50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 50:27

قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 50:27 in the Quran reader

اس کا ساتھی (شیطان) کہے گا کہ اے ہمارے پروردگار میں نے اس کو گمراہ نہیں کیا تھا بلکہ یہ آپ ہی رستے سے دور بھٹکا ہوا تھا

قال قرینہ ربنا ما اطغیتہ ولکن کان فی ضلل بعید . وہ شیطان جو اسکا ساتھی تھا کہے گا اے ہمارے رب ! میں نے اسکو (زبردستی) گمراہ نہیں کیا تھا بلکہ وہ خود پرلے درجہ کی گمراہی میں تھا۔ قَالَ قَرِیْنُہٗ : حضرت ابن عباس ؓ مقاتل اور سعید بن جبیر کے نزدیک اس جگہ قرین سے مراد ہے وہ فرشتہ جو انسان پر مقرر ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا : فرشتہ یہ بات اس وقت کہے گا جب کافر کہے گا : فرشتہ نے لکھنے میں مجھ پر زیادتی کردی ہے۔ مَا اَطْغَیْتُہٗ : یعنی (اپنی طرف سے) میں نے اس کی طرف کفر اور طغیان کی نسبت نہیں کی (یعنی اپنی طرف سے غلط طور پر اس کو کافر اور طاغی نہیں لکھا) اور نہ لکھنے میں اس پر کوئی زیادتی کی ہے۔ بعض اہل تفسیر کا قول ہے کہ قرین سے اس جگہ وہ شیطان مراد ہے جو اس کافر پر مسلط کیا گیا تھا ‘ یعنی کافر کہے گا : میرے شیطان نے مجھے کج راہ بنا دیا تھا ‘ شیطان کہے گا : میں نے اس کو نہ گمراہ کیا ‘ نہ کج راہ بنایا بلکہ یہ خود پرلے درجہ کی گمراہی میں پڑا ہوا تھا ‘ تو میں نے اس کی مدد کردی (یعنی گمراہی میں اس کو اور بڑھاوا دیا) ۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ شیطانی اغواء اسی وقت آدمی پر اثر انداز ہوتا ہے ‘ جب آدمی کا عقیدہ خود ہی غلط ہو اور گناہ کی طرف اس کا طبعی میلان ہو۔ یہی وجہ ہے کہ شیطان کہے گا کہ میری تیرے اوپر کوئی زبردستی نہیں تھی۔ میں نے تو (گناہ کی طرف) تم لوگوں کو بلایا تھا ‘ تم نے میری دعوت کو قبول کرلیا ‘ اس لیے مجھے برا مت کہو ‘ اپنی جانوں کو ملامت کرو۔ یہی وجہ ہے کہ اونچے درجہ والے صوفیہ اپنے نفسوں سے جہاد کرنے کے لیے کمر بستہ رہتے ہیں اور اپنی پوری طاقت ‘ نفسوں کے مقابلہ کرنے کے لیے صرف کردیتے ہیں تاکہ شیطان کا راستہ بند ہوجائے (شیطان نفس کے راستہ سے ہی آتا ہے) ۔ لیکن علماء عربی نے صراحت کی ہے کہ اگر معرفہ کو دوبارہ بصورت معرفہ کسی کلام میں ذکر کیا جائے تو دوسرے معرفہ سے بھی وہی مراد ہوتا ہے جو پہلے معرفہ سے مراد ہوتا ہے اور یہ بھی علماء نے بیان کیا ہے کہ اضافت میں اصل عہد خارجی ہے۔ علماء کی یہ صراحتیں چاہتی ہیں کہ دوسرے قرین سے بھی وہی قرین مراد ہو جو پہلے قرین سے مراد ہے یعنی مقرر فرشتہ۔ جیسا کہ سعید بن جبیر کا قول ہے۔ اسی لیے علماء بلاغت نے بیان کیا ہے کہ : اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا میں ثانی العسرؔ سے بھی پہلا العسرؔ مراد ہے اور ایک عسر کے لیے دو یسر ہیں۔ بعض متاخرین کے نزدیک دونوں جگہ قرین سے مراد شیطان ہے جو کافر پر مسلط ہوتا ہے۔ شیطان کافر کا ساتھی ہوتا ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ شیطان کہے گا : یہ شخص جو میرے پاس ہے اور میرے زیر تسلط رہا ہے دوزخ کے لیے حاضر ہے۔ میں نے اغواء کر کے دوزخ کے لیے تیار کیا ہے لیکن میں نے اس کو زبردستی طاغی نہیں بنایا ‘ یہ خود ہی پرلے درجے کی گمراہی میں تھا۔ اپنے اختیار سے میری پیروی کی اور میری دعوت کو قبول کیا اور فرشتے کی دعوت کو قبول نہیں کیا۔
Ayah 50:28

قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ Open ayah 50:28 in the Quran reader

(خدا) فرمائے گا کہ ہمارے حضور میں ردوکد نہ کرو۔ ہم تمہارے پاس پہلے ہی (عذاب کی) وعید بھیج چکے تھے

قال لا تختصموا لدی وقد قدمت الیکم بالوعید ارشاد ہوگا میرے سامنے جھگڑے کی باتیں نہ کرو ‘ میں پہلے ہی تمہارے پاس وعید بھیج چکا تھا۔ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ : یعنی اب مقام حساب میں جھگڑا نہ کرو ‘ اب اس سے کوئی فائدہ نہیں۔ وَ قَدْ قَدَّمْتُ.... یعنی پہلے ہی میں نے اپنی کتابوں میں اور پیغمبروں کی زبانی نافرمانوں کو وعید عذاب دے دی تھی ‘ اب تمہارے پاس کوئی عذر و حجت باقی نہیں۔ یہ جھگڑا کرنے کی ممانعت کی علّت ہے۔
Ayah 50:29

مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 50:29 in the Quran reader

ہمارے ہاں بات بدلا نہیں کرتی اور ہم بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتے

ما یبدل القول لدی وما انا بظلام للعبید . میرے ہاں وہ (وعید کی) بات نہیں بدلی جائے گی اور میں (اس تجویز) میں بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہوں۔ مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ : یعنی میرے قول کے خلاف نہیں ہوسکتا ‘ میں کہہ چکا ہوں۔ اِنَّ اللہ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ : اس لیے اب میری طرف سے مغفرت کی امید نہ رکھو۔ کلبی نے کہا اور فراء نے اس کو پسند کیا مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ کا یہ مطلب ہے کہ میرے سامنے جھوٹ نہیں بولا جاسکتا ‘ کلام کو بدلا نہیں جاسکتا۔ میں غیب کو جانتا ہوں (مجھ سے کوئی بات پوشیدہ نہیں) ۔ وَمَآ اَنَا بِظَلَّامٍ.... ظلام اگرچہ مبالغہ کا صیغہ ہے لیکن اس سے مبالغۂ ظلم کی نفی مقصود نہیں بلکہ نفس ظلم کی نفی مراد ہے ‘ مبالغہ کا صیغہ ذکر کرنے سے کافروں کے قول کی بطور تعریض نفی کرنا مقصود ہے ‘ کافر کہتے ہیں کہ ہم پر یہ ظلم ہے۔ دوسری آیت بھی تقریباً اسی مضمون کی آئی ہے ‘ فرمایا ہے : اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللہ عَلَیْھِمْ وَ رَسُوْلُہٗ بَلْ اُوْلٰٓءِکَ ھُمُ الظَّالِمُوْنَ .
Ayah 50:30

یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ Open ayah 50:30 in the Quran reader

اس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کہ کیا تو بھر گئی؟ وہ کہے گی کہ کچھ اور بھی ہے؟

یوم نقول لجھنم ھل امتلئت و تقول ھل من مزید . جس روز ہم دوزخ سے کہیں گے تو بھر بھی گئی اور وہ کہے گی کیا کچھ اور بھی ہے۔ عطاء ‘ مجاہد اور مقاتل بن سلیمان کے نزدیک ھَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ میں سوال انکاری ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میں بھر گئی۔ میرے اندر کوئی جگہ ایسی نہیں رہی جو بھری ہوئی نہ ہو۔ اب زیادتی ممکن نہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہ استفہام زیادتی کی طلب کو ظاہر کر رہا ہے کیونکہ شیخین نے صحیحین میں حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جہنم کے اندر برابر مسلسل مخلوق ڈالی جاتی رہے گی اور وہ کہتی رہے گی : ھَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ آخر رب العزت اپنا قدم اس میں رکھ دے گا۔ ربّ العزت کے قدم رکھتے ہی دوزخ سمٹنے لگے گی۔ اس کے اجزاء باہم سکڑنے لگیں گے اور وہ کہے گی : بس ! بس ! تیری عزت اور کرم کی قسم ! (میں بھر گئی) اور جنت کے اندر ایک حصہ برابر خالی رہے گا (اس کے اندر کوئی رہنے والا نہ ہوگا) آخر اللہ ایک مخلوق کو پیدا کرے گا جس کو اس خالی حصہ میں آباد کرے گا۔ ابن ابی عاصم نے حضرت ابی بن کعب کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جہنم (برابر) مزید (خوراک) مانگتی رہے گی۔ یہاں تک کہ جبار اپنا قدم اس میں رکھ دے گا۔ قدم رکھتے ہی دوزخ کے اجزاء باہم سمٹنے لگیں گے اور دوزخ بول اٹھے گی : بس ‘ بس۔ بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے ‘ اللہ کا فیصلہ پہلے ہوچکا ہے کہ میں دوزخ کو جنات اور انسانوں سے سب سے بھر دوں گا۔ جب قیامت کے دن اللہ کے دشمنوں کو دوزخ کی طرف ہنکا کرلے جایا جائے گا اور گروہ در گروہ ان کو دوزخ میں ڈالا جائے گا تو سب اندر چلے جائیں گے اور دوزخ کسی چیز سے پُر نہ ہوگی۔ دوزخ عرض کرے گی : کیا مجھے بھر دینے کی تو نے قسم نہیں کھائی تھی ؟ اللہ اپنا قدم دوزخ پر رکھ دے گا اور فرمائے گا : اب کیا تو بھر گئی ؟ دوزخ کہے گی : بس ‘ بس ! اب زیادتی (کی گنجائش) نہیں۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ اللہ اور دوزخ کے درمیان سوال و جواب کو (حقیقی نہیں) بطور تخیل و تصویر بیان کیا ہے ‘ دوزخ باوجود اپنی وسعت کے جنات اور انسانوں کے گروہ در گروہ پڑنے کی وجہ سے بھر جائے گی۔ یہ تو جیہ اس صورت میں ہوگی جب استفہام کو انکاری مانا جائے لیکن اگر استفہام کو طلب زیادت کے لیے قرار دیا جائے تو مطلب اس طرح ہوگا کہ دوزخ اتنی وسیع ہوگی کہ سب کے داخل ہونے کے بعد بھی اس میں جگہ خالی رہے گی ‘ دوزخ پُر نہ ہوگی یا یہ مطلب ہوگا کہ دوزخ مزید (بالائے مزید) کی خواستگار ہے اور موجود سے زیادہ کافروں کو پکڑنے کی طالب ہے۔ اس تاویل کی ضرورت نہیں ‘ حقیقی سوال و جواب اگر کلام مذکور میں مراد ہو تو کوئی مانع نہیں۔ انسانی اعضاء کو جس طرح اللہ ناطق بنا دے گا۔ اسی طرح دوزخ کو ناطق بنا دینا بھی بعید از امکان نہیں۔
Ayah 50:31

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ Open ayah 50:31 in the Quran reader

اور بہشت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی (کہ مطلق) دور نہ ہوگی

وازلفت الجنۃ للمتقین غیر بعید اور جنت متقیوں کے قریب لائی جائے گی ‘ کچھ بھی دور نہ ہوگی۔ لِلْمُتَّقِیْنَ : یعنی شرک سے بچنے والوں کے لیے۔ غَیْرَ بَعِیْدِ : موصوف محذوف ہے ‘ یعنی غَیْرَ مَکَانٍ بَعِیْدٍ یا غَیْرَ زَمَانٍ بَعِیْدٍ : یہ لفظ قرب کی مزید تاکید کے لیے ذکر کیا گیا ہے اگرچہ اُزْلِفَتْ کا لفظ بھی قرب پر ہی دلالت کر رہا ہے ‘ جیسے محاورہ میں بولا جاتا ہے فلاں مکان قریب ہے ‘ دُور نہیں۔ زید عزت والا ہے ‘ ذلیل نہیں۔
Ayah 50:32

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍۚ Open ayah 50:32 in the Quran reader

یہی وہ چیز ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا (یعنی) ہر رجوع لانے والے حفاظت کرنے والے سے

ھذا ما تو عدون لکل اواب حفیظ . یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ ہر اس شخص کے لیے جو رجوع کرنے والا ‘ پابندی کرنے والا ہو۔ اَوَّابٍ : اللہ کے سوا ہر چیز سے اللہ کی طرف لوٹنے والا ظاہر میں بھی اور باطن میں بھی یا گناہوں سے طاعت کی طرف لوٹنے والا۔ سعید بن مسیّب نے کہا : اوّاب وہ شخص ہے جو گناہ کرے پھر توبہ کرلے۔ شعبی اور مجاہد نے کہا : اوّاب وہ شخص ہے جو خلوت میں اپنے گناہوں کو یاد کر کے معافی کا طلبگار ہو۔ ضحاک نے اوّاب کا معنی تو اب ‘ (بکثرت توبہ کرنے والا) ہی بیان کیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور عطاء نے اوّاب کا ترجمہ کیا پاکی بیان کرنے والا۔ جیسے آیت : یَا جِبَالُ اَوِّبِیْ میں اَوِّبِیْ کا ترجمہ ہے : تسبیح کر یعنی اللہ کی پاکی بیان کر ‘ ہے۔ قتادہ نے کہا اوّاب سے مراد ہے : نماز پڑھنے والا۔ حضرت زید بن ارقم راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اوّابین کی نماز اس وقت ہوتی ہے جب اونٹوں کے بچے اونٹ سے الگ کردیئے جائیں۔ (رواہ مسلم) حَفِیْظٍ : ہر وقت حضور قلب رکھنے والا ‘ کسی لمحہ اللہ سے غافل نہ ہونے والا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اللہ کے احکام کو نگاہ میں رکھنے والا۔ حضرت ابن عباس کا دوسرا قول آیا ہے ‘ اپنے گناہوں کو پیش نظر رکھنے والا۔ یہاں تک کہ توبہ و استغفار کرلے۔ یعنی اپنے گناہوں کو حقیر نہ سمجھے۔ قتادہ نے کہا : اللہ نے اپنے جن حقوق کا اس کو امین بنایا ہے ‘ ان کی حفاظت رکھنے والا۔ ضحاک نے کہا : اپنے نفس کا نگران اور ذمہ دار۔ شعبی نے حفیظ کا ترجمہ کیا ہے : مراقب اور سہیل بن عبداللہ نے کہا : طاعت کا پابند ‘ محافظ۔
Ayah 50:33

مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙ Open ayah 50:33 in the Quran reader

جو خدا سے بن دیکھے ڈرتا ہے اور رجوع لانے والا دل لے کر آیا

من خشی الرحمن بالغیب وجاء بقلب منیب جو شخص بےدیکھے رحمن سے ڈرتا ہو اور رجوع ہونے والا دل لے کر آیا ہو مُّنِیْبٍ : مخلص۔ دل سے اللہ کی طرف متوجہ۔ بالغیب : یعنی اللہ کے عذاب سے ڈرتا تھا ‘ جب کہ وہ اللہ سے غائب تھا یعنی دنیا میں تھا۔ اللہ کو نہیں دیکھا تھا یا اللہ کے عذاب سے غائب تھا یا وہ خود غائب تھا کسی کی نظر کے سامنے نہیں تھا۔ ضحاک ‘ سدی اور حسن نے کہا : یعنی وہ تنہائی میں اللہ سے ڈرتا تھا۔ جبکہ کوئی بھی اس کو نہیں دیکھتا تھا۔ (القھار یا المنتقم کی جگہ) الرحمن کا لفظ ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ جہاں وہ اللہ سے ڈرتے ہیں ‘ اس کی رحمت کے امیدوار بھی ہیں یا اس طرف اشارہ ہے کہ وہ اللہ کی رحمت کو وسیع دیکھتے ہوئے بھی عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں ‘ نہ اللہ کی رحمت کو دیکھ کر فریب خوردہ ہوتے ہیں اور نہ گناہوں پر جرأت کرتے ہیں (کہ بلا خوف و خطر گناہ کرتے رہیں) ۔
Ayah 50:34

اِ۟دْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ Open ayah 50:34 in the Quran reader

اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔ یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے

ادخلوھا بسلم . ‘ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ۔ اُدْخُلُوْھَا : یعنی ان سے کہا جائے گا کہ جنت میں داخل ہوجاؤ۔ بِسَلٰمٍ : یعنی عذاب ‘ افکار اور زوال نعمت سے مامون رَہ کر یا یہ مطلب ہے کہ اللہ اور ملائکہ کی طرف سے ان کو پیام سلامتی ملے گا۔ ذلک یوم الخلود یہ دن ہے ہمیشہ رہنے کا ذٰلِکَ : یہ جنت میں داخلہ کا دن وُ ہ دن ہوگا ‘ جب جنت کے اندر ہمیشہ رہنے کا حکم ہوگا۔ دوسری آیت میں یہی مضمون آیا ہے : فَاَدْخُلُوْھَا خٰلِدِیْنَ : جنت میں داخل ہوجاؤ ‘ ایسی حالت میں کہ تمہارے لیے جنت میں ہمیشہ رہنا مقدر کردیا گیا ہے۔ شیخین نے حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اہل جنت ‘ جنت میں داخل ہوجائیں گے اور دوزخی ‘ دوزخ میں۔ پھر دونوں کے درمیان ایک اعلانچی اعلان کرے گا : اے دوزخ والو ! (آئندہ) موت نہیں اور اے اہل جنت (آئندہ) موت نہیں۔ ہر شخص اسی میں ہمیشہ رہے گا ‘ جس میں وہ ہے۔ بخاری نے حضرت ابوہریرہ کی مرفوع روایت سے بیان کیا ہے کہ کہا جائے گا : اے اہل جنت (یہاں) ہمیشہ رہنا ہے۔ موت نہیں (آئے گی) اور اے دوزخ والو ! (یہاں) ہمیشہ رہنا ہے موت (آئندہ) نہیں (آئے گی) ۔
Ayah 50:35

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ Open ayah 50:35 in the Quran reader

وہاں وہ جو چاہیں گے ان کے لئے حاضر ہے اور ہمارے ہاں اور بھی (بہت کچھ) ہے

لھم ما یشاء ون فیھا ولدینا مزید .‘ ان کو جنت میں سب کچھ ملے گا جو کچھ چاہیں گے اور ہمارے پاس اور بھی زیادہ (نعمت) ہے۔ وَلَدَیْنَا مَزِیْدٌ : یعنی ایسی نعمتیں ہیں جن کا تصور نہ کسی کے دل میں آیا ‘ نہ کسی آنکھ نے ان کو دیکھا ‘ نہ کسی کان نے (ان کا بیان) سنا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنت کے اندر تمہارا کم سے کم یہ مرتبہ ہوگا کہ (اللہ کی طرف سے) حکم ہوگا اپنی (اپنی) تمنا کرو مخاطب اپنی تمنا (اپنے دل میں) کرے گا ‘ ارشاد ہوگا کیا تم نے اپنی تمنا کرلی ؟ بندہ کہے گا : جی ہاں ! اللہ فرمائے گا تمہارے لیے وہ سب کچھ (دیا جاتا) ہے جس کی تم نے تمنا کی اور اتنا ہی اور بھی (تم کو دیا جاتا) ہے۔ (رواہ مسلم) حضرت ابوسعید راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک طویل حدیث بیان فرمائی ‘ جس میں یہ بھی بتایا کہ اللہ فرمائے گا ‘ میں نے اپنے بندوں سے یہ وعدہ کرلیا ہے کہ جس آدمی کو میں جنت میں داخل کروں گا ‘ اس کے لیے وہ تمام چیزیں مہیا کر دوں گا ‘ جن کو اس کا دل چاہے گا اور اتنی ہی اور بھی۔ حضرت جابر ؓ اور حضرت انس ؓ نے فرمایا : مزید سے مراد ہے اللہ کا دیدار۔ مسلم اور ابن ماجہ نے حضرت صہیب کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب جنت والے جنت میں چلے جائیں گے تو اللہ ان سے فرمائے گا ‘ کیا تم چاہتے ہو کہ میں تم کو اور کچھ عطا کروں ؟ اہل جنت عرض کریں گے (پروردگار ! ) کیا تو نے ہمارے چہروں کو روشن نہیں کردیا ؟ کیا تو نے ہم کو جنت میں داخل نہیں کردیا ‘ کیا تو نے دوزخ سے ہم کو محفوظ نہیں رکھا (اس سے زیادہ اور کونسی نعمت ہوسکتی ہے ؟ ) حضور ﷺ نے فرمایا : پھر اللہ حجاب کھول دے گا اور چودہویں کی چاند کی طرح جلوۂ بےحجاب سامنے آجائے گا) تو دیدارِ رب سے بڑھ کر کوئی نعمت اہل جنت کو محبوب نہیں ہوگی ‘ اس کے بعد حضور ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی وَ زِیَادَۃٌ۔ ابن خزیمہ اور ابن مردویہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ اور حضرت کعب بن عجرہ اور حضرت ابی بن کعب کی روایت سے ابن مردویہ اور ابو الشیخ نے حضرت انس کی روایت سے اور ابو الشیخ نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا اور یہ حدیث حضرت ابوبکر صدیق ‘ حضرت ابن عباس ‘ حضرت حذیفہ اور حضرت ابن مسعود ؓ وغیرہ سے بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن اللہ ایک ندا کرنے والے کو یہ ندا کرنے کا حکم دے گا ‘ اس کی ندا کو اوّل سے آخر تک سب لوگ سنیں گے ‘ اے اہل جنت ! اللہ نے تم سے اچھی جزاء اور زیادتی کا وعدہ کیا تھا ‘ تو اچھی جزا جنت ہے اور رحمن کا دیدار مزید (نعمت) ہے۔
Ayah 50:36

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ١ؕ هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 50:36 in the Quran reader

اور ہم نے ان سے پہلے کئی اُمتیں ہلاک کر ڈالیں۔ وہ ان سے قوت میں کہیں بڑھ کر تھے وہ شہروں میں گشت کرنے لگے۔ کیا کہیں بھاگنے کی جگہ ہے؟

وکم اھلکنا قبلھم من قرن ھم اشد منھم بطشا فنقبوا فی البلاد ھل من محیصٍ . اور ہم ان سے پہلے بھی بہت سی امتوں کو ہلاک کرچکے ہیں جو قوت میں ان سے بہت زیادہ تھے اور تمام شہروں کو چھانتے پھرتے تھے کہیں بھاگنے کی جگہ نہ ملی۔ قَبْلَھُمْ : یعنی آپ کی قوم سے پہلے۔ بَطْشًا : یعنی قوم میں۔ جیسے قوم عاد ‘ قوم فرعون وغیرہ۔ فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ : صاحب قاموس نے لکھا ہے نَقَّبَ فِی الْاَرْضِ زمین پر گیا (گھوما پھرا) اَنْقَبَ اور نَقَّبَ کا بھی یہی معنی ہے۔ میں کہتا ہوں اس جگہ باب تفعیل کا استعمال کثرت فعل کو ظاہر کررہا ہے ‘ یعنی وہ ملکوں ملکوں ہر قسم کا تصرف کرنے اور فائدہ اندوزی کیلئے خوب گھومے پھرے۔ اس تفسیر پر فَنَقَّبُوْا میں ” فَ “ سببیت کیلئے ہوگی ‘ قوت کی زیادتی اور شدت ‘ کثرت سے گھومنے پھرنے کا سبب تھی یا یہ مطلب ہے کہ موت کے ڈر سے وہ ہر جگہ مارے مارے پھرے۔ اس مطلب پر فَ صرف تعقیب کیلئے ہوگی۔ ھَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ : استفہام انکاری ہے ‘ مِنْ زائد ہے کیا ان کے لیے کوئی بچاؤ کی جگہ ہوئی۔ کیا انہوں نے کوئی رہائی کا مقام پایا۔ جب ان کو بچاؤ کی جگہ نہیں ملی تو اہل مکہ اتنے غافل کیوں ہیں اور امیدیں ان کو کیوں بیخبر بنائے ہوئے ہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نقبوا کی ضمیر فاعلی اہل مکہ کی طرف راجع ہو ‘ یعنی اہل مکہ ملکوں ملکوں گھومے پھرے ‘ گزشتہ امتوں کی بستیوں کی سیر کی ‘ آثار قدیمہ دیکھ چکے اور ان کی خبروں کی تفتیش بھی کرچکے تو کیا اقوام پازینہ کے بچاؤ کا کوئی مقام انہوں نے پایا کہ ان کو بھی اپنے بچاؤ کی توقع ہو سکے۔
Ayah 50:37

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ Open ayah 50:37 in the Quran reader

جو شخص دل (آگاہ) رکھتا ہے یا دل سے متوجہ ہو کر سنتا ہے اس کے لئے اس میں نصیحت ہے

ان فی ذلک لذکری لمن کان لہ قلب او القی السمع وھو شھید . بلاشبہ اس میں اس شخص کیلئے بڑی عبرت ہے جو سمجھدار) دل رکھتا ہو یا (کم سے کم) متوجہ ہو کر بات کی طرف کان ہی لگائے۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ : یعنی اس سورة میں یا امم ہالکہ کے کھنڈروں کی سیر میں۔ لَذِکْرٰی : بلاشبہ عبرت اور نصیحت ہے۔ لِمَنْ کَانَ لَہٗ قَلْبٌ : یعنی اس شخص کے لیے جس کا دل تمام کثافتوں سے پاک صاف ہو تجلّیات صفات کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اللہ کی یاد میں ڈوبا رہتا ہو اور غیر اللہ کی طرف متوجہ نہ ہو۔ اس مضمون کی تائید ایک حدیث قدسی سے ہوتی ہے (اللہ نے فرمایا :) نہ میری زمین مجھے سما سکتی ہے ‘ نہ میرا آسمان مجھے سما سکتا ہے ‘ ہاں ! مؤمن بندے کے دل کے اندر میری سمائی ہوسکتی ہے۔ صوفیہ کی اصطلاح میں ایسا دل فنا کے بعد ہی ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : قلب سے مراد عقل ہے۔ بعض اہل علم کے نزدیک یاد رکھنے والا ‘ (عبرت پذیر) دل مراد ہے جو حقائق پر غور کرتا ہے (سطحی نظر سے نہیں دیکھتا) ۔ وَھُوَ شَھِیْدٌ : یعنی یہ سورة اس شخص کے لیے عبرت و موعظت ہے جس کے پاس قلب سلیم ہو یا قرآن کو بحضور قلب سنے خواہ حضور قلبی بناوٹی ہو (یعنی صورت حضور قلب والے کی جیسی بنا لے) غافل نہ ہو۔ یا شہید بمعنی شاہد ہے یعنی کانوں سے سن کر دل اس کی گواہی دے اور تصدیق کرے۔ ظاہر قرآن سے نصیحت اندوز ہوا اور تنبیہات فرقانیہ سے اثر پذیر ہو۔ میں کہتا ہوں اوّل (قلب سلیم ہونا) کاملوں کا بیان اور دوسرا (کانوں کا متوجہ ہونا) مخلص مریدوں کا درجہ ہے۔ اسی مضمون کی طرح دوسری حدیث کا مضمون ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : عبادت کی خوبی یہ ہے کہ تم اپنے رب کی اس طرح عبادت کرو گویا (عبادت کے وقت) تم اس کو دیکھ رہے ہو۔ اگر تم اس کو نہیں دیکھ رہے ہو تو (اتنا خیال رکھو کہ) وہ تم کو دیکھ رہا ہے۔ یعنی اللہ کے سامنے حاضر ہونے کا تصور رکھا جائے خواہ خود آور دہی ہو۔ حاکم نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا اور اس کو صحیح کہا ہے کہ کچھ یہودیوں نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر آسمان و زمین کی تخلیق کے متعلق سوال کیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اللہ نے زمین کو اتوار کے دن اور سمندروں کو سوموار کے دن اور پہاڑوں کو اور جو کچھ ان کے اندر فائدہ بخش چیزیں ہیں ‘ سب کو منگل کے دن اور درختوں کو اور پانی کو اور شہروں کو اور آبادیوں کو اور ویرانوں کو بدھ کے دن اور آسمان کو جمعرات کے دن اور ستاروں کو اور چاند ‘ سورج کو اور ملائکہ کو جمعہ کے دن اس وقت پیدا کیا جب کہ یوم جمعہ کی تین ساعتیں باقی تھیں (بقیہ) پہلی ساعت میں اوقات موت کو پیدا کیا جن میں مرنے والے مرتے ہیں اور دوسری ساعت میں ان مصائب کو پیدا کیا جن کا نزول انسان کو فائدہ پہنچانے والی ہر چیز پر ہوتا ہے اور تیسری ساعت میں آدم کو پیدا کیا اور ان کو جنت کا ساکن بنایا اور ابلیس کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرے اور تیسری ساعت کے آخر میں آدم کو (یا ابلیس کو) جنت سے نکال دیا۔ یہودیوں نے دریافت کیا محمد ﷺ پھر کیا ہوا ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : پھر اللہ عرش پر مستوی ہوگیا۔ یہودیوں نے کہا : (آپ نے پورا بیان نہیں کیا ‘ بیان میں نقص ہے) اگر آپ بیان مکمل کردیتے تو صحیح ہوجاتا۔ اس کے بعد اللہ نے آرام لیا۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کو سخت غصہ آگیا اور آیت ذیل نازل ہوئی :
Ayah 50:38

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ١ۖۗ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ Open ayah 50:38 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو (مخلوقات) ان میں ہے سب کو چھ دن میں بنا دیا۔ اور ہم کو ذرا تکان نہیں ہوئی

ولقد خلقنا السموت والارض وما بینھما فی ستۃ ایام و ما مسنا من لغوب اور ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اس سب کو چھ دن (کی برابر وقت) میں پیدا کیا اور ہم کو تھکان نے چھوا تک نہیں۔ مِنْ لُّغُوْبٍ : یعنی تکان۔ لغوب بمعنی تعب۔ تھکن۔ مسلم نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے جو حدیث بیان کی ہے اس میں نہ یہودیوں کے سوال کا ذکر ہے ‘ نہ سبب نزول کا۔ حضرت ابوہریرہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : اللہ نے خاک کو سنیچر کے دن پیدا کیا اور پہاڑوں کو اتوار کے دن پیدا کیا اور درختوں کو سوموار کے دن پیدا کیا اور مصیبتوں کو منگل کے دن پیدا کیا اور نور کو بدھ کے دن پیدا کیا اور جمعرات کے دن زمین پر چوپایوں کو پھیلایا اور آخر میں جمعہ کے دن عصر کے بعد دن کی آخری ساعت میں آدم کو پیدا کیا۔ میں کہتا ہوں سنیچر کے دن خاک کے پیدا کرنے کا ذکر راوی کی غلطی ہے ‘ صحیح یہ ہے کہ تخلیق عالم کا آغاز اتوار کے دن ہوا اور آخری تخلیق جمعہ کے دن ہوئی۔ آیت مذکورہ (یعنی فی ستۃ ایام) مجموعی تخلیق کے چھ دن میں ہونا ظاہر کر رہی ہے ‘ سنیچر کا تو ساتواں دن ہوتا ہے۔ ایک شبہ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ زمین و آسمان اور ملائکہ و جن کی تخلیق کے بہت بعد آدم کو پیدا کیا گیا۔ آدم سے پہلے جنات کی حکومت تھی اور ابلیس ملائکہ میں شامل تھا۔ زمین اور دنیوی آسمان اور جنت کا ملک اس کی سیرگاہ تھی۔ کبھی زمین میں ‘ کبھی آسمان میں اور کبھی جنت میں وہ اللہ کی عبادت کرتا تھا اور آیت : ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّھْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْءًا مَّذْکُوْرًا کی تفسیر میں کہا گیا ہے کہ آدم کا مٹی کا پتلا چالیس برس تک مکہ اور طائف کے درمیان نفخ روح سے پہلے پڑا رہا ‘ نہ کوئی اس کا ذکر کرتا تھا ‘ نہ کوئی اس کو پہچانتا تھا ‘ نہ کوئی اس کا نام جانتا تھا ‘ نہ کوئی اس کو بنانے کے مقصد سے واقف تھا۔ کذا فی قال البغوی وغیرہ ‘ لیکن مذکورۂ بالا حدیث بتارہی ہے کہ جمعہ کی آخری ساعت میں ملائکہ اور فلکیات کو پیدا کیا گیا۔ اس تضاد کو کیسے دور کیا جاسکتا ہے۔ میں کہتا ہوں شاید تخلیق آدم سے مراد ہے لوح محفوظ میں تخلیق آدم کے ایک خاص اندازے کا اندارج و موجودگی ‘ اسی پر دلالت کر رہے ہیں۔ حدیث مذکور کے یہ الفاظ کہ پہلی ساعت میں موت کے مقررہ اوقات کو پیدا کیا گیا۔ جن میں مرنے والے مرتے ہیں اور دوسری ساعت میں آفات کو پیدا کیا گیا جو انسانوں کے منافع پر نازل ہوتی ہیں۔ اگر تخلیق کا معنی اندازۂ مقررہ نہ لیا جائے تو یہ مذکورہ تفصیل ممکن نہیں۔
Ayah 50:39

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ Open ayah 50:39 in the Quran reader

تو جو کچھ یہ (کفار) بکتے ہیں اس پر صبر کرو اور آفتاب کے طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہو

فاصبر علی ما یقولون . سو آپ ﷺ ان کی باتوں پر صبر کیجئے۔ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ : یعنی یہودیوں کے اس قول پر کہ اللہ تھک گیا ‘ پھر اس نے آرام لیا ‘ صبر کیجئے یا مشرک جو انکار قیامت کرتے ہیں اس پر صبر کیجئے کیونکہ جو خدا ابتدائی تخلیق عالم پر قادر ہے ‘ وہ ان کو دوبارہ زندہ کرنے اور ان سے انتقام لینے پر بھی قدرت رکھتا ہے۔ وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس و قبل الغروب . وَ سَبِّحْ : یعنی نماز پڑھو۔ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَمْسِ : یعنی فجر کی نماز۔ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِ : یعنی عصر کی نماز۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : قبل الغروب ‘ ظہر اور عصر۔ شاید حضرت ابن عباس کی یہ تفسیر اسی قول پر مبنی ہے کہ دونوں نمازوں کا ضروری وقت ایک ہی ہے۔ امام مالک ؓ وغیرہ کا یہی قول ہے۔
Ayah 50:40

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ Open ayah 50:40 in the Quran reader

اور رات کے بعض اوقات میں بھی اور نماز کے بعد بھی اس (کے نام) کی تنزیہ کیا کرو

ومن اللیل فسبحہ و ادبار السجود اور اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرتے رہئے ‘ سورج نکلنے سے پہلے اور چھپنے سے پہلے اور رات کے کچھ حصہ میں اسکی تسبیح کیا کیجئے اور فرض نمازوں کے بعد بھی۔ وَمِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْہُ : یعنی مغرب و عشاء کی نماز پڑھو۔ مجاہد کے نزدیک اس سے مراد نماز شب ہے ‘ یعنی رات میں نوافل پڑھو۔ وَاَدْبَار السُّجُوْدِ : حضرت عمر ‘ حضرت علی ‘ حسن ‘ شعبی ‘ نخعی اور اوزاعی کے نزدیک ادبار السجود سے مراد ہیں نماز مغرب سے پہلے کی دو رکعتیں اور ادبار النجوم سے مراد ہیں نماز فجر سے پہلے کی دو رکعتیں ‘ بروایت عوفی حضرت ابن عباس کا بھی یہی قول آیا ہے۔ ترمذی نے حضرت ابن عباس ؓ سے یہ حدیث مرفوعاً نقل کی ہے۔ اکثر اہل تفسیر نے بھی یہی تفسیر کی ہے ‘ میرے نزدیک اَدْبَار السُّجُوْدِ سے صلوٰۃ مغرب سے پہلے کی دو رکعتیں مراد لینے کی کوئی وجہ نہیں ہے ‘ کیونکہ ٹھیک غروب کے وقت اور غروب سے قدرے پہلے (سجدہ جائز ہی نہیں ہے) سجدہ کا وقت ہی نہیں ہے۔ میرے خیال میں ادبار السجود سے مراد ہیں وہ نوافل جو ہر فرض کے بعد مقرر ہیں۔ یہ بھی جائز ہے کہ اس جگہ بھی سَبِّحْہُ سے مراد سبحان اللہ پڑھنا ہو ‘ جیسے آیت : سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ میں مع حمد کے سبحان اللہ پڑھنا مراد ہے۔ شیخین نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : صبح شام جو شخص سو بار سبحان اللہ پڑھتا ہے ‘ قیامت کے دن کوئی شخص اس سے بہتر عمل لے کر نہیں آئے گا۔ ہاں ! (اس شخص کا عمل اس سے بہتر ہوگا) جو (دوسرے نیک اعمال کے ساتھ) یہ عمل بھی کرتا ہے۔ شیخین نے حضرت ابوہریرہ کی ایک مرفوع حدیث بیان کی ہے کہ جو شخص ایک دن میں سو بار سبحان اللہ وبحمدہ پڑھتا ہے ‘ اس کے گناہ ساقط ہوجاتے ہیں ‘ خواہ کف سمند رکے برابر ہوں۔ یہ حدیث بھی حضرت ابوہریرہ کی روایت سے شیخین نے بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دو جملے ہیں جو زبان پر تو ہلکے ہیں (قیامت کے دن) میزان (کے پلڑے) میں بڑے وزنی ہوں گے اور رحمن کو (بڑے) پیارے ہیں : سُبْحَانَ اللہ وَ بِحَمْدِہٖ ‘ سَبْحَانَ اللہ الْعَظِیْمِ ۔ مجاہد کے نزدیک فَسَبِّحْہُ وَ اَدْبَار السُّجُوْدِ سے مراد ہے فرض نمازوں کے بعد زبان سے سبحان اللہ پڑھنا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص ہر فرض نماز کے بعد 33 بار سبحان اللہ پڑھتا ہے اور 33 بار اللہ کی حمد کرتا ہے اور 33 بار تکبیر کہتا ہے (یعنی اللہ اکبر کہتا ہے) یہ کل ننانوے کلمے ہوگئے ‘ پھر ان کی تکمیل کے لیے ایک بار پڑھتا ہے : لَا اِلٰہَ الاَّ اللہ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ءٍ قَدِیْرٌ۔ تو اس کے سارے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں ‘ خواہ سمندر کی جھاگوں کے برابر ہوں۔ (رواہ المسلم والبخاری و مثلہ اخرج مالک و ابن خزیمۃ)
Ayah 50:41

وَ اسْتَمِعْ یَوْمَ یُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ Open ayah 50:41 in the Quran reader

اور سنو جس دن پکارنے والا نزدیک کی جگہ سے پکارے گا

واستمع یوم یناد المناد من مکان قریب ا ور سن رکھو کہ جس روز ایک پکارنے والا پاس (کے مقام سے) ہی پکارے گا وَاسْتَمِعْ : یہ خطاب کر کے روز قیامت کی ہولناکی اور عظمت کا اظہار کرنا اور متنبہ بنانا مقصود ہے۔ مقاتل نے بیان کیا کہ قیامت کے دن اسرافیل ( علیہ السلام) پکار کر کہیں گے : اے بوسیدہ ہڈیو ! اے الگ الگ کیے ہوئے جوڑو (اوصال) اے پارہ پارہ گوشت اور اے پراگندہ بالو ! اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ فیصلہ الٰہی کے لیے باہم اکٹھے ہوجاؤ۔ ابن عساکر نے بروایت زید بن جابر شافعی اس آیت کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ (قیامت کے دن) اسرافیل صخرۂ بیت المقدس پر کھڑے ہو کر کہیں گے : اے بوسیدہ ہڈیو ! اے پارہ پارہ کھالو ! اے ٹوٹے ہوئے بالو ! اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ فیصلہ خطاب کیلئے جمع ہوجاؤ۔ مِنْ مَّکَانٍ قَرِیْبٍ : یعنی صخرۂ بیت المقدس سے صخرہ قبروں کے قریب ہی ہوگا۔ دونوں وسط زمین میں ہوں گے۔ کلبی نے کہا : زمین کے دوسرے حصے آسمان سے جتنے فاصلہ پر ہیں ‘ ان سب سے اٹھارہ میل زائد صخرہ آسمان کے قریب ہے۔
Ayah 50:42

یَّوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَةَ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ Open ayah 50:42 in the Quran reader

جس دن لوگ چیخ یقیناً سن لیں گے۔ وہی نکل پڑنے کا دن ہے

یوم یسمعون الصیحۃ بالحق ذلک یوم الخروج .‘ جس روز اس چیخنے کو یقین کے ساتھ سب سن لیں گے ‘ یہ دن ہوگا (قبروں سے) نکلنے کا۔ یَوْمَ یَسْمَعُوْنَ : یعنی اس روز بحکم خدا مردے سنیں گے ‘ مردے ہوں یا جمادات (پتھر وغیرہ) بحکم خدا سننے کے معاملے میں زندوں کی طرح ہیں ‘ تمام موجودات کو (خواہ بےحس ‘ بےشعور اور غیر نامی ہوں یا نامی ‘ باحس یا باشعور) کسی نہ کسی طرح کی زندگی تو حاصل ہی ہے۔ تفسیر سورة ملک (کی آیت خَلَقَ الْمَوْتَ وَا لْحَیَاۃَ کی تشریح) میں ہم نے اس کی تحقیق کردی ہے۔ علمائے (اہل سنت) کا اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ عذاب قبر روح اور جسم دونوں پر ہوتا ہے۔ شیخین نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مقتولین بدر کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا : جو وعدہ (یعنی وعدۂ عذاب) تم سے تمہارے رب نے کیا تھا ‘ کیا تم نے اس کو صحیح پا لیا ؟ ہم سے ہمارے رب نے جو وعدہ (یعنی فتح و نصرت کا وعدہ) کیا تھا ہم نے تو اس کو صحیح پا لیا۔ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! آپ بےجان جسموں کو کس طرح خطاب کر رہے ہیں ؟ فرمایا : میں جو کچھ کہہ رہا ہوں تم اس کو ان سے زیادہ نہیں سنتے لیکن وہ مجھے جواب نہیں دے سکتے۔ قرطبی نے کہا : صور کی آواز جس سے مردے زندہ ہوجائیں گے ‘ پھیلتی اور بڑھتی جائے گی ابتدائی آواز تو زندہ کرنے کے لیے ہوگی اور اس کے بعد کی آواز قبروں سے باہر نکالنے کے لیے۔ زندہ کرنے والی آواز تو وہ (مُردے) نہیں سنیں گے لیکن قبروں سے نکالنے کی آواز سنیں گے۔ سیوطی نے کہا : احتمال ہے کہ جو روحیں صور اسرافیل میں ہوں وہ شروع سے ہی سن لیں۔ میں کہتا ہوں اوپر ذکر کیا جا چکا ہے کہ اسرافیل ہڈیوں اور کھالوں کو خطاب کریں گے روحوں کو خطاب نہیں کریں گے۔ ارواح کو سننے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اَلصَّیْحَۃَ : یعنی اسرافیل کی آواز۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ دوبارہ زندہ کرنے کے لیے خطاب شاید ایسا ہی ہو جیسا (ابتدائی تخلیق کے لیے) لفظ کُن فرمایا تھا ‘ یعنی امر سے امر تکوینی مراد ہو جس میں مخاطب کا سننا ضروری نہیں۔ میں کہتا ہوں یَوْمَ یَسْمَعُوْنَ میں تو سننے کی صراحت ہے ‘ اس لیے امر تکوینی مراد نہیں ہوسکتا۔ بالحق اس لفظ کا تعلق الصیحۃ سے ہے اور حق سے مراد جزاء و سزا کے لیے قبروں سے اٹھایا جانا ہے۔
Ayah 50:43

اِنَّا نَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ اِلَیْنَا الْمَصِیْرُۙ Open ayah 50:43 in the Quran reader

ہم ہی تو زندہ کرتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے

انا نحن نحی و نمیت و الینا المصیر . ہم ہی اب بھی جلاتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہمارے ہی طرف پھر لوٹ کر آنا ہے یعنی آخرت میں ہماری ہی طرف منتقل ہونا ہے۔ یوم تشقق الارض عنھم سراعا ذلک حشر علینا یسر نحن اعلم بما یقولون وما انت علیھم بجبار فذکر بالقران من یخاف وعید . جس روز زمین ان (مُردوں) پر کھل جائے گی ‘ جب کہ وہ دوڑتے ہوں گے ‘ یہ ہمارے نزدیک ایک آسان جمع کرلینا ہے ‘ جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں ہم خوب جانتے ہیں اور آپ ﷺ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں ‘ آپ ﷺ قرآن کے ذریعہ ایسے شخص کو نصیحت کرتے رہیے جو میری (عذاب کی) دھمکی سے ڈرتا ہو۔
Ayah 50:44

یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا١ؕ ذٰلِكَ حَشْرٌ عَلَیْنَا یَسِیْرٌ Open ayah 50:44 in the Quran reader

اس دن زمین ان پر سے پھٹ جائے گی اور وہ جھٹ پٹ نکل کھڑے ہوں گے۔ یہ جمع کرنا ہمیں آسان ہے

جس روز زمین ان مردوں پر کھل کھل جائے گی جب کہ وہ دوڑتے ہوں گے یہ ہمارے نزدیک ایک آسان جمع کرلینا ہے یعنی مردوں کو زندہ کر کے اس روز اٹھایا جائے گا جب حساب فہمی کے لیے ان کو پکارا جائے گا اور زمین پھٹّ کر وہ تیزی کے ساتھ باہر نکل آئیں گے۔ ذٰلِکَ : یہ یکدم سب کا نکل آنا ہمارے لیے آسان ہے یَسِیْرٌ سے پہلے عَلَیْنَا کا ذکر اظہار خصوصیت کے لیے ہے ‘ حشر اموات اسی کے لیے آسان ہوسکتا ہے جو بذات خود عالم اور قادر ہو اور کسی کام میں مشغولیت دوسرے کاموں سے اس کو غافل نہ بنا سکے اور ایسی ذات صرف اللہ ہی کی ہے اس لیے حشر اموات اس کے لیے دشوار نہیں۔ اللہ نے ایک اور آیت میں فرمایا ہے : مَا خَلْقُکُمْ وَلَا بَعْثُکُمْ الاَّ کَنَفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ۔
Ayah 50:45

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ۠ Open ayah 50:45 in the Quran reader

یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں ہمیں خوب معلوم ہے اور تم ان پر زبردستی کرنے والے نہیں ہو۔ پس جو ہمارے (عذاب کی) وعید سے ڈرے اس کو قرآن سے نصیحت کرتے رہو

جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں ہم خوب جانتے ہیں اور آپ ‍ ﷺ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں آپ ﷺ قرآن کے ذریعے ایسے شخص کو نصیحت کرتے رہیے جو میرے عذاب کی دھمکی سے ڈرتا ہو۔ بِمَا یَقُوْلُوْنَ یعنی کفار مکہ جو کچھ کہتے ہیں اور آپ کی تکذیب کرتے ہیں ہم اس سے بخوبی واقف ہیں۔ اس جملے میں رسول اللہ ﷺ کے لیے پیام تسلی اور کافروں کے لیے تہدید عذاب ہے۔ وَمَآ اَنْتَ..... یعنی آپ ﷺ کو صرف نصیحت کرنے اور اسلام کی دعوت دینے کے لیے بھیجا گیا ہے ‘ زبردستی مسلمان بنانے کے لیے نہیں بھیجا گیا ہے۔ فَذَکِّرْ بالْقُرْاٰنِ.... عمرو بن قیس ملائی کی وساطت سے ابن جریر نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ اگر آپ : ﷺ ہم کو (عذاب سے) ڈراتے رہیں تو بہتر ہوگا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت عمر ؓ سے مرسل روایت بھی اسی طرح آئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن کے ذریعہ لوگوں کو یاددہانی کرنی انہیں لوگوں کے لیے سود مند اور نتیجہ خیز ہوسکتی ہے جو میری وعید عذاب سے ڈرتے ہیں یعنی مسلمانوں ہی کے لیے یہ تذکیر نفع بخش ہوسکتی ہے۔ واللہ اعلم