Ayah 55:41یعرف المجرموں بسیماھم فیوخذ بالنواصی والاقدام
” مجرم لوگ اپنے حلیے سے پہچان لیے جائیں گے۔ سو ان کے سر کے بال اور پاؤں پکڑ لیے جائیں گے۔
یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ : یہ ایک امکانی سوال کا جواب ہے۔ سوال پیدا ہوسکتا تھا کہ جب مجرم انسان و جن سے اس کے جرم کے متعلق سوال ہی نہیں کیا جائے گا تو عذاب کے فرشتوں کو کیسے معلوم ہوگا کہ یہ مجرم ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ عذاب کے فرشتے مجرموں کے چہرے دیکھ کر شناخت کرلیں گے۔ ان کے چہرے سیاہ اور آنکھیں نیلی ہوں گی۔ اللہ نے فرمایا ہے : یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْہٌ۔ مختفی نے دیباج میں حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے جبرئیل نے اطلاع دی کہ (اللہ نے فرمایا :) مسلمان کے مرنے کے وقت اور قبر کے اندر رہنے کے وقت اور قبر سے نکالے جانے کے وقت لا الٰہ الاّ اللہ باعث انس (یعنی گھبراہٹ اور وحشت دور کرنے کا سبب) ہوگا۔ اے محمد ﷺ تم حیرت میں پڑجاؤ گے) جب دیکھو گے کہ لوگ سروں سے خاک جھاڑے قبروں سے اٹھ رہے ہوں گے ‘ ایک کہتا ہوگا : لا اِلٰہ الاّ اللہ والحمد اللہ اس کا چہرہ گورا ہوگا۔ دو سرا پکارے گا : ہائے افسوس ! اللہ کے معاملہ میں میں نے بڑا قصور کیا۔ ایسے لوگوں کے چہرے کالے ہوں گے۔
ابو یعلی راوی ہیں کہ حضرت ابن عباس نے آیت : اَلَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ الرِّبٰو .... کی تشریح کے ذیل میں فرمایا : قیامت کے دن لوگوں (یعنی سود خواروں) کو اس علامت سے پہچان لیا جائے گا کہ خبط الحواس آدمی کی طرح وہ اٹھیں گے (یا آسیب زدہ آدمی کی طرح ‘ مترجم)
ابن ابی شیبہ ‘ ابن ابی حاتم اور ابو یعلی نے حضرت ابوہریرہ کی مرفوع حدیث بیان کی کہ قیامت کے دن اللہ کچھ لوگوں کو ایسی حالت میں اٹھائے گا کہ ان کے منہ آگ سے بھڑک رہے ہوں گے۔ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ! یہ کون لوگ ہوں گے ؟ فرمایا : (یہ وہ لوگ ہوں گے) جن کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے : اَلَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتَامٰی ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْکُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِھِمْ نَارًا۔
بزار نے حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت جابر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ تکبّر کرنے والوں کا قیامت کے دن حشر چھوٹی چیونٹیوں کی شکل میں ہوگا۔ اس موضوع کی اور بھی احادیث بکثرت آئی ہیں۔
چاروں اصحاب سنن نے اور حاکم نے حضرت ابن مسعود کی مرفوع حدیث بیان کی ہے کہ جو شخص باوجود غنی ہونے کے سوال کریگا ‘ قیامت کے دن ایسی زخمی حالت میں آئیگا کہ اسکے چہرے پر کھرونچے اور خراشیں ہونگی۔ صحیحین میں بھی اسی طرح کی حدیث آئی ہے۔
ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی مرفوع حدیث نقل کی ہے کہ جو شخص مؤمن کے قتل میں آدھی بات کہہ کر بھی مدد کرے گا وہ اللہ کی پیشی میں ایسی حالت سے جائے گا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھا ہوگا : ” مایوس از رحمت خدا “۔ ابو نعیم نے حضرت عمر ؓ کی روایت سے اور بیہقی نے حضرت ابن عمر کی روایت سے بھی اسی طرح حدیث نقل کی ہے۔
ابن خزیمہ اور ابن حبان نے حضرت ابن عمر کی حدیث نقل کی ہے کہ جو (مسجد کی) قبلہ کی دیوار پر ناک کی ریزش پھینکے گا ‘ قیامت کے دن وہ ایسی حالت میں اٹھایا جائے گا کہ وہ ریزش اس کے چہرے پر (چسپاں) ہوگی۔
طبرانی نے الاوسط میں حضرت سعد ؓ بن ابی وقاص کی مرفوع حدیث بیان کی ہے کہ دنیا میں جو شخص دو رخا ہے ‘ وہ قیامت کے دن ایسی حالت میں آئے گا کہ اس کے آتشیں ساخت کے دو چہرے ہوں گے۔ طبرانی اور ابن ابی الدنیا نے حضرت انس کی مرفوع حدیث لکھی ہے کہ (دنیا میں) جو دو زبانوں والا ہے اللہ قیامت کے دن آتشیں ساخت کی اس کی دو زبانیں بنا دے گا۔
چاروں اصحاب سنن اور حاکم اور ابن حبان نے حضرت ابوہریرہ کی مرفوع حدیث بیان کی ہے کہ جس کی دو بیبیاں ہوں اور وہ دونوں میں برابری نہ رکھے ‘ قیامت کے دن وہ ایسی حالت میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا (یعنی ٹیڑھا) ہوگا۔ دوسری روایت میں آیا ہے ‘ اس کا ایک پہلو گرا ہوا ہوگا۔
ایک حدیث میں ہے میری امت کا حشر دس گروہوں میں ہوگا جن میں سے ایک گروہ بندروں کی شکل پر ہوگا ‘ الخ۔ سورة عم یتساء لون کی آیت : یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًا کی تفسیر میں ہم نے پوری حدیث نقل کردی ہے۔ صحیح احادیث میں آیا ہے کہ جن لوگوں نے ناحق کسی کی کوئی چیز لی ہو ‘ جب ان لوگوں کا حشر ہوگا تو وہ چیز ان کی گردن پر لدی ہوگی۔ صحیحین میں مرفوع حدیث ان لوگوں کے بارے میں آئی ہے جنہوں نے مال غنیمت میں کچھ چوری کی ہوگی تو حشر کے دن وہ چیز ان کی گردن پر سوار ہوگی۔
فَیُؤْخَذُ بالنَّوَاصِیْ وَالْاَقْدَام : بیہقی نے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے اس آیت کی تشریح میں فرمایا : سر کو قدم سے ملا دیا جائے گا پھر لکڑی کی طرح توڑ دیا جائے گا۔ ہناد نے اس آیت میں تشریح میں ضحاک کا قول نقل کیا ہے کہ پیشانی کو قدموں سے ملا دیا جائے گا۔ پھر پشت کے پیچھے سے ایک زنجیر میں جکڑ دیا جائے گا۔
Ayah 55:42فبای الا ربکما تکذبان .
سو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔ “
سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمت کے منکر ہوجاؤ گے۔ “
Ayah 55:43ھذہ جھنم التی یکذب بھا المجرموں . ” یہ ہے وہ جہنم جس کو منکر لوگ جھٹلاتے تھے۔
ھٰذِہٖ جَھَنَّمُ : یعنی ان سے کہا جائے گا کہ یہ جہنم ہے جس کو دنیا میں مشرک نہیں مانتے تھے ‘ اس کی تکذیب کرتے تھے۔
Ayah 55:44یطوفون بینھا و بین حمیم
وہ لوگ دوزخ کے اردگرد کھولتے ہوئے پانی کے درمیان دورہ
کرتے ہوں گے۔
یَطُوْفُوْنَ : چکر لگائیں گے۔
بَیْنَھَا وَ بَیْنَ حَمِیْمٍ اٰنٍ : جہنم (جہاں ان کو جلایا جائے گا) اور گرم کھولتے ہوئے پانی کے درمیان۔
حَمِیْمٍ : گرم پانی۔
اٰنٍ : انتہائی گرم (کھولتا ہوا) یعنی جہنم اور نہایت گرم پانی کے درمیان وہ چکر لگاتے رہیں گے۔ ترمذی اور بیہقی نے حضرت ابو درداء کی روایت سے مرفوع حدیث نقل کی ہے کہ قیامت کے دن ان پر بھوک کو ایسا مسلط کیا جائے گا کہ وہ (چیخیں گے اور) فریاد کریں گے ‘ ان کی فریاد رسی اس طرح کی جائے گی کہ تھوہر کا کھانا ان کو دیا جائے گا جس سے نہ بھوک دفع ہوگی ‘ نہ بدن میں فربہی آئے گی اور جو کھانا ان کو کھلایا جائے گا وہ حلق میں پھنسے گا ‘ اس وقت ان کو یاد آئے گا کہ دنیا میں جب حلق میں کھانا پھنستا تھا تو پانی کی مدد سے اس کو تر کرلیا کرتے تھے۔ یہ بات یاد کر کے وہ پانی کے لیے فریاد کریں گے ‘ ان کی فریاد پر گرم پانی لوہے کے آنکڑوں سے پکڑ کر ان کے منہ کے سامنے لایا جائے گا ‘ پانی جب منہ کے قریب آئے گا تو چہرہ بھن جائے گا اور پیٹ کے اندر پہنچے گا تو (انتڑیاں کٹ کر نکل پڑیں گی) ۔ الیٰ آخر الحدیث۔
امام احمد ‘ ترمذی ‘ ابن حبان ‘ حاکم اور بیہقی نے حضرت ابو سعید ؓ خدری کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت : وَاِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ کَالْمُھْلِ کی تشریح میں فرمایا : جیسے روغن زیتون کی تلچھٹ۔ جب وہ پانی ان کے منہ کے قریب لایا جائے گا تو چہرے کی کھال گرپڑے گی۔
کعب احبار نے کہا : اَن جہنم کی ایک وادی ہے ‘ جس میں دوزخیوں کا کچ لہو جمع ہوگا۔ اس وادی میں دوزخیوں کو ڈبو دیا جائے گا کہ ان کا ایک ایک جوڑ اکھڑ جائے گا۔ پھر ان کو وادی سے نکالا جائے گا اور از سر نو ان کی جسمانی تخلیق کر کے دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ یہی مطلب ہے : یَطُوْفُوْنَ بَیْنَھَا وَ بَیْنَ حَمِیْمٍ اٰنٍ کا۔
Ayah 55:45فبای الا ربکما تکذبان
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا ..... : بعض علماء نے لکھا ہے کہ آیت : کل من علیھا فان سے اس آیت تک تنبیہات ہیں ‘ توبیخیں اور زجریات ہیں اور عذاب کی دھمکیاں ہیں اور یہ تمام چیزیں اللہ کی نعمت ہیں کیونکہ گناہوں سے باز رہنے کا یہ ذریعہ ہیں۔ علماء کا یہ قول محض تکلف ہے۔ کیونکہ اٰلآء سے مراد ہے تخلیق وجود ‘ ابقاء وجودکطاء رزق کی نعمتیں اور انہی جیسی دوسری بخششیں ‘ عذاب ‘ سزا اور ہلاکت کو توڑ مروڑ کر نعمت شمار کیا جائے لیکن عذاب سے توبیخ اور زجر کوئی نعمت نہیں ہے ‘ یہ زجر آگیں آیت اس سورة میں 31 مرتبہ ذکر کی گئی ہے۔ آٹھ مرتبہ تو اللہ کی آٹھ حقیقی صفات کی گنتی کے موافق ذکر کیا گیا ہے۔ ان آٹھوں مقامات میں اللہ نے اس آیت سے پہلے اپنی نادر صفات اور عجائب تخلیق کو بیان کیا ہے۔ بدائع صنعت اور نوادر خلقت کا تذکرہ آیت : کل یوم ھو فی شانٍ تک کر کے تنبیہ کی ہے کہ جس خالق کی تخلیق وقدرت ایسی ہو اس کی تکذیب کسی طرح زیبا نہیں۔ سات جگہ آیت مذکورہ سے پہلے ابواب جہنم کی تعداد کے مطابق عذاب کی وعید اور سزا کی تخویف مذکور ہے۔ اس مضمون کا بیان آیت : سنفرغ لکم سے آیت : یطوفون بینھا و بین حمیم آن تک کیا گیا ہے۔ ان ساتوں مقامات میں آیت مذکورہ کا ذکر کرنے سے مقصود ہے ‘ اس بات پر تنبیہ کرنی کہ ایسے قادر منتقم کے انتقام سے ڈرنا اور اس کی نعمتوں کی تکذیب نہ کرنا لازم ہے ‘ پھر ابواب جنت کے مطابق آٹھ جگہ نعمتوں کا ذکر کر کے آیت مذکورہ کو ذکر کیا ہے۔ اس طرح دوسری جنت کی نعمتوں کا ذکر آٹھ بار کرنے کے ساتھ آیت مذکورہ کو ذکر کیا ہے تاکہ جنت کی نعمتوں کی جانب رغبت ہو اور ایسے قدرت والے منعم کی نعمتوں کی ناشکری نہ کی جائے ‘ واللہ اعلم۔
ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے کتاب العظمۃ میں عطاء کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ایک روز حضرت ابوبکر ؓ قیامت ‘ میزان اور جنت و دوزخ کی سوچ میں پڑگئے اور فرمایا : کاش میں پیدا ہی نہ ہوتا۔ کاش ! میں گھاس ہوتا کہ کوئی چارپایہ مجھے آکر چر لیتا (اور دوبارہ مجھے پیدا نہ کیا جاتا) اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
Ayah 55:46ولمن خاف مقام ربہ جنتن
اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہتا ہے ‘ اس کے لیے دو باغ ہوں گے ‘
ابن ابی حاتم نے ابن سوذب کی روایت سے لکھا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے متعلق نازل ہوئی۔
مقام یا ظرف مکان ہے (کھڑے ہونے کی جگہ) یعنی وہ جگہ جہاں بندے حساب دینے کے لیے کھڑے ہوں گے ‘ یا رب کے سامنے حساب فہمی کے لیے کھڑے ہونے کی جگہ۔ قتادہ نے کہا : مؤمن اس مقام سے ڈرتے ہیں اس لیے خاص اللہ کے لیے عمل کرتے اور شب و روز اس کی اطاعت میں سرگرم رہتے ہیں یا مقام مصدر میمی ہے اس وقت مقام (بمعنی قیام) کا معنی ہوگا۔ نگرانی ‘ دیدبانی۔ عربی محاورہ ہے : قام علیہ ‘ اسکی نگرانی رکھی۔ بلفظ قیام اس معنی میں دوسری آیت میں آیا ہے : افمن ھو قائم علی کل نفس بما کسبت۔
یا مقام بمعنی قیام سے رب کے سامنے حساب دینے کے لیے کھڑے ہونا مراد ہے۔
بعض اہل علم کے نزدیک لفظ مقام زائد ہے یعنی جو اپنے رب سے ڈرتا رہتا ہے۔
ضحاک نے کہا ہے دو جنتوں کا انعام ان لوگوں کو ملے گا جو ظاہری اور باطنی نگرانی رکھتے اور اللہ سے ڈرتے ہیں ‘ حرام فعل کا ارتکاب ‘ اللہ کے خوف سے ترک کردیتے ہیں اور جو نیکی کرتے ہیں وہ محض اللہ کے لیے کرتے ہیں ‘ وہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ کے سوا کوئی ان کے عمل خیر سے واقف ہو۔
آیت کے دو معنی ہوسکتے ہیں : ایک معنی جو ظاہر ہے کہ رب کے سامنے کھڑے ہونے سے تمام ڈرنے والوں کو اجتماعاً دو جنتیں (خصوصیت کے ساتھ) عطا کی جائیں گی۔ مقاتل نے کہا : ایک جنت عدن اور دوسری جنت نعیم (یعنی مذکورہ اشخاص کو جنت عدن اور جنت نعیم میں داخل کیا جائے گا) ۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک جنت ان آدمیوں کو دی جائے گی جو رب سے خائف ہیں اور دوسری جنت ان جنات کو جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔ خطاب چونکہ دونوں گروہوں کو ہے اس لیے ہر فریق کے لیے ایک ‘ ایک جنت ہوگی۔
دوسرا معنی یہ ہے کہ اللہ کے سامنے کھڑے ہونے سے ہر خائف کو دو ‘ دو باغ دیئے جائیں گے۔ یہ تشریح بعید از فہم ہے۔ اس مطلب پر جتنے لوگ اللہ کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرنے والے ہوں گے ‘ ان سے دوگنی تعداد جنتوں کی ہوگی تاکہ ہر ایک کو دو ‘ دو باغ دیئے جاسکیں بلکہ ہر ایک شخص کے لیے چار چار باغ ہونا ضروری ہوگا کیونکہ اگلی آیت : ومن دونہما جنتان کا عطف ولمن خاف مقام ربہ جنتان پر ہے۔ اس طرح ہر شخص کے حصے میں چار جنتیں آئیں گی ‘ حالانکہ احادیث میں آیا ہے کہ جنتیں کل چار ہوں گی۔ دو چاندی کی ‘ ان دونوں میں جو برتن اور دوسری چیزیں ہوں گی وہ چاندی کی ہوں گی اور دو جنتیں سونے کی ‘ ان دونوں میں جو برتن اور دوسری چیزیں ہوں گی وہ سب سونے کی ہوں گی۔ اہل جنت اور اللہ کے درمیان صرف عظمت الٰہیہ کی چادر حائل ہوگئی اور وہ اپنے رب کو جنت عدن میں دیکھیں گے۔ (رواہ الشیخان فی الصحیحین عن ابی موسیٰ الاشعری)
بغوی نے حضرت عبداللہ بن قیس کی روایت سے اور احمد و طیالسی و بیہقی نے حضرت ابو موسیٰ کی روایت سے حدیث مذکور ان الفاظ کے ساتھ بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنات الفردوس چار ہیں ‘ دو سونے کی جن کے سارے زیور ‘ برتن اور تمام چیزیں سونے کی ہوں گی اور دو چاندی کی ‘ جس کے اندر زیور ‘ برتن اور تمام اشیاء چاندی کی ہوں گی ‘ الخ۔ بغوی نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص ڈرتا ہے وہ رات کو (بھی) چلتا ہے اور جو رات کو (بھی) چلتا ہے وہ منزل پر پہنچ جاتا ہے۔ سن لو ! اللہ جو چیز فروخت کرتا ہے وہ بیش قیمت جنت ہے۔
حضرت ابودرداء کا بیان ہے میں نے خود سنا رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : ولمن خاف مقام ربہ جنتان ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! خواہ زنا کیا ہو ‘ خواہ چوری کی ہو ؟ آپ ﷺ نے پھر وہی فرمایا ‘ پھر میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! خواہ اس نے زنا کیا ہو یا چوری کی ہو تو پھر تیسری مرتبہ وہی فرمایا : (ولمن خاف مقام ربہ جنتان) پھر میں نے عرض کیا : خواہ اس نے زنا کیا ہو یا چوری کی ہو ؟ فرمایا : ہاں ! اگرچہ ابودرداء کی ناک خون آلود ہوجائے۔ (یعنی ابو درداء زمین پر ناک بھی رگڑے تب بھی حکم مذکور نہیں بدلے گا) ۔
Ayah 55:47فبای الاء ربکما تکذبان
سو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔
Ayah 55:48ذواتا افنان ” اور وہ دونوں باغ کثیر ٹہنیوں والے ہوں گے ‘
ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ : ذو مذکر کے لیے آتا ہے۔ ذو اصل میں ذو و تھا ‘ ذات مؤنث کے لیے آتا ہے۔ اس کی اصل ذوات تھی ‘ ذوات کا تثنیہ ذواتا آتا ہے اور تخفیفاً جمع کے لیے بھی ذوات کا لفظ مستعمل ہے۔
اَفْنَانٍ فَنَن کی جمع ہے۔ فنن ‘ نرم ٹہنی جو درخت کی شاخوں سے نکلتی ہے۔ برگ و بار کی پیدائش اور درخت کی سایہ آفرینی ٹہنیوں سے ہی ہوتی ہے۔ مجاہد اور کلبی نے افنان کا یہی معنی بیان کیا ہے۔ عکرمہ کا قول ہے کہ فنن ‘ ٹہنیوں کے اس سایہ کو کہتے ہیں جو باغ کی دیواروں پر پڑتا ہے۔ حسن نے ذواتا افنان کا ترجمہ کیا ہے : ذواتا اظلالٍ (سایہ دار) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ افنان ‘ فن کی جمع ہو یعنی رنگا رنگ کے پھلوں اور قسم قسم کے درختوں والیاں۔ عرب کہتے ہیں : افنن فلان فی حدیثہ ‘ فلاں شخص نے اپنی گفتگو میں طرح طرح کی اور رنگ رنگ کی باتیں کہیں۔ سعید بن جبیر اور ضحاک کا یہی قول ہے۔ ایک روایت میں حضرت ابن عباس کی طرف بھی اس قول کی نسبت کی گئی ہے۔
Ayah 55:49فبای الا ربکما تکذبان .
سو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔ “
Ayah 55:50فیھا عینن تجرین ” دونوں باغوں میں دو چشمے ہوں گے کہ بہتے جائیں گے ‘
تَجْرِیَانِ : بہتے ہوئے۔ بلندی کی جانب بہتے ہوئے یا نشیب کی جانب جس طرف کو اہل جنت چاہیں گے ‘ اسی طرف کو چشمے نکلیں گے۔
آیت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دونوں جنتوں میں دو چشمے رواں ہوں گے یا ہر ایک جنت میں دو ‘ دو چشمے ہوں گے بلکہ مراد یہ ہے کہ ہر جنت میں دو قسم کے چشمے ہوں گے خواہ سو ہوں یا ہزار یا اس سے کم و بیش کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے : فِیْھَآ اَنْھٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرُ اٰمِنٍ وَاَنْھٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُہٗ وَاَنْھٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَذَّۃٍ لِّلشَّارِ بِیْنَ وَاَنْھٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّی۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ چاروں قسم کی بکثرت نہریں جنت کے اندر ہوں گی۔ پانی کی ‘ دودھ کی ‘ شراب کی اور شہد کی ہر قسم کی بہت سی نہریں۔
بغوی نے حسن کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنت میں چار نہریں ہوں گی۔ دو تو عرش کے نیچے سے رواں ہوں گی ‘ ایک وہ جس کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے : یفجرونھا تفجیرا اور دوسری زنجبیل ‘ باقی دونوں ابلتی ہوں گی۔ ایک سلسبیل دوسری تسنیم۔
Ayah 55:51فبای الا ربکما تکذیبان .
سو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔ “
Ayah 55:52زَوْجٰن : دو قسم کے۔ ایک قسم وہ جو نادر ہوگی (دنیا میں اس سے کوئی واقف نہ ہوگا) اور دوسری وہ جو معروف ہے (جس کے نام سے لوگ واقف ہیں) بعض نے کہا : تر اور خشک میوے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : دنیا میں جو میٹھے یا کڑوے پھل ہیں وہ سب جنت میں ہوں گے ‘ یہاں تک کہ حنظل بھی ہوگا ‘ مگر وہ کڑوا نہ ہوگا۔ ابن ابی حاتم اور ابن المنذر نے بھی یہ روایت بیان کی ہے۔ ابن ابی حاتم نے مسند میں اور ہناد نے الزہد میں اور ابن جریر و بیہقی نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جنت کے اندر جو چیزیں ہوں گی ‘ دنیا میں ان کے صرف نام ہی نام ہیں (کیفیت ‘ لذت ‘ حالت ‘ حقیقت ‘ مقدار وغیرہ جنت کی چیزوں کی بالکل الگ ہے) ۔
Ayah 55:53فبای الا ربکما تکذبان . ” سو تم اے جن و انس ! اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔ “
Ayah 55:54متکئین علی فرش بطائنھا من استبرق وجنا الجنتین دان
وہ لوگ تکیے لگائے ایسے فرشوں پر بیٹھے ہوں گے جن کے استر دبیزریشم کے ہوں گے اور ان دونوں باغوں کا پھل بہت نزدیک ہوگا۔
اَسْتَبْرَقٍ : دبیز ریشمی کپڑا ‘ ابون جریر ‘ ابن ابی حاتم اور بیہقی کا بیان ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : تم کو کپڑے کے استر کی اطلاع دی گئی ہے (جب استر ایسا ہوگا) تو ابرے کی کیا کیفیت ہوگی۔ بغوی نے بھی یہ اثر حضرت ابن مسعود ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے اسی طرح نقل کیا ہے ‘ ابو نعیم نے سعید بن جبیر کا قول بیان کیا ہے کہ ابرہ نور جامد کا ہوگا (یعنی مجسم نور کا) بغوی نے سعید بن جبیر کا یہ قول نقل کیا ہے کہ استبرق کا جب استر ہوگا تو ابرے کی کیا کیفیت ہوگی (ابرے کی کیفیت نہ معلوم ہونا ایسا ہی ہے) جس طرح اللہ نے فرمایا ہے : فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : استر کا ذکر کیا گیا ابرے کا تذکرہ نہیں کیا گیا کیونکہ رُوئے زمین پر کوئی اس کے ابرے سے واقف نہیں۔
جَنَا : اسم ہے بمعنی اسم مفعول یعنی درختوں سے چنے جانے اور توڑے جانے والے پھل یعنی جنت کے درختوں سے پھلوں کا توڑنا دشوار نہ ہوگا (کہ اوپر چڑھنا پڑے بلکہ) آسان ہوگا۔ پھل ہاتھ کی رسائی سے اونچے نہ ہوں گے۔ سعید بن منصور اور ہناد نے بیان کیا کہ آیت : وَذُلِّلَتْ قُطُوْفُھَا تَذْلِیْلاً کی تشریح میں حضرت براء بن عازب نے فرمایا : اہل جنت ‘ جنت کے پھل کھڑے ‘ بیٹھے ‘ لیٹے (ہر حال میں توڑ ‘ توڑ کر) کھائیں گے۔
بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول بیان کیا ہے کہ درخت جنتی کے اتنا قریب آجائے گا کہ اللہ کا دوست جس طرح چاہے گا اس کے پھل توڑ لے گا ‘ کھڑے بیٹھے (جس طرح چاہے گا) ۔
Ayah 55:55سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمت کے منکر ہوجاؤ گے۔ “
Ayah 55:56فیھن قصرات الطرف لم یطمثھن انس قبلھم ولا جان
ان (جنتوں) کے اندر نیچی نگاہ والیاں ہوں گی کہ ان جنتیوں سے پہلے ان پر نہ کسی آدمی نے تصرف کیا ہوگا ‘ نہ کسی جن نے
فِیْھِنَّ : جنتوں کے محلات میں یا من جملہ جنتوں کی نعمتوں کے۔
قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ : یعنی ایسی عورتیں جن کی نظریں اپنے شوہروں کے علاوہ کسی کے اوپر نہیں پڑیں گے (نہ پڑی ہوں گی ‘ مترجم) بیہقی نے اس تشریح کی نسبت مجاہد کی طرف کی ہے۔
لَمْ یَطْمِثْھُنَّ.... یعنی انسانی عورتوں سے کسی انسان نے اور جنی عورتوں سے کسی جن نے مباشرت نہیں کی ہوگی۔ طمث کا لغوی معنی ہے ‘ خون۔ حیض کو بھی اسی وجہ سے طمث کہتے ہیں۔
ابن ابی حاتم اور بیہقی نے بوساطت ابو طلحہ حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے : لم یطمشھن یعنی (جماع سے) ان کو خون آلود نہیں کیا ہوگا۔ یہ آیت دلالت کر رہی ہے اس امر پر کہ انسانوں کی طرح جن بھی مباشرت کرتے ہیں۔ مجاہد نے کہا : اگر بغیر بسم اللہ کہے کوئی شخص جماع کرتا ہے تو اس کے عضو مخصوص پر کوئی شیطان لپٹ جاتا ہے اور اس کے ساتھ مل کر مباشرت کرتا ہے۔ مقاتل نے آیت مذکورہ کی تفسیر میں کہا : کسی انس و جن نے ان سے مباشرت نہیں کی ہوگی کیونکہ ان کی تخلیق جنت میں ہوئی ہے۔ اس تفسیر پر قصرات الطرف سے مراد حوریں ہوگی۔
سعید بن منصور اور بیہقی نے شعبی کا قول بیان کیا ہے کہ دنیا کی عورتوں کی دوبارہ تخلیق اس طرح ہوگی ‘ جس طرح آیت : اِنَّا اَنْشَأْنَا ھُنَّ اِنْشَاءً فَجَعَلْنَاھُنَّ اَبْکَارًا عُرُباً اَتْرَابًا : میں بیان ہوا۔
یعنی تخلیق ثانوی کے بعد کسی انس و جن نے اہل جنت سے پہلے ان سے مباشرت نہ کی ہوگی۔ بغوی نے کلبی کی طرف بھی اس تشریح کی نسبت کی ہے۔
Ayah 55:57فبای الا ربکما تکذبان .
سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔ “
Ayah 55:58کانھن الیاقوت والمرجان
گویا کہ وہ یاقوت و مرجان ہیں۔
بیہقی نے ابو صالح اور سدی کا قول نقل کیا ہے۔ موتیوں کی سفیدی اور یاقوت و مرجان کی صفائی دوسرا قول آیا ہے جیسے سیپ کے اندر موتی شفاف ہوتے ہیں اور کسی کا ہاتھ ان کو نہیں چھوتا (اسی طرح وہ عورتیں صاف شفاف ہوں گی) قتادہ نے کہا : یاقوت کی شفافیت مرجان کی سفیدی کے ساتھ آمیختہ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا اس کی شکلیں چودہویں کے چاند کی طرح ہوں گی۔ نہ وہ تھوکیں گے ‘ نہ ناک کی ریزش سنکیں گے ‘ نہ براز کی ان کو ضرورت ہوگی۔ دوسری روایت میں آیا ہے ‘ وہ بیمار نہیں ہوں گے ‘ ان کے برتن اور کنگھے سونے اور چاندی کے ہوں گے ‘ ان کی انگیٹھیاں موتی کی ہوں گی ‘ ان کا پسینہ مشک کا ہوگا۔ ہر شخص کی دو بیبیاں ہوں گی ‘ جن کے حسن کی یہ حالت ہوگی کہ پنڈلیوں کے اندر کا مغز (گوشت کے شفاف ہونے کی وجہ سے) باہر سے نظر آئے گا۔ اہل جنت میں باہم اختلاف اور بغض نہ ہوگا۔ سب یکدل ہوں گے ‘ صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرنے میں مشغول رہیں گے۔
ترمذی اور بیہقی نے حضرت ابوسعید خدری کی روایت سے بیان کیا ہے اور ترمذی نے اس کو صحیح کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا وہ چودہویں کے چاند کی طرح (خوبصورت) ہوگا اور دوسرا گروہ آسمان کے حسین ترین چمک دار ستارہ کی طرح ہوگا ‘ ان میں سے ہر شخص کی دو بیبیاں ہوں گی۔ ہر بی بی (کے بدن) پر ستّر سوٹ ہوں گے اور لباس کے باہر سے پنڈلی کا مغز (انتہائی شفاف ہونے کی وجہ سے) دکھائی دے گا۔
طبرانی اور بیہقی نے حضرت ابن مسعود کا قول نقل کیا ہے کہ جس طرح سرخ شراب شیشہ کے باہر سے نظر آتی ہے اسی طرح ہر کشادہ چشم حور کی پنڈلی کا مغز ستّر لباسوں اور گوشت و ہڈی کے اندر سے نمودار ہوگا۔ بغوی نے حضرت عمرو بن میمون کی روایت سے بھی یہ حدیث اسی طرح نقل کی ہے۔
امام احمد ‘ ابن حبان اور بیہقی نے حضرت ابو سعید ؓ خدری کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت : کَاَنَّھُنَّ الْیَاقُوْتُ وَالْمَرْجَانُ کے مطلب کے ذیل میں فرمایا ‘ اس (حور) کا چہرہ پردے کے اندر سے بھی آئینہ سے زیادہ صاف دکھائی دے گا اور حور جو موتی پہنے گی اس کے بدن کا ادنیٰ موتی مشرق سے مغرب تک اجالا کر دے گا۔ حور کے بدن پر ستر لباس ہوں گے لیکن نگاہ پار ہو کر حور کی پنڈلی کے مغز کو دیکھ لے گی۔
بغوی نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ستّر ریشمی کپڑوں کے اندر جنتی عورت کی پنڈلی کا مغز دکھائی دے گا۔ اللہ فرماتا ہے : کَاَنَّھُنَّ الْیَاقُوْتُ وَالْمَرْجَانُ : یاقوت ایک پتھر ہوتا ہے اگر اس میں سوراخ کر کے کوئی ڈورا اس میں پرو دو تو باہر سے اس کو دیکھ سکتے ہیں۔ (یہی حال حور کی پنڈلی کا ہوگا) ۔
Ayah 55:59فبای الا ربکما تکذبان .
سو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔ “
Ayah 55:60ھل جزاء الاحسان الا الاحسان
بھلا انتہائی اطاعت کا بدلہ سوائے عنایت کے اور کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
ھَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ : یعنی دنیا میں نیک کام کا آخرت میں بدلہ اچھا ہی ہوگا۔ بغوی نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت : ھَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَان الاَّ الْاِحْسَان تلاوت فرمائی۔ پھر ارشاد فرمایا : جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا : اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ ہی بخوبی واقف ہیں۔ فرمایا : اللہ ارشاد فرماتا ہے ‘ جس کو میں نے توحید کی نعمت عطا کی ‘ اس کا بدلہ سوائے جنت کے اور کچھ نہیں ہے۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : جس نے لا اِلٰہ الاّ اللہ کا اقرار کیا اور جو شریعت رسول اللہ ﷺ لائے ہیں ‘ اس پر عمل کیا ‘ اس کا بدلہ سوائے جنت کے اور کچھ نہیں ہے۔
Ayah 55:61فبای الاء ربکما تکذبن .
سو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔ “
Ayah 55:62ومن دونھما جنتن
” اور ان دونوں باغوں سے کم مرتبہ دو باغ اور ہیں۔
یعنی جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہتا ہے ‘ اس کے لیے چار جنتیں ہوں گی۔ دو کا ذکر : ولمن خاف مقام ربہ جنتان میں کردیا گیا اور دو کی صراحت اس جگہ کردی۔ چونکہ اوّل الذکر دونوں جنتوں کا مرتبہ مؤخر الذکر جنتوں سے اعلیٰ تھا ‘ اس لیے چاروں کا ذکر یکجا نہیں کیا بلکہ اوّل درجہ کی جنتوں کا ذکر پہلے کردیا ‘ پھر آخری جنتوں کی صراحت کی۔
وَمِنْ دُوْنِھِمَا جَنَّتَانِ : حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یعنی پہلی دونوں جنتوں سے ترتیب میں یہ دو جنتیں نیچی ہیں۔ ابن زید نے کہا : یہ دونوں پہلی دونوں سے مرتبہ میں کم ہیں۔
حضرت ابو موسیٰ نے کہا : پہلی دونوں جنتیں سونے کی ہیں اور سابقین اوّلین کے لیے ہیں اور دوسری دونوں جنتیں ان کی پیروی کرنے والوں کے لیے ہیں اور چاندی کی ہیں۔ (رواہ الحاکم والبیہقی)
بیہقی نے حضرت ابو موسیٰ کی روایت سے حدیث مذکور اس طرح بھی بیان کی ہے کہ پہلی دونوں جنتیں سونے کی سابقین کے لیے ہیں اور دوسری دو جنتیں اصحاب الیمین (دائیں طرف والوں) کے لیے۔ (کذا ذکر البغوی قول ابن جریج)
بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ اللہ کا عرش پانی پر تھا پھر اللہ نے اپنے لیے جنت بنائی۔ پھر اس میں دوسری جنت بنا دی۔ پھر اس کو ایک موتی سے ڈھانپ دیا اور کہا : وَمِنْ دُوْنِھِمَا جَنَّتَانِ ۔
بقول بغوی ‘ کسائی نے مِنْ دُوْنِھِمَا کا ترجمہ کیا ہے ‘ ان دونوں کے سامنے ‘ دونوں کے مقابل۔
ضحاک کا قول ہے کہ دو جنتیں سونے کی ہیں اور دوسری دونوں یاقوت کی۔ یہ قول بھی دلالت کر رہا ہے کہ مِنْ دُوْنِ سے مراد (کم مرتبہ نہیں بلکہ) سامنے اور مقابل ہے (کیونکہ یاقوت کی جنتیں سونے کی جنتوں سے کم مرتبہ نہیں ہوسکتیں) ۔
Ayah 55:63فبای الا ربکما تکذبن .
سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔ “
Ayah 55:64مدھا متن ” وہ دونوں باغ گہرے (سر) سبز ہوں گے۔ مُدْھَآمَّتٰنِ : اتنے سبز کہ انتہائی سبزی کی وجہ سے مائل بہ سیاہی ہوجائیں۔
یہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ ان دونوں باغوں میں سبزی اور زمین پر پھیلی ہوئی بیلوں کی کثرت ہوگی ‘ جس طرح اوّ ل الذکر دونوں باغوں میں درختوں اور پھلوں کی فراوانی ہوگی اور ظاہر ہے کہ اول الذکر باغوں کو مؤخر الذکر باغوں پر اسی وجہ سے برتری ہوگی۔
Ayah 55:65فبای الا ربکما تکذبن .
سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔ “
Ayah 55:66فیھما عینین نضاختن
ان دونوں باغوں میں دو اچھلتے چشمے ہوں گے
نَضَّاخَّتٰنِ : اچھلتے ہوئے یعنی فوارے۔ اس لفظ سے بھی معلوم ہو رہا ہے کہ اوّل الذکر دونوں باغ ان دونوں باغوں سے برتر اور مرتبہ میں بڑھ کر ہوں گے۔ کیونکہ اوّل الذکر باغوں میں جو چشمے ہیں وہ (اوپر یعنی عرش سے) بہتے ہوئے آ رہے ہوں گے اور مؤخر الذکر دونوں باغوں میں جو چشمے ہیں وہ نیچے سے اچھلتے اور جوش مارتے ہیں۔
ابن ابی حاتم نے براء بن عازب کا قول نقل کیا ہے کہ بہنے والے چشمے اچھلے ابلتے چشموں سے برتر ہیں۔
Ayah 55:67فبای الا ربکما تکذبن .
‘ سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔ “
Ayah 55:68فیھما فاکھۃ و نخل و رمان
ان دونوں باغوں میں میوے اور کھجوریں اور انار ہوں گے۔
بعض علماء نے اسی آیت کو سامنے رکھ کر کہا ہے کہ درخت خرما کے پھل (یعنی کھجوریں ‘ چھوارے) اور انار فا کہہ نہیں ہیں۔ حرف عطف ‘ معطوف علیہ اور معطوف کی مغایرت پر دلالت کر رہا ہے (اصل یہی ہے کہ معطوف ‘ معطوف علیہ سے غیر ہوتا ہے اس لیے نخل و رومان فاکہہ سے الگ چیزیں ہیں۔ فاکہہ کے ذیل میں داخل نہیں ہیں) درخت خرما کا پھل (تازہ ہو یا خشک) محض غذا ہے اور اناردوا ہے اور فاکہہ وہ چیز ہوتی ہے جس کا مقصد صرف لذت ذوق ہوتا ہے۔ اسی لیے امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا ہے کہ اگر کسی نے قسم کھائی اور کہا میں فاکہہ نہیں کھاؤں گا اور کھجور یا انار کھالیا تو قسم نہیں ٹوٹے گی۔ لیکن اکثر علماء کھجور اور انار کو فاکہہ میں شمار کرتے ہیں۔ فاکہہ کا لفظ عام ہے اور کھجور اور انار اس کی خاص قسمیں ہیں اور عام پر خاص کا عطف ‘ معطوف کی فضیلت و اہمیت ظاہر کرنے کے لیے کردیا جاتا ہے جیسے جبرئیل اور میکائیل کا عطف ملائکہ پر کردیا جاتا ہے۔
بغوی نے حضرت ابن عباس کا قول بیان کیا ہے کہ جنت کے کھجور کے درختوں کے تنے سبز زمرد کے اور پتے سرخ سونے کے ہوں گے ‘ ان کے ریشوں سے اہل جنت کے لباس اور جوڑے بنائے جائیں گے۔ ان کے پھل مٹکوں یا ڈولوں کے برابر ہوں گے ‘ دودھ سے زیادہ سفید ‘ شہد سے زیادہ میٹھے اور مکھن سے زیادہ نرم ہوں گے ‘ ان کے اندر گٹھلی نہیں ہوگی۔
ابن ابی الدنیا نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جنت کے ایک چھوارے کی لمبائی بارہ ہاتھ ہوگی اور اس کے اندر گٹھلی نہیں ہوگی ‘ یہ بھی حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ جنت کے ایک انار کے گردا گرد بہت سے آدمی جمع ہو کر سب مل کر اس کو کھائیں گے ‘ اگر کھانے کے لیے کسی کی زبان پر کسی چیز کا ذکر آجائے گا تو فوراً وہ چیز مل جائے گی۔
ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں نے جنت میں انار (اتنا بڑا) دیکھا کہ جیسے اونٹ جس پر پالان کسا ہوا ہو۔
Ayah 55:69فبای الا ربکما تکذبن . ” سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔ “
Ayah 55:70فیھن خیرات حسان
ان میں خوب سیرت ‘ خوبصورت عورتیں (یعنی حوریں) ہوں گی
فِیْھِنَّ : یعنی ان دونوں باغوں کے مکانوں اور محلات میں۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حسن نے اپنے باپ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت امّ سلمہ ؓ نے فرمایا : میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ خدا تعالیٰ کے فرمان : فِیْھِنَّ خَیْرٰتٌ حِسَانٌ : کا مطلب مجھے بتائیے۔ فرمایا : خوش سیرت ‘ خوب صورت۔ (رواہ الطبرانی)
حضرت ابن مبارک نے اوزاعی کا قول نقل کیا ہے : خوبصورت جو فحش زبان نہیں ہونگی ‘ مغرور نہیں ہونگی اور دکھ نہیں دینگی۔
Ayah 55:71فبای الاء ربکما تکذبن . ”‘ سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔ “
Ayah 55:72حور مقصورٰت فی الخیام
وہ عورتیں گورے رنگ کی ہوں گی (اور خیموں میں محفوظ ہوں گی
حور ‘ حوراء حوراء اس عورت کو کہتے ہیں جس کی آنکھوں کا حدقہ (پتلی) خوب سیاہ ہو اور سفیدی بجائے خود خوب سفید اور سیاہی بجائے خود خوب سیاہ ہو اور پلک چمکدار ہوں اور پلکوں کے گر داگرد سفیدی ہو اور بدن گورا ہو یا پوری آنکھ ہرن کی طرح چمکیلی سیاہ ہو ‘ ایسی آنکھ انسان کی نہیں ہوتی۔ مجازاً اس کا استعمال عورتوں کے لیے کیا جاتا ہے۔ (کذا فی القاموس)
طبرانی نے حضرت ابو امامہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حورعین کی بدنی ساخت زعفران سے کی گئی ہے۔ اسی طرح یہ حدیث بیہقی نے حضرت انس کی روایت سے مرفوعاً اور حضرت ابن عباس ؓ و مجاہد کی روایت سے موقوفاً نقل کی ہے۔
ابن مبارک کا بیان ہے کہ زید بن اسلم نے کہا : اللہ تعالیٰ حورعین کو مٹی سے نہیں پیدا کرتا بلکہ ان کی ساخت مشک و کافور اور زعفران کی ہے۔
ابن ابی الدنیا نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر حور سمندر میں تھوک دے تو سارے سمندر شہد سے زیادہ میٹھے ہوجائیں۔
حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ اہل جنت کی عورتوں میں سے اگر کوئی عورت سات سمندروں میں تھوک دے تو سارے سمندر شہد سے زیادہ میٹھے ہوجائیں۔
حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنت کے اندر اتنی مقدار جنتی تم میں سے کسی کی کمان کے نصف وتر کی ہوتی ہے دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور جنت کی عورتوں میں سے کوئی عورت زمین کی طرف جھانک لے تو (زمین تک ساری درمیانی مسافت) روشن ہوجائے اور خوشبو سے بھر جائے اور اس کے سر کی اوڑھنی دنیا اور موجودات سے بہتر ہے۔ (رواہ البخاری)
ابن ابی الدنیا نے کعب کا قول نقل کیا ہے کہ اگر حور کا ایک ہاتھ آسمان سے نیچے کی طرف لٹکا دیا جائے تو ساری زمین اس کی وجہ سے ایسی روشن ہوجائے جیسے سورج دنیا والوں کے لیے چمکتا ہے۔
مَقْصُوْرٰتٌ فِی الْخِیَامِ : چھپی ہوئی محفوظ مسہریوں میں۔
بغوی نے (مقصورات کے معنی کی تشریح کرتے ہوئے) لکھا ہے کہ وہ حوریں جنہوں نے اپنی نظریں صرف اپنے شوہروں پر منحصر اور مقصور کر رکھی ہوں گی ‘ شوہروں کے علاوہ دوسروں پر وہ نگاہ بھی نہیں ڈالیں گی۔ بیہقی نے مجاہد کا قول بیان کیا ‘ مقصورات یعنی خیموں کے اندر بند اور محفوظ ہوں گی ‘ وہاں سے نہیں ہٹیں گی اور خیمہ موتی اور چاندی کا ہوگا۔
بیہقی نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : شب معراج میں جنت کے اندر ایک جگہ پہنچا ‘ جس کو بیدح کہا جاتا ہے ‘ وہاں موتی ‘ زبرجد ‘ سبز اور یاقوت سرخ کے خیمے ہیں (اندر سے حوروں نے کہا :) السلام علیک یا رسول اللہ ! میں نے کہا : جبرئیل ! یہ آواز کیسی ہے (جس نے مجھے خطاب کیا) جبرئیل ( علیہ السلام) نے کہا : یہ خیموں کے اندر مستور حوریں ہیں ‘ انہوں نے اپنے رب سے آپ ﷺ کو سلام کرنے کی اجازت مانگی تھی ‘ اللہ نے ان کو اجازت دے دی۔ حوریں کہنے لگیں : ہم (ہمیشہ) رضامند رہیں گی ‘ کبھی ناراض نہیں ہوں گی۔ ہم یہاں ہمیشہ رہیں گی ‘ کبھی (یہاں سے) کوچ نہیں کریں گی (یہ بیان کرنے کے بعد) حضور ﷺ نے حور مقصورات فی الخیام پڑھا۔ بغوی نے حضرت عبداللہ بن قیس کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنت کے اندر ایک خیمہ ہے ‘ کھوکھلے موتی کا ‘ جس کی چوڑائی ساٹھ میل ہے ‘ اس کے ہر گوشے میں رہنے والے دوسروں کو (یعنی دوسرے گوشہ میں رہنے والوں کو) نظر نہیں آتے۔ اہل ایمان ان سب کا دورہ کریں گے (یعنی یہ سب مؤمنوں کے زیر حکم ہوں گے) صحیحین میں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کی روایت سے بھی اسی طرح کی حدیث آئی ہے۔
ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا کہ خیمہ ایک کھوکھلے موتی کا ہوگا۔ ایک فرسخ چوڑا اور ایک فرسخ لمبا ہوگا ‘ اس کے چار ہزار کواڑ ہوں گے ‘ سونے کے۔
ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : خیمے کھوکھلے موتی کے ہوں گے۔ حضرت عمر کی موقوف حدیث بھی اسی طرح آئی ہے۔ ابن جریر نے ابو مجلز کی مرسل حدیث بھی ایسی ہی نقل کی ہے۔
ابن ابی حاتم نے حضرت ابو درداء کی روایت سے بیان کیا ہے کہ خیمہ ایک موتی کا ہوگا ‘ جس میں موتی کے ستّر دروازے ہونگے۔
ہناد نے حضرت عمرو ؓ بن میمون کا قول نقل کیا ہے کہ خیمہ کھوکھلے موتیوں کا ہوگا۔
مجاہد اور ابن احوص کی روایت بھی اسی طرح ہے۔ ابن ابی حاتم اور ابن ابی الدنیا نے حضرت ابن مسور کا قول نقل کیا ہے کہ ہر مسلم کا ایک منتخب پسندیدہ مقام ہوگا اور ہر پسندیدہ مقام میں ایک خیمہ ہوگا اور ہر خیمہ کے چار دروازے ہوں گے اور ہر دروازہ سے ہر روز ایک تحفہ اور ہدیہ داخل ہوگا ‘ جو اس سے پہلے نہ آیا ہوگا (یعنی نو بنو حوریں ہوں گی) نہ اترانے والیاں ہوں گی ‘ نہ غرور کرنے والیاں ‘ نہ گندہ بغل ‘ نہ گندہ دہن۔ حُوْرٌ عِیْنٌ کَاَنَّھُنَّ بَیْضٌ مَّکْنُوْنٌ۔
فائدہ دنیا کی عورتیں حوروں سے بہتر ہوں گی۔ بیہقی نے بیان کیا کہ حضرت امّ سلمہ ؓ نے فرمایا ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ دنیا کی عورتیں اعلیٰ ہیں یا حوریں ؟ فرمایا : دنیا کی عورتیں حورعین سے ایسی ہی افضل ہیں جیسا ابراء ‘ استر سے اعلیٰ ہے۔ میں نے عرض کیا : ایسا کس وجہ سے ہے ؟ فرمایا : ان کے نماز ‘ روزے کی وجہ سے ہے ‘ اللہ ان کے چہروں کو نور کا لباس پہنا دے گا (نورانی کر دے گا) اور ان کے جسموں کو ریشم کا لباس پہنا دے گا ‘ ان کے رنگ گورے ‘ کپڑے سبز اور زیور زرد ہوں گے ‘ ان کی انگیٹھیاں موتی کی اور کنگھیاں سونے کی ہوں گی ‘ وہ کہیں گی ہم ہمیشہ رہنے والیاں ہیں۔ ہم کبھی بھی نہیں مریں گی ‘ ہم آرام پروردہ ہیں ‘ کبھی دکھی نہیں ہوں گی ‘ ہم یہاں ہمیشہ مقیم رہیں گی ‘ کبھی یہاں سے کوچ نہیں کریں گی ‘ ہم ہمیشہ رضامند رہنے والیاں ہیں ‘ کبھی ناراض نہیں ہوں گی ‘ خوش ہو اس کے لیے جس کے لیے ہم ہیں اور جو ہمارے لیے ہے ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ اگر کسی عورت نے دو یا تین یا چار شوہر کیے ہوں اور پھر مرجائے اور جنت میں چلی جائے اور اس کے سب شوہر بھی جنت میں چلے جائیں تو وہ کس شوہر کی بی بی ہوگی ؟ فرمایا : اس کو اختیار دیا جائے گا (جس کی زوجیت میں چاہے داخل ہوجائے) اور وہ اس شوہر کی زوجیت کو پسند کرے گی جو دنیا میں سب سے اچھے اخلاق والا تھا۔ حضرت امّ سلمہ نے فرمایا : خوش اخلاقی دنیا اور دین کی ساری بھلائیوں پر غالب آگئی۔
ہناد کا بیان ہے کہ حبان بن جبلہ نے فرمایا : اہل جنت کی عورتیں جب جنت میں داخل ہوں گی تو حوروں سے ان کا مرتبہ اپنے اعمال دنیویہ کی وجہ سے افضل ہوگا۔
Ayah 55:73فبای الا ربکما تکذبٰن
سو اے جن و انس تم
اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے
Ayah 55:74لم یطمثھن انس قبلھم ولاجان
اور ان (جنتی آدمیوں) سے پہلے ان عورتوں پر نہ کسی آدمی نے تصرف کیا ہوگا نہ کسی جن نے
Ayah 55:75فبای الا ربکما تکذبان . ”“ سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔ “
Ayah 55:76متکین علی زفرف خضر و عبقری حسان
وہ لوگ سبز مشجر اور عجیب خوب صورت کپڑوں (کے فرشوں) پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے
صاحب قاموس نے لکھا ہے زفرف سبز کپڑا جس سے بیٹھنے کی چیزیں اور بستر اور فرش اور تکیے ‘ گدیاں بنائی جاتی ہیں۔ صحاح میں ہے کہ زفرف ایک خاص قسم کا کپڑا ہے جو باغ کے مشابہ ہوتا ہے (فارسی میں ایسے کپڑے کے فرش کو بہار کہتے ہیں ‘ مترجم) بعض نے کہا : خیموں اور چھولداریوں کے جو کنارے زمین پر پڑے ہوتے ہیں ‘ ان کو رفرف کہا جاتا ہے۔
بیہقی نے بطریق ابو طلحہ بیان کیا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے رَفْرَفٍ خُضْرٍ کی تشریح میں فرمایا : مجالس (بیٹھنے کی جگہ) ہناد اور بیہقی نے لکھا ہے کہ سعید بن جبیر نے ( رفرف خضر کی تشریح میں) کہا : جنت کے باغ۔ بغوی نے لکھا ہے کہ بعض لوگوں نے اس کا ترجمہ کیا ہے : بستر ‘ بچھونے۔ حسن ‘ مقاتل اور قرطبی کا یہی قول ہے۔
عوفی نے کہا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : زفرف مجالس اور بستروں کا زائد حصہ (یعنی جھالر وغیرہ) قتادہ نے کہا : فرش کے اوپر جو سبز مجالس (یعنی چاندی یا قالین یا مسند وغیرہ) بچھائی جاتی ہیں وہ رفرف خضر ہیں۔
ابن کیسان نے ترجمہ کیا : کہنی ٹیکنے کے تکئے (جن پر کہنی ٹیکی جاتی ہے) ابن عینیہ نے ترجمہ کیا : مسندیں۔
بعض نے کہا : ہر عریض کپڑے کو عرب رفرف کہتے ہیں۔
وَّ عَبْقَرِیٍّ : صاحب قاموس نے لکھا ہے عبقر ایک جگہ تھی جہاں جنات کی کثرت تھی اور وہاں کے کپڑے نہایت حسین ہوتے تھے ‘ عبقری ہر کامل چیز۔ سردار قوم اور وہ چیز جس سے بالا اور کوئی چیز نہ ہو اور ایک خاص قسم کا فرش ‘ بستر۔
بیضاوی نے لکھا ہے عبقری ‘ عبقر کی طرف منسوب ہے۔ عرب کے خیال میں عبقر ایک شہرکا نام تھا۔ جہاں جنات کی آبادی تھی (یعنی جنات کے شہر کا نام عبقر تھا) پھر عرب ہر عمدہ عجیب چیز کو اس (موہوم) شہر کی طرف منسوب کرنے لگے۔
بیہقی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : عبقری حسان (یعنی) مسندیں قبتیبی نے کہا : ہر منقش کپڑے (چھینٹ وغیرہ) کو عرب عبقری کہتے ہیں۔ ابو عبیدہ نے کہا : عبقری اس مقام کی طرف منسوب ہے جہاں کپڑے پر نقاشی کا کام ہوتا تھا۔ خلیل نے کہا : ہر بزرگ اعلیٰ نفیس آدمی وغیرہ کو عرب عبقری کہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر ؓ کے متعلق فرمایا تھا : میں نے ایسا کوئی عبقری نہیں دیکھا جو اس کی طرح کارنامے انجام دیتا ہو۔
Ayah 55:77فبای الاء ربکما تکذبان
”‘ سو اے جنس و انس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔
Ayah 55:78تبرک اسم ربک ذی الجلال والاکرام .
بڑا بابرکت نام ہے آپ ﷺ کے رب کا جو عظمت والا اور احسان والا ہے۔ “
تَبَارَکَ اسْمُ.... یعنی اللہ کا نام جو اس کی ذات پر دلالت کرتا ہے۔ بڑا بابرکت ہے تو اس کی ذات کا کیا ٹھکانا۔ بعض کے نزدیک اسم سے مراد صفت ہے۔ بعض کا کہنا ہے کہ لفظ اسم زائد ہے۔ بغوی نے اپنی سند سے لکھا ہے کہ حضرت عائشہ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ جب نماز کا سلام پھیر چکتے تو (اس کے بعد) صرف اتنی دیر بیٹھے رہتے تھے کہ : اللّٰھم انت السلام و منک السلام تبارکت یا ذوالجلال والاکرام پڑھ لیتے تھے (پھر اٹھ جاتے تھے) ۔
مسلم کی روایت بھی یہی ہے۔
الحمد اللہ سورة الرحمن کی تفسیر کا ترجمہ ختم ہوا