46. Surah Al-Ahqaf

الأحقافThe Dunes · 35 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 46:18

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 46:18 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں جنوں اور انسانوں کی (دوسری) اُمتوں میں سے جو ان سے پہلے گزر چکیں عذاب کا وعدہ متحقق ہوگیا۔ بےشک وہ نقصان اٹھانے والے تھے

اولئک الذین حق علیھم القول فی امم قدخلت من قبلھم من الجن والانس انھم کانوا خسرین یہ وہی لوگ ہیں کہ ان کے حق میں بھی وہی قول پورا ہو رہا ہے ‘ جو گذشتہ اقوام جن و انس کے بارے میں تھا۔ بیشک یہ خسارہ پانے والے ہیں۔ حَقَّ واجب ہوگیا ‘ ثا بت ہو کر رہا۔ فِیْٓ اُمَمٍ گذشتہ کافر امتوں کے بارے میں۔ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ یہ امم کا بیان ہے۔ اس آیت میں ان لوگوں کا جن کا ذکر اوپر کی آیت میں آیا ہے ‘ اللہ نے دوزخی ہونا ظاہر فرمایا اور ظاہر ہے کہ حضرت عبدالرحمن اکابر اسلام میں سے تھے ‘ اسلئے آپ کے متعلق آیت کا نزول نہیں ہوسکتا۔
Ayah 46:19

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ۚ وَ لِیُوَفِّیَهُمْ اَعْمَالَهُمْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 46:19 in the Quran reader

اور لوگوں نے جیسے کام کئے ہوں گے ان کے مطابق سب کے درجے ہوں گے۔ غرض یہ ہے کہ ان کو ان کے اعمال کا پورا بدلہ دے اور ان کا نقصان نہ کیا جائے

ولکل درجت مما عملوا ولیوفیھم اعمالھم وھم لا یظلمون اور ہر ایک کیلئے ان کے اعمال کی وجہ سے الگ الگ درجے ملیں گے ‘ اور تاکہ اللہ تعالیٰ سب کو ان کے اعمال پورے کر دے اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔ وَلِکُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا یعنی جس نے جو عمل خیر کیا ہے ‘ اس کیلئے اس عمل کی جزاء کے مختلف درجات ہیں ‘ یا عمل کی وجہ سے اس کیلئے درجات خیر ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : مراد یہ ہے کہ جو پہلے اسلام لایا ‘ وہ بعد کو مسلمان ہونے والے سے افضل ہے ‘ خواہ یہ تقدیم و تاخیر ایک ساعت کی ہو۔ مقاتل نے یہ مطلب بیان کیا کہ ہر شخص کیلئے اعمال کے مطابق فضائل ہیں ‘ پس اللہ اعمال کی پوری جزا عطا فرمائے گا۔ بعض علماء کے نزدیک یہ مطلب ہے کہ مؤمن ہو یا کافر ‘ قیامت کے دن ہر فریق کا ایک مقام اور ایک درجہ اللہ کے نزدیک مطابق عمل ہوگا اور اللہ اعمال کے موافق بدلہ دے گا۔ ابن زید نے اس آیت کی تشریح میں کہا : دوزخیوں کیلئے درجات (زینے ‘ سیڑھیاں) ان کو نیچے کی طرف لے جائیں گے اور اہل جنت کے درجات ان کو اوپر چڑھائیں گے۔ وَلِیُوَفِّیَھُمْ یعنی اللہ نے یہ درجہ بندی حکمت اور مصلحت کے ماتحت کی ہے اور اسلئے کی ہے کہ ہر ایک کو اسکے عمل کا پورا پورا بدلہ دے دے۔ نیکی کے ثواب میں کمی یا جرم کے عذاب میں زیادتی نہیں کی جائے گی۔
Ayah 46:20

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا١ۚ فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 46:20 in the Quran reader

اور جس دن کافر دوزخ کے سامنے کئے جائیں گے (تو کہا جائے گا کہ) تم اپنی دنیا کی زندگی میں لذتیں حاصل کرچکے اور ان سے متمتع ہوچکے سو آج تم کو ذلت کا عذاب ہے، (یہ) اس کی سزا (ہے) کہ تم زمین میں ناحق غرور کیا کرتے تھے۔ اور اس کی بدکرداری کرتے تھے

ویوم یعرض الذین کفروا علی النار اذھبتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا واستمتعتم بھا فالیوم تجزون عذاب الھون بما کنتم تستکبرون فی الارض بغیر الحق وبما کنتم تفسقون اور جس روز کافر آگ کے سامنے لائے جائیں گے (اور ان سے کہا جائے گا) کہ تم اپنی لذت کی چیزیں اپنی دنیاوی زندگی میں حاصل کرچکے اور انکو خوب برت چکے ‘ سو آج تم کو ذلت کی سزا دی جائے گی ‘ اس وجہ سے کہ تم دنیا میں ناحق تکبر کیا کرتے تھے اور تم نافرمانیاں کیا کرتے تھے۔ وَیَوْمَ یُعْرَضُ یعنی جس دن کافروں کو آگ کا عذاب دیا جائے گا۔ بطور مبالغہ جملہ کی ساخت الٹ دی گئی۔ کافروں کی آگ پر پیشی ہوگی ‘ یعنی کافروں کے سامنے آگ لائی جائے گی۔ طَیِّبٰتِکُمْ یعنی تم نے اپنی لذت کی چیزیں دنیوی زندگی میں لے لیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو عیش و لذت کا حصہ تمہارے لئے اللہ نے لکھ دیا تھا ‘ وہ تم نے دنیا میں حاصل کرلیا۔ وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِھَا اور دنیاوی زندگی میں ان سے بہرہ اندوز ہوگئے ‘ مزے اڑا لئے اور تمہارا کوئی حصۂ عیش باقی نہیں رہا۔ عَذَابَ الْھُوْنَ یعنی وہ عذاب جس میں تمہارے لئے ذلت اور تحقیر ہے۔ بِمَا کُنْتُمْ- مَا مصدری ہے ‘ یعنی باطل طور پر بڑا بننے اور اللہ کی اطاعت سے خارج ہونے کی وجہ سے۔ بغوی نے لکھا ہے : اللہ نے دنیوی لذت اندوزی اور عیش کوشی پر تنبیہ و زجر کی ‘ اسلئے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام نے دنیوی لذتوں سے اجتناب کیا اور ثواب آخرت کے امیدوار رہے۔ بخاری و مسلم نے صحیحین میں بیان کیا ہے کہ حضرت عمر نے فرمایا : میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ ننگی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے ‘ چٹائی پر کوئی فرش نہ تھا۔ حضور ﷺ کے پہلوئے مبارک پر چٹائی کے نشان پڑگئے۔ سر کے نیچے ایک تکیہ تھا ‘ جس کے اندر کھجور کے ریشے بھرے ہوئے تھے۔ یہ حالت دیکھ کر میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! دعا فرمائیے کہ اللہ آپ کی امت کو کشائش عطا فرما دے۔ فارس اور روم والے باوجودیکہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے ‘ لیکن اللہ نے ان کو (دنیوی) کشائش عطا کی ہے۔ فرمایا : اے ابن خطاب ! کیا تم اس خیال میں ہو کہ ان قوموں کو تو دنیاوی زندگی میں ہی لذت و عیش کی چیزیں جلد دے دی گئی ہیں ؟ دوسری روایت میں ہے (کیا تم کو یہ بات پسند نہیں) کہ ان کے لئے صرف دنیا ہے اور ہمارے لئے آخرت۔ صحیحین میں حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ محمد ﷺ کے گھر والوں نے آپ کی وفات تک کبھی دو روز متواتر جو کی روٹی (بھی) پیٹ بھر کر نہیں کھائی۔ بخاری نے بروایت ابو سعید مقبری بیان کیا کہ کچھ لوگوں کے سامنے بھونا ہوا بکری کا گوشت رکھا تھا۔ ادھر سے حضرت ابوہریرہ گذرے ‘ ان لوگوں نے آپ کو بھی کھانے کیلئے بلایا۔ آپ نے کھانے سے انکار کردیا اور فرمایا : رسول اللہ ﷺ دنیا سے تشریف لے گئے اور جو کی روٹی بھی (کبھی) پیٹ بھر کر نہیں کھائی۔ حضرت عائشہ کا بیان ہے : ہم پر ایک ایک مہینہ گذر جاتا تھا کہ (ہمارے گھر میں) آگ نہیں جلتی تھی ‘ صرف پانی اور چھوارے ہوتے تھے (جس پر بسر اوقات ہوتی تھی) ہاں ! اللہ جزائے خیر دے انصار کی عورتوں کو ‘ وہ کبھی بطور ہدیہ ہم کو دودھ بھیج دیا کرتی تھیں۔ امام احمد ‘ ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا کہ مسلسل راتیں ایسی گذر جاتیں تھیں کہ رسول اللہ ﷺ بھوکے رہتے تھے (کچھ کھانے کو نہیں ہوتا تھا) گھر والوں کو بھی شام کا کھانا نہیں ملتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کے گھر والوں کی روٹی اکثر جو کی ہوتی تھی۔ ترمذی نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے ان کی راہ میں ڈرایا گیا ‘ جبکہ (اور) کسی کو نہیں ڈرایا جاتا تھا اور مجھے ایذائیں دی گئیں ‘ جبکہ اور کسی کو نہیں ستایا جاتا تھا۔ مجھ پر تیس دن رات ایسے گذرے کہ نہ میرے پاس ‘ نہ بلال کے پاس ایسا کھانا تھا جو کوئی زندہ شخص کھاتا ہے۔ ہاں ! بلال نے اپنی بغل میں کچھ چھپالیا تھا (وہی ہم کھالیا کرتے تھے) ۔ ترمذی نے کہا : یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب رسول اللہ ﷺ ‘ حضرت بلال کو ساتھ لے کر مکہ سے بھاگ کر چلے گئے تھے۔ حضرت بلال کے پاس بس اتنا کھانا تھا کہ انہوں نے بغل کے اندر چھپالیا تھا۔ بخاری نے لکھا ہے کہ حضرت ابوہریرہ نے فرمایا میں نے 70 ستر اصحاب صفہ کو دیکھا جن میں سے کسی ایک کے بدن پر بھی چادر نہ تھی ‘ یا لنگی (تہہ بند) تھی ‘ یا کمبلی ‘ جس کو گلے میں انہوں نے باندھ رکھا تھا۔ کسی کے آدھی پنڈلی تک تھی ‘ کسی کے ٹخنوں تک۔ اپنے ہاتھ سے وہ اس کو سمیٹے رہتا تھا تاکہ عورت نہ کھل جائے۔ بخاری نے بیان کیا کہ حضرت انس جو کی روٹی حضور ﷺ کے پاس لائے اور حضور ﷺ نے مدینہ میں ایک یہودی کے پاس زرہ رہن رکھوا کر گھر والوں کیلئے جو لئے تھے اور میں نے خود یہ فرماتے سنا کہ محمد ﷺ کے گھر والوں کے پاس ایک صاع گیہوں رات کو (کبھی) نہ رہے اور نہ ایک صاع دانے (یعنی اناج) اور (اس زمانے میں) آپ کی نو عورتیں (یعنی بیبیاں) تھیں۔ ترمذی کی روایت ہے کہ حضرت ابو طلحہ نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بھوک کی شکایت کی اور اپنے پیٹ کھول کر دکھائے کہ ہر ایک کے پیٹ پر ایک ایک پتھر بندھا ہوا تھا۔ حضور ﷺ نے اپنا پیٹ کھول کر دکھایا ‘ جس پر دو پتھر بندھے تھے۔ ترمذی نے کہا : یہ حدیث غریب ہے۔ مسلم نے بروایت عبدالرحمن بیان کیا کہ عبدالرحمن نے کہا : میں حضرت عبد اللہ بن عمر کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ تین آدمی آپ کے پاس آئے اور عرض کیا : ابو محمد ! وا اللہ ہم بالکل بےطاقت ہیں۔ نہ ہمارے پاس کھانے پینے کو ہے ‘ نہ سواری ہے ‘ نہ کوئی سامان ہے۔ حضرت عبد اللہ نے فرمایا : تم کیا چاہتے ہو ؟ اگر تم چاہتے ہو تو ہمارے پاس آؤ ‘ اللہ نے جس چیز کی آپ لوگوں کیلئے ہم کو توفیق دی ‘ وہ دے دیں گے اور اگر تم چاہو تو ہم تمہارے واقعہ کا سلطان سے ذکر کردیں اور اگر چاہو تو صبر کرو۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ قیامت کے دن فقراء مہاجرین ‘ دولت مندوں سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے۔ ان لوگوں نے کہا : تو اب ہم صبر کریں گے ‘ کوئی چیز نہیں مانگتے۔ امام احمد نے حضرت معاذ بن جبل کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جب حضرت معاذ کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجا تو فرمایا : عیش پرستی سے بچنا ‘ اللہ کے بندے عیش پرست نہیں ہوتے۔ بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت علی کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص تھوڑے سے رزق پر اللہ سے راضی ہوگا ‘ اللہ (اسکے) تھوڑے عمل سے راضی ہوگا۔ بغوی کا بیان ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف کا روزہ تھا۔ شام کو آپ کے سامنے کھانا لایا گیا ‘ فرمایا : مصعب بن عمیر شہید ہوئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے تو ان کو ایک چادر کا کفن دیا گیا (چادر اتنی چھوٹی تھی کہ) سر ڈھانکا جاتا تھا تو پاؤں کھل جاتے تھے اور پاؤں چھپاتے جاتے تھے تو سر کھل جاتا تھا۔ راوی نے کہا : میرا خیال ہے (کہ حضرت عبدالرحمن نے یہ بھی فرمایا) اور حضرت حمزہ شہید ہوگئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے۔ پھر ہمارے لئے دنیا پھیلا دی گئی جتنی بھی پھیلائی گئی ‘ یا یہ فرمایا : پھر ہم کو دنیا دے دی گئی۔ ہم کو ڈر ہے کہ کہیں ہماری (ساری) نیکیوں کا بدلہ (یہیں) جلد ہم کو نہ دے دیا گیا ہو۔ یہ کہہ کر رونے لگے اور کھانا موقوف کردیا۔ حضرت جابر بن عبد اللہ راوی ہیں کہ حضرت عمر نے میرے ہاتھوں میں گوشت لٹکا ہوا دیکھا ‘ تو فرمایا : جابر ! یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : گوشت ہے۔ گوشت کو میرا دل چاہتا تھا ‘ اس لئے خرید کر لایا ہوں۔ فرمایا : جو بھی تمہارا دل چاہے گا ‘ خرید لو گے ؟ کیا تم کو آیت اَذْھَبْتُمْ طَیِّبٰتِکُمْ فِیْ حَیَاتِکُمُ الدُّنْیَا کا کوئی خوف نہیں ؟ ایک روایت میں حضرت جابر کی حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ (حضرت عمر نے فرمایا :) کیا تم میں کوئی شخص اس بات کی کوشش نہیں کرتا کہ اپنے ہمسائے اور اپنے چچا کے بیٹے کیلئے خود بھوکا رہے ؟ پورا قصہ حضرت ابن عمر کی روایت کردہ حدیث میں آیا ہے۔ زرین نے زید بن اسلم کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ایک روز حضرت عمر نے پینے کیلئے پانی طلب کیا ‘ پانی پیش کیا گیا ‘ مگر اس میں شہد ملا ہوا تھا (یعنی شہد کا شربت تھا) فرمایا : بیشک یہ پاکیزہ ہے ‘ لیکن میں سن رہا ہوں کہ اللہ نے ان لوگوں سے (جنہوں نے اپنی خواہشات کو پورا کیا) طیبات کی نفی کردی اور فرمایا : اَذْھَبْتُمْ طَیِّبٰتِکُمْ فِیْ حَیَاتِکُمُ الدُّنْیَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِھَا مجھے ڈر ہے کہ ہماری نیکیوں کا بدلہ فوراً (نہ) دے دیا گیا ہو۔ یہ بیان فرمانے کے بعد حضرت عمر نے وہ شربت نہیں پیا۔
Ayah 46:21

وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ١ؕ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 46:21 in the Quran reader

اور (قوم) عاد کے بھائی (ہود) کو یاد کرو کہ جب انہوں نے اپنی قوم کو سرزمین احقاف میں ہدایت کی اور ان سے پہلے اور پیچھے بھی ہدایت کرنے والے گزرچکے تھے کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا ڈر لگتا ہے

واذکر اخا عاد اذ انذر قومہ بالاحقاف وقد خلت النذر من بین یدیہ ومن خلفہ الا تعبدوا الا اللہ انی اخاف علیکم عذاب یوم عظیم اور ذکر کیجئے عاد کے بھائی (ہود) کا جبکہ انہوں نے اپنی قوم (والوں) کو جو احقاف میں رہتی تھی ‘ ڈرایا اور ان سے پہلے بھی (اپنی اپنی امتوں کو) ڈرانے والے گذر گئے تھے اور ان کے بعد بھی گذرے (انہوں نے اس طرح ڈرایا) کہ اللہ کے سوا کسی کی پوجا نہ کرو۔ مجھے ایک بڑے دن کے عذاب کا تمہارے متعلق خوف ہے۔ اَخَا عَادٍ یعنی حضرت ہود علیہ السلام۔ قَومَہٗ اپنی قوم کو ‘ یعنی عاد کو۔ ۃ بِالْاَحْقَاف احقاف میں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : احقاف کا مقام عمان اور مہرہ کے درمیان تھا۔ مقاتل نے کہا : قوم عاد کی بستیاں حضرموت علاقۂ یمن میں بمقام مہرہ واقع تھیں ‘ مہرہ وہی مقام ہے جس کی طرف مہری اونٹوں کی نسبت کی جاتی ہے۔ یہ لوگ قبیلۂ اِرَم کے تھے۔ قتادہ نے کہا : ہم سے بیان کیا گیا کہ عاد یمن میں ایک قبیلہ تھا جو سمندر کے ساحل پر ریگستان میں اس سرزمین میں رہتا تھا جس کو یشجر کہا جاتا ہے۔ احقاف ‘ حقف کی جمع ہے اور حقف اس ریگستان کو کہتے ہیں جو مستطیل اور خم در خم ہو۔ ابن زید نے کہا : حقف وہ مستطیل ریگستان ہے جو پہاڑی نما (اونچا ہو) لیکن پہاڑ کی حد تک نہ پہنچا ہو۔ کسائی نے کہا : مستدیر ریگستان کو احقاف کہا جاتا ہے۔ النُّذُر ڈرانے والے ‘ یعنی پیغمبر۔ یہ جملہ معترضہ ہے۔ مِنْم بَیْنِ یَدَیْہِ حضرت ہود سے پہلے ‘ جیسے حضرت نوح وغیرہ۔ وَمِنْ خَلْفِہٖ اور حضرت ہود کے بعد ‘ جیسے حضرت صالح ‘ حضرت ابراہیم ‘ حضرت لوط وغیرہم۔ اَلاَّ تَعْبُدُوْا۔ اِنْ مفسرہ ہے ‘ انذار کے معنی کی تشریح ہے ‘ یعنی حضرت ہود نے اپنی قوم کو اس طرح ڈرایا کہ اللہ کے سوا کسی اور کی پوجا نہ کرو۔ کسی چیز کی ممانعت کرنے اور اس سے روکنے کا معنی ہی یہ ہے کہ اس کی مضرت سے ڈرایا جاتا ہے۔ اَخَافُ عَلَیْکُمْ یعنی اگر اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرو گے تو مجھے تمہارے متعلق یوم عظیم کے عذاب کا ڈر ہے۔ یَوْمٍ عَظِیْمٍ یعنی وہ دن جس کی مصیبت بہت بڑی ہوگی۔
Ayah 46:22

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 46:22 in the Quran reader

کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم کو ہمارے معبودوں سے پھیر دو۔ اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو اسے ہم پر لے آؤ

قالوا اجئتنا لتا فکنا عن الھتنا فاتنا بما تعدنا ان کنت من الصدقین وہ کہنے لگے : کیا تم ہمارے پاس اس ارادہ سے آئے ہو کہ ہم کو ہمارے معبودوں سے پھیر دو ؟ پس اگر تم سچے ہو تو جس (عذاب) کا تم ہم پر لانے کا وعدہ کر رہے ہو ‘ اس کو ہم پر لے آؤ۔ اَجِءْتَنَا استفہام (سوالیہ نہیں) تقریری ہے۔ عَنْ اٰلِھَتِنَا ہمارے معبودوں سے پھیر دینے کیلئے۔ بِمَا تَعِدُنَا یعنی شک پر جس عذاب کے آنے کا تم ہم سے وعدہ کر رہے ہو (اور ڈرا رہے ہو) ۔ اِنْ کُنْتَ کلام سابق مضمون جزاء پر دلالت کر رہا ہے ‘ اسلئے اس جگہ اِنْ کُنْتَ کے جواب کو محذوف ماننے کی ضرورت نہیں۔
Ayah 46:23

قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۖ٘ وَ اُبَلِّغُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 46:23 in the Quran reader

(انہوں نے) کہا کہ (اس کا) علم تو خدا ہی کو ہے۔ اور میں تو جو (احکام) دے کر بھیجا گیا ہوں وہ تمہیں پہنچا رہا ہوں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی میں پھنس رہے ہو

قال انما العلم عند اللہ وابلغکم ما ارسلت بہ ولکنی ارا کم قوما تجھلون حضرت ہود نے کہا کہ (پورا) علم تو اللہ ہی کو ہے اور مجھ کو جو پیغام دے کر بھیجا گیا ہے ‘ میں وہ تم کو پہنچا رہا ہوں ‘ لیکن تم کو میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ (نری) جہالت کی باتیں کرتے ہو۔ الْعِلْمُ یعنی وقت عذاب کا علم۔ عِنْدَ اللّٰہِ یعنی عذاب مقرر وقت پر آئے گا ‘ اگر اس وقت تک نہیں آیا تو اس سے یہ لازم نہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔ ہاں ‘ مجھے عذاب لانے میں کوئی دخل نہیں کہ جلد لانے کا طلبگار بنوں۔ وَاُبَلِّغُکُمْ مَّآ اُرْسِلْتُ بِہٖ یعنی پیام توحید ‘ احکام اور تمہارے ایمان نہ لانے کی صورت میں نزول عذاب کی اطلاع دے کر جو مجھے تمہارے پاس بھیجا گیا ہے ‘ میں وہ تم کو پہنچا رہا ہوں۔ قَوْمًا تَجْھَلُوْنَ یعنی تم نہیں جانتے کہ علیم و قدیر اللہ ہے ‘ پیغمبروں کو صرف تبلیغ توحید و احکام اور ڈرانے کیلئے بھیجا گیا ہے۔ پیغمبر نہ خود عذاب دینے والے ہوتے ہیں ‘ نہ نزول عذاب کی (بغیر وحی کے) تلاش و طلب کرنے والے۔
Ayah 46:24

فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِهِمْ١ۙ قَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا١ؕ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖ١ؕ رِیْحٌ فِیْهَا عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ Open ayah 46:24 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے اس (عذاب کو) دیکھا کہ بادل (کی صورت میں) ان کے میدانوں کی طرف آرہا ہے تو کہنے لگے یہ تو بادل ہے جو ہم پر برس کر رہے گا۔ (نہیں) بلکہ (یہ) وہ چیز ہے جس کے لئے تم جلدی کرتے تھے یعنی آندھی جس میں درد دینے والا عذاب بھرا ہوا ہے

فلما راوہ عارضا مستقبل اودیتھم قالوا ھذا عارض ممطرنا بل ھو ما استعجلتم بہ ریح فیھا عذاب الیم۔ سو ان لوگوں نے جب اس بادل کو اپنی وادیوں کے مقابل آتا دیکھا تو کہنے لگے : یہ بادل ہے جو ہم پر برسے گا (ا اللہ نے فرمایا : نہیں نہیں) بلکہ یہ وہی (عذاب) ہے جس کے جلد آنے کے تم خواستگار تھے۔ ایک آندھی ہے جس میں دکھ پہنچانے والا عذاب ہے۔
Ayah 46:25

تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 46:25 in the Quran reader

ہر چیز کو اپنے پروردگار کے حکم سے تباہ کئے دیتی ہے تو وہ ایسے ہوگئے کہ ان کے گھروں کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا تھا۔ گنہگار لوگوں کو ہم اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں

تدمر کل شی بامرر بھا فاصبحوا لا یری الا مسکنھم کذلک نجزی القوم المجرمین وہ ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے تباہ کر دے گی۔ چناچہ وہ ایسے ہوگئے کہ بجز ان کے مکانات کے اور کچھ (جانور ‘ آدمی ‘ کھیت ‘ سامان) دکھائی نہیں دیتا تھا۔ ہم مجرموں کو یونہی سزا دیا کرتے ہیں۔ فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا۔ ہُ ضمیر مَا تَعِدُنَا کی طرف راجع ہے ‘ یا ضمیر مبہم ہے۔ عارض اس کی تفسیر ہے ‘ عارض وہ بادل جو فضا کے عرض میں (پھیلتا اور) نمایاں ہوتا ہے۔ قوم عاد پر دو سال سے بارش نہیں ہوئی تھی (ان کا قصہ سورة اعراف وغیرہ میں گذر چکا ہے) جب بادل کو سامنے سے آتے دیکھا تو بڑے خوش ہوئے اور کہنے لگے : یہ جو ہم کو نظر آ رہا ہے ‘ بادل ہے جو برسے گا ‘ پانی برسائے گا۔ اللہ نے ‘ یا حضرت ہود نے فرمایا : یہ ابر باراں نہیں ہے ‘ بلکہ یہ وہ عذاب ہے جسکی تم جلدی مچاتے تھے ‘ یہ ایک آندھی ہے جس کے اندر عذاب الیم ہے۔ تُدَمِّرُ تباہ کر دے گی۔ کُلَّ شَیْءٍ ہر چیز کو جس کی طرف سے گذرے گی ‘ یعنی جان ‘ مال ‘ ہر چیز کو تباہ اور ہلاک کر دے گی۔ چناچہ سخت طوفان آیا ‘ ڈیرے ‘ خیمے ‘ سواریاں سب اڑا کرلے گیا اور سب چیزیں ٹڈی دل کی طرح اڑنے لگیں۔ سب سے پہلے عذاب ہونے کی شناخت ان کو اس وقت ہوئی جب بستی کے باہر کی چیزیں انہوں نے ہوا میں اڑتی ہوئی دیکھیں۔ یہ سماں دیکھ کر وہ اپنے گھروں میں گھس گئے اور دروازے بند کر لئے ‘ لیکن طوفان نے ان کے دروازے توڑ دئیے اور سب لوگوں کو زمین پردے ٹپکا۔ پھر بحکم خدا طوفانی ریت ان پر آپڑی اور سب ریت کے نیچے دب گئے۔ یہ آندھی سات راتیں اور آٹھ دن چلتی رہی ‘ ایک ہفتہ کے بعد طوفانی ریت اڑ گئی اور ان کی لاشوں کو اڑا کر سمندر میں پھینک دیا۔ روایت میں آیا ہے کہ حضرت ہود کو جب طوفان کا احساس ہوا تو فوراً مؤمنوں کو لے کر ایک حصار میں داخل ہوگئے۔ حضرت عائشہ نے فرمایا : میں نے نہیں دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کبھی ایسے بھر پور ہنسے ہوں کہ آپ کے حلق کا کوا مجھے نظر آگیا ہو ‘ آپ صرف مسکرا دیا کرتے تھے (یہی حضور ﷺ کی ہنسی تھی) جب آپ کوئی بادل یا تیز ہوا دیکھ لیتے تو اس کا اثر آپ کے چہرہ سے (ظاہر ہوجاتا تھا اور) پہچان لیا جاتا تھا۔ متفق علیہ۔ بغوی کی روایت میں آیا ہے کہ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! لوگ بادل کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور بارش کی امید رکھتے ہیں ‘ لیکن آپ بادل کو دیکھتے ہیں تو (آپ متفکر ہوجاتے ہیں اور) اس کی ناگوار آپ کے چہرہ سے پہچان لی جاتی ہے۔ فرمایا : عائشہ ! مجھے اس کا خطرہ ہوتا ہے کہ (شاید) اس میں عذاب ہو۔ ایک قوم پر طوفان کا عذاب آیا تھا ‘ لیکن انہوں نے بادل (یعنی طوفانی عذاب) کو دیکھ کر یہی کہا تھا کہ یہ بادل ہے ‘ اس سے بارش ہوگی۔ یہ بھی حضرت عائشہ ہی کا بیان ہے کہ جب ہوا تیز چلتی (یعنی آندھی آتی) تھی تو رسول اللہ ﷺ کہتے تھے : اے اللہ ! میں تجھ سے خواستگار ہوں اس کی خیر کا اور اس کے اندر جو کچھ ہے ‘ اس کی خیر کا اور جس چیز کا حامل بنا کر اس کو بھیجا گا ہے ‘ اس کی خیر کا اور میں تیری پناہ لیتا ہوں اس کے شر سے اور اس کے اندر جو کچھ ہے ‘ اس کے شر سے اور جس چیز کا حامل بنا کر اس کو بھیجا گیا ہے ‘ اس کے شر سے۔ اور جب آسمان پر بادل آتا (جس سے عام طور پر بارش کی امید کی جاتی) تو حضور ﷺ کا رنگ بدل جاتا۔ باہر جاتے ‘ اندر آتے ‘ یونہی آتے جاتے رہتے ‘ پھر جب بارش ہونے لگتی تو حضور ﷺ کی یہ کیفیت دور ہوجاتی۔ میں نے یہ حالت پہچان کر دریافت کی ‘ فرمایا : عائشہ ! ہوسکتا ہے کہ یہ ایسا ہی ہو ‘ جیسے عاد نے کہا تھا (اور اللہ نے اس کو بیان کیا ہے) فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِھِمْ قَالُوْا ھٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا الخ۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بارش کو دیکھ کر فرماتے : میں رحمت کا خواستگار ہوں۔ متفق علیہ۔ ابو داؤد ‘ نسائی ‘ ابن ماجہ اور شافعی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب آسمان پر کوئی چیز (بادل یا آندھی) اٹھتی دیکھتے تو اپنا کام چھوڑ کر اس کی طرف رخ کر کے کہتے : میں تیری پناہ لیتا ہوں اس چیز کے شر سے جو اس کے اندر ہے۔ الحدیث۔ حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ جب کبھی آندھی چلتی ‘ رسول اللہ ﷺ دو زانو ہوجاتے اور کہتے : اے اللہ ! اس کو رحمت دے ‘ اس کو عذاب نہ بنا۔ رواہ الشافعی والبیہقی۔
Ayah 46:26

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْئِدَةً١ۖ٘ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْئِدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَ١ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 46:26 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو ایسے مقدور دیئے تھے جو تم لوگوں کو نہیں دیئے اور انہیں کان اور آنکھیں اور دل دیئے تھے۔ تو جب کہ وہ خدا کی آیتوں سے انکار کرتے تھے تو نہ تو ان کے کان ہی ان کے کچھ کام آسکے اور نہ آنکھیں اور نہ دل۔ اور جس چیز سے استہزاء کیا کرتے تھے اس نے ان کو آ گھیرا

ولقد مکنھم فیما ان مکنکم فیہ وجعلنا لھم سمعا وابصارا وافئدۃ فما اغنی عنھم سمعھم ولا ابصارھم ولا افئدتھم من شی اذ کانوا یجحدون بایت اللہ وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزؤن اور ہم نے ان کو ان باتوں میں قدرت دی تھی کہ تم کو ان باتوں میں قدرت نہیں دی اور ہم نے ان کو کان اور آنکھیں اور دل دئیے تھے لیکن نہ ان کے کان ذرا ان کے کام آئے ‘ نہ آنکھیں ‘ نہ دل کیونکہ وہ آیات خدا کا انکار کرتے تھے اور جس (عذاب) کی وہ ہنسی اڑایا کرتے تھے ‘ اس نے ان کو آگھیرا۔ وَلَقَدْ مِکَّنّٰھُمْ ہم نے قوم عاد کو وہ قدرت دی تھی ‘ یعنی قوت اور مال۔ اِنْ مَکَّنّٰکُمْ فِیْہِ- اِنْ نافیہ ہے ‘ تم کو وہ قدرت نہیں دی ‘ یا شرطیہ ہے اور جزا محذوف ہے ‘ یعنی اگر ہم تم کو ان چیزوں میں ان جیسی قدرت دے دیتے تو تمہاری سرکشی ان سے بھی زیادہ ہوتی۔ یا اِنْ زائد ہے ‘ یعنی ہم نے ان کو ان باتوں کی قدرت دی جن کی تم کو قدری دی ہے۔ اِنْ کو نافیہ قرار دینا زیادہ بہتر ہے کیونکہ دوسری آیت میں قوم عاد کے بڑے مالدار اور زیادہ طاقتور ہونے کا ذکر کیا گیا ہے اور فرمایا ہے : اَحْسَنُ اَثَاثًا۔ کَانُوْٓا اَکْثَرَمِنْھُمْ وَاَشَدَّ قُوَّۃً وَّاٰثَارًا۔ وَجَعَلْنَا لَھُمْ سَمْعًاالخ یعنی ہم نے کان ‘ آنکھیں اور دل اسلئے عطا کئے تھے کہ وہ ان کے بنانے والے کی قدرت پر ان سے استدلال کریں اور ان نعمتوں کی قدر جان کر منعم کا ہمیشہ شکر ادا کرتے رہیں۔ فَمَآ اَغْنٰی عَنْھُمْ الخ یعنی کان ‘ آنکھ اور دل نے ان کو کسی طرح کا کچھ فائدہ نہیں دیا (کہ ان اعضاء سے صحیح کام لیتے اور نشان ہائے قدرت کو پہچانتے) کیونکہ اللہ کی آیات کا انکار ہی کرتے رہے۔ وَحَاق اور ان پر وہ عذاب نازل ہوا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔
Ayah 46:27

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَ صَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 46:27 in the Quran reader

اور تمہارے اردگرد کی بستیوں کو ہم نے ہلاک کر دیا۔ اور بار بار (اپنی) نشانیاں ظاہر کردیں تاکہ وہ رجوع کریں

ولقد اھلکنا ما حولکم من القری وصرفنا الایت لعلھم یرجعون۔ اور ہم نے دوسری آس پاس کی اور بستیاں بھی تباہ کردیں اور ہم نے بار بار اپنی نشانیاں بتادی تھیں تاکہ وہ باز آجائیں۔
Ayah 46:28

فَلَوْ لَا نَصَرَهُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةً١ؕ بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ١ۚ وَ ذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 46:28 in the Quran reader

تو جن کو ان لوگوں نے تقرب (خدا) کے سوا معبود بنایا تھا انہوں نے ان کی کیوں مدد نہ کی۔ بلکہ وہ ان (کے سامنے) سے گم ہوگئے۔ اور یہ ان کا جھوٹ تھا اور یہی وہ افتراء کیا کرتے تھے

فلو لا نصرھم الذین اتخذوا من دون اللہ قربانا الھۃ بل ضلوا عنھم وذلک افکھم وما کانوا یفترون سو اللہ کے سوا جن جن چیزوں کو انہوں نے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کیلئے اپنا معبود بنا رکھا تھا ‘ انہوں نے ان کی مدد کیوں نہیں کی بلکہ وہ ان سے غائب ہوگئے ‘ وہ محض ان کی من گھڑت اور تراشی ہوئی بات تھی۔ مَا حَوْلَکُمْ یعنی اے اہل مکہ ! تمہارے آس پاس کی بستیاں جیسے قوم ثمود کی بستی حجر اور قوم لوط کی بستی سدوم وغیرہ۔ بستیوں کو ہلاک کرنے سے مراد ہے اہل بستی کو ہلاک کرنا۔ فَلَوْلاَ لَصَرَھُمْ یعنی اللہ کے عذاب سے کیوں نہیں بچایا۔ وَصَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ یعنی بار بار دلائل اور نشان ہائے قدرت ہم نے پیش کئے۔ قُرْبَانًا اٰلِھَۃًط یعنی ان کے سوا دوسروں کو انہوں نے معبود بنا رکھا تھا تاکہ ان کے ذریعہ سے اللہ کا قرب حاصل کرلیں ‘ کیونکہ انہوں نے کہا تھا : ھآؤُلَآءِ شُفَعَآءُنَا عِنْدَ اللّٰہِ ۔ بَلْ ضَلُّوْا عَنْھُمْ یعنی غائب ہوگئے (کھو گئے) مطلب یہ ہے کہ عذاب نازل ہونے کے وقت غائب ہوگئے اور جس طرح کسی غائب سے طلب مدد ناممکن ہے ‘ اسی طرح ان معبودوں سے مدد طلب کرنی بھی محال تھی۔ وَذٰلِکَ یعنی ان کے سوا دوسروں کو معبود قرار دینا۔ اِفْکُھُمْ ان کا جھوٹ ہے اور حق سے روگردانی ہے۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ ذلک سے اشارہ عدم امداد کی طرف ہے ‘ یعنی امداد نہ ہونا ان کے جھوٹ یعنی افتراء کا نتیجہ ہے۔ وَمَا کَانُوْا۔ مَا مصدری ہے ‘ یعنی ان کا افتراء۔ ابن ابی شیبہ نے حضرت ابن مسعود کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بطن نخلہ میں قرآن پڑھ رہے تھے۔ اس وقت کچھ جن اوپر جا رہے تھے ‘ قرآن سن کر نیچے اتر آئے اور جب قرآن سنا تو بولے : خاموش ہو کر توجہ کے ساتھ سنو۔ یہ جن نو 9 تھے ‘ جن میں سے ایک (کا نام) رذبعہ تھا ‘ اس پر اللہ نے آیت ذیل نازل فرمائی :
Ayah 46:29

وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَیْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا١ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 46:29 in the Quran reader

اور جب ہم نے جنوں میں سے کئی شخص تمہاری طرف متوجہ کئے کہ قرآن سنیں۔ تو جب وہ اس کے پاس آئے تو (آپس میں) کہنے لگے کہ خاموش رہو۔ جب (پڑھنا) تمام ہوا تو اپنی برادری کے لوگوں میں واپس گئے کہ (ان کو) نصیحت کریں

واذ صرفنا الیک نفرا من الجن یستمعنو القران فلما حضروہ قالوا انصتوا فلما قضی ولوا الی قومھم منذرین اور جب ہم نے جنات کی ایک جماعت کو آپ کی طرف موڑ دیا جو قرآن سننے لگے تھے ‘ سو جب وہ لوگ قرآن سننے آپہنچے تو کہنے لگے : خاموش رہ کر ‘ کان لگا کر سنو۔ پھر جب قرآن پڑھا جا چکا تو وہ لوگ اپنی قوم کے پاس خبر کیلئے واپس چلے گئے۔ وَاِذْ صَرَفْنَا اور جب ہم نے موڑ دیا۔ یہ جملہ آخر تک معترضہ ہے اور رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینا مقصود ہے۔ نَفَرًا۔ نفر دس سے کم تعداد کی جماعت کو کہتے ہیں ‘ اس کی جمع انفار آتی ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : نصیبین کے سات جن تھے ‘ رسول اللہ ﷺ نے قاصد بنا کر ان کو ان کی قوم کے پاس بھیجا تھا۔ دوسرے اہل روایت نے کہا : نو تھے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ عاصم نے حضرت زر بن حبیش کی روایت سے بیان کیا کہ حضرت رذبعہ بھی ان نو میں سے تھے جنہوں نے قرآن سنا تھا۔ فَلَمَّا قُضِیَ پھر جب قرآن کی قرأت ختم ہوگئی۔ وَلَّوْا تو اپنی قوم کے پاس ‘ یعنی جنات کے پاس واپس چلے گئے۔ مُنْذِرِیْنَ یعنی رسول اللہ ﷺ کے حکم سے قوم کو اسلام کی دعوت دینے اور (بصورت مخالفت عذاب سے) ڈرانے کیلئے۔ ہم نے پورا واقعہ سورة جن میں ذکر کردیا ہے۔
Ayah 46:30

قَالُوْا یٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ یَهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 46:30 in the Quran reader

کہنے لگے کہ اے قوم! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے۔ جو (کتابیں) اس سے پہلے (نازل ہوئی) ہیں ان کی تصدیق کرتی ہے (اور) سچا (دین) اور سیدھا رستہ بتاتی ہے

قالوا یقومنا ان سمعنا کتبا انزل من بعد موسیٰ مصدقا لما بین یدیہ یھدی الی الحق والی طریق مستقیم کہنے لگے : اے ہماری قوم ! ہم ایک کتاب سن کر آئے ہیں جو موسیٰ کے بعد نازل کی گئی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے ‘ حق اور راہ راست کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔ کِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْم بَعْدِ مُوْسٰی عطاء نے کہا : وہ جنات یہودی مذہب پر تھے۔ میں کہتا ہوں : شاید کِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْم بَعْدِ مُوْسٰی کا یہ مطلب ہے کہ وہ کتاب شریعت موسیٰ کو منسوخ کرنے والی ہے ‘ انجیل اور زبور ‘ توریت کے بیشتر احکام کی ناسخ نہیں تھیں۔ اللہ نے حضرت عیسیٰ کے متعلق فرمایا : وَیُعَلِّمُہُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَالتَّوْراٰۃ وَالْاِنْجِیْلَ اللہ نے حضرت موسیٰ کا بھی یہی قول نقل کیا ہے : وَلِاُحِلَّ لَکُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْکُمْ ۔ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ یعنی اپنے سے پہلی کتابوں توریت ‘ انجیل وغیرہ کی تصدیق کرتی ہے۔ یَھْدِیْٓ اِلَی الْحَقِّ ۔ الحق سے مراد ہیں صحیح عقائد ‘ اور طریق مستقیم سے مراد ہیں عملی احکام۔
Ayah 46:31

یٰقَوْمَنَاۤ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰهِ وَ اٰمِنُوْا بِهٖ یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 46:31 in the Quran reader

اے قوم! خدا کی طرف بلانے والے کی بات قبول کرو اور اس پر ایمان لاؤ۔ خدا تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں دکھ دینے والے عذاب سے پناہ میں رکھے گا

یقومنا اجیبوا داعی اللہ وامنوا بہ یغفرلکم من ذنوبکم ویجرکم من عذاب الیم اے ہماری قوم (کے بھائیو ! ) اللہ کی طرف بلانے والے کا کہنا مانو اور اس پر ایمان لے آؤ ‘ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تم کو دردناک عذاب سے محفوظ رکھے گا۔
Ayah 46:32

وَ مَنْ لَّا یُجِبْ دَاعِیَ اللّٰهِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَیْسَ لَهٗ مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءُ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 46:32 in the Quran reader

اور جو شخص خدا کی طرف بلانے والے کی بات قبول نہ کرے گا تو وہ زمین میں (خدا کو) عاجز نہیں کرسکے گا اور نہ اس کے سوا اس کے حمایتی ہوں گے۔ یہ لوگ صریح گمراہی میں ہیں

ومن لا یجب داعی اللہ فلیس بمعجز فی الارض ولیس لہ من دونہ اولیاء اولئک فی ضلل مبین اور جو شخص اللہ کی طرف بلانے والے کا کہنا نہ مانے گا تو وہ زمین میں ہرا نہیں سکتا ‘ اور اللہ کے سوا کوئی اس کا حامی بھی نہ ہوگا۔ ایسے لوگ صریح گمراہی میں ہیں۔ دَاعِیَ اللّٰہِ یعنی محمد ﷺ جو اسلام کی طرف بلانے والے ہیں۔ یَغْفِرْلَکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا ‘ یعنی وہ گناہ معاف کر دے گا جن کا تعلق حق اللہ سے ہوگا ‘ حقوق العباد ایمان لانے سے معاف نہیں ہوتے۔ جنات کی اس تبلیغ سے ستر جن مسلمان ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ حضور ﷺ اس وقت بطحاء میں تھے۔ آپ نے ان کو قرآن پڑھ کر سنایا ‘ فرائض ادا کرنے کا حکم دیا اور ممنوعات سے بازداشت کی۔ اس واقعہ میں اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جن و انس دونوں کیلئے بھیجا گیا تھا۔ سورة جن میں ہم نے مؤمن جن کے متعلق علماء کے اختلاف پر روشنی ڈالی ہے۔ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ یعنی زمین پر اللہ کو مغلوب نہیں کرسکتا۔ اگر اللہ اس کو عذاب دینا چاہے تو وہ اللہ کی دسترس سے چھوٹ نہیں سکتا۔ فَلَیْسَ لَہٗ الخ یعنی اللہ کے عذاب سے محفوظ رکھنے والا ‘ اس کا کوئی حامی نہیں ہوگا۔ اُولٰٓءِکَ یعنی جو لوگ اللہ کے داعی کے کہنے کو نہیں مانیں گے ‘ وہ کھلی گمراہی میں ہوں گے ‘ کیونکہ ہدایت کا انحصار صرف اتباع رسول میں ہے۔
Ayah 46:33

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى١ؕ بَلٰۤى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 46:33 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں سمجھا کہ جس خدا نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے تھکا نہیں۔ وہ اس (بات) پر بھی قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کر دے۔ ہاں ہاں وہ ہر چیز پر قادر ہے

اولم یروا ان اللہ الذی خلق السموت والارض ولم یعی بخلقھن بقدر علی ان یحی الموتی بلی انہ علی کل شی قدیر کیا ان لوگوں نے یہ نہ جانا کہ جس اللہ نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے تھک نہیں گیا ‘ وہ مردوں کو زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے ؟ کیوں نہ ہو ‘ بلاشبہ ہو ہر چیز پر قادر ہے۔ اَوَلَمْ یَرَوْا استفہام انکاری ہے اور محذوف جملہ پر اس کا عطف ہے ‘ پورا کلام اس طرح تھا : کیا یہ کفار دوبارہ جی اٹھنے کا انکار کرتے ہیں اور اس بات کا یقین نہیں کرتے کہ جس اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے الخ۔ وَلَمْ یَعْیَ بِخَلْقِھِنَّ اور ان کو پیدا کرنے سے نہیں تھکا اور نہ عاجز ہوگیا کیونکہ اس کی قدرت ذاتی ہے ‘ پیدا کرنے اور ایجاد کرنے سے اس میں نقص نہیں آسکتا۔
Ayah 46:34

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 46:34 in the Quran reader

اور جس روز آگ کے سامنے کئے جائیں گے (اور کہا جائے گا) کیا یہ حق نہیں ہے؟ تو کہیں گے کیوں نہیں ہمارے پروردگار کی قسم (حق ہے) حکم ہوگا کہ تم جو (دنیا میں) انکار کیا کرتے تھے (اب) عذاب کے مزے چکھو

ویوم یعرض الذین کفروا علی النار الیس ھذا بالحق قالوا بلی وربنا قال فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون اور جس روز کافروں کو دوزخ کے سامنے لایا جائے گا (اور ان سے پوچھا جائے گا :) کیا یہ (دوزخ) امر واقعی نہیں ہے ؟ وہ کہیں گے : قسم ہے اپنے رب کی ! (امر واقعی) کیوں نہیں (ضرور ہے) تو ارشاد ہوگا : تو اب اپنے کئے ہوئے کفر کے عذاب کا مزہ چکھو۔ اَلَیْسَ ھٰذَا عذاب دوزخ کی طرف اشارہ ہوگا جس کا وہ دنیا میں انکار کرتے تھے۔ وَرَبِّنَا قسم ہے اپنے رب کی۔ اس وقت وہ قسم کھائیں گے اور اعتراف کریں گے ‘ لیکن بےسود ہوگا۔ فَذُوقُوْا۔ فَ سببی ہے (یعنی فَ سے پہلے کا مضمون فَ کے بعد والے مضمون کا سبب ہے) دوزخ کا حق ہونا باوجودیکہ وہ دنیا میں اس کا انکار کرتے تھے ‘ عذاب کا مزہ چکھنے کا سبب ہوگا۔ فذوقوا امر کا صیغہ ہے جو اہانت و توبیخ کو ظاہر کر رہا ہے۔
Ayah 46:35

فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَ١ۙ لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍ١ؕ بَلٰغٌ١ۚ فَهَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ۠ Open ayah 46:35 in the Quran reader

پس (اے محمدﷺ) جس طرح اور عالی ہمت پیغمبر صبر کرتے رہے ہیں اسی طرح تم بھی صبر کرو اور ان کے لئے (عذاب) جلدی نہ مانگو۔ جس دن یہ اس چیز کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو (خیال کریں گے کہ) گویا (دنیا میں) رہے ہی نہ تھے مگر گھڑی بھر دن۔ (یہ قرآن) پیغام ہے۔ سو (اب) وہی ہلاک ہوں گے جو نافرمان تھے

فاصبر کما صبر اولوالعزم من الرسل پس آپ صبر کیجئے ‘ جیسے ہمت والے پیغمبروں نے صبر کیا تھا۔ اُولُوالْعَزْمِ صبر و ثبات والے اور کوشش کرنے والے پیغمبر جو آپ سے پہلے گذر چکے ہیں ‘ انکی طرح آپ بھی صبر کیجئے۔ اولوالعزم کون سے پیغمبر تھے ‘ علماء کے اقوال اس مسئلہ میں مختلف ہیں۔ ابن زید نے کہا : ہر پیغمبر صاحب عزم تھا۔ کوئی نبی ‘ اللہ نے ایسا پیدا نہیں کیا جو عز م و دانش اور عقل کامل نہ رکھتا ہو۔ اس صورت میں مِن الرسل میں مِن بیانیہ ہوگا۔ بعض علماء کا قول ہے کہ سوائے حضرت یونس کے ‘ تمام پیغمبر صاحب عزم تھے۔ حضرت یونس بن متی (وحی کا انتظار کئے بغیر) عجلت کر بیٹھے تھے ‘ اسی وجہ سے اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا : وَلاَ تَکُنْ کَصَاحِبِ الْحُوْتِآپ حضرت یونس کی طرح (عجلت پسند) نہ ہوجانا۔ بعض لوگوں نے حضرت آدم کو بھی اولوالعزم پیغمبروں کی فہرست سے خارج مانا ہے۔ اللہ نے حضرت آدم کے متعلق فرمایا ہے : وَلَمْ نَجِدْ لَہٗ عَزْمًا ہم نے ان کیلئے عزم نہیں پایا۔ بعض نے کہا : اولوالعزم وہ منتخب پیغمبر تھے جن کا ذکر سورة الانعام میں آیا ہے ‘ یہ سب اٹھارہ تھے : حضرت ابراہیم ‘ حضرت اسحاق ‘ حضرت یعقوب ‘ حضرت نوح ‘ حضرت داؤد ‘ حضرت سلیمان ‘ حضرت ایوب ‘ حضرت یوسف ‘ حضرت موسیٰ ‘ حضرت ہارون ‘ حضرت زکریا ‘ حضرت یحییٰ ‘ حضرت الیاس ‘ حضرت اسماعیل ‘ حضرت الیسع ‘ حضرت یونس ‘ حضرت لوط علیہم السلام۔ اللہ نے ان سب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے : اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ ھَدَی اللّٰہُ فَبِھُدَاھُمُ اقْتَدِہْ ۔ کلبی نے کہا : اولوالعزم وہ ہیں جن کو جہاد کا حکم دیا گا ہے۔ بعض نے کہا : صاحب عزم چھ پیغمبر ہیں : حضرت نوح ‘ حضرت ہود ‘ حضرت صالح ‘ حضرت لوط ‘ حضرت شعیب ‘ حضرت موسیٰ علیہم السلام۔ اسی ترتیب سے ان کا ذکر سورة الاعراف و الشعراء میں کیا گیا ہے۔ مقاتل نے کہا : اولوالعزم یہ چھ پیغمبر ہیں : (1) حضرت نوح ‘ آپ نے قوم کی طرف سے پہنچنے والی اذیتوں پر صبر کیا۔ (2) حضرت ابراہیم ‘ اپ نے (نمرود کی) آگ پر صبر قائم رکھا۔ (3) حضرت اسحاق ‘ آپ نے ذبح کئے جانے (کے حکم) پر صبر قائم رکھا (مقاتل نے نزدیک اس روایت کے بموجب ذبیح اللہ حضرت اسحاق تھے ‘ حضرت اسماعیل نہیں تھے۔ یہ قول جمہور کے خلاف ہے) ۔ (4) حضرت یعقوب ‘ آپ نے اپنے بیٹے کے گم ہوجانے اور اپنے نابینا ہوجانے پر صبر کیا۔ (5) حضرت یوسف ‘ آپ نے کنویں کے اندر اور قیدخانہ میں صبر کیا۔ (6) حضرت ایوب ‘ آپ نے جسمانی دکھوں پر صبر کیا۔ حضرت ابن عوباس اور قتادہ کا قول ہے کہ اولوالعزم پانچ تھے ‘ جن میں سے ہر ایک کو (الگ الگ) شریعت دی گئی تھی : حضرت نوح ‘ حضرت ابراہیم ‘ حضرت موسیٰ ‘ حضرت عیسیٰ اور محمد ﷺ ۔ محی السنۃ بغوی نے کھا ہے : اللہ نے ان کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس آیت میں کیا ہے : وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِّیْنَ مِیْثَاقَھُمْ وَمِنْکَ وَمِنْ نُّوْحٍ وَّاِبْرَاھِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ ۔ ان پانچوں کا ذکر مخصوص طور پر آیت ذیل میں بھی آیا ہے ‘ فرمایا ہے : شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوْحًا وَّالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اَلِیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہٖ اِبْرَاھِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰی۔ شیخ احمد مجدد الف ثانی نے فرمایا : عزم والے چھ تھے : حضرت آدم ‘ حضرت نوح ‘ حضرت ابراہیم ‘ حضرت موسیٰ ‘ حضرت عیسیٰ اور محمد ﷺ ۔ مؤخر الذکر پانچ کا ذکر تو خصوصیت کے ساتھ آیت میثاق (مذکورہ بالا) میں کردیا گیا ہے ‘ یہ حضرت (الگ الگ) شریعتوں کے حامل بھی تھے۔ ان کے بعد جو پیغمبر ہوئے ‘ وہ انہی کی شریعتوں کے پابند تھے۔ حضرت آدم تو ظاہر ہے کہ وہ سب سے پہلے تھے ‘ ان کی شریعت سب سے اول تھی (جس پر وہ عامل تھے) ۔ بغوی نے لکھا ہے کہ مسروق نے کہا : مجھ سے حضرت عائشہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : عائشہ ! محمد اور آل محمد ﷺ کیلئے دنیا مناسب نہیں۔ عائشہ ! اللہ نے اہل عزم کیلئے دنیا کے مکروہات پر صبر کرنے اور مرغوبات سے صبر (اعراض ‘ گریز) کرنے ہی کو پسند فرمایا اور مجھے بھی اس امر کا مکلف کیا جس کا مکلف دوسرے اولوالعزم کو کیا تھا۔ میرے لئے اسی بات کو اس نے پسند کیا اور فرمایا : فَاصَبَرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوالْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ اور وا اللہ ! میرے لئے بھی طاعت خداوندی کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ جیسے انہوں نے صبر کیا ‘ میں بھی کروں گا اور جیسے انہوں نے محنتیں برداشت کیں ‘ میں بھی ویسی ہی محنت کروں گا۔ ولا قوۃ الا باللہ۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : گویا وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک نبی کا واقعہ بیان فرما رہے تھے جن کو ان کی قوم نے مار مار کر لہولہان کردیا ‘ لیکن وہ اپنے چہرے سے خون پونچھتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے : اے اللہ ! میری قوم کو معاف کر دے ‘ یہ نادان لوگ ہیں۔ متفق علیہ (غالباً نبی سے مراد حضور ﷺ کی اپنی ذات مبارک تھی ‘ آپ نے اپنی ذات کو مبہم الفاظ میں بیان فرمایا) ۔ ولا تستعجل لھم کانھم یوم یرون ما یوعدون لم یلبثوا الا ساعۃ من نھار بلغ فھل یھلک الا القوم الفسقون اور ان لوگوں پر (عذاب الٰہی آنے کی) جلدی نہ کیجئے۔ جس روز یہ لوگ اس (عذاب) کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے (انکو ایسا معلوم ہوگا کہ) گویا دن بھر میں صرف ایک گھڑی (دنیا میں) رہے تھے (یہ پیام) پہنچا دینا ہے ‘ سو وہی تباہ ہوں گے جو نافرمانی کریں گے۔ وَلاَ تَسْتَعْجِلْ لَّھُمْالخ یعنی کفار قریش پر جلد عذاب نازل ہونے کی آپ دعا نہ کریں ‘ عذاب اپنے مقررہ وقت پر ضرور آئے گا۔ معلوم ہوتا ہے کہ قوم کی زیادہ مخالفتوں سے رسول اللہ ﷺ اکتا گئے تھے اور دل تنگ ہو کر آپ کی خواہش ہوگئی تھی کہ جو انکار کرنے والے ہیں ‘ ان پر عذاب آ ہی جائے۔ اللہ نے آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا اور نزول عذاب میں عجلت پسندی سے بازداشت فرما دی اور اگلی آیت میں قرب عذاب کی اطلاع دے دی۔ لَمْ یَلْبَثُوْٓا یعنی دنیا میں نہیں ٹھہرے مگر گھڑی بھر۔ روز قیامت اور عذاب کی ہولناکی کی وجہ سے دنیوی زندگی ان کو بہت ہی تھوڑی محسوس ہوگی ‘ کیونکہ جو مدت گذر گئی ہوہ کتنی ہی طویل ہو ‘ لیکن جب گذر چکی تو گویا تھی ہی نہیں۔ بَلٰغٌ یعنی یہ نصیحت جو کی گئی ‘ یا یہ سورت ‘ یا یہ قرآن اور جو بیان اس کے اندر ہے ‘ اللہ کی طرف سے تم کو پہنچانا ہے ‘ یعنی بس اس کا پہنچا دینا ہی کافی ہے ‘ یا ہذا سے تبلیغ رسول کی طرف اشارہ ہے۔ بلاغ کی تنوین اظہار عظمت کیلئے ہے ‘ یعنی یہ بلاغ عظیم ہے۔ فَھَلْ یُھْلَکُ سوال انکاری ہے ‘ یعنی سوائے نافرمان لوگوں کے عذاب سے کوئی ہلاک نہیں کیا جائے گا۔ اَلْفٰسِقُوْنَ یعنی نصیحت پذیری یا طاعت سے خارج ہوجانے والے۔ زجاج نے اس کی تشریح میں کہا کہ اللہ کی رحمت اور کرم کی موجودگی میں عذاب سے ہلاک ہونے والے صرف نافرمان لوگ ہوں گے (باقی لوگوں پر اللہ کی رحمت ہوگی) اسی لئے کچھ لوگوں نے کہا کہ رحمت خداوندی سے امید رکھنے کے سلسلہ میں جو کچھ آیا ہے ‘ وہ اس آیت سے زیادہ قوی ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّاٰلہٖ وَاصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ 13/جمادی الاوّل 1208 ھ ؁ کو تفسیر سورة الاحقاف ختم ہوئی۔ اس کے بعد انشاء اللہ سورة محمد کی تفسیر آئے گی۔ فالشکر لہٗ من قبل ومنم بعد۔