کا حکم اس نے صرف اس لیے دیا ہے کہ لوگ اللہ کی رضامندی حاصل کریں اور تعمیل حکم کر کے ثواب کے مستحق بن جائیں اور دین کو غلبہ حاصل ہوجائے یا مجاہدوں کو شہادت کا درجہ مل جائے۔
Ayah 57:26

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:26 in the Quran reader

اور ہم نے نوح اور ابراہیم کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا اور ان کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب (کے سلسلے) کو (وقتاً فوقتاً جاری) رکھا تو بعض تو ان میں سے ہدایت پر ہیں۔ اور اکثر ان میں سے خارج از اطاعت ہیں

” اور ہم نے نوح اور ابراہیم کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور ہم نے ان کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب جاری رکھی ‘ سو ان لوگوں میں بعض تو ہدایت یافتہ ہوئے اور بہت سے ان میں نافرمان تھے ‘ وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا : مذکورۃ الصدر جملہ میں عام پیغمبروں کے بھیجنے کا ذکر کیا تھا اور فرمایا تھا : لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا : اس آیت میں خصوصیت کے ساتھ حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کو رسول بنا کر بھیجنے کی صراحت اس لیے فرما دی کہ عام پیغمبروں پر ان دونوں کو فضیلت حاصل تھی اور ان دونوں کی نسل بھی بہت زیادہ پھیلی (اور پھلی) وَجَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِھِمَا ..... : یعنی دونوں بزرگوں کی نسل میں ہی نبوت اور کتاب کا ہونا مقرر کردیا۔ توریت ‘ انجیل ‘ زبور اور قرآن حضرت ابراہیم کی نسل پر نازل کئے گئے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ‘ حضرت نوح (علیہ السلام) کی نسل سے تھے۔ تفسیر مدارک میں حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے کہ الکتٰب سے مراد ہے قلم کی تحریر ‘ عرب کہتے ہیں : کَتَبْتُ کِتَابًا : میں نے قلم سے تحریر کی۔ فَمِنْھُمْ مُّھْتَدٍ : یعنی ان کی ذرّ یت میں سے کچھ لوگ یا ھُم کی ضمیر ان لوگوں کی طرف راجع ہے ‘ جن کی ہدایت کے لیے پیغمبروں کو بھیجا گیا تھا۔
Ayah 57:27

ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّیْنَا بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ١ۙ۬ وَ جَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ رَهْبَانِیَّةَ اِ۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَیْهِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَایَتِهَا١ۚ فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:27 in the Quran reader

پھر ان کے پیچھے انہی کے قدموں پر (اور) پیغمبر بھیجے اور ان کے پیچھے مریمؑ کے بیٹے عیسیٰ کو بھیجا اور ان کو انجیل عنایت کی۔ اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی ان کے دلوں میں شفقت اور مہربانی ڈال دی۔ اور لذات سے کنارہ کشی کی تو انہوں نے خود ایک نئی بات نکال لی ہم نے ان کو اس کا حکم نہیں دیا تھا مگر (انہوں نے اپنے خیال میں) خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے (آپ ہی ایسا کرلیا تھا) پھر جیسا اس کو نباہنا چاہیئے تھا نباہ بھی نہ سکے۔ پس جو لوگ ان میں سے ایمان لائے ان کو ہم نے ان کا اجر دیا اور ان میں بہت سے نافرمان ہیں

پھر ان کے بعد اور رسولوں کو (جو مستقل شریعت والے نہیں تھے) یکے بعد دیگرے بھیجتے رہے اور ان کے بعد عیسیٰ بن مریم کو بھیجا اور ہم نے ان کو انجیل دی۔ عَلآی اٰثَارِھِمْ : یعنی نوح اور ابراہیم اور ان کی امتوں کے پیچھے۔ ذریت کی طرف آثارھم کی ضمیر راجع نہیں ہوسکتی کیونکہ پیچھے آنے والے پیغمبر بھی نوح و ابراہیم (علیہما السلام) کی ذریت ہی سے تھے۔ وَقَفَّیْنَا بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ : یعنی رسول اللہ ﷺ کے علاوہ باقی تمام پیغمبروں کے پیچھے حضرت عیسیٰ کو بھیجا۔ آپ تمام انبیائے بنی اسرائیل کے بعد آئے ‘ آپ کے بعد رسول اللہ ﷺ کی بعثت تک پیغمبروں کا سلسلہ منقطع رہا۔ . ” اور جن لوگوں نے ان کا اتباع کیا ان کے دلوں میں ہم نے شفقت اور ترحم پیدا کردیا اور انہوں نے رہبایت کو خود ایجاد کرلیا۔ ہم نے ان پر اس کو واجب نہیں کیا تھا لیکن انہوں نے حق تعالیٰ کی رضامندی کے لیے اس کو اختیار کیا تھا۔ سو انہوں نے اس رہبانیت کی پوری نگہداشت نہیں کی۔ “ رَاْفَۃً : محبت ‘ نرمی ‘ رحمت اپنے بھائیوں اور مؤمنوں پر مہربانی۔ اللہ نے (سچے عیسائیوں کے متعلق) فرمایا ہے : لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَھُمْ مَّوَدَّۃً لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْا اِنَّا نَصَرٰی اور صحابہ کرام ؓ کے متعلق فرمایا : رُحَمَآءُ بَیْنَھُمْ ۔ وَ رَھْبَانِیَّۃَ : رہبانیت ‘ انتہائی عبادت و ریاضت۔ لوگوں سے قطع تعلق ‘ مرغوبات و خواہشات کا ترک اور اس حد تک ترک کہ مباح کو بھی چھوڑ دیا جائے۔ دن بھر روزہ ‘ رات بھر عبادت ‘ نکاح سے بالکل بےتعلقی ‘ دائمی تجرد۔ رہبان بروزن فعلان ‘ رہب سے مشتق ہے ‘ جیسے خشیان ‘ خشی سے مشتق ہے۔ نِ بْتَدَعُوْھَا : رہبانیت انہوں نے ازخود ایجاد کر رکھی تھی ‘ اللہ نے ان پر لازم نہیں کی تھی۔ اللہ نے ان کے دلوں میں رہبانیت کی طرف میلان پیدا کردیا اور اختراع رہبانیت کا ارتکاب انہوں نے خود کیا۔ مَا کَتَبْنٰھَا عَلَیْھِمْ الاَّ ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللہ : استثناء متصل ہے یا منقطع۔ اوّل صورت میں مطلب اس طرح ہوگا۔ رہبانیت کا کوئی حصہ ‘ کوئی جزء ان پر ہم نے لازم نہیں کیا تھا۔ سوائے مرضی خدا کی طلب کے (یعنی طلب رضاء خدا جو رہبانیت کا ایک حصہ تھی وہ تو ان پر فرض کی تھی اس کے سوا اور کچھ ان پر لازم نہ تھا) دوسری صورت میں مطلب اس طرح ہوگا : ہم نے رہبانیت ان پر فرض نہیں کی تھی بلکہ طلب مرضی خدا فرض کی تھی۔ فَمَارَعَوْھَا حَقَّ رِعَایَتِھَا : نفی ‘ مفید سلب عموم ہے (یعنی سب نے رہبانیت کی نگہداشت نہیں کی) نفی ‘ عموم سلب کے لیے نہیں ہے (یعنی یہ مراد نہیں کہ کسی نے رہبانیت کا لحاظ نہیں رکھا) حاصل مطلب یہ ہے کہ جس رہبانیت کا پورے طور پر پابند رہنے کا انہوں نے ازخود التزام کیا ‘ اس کی پوری پوری نگہداشت بعض لوگوں نے نہیں کی بلکہ ریاضت و عبادت وغیرہ کی پوری پابندی نہ کرسکے یا رہبانیت فقط دکھانے اور شہرت دینے اور حاصل کرنے کے لیے کرنے لگے یا تثلیث کے قائل ہوگئے یا انہوں نے اپنے علماء و مشائخ کو ارباب بنا لیا یا حضرت عیسیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی نبوت ماننے سے انکار کردیا ‘ یا رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے صحیح طور پر شریعت عیسوی پر قائم تھے لیکن حضور ﷺ کی بعثت کے بعد آپ ﷺ کا انکار کردیا یہ سب باتیں تقاضائے رہبانیت کے خلاف تھیں۔ فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْھُمْ اَجْرَھُمْ وَ کَثِیْرٌ مِّنْھُمْ فٰسِقُوْنَ . ” ان میں سے جو لوگ ایمان لائے ہم نے ان کا اجر (موعود) عطا کردیا اور زیادہ ان میں نافرمان ہیں۔ “ فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا . الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا : سے مراد ہیں وہ لوگ جو صحیح طور پر ایمان لائے اور رہبانیت کے تقاضوں کو پورا کیا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی وصیت کے مطابق رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائے۔ مِنْھُمْ : یعنی ان لوگوں میں سے جو اتباع عیسیٰ کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اَجْرَھُمْ : یعنی وہ ثواب اللہ ان کو عطا فرمائے گا ‘ جس کا ان سے ان کے اعمال کے مطابق اللہ نے وعدہ کرلیا ہے جو شخص ایمان کے ساتھ رہبانیت کے تقاضوں کو کامل طور پر پورا کرے گا ‘ اً سی کو اس کے عمل کے مطابق اور جس نے رہبانیت کی پورے طور پر نگہداشت نہیں کی اس کو اس کے عمل کے موافق اللہ اجر دے گا۔ وَ کَثِیْرٌ مِّنْھُمْ فٰسِقُوْنَ : یعنی ان میں بکثرت لوگ اتباع عیسیٰ سے باہر ہیں کسی نے تثلیث کو مان رکھا ‘ کسی نے اپنے علماء و مشائخ کو ارباب بنا رکھا ہے ‘ کوئی شاہی مذہب میں داخل ہوگیا اور کوئی دین عیسیٰ پر قائم رہا مگر رسول اللہ ﷺ کی رسالت کو ماننے سے انکار کردیا۔ بغوی نے اپنی سند کے ساتھ لکھا ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ حضور ﷺ نے فرمایا : ابن مسعود ؓ جو لوگ (یعنی اہل کتاب) تم سے پہلے گزر گئے وہ بہتّر فرقوں میں بٹ گئے ‘ جن میں سے تین فرقوں نے (دوزخ سے) نجات پائی اور باقی ہلاک ہوگئے (یعنی دوزخی ہوگئے) ایک فرقہ نے تو (بد دین) بادشاہوں سے مقابلہ کیا اور ان سے لڑے اور دین عیسیٰ پر قائم رہے ‘ بادشاہوں نے ان کو پکڑ لیا اور قتل کردیا (یہ فرقہ جنتی ہوا) ایک فرقہ وہ تھا جس میں بادشاہوں سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں تھی اور نہ یہ قوّت تھی کہ بادشاہوں کے سامنے کھڑے ہو کر دین الٰہی اور دین عیسوی کی دعوت دیں یہ فرقہ ملک کی سیاحت کو نکل گیا اور راہب بن گیا۔ انہیں کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے : وَ رَھْبَانِیَّۃَ نِ ابْتَدَعُوْھَا مَا کَتَبْنَاھَا عَلَیْھِمْ...... : حضور ﷺ نے فرمایا : (اب) جو مجھ پر ایمان لایا اور میری تصدیق کی اور میرا اتباع کیا اس نے حقیقت میں رہبانیت کی پوری نگہداشت کی (یہی تیسرا نجات یافتہ فرقہ ہے) اور جو مجھ پر ایمان نہیں لایا وہ ہلاک ہونے والا (یعنی دوزخی) ہے۔ بغوی نے لکھا ہے ‘ روایت میں آیا ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے گدھے پر سوار تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اے ام عبد کے بیٹے ! کیا تم جانتے ہو کہ بنی اسرائیل نے رہبانیت کیسے اختیار کی ؟ میں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی خوب جانتے ہیں۔ فرمایا : عیسیٰ کے بعد کچھ طاقتور بادشاہ جو گناہوں کے کام کرتے تھے بنی اسرائیل پر غالب آگئے ‘ اہل ایمان کو ان پر غصہ آیا اور ان سے لڑنے لگے۔ مؤمنوں کو تین بار شکست ہوئی اور ان کی تعداد بہت کم رہ گئی۔ آپس میں کہنے لگے اگر یہ لوگ ہم پر غالب آگئے ‘ تو ہم کو فنا کردیں گے اور دین کی دعوت دینے کے لیے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔ اس لیے آؤ اس وقت تک ہم ملک میں منتشر ہوجائیں جب تک وہ نبی مبعوث ہوجائے جس کی بعثت کا وعدہ حضرت عیسیٰ نے کیا تھا یعنی محمد ﷺ کی بعثت تک۔ چناچہ وہ لوگ آبادی سے نکل کر پہاڑوں کے غاروں میں چلے گئے اور رہبانیت کی ایجاد کی ‘ ان میں سے بعض لوگ تو اپنے دین کو پکڑے رہے اور کچھ کافر ہوگئے۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے آیت : وَ رَھْبَانِیَّۃَ نِ ابْتَدَعُوْھَا مَا کَتَبْنَاھَا .... تلاوت فرمائی اور فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْھُمْ اَجْرَھُمْ کا معنی بیان کیا کہ جو لوگ رہبانیت پر قائم رہے ہم نے ان کو ان کا اجر عطا کیا۔ پھر حضور ﷺ نے فرمایا : اے ام عبد کے بیٹے ! جانتے ہو کہ میری امت کی رہبانیت کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : اللہ اور رسول ﷺ ہی کو بخوبی علم ہے۔ فرمایا : (میری امت کی رہبانیت ہے) ہجرت ‘ جہاد ‘ نماز ‘ روزہ ‘ حج ‘ عمرہ اور اونچے مقاموں پر تکبیر کہنا۔ بغوی نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر امت کی ایک رہبانیت ہے اور اس امت کی رہبانیت ہے راہ خدا میں جہاد کرنا۔ سعید بن جبیر کی روایت ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : حضرت عیسیٰ کے بعد (بنی اسرائیل کے) بادشاہوں نے توریت و انجیل میں کچھ تغیر و تبدل کردیا ‘ بنی اسرائیل میں ایسے ایماندار بھی تھے جو (اصل) توریت و انجیل کو پڑھتے اور لوگوں کو دین خدا کی دعوت تھے یہ دیکھ کر کچھ لوگوں نے بادشاہوں سے کہا بہتر یہ ہوتا کہ آپ ان (مؤمنوں) کو جو آپ کے مخالف ہیں جمع کرتے (اور ان کے سامنے وہ دو باتیں رکھتے قتل یا تبدیل مذہب) جو ہماری (تبدیل شدہ) توریت و انجیل کو پڑھنا شروع کردیتے تو خیر اور جو انکار کرتے ‘ ان کو قتل کر ادیتے حسب مشورہ بادشاہ نے ان مؤمنوں کو جمع کیا اور دونوں باتیں ان کے سمانے رکھیں یا قتل یا بدلی ہوئی توریت و انجیل کی قراءت ۔ مؤمنوں نے کہا : ہم سے جو آپ لوگوں کو دکھ ہے اس کے دور کرنے کی ہم تدبیر کرتے ہیں۔ چناچہ ایک گروہ نے تو کہا : ہمارے لیے ایک اونچا ستون بنا دو اور ہم کو اس پر چڑھا دو اور وہیں ہمارا کھانا پینا پہنچا دیا کرو ‘ ہم تمہارے پاس نیچے اتر کر بھی نہیں آئیں گے۔ دوسرے گروہ نے کہا : ہم ملک میں ادھر ادھر سیاحی کرتے پھریں گے ‘ جنگلی جانوروں کی طرح گھومتے پھریں گے اور انہیں کی طرح (جنگلوں میں کھاتے) پیتے رہیں گے اگر کہیں بستی میں ہم تمہارے ہاتھ آجائیں تو قتل کردینا ‘ تیسرے گروہ نے کہا : ہمارے لیے ویران جنگلوں میں گھر بنوا دو ۔ ہم وہاں کنویں کھودیں گے ‘ کھیتی کریں گے ‘ تمہارے پاس نہیں آئیں گے ‘ نہ تمہاری طرف سے گزریں گے۔ چناچہ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے راستے پر چلتے رہے اور اسی پر گزر گئے۔ ان کے بعد ان کے جانشین آئے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے کتاب اللہ میں تغیر و تبدل کرلیا تھا اور انہوں نے بزرگوں کے متعلق کہا : فلاں شخص ‘ فلاں جگہ رہ کر عبادت کرتا تھا ہم بھی وہیں رہ کر عبادت کریں گے۔ فلاں شخص ملک میں گھومتا پھرتا تھا (کہیں مقیم ہو کر نہیں رہتا تھا) ہم بھی سیاحت کرتے پھریں گے۔ فلاں شخص نے (فلاں جنگل میں) مکان بنایا تھا ہم بھی اسی طرح مکان (یعنی خانقاہ) بنائیں گے۔ یہ سب مشرک تھے ‘ جن کی اقتدار کا ان کو دعویٰ تھا ان کے ایمان کی ان کو خبر بھی نہ تھی۔ انہی راہبوں کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے : وَ رَھْبَانِیَّۃَ نِ ابْتَدَعُوْھَا مَا کَتَبْنَاھَا .... یعنی نیک مؤمنوں نے رہبانیت کی از خود ایجاد کی۔ فَمَارَعُوْھَا حَقَّ رِعَایَتِھَا : یعنی پچھلے لوگوں نے جو بعد کو آئے تھے رہبانیت کی پوری نگہداشت نہیں کی۔ فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْھُمْ اَجْرَھُمْ : یعنی جن لوگوں نے رضائے خدا کی طلب میں رہبانیت اختیار کی تھی ‘ ان کو ہم نے ان کا اجر دیا اور وَکَثِیْرٌ مِّنْھُمْ فٰسِقُوْنَ : یعنی جو لوگ پیچھے آئے تھے وہ ایمان سے خارج تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے اس وقت ان راہبوں میں سے صرف تھوڑے آدمی رہ گئے تھے ‘ چناچہ خانقاہ والے خانقاہ سے اتر آئے ‘ گھومنے پھرنے والے سیاحت چھوڑ کر اور گرجا والے گرجا چھوڑ کر باہر آگئے اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آئے۔ طبرانی نے الاوسط میں ایک مجہول راوی کی سند سے ذکر کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : نجاشی کے ساتھیوں میں سے چالیس آدمی مدینہ میں اور جنگ احد میں شریک ہوئے ان میں سے کچھ لوگ زخمی بھی ہوئے لیکن شہید کوئی نہیں ہوا۔ مسلمانوں کی محتاجی دیکھ کر انہوں نے خدمت گرامی میں عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ ہم لوگ مالدار ہیں اگر حضور ﷺ اجازت دیں تو ہم (اپنے ملک سے) کچھ مال لا کر ان مسلمانوں کی ہمدردی کریں۔ اس پر اللہ نے آیات : اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھَمُ الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِہٖ ھُمْ بِہٖ یُؤْمِنُوْنَ وَاِذَا یُتْلٰی عَلَیْھِمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِہٖ اِنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّنَا اِنَّا کُنَّا مِنْ قَبْلِہٖ مُسْلِمِیْنَ اُوْلٰٓءِکَ یُؤْتُوْنَ اَجْرَھُمْ مَرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا نازل فرمائیں۔ جب یہ آیات اتریں تو انہوں نے مسلمانوں سے کہا : مسلمانو ! تمہاری کتاب پر ہم میں سے جو کوئی ایمان لائے گا اس کو دوہرا اجر ملے گا اور جو کوئی تمہاری کتاب پر ایمان نہیں لائے گا اس کو بھی اکہرا اجر تو ملے گا ہی جیسے تم کو اکہرا اجر ملے گا ‘ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 57:28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهٖ یُؤْتِكُمْ كِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۚۙ Open ayah 57:28 in the Quran reader

مومنو! خدا سے ڈرو اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ وہ تمہیں اپنی رحمت سے دگنا اجر عطا فرمائے گا اور تمہارے لئے روشنی کردے گا جس میں چلو گے اور تم کو بخش دے گا۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

یایھا الذین امنواتقوا اللہ وامنوا برسولہ یوتکم کفلین من رحمتہ و یجعل لکم نورا تمشون بہ و یغفرلکم واللہ غفور رحیم . ” اے (عیسیٰ پر) ایمان رکھنے والو اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ اللہ تم کو اپنی رحمت سے (ثواب کے) دو حصے دے گا اور تم کو ایسا نور عنایت کرے گا کہ اس کو لیے ہوئے تم چلو گے اور تم کو بخش دے گا اور اللہ غفور رحیم ہے۔ “ ابن ابی داؤد اور حاتم نے مقاتل کی روایت سے بھی یہ شان نزول اسی طرح بیان کیا ہے مقاتل کا بیان ہے کہ جب آیت : اُوْلٰٓءِکَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَھُمْ مَّرَّتَیْنِ نازل ہوئی تو مسلم اہل کتاب نے تمام صحابہ ؓ پر فخر کیا اور کہنے لگے ہم کو دوگنا اجر ملے گا اور تم کو اکہرا۔ صحابہ کو مسلم اہل کتاب کا یہ فخر ناگوار گزرا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ‘ جس میں تمام مؤمنوں کے لیے مسلم اہل کتاب کی طرح دوگنا اجر ہونے کی صراحت فرما دی ‘ اس بیان کی روشنی میں : یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے مخاطب تمام صحابہ ہونگے وہ اہل کتاب میں سے ہوں یا نہ ہوں اور امنوا برسولہ تاکیدی جملہ ہوگا یعنی رسول اللہ ﷺ جو کچھ اللہ کی طرف سے لائے ہیں ‘ سب پر ایمان رکھو ‘ سب کو مانو۔ علامہ بغوی اور اکثر مفسرین نے بیان کیا کہ یہ خطاب کتابی یہودیوں اور عیسائیوں کو ہے۔ آیت کا مطلب اس طرح ہے : اے وہ لوگو جو موسیٰ اور عیسیٰ پر ایمان رکھتے ہو اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول محمد ﷺ پر بھی ایمان لاؤ ‘ وہ اپنی رحمت سے تم کو دوہرا اجر دے گا ‘ ایک اجر عیسیٰ اور انجیل پر ایمان لانے کا اور دوسرا اجر محمد ﷺ اور قرآن کو سچا ماننے کا۔ بیضاوی نے لکھا ہے اگرچہ دین یہودیت منسوخ ہوگیا لیکن بعید نہیں کہ یہودیوں کو سابق دین کو ماننے کا بھی اجر دیا جائے گا (اور اس طرح ان کا اجر بھی دوہرا ہوجائے) ۔ بعض اہل علم کے نزدیک ان عیسائیوں کو خطاب ہے جو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں موجود تھے۔ صحیحین میں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تین (قسم کے) آدمی ہیں جن کو دوہرا اجر ملے گا ‘ اوّل وہ کتابی شخص جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور پھر محمد ﷺ کی بھی اس نے تصدیق کی۔ دوسرا وہ غلام جس نے اللہ کا فرض بھی ادا کیا اور اپنے آقاؤں کا حق بھی ادا کیا۔ تیسرا وہ شخص جس کے پاس کوئی باندی ہے جس سے وہ ہم بستری کرتا ہے پھر اس کو (اسلامی) آداب اچھی طرح سکھاتا ہے اور خوب دینی تعلیم دیتا ہے ‘ پھر اس کو آزاد کر کے اس سے نکاح کرلیتا ہے ‘ اس کے لیے بھی دوہرا اجر ہے۔ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِہٖ : یعنی ایسا نور جس کے ذریعہ سے تم پل صراط پر چلو گے۔ کذا قال ابن عباس ؓ و مقاتل۔ یہ آیت اور دوسری آیت : یَسْعٰی نُوْرُھُمْ بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَ بِاَیْمَانِھِمْ دونوں ہی (تقریباً ) ہم معنی ہیں۔ یعنی ایک دوسرے کی نظیر ہے۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : نور قرآن ہی ہے۔ مجاہد نے کہا : نور کھلی ہدایت ہے یعنی اللہ تمہارے لیے ایک ایسا کھلا ہوا راستہ کر دے گا ‘ جس پر چل کر تم بارگاہ قدس اور جنت الفردوس تک پہنچ جاؤ گے۔ وَیَغْفِرْلَکُمْ اور تمہارے گزشتہ گناہ معاف فرما دے گا۔ ابن جریر نے لکھا ہے کہ قتادہ نے کہا ہم کو یہ خبر پہنچی ہے کہ جب آیت : یُؤْتِکُمْ کِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِہٖ نازل ہوئی تو اہل کتاب کو اس پر رشک ہوا ‘ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
Ayah 57:29

لِّئَلَّا یَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَلَّا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 57:29 in the Quran reader

(یہ باتیں) اس لئے (بیان کی گئی ہیں) کہ اہل کتاب جان لیں کہ وہ خدا کے فضل پر کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے۔ اور یہ کہ فضل خدا ہی کے ہاتھ ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

لئلا یعلم اھل الکتب الا یقدرون علی شی ءٍ من فضل اللہ وان الفضل بید اللہ یوتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم . ”(یہ عنایت اس لیے کرے گا) تاکہ اہل کتاب کو یہ بات معلوم ہوجائے کہ ان کو اللہ کے فضل کے کسی حصہ پر بھی دسترس نہیں ہے اور یہ کہ فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہے عطا فرما دے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ “ لِّءَلاَّ یَعْلَمَ : تاکہ اہل کتاب جان لیں۔ لا (نافیہ) زائد ہے۔ اَلاَّ یَقْدِرُوْنَ : یعنی اہل کتاب جان لیں کہ اللہ کی مشیت کے بغیر اللہ کے فضل کا کوئی حصہ اپنے اختیار سے وہ حاصل نہیں کرسکتے۔ آیت کی یہ تشریح جو قتادہ سے مروی ہے اس روایت کے مطابق ہے جو طبرانی نے حضرت ابن عباس کی طرف اور ابن ابی حاتم نے مقاتل کی طرف منسوب کی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مقاتل نے کہا کہ آیت : یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہ وَاٰمِنُوْا بِرَسُوْلِہٖ میں اہل کتاب کو خطاب نہیں بلکہ تمام مؤمنوں کو ہے۔ بغوی نے قتادہ کا بیان نقل کیا ہے کہ ان اہل کتاب نے جو رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہیں لائے تھے ‘ مسلمان ہوجانے والے اہل کتاب پر حسد کیا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ہم اللہ کی اولاد اور اس کے چہیتے اور منتخب کردہ ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت : لِّءَلاَّ یَعْلَمَ اَھْلُ الْکِتٰبِ نازل فرمائی اور فرما دیا کہ پیغمبروں پر چونکہ وہ ایمان نہیں لائے اس لیے کسی قسم کا اجر وثواب ان کو نہیں ملے گا کیونکہ ہر اجر ایمان کے ساتھ وابستہ ہے ایمان نہیں تو کوئی ثواب نہیں۔ یہ تشریحی بیان اہل تفسیر کے اس قول کے مناسب ہے کہ آیت میں یہودیوں اور عیسائیوں کو خطاب ہے۔ بعض اہل علم نے کہا کہ لّءَلاَّ یَعْلَمَ میں لا زائد نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب یہ نہ سمجھ لیں اور یہ عقیدہ نہ رکھیں کہ رسول اللہ ﷺ اور مسلمان اللہ کے فضل کو نہیں پاسکتے۔ ابن المنذر نے بروایت مجاہد نیز بغوی نے بیان کیا ہے کہ اہل کتاب کا عقیدہ تھا کہ وہ اللہ کے بیٹے اور چہیتے اور پسندیدہ محبوب ہیں ‘ ایسا نہیں ہے بلکہ وہ اللہ کے فضل کے کسی حصہ پر قدرت نہیں رکھتے ‘ ان کو اجر وثواب بالکل نہیں ملے گا کیونکہ اللہ کے پیغمبروں پر وہ ایمان نہیں لائے اور ہر اجر ایمان کے ساتھ وابستہ ہے۔ حضرت علی کی طرف اس روایت کی نسبت کی گئی ہے کہ یہودی کہتے تھے کہ عنقریب ہم میں ایک نبی مبعوث ہوگا جو ان (مسلمانوں) کے ہاتھ پاؤں کاٹے گا ‘ اس کی تردید میں اللہ نے فرمایا : ہاتھ پاؤں کاٹنا تو درکنار ان کو معلوم ہوجانا چاہیے کہ یہ اللہ کے فضل یعنی نبوت پر کچھ قدرت نہیں رکھتے۔ نبوت عطا کرنا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ اپنے فضل سے جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے۔ بخاری نے صحیح میں حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہاری مدت گزشتہ امتوں کی مدت کے مقابلہ میں اتنی ہے جتنا عصر سے مغرب تک کا وقت ہوتا ہے۔ تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے مزدوروں سے کچھ کام کرانا چاہا اور کہا : ایک ایک قیراط مزدوری پر دوپہر تک میرا کام کون کرسکتا ہے ؟ یہودیوں نے ایک ایک قیراط پر دوپہر تک کام کیا پھر کام کرانے والے نے کہا : اب دوپہر سے عصر تک ایک ایک قیراط مزدوری پر کون کام کرسکتا ہے ؟ یہ سن کر نصاریٰ نے ایک ایک قیراط پر دوپہر سے عصر تک کام کیا ‘ پھر کام کے طلبگار نے کہا : اب عصر سے مغرب تک دو دو قیراط پر اجرت پر کون کام کرسکتا ہے ؟ سن لو تم ہی وہ لوگ ہو جو نماز عصر سے مغرب تک کام کرنے والے ہو۔ آگاہ ہوجاؤ تمہاری اجرت دوگنی ہوگی۔ اس اعلان پر یہودی اور عیسائی ناراض ہوگئے۔ انہوں نے کہا : ہم کام تو زیادہ کرنے والے ہیں اور اجرت کم پائیں گے۔ اللہ نے فرمایا : کیا میں نے (تمہارا کچھ حق کاٹ کر) تم پر ظلم کیا ہے۔ یہودیوں اور عیسائیوں نے کہا : نہیں ! اللہ نے فرمایا : پس یہ میرا فضل ہے ‘ میں جس کو چاہتا ہوں دیتا ہوں۔ بخاری نے حضرت ابو موسیٰ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مسلمانوں کی اور یہود و نصاریٰ کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے کچھ لوگوں کو صبح سے شام تک کام کرنے کے لیے ایک مقررہ اجرت پر لگایا۔ ان لوگوں نے دوپہر تک کام کیا پھر کہا جو اجرت آپ نے مقرر کی ہے ہم کو اس کی ضرورت نہیں (آئندہ ہم کام نہیں کریں گے) آپ کی یہ شرط (یعنی تقرر اجرت) غلط ہے۔ کام لینے والے نے کہا : تم باقی کام پورا کر دو اور اپنی پوری مزدوری لے لو لیکن انہوں نے انکار کردیا اور کام چھوڑ دیا۔ ان کے بعد کام کرانے والے نے کچھ اور لوگ مزدوری پر رکھے اور کہا : آج دن کا باقی تمام کام تم پورا کر دو ‘ تم کو طے شدہ مزدوری ملے گی (ان لوگوں نے کام شروع کردیا) ۔ یہاں تک کہ عصر کا وقت آگیا یعنی عصر کی نماز کا وقت ہوگیا۔ تو (وہ بھی کام چھوڑ بیٹھے اور) کہنے لگے : ہم نے جو کام کیا وہ یونہی بےمزدوری ہوا ‘ جو اجرت آپ نے مقرر کی تھی وہ آپ ہی اپنے پاس رکھیں کام کرانے والے نے کہا اپنا باقی کام پورا کر دو دن کا تھوڑا ہی حصہ تو رہ گیا ہے لیکن انہوں نے انکار کردیا آخر مالک نے کچھ اور لوگوں کو مزدوری پر بلوایا کہ دن کے باقی حصہ میں کام کردیں۔ چناچہ انہوں نے باقی وقت کام کردیا اور (اوّل الذکر) دونوں فریقوں کی پوری مزدوری لے لی۔ پس یہ مثال ہے ان لوگوں کی اور اس نور کو قبول کرنے کی ‘ واللہ اعلم۔ میں کہتا ہوں حضرت ابن عمر ؓ کی بیان کردہ حدیث میں ان یہودیوں اور عیسائیوں کا ذکر ہے جنہوں نے اپنی اپنی شریعت کے منسوخ ہونے سے پہلے اللہ کے حکم پر محمل کیا تھا ‘ ان کو وعدہ کے مطابق اللہ اجر عطا فرمائے گا۔ حضرت ابو موسیٰ کی روایت میں جن یہودیوں اور عیسائیوں کا ذکر کیا گیا ہے ان سے مراد وہ یہودی ہیں جنہوں نے حضرت عیسیٰ پر ایمان لانے سے انکار کردیا تھا اور وہ عیسائی مراد ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کو نہیں مانا اور اللہ کے حکم کو چھوڑ دیا۔ اللہ نے ان سے پختہ وعدہ لے لیا تھا کہ جب تمہارے پاس (ہمارا) رسول پہنچے جو تمہاری کتابوں کو سچا بتائے تو تم اس پر ضرور ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا۔ پس ایسے کافر اہل کتاب کے لیے کوئی اجر نہیں ‘ ان کے سارے اعمال اکارت جائیں گے۔ دونوں حدیثوں میں امت اسلامیہ کے لیے بشارت ہے کہ گزشتہ امتوں کے نیکو کار لوگوں کو ان کی نیکیوں کا جتنا ثواب دیا جائے گا تم کو اس سے دوگنا دیا جائے گا ‘ یہ بھی خوشخبری ہے کہ قیامت تک تم حق پر رہو گے۔ حضرت معاویہ ؓ نے کہا : میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے سنا کہ میری امت میں سے کچھ لوگ ہمیشہ اللہ کے حکم پر کاربند رہینگے ‘ کوئی انکی مدد نہ کرے اور کوئی انکی مخالفت کرے انکا کچھ بگاڑ نہ ہوگا۔ اسی حالت میں اللہ کا حکم (یعنی روز قیامت) آجائیگا۔ ( متفق علیہ) ابوداؤد ‘ ترمذی اور نسائی نے لکھا ہے کہ حضرت عرباض ؓ بن ساریہ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ سونے سے پہلے مسبحات (وہ سورتیں جن کو سَبَّحَ اور یُسَبِّحَ اور سَبِّح سے شروع کیا گیا ہے) پڑھتے اور فرماتے تھے۔ ان میں ایک آیت ایسی ہے جو ہزار آیتوں سے بہتر ہے ‘ میں کہتا ہوں شاید وہ آیت تسبیح ہے۔ نسائی (رح) نے معاویہ ؓ کا قول موقوفاً بیان کیا ہے کہ مسبحات سورت حدید ‘ سورت حشر ‘ سورت صف ‘ سورت جمعہ ‘ سورت تغابن اور سورة اعلیٰ ہیں۔ میں کہتا ہوں مسبحات میں سے سورت بنی اسرائیل بھی ہے لیکن معاویہ ؓ نے اس کا ذکر نہیں کیا بلکہ ترمذی ‘ نسائی اور حاکم نے تو حدیث کے یہ الفاظ نقل کیے : و حتی یقرأ بنی اسرائیل و الزمر “ سونے سے پہلے رسول اللہ ﷺ سورت بنی اسرائیل اور سورت الزمر بھی پڑھتے تھے۔ والحمد اللہ سورة الحدید کی تفسیر ختم ہوئی