52. Surah At-Tur

الطورThe Mount · 49 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 52:41

اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَؕ Open ayah 52:41 in the Quran reader

یا ان کے پاس غیب (کا علم) ہے کہ وہ اسے لکھ لیتے ہیں

ام عندھم الغیب فھم یکتبون . کیا ان کے پاس غیب (کا علم) ہے کہ یہ لکھ لیا کرتے ہیں۔ اَمْ عِنْدَھُمُ الْغَیْبُ : حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : الغیب سے مراد لوح محفوظ ہے جس کے اندر تمام مغیبات کا اندراج ہے۔ فَھُمْ یَکْتُبُوْنَ : کہ اس سے یعنی لوح محفوظ سے وہ لکھ لیا کرتے ہیں۔ بعض علماء نے کہا : مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ جو حشر ‘ قیامت اور اخروی عذاب وثواب کا عقیدہ لے کر آئے ہیں اور ان غیبی امور کا ذکر کر رہے ہیں جن کا وقوع ممکن بلکہ برہان و دلیل کی روشنی میں واجب و ضروری ہے تو کیا ان منکروں کا علم غیب ہے کہ غائب امور کا ذکر جو رسول اللہ ﷺ کر رہے ہیں ‘ ان کو اس کا غلط ہونا معلوم ہے ‘ اسی لیے یہ ان امور کا انکار کر رہے ہیں۔ قتادہ نے کہا : یہ جواب ہے کافروں کے قول کا۔ کافروں نے کہا تھا : نَتَرَبَّصُ بِہٖ رَیْبَ الْمَنُوْنَِ ۔ اللہ نے اس کا جواب دیا کیا ان کو علم غیب ہے کہ محمد ﷺ ان سے پہلے مرجائیں گے اور ان کا کوئی نشان بھی باقی نہیں رہے گا۔ اس تفسیر پر فَھُمْ یَکْتُبُوْنَ کا ترجمہ ہوگا کہ وہ حکم لگا رہے ہیں۔ کتاب بمعنی حکم آتا ہے۔ [ کذا قال القعنبی ]
Ayah 52:42

اَمْ یُرِیْدُوْنَ كَیْدًا١ؕ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا هُمُ الْمَكِیْدُوْنَؕ Open ayah 52:42 in the Quran reader

کیا یہ کوئی داؤں کرنا چاہتے ہیں تو کافر تو خود داؤں میں آنے والے ہیں

ام یریدون کیدا فالذین کفروا ھم المکیدون . کیا یہ لوگ کچھ برائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ‘ سو یہ کافر خود ہی اس برائی میں گرفتار ہوں گے۔ یعنی کیا یہ لوگ کوئی سازش کر رہے ہیں کہ آپ کو ہلاک کردیں۔ دارالندوہ میں بیٹھ کر کافروں نے رسول اللہ ﷺ کو شہید کردینے کی سازش کی تھی۔ اسی سازش کے متعلق اللہ نے خبر دی تھی۔ وَاِذْ یَمْکُرُبِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْکَ اَوْ یَقْتُلُوْکَ اَوْ یُخْرِجُوْکَ وَ یَمْکُرُوْنَ وَ یَمْکُرُ اللہ وَ اللہ ُ خَیْرُ الْمٰکِرِیْنَ ۔ فَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا ھُمْ الْمَکِیْدُوْنَ : یعنی سازش کرنے والوں کی سازش انہی پر لوٹ پڑے گی اور سازش کی سزا انہی کو بھگتنی ہوگی۔ چناچہ بدر کے دن وہ سازشی لوگ مارے گئے اور مرنے کے بعد عذاب میں مبتلا ہونا تو یقینی ہی ہے۔ یا المکیدون کا مطلب یہ ہے کہ انہیں کو سازش گھیر لے گی اور ہلاک کر دے گی۔
Ayah 52:43

اَمْ لَهُمْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 52:43 in the Quran reader

کیا خدا کے سوا ان کا کوئی اور معبود ہے؟ خدا ان کے شریک بنانے سے پاک ہے

ام لھم الہ غیر اللہ سبحان اللہ عما یشرکون . کیا ان کا سوائے اللہ کے کوئی اور معبود ہے ‘ اللہ ان کے شرک سے پاک ہے۔ اَمْ لَھُمْ اِلٰہٌ : کیا اللہ کے سواء کوئی اور ان کا معبود ہے جو ان کی مدد کرسکے ‘ رزق دے سکے اور اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ سُبْحٰنَ اللہ ِ.... یعنی اللہ ان کی شرک آفرینیوں سے پاک ہے یا جس چیز کو یہ اللہ کا شریک قرار دیتے ہیں ‘ اس کی شرکت سے اللہ پاک ہے۔ خلیل نے کہا : اس سورت میں جہاں لفظ اَم آیا ہے وہ عاطفہ نہیں ہے بلکہ استفہام انکاری کے معنی میں ہے۔
Ayah 52:44

وَ اِنْ یَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَآءِ سَاقِطًا یَّقُوْلُوْا سَحَابٌ مَّرْكُوْمٌ Open ayah 52:44 in the Quran reader

اور اگر یہ آسمان سے (عذاب) کا کوئی ٹکڑا گرتا ہوا دیکھیں تو کہیں کہ یہ گاڑھا بادل ہے

وان یروا کسفا من السماء ساقطا یقولوا سحبا مرکوم . اور اگر وہ آسمان کے ٹکڑے کو دیکھ لیں کہ گرتا ہوا آ رہا ہے تو کہیں گے یہ تو تہ بر تہ جما ہوا بادل ہے۔ کِسْفٌ : ایک ٹکڑا۔ مشرکوں نے کہا تھا : فَاَسْقِطْ کِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ : ہم پر آسمان سے عذاب کا ایک ٹکڑا گرا دو اگر سچے ہو ‘ اس کے جواب میں اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اگر ان پر اوپر سے عذاب کا کوئی ٹکڑا آ بھی جائے تو اس کو تہ بر تہ بادل قرار دیں گے جیسے قوم عاد نے جب سامنے سے بادل آتا دیکھا تھا تو کہا تھا یہ ابر باران ہے اس سے ہم پر بارش ہوگی۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ اگر اوپر سے ہم عذاب کا کوئی ٹکڑا بشکل ابر گرا بھی دیں تب بھی یہ کفر سے باز نہیں آئیں گے آخر ہلاک کردیئے جائیں گے لیکن مصلحتِ الٰہیہ نہیں چاہتی کہ ان کا استیصال کردیا جائے اس لیے آسمان سے عذاب نازل نہیں کیا گیا۔ سَحَابٌ مَّرْکُوْمٌ : تہ بر تہ بادل۔
Ayah 52:45

فَذَرْهُمْ حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ فِیْهِ یُصْعَقُوْنَۙ Open ayah 52:45 in the Quran reader

پس ان کو چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ روز جس میں وہ بےہوش کردیئے جائیں گے، سامنے آجائے

فدرھم حتی یلقوا یومھم الذی فیہ یصعقون تو آپ ان کو رہنے دیجئے یہاں تک کہ ان کو اپنے اس دن سے سابقہ ہو جس میں ان کے ہوش اڑ جائیں گے فَذَرْھُمْ : ان کو چھوڑ دیجئے یعنی ان پر عذاب نازل ہونے کی درخواست نہ کیجئے۔ یَوْمَھُمْ : یعنی یوم عذاب یعنی جس روز کہ اللہ ان کو ہلاک کر دے گا۔ بیضاوی نے لکھا ہے اس سے مراد ہے پہلی بار صور پھونکنے کا دن۔ میں کہتا ہوں یہ تشریح غلط ہے کیونکہ ان مشرکوں کو نفخۂ اوّل تک چوڑے رکھنے کا کوئی معنی نہیں ہیں بلکہ یوم موت مراد ہے۔ یعنی موت کے دن تک ان کو چھوڑ دیجئے۔ شَیْءًا : یہ مفعول مطلق ہے یعنی کسی قسم کا فائدہ (مفعول بہ نہیں ہے) ۔
Ayah 52:46

یَوْمَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ كَیْدُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَؕ Open ayah 52:46 in the Quran reader

جس دن ان کا کوئی داؤں کچھ بھی کام نہ آئے اور نہ ان کو (کہیں سے) مدد ہی ملے

یوم لا یغنی عنھم کیدھم شیئا ولا ھم ینصرون جس روز کہ ان کی تدبیریں ان کے کچھ بھی کام نہیں آئیں گی اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔ وَلَاھُمْ یُنْصَرُوْنَ : یعنی اللہ کے عذاب سے ان کو بچایا نہیں جائے گا (کوئی ان کا مددگار نہ ہوگا) ۔ یَوْمَ لَا یُغْنِیْ : یَوْمَھُمْ سے بدل ہے۔
Ayah 52:47

وَ اِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا عَذَابًا دُوْنَ ذٰلِكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 52:47 in the Quran reader

اور ظالموں کے لئے اس کے سوا اور عذاب بھی ہے لیکن ان میں کے اکثر نہیں جانتے

وان للذین ظلموا عذابا دون ذلک ولکن اکثرھم لا یعلمون . اور ان ظالموں کے لیے قبل اس (عذاب) کے اور عذاب بھی ہونے والا ہے لیکن ان میں سے اکثر کو معلوم نہیں۔ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا : عام ظالم مراد ہیں یا مخصوص افراد دونوں قول صحیح ہیں۔ عَذَابًا دُوْنَ ذٰلِکَ : یعنی مرنے سے پہلے دنیا ہی میں ان پر عذاب آجائے گا۔ حضرت ابن عباس کے نزدیک عَذَابًا دُوْنَ ذٰلِکَ سے مراد ہے بدر کے دن کافروں کا مارا جانا۔ مجاہد کے نزدیک بھوک اور ہفت سالہ قحط مراد ہے۔ حضرت براء ؓ ابن عازب نے کہا : عذاب قبر مراد ہے۔ میں کہتا ہوں یہ مطلب اس وقت صحیح ہوگا جب یومھم سے مراد نفخۂ اولیٰ کا دن مانا جائے (کیونکہ عذاب قبر نفخۂ اولیٰ سے پہلے ہوگا ‘ یوم موت سے پہلے نہیں ہوسکتا) ۔
Ayah 52:48

وَ اصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْیُنِنَا وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ Open ayah 52:48 in the Quran reader

اور تم اپنے پروردگار کے حکم کے انتظار میں صبر کئے رہو۔ تم تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہو اور جب اُٹھا کرو تو اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کیا کرو

واصبر لحکم ربک فانک باعیینا و سبح بحمد ربک حین تقوم اور آپ اپنے رب کی اس تجویز پر صبر سے بیٹھے رہئے کہ آپ ہماری حفاظت میں ہیں اور مجلس سے یا بستر خواب سے اٹھتے وقت اپنے رب کی تسبیح وتحمید کیا کیجئے وَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ : حکم رب پر صبر رکھنے کے یہ معنی ہیں کہ ان کو مہلت دو ۔ اللہ نے ان کو ڈھیل دی ہے تم بھی اس پر صبر کرو۔ بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا ہم نے ان کے عذاب کا حکم دے دیا ہے۔ آپ وقوع عذاب تک صبر کریں۔ فَاِنَّکَ بِاَعْیَنِنَا : زجاج نے کہا یعنی آپ ایسے مقام پر ہیں کہ ہم آپ کو دیکھ رہے ہیں اور آپ کی حفاظت کر رہے ہیں۔ یہ لوگ آپ کو کوئی دکھ نہیں پہنچا سکیں گے۔ خلاصہ یہ کہ آپ ہماری حفاظت میں ہیں۔ اَعْیُنْ ‘ عَیْنٌ کی جمع ہے۔ نا جمع متکلم کی ضمیر اظہار عظمت کے لیے استعمال کی اور جمع متکلم کے لحاظ سے اعین کو بھی بصیغۂ جمع ذکر کیا یا یوں کہا جائے کہ اعین کو بصورت جمع مبالغہ کے لیے ذکر کیا اور یہ بتایا کہ ہمارے پاس آپ کی حفاظت کے بہت سے اسباب ہیں۔ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ حِیْنَ تَقُوْمُ : سعید بن جبیر اور عطاء نے کہا مجلس سے اٹھنے کا وقت مراد ہے یعنی جب اپنی مجلس سے تم اٹھا کرو تو اس وقت پڑھا کرو۔ سبحٰنک اللّٰھمَّ وبحمدک . پس اگر وہ مجلس خیر کی مجلس تھی تو اس کی خیر میں اضافہ ہوجائے گا اور اگر اس مجلس میں کوئی بری بات ہوگی تو یہ تسبیح وتحمید اس کا کفارہ ہوجائے گی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص کسی شور و شر کی جگہ بیٹھا ہو پھر اٹھنے سے پہلے کہے : سبحٰنک اللّٰھم وبحمدک اشھد ان لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک : (اے اللہ میں تیری پاکی کا اقرار کرتا ہوں اور تیری ثناء کرتا ہوں ‘ میں شہادت دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ‘ میں تجھ سے گناہ کی معافی چاہتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں) تو جو کچھ مجلس میں ہوا ہوگا یہ دعا اس کا کفارہ ہوجائے گی۔ رواہ البغوی بیہقی نے دعوات کبیر میں اور ترمذی نے کان کفارۃ کی بجائے غفرلہ ما کان فی مجلسہ کے الفاظ نقل کیے ہیں۔ حضرت رافع بن خدیج راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی عمر کے آخر دور میں جب صحابہ ؓ حضور ﷺ کے پاس جمع ہوتے اور آپ ﷺ مجلس سے اٹھنے کا ارادہ کرتے تو کہتے تھے : سبحان اللہ وبحمدک اشھد ان لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک عملت سوءً ا (یا فرماتے :) ظلمت نفسی فاغفرلی انہ لا یغفر الذنوب الا انت۔ ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ الفاظ تو آپ ﷺ نئے فرماتے ہیں۔ پہلے تو مجلس سے اٹھتے وقت یہ الفاظ نہیں کہتے تھے۔ فرمایا : ہاں ! میرے پاس جبرئیل (علیہ السلام) آئے تھے اور کہا تھا : محمد ﷺ یہ (الفاظ) مجلس (کی بری باتوں) کا کفارہ ہیں۔ (رواہ النسائی) حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے۔ طبرانی نے تینوں معاجم میں اس کو مختصر نقل کیا ہے۔ (بعض اہل تفسیر کے نزدیک مجلس خیر کے آخر میں پڑھنا مراد ہے) حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص نے فرمایا : چند الفاظ ہیں جو کوئی مجلس خیر اور مجلس ذکر (کے آخر) میں ان کو پڑھے گا اس کے لیے یہ (مجلس کی) مہر بن جائیں گے جیسے کسی تحریر پر مہر لگا دی جاتی ہے۔ الفاظ یہ ہیں : سبحانک اللھم وبحمدک لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک . [ رواہ ابوداؤد ابن حبان فی صحیحہ ] حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو لوگ کسی ایسی مجلس میں بیٹھیں جس میں نہ اللہ کا ذکر کریں ‘ نہ نبی ﷺ پر درود پڑھیں تو یہ بیٹھنا ان کے لیے گناہ ہوگا۔ اللہ چاہے گا عذاب دے گا اور چاہے گا معاف کر دے گا۔ (رواہ ابوداؤد والترمذی حسنہ و ابن ابی الدنیا والبیہقی) ابوداؤد کی روایت میں آیا ہے جو شخص کسی جگہ بیٹھے اور اس میں اللہ کا ذکر نہ کرے تو اللہ کی طرف سے یہ بیٹھک موجب انتقام ہوگی اور جو کسی جگہ لیٹے اور اللہ کی یاد نہ کرے تو یہ لیٹنا اللہ کی طرف سے باعث انتقام ہوگا اور جو شخص ایسے راستہ میں چلے جن میں اللہ کی یاد نہ کرے تو یہ چلنا اللہ کی طرف سے موجب انتقام ہوگا۔ یعنی اللہ ایسے بیٹھنے اور لیٹنے اور چلنے سے نفرت کرتا ہے اور پسند نہیں کرتا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : آیت میں سو کر اٹھنے کے بعد نماز پڑھنا مراد ہے۔ ضحاک اور ربیع نے کہا مطلب یہ ہے کہ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو کہو : سبحٰنک اللھم وبحمدک و تبارک اسمک و تعالیٰ جدک ولا الہ غیرک . (رواہ ابوداؤد والترمذی و رواہ ابن ماجہ عن ابی سعید) ترمذی نے کہا : یہ حدیث ہم کو صرف حارثہ کی روایت سے معلوم ہوئی اور حارثہ کی قوّت حافظہ میں کلام کیا گیا ہے۔ کلبی نے کہا : بستر سے اٹھ کر نماز شروع کرنے کے وقت تک زبان سے ذکر خدا کرنا مراد ہے۔ حامد بن حمید کا بیان ہے میں نے امّ المؤمنین حضرت عائشہ ؓ سے دریافت کیا : رسول اللہ ﷺ جب رات کو (بستر سے) اٹھتے تھے تو سب سے پہلے کیا کام کیا کرتے تھے۔ فرمایا : جب حضور ﷺ اٹھتے تھے تو دس مرتبہ اللہ اکبر ‘ دس بار الحمد اللہ اور دس بار استغفر اللہ کہتے تھے اور کہتے تھے : اللھم اغفرلی واھدنی وارزقنی و عافنی اور قیامت کے دن جائے قیام کی تنگی سے (اللہ کی) پناہ چاہتے تھے۔ ابوداؤد نے شریق ہوزلی کی وساطت سے حضرت عائشہ ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ حضور ﷺ رات سے اٹھتے تو دس بار تکبیر کہتے اور دس بار اللہ کی حمد کرتے اور دس بار سبحان اللہ وبحمدہ کہتے اور دس بار سبحان الملک القدوس کہتے اور دس بار استغفار کرتے اور دس بار تہلیل کرتے (یعنی لا الٰہ الاّ اللہ کہتے) ۔ پھر دس بار کہتے : اللھم انی اعوذبک من ضیق الدنیا و ضیق یوم القیٰمۃ (اے اللہ ! میں تیری پناہ پکڑتا ہوں ‘ دنیا کی تنگی سے اور قیامت کی تنگی سے) ۔
Ayah 52:49

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اِدْبَارَ النُّجُوْمِ۠ Open ayah 52:49 in the Quran reader

اور رات کے بعض اوقات میں بھی اور ستاروں کے غروب ہونے کے بعد بھی اس کی تنزیہ کیا کرو

و من الیل فسبحہ و ادبار النجوم . اور رات میں بھی اس کی تسبیح کیا کیجئے (مثلاً عشاء) اور ستاروں سے پیچھے بھی۔ وَمِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْہُ : یعنی نماز پڑھو۔ مقاتل نے کہا : مغرب اور عشاء کی نماز مراد ہے۔ میں کہتا ہوں بظاہر یہی مراد لینا زیادہ اچھا ہے۔ آیت میں نماز شب کا خصوصی ذکر اس لیے کیا کہ رات کی عبادت نفس پر بڑی شاق ہوتی ہے اور دکھاوٹ کا شبہ نہیں ہوتا۔ وَاِدْبَار النُّجُوْمِ : یعنی جب ستارے غائب ہوجائیں اور صبح نکل آئے۔ ضحاک نے کہا : اس سے مراد فجر کی نماز ہے۔ اکثر اہل تفسیر کے نزدیک صلٰوۃ فجر سے پہلے کی دو رکعتیں مراد ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : فجر کی دو رکعتیں (یعنی دو سنتیں) دنیا ومافیہا سے بہتر ہیں۔ (رواہ مسلم) یہ بھی حضرت عائشہ ؓ ہی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جتنی پابندی فجر کی دو رکعتوں کی کرتے تھے اور کسی (سنت) نماز کی نہیں کرتے تھے۔ (متفق علیہ) حضرت جبیر بن مطعم ؓ کا بیان ہے ‘ میں نے خود سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے مغرب کی نماز میں والطور پڑھی تھی۔ (رواہ البغوی) (الحمد اللہ سورة والطور کی تفسیر کا ترجمہ ختم ہوا)