Ayah 49:10انما المومنون اخوۃ فاصلحوا بین اخویکم واتقوا اللہ لعلکم ترحمون .
مسلمان تو سب بھائی ہیں۔ اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرا دیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحمت کی جائے۔
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ: یعنی تمام مؤمنوں کی اصل ایک ہے یعنی سب کی (مشترک) اصل ایمان ہے اور ایمان ہی حیات ابدی کا موجب ہے۔ اس لیے تمام اہل ایمان بھائی ‘ بھائی ہیں اور چونکہ اس اصل کی پیدائش گاہ رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہے اس لیے آپ ﷺ تمام مؤمنوں کے باپ اور آپ ﷺ کی بیبیاں تمام مسلمانوں کی مائیں قرار پائیں۔
بَیْنَ اَخَوَیْکُمْ : تثنیہ کا صیغہ (دو بھائی) خصوصیت کے ساتھ اس لیے ذکر کیا کہ اختلاف کم سے کم دو آدمیوں میں ہوتا ہے (اس سے زائد کی نفی نہیں ہوتی) ۔
وَاتَّقُوا اللہ : اور اللہ سے ڈرتے رہو یعنی اس کے حکم کے خلاف نہ کرو۔
لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ : یعنی اس امید پر تقویٰ پر قائم رہو کہ تم پر رحم کیا جائے گا کیونکہ باہم اتحاد ‘ الفت ‘ محبت اور آپس میں رحم کرنے کا سبب تقویٰ ہے اور آپس کی محبت و تراحم اللہ کی رحمت کا موجب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ اپنے رحم کرنے والے بندوں پر ہی رحم کرتا ہے۔ (رواہ المجدد) صحیحین میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا ‘ اللہ اس پر رحم نہیں کرتا۔ یہ روایت حضرت جریر بن عبداللہ کی ہے۔
بغوی نے لکھا ہے : جب یہ آیت نازل ہوئی اور رسول اللہ ﷺ نے پڑھ کر سنائی تو سب مسلمانوں نے باہم صلح کرلی اور ہر شخص دو سرے کے ساتھ لڑنے سے رک گیا۔
سعید بن منصور اور ابن جریر نے حضرت ابو مالک کی روایت سے بیان کیا ہے کہ دو مسلمانوں میں باہم گالی گلوچ ہوگئی ‘ جس کی وجہ سے ہر ایک کا قبیلہ دوسرے پر بھڑک اٹھا اور ہاتھوں اور جوتوں سے مار پیٹ شروع ہوگئی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ شاید یہ قصہ بعینہٖ اسی واقعہ کا بیان ہے جو اوپر ذکر کیا جا چکا ہے۔
ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم نیز بغوی نے سدی کا بیان نقل کیا ہے۔ ایک انصاری تھے جن کو عمرانی کہا جاتا تھا ‘ ان کی بیوی ام زید نے اپنے میکے جانے کا ارادہ کیا۔ شوہر نے روک دیا اور ایک بالا خانہ پر عورت کو رکھ دیا۔ عورت نے اپنے میکے کو خبر کردی۔ وہاں سے اس کے قبیلہ والے آگئے اور عورت کو بالا خانے سے نیچے اتار کرلے جانے لگے۔ شوہر باہر گیا ہوا تھا ‘ اس نے اپنے کنبے والوں سے مدد طلب کی۔ اس کے چچا کے بیٹے آگئے اور عورت کو لے جانے میں مزاحمت کی۔ آخر دونوں فریقوں میں دھکم دھکا ہونے لگی اور جوتوں سے لڑائی شروع ہوگئی۔ انہیں کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی اور رسول اللہ ﷺ نے کسی کو بھیج کر ان میں صلح کرا دی اور سب اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔
ابن جریر اور بغوی نے ذکر کیا کہ قتادہ نے فرمایا : ہم سے بیان کیا گیا تھا کہ اس آیت کا نزول دو انصاریوں کے حق میں ہوا۔ دونوں میں کسی حق کی بابت اختلاف تھا۔ آخر نوبت دھکم دھکا ‘ ہاتھا پائی اور جوتہ بازی تک پہنچ گئی لیکن تلوار کی لڑائی نہیں ہوئی۔ ابن جریر نے حسن کا بیان نقل کیا ہے کہ دو قبیلوں میں کچھ جھگڑا تھا۔ (رسول اللہ ﷺ نے) ان کو (شرعی) حکم کی طرف بلایا لیکن وہ قبول کرنے سے انکار کرتے رہے۔ آخر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حسن کی یہ روایت شاید اسی واقعہ کا بیان ہے جو قتادہ نے بیان کیا ہے۔
بغوی وغیرہ نے بوساطت سالم بیان کیا کہ سالم کے والد یعنی حضرت عبداللہ نے بیان کیا کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے مسلمان ‘ مسلمان کا بھائی ہے۔ اس کی حق تلفی نہ کرے ‘ نہ گالی دے جو شخص اپنے بھائی کی حاجت (پوری کرنے) میں لگا رہتا ہے۔ اللہ اس کی حاجت پوری کرنے میں لگا رہتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان کی سختی دور کرتا ہے اللہ روز قیامت کی سختیوں میں سے کوئی سختی دور کر دے گا ‘ اس لئے جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا۔ اللہ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا۔
مسلم (رح) نے حضرت ابوہریرہ ؓ : کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مسلمان ‘ مسلمان کا بھائی ہے۔ اس پر ظلم نہ کرے ‘ اس کو بےمدد نہ چھوڑے اور اس کی تحقیر نہ کرے۔ سینہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضور ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا : تقویٰ یہاں ہوتا ہے ‘ آدمی کے لیے یہ شر کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے۔ مسلمان کی ہر چیز مسلمان پر حرام ہے۔ اس کا خون بھی ‘ اس کا مال بھی اور اس کی آبرو بھی۔ دونوں آیتیں دلالت کر رہی ہیں کہ باغی گروہ (دائرۂ ایمان سے خارج نہیں ہوتا اِس) پر مؤمن کا اطلاق کیا جاسکتا ہے۔
بغوی نے لکھا ہے اسی پر دلالت کرتا ہے وہ اثر جو حارث اعور نے بیان کیا ہے کہ حضرت علی ؓ سے دریافت کیا گیا کہ جنگ جمل اور صفین میں جو لوگ آپ کے مقابل تھے کیا وہ مشرک تھے ؟ فرمایا : نہیں ! شرک سے تو وہ بھاگ کر اسلام میں داخل ہوئے تھے۔ سوال کیا گیا : تو کیا وہ منافق تھے ؟ فرمایا : نہیں ! منافق تو اللہ کو یاد نہیں کرتے۔ عرض کیا گیا : تو پھر وہ کون تھے ؟ فرمایا : وہ ہمارے بھائی تھے ‘ جنہوں نے ہمارے خلاف بغاوت کی تھی۔
مسئلہ اگر مسلمانوں کا کوئی گروہ امام (خلیفہ) کے خلاف جمع ہوجائے اور اس کے پاس اجتماعی قوت اور لڑنے والی طاقت بھی ہو تو خلیفہ کو چاہیے کہ اوّل اس کو اطاعت کی دعوت دے اور اس کے اعتراضات دور کر دے پھر اگر وہ کوئی ایسی وجہ ظاہر کریں جس کی وجہ سے انہوں نے امام کے خلاف صف آرائی کی ہے۔ مثلاً امام نے ان پر یا ان کے علاوہ دوسروں پر کچھ ظلم کیا ہو تو ایسے لوگوں سے جنگ کرنی امام کے لیے جائز نہیں بلکہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ ان کے علم بر 1 دران بغاوت کی مدد کریں تاکہ امام ان کے ساتھ انصاف کرے اور ظلم سے باز آجائے۔ (کذا قال ابن الہمام) لیکن بغاوت کو جائز قرار دینے والی کوئی معقول وجہ وہ ظاہر نہ کرسکیں اور لڑنے کے لیے جتھے بند ہوجائیں تو امام کے لیے ان کو قتل کرنا اور ان سے لڑنا جائز ہے۔ (ہذا قول ابی حنیفہ (رح)
امام شافعی (رح) کہتے ہیں کہ جب تک وہ خود جنگ شروع نہ کریں ‘ انکو قتل کرنا جائز نہیں۔ مسلمانوں کو قتل کرنا صرف دفاعی صورت میں جائز ہے اور وہ مسلمان ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے : فَاِنْ بَغَتْ اِحْدَھُمَا عَلَی الْاُخْرٰی فَقَاتِلُوا . امام احمد ‘ امام مالک اور اکثر اہل علم کا یہی قول ہے۔
ہم کہتے ہیں کہ لغت میں بَغٰی کا معنی ہے طلب کرنا۔ اللہ نے فرمایا ہے : ذٰلِکَ مَا کُنَّا نَبْغِیْ (یہی وہ ہے جس کے ہم طلبگار تھے) اس جگہ بَغٰی سے مراد ہے ‘ ان چیزوں کی طلب جو انتظام (اور امن و انصاف) میں مخل ہو۔ جیسے جور ‘ ظلم ‘ احکام شرع کو قبول کرنے سے انکار۔ اس طرح دوسری آیات میں آیا ہے : فَاِنْ اَطَعْنَکُمْ فَلاَ تَبْغُوْا عَلَیْھِنَّ سَبِیْلاً . اگر وہ عورتیں تمہاری اطاعت کریں تو پھر ان کے خلاف کسی طرح کی راہ ظلم تلاش نہ کرو۔
اس لیے مذکورۂ بالا باغیوں سے قتال کرنے کے لیے یہ شرط ضروری نہیں کہ ابتداء قتال باغیوں کی طرف سے ہو۔ رہی یہ بات کہ باغیوں کے پاس فوج اور قوت جنگ ہونا ضروری ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ان کے پاس عسکری طاقت نہ ہو تو پھر ان سے جنگ کرنی غیر ضروری ہے۔ ہم ان کو قید کرسکتے ہیں اور ان کو مار سکتے ہیں۔ اگر ہم جواز قتال کے لیے یہ شرط لازم قرار دیں کہ ابتداء جنگ باغیوں کی طرف سے ہو تو ممکن ہے کہ آئندہ ان کی قوت اتنی بڑھ جائے کہ ہم ان کا دفاع ہی نہ کرسکیں۔
مسئلہ اگر باغیوں کا ایک گروہ ہو تو زخمی باغی پر حملہ کیا جائے (کہ وہ مرجائے) اور جو باغی منہ پھیر کر بھاگ رہا ہو ‘ اس کا پیچھا کیا جائے تاکہ وہ اپنی جماعت سے جا کر مل نہ جائے۔ امام شافعی ‘ امام مالک اور امام احمد کا قول ہے کہ زخمی باغی پر حملہ نہ کیا جائے ‘ نہ بھاگتے ہوئے کا تعاقب کیا جائے کیونکہ جب ان دونوں نے مسلمانوں سے لڑنا چھوڑ دیا تو اب ان کا قتل دفاعی نہیں رہا اور دفاعِ شر کے لیے ہی انکے قتل کا جواز تھا۔ ابن ابی شیبہ نے عبد خیر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت علی ؓ نے جنگ جمل کے دن فرمایا : پشت پھیر کر بھاگتے ہوئے کا تعاقب نہ کرنا اور جو ہتھیار ڈال دے ‘ اس پر حملہ نہ کرنا وہ امن یافتہ ہے۔ یہ جملہ بھی روایت میں آیا ہے کہ قیدی کو قتل نہ کیا جائے۔
ہم کہتے ہیں یہ (زخمی ‘ باغی اور پشت پھیر کر بھاگنے والے) جب اپنے گروہ سے جا کر مل جائیں گے تو شر کا اندیشہ بہرحال باقی رہے گا۔ رہا اہل جمل کے متعلق حضرت علی کا حکم تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جمل والوں کا کوئی (مرکزی) گروہ (کہیں) جمع نہیں تھا۔
حاکم نے مستدرک میں اور بزار نے مسند میں بتوسط کوثر بن حکیم بروایت نافع از ابن عمر ؓ بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے ابن ام عبد ! کیا تم کو معلوم ہے کہ اس امت میں سے اگر کوئی بغاوت کرے تو اللہ نے اس کے متعلق کیا حکم دیا ہے ؟ ابن عمر ؓ نے جواب دیا : اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی زیادہ جانتا ہے۔ فرمایا : زخمی پر حملہ نہ کرو ‘ قیدی کو قتل نہ کیا جائے ‘ اس کے مال کو غنیمت سمجھ کر تقسیم نہ کیا جائے۔ کوثر بن حکیم کی وجہ سے اس روایت کو بزار نے معلل قرار دیا ہے اور ذہبی نے حاکم پر (اس روایت کی وجہ سے) گرفت کی ہے۔ (شاید سہو مفسر یا کسی راوی کی چوک کی وجہ سے بجائے ابن مسعود کے ابن عمر کے حوالہ سے یہ حدیث بیان کی گئی ہے۔ واللہ اعلم بالحقیقۃ۔ مترجم)
مسئلہ علماء کا بالاجماع فیصلہ ہے کہ باغی کے بیوی ‘ بچوں کو باندی غلام نہ بنایا جائے۔ نہ اس کے مال و متاع کو تقسیم کیا جائے بلکہ مال کو قرق کرلیا جائے اور جب تک وہ توبہ نہ کرے ‘ مال کو روکے رکھا جائے۔ ابن ابی شیبہ کا بیان ہے کہ جب حضرت علی ؓ نے حضرت طلحہ ؓ اور ان کے ساتھیوں کو شکست دے دی تو ایک نداء دینے والے کو حکم دیا۔ اس نے نداء کردی کہ اب نہ سامنے سے آنے والے کو قتل کیا جائے ‘ نہ پشت پھیرنے والے کو۔ یعنی شکست دینے کے بعد یہ منادی کرا دی۔ کسی کا دروازہ نہ کھلوایا جائے اور کسی کی شرم گاہ کو حلال نہ سمجھا جائے ‘ نہ کسی کے مال کو (مال غنیمت سمجھ کر حلال سمجھا جائے) عبدالرزاق نے اس روایت میں اتنا زائد بیان کیا ہے کہ حضرت علی ؓ زخمی مقتول (باغی) کا مال نہیں لیتے تھے اور فرماتے تھے جو شخص (مقتول کے مال میں سے) کوئی چیز اپنی شناخت کرلے ‘ وہ لے لے۔
تاریخ واسط میں آیا ہے کہ حضرت علی ؓ نے جنگ جمل کے دن فرمایا : پشت پھیرنے والے کا پیچھا نہ کرو اور کسی زخمی پر (اس کو قتل کردینے کے ارادہ سے) سخت حملہ نہ کرو اور کسی قیدی کو قتل نہ کرو اور (باغیوں کی) عورتوں سے الگ رہو خواہ وہ تم کو سخت سست کہیں اور تمہارے حاکموں کو گالیاں ہی دیں۔
مسئلہ اگر باغیوں سے چھینے ہوئے ہتھیاروں کے ذریعہ سے باغیوں سے لڑنے کی ضرورت ہو تو امام کے طرفداروں کو ان ہتھیاروں سے کام لینا جائز ہے ‘ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اسی طرح باغیوں کی سواریوں پر سوار ہو کر بھی باغیوں سے جنگ کی جاسکتی ہے۔ امام شافعی ‘ امام مالک (رح) اور امام احمد کا مسلک اس کے خلاف ہے۔ ان بزرگوں کے نزدیک باغیوں کے ہتھیاروں اور سواریوں کا استعمال ناجائز ہے۔ ہمارے قول کی دلیل وہ روایت ہے جو ابن ابی شیبہ نے مصنف کے آخر میں بیان کی ہے کہ جمل میں اونٹوں اور گھوڑوں پر سوار ہو کر باغی آئے تھے اور جو ہتھیار انہوں نے استعمال کیے۔ حضرت علی ؓ نے (باغیوں کی شکست کے بعد) وہ اپنے لشکر کو تقسیم کردیئے تھے۔ صاحب ہدایہ نے لکھا ہے : یہ تقسیم استعمال کرنے کے لیے تھی ‘ مالک بنانے کے لیے نہیں تھی کیونکہ باتفاق علماء باغیوں کے مال کا (فاتح لشکر یا خلیفہ) مالک نہیں ہوسکتا۔
مسئلہ باغیوں نے دوران جنگ وفاداران امام کا جو جانی و مالی نقصان کردیا ہو اور اس کی کوئی وجہ شرعی (باغیوں کے خیال میں) ہو اور ان کے پاس (فوجی و انتظامی) طاقت بھی ہو تو امام مالک ‘ امام ابوحنیفہ (رح) اور امام شافعی کا (آخری راجح) قول نیز امام محمد کا ایک قول یہ ہے کہ اس کا کوئی معاوضہ نہیں ہوگا۔ شافعی (رح) اور احمد کا دوسرا قول اس کے خلاف ہے۔
ابن شہاب زہری نے لکھا ہے کہ اس فتنہ میں بڑی خونریزی ہوئی ‘ جس میں بعض موقعوں پر قاتل اور مقتول کی شناخت بھی ہوگئی اور بکثرت مال بھی ضائع ہوا۔ لیکن جب لڑائی ختم ہوگئی اور فتنہ ٹھنڈا پڑگیا اور باغیوں پر خلیفہ کا اقتدار ہوگیا تو میں نہیں جانتا کہ کسی سے قصاص لیا گیا ہو یا کسی سے تلف شدہ مال کا تاوان وصول کیا گیا ہو۔
مسئلہ اگر کسی باغی نے امام کے کسی وفادار کو قتل کردیا اور وہ مدعی ہے کہ میں نے یہ قتل ٹھیک کیا اور میرا یہ فعل برحق ہے تو قاتل مقتول کا وارث ہوگا اور اگر وہ اپنی غلطی کا اعتراف کر رہا ہے تو وارث نہ ہوگا اور اگر امام کا کوئی وفادار کسی باغی کو قتل کر دے تو باجماع علماء قاتل ‘ مقتول کا وارث ہوسکتا ہے۔
مسئلہ اطاعت امام سے خارج ہونے والوں کے پاس (ان کے خیال میں بھی) لوگوں کو قتل کرنے ‘ رہزنی کرنے اور مال لوٹنے کی کوئی شرعی وجہ نہ ہو تو ان کے پاس خواہ فوجی طاقت ہو ‘ مگر رہزن اور ڈاکو قرار دیا جائے گا۔ ان کا حکم سورة مائدہ میں ذکر کیا جا چکا ہے کہ ان کو قتل کیا جائے اور صلیب پر لٹکایا جائے یا ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے جائیں اور بستی سے نکال دیا جائے۔
مسئلہ ا طاعت امام سے سرکشی کرنے والے کے پاس اگر فوجی اور انتظامی طاقت نہ ہو تو مطابق حکم خدا اس کو قید کردیا جائے۔ جسمانی مار لگائی جائے اور اس طرح کی دوسری سزا دی جائے مگر قتل کرنا جائز نہیں ہے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت علی ؓ نے سنا کوئی شخص مسجد کے گوشہ میں کہہ رہا تھا : لَا حُکْمَ الاَِّ ﷲِ .(اللہ کے سوا کسی کا حکم جائز نہیں) فرمایا : بات تو سچی ہے لیکن اس کا مطلب غلط نکالا گیا ہے۔
تمہارے ہم پر تین حق ہیں : مسجدوں میں اللہ کا ذکر کرنے (یعنی نماز پڑھنے) سے ہم تم کو نہیں روکیں گے ‘ جب تک تمہارے ہاتھ ہمارے ہاتھوں کے ساتھ ہوں گے (یعنی جب تک تم ہمارے وفادار ہو گے) ہم مال غنیمت میں حصہ دار ہونے سے تم کو نہیں روکیں گے ہم تم سے لڑنے (اور تم کو قتل کرنے) کی ابتداء نہیں کریں گے۔ محمد (رح) نے کہا ہم کو بھی حضرت علی کا یہ اثر اسی طرح پہنچا ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ حضرت ثابت ؓ بن قیس کے کانوں میں کچھ گرانی تھی (یعنی گرانگوش اور بہرے تھے) جب رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں حاضر ہوتے اور پہلے سے لوگ وہاں بیٹھے ہوئے ہوتے (اور جگہ تنگ ہوتی) تو لوگ آپ کو (آگے) جگہ دے دیتے تھے تاکہ آپ ؓ رسول اللہ ﷺ کے ارشادات سن سکیں۔ ایک روز آپ فجر کی نماز میں اس وقت آئے جب ایک رکعت ہوچکی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے نماز ختم کی تو صحابہ کرام ؓ جگہ کی تنگی کی وجہ سے اپنے ‘ اپنے مقام پر جم کر بیٹھے رہے۔ مجلس اتنی تنگ تھی کہ کوئی (خود سمٹ کر) دوسرے کے لیے گنجائش نکال نہیں سکتا تھا۔ آنے والے کو جب بیٹھنے کی جگہ نہیں ملتی تھی تو وہ کھڑا رہتا تھا۔ حضرت ثابت ؓ جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی طرف کو بڑھے اور لوگوں سے فرمایا : جگہ دو ‘ گنجائش کرو۔ لوگ آپ کو دیکھ کر سمٹنے اور گنجائش دینے لگے۔ اس طرح آپ ؓ رسول اللہ ﷺ کے قریب تک پہنچ گئے۔ آپ کے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان صرف ایک آدمی رہ گیا۔ حضرت ثابت ؓ نے اس سے بھی فرمایا : مجھے جگہ دے۔ اس شخص نے کہا : آپ کو جگہ تو مل گئی ‘ یہیں بیٹھ جائیے۔ حضرت ثابت ؓ اس آدمی کے پیچھے غصہ کے ساتھ بیٹھ گئے۔ یہ بات آپ کو کھلی بہت ‘ جب تاریکی چھٹ گئی اور روشنی ہوگئی تو ثابت ؓ نے اس شخص کو دبایا اور پوچھا : یہ کون شخص ہے ؟ اس نے کہا : میں فلاں شخص ہوں۔ ثابت ؓ نے کہا : فلاں عورت کا بیٹا۔ حضرت ثابت ؓ نے اس شخص کے وہ (مادری) عیوب بیان کیے جو جاہلیت کے زمانہ میں طنزیہ طور پر اس کے لیے کہے جاتے تھے۔ اس شخص نے شرمندہ ہو کر سر جھکا لیا۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
Ayah 49:11یایھا الذین امنوا لا یسخر قوم من قوم . اے ایمان والو ! مردوں کو مردوں پر ہنسنا نہیں چاہیے۔
قاموس میں ہے : ” قوم “ مردوں اور عورتوں کی مخلوط جماعت یا صرف مردوں کی جماعت پر قوم کا اطلاق ہوتا ہے اور عورتیں ضمنی طور پر مردوں کے ساتھ شامل ہوتی ہیں۔
صاحب صحاح نے لکھا : قوم اصل میں صرف مردوں کی جماعت کو کہا جاتا ہے۔ عورتوں کی جماعت کو نہیں کہا جاتا۔ جوہری نے اسی آیت کو دلیل میں پیش کیا ہے کیونکہ نِسَاءٌ کا قَوْمٌ پر عطف کیا گیا ہے (اور عطف مغایرت کو چاہتا ہے) ایک شاعر کا شعر ہے۔
وما ادری ولَسْتُ اخال ادری اَقَوْمٌ اٰلُ حصنٍ اَمْ نِسَآءٌ
” میں نہیں جانتا کہ قبیلہ حصن والے مرد ہیں یا عورتیں۔ “
آیات قرآنی میں لفظ قوم کا اطلاق مردوں اور عورتوں کے مجموعہ پر ہوا ہے اور حقیقی اطلاق بقول صاحب مدارک مردوں پر ہی ہوتا ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے : قوم مصدر ہے بطور صفت جمع میں اس کا استعمال عام ہے یا قائم کی جمع ہے جیسے زائر کی جمع زورٌ آتی ہے اور (بڑے بڑے) کاموں کی سر انجام دہی چونکہ مردوں کا فریضہ ہے اس لیے مردوں کی جماعت کی صفت کے طور پر اس کا استعمال ہوتا ہے اور قوم لوط ‘ قوم نوح ‘ قوم ہود اور بعض دوسرے مقامات پر جو قوم کے لفظ کی تفسیر جماعت مردان و زنان کے مجموعہ سے کی گئی ہے تو اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ (قوم کا لفظ اگرچہ صرف مردوں کے لیے آتا ہے لیکن) تغلیباً یہ لفظ عورتوں کو بھی شامل قرار دیا گیا ہے یا یہ ہے کہ مردوں کا ذکر کافی سمجھا گیا۔ ذیلی طور پر عورتیں تو ان کے ساتھ آ ہی گئیں ‘ رہ گئی جماعت کو دوسری جماعت کے ساتھ استہزاء کی ممانعت کی وجہ تو ظاہر ہے کہ مجالس میں ہی (اکثر) ایسا کیا جاتا ہے۔
عسی ان یکونوا خیرا منھم . ہوسکتا ہے کہ جن کا مذاق بنایا گیا ہو وہ مذاق بنانے والوں سے بہتر ہوں۔
ولا نساء من نساء . اور نہ عورتوں کو عورتوں پر (ہنسنا چاہیے) ۔
عسی ان یکن خیرا منھن . ہوسکتا ہے کہ مذاق کرنے والیوں سے وہ عورتیں بہتر ہوں جن کا مذاق اڑایا جا رہا ہو۔
نِسَاءٌ کا عطف قومٌ پر ہے جب کہ قوم سے مراد ہوں مرد (اگر قوم سے مراد مردوں اور عورتوں کی مخلوط جماعت ہو تو) عورتوں کے عورتوں سے مذاق کرنے کی ممانعت پہلے ضمناً آگئی تھی لیکن قوت کے ساتھ ممانعت کو ظاہر کرنے کے لیے دوبارہ ممانعت کی صراحت کردی۔ عورتوں کو صراحت کے ساتھ ممانعت کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عورتیں ہی اپنی جہالت اور دانش و فہم کی کمزوری کی وجہ سے اکثر اس مرض میں مبتلا ہوتی ہیں۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت انس ؓ نے فرمایا کہ اس فقرہ کا نزول ان امہات مؤمنین کے حق میں ہوا جو حضرت ام سلمہ ؓ پر پست قامت ہونے کا طنز کرتی تھیں۔
عکرمہ ؓ راوی ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس آیت کا نزول حضرت صفیہ ؓ بنت حیی بن اخطب کے حق میں ہوا۔ امہات المؤمنین ؓ نے حضرت صفیہ کو یہودن ‘ یہودی ماں باپ کی بیٹی کہا تھا۔ ایک اور روایت میں آیا ہے کہ (جب حضرت صفیہ ؓ نے اس کی شکایت رسول اللہ ﷺ سے کی تو) حضور ﷺ نے فرمایا : تم نے کیوں نہیں کہہ دیا کہ میرے باپ ہارون اور میرے چچا موسیٰ اور میرے شوہر محمد ﷺ (علیہم السلام) ہیں۔
ولا تلمزوا انفسکم ولا تنابزوا بالالقاب .
اور نہ ایک دوسرے کو طعنہ دو اور نہ ایک دوسرے کو برے لقب سے پکارو۔
لَمْزٌ : زبان سے طعن کرنا یعنی کوئی کسی پر عیب نہ لگائے (عار نہ دلائے) ۔
تَنَابُزْ : (باب تفاعل) نبز کا معنی ہے لقب۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ نبز صرف برے لقب کو کہتے ہیں۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے : تنابز : باہم عار دلانا اور (برے) لقب سے ایک کا دوسرے کو پکارنا۔ یعنی کوئی کسی کو برے لقب سے نہ پکارے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ عکرمہ ؓ نے کہا : تنابز بالالقاب یہ ہے کہ کوئی کسی سے کہے : اے فاسق ! اے منافق ! اے کافر۔
حسن نے کہا : یہودی اور عیسائی مسلمان ہوجاتے تھے تب بھی (کچھ) لوگ ان سے کہتے تھے : اے یہودی ‘ اے عیسائی۔ اس کی ممانعت کردی گئی۔ عطاء نے کہا : کسی کو اے گدھے ! اے سؤر کہنا تنابز لقب ہے۔ ایک روایت میں حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے کہ تنابز کا یہ مطلب ہے کہ کسی شخص نے کوئی برا عمل کیا ہو پھر توبہ کرلی ہو لیکن لوگ گزشتہ برے عمل کی اس کو عار دلائیں ‘ اس کی ممانعت اس جملہ میں کردی گئی۔
چاروں اصحاب السنن نے حضرت ابو جبیرہ بن ضحاک کا قول نقل کیا ہے کہ بعض آدمیوں کے دو یا تین نام ہوتے ہیں (کوئی برا ‘ کوئی اچھا) بعض لوگ اس کو برے نام سے پکارتے تھے۔ اس پر آیت : وَلَا تَنَابَزُوْا بالْاَلْقَابِنازل ہوئی۔ ترمذی نے اس روایت کو حسن کہا ہے۔ امام محمد (رح) کی روایت میں ابوجبیرہ کا قول اس طرح آیا ہے۔ آیت : ولا تنابزوا بالالقاب خصوصیت کے ساتھ بنی سلمہ کے متعلق نازل ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ میں تشریف لائے تو مدینہ والوں میں سے ہر شخص کے دو دو یا تین تین نام ہوتے تھے جب کوئی شخص دوسرے کو ان ناموں میں سے کوئی نام لے کر پکارتا تھا (اور وہ ناراض ہوتا تھا) تو لوگ کہتے تھے یا رسول اللہ ﷺ ! یہ اس نام سے چڑتا ہے۔ اس پر آیت مذکورہ کا نزول ہوا۔
بئس الاسم الفسوق بعد الایمان ومن لم یتب فاولئک ھم الظالمون . ایمان لانے کے بعد
گناہ کا نام لگنا ہی برا ہے اور جو (ان حرکتوں سے) باز نہیں آئیں گے تو وہ بلاشبہ ظلم کرنے والے ہیں۔ یعنی توبہ کرنے کے بعد کسی کو یہودی یا فاسق یا شرابی کہنا برا ہے۔
حضرت ابوذر ؓ : کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو کوئی کسی کو فسق یا کفر کی طرف منسوب کرے گا (یعنی فاسق یا کافر کہے گا) اگر وہ ایسا نہ ہوا تو وہ قول کہنے پر لوٹ پڑے گا (یعنی کہنے والا فاسق یا کافر ہوجائے گا) ۔ (رواہ البخاری)
حضرت ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے اپنے بھائی کو کافر کہا تو دونوں میں سے ایک پر یہ کلمہ لوٹے گا (یعنی یا کہنے والا کافر ہوجائے گا یا جس کو کافر کہا ہے وہ و اقع میں کافر ہوگا) ۔ (متفق علیہ)
حضرت ابوذر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے کسی کو کفر کی طرف منسوب کیا یا دشمن خدا کہا اور واقع میں وہ ایسا نہ ہوا تو وہ قول کہنے والے پر پڑجائے گا۔ (متفق علیہ)
بعض اہل تفسیر نے آیت کا مطلب اس طرح بیان کیا ہے ‘ کسی کا مذاق اڑانا ‘ طعن کرنا ‘ برے نام سے پکارنا فسق ہے اور ایمان کے بعد فاسق ہونا برا نام ہے۔ اس لیے تم ایسا کام نہ کرو کہ تم کو اس کی وجہ سے فسق کے نام سے موسوم کیا جائے۔
حضرت ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مسلمان کو گالی دینا فسق (گناہ کبیرہ) ہے اور مسلمان کو قتل کرنا کفر ہے۔ (متفق علیہ) یہ حدیث ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت سعد کی روایت سے اور طبرانی نے حضرت عبداللہ بن مغفل اور حضرت عمر بن نعمان بن مقرن کی روایت سے اور داراقطنی نے حضرت جابر کی روایت سے بیان کی ہے۔ طبرانی نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے اتنا زائد نقل کیا ہے اور مسلمانوں کے مال کی حرمت اس کے خون کی حرمت کی طرح ہے۔
وَمَنْ لَّمْ یَتُبْ : اور جس نے مذاق بنانے ‘ طنز کرنے اور برے لقب سے کسی کو یاد کرنے سے توبہ نہ کی تو وہ ظالم ہے (ظلم کا معنی ہے کسی کو اس کے اصل مقام سے ہٹا کر بےمحل رکھ دینا ‘ مترجم) طاعت کی جگہ معصیت کو رکھتا ہے اور نفس کو (نجات کے بجائے) عذاب کے لیے پیش کرتا ہے۔
مسائل کسی محصن (پاک دامن) آزاد مسلمان کو زنا کی طرف منسوب کرنا (اور پھر ثابت نہ کر سکنا) حدِّ قذف (اسّی کوڑے) کا موجب ہے اور اگر غیر محصن مثلاً غلام یا کافر ہو اور اس کو متہم بالزنا کیا جائے تو حدِّ قذف جاری نہ ہوگی۔ تعزیر کی جائے گی کیونکہ غیر محصن کا درجہ محصن سے کم ہے اور تہمت زنا سے آبروریزی ہوتی ہے اور بری بات پھیلتی ہے۔
اگر محصن کو زنا کے علاوہ کسی اور حرام فعل کی طرف منسوب کیا جائے تو تعزیر واجب ہے ‘ حدِّ قذف جاری نہیں ہوگی اور تعزیر بھی اس وقت جاری ہوگی جب تہمت تراشی کسی ایسے فعل کے ارتکاب کی ہو جو باختیار کیا گیا ہو اور شرعاً حرام ہو اور عرف (عمومی رسم و رواج) میں اس کو عار سمجھا جاتا ہو۔ ورنہ تعزیر بھی جاری نہ ہوگی۔ ہاں ! اگر اس تہمت سے کسی شریف آدمی کی آبروریزی ہو تو بہرحال تعزیز جاری ہوگی۔ مثلاً کسی نے مسلمان (صالح) کو فاسق یا کافر یا خبیث یا چور یا فاجر یا مخنث یا خائن یا بےدین یا لٹیرا یا گرہ کٹ یا دیوث یا شرابی یا سود خوار کہا تو تعزیر کا مستحق قرار پائے گا۔
ابن ہمام نے لکھا ہے کہ ایک شخص نے کسی کو ” یا مخنث “ کہا تو رسول اللہ ﷺ نے اس پر تعزیر جاری کی۔ ھَکَذا رُوِیَ.
اگر کسی کو اے گدھے یا سور یا کتے یا مینڈھا یا پچنے لگانے والا کہا تو تعزیر جاری ہوگی۔
بعض اہل علم کی رائے ہے کہ صورت مذکورہ میں تعزیر نہ ہوگی۔ ہاں ! اگر کسی عالم یا علوی یا نیک صالح آدمی کو ایسا کہا تو تعزیر ہوگی۔ اگر کسی کو گوٹے باز (شطرنج باز ‘ چوسر باز وغیرہ) یا محصل ٹیکس کہا تو تعزیر نہ ہوگی۔ اگرچہ یہ فعل شرعاً ممنوع ہیں لیکن عرف عام میں ان کو عیب نہیں شمار کیا جاتا۔
مسئلہ تعزیری سزا کتنی ہونی چاہیے ؟ امام ابوحنیفہ ؓ : اور امام شافعی ؓ نے کہا : تعزیری سزا ادنیٰ حد سے بھی کم ہوگی۔ امام صاحب کے نزدیک شراب پینے کی ادنیٰ حد غلام کے لیے چالیس تازیانہ ہیں ‘ اس سے تعزیری سزا کم ہونی چاہیے) امام ابو یوسف (رح) کے نزدیک شراب کی حد آزاد مسلمان کے لیے اسّی تازیانے ہے (لہٰذا اسّی تازیانوں سے تعزیر کم ہونی چاہیے) امام شافعی (رح) اور امام احمد (رح) کے نزدیک ادنیٰ حد بیس تازیانے ہیں (تعزیز اس سے کم ہونا چاہیے) ۔ امام مالک (رح) نے فرمایا : حاکم وقت کو اختیار ہے تعزیر میں جتنے تازیانے مناسب سمجھے لگوائے ‘ کوئی تعداد مقرر نہیں۔
اگر شرمگاہ کے علاوہ جماع کیا تو امام احمد (رح) کے نزدیک اعلیٰ حد اور ادنیٰ حد کے درمیان تعزیری سزا دی جائے۔ ادنیٰ حد سے زائد اور اعلیٰ سے کم۔
اجنبی عورت کا بوسہ لینے ‘ کسی کو گالی دینے یا نصاب سرقہ سے کم چوری کرنے پر تعزیر کی جائے گی لیکن اتنی کہ ادنیٰ حد تک نہ پہنچے۔ واللہ اعلم۔
بغوی نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی جہاد یا سفر میں تشریف لے جاتے تو ایک ایک غریب آدمی کو دو دو مالدار آدمیوں کی خدمت کرنے کے لیے مقرر فرما دیتے اور دو مالداروں کے ساتھ تیسرے غریب کو ملا دیتے تھے۔ غریب خادم آگے جا کر دونوں مالداروں کے اترنے کا مقام درست کردیتا تھا اور کھانے ‘ پینے کی چیزیں بھی فراہم کردیتا تھا۔ ایک بار حضرت سلمان فارسی کو دو آدمیوں کے کام پر مامور کیا۔ حضرت سلمان ؓ : آگے بڑھ کر کسی فرودگاہ پر پہنچے اور وہاں جا کر سو رہے۔ اپنے دونوں ساتھیوں کے لیے کھانے پینے کا سامان فراہم نہ کر پائے۔ جب آپ سے ان دونوں آدمیوں نے پوچھا کہ تم نے کوئی چیز فراہم نہیں کی تو حضرت سلمان ؓ نے کہا : مجھے ایسی نیند آگئی کہ میں کچھ نہ کرسکا۔ ان دونوں نے کہا : تو اب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جاؤ اور ہمارے لیے حضور ﷺ سے کھانا عطا کرنے کی درخواست کرو۔ ساتھیوں کے کہنے کے مطابق حضرت سلمان ؓ نے جا کر حضور ﷺ سے عطاء طعام کی درخواست کی۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : اُسامہ بن زید (رسول اللہ ﷺ کے متبنّٰی) سے جا کر کہو اگر کچھ طعام و ادام (سالن) بچا ہوا ہوگا تو وہ دے دیں گے۔ حضرت اسامہ ؓ رسول اللہ ﷺ کے خازن بھی تھے اور پڑاؤ کے مہتمم بھی۔ حضرت سلمان ؓ نے حضرت اسامہ ؓ سے جا کر درخواست کی۔ حضرت اسامہ ؓ نے کہا : میرے پاس تو کچھ نہیں ہے۔ حضرت سلمان ؓ نے واپس آکر ساتھیوں کو اسامہ ؓ کے قول کی اطلاع دے دی۔ ساتھیوں نے کہا : اسامہ ؓ کے پاس کھانا تو تھا لیکن انہوں نے بخل سے کام لیا۔ اس کے بعد حضرت سلمان کو صحابہ کی ایک جماعت کے پاس بھیجا گیا لیکن وہاں سے بھی کچھ نہ ملا۔ سلمان ؓ ناکام لوٹ آئے۔ حضرت سلمان ؓ کے ساتھیوں نے کہا اگر ہم (تم کو) کسی جاری کنویں کی طرف (پانی کے لیے) بھیجیں گے تو وہ بھی سوکھ جائے گا۔ پھر یہ لوگ اسامہ ؓ کے پاس جستجو کے لیے آئے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسامہ کو جو طعام و ادام دینے کا حکم دیا تھا کیا واقعی وہ اسامہ ؓ کے پاس موجود نہیں تھا۔ (یا تھا اور انہوں نے بخل سے کام لیا) جب حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں یہ لوگ حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا : کیا وجہ ہے کہ گوشت کی خوشبو تمہارے منہ سے آتی مجھے محسوس ہو رہی ہے ؟ دونوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! خدا کی قسم ہم نے تو آج دن بھر گوشت نہیں کھایا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : تم غلط کہہ رہے ہو۔ تم سلمان ؓ اور اسامہ کا گوشت کھاتے رہے ہو۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
Ayah 49:12یایھا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم ولا تجسسوا ولا یغتب بعضکم بعضا ایب احدکم ان یا کل لحم اخیہ میتا فکرھتموہ .
اے ایمان والو ! بہت سے گمانوں سے بچو کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں اور (کسی کی) ٹوہ میں نہ لگے رہا کرو اور کوئی کسی کی غیبت بھی نہ کیا کرے۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے ‘ اس کو تم ناگوار سمجھتے ہو۔
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا : سیوطی نے لکھا ہے کہ قصۂ مذکورہ ثعلبی نے بغیر سند کے ذکر کیا ہے اور اصبہانی نے ترغیب میں عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کی روایت سے اس کے ہم معنی قصہ بیان کیا ہے۔ ابن المنذر نے ابن جریج کی روایت سے بیان کیا ہے۔ اہل روایت کا خیال ہے کہ آیت : وَلاَ یَغْتَبْ بَعْضُکُمْ بَعْضًا حضرت سلمان فارسی ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔ حضرت سلمان فارسی ؓ (کھانا) کھا کر سو رہے تھے۔ اس قدر کہ خراٹے لینے لگے تھے۔ دونوں ساتھیوں نے آپ ہی کے کھانے اور سونے کا ذکر کیا تھا۔
اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمَ : اثم وہ گناہ جس کا مرتکب مستحق سزا ہو۔ اِثْمٌ اصل میں وِثْمٌ تھا۔ اس کا مضارع یَثِمُ آتا ہے۔ گناہ بھی اعمال (صالحہ) کو شکستہ کردیتا ہے۔ ظَنّ سے مراد اس جگہ عدم یقین ہے۔ خواہ جانب وجود راجح ہو یا نہ ہو (گویا ظن کے اندر گمان غالب اور شک اور وہم سب داخل ہیں) تحقیق مقام یہ ہے کہ ظن کی چند قسمیں ہیں :
123
) وہ ظن جس کا اتباع واجب ہے جیسے اللہ پر اور مسلمان عورتوں ‘ مردوں کے متعلق اچھا ظن رکھنا یا ایسی دلیل شرعی کا اتباع کرنا جو قطعی نہ ہو۔ اس کی قطعیت میں شبہ ہو (اس کا اتباع بھی واجب ہے) اتباع کا یہ حکم تو عملی مسائل میں ہے۔ رہے علمی (اور اعتقادی) مسائل جن کا تعلق دنیا اور آخرت کے احوال سے ہے تو ایسے علمی مسائل کے خلاف اگر کوئی دلیل قطعی موجود نہ ہو تو ان کو ماننا اور ان پر چلنا بھی واجب ہے۔
2) وہ ظن جس کا اتباع حرام ہے جیسے مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کے متعلق بدگمانی رکھنا۔ خصوصاً صالحین (نیک لوگوں) پر بدگمانی کرنا یا الہٰیات اور نبوت کے مسائل پر یقین نہ کرنا ‘ ظن کرنا یا ان مسائل کا اتباع کرنا جن کے خلاف قطعی دلائل موجود ہوں۔
3) دونوں مذکورۂ بالا کے علاوہ بعض امور کے متعلق ظن کرنا۔ بعض گناہ ظن کی قسم دوئم میں شمار کیے جاتے ہیں۔ کثیر ظنیات سے پرہیز رکھنے کا حکم احتیاطی ہے اور اکثر گمانوں سے اجتناب رکھنے پر زور دینا مقصود ہے۔ اس لیے جس بات میں گناہ ہونے کا شبہ بھی ہو ‘ اس کو ترک کرنا ضروری ہے۔ حدیث مبارک میں آیا ہے۔ حلال کھلا ہوا ہے ‘ حرام کھلا ہوا ہے اور دونوں کے درمیان کچھ امور مشتبہ ہیں (جن سے پرہیز کرنا احتیاط کا تقاضا ہے) الیٰ آخر الحدیث۔
وَلاَ تَجَسَّسُوْا : جَسٌّ ہاتھ سے چھونا۔ تجسس خبروں کی ٹوہ میں رہنا جیسے لَمْسٌ : چھونا اور تَلَمُّسٌ : ٹٹولنا۔ مطلب یہ ہے کہ
لوگوں کے عیوب کی کرید مت کرو اور ان کی چھپی ہوئی باتیں معلوم کرنے کے پیچھے نہ پڑجاؤ۔ اللہ نے ان کے عیوب پر جب پردہ ڈال دیا ہے تو تم بھی ان کی پردہ کشائی نہ کرو۔
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (بد) گمان سے پرہیز رکھو۔ (بد) گمان سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ کسی کے عیب کی ٹوہ میں نہ لگو۔ باہم نفرت نہ کرو۔ آپس میں بغض و حسد مت کرو۔ ایک دوسرے کی طرف پشت نہ موڑ لو (یعنی عداوت اور نفرت کی وجہ سے دوسرے کی طرف سے روگردانی نہ کرو) اور سب اللہ کے بندے (اور) بھائی بھائی ہوجاؤ۔ کوئی شخص اپنے بھائی کے پیام نکاح پر اپنا پیام نکاح نہ دے۔ یہاں تک کہ اس کا نکاح مکمل ہوجائے یا (لڑکی والوں کی طرف سے) انکار ہوجائے۔ رواہ مالک و احمد و ابن ماجہ و ابوداؤد والترمذی۔ ترمذی (رح) نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔
حضرت ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے ان (منافق) لوگوں کے گروہ جو زبانوں سے تو ایمان لے آئے لیکن انکے دلوں میں ایمان ابھی نہیں پہنچا۔ مسلمانوں کی غیبت نہ کرو اور انکی چھپی باتیں معلوم کرنے کے در پے نہ ہو۔ جو مسلمانوں کی پوشیدہ باتوں (کے جاننے) کے در پے ہوگا اللہ اسکی پوشیدہ باتوں کو کھولنے کے در پے ہوجائے گا ‘ پھر اس کو رسوا کر دے گا۔ خواہ اسکی کی ہوئی پوشیدہ باتیں کجاوے کے جوف کے اندر کی گئی ہوں۔ رواہ الترمذی و ابن حبان۔ ترمذی نے اس روایت کو حسن کہا ہے۔
زید بن وہب کا بیان ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ سے کہا گیا : کیا آپ کو ولید بن عقبہ کی حالت کا علم ہے جب کہ اسکی ڈاڑھی سے شراب ٹپک رہی تھی ؟ فرمایا : ہم کو تجسّس احوال سے منع کردیا گیا ہے۔ اگر کوئی بات بھی ہم پر ظاہر ہوجائے گی تو ہم اسکی گرفت کریں گے۔
وَلَا یَغْتَبْ.... یعنی کوئی کسی کو اس کی غیر موجودگی میں برا نہ کہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا (ہوتی) ہے ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ نے جواب دیا : اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی بخوبی واقف ہیں۔ فرمایا : (اگر) تم اپنے بھائی کا (غائبانہ) اس طرح ذکر کرو جو اس کو ناگوار ہو (تو یہ غیبت ہے) ۔ عرض کیا گیا : (حضور ﷺ دیکھئے اگر میرے بھائی میں وہ (عیب) ہو جو میں کہہ رہا ہوں (تو کیا یہ بھی غیبت ہوگی ؟ ) فرمایا : اگر اس کے اندر وہ (بری) باتیں ہیں جو تم کہہ رہے ہو تو یہ غیبت ہوئی اور اگر جو باتیں تم کہہ رہے ہو ‘ اس میں نہیں تو تم نے اس پر تہمت لگائی (یہ تہمت ہے) ۔ (متفق علیہ)
حضرت عمرو بن شعیب ؓ کے دادا کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے لوگوں نے ایک شخص کا ذکر کیا اور کہا جب تک اس کو کھلایا نہ جائے وہ کھاتا نہیں اور جب تک اس کو سوار نہ کیا جائے وہ سوار نہیں ہوتا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : تم نے اس کی غیبت کی۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا : ہم نے وہی بات کہی جو اس میں ہے۔ فرمایا : غیبت ہونے کے لیے یہی بات کافی ہے کہ تم ان باتوں کا ذکر کرو جو اس کے اندر ہیں۔ (رواہ البغوی)
اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنْ یَّاْکُلَ لَحْمَ اَخِیْہِ مَیْتًا : یہ غیبت کرنے کی قباحت کی پرزور تصویر کھینچی گئی ہے اور غیبت کرنے والا جو دوسرے کی آبرو اور عزت برباد کرتا ہے ‘ اس کو قبیح ترین شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ استفہام انکاری ہے جو نفی کو پختہ کر رہا ہے۔ فعل محبت کی نسبت (مضاف فاعلی) اَحَدٌ کی طرف تعلیق کے ساتھ کی گئی اور تعلیق محبت ایسی چیز سے کی ہے جو انتہائی مکروہ اور خبیث ہے (یعنی انسان کا گوشت) اور انسان بھی وہ جو بھائی ہو اور بھائی بھی مردہ) ۔
فَکَرِھْتُمُوْہُ : یعنی اگر مردہ بھائی کا گوشت تمہارے سامنے لایا جائے اور تم سے کھانے کو کہا جاے تو تم اس کو مکروہ اور قابل نفرت سمجھو گے اور اس کراہت کا انکار تمہارے لیے ممکن نہیں۔
مجاہد نے کہا جب اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ..... کہا گیا تو گویا ان کی طرف سے جواب ملا کہ ہم تو اس کو گوارا اور پسند نہیں کرسکتے۔ تو اس پر کہا گیا : جب تم اسکو برا سمجھتے ہو تو اپنے بھائی کی پیٹھ پیچھے برائی کے ساتھ اس کا ذکر بھی نہ کرو۔ مطلب اوپر کی تشریح کا بھی یہی ہے۔
حضرت انس ؓ بن مالک راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب (معراج میں) مجھے لے جایا گیا تو میرا گزر کچھ ایسے لوگوں کی طرف سے ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان ناخنوں سے اپنے چہروں کو اور گوشت کو کھرونچ رہے تھے۔ میں نے کہا : یہ کون لوگ ہیں ؟ (جبرئیل ( علیہ السلام) نے) کہا : یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے تھے۔ ان کی پس پشت برائی کر کے ان کی آبروریزی کرتے تھے۔ (رواہ البغوی)
میمون کا بیان ہے (ایک روز) میں سو رہا تھا۔ خواب میں ایک حبشی کی سڑی ہوئی لاش میرے سامنے لائی گئی اور کسی نے مجھ سے کہا : اس کو کھا۔ میں نے کہا : کیوں کھاؤں ؟ کہنے والے نے کہا : تو نے فلاں شخص کے غلام کی غیبت کیوں کی تھی ؟ میں نے کہا : خدا کی قسم میں نے تو نہ اس کی اچھائی کا ذکر کیا نہ برائی کا۔ کہنے والے نے کہا : مگر تو نے اس کی برائی کا ذکر سنا تو تھا اور (دِل سے) اس کو پسند کیا تھا۔ (اس کے بعد) میمون کسی کی غیبت نہ تو خود کرتے تھے ‘ نہ کسی کی غیبت اپنے سامنے کرنے دیتے تھے۔
حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : میں نے عرض کیا : صفیہ ایسی ایسی ہیں یعنی پست قامت ہے۔ یہی اس کا عیب کافی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تو نے ایسی بات کہی کہ اگر سمندر میں اس کو مخلوط کردیا جائے تو سمندر کو کڑوا کر دے۔ (رواہ احمد و ابوداؤد والترمذی)
حضرت ابوسعید خدری ؓ اور حضرت جابر کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : غیبت زنا سے بھی زیادہ سخت (بہت بری) ہے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! غیبت زنا سے بھی زیادہ سخت کیسے ہوسکتی ہے ؟ فرمایا : آدمی زنا کرتا ہے پھر توبہ کرلیتا ہے ‘ اللہ اسکو معاف کردیتا ہے لیکن غیبت کرنے والے کو تو اللہ اس وقت تک معافی نہیں دیگا جب تک وہ شخص معاف نہ کر دے جس کی غیبت کی گئی ہو۔
غیبت کا کفارہ
حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : غیبت کا اتار یہ ہے کہ جس کی غیبت کی ہو اس کے لیے دعاء مغفرت کرے اور یوں کہے : اے اللہ ! تو مجھے بخش دے اور اس کو بھی۔ (رواہ البیہقی)
خالد بن معدان نے حضرت معاذ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے اپنے بھائی کے کسی گناہ کا (یعنی اس گناہ کا جس سے اس نے توبہ کرلی ہو) ذکر کر کے اس کو عار دلائی وہ اپنے مرنے سے پہلے خود اس گناہ کا مرتکب ہوگا۔ (رواہ الترمذی) خالد نے معاذ کو نہیں پایا (اس لیے خالد اور معاذ (رح) کے درمیان کا راوی معلوم نہیں) ۔
واتقوا اللہ ان اللہ تواب رحیم . اور اللہ سے ڈرتے رہو ‘ بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ‘ مہربان ہے۔
وَاتَّقُوا اللہ : یعنی جس کام کی تم کو ممانعت کردی گئی ہے اس سے بچو اور جو کچھ تم سے فعل ممنوع ہوگیا ہو ‘ اس پر نادم ہو۔
اِنَّ اللہ تَوَّابٌ : اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔ تمہاری توبہ ضرور قبول فرمائے گا۔ وہ گناہ سے توبہ کرنے والے کو بےگناہ کی طرح کردیتا ہے۔
رَّحِیْمٌ : بندوں پر بڑا مہربان ہے۔ وہ پسند نہیں کرتا کہ کوئی بندہ کسی کی آبروریزی کے درپے ہوجائے۔
بغوی (رح) نے مقاتل کا بیان نقل کیا ہے کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے حکم سے حضرت بلال ؓ نے کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دی۔ عباد بن اسید نے اذان سن کر کہا : اللہ کا شکر ہے کہ یہ دن دیکھنے سے پہلے میرا باپ مرگیا۔ حارث بن ہشام نے کہا : کیا محمد ﷺ کو اس کالے کوّے کے سوا کوئی اور مؤذن نہیں ملا۔ سہل بن عمرو نے کہا : اگر خدا چاہے گا تو حالت کو بدل دے گا۔ ابو سفیان نے کہا : میں اپنی زبان سے کچھ نہیں کہوں گا۔ مجھے ڈر ہے کہ میری زبان سے جو لفظ نکلے گا ‘ اس کی اطلاع آسمان کا رب محمد ﷺ کو پہنچا دے گا۔ اس پر جبرئیل ( علیہ السلام) نازل ہوئے اور ان لوگوں نے جو کچھ کہا اس کی اطلاع رسول اللہ ﷺ کو دے دی۔ حضور ﷺ نے ان لوگوں کو طلب فرمایا اور جو کچھ انہوں نے کہا تھا ‘ اس کی باز پرس کی۔ انہوں نے اپنی باتوں کا اقرار کرلیا اور اللہ نے آیت ذیل نازل فرمائی اور نسبی تفاخر اور کثرت مال پر اترانے اور غریبوں کو حقیر سمجھنے سے بازداشت کی اور فرمایا :
Ayah 49:13یایھا الناس انا خلقنکم من ذکر وانثی و جعلنکم شعوبا و قبائل .
اے لوگو ! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف قومیں اور مختلف خاندان بنایا۔
یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ : (اے لوگو ! ) یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا : (اے ایمان والو ! ) نہیں فرمایا کیونکہ اس وقت تک وہ لوگ مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ ابن ابی حاتم نے ابو ملیکہ کے حوالہ سے مختصراً نقل کیا ہے۔ ابن عساکر نے مہمات میں لکھا ہے کہ میں نے ابن بشکوال کی تحریر میں پایا کہ ابوبکر بن ابو داؤد نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنی بیاضہ کو حکم دیا تھا۔ تم اپنے قبیلہ کی کسی عورت سے اس کا نکاح کر دو ۔ انہوں نے جواب دیا : یا رسول اللہ ! آپ ﷺ ہماری لڑکیوں کا نکاح ہمارے آزاد کردہ غلاموں سے کر رہے ہیں ؟ آپ ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہ آیت حضرت ثابت بن قیس اور ان کی قوم والوں کے متعلق نازل ہوئی۔ حضرت ثابت ؓ بن قیس کو آگے بڑھنے کا موقع ایک شخص نے نہیں دیا تو حضرت ثابت ؓ نے اس سے فرمایا : تو فلاں عورت کا بیٹا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : یہ علاں عورت کا نام کس نے لیا (اور کس نے اس شخص کو اس کی ماں کا نام لے کر عار دلائی) ؟ ثابت ؓ بن قیس نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ ! میں نے عورت کا ذکر کیا تھا۔ فرمایا : قوم کے چہروں کو غور سے دیکھو۔ ثابت ؓ نے حکم کی تعمیل کی۔ حضور ؓ نے فرمایا : تم نے کیا دیکھا ؟ ثابت ؓ نے عرض کیا : کسی کو گورا دیکھا ‘ کسی کو لال ‘ کسی کو کالا۔ فرمایا : تم صرف دین اور تقویٰ کی وجہ سے ان پر فضیلت رکھتے ہو (نسبی برتی ہیچ ہے ‘ یہ معیار فضیلت نہیں) اس پر ثابت ؓ کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور جس شخص نے حضرت ثابت کو جگہ نہیں دی تھی اس کے حق میں آیت : یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِذَا قِیْلَ لَکُمْ تَفَسُّحُوْا فِی الْمَجَالِسِ فَافْسَحُوْا نازل ہوئی۔
اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّ اُنْثٰی : یعنی نوع بشری کو آدم و حوّ ا سے پیدا کیا یا یہ مطلب ہے کہ ہر شخص کو (سوائے حضرت عیسیٰ ‘ حضرت آدم اور حضرت حوّ ا کے) ماں ‘ باپ سے پیدا کیا۔ کسی کو کسی پر نسبی برتری حاصل نہیں۔ نسلی اور قومی تفاخر بےبنیاد ہے یا اس جملہ سے تمام انسانوں کے ایک رشتہ اخوت میں منسلک ہونے کو مستحکم کیا گیا ہے ‘ اخوت ہی غیبت سے روکنے والا رشتہ ہے۔
شُعُوْبًا وَّ قَبَاءِلَ : نسب کے لحاظ سے عرب کے چھوٹے بڑے چھ دائرے تھے۔ سب سے بڑے دائرہ کو شعب کہتے تھے۔ یہ گویا اپنی تمام شاخوں کی جڑ ہوتی تھی۔ اس کے اندر تمام قبائل شامل ہوتے تھے۔ اس سے چھوٹا دائرہ قبیلہ کا مانا جاتا تھا۔ قبیلہ سے چھوٹا دائرہ جو قبیلہ کے اندر ہوتا تھا ‘ عمارہ کہلاتا تھا۔ عمارہ کے اندر بطون ہوتے تھے اور ہر بطن کے اندر مختلف افخاذ اور ہر فخذ کے اندر متعدد فصائل اور ہر فصیلہ کے دائرے میں مختلف عشائر ہوتے تھے۔ عشیرہ سے چھوٹے دائرہ کا کوئی نام نہیں تھا۔ (عشیرہ گویا سب سے چھوٹے خاندانی حلقہ کو کہتے تھے) ۔
بعض اہل علم نے کہا ہے کہ شعوب کا اطلاق عجمی خاندانوں پر اور قبائل کا اطلاق عرب کنبوں پر اور اسباط کا اطلاق بنی اسرائیل پر ہوتا تھا۔ ابو رواق نے کہا : شعوب کا لفظ ان لوگوں کے لیے بولا جاتا تھا جو کسی شخص کی طرف منسوب نہیں ہوتے تھے بلکہ کسی شہر یا گاؤں کی طرف ان کی نسبت کی جاتی تھی (جیسے دہلوی ‘ لکھنوی) اور قبائل کا لفظ ان خاندانوں کے لیے بولا جاتا تھا جو کسی خاص مورث اعلیٰ کی طرف منسوب ہوتے تھے (جیسے بنی تمیم ‘ کنانہ وغیرہ) ۔
لتعارفوا ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم ان اللہ علیم خبیر . تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو ‘ تم سب
میں اللہ کے نزدیک بڑا شریف وہی ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو ‘ اللہ خوب جاننے والا ‘ پورا خبردار ہے۔
لِتَعَارَفُوْا : تاکہ تم میں بعض بعض کو پہچانیں کہ کون قریبی رشتہ دار ہے اور کون دور کا تعلق نسبی رکھنے والا ہے۔ آپس میں تفاخر کے لیے تمہارے قبیلے ‘ کنبے نہیں بنائے۔
اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللہ اَتْقٰکُمْ : قتادہ نے کہا : کرم سے زیادہ کرم والا (عزت والا) تقویٰ ہے اور ہر بدی سے زیادہ برا فجور (فسق) ہے (یعنی تقویٰ سب سے بڑی عزت ہے اور سب سے بڑھ کر ذلت ‘ فجور ہے) ۔
حضرت سمرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (دُنیا والوں کے نزدیک) حسب (یعنی موجب برتری اور وجہ عزت) مال ہے اور (اللہ کے نزدیک) عزت تقویٰ ہے۔ (رواہ احمد والترمذی و ابن ماجہ والحاکم) ترمذی نے اس روایت کو صحیح کہا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : دنیا کی عزت دولت مندی ہے اور آخرت کی عزت تقویٰ ہے۔
حضرت ابن عمر ؓ : کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن اونٹنی پر سوار ہو کر طواف کیا اور اپنی نوکدار چھڑی سے ارکان کا استلام کیا (یعنی ہجوم کی کثرت کی وجہ سے ارکان کو بوسہ دینے یا ہاتھ لگانے کا موقعہ نہیں تھا۔ اس لیے ہاتھ کی نوکدار چھڑی ارکان کو لگا دیتے تھے) جب باہر تشریف لائے تو اونٹنی کو بٹھا کر اترنے کی جگہ نہیں ملی۔ اس لیے لوگوں کے ہاتھوں پر اترے۔ پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور فرمایا : شکر ہے اللہ کا جس نے تم سے جاہلیت کی نخوت و غرور کو دور کردیا۔ آدمی دو طرح کے ہیں :
1) نیک ‘ پرہیزگار اللہ کے نزدیک باعزت۔
2) بدکار ‘ بدبخت اللہ کے نزدیک ذلیل۔
پھر آپ ﷺ نے آیت : یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّ اُنْثٰی ..... تلاوت فرمائی۔ اس کے بعد فرمایا : میں اپنی یہ بات کہے دے رہا ہوں اور اپنے لیے اور تمہارے لیے اللہ سے معافی کا طلبگار ہوں۔ (رواہ الترمذی والبغوی)
طبرانی نے الاوسط میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : قیامت کا دن ہوگا تو اللہ کے حکم سے ایک ندا دینے والا ندا دیگا ‘ خوب سن لو۔ میں نے ایک نسب مقرر کیا تھا اور تم نے بھی ایک نسب مقرر کیا تھا۔ میں نے تو سب سے بڑے متقی کو سب سے زیادہ عزت والا قرار دیا تھا ‘ تم نے اسکو نہیں مانا بلکہ تم کہتے رہے : فلاں بن فلاں ‘ فلاں بن فلاں سے بہتر ہے۔ سو آج میں اپنے قائم کیے ہوئے نسب کو سربلند کرتا ہوں اور تمہارے قائم کردہ نسب کو نیچے گراتا ہوں ‘ کہاں ہیں اہل تقویٰ ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا : اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا کون ہے ؟ فرمایا : جو سب سے بڑا متقی ہے۔ اللہ کے نزدیک وہ سب سے زیادہ عزت والا ہے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا : ہمارا یہ سوال نہیں تھا۔ فرمایا : تو (ذاتی اور نسبی عزت کے لحاظ سے) سب سے زیادہ عزت والے یوسف ( علیہ السلام) نبی اللہ بن (یعقوب ( علیہ السلام) نبی اللہ بن (اسحق) نبی اللہ بن (ابراہیم ( علیہ السلام) نبی اللہ تھے۔ ابراہیم خلیل اللہ بھی تھے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا : ہم یہ بھی نہیں پوچھ رہے ہیں (بلکہ عرب قبائل و اشخاص کے متعلق دریافت کر رہے ہیں) فرمایا : تو عرب معادن کے متعلق دریافت کر رہے ہو ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا : جی ہاں ! فرمایا : تو جاہلیت کے زمانہ میں تم میں جو لوگ بہتر (اعلیٰ نسب والے) تھے وہ اسلامی دور میں بھی بہتر ہیں بشرطیکہ سمجھ (میں فوقیت) رکھتے ہوں۔ (رواہ البخاری وغیرہ)
مسلم اور ابن ماجہ کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا : اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں کو اور اعمال کو دیکھتا ہے۔
اِنَّ اللہ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ : یعنی اللہ تمہارے باطنی حالات اور فضائل کو بخوبی جانتا ہے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ بنی اسد کے چند آدمی قحط کے سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بظاہر مسلمان ہوگئے لیکن باطن میں وہ مؤمن نہیں تھے۔ ان لوگوں نے مدینہ کے راستے (قضائے حاجت کی) گندگیوں سے بھر دیئے اور مدینہ میں چیزوں کے نرخ گرا دیئے۔ صبح و شام رسول اللہ ﷺ کے پاس آتے اور کہتے تھے : دوسرے عرب آپ کے پاس اونٹنیوں پر سوار ہو کر تنہا آئے ہیں اور ہم سارا سامان اور اہل و عیال کو لے کر آئے ہیں۔ فلاں ‘ فلاں قبائل نے آپ سے جنگ کی (پھر مسلمان ہوئے) لیکن ہم آپ سے کبھی نہیں لڑے۔ اس کلام سے وہ رسول اللہ ﷺ پر (اپنے اسلام کا) احسان رکھنا چاہتے تھے اور مال صدقات کے طلبگار تھے۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
Ayah 49:14قالت الاعراب امنا قل لم تو منوا ولکن قولوا اسلمنا ولما یدخل الایمان فی قلوبھکم وان تطیعوا اللہ و رسولہ لایلتکم من اعمالکم شیئا ان اللہ غفور رحیم .
یہ گنوار کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے۔ آپ (ان سے) کہہ دیجئے تم ایمان (ابھی) نہیں لائے لیکن یوں کہو کہ ہم مخالفت چھوڑ کر مطیع ہوگئے اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا کہنا مان لو تو اللہ تمہارے اعمال میں سے ذرا بھی کمی نہیں کرے گا ‘ بیشک اللہ غفور ‘ رحیم ہے۔
سدی نے کہا : یہ آیت ان بدویوں کے حق میں نازل ہوئی جن کا ذکر اللہ نے سورة الفتح میں کیا ہے۔ یہ دیہاتی قبائل جہینہ ‘ مزینہ ‘ اسلم ‘ اشجع اور غفار کے تھے جو اپنی جانوں اور مالوں کو محفوظ رکھنے کے لیے (زبانوں سے) اٰمَنَّا (ہم ایمان لے آئے) کہتے تھے لیکن جب رسول اللہ ﷺ نے ان کو حدیبیہ کو لے جانا چاہا تو بچھڑ گئے (حضور ﷺ کے ساتھ نہیں گئے) ۔
قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا : اے محمد ! (آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ تم لوگ ابھی ایمان نہیں لائے۔ ایمان تو دل کی ایک خاص کیفیت ہوتی ہے ‘ جس کو تصدیق قلبی کہا جاتا ہے۔ زبان سے اقرار تو ایمان کا ایک رکن زائد ہے جو اسلامی احکام جاری کرنے کے لیے ضروری ہے اور اقرار کی ضرورت بھی اس وقت ہے جب ایمان لانے والا انکار پر مجبور نہ ہو۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایمان یہ ہے کہ تم اللہ کو ‘ اس کے فرشتوں ‘ اس کی کتابوں اور اس کے پیغمبروں کو اور روز قیامت کو مانو اور اچھی ‘ بری تقدیر کی تصدیق کرو (یعنی اس بات کی دل سے تصدیق کرو کہ دنیا میں ہر خیر و شر اللہ کے مقرر کردہ اندازے کے مطابق ہوتی ہے ‘ ہر اچھی بری چیز کا اللہ نے پہلے ہی اندازہ مقرر کردیا ہے) سوال جبرئیل ( علیہ السلام) کے جواب میں حضور ﷺ نے یہی فرمایا تھا۔ [ کذا فی الصحیحین من حدیث عمر بن الخطاب ‘ مرفوعًا ]
وَلٰکِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا : ہم تابعدار ہوگئے۔ اسلام سے مراد ہے ظاہری طور پر فرمانبردار ہوجانا۔
وَلَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ : اس کا عطف لَمْ تُؤْمِنُوْا پر ہے۔ ماضی میں ایمان نہ ہونے اور مستقبل میں ایماندار ہوجانے کی امید کا اظہار اس جملہ سے ہو رہا ہے۔ لَمْ تُؤْمِنُوْا میں آئندہ ایماندار ہوجانے کی کسی توقع کا اظہار نہیں تھا۔ صرف ماضی میں ایماندار ہونے کی نفی تھی۔ اس لیے اس جملہ کے مفہوم کو مکرر نہیں کہا جاسکتا۔
Ayah 49:15انما المومنون الذین امنوا باللہ و رسولہ ثم لم یرتابوا وجھدوا باموالھم وانفسھم فی سبیل اللہ اولئک ھم الصدقون . پورے مؤمن وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لائے پھر شک نہیں کیا
اور اپنے مال و جان سے اللہ کے راستہ میں محنت اٹھائی۔ یہ ہی لوگ ہیں سچے (مؤمن) ۔
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ..... یعنی خلوص قلب سے ایمان لائے اور احکام کی تعمیل کی۔
ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا : پھر رسول اللہ ﷺ کے لائے ہوئے دین میں ان کو کبھی شک واقع نہیں ہوا۔ لفظ ثُمَّ دلالت کر رہا ہے کہ شروع ایمان کے وقت جس طرح شک نہ کرنا لازم تھا ‘ اسی طرح آئندہ پوری زندگی مرتے دم تک کبھی شک میں نہ پڑنا ضروری ہے۔ آیت : ثُمَّ اسْتَقَامُوْا سے بھی یہی مراد ہے۔
فِیْ سَبِیْلِ اللہ ِ : یعنی اللہ کی طاعت میں۔
جٰھَدُوْا : کا مفعول محذوف ہے یعنی جنگجو دشمن سے یا شیطان سے یا ناجائز خواہشات نفس سے انہوں نے جہاد کیا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مفعول محذوف نہ ہو اور فعل لازم کا مبالغہ مقصود ہو یعنی انہوں نے خوب کوشش کی۔ یہ بھی احتمال ہے کہ مجاہدہ سے مراد ہو قلبی اور بدنی اور مالی عبادتیں۔
اگر مجاہدہ سے مراد مطلق مجاہدہ ہو تو صراحتاً تمام اوامر کی ادائیگی اور سارے ممنوعات سے اجتناب مراد ہوگا اور اگر جہاد سے مراد کافروں سے جہاد کرنا ہو تو اوامرو نواہی کی پوری پابندی بطور دلالت النص معلوم ہوگی کیونکہ جو شخص اصلاح عالم کے لیے اور تباہی و بربادی کو دور کرنے کے لیے اور اللہ کا بول بالا کرنے اور دین کو پھیلانے کے لیے اپنی جان و مال کی قربانی دیتا ہے وہ بدرجۂ اولیٰ اپنے نفس کی قربانی کرے گا اور تمام احکام شریعت کا پابند ہوگا۔
ھُمُ الصّٰدِقُوْنَ : یعنی ایمان کے دعوے میں یہی لوگ سچے ہیں۔
مذکورۂ بالا دونوں آیتیں جب نازل ہوئیں تو کچھ بدوی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : ہم سچے مؤمن ہیں لیکن اللہ جانتا تھا کہ وہ ایسے نہیں ہیں ‘ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
Ayah 49:16. آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ کیا تم اپنے ایمان کی خدا تعالیٰ کو خبر دیتے ہو ‘ حالانکہ اللہ کو سب
آسمانوں کی اور زمین کی ساری چیزوں کی خبر ہے اور اللہ سب چیزوں کو جانتا ہے۔
اَتُعَلِّمُوْنَ اللہ : یعنی اٰمَنَّا کہہ کر اپنے جس دین کا تم نے اظہار کیا ہے۔ کیا وہ دین تم مجھے بتا رہے ہو حالانکہ اللہ کو زمین و آسمان کی ساری چیزوں کا علم ہے۔ وہ ہر چیز سے واقف ہے۔ وہ تمہاری چھپی ہوئی حقیقت کلام کو جانتا ہے اس کو تمہارے اظہار کی ضرورت نہیں تم اپنی اندرونی حالت کو درست کرلو۔
طبرانی نے عمدہ سند سے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی کی روایت سے اور بزار نے بطریق سعید بن جبیر حضرت ابن عباس کی روایت سے اور ابن ابی حاتم نے حسن کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ کچھ بدویوں نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ﷺ ہم (خود) مسلمان ہوگئے اور آپ ﷺ سے (کبھی) نہیں لڑے لیکن فلاں قبیلہ والوں نے آپ ﷺ سے جنگ کی (اور پھر مسلمان ہوئے) بقول حسن یہ بات مکہ فتح ہوجانے کے بعد کی ہے۔