Ayah 41:33ومن احسن قولا ممن دعا الی اللہ وعمل صالحا وقال اننی من المسلمین اور اس شخص کے
قول سے بہتر کس کا قول ہوگا جس نے لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا اور نیک کام کئے اور کہا : میں بلاشبہ مسلمانوں میں سے ہوں۔
استفہام انکاری ہے ‘ یعنی اس سے بہتر قول والا کوئی نہیں ہوسکتا (جس نے اللہ کو ماننے کی دعوت دی اور نیک کام کئے اور مسلم ہونے کا اعلان کیا) ۔
قَوْلاً قول سے مراد ہے فخر کرنا ‘ یا اسلام کو دین و مذہب بنانا (یعنی قول سے مراد ہے دین و مذہب) عرب کہتے ہیں : یہ فلاں شخص کا قول ہے ‘ یعنی دین و مذہب ہے۔
محمد بن سرین اور سدی نے کہا : مَنْ دَعَا اِلَی اللہ الخ سے رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک مراد ہے۔ حسن کے نزدیک ہر وہ مؤمن مراد ہے جس نے اللہ کی دعوت (اسلام) قبول کی اور نیک کام کئے اور اپنے مسلم ہونے کا اظہار کیا۔
حضرت عائشہ نے فرمایا : میں سمجھتی ہوں کہ اس آیت کا نزول مؤذنوں کے حق میں ہوا تھا۔ حضرت ابو امامہ نے فرمایا : دَعَا اِلَی اللہ (ا اللہ کی طرف بلایا) اس سے مراد ہے اذان دی اور عَمِلَ صَالِحًا (نیک کام کئے) اس سے مراد ہے اذان و اقامت کے درمیان دو رکعتیں پڑھیں۔ قیس بن حازم نے کہا : نیک کام کرنے سے مراد ہے اذان و اقامت کے درمیان نماز پڑھنا۔ حضرت معقل بن یسار راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے ‘ اس کیلئے جو چاہے (یعنی فرض نہیں ہے ‘ جو چاہے پڑھے) متفق علیہ۔ حضرت انس بن مالک نے فرمایا : مجھے نہیں معلوم۔ حضرت انس راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اذان اور اقامت کے درمیان (کی ہوئی) دعا رد نہیں کی جاتی ‘ رواہ ابو داؤد والترمذی۔
فصل ۔ اذان کی فضیلت
حضرت معاویہ کا بیان ہے کہ میں نے خود سنا کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : قیامت کے دن مؤذن سب سے زیادہ دراز گردن ہوں گے ‘ رواہ مسلم۔ حضرت ابو سعید کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مؤذن کی (اذان کی) آواز جتنی مسافت تک جن و انس یا کوئی اور چیز (چوپایہ وغیرہ) سنے گی ‘ قیامت کے دن اس کیلئے شہادت دے گی ‘ رواہ البخاری۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : امام ذمہ دار ہے اور مؤذن امانتدار۔ اے اللہ ! اماموں کو ہدایت فرما اور مؤذنوں کی مغفرت فرما ‘ رواہ احمد وابو داؤد والترمذی والشافعی۔
حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے بامید ثواب سات برس اذان دی اس کیلئے دوزخ سے برأت (نجات) لکھ دی گئی ‘ رواہ الترمذی وابن ماجۃ وابو داؤد۔
حضرت ابن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تین شخص جنت کے ٹیلوں (یعنی بلند مقامات) پر ہوں گے : ایک وہ غلام جس نے اللہ کا بھی حق ادا کیا اور اپنے آقا کا بھی ‘ دوسرا وہ شخص جس نے کسی قوم کی امامت کی اور لوگ اس (کی امامت) سے راضی رہے ‘ تیسرا وہ آدمی جس نے ہر رات دن میں پانچ نمازوں کی اذان دی۔ رواہ الترمذی ‘ ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے۔
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جہاں تک مؤذن کی آواز جاتی ہے ‘ اسکی مغفرت کی جاتی ہے اور ہر تر و خشک اسکی شہادت دیتا ہے اور نماز میں حاضر ہونے والے کیلئے پچیش نمازوں کا ثواب لکھا جاتا ہے (یعنی جماعت سے نماز پڑھنے والے کو پچیس نمازوں کا ثواب ملتا ہے) اور ہر دو نمازوں کے درمیان کئے ہوئے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں ‘ رواہ احمد وابو داؤد وابن ماجۃ۔
حضرت سہل بن سعد کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دو باتیں ہیں جن کو رد نہیں کیا جاتا ‘ یا فرمایا کہ کم رد کیا جاتا ہے : اذان کے وقت دعاء کرنی اور جہاد کے وقت کی دعاء ‘ جب ہم لوگ باہم گتھے ہوئے (دست و گریبان) ہوتے ہیں۔
حضرت ابن عمر راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے بارہ سال اذان دی ‘ اس کیلئے جنت واجب ہوگئی۔ ہر اذان دینے سے روزانہ اس کی ساٹھ نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور ہر اقامت کہنے پر تیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ 1 رواہ ابن ماجۃ۔
حضرت ابن عمر نے فرمایا : مغرب کی اذان کے وقت ہم کو دعا کرنے کا حکم دیا جاتا تھا ‘ رواہ البیہقی فی الدعوات۔
فصل ۔ اذان کا جواب
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم مؤذن کی اذان سنو تو جو وہ کہتا ہے تم بھی کہو ‘ پھر مجھ پر درود پڑھو ‘ جو میرے لئے دعا کرے اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا ‘ پھر میرے لئے اللہ سے وسیلہ طلب کرو ‘ وسیلہ جنت کے اندر ایک خاص مقام ہے جس پر اللہ کے بندوں میں سے کسی ایک بندہ کو فائز کیا جائے گا اور میں امید کرتا ہوں کہ میں ہی وہ بندہ ہوں گا۔ پس جو میرے لئے وسیلہ ملنے کی دعا کرے گا ‘ اس کیلئے میری شفاعت کھل جائے گی ‘ رواہ مسلم۔
حضرت ابن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب مؤذن اللہ اکبر ‘ اللہ اکبر کہے اور تم میں سے بھی کوئی (سننے والا) اللہ اکبر ‘ اللہ اکبر کہے (الحدیث) یعنی جو مؤذن کہے وہ (سننے والا بھی) وہی کہے اور جب مؤذن حی علی الصلوٰۃ اور حی علی الفلاح کہے تو وہ (سننے والا) لاحول ولا قوۃ الا باللہ کہے تو وہ جنت میں داخل ہوجائے گا ‘ رواہ مسلم۔
حضرت عبد اللہ بن عمر راوی ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! مؤذن ہم سے بڑھ جائیں گے ؟ فرمایا : جیسا وہ کہتے ہیں تم بھی ویسے ہی الفاظ کہو ‘ پھر جب ختم کر چکو تو اللہ سے مانگو (جو مانگو گے) پاؤ گے ‘ رواہ ابو داؤد۔
Ayah 41:34ولا تستوی الحسنۃ ولا السیءۃ نیکی اور بدی برابر نہیں ہیں۔
یعنی جزا اور حسن انجام کے لحاظ سے دونوں برابر نہیں۔ دوسرا لا نفی کی تاکید کیلئے ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو ‘ انسان کو چاہئے کہ وہ اچھی خصلتیں اختیار کرے اور برائیوں کو ترک کرے ‘ غضب کو چھوڑ کر صبر اختیار کرے ‘ جہالت کو ترک کر کے برداشت کو اختیار کرے اور انتقام کی بجاء درگذر کرے اور بخل پر سخاوت کو ‘ بزدلی پر دلیری کو اور بےلگامی پر عفت کو ترجیح دے۔
ادفع بالتیھی احسن آپ نیک برتاؤ سے (بدی کو) ٹال دیا کریں۔
اَحْسَنُ سے حسن اضافی یعنی بدی سے زیادہ اچھا ہونا مراد نہیں ‘ کیونکہ بدی میں اچھائی ہوتی ہی نہیں ‘ نہ کم نہ زیادہ ‘ بلکہ احسن سے فی نفسہٖ زیادہ خوبی والی خصلت مراد ہے۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : حکم دیا گیا ہے کہ اگر کوئی غصہ کرے تو اسکے مقابلہ میں صبر کیا جائے ‘ کوئی جہالت کرے تو تحمل کرے اور کوئی بدسلوکی کرے تو اس کو معاف کردیا جائے۔ بعض علماء نے آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ بدیاں بھی سب ایک درجہ کی نہیں ہوتی ‘ اسی طرح نیکیوں کے مراتب بھی مختلف ہوتے ہیں۔ اب اگر کوئی دشمن کوئی بدی کرے تو اس کے مقابلہ میں بہترین اعلیٰ درجہ کی نیکی سے کام لیا جائے ‘ مثلاً کسی نے اگر تمہارے ساتھ بدسلوکی کی ہو تو درگذر کرنا چاہئے (یہ ایک درجہ کی نیکی ہے) لیکن اگر بدی کے عوض دشمن سے بہترین سلوک کیا جائے تو یہ احسن ہے۔
فاذا الذین بینک وبینہ عداوۃ کانہ ولی حمیم پھر یکایک وہ شخص کہ آپ کے اور اسکے درمیان دشمنی
تھی ‘ ایسا ہوجائے گا جیسا کوئی گہرا دوست ہوتا ہے۔
اِذَا مفاجاتیہ ہے ‘ یعنی جونہی آپ بدی کے مقابلہ میں نیکی کریں گے ‘ فوراً اچانک بدی کرنے والا دشمن تمہارا ایسا دوست بن جائے گا جیسے وہ تمہارا گہرا یار ہوگیا۔
مقاتل بن حبان نے کہا : اس آیت کا نزول ابو سفیان کے حق میں ہوا۔ لیکن مقاتل کا یہ قول صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور ابو سفیان کا حلقہ بگوش اسلام ہونا فتح مکہ کے بعد کا واقعہ ہے۔
Ayah 41:35وما یلقھا الا الذین صبروا وما یلقھا الا ذوحظ عظیم اور یہ بات ان ہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو
بڑے مستقل (مزاج) ہیں اور اسی کو یہ خصلت ملتی ہے جو بڑا خوش نصیب ہو۔
وَمَا یُلَقَّھَا یعنی بدی کے مقابلہ میں بھلائی کرنے کی خصلت صرف ان لوگوں کو ملتی ہے جو نفسانیت اور خواہشات کی مخالفت پر جمے رہتے ہیں۔
ذُوْحَظٍّ عَظِیْم بڑا خوش نصیب ‘ یعنی جس کو تجلیات ذاتی و صفاتی کا بڑا حصہ ملتا ہے ‘ اسی کو یہ اعلیٰ خصلت ملتی ہے۔ نفس پر جب اعلیٰ صفات جلوہ پاش ہوجاتی ہیں تو بری صفات نکل جاتی ہیں۔
Ayah 41:36واما ینزغنک من الشیطن نزغ فاستعذ باللہ اور اگر (ایسے وقت میں) شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ
آنے لگے تو فوراً اللہ کی پناہ مانگ لیا کیجئے۔
اِمَّا - اِنْ شرطیہ ہے اور مَا زائد ہے۔
یَنْزَغَنَّکَ- نَزْغٌکچوکا دینا ‘ چبھونا۔ شیطان کچوکا دیتا ہے ‘ یعنی گناہ پر ابھارتا ہے۔ قاموس میں ہے : نزغہٗ اسکے نیزہ چبھویا۔ نَزَغَ بینھم ان کے درمیان فساد ڈلوا دیا ‘ وسوسہ پیدا کردیا ‘ برانگیختہ کردیا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر شیطان کی طرف سے آپ کے دل میں وسوسہ پیدا ہو اور انتقام لینے پر اور برائی کے عوض برائی کرنے پر شیطان آپ کو ابھارے تو شیطان کے شر سے آپ اللہ کی پناہ کے خواستگار ہوں اور شیطان کے بہکاوے میں نہ آئیں ‘ اللہ خود اس بدی کو آپ سے دفع کر دے گا۔
انہ ھو السمیع العلیم بیشک اللہ (آپ کی دعا کو) سننے والا (اور آپ کی نیت و صلاحیت کو) جاننے والا ہے۔
Ayah 41:37ومن ایتہ الیل والنھار والشمس والقمر لا تسجدوا للشمس ولا للقمروا سجدوا اللہ
الذی خلقھن ان کنتم ایاہ تعبدون اور منجملہ اس کی (وحدانیت وقدرت کی) نشانیوں کے رات اور دن اور سورج اور چاند بھی ہیں۔ تم لوگ نہ سورج کو سجدہ کرو ‘ نہ چاند کو اور صرف اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان نشانیوں کو پیدا کیا اگر تم کو اسی کی عبادت کرنی ہے۔
یعنی ان میں سے ہر ایک چیز اپنے بنانے والے کے واجب ہونے پر اور اس کی وحدانیت اور صفات کاملہ پر دلالت کر رہی ہے ‘ اسلئے چاند ‘ سورج کو سجدہ نہ کرو ‘ یہ تو مخلوق ہیں ‘ تمہاری طرح محکوم ہیں بلکہ اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان چاروں کو پیدا کیا ہے۔ ھُنّ کی ضمیر چاروں کی طرف راجع ہے مگر (دن رات کو تو کوئی سجدہ کرتا ہی نہیں ہے) مراد ہے چاند ‘ سورج کو سجدہ کرنے کی ممانعت کرنی۔ رات دن کے ساتھ چاند ‘ سورج کو سجدہ کرنے کی ممانعت میں رات دن کو شامل کرنے سے درپردہ اس امر پر تنبیہ ہے کہ بےعلم اور غیر مختار ہونے میں چاند ‘ سورج بھی رات دن کی طرح ہیں۔
امام شافعی کے نزدیک یہ مقام سجدۂ تلاوت کا ہے کیونکہ اللہ نے اس میں سجدہ کا حکم دیا ہے۔ حضرت ابن مسعود اور حضرت عبد اللہ بن عمر سے یہی قول مروی ہے۔ طحاوی نے عبدالرحمن بن یزید کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود حٰمٓ کی پہلی آیت پر سجدہ کرتے تھے۔ طحاوی نے نافع کے روایت سے حضرت ابن عمر کا یہی قول نقل کیا ہے۔
Ayah 41:38فان استکبروا فالذین عند ربک یسبحون لہ بالیل والنھار وھم لا یسئمون پھر اگر یہ
(امتثال حکم اور سجدہ کرنے سے) تکبر کریں تو (ا اللہ کو کوئی ضرر نہیں پہنچتا) جو فرشتے آپ کے رب کے مقرب ہیں ‘ وہ شب و روز اسکی پاکی بیان کرتے ہیں اور (بالکل) نہیں اکتاتے۔
فَالَّذِیْنَ میں فَ تعلیلہ ہے ‘ شرط کی جزاء محذوف ہے اور جزاء کے قائم مقام جزاء کی علت کو ذکر کیا ہے ‘ یعنی اگر یہ لوگ تکبر کرتے تو اللہ کا کوئی نقصان نہیں کیونکہ مقرب بارگاہ فرشتے اسکی پاکی بیان کرتے ہیں ‘ اللہ کو ان لوگوں کے سجدہ کی کوئی پروا نہیں۔
عِنْدَ رَبِّکَ جو آپ کے رب کے مقرب ہیں۔ یہ قرب مکانی ہے ‘ اللہ کے قرب کی کیفیت ناقابل بیان ہے۔ بارگاہ خداوندی کے مقرب ‘ ملائکہ ‘ انبیاء اور اولیاء ہیں۔
لَا یَسْءَمُوْنَ وہ اکتاتے نہیں بلکہ اللہ کی پاکی بیان کرنے میں ان کو لذت آتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلال سے فرمایا تھا : بلال ! مجھے راحت پہنچاؤ (یعنی رسول اللہ ﷺ کو نماز میں راحت ملتی تھی) ۔
امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ آیت سجود تلاوت کا مقام ہے۔ حضرت ابن عباس کا بھی یہی قول روایت میں آیا ہے۔ ابن ابی شیبہ نے (مصنف میں) اور طحاوی اور مجاہد کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت ابن عباس حٰآ تنزل کی آخری آیت پر سجدہ کرتے تھے۔ دوسری روایت میں اتنا زائد آیا ہے کہ حضرت ابن عباس نے ایک شخص کو آیت ان کنتم ایّاہ تعبدون پر سجدہ کرتے دیکھا تو فرمایا : تم نے جلدی کی (یعنی آیت سجدہ تلاوت کرنے سے پہلے سجدہ کرلیا) ۔
طحاوی نے مجاہد کا بیان نقل کیا ہے ‘ مجاہد نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس سے حٰآ والے سجدہ کی بابت دریافت کیا ‘ فرمایا : دونوں آیتوں میں آخری آیت پر سجدہ کرو۔ طحاوی نے اپنی سند سے یہ بھی بیان کیا ہے کہ حضرت ابو وائل حٰآ کی آخری آیت پر سجدہ کرتے تھے۔ ابن سرین کی روایت بھی اسی طرح ہے اور قتادہ کا قول بھی اسی کی طرح مروی ہے۔ صاحب ہدایہ نے لکھا ہے : یہی قول حضرت عمر کا ہے۔ ابن ہمام نے لکھا ہے : حضرت عمر کا قول (روایت کے اعتبار سے) غریب ہے۔ امام ابوحنیفہ کا قول احتیاط پر مبنی ہے کیونکہ وجوب سجدہ اگر ایاہ تعبدون پر ہو تو ایک آیت کی تاخیر سے سجدہ کرنے میں کوئی حرج نہیں اور اگر لا یسئمون پر سجدہ کا وجوب ہو تو اول آیت پر سجدہ کرنا کافی نہیں ہوگا۔
طحاوی نے لکھا ہے کہ آخری آیت پر سجدۂ تلاوت کا وجوب محل غور ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ قرآن میں دس سجدے متفق علیہ ہیں :
(1) سورة اعراف میں آیت ذیل کی تلاوت موجب سجدہ ہے : اِنَّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّکَ لاَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِہٖ وَیُسَبِّحُوْنَہٗ وَلَہٗ یَسْجُدُوْنَ ۔
(2) سورء رعد میں آیت ذیل محل سجدہ ہے : وَلِلّٰہِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّکَرْھًا وَّظِلٰلَھُمْ بالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ ۔
(3) سورة نحل میں آیت ذیل مقام سجود ہے : وَلِلّٰہِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّۃً .... یُؤْمَرُوْنَ تک
(4) سورة بنی اسرائیل کی آیت ذیل مقام سجود ہے : وَیَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا ..... خُشُوْعًا تک۔
(5) سورة مریم کی آیت ذیل محل سجود ہے : اِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّبُکِیًّا۔
(6) سورة حج کی اس آیت پر باتفاق علماء سجدہ ہے : اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللہ یَسْجُدُ لَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ سے مَا یَشَآُ تک۔
(7) سورة فرقان کی آیت ذیل مقام سجود ہے : وَاِذَا قِیْلَ لَھُمُ اسْجُدُوْا للرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَمَا الرَّحْمٰنُ الخ۔
(8) سورة نمل کی محل سجود یہ آیت ہے : اَلاَّ یَسْجُدُوْا لِلّٰہِ الَّذِیْ یُخْرِجُ الْخَبْأَ ۔ تا ۔ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ ۔
(9) ا آم تنزیل کی آیت ذیل پر سجدہ ہے : اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الخ۔
(10) حٰآ تنزیل کے محل سجود میں اختلاف ہے : اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ سجدے کا مقام ہے یا وَھُمْ لاَ یَسْءَمُوْنَ ۔
آیات مذکورۂ بالا میں سے ہر آیت خبری کلام ہے (امر نہیں ہے) متکبروں کے تکبر کا بیان کیا گیا ہے ‘ یا خشوع کرنے والوں کے خشوع کا اظہار بصورت خبر کیا گیا ہے۔ تکبر کرنے والوں کی مخالفت اور اہل خشوع کی موافقت ہم پر لازم ہے۔ سجدہ کا حکم آیات مذکورہ میں نہیں دیا گیا ہے ‘ دوسری آیات میں جہاں باجماع علماء سجدۂ تلاوت نہیں ہے ‘ ضرور سجدہ کا حکم دیا گیا۔ قابل غور یہ امر ہے کہ جن آیات میں سجدہ کا حکم دیا گیا ہے ‘ وہاں عبادت اور نماز کے سجدہ کا حکم ہے (سجدۂ تلاوت کسی کے نزدیک مراد نہیں) اور جہاں سربسجود ہونے کے واقعہ کی اطلاع دی گئی ہے ‘ وہاں سجدۂ تلاوت ہے (اگر یہ ضابطہ عمومی ہے تو) پھر سورة حج میں سجدۂ تلاوت نہ ہونا چاہئے کیونکہ ارکعوا واسجدوا واعبدوا ربکم امر کے صیغے ہیں اور اس آیت میں سجدہ کا حکم دیا گیا ہے ‘ اسی لئے امام ابوحنیفہ نے فرمایا کہ واسجدوا میں نماز کے سجدہ کا حکم دیا گیا ہے۔ قرینہ کا تقاضا بھی یہی ہے کیونکہ حکم رکوع کے ساتھ اس آیت میں سجدہ کا حکم دیا گیا ہے (اور رکوع سے مراد بالاتفاق نماز کا رکوع مراد ہے ‘ اسلئے سجدہ سے بھی سجدۂ نماز مراد ہونا چاہئے) اور یہ بھی تقاضاء نظر ہے کہ سورة حٰمٓ تنزیل میں پہلی آیت پر سجدۂ تلاوت نہ ہو کیونکہ اس میں سجدہ کا حکم دیا گیا ہے ‘ بلکہ دوسری آیت پر سجدہ ہو کیونکہ اس کی حیثیت محض خبری ہے اور سورة صٓ میں سجدۂ تلاوت ہونا چاہئے کیونکہ محل سجود اس میں اخباری ہے ‘ امر کا صیغہ نہیں ہے فاسْتَغْفَرَ رَبَّہٗ وَخَرَّ رَاکِعًا اَنَابَ سب فعل ماضی اخباری ہیں ‘ اسی لئے امام ابوحنیفہ اس مقام پر سجدۂ تلاوت کے قائل ہیں۔ اسی طرح سورت اذ السماء انشقت میں آیت فَمَا لَھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ وَاِذَا قُرِءَ عَلَیْھِمُ الْقُرْاٰنُ لاَ یَسْجُدُوْنَ پر بھی سجدۂ تلاوت ہونا ضروری ہے کیونکہ یہ عبارت بھی محض خبری ہے ‘ امر نہیں ہے۔ یہ بھی اعتراض کیا جاسکتا ہے کہ امام ابوحنیفہ (ضابطۂ مذکورہ کے خلاف) سورت والنجم اور سورت اقرأ کی آیت فاسجدوا لِلّٰہ واعبدوا اور واسجدوا قترب پر سجدۂ تلاوت کو ضروری قرار دیتے ہیں ‘ حالانکہ دونوں جگہ سجدہ کا حکم دیا گیا ہے (اخباری حیثیت نہیں ہے) لیکن امام ابوحنیفہ کے نزدیک چونکہ ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان آیات پر سجدہ کیا تھا ‘ اسلئے حدیث کے مقابلہ میں انہوں نے قائم کردہ عمومی ضابطہ کو ترک کردیا۔ امام مالک کے نزدیک مفصل میں سجدۂ تلاوت کہیں نہیں ہے۔
میں کہتا ہوں کہ سورة الحج میں تو دو سجدے ہیں ‘ میں نے وہاں اس کا ذکر کردیا ہے۔
Ayah 41:39ومن ایتہ انک تری الارض خاشعۃ فاذا انزلنا علیھا الماء اھتزت وربت ان الذی احیاھا
لمحی الموتی انہ علی کل شیء قدیر اور منجملہ (قدرت و توحید کی) نشانیوں کے ایک یہ بھی ہے کہ تم دیکھتے ہو کہ زمین دبی دبائی پڑی ہوتی ہے ‘ پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ ابھرتی اور پھولتی ہے (اس سے ثابت ہوا کہ) جس نے اس کو زندہ کردیا ‘ وہی مردوں کو زندہ کر دے گا۔ بیشک وہ ہر شے پر قادر ہے۔
وَمِنْ اٰیٰتِہٖ یعنی منجملہ اس کی دلائل قدرت ہے۔
خاشِعَۃً خشک ‘ غبار آلواد جس میں کوئی روئیدگی نہ ہو۔
اھْتَزَّتْ ہلتی ہے۔
رَبَتْ ابھرتی ہے ‘ اوپر کو پھولتی ہے۔
اَحْیَاھَا یعنی زمین کی روئیدگی کو زندہ کیا ‘ قیامت کے دن مردوں کو زندہ کرنے والا ہے۔
عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ ہر چیز پر ‘ یعنی زندہ کرنے اور مردہ کرنے پر۔ قَدِیْرٌ قادر ہے۔
Ayah 41:40ان الذین یلحدون فی ایتنا لا یخفون علینا بیشک جو لوگ ہماری آیتوں میں کجروی کرتے ہیں ‘ وہ ہم سے
پوشیدہ نہیں ہیں۔
مجاہد نے کہا : یُلْحِدُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِنَا سے مراد ہیں سیٹیاں اور تالیاں بجانا ‘ شور و غل کرنا اور لغویات بکنا۔ قتادہ نے کہا : یُلْحِدُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِنَا یعنی ہماری آیات کو جھٹلاتے اور انکی تکذیب کرتے ہیں۔ سدی نے کہا : عناد اور مخالفت کرتے ہیں۔ مقاتل نے کہا : یہ آیت ابوجہل کے حق میں نازل ہوئی۔
یُلْحِدُوْنَ کا لفظ عام ہے ‘ تکذیب کرنے والے ‘ لغویات بکنے والے اور قرآن کی قرأت کے وقت سیٹیاں بجانے والے اور تفسیر سلف کے خلاف قرآن کے معانی میں تحریف کرنے والے اور باطل تاویلات کرنے والے ‘ سب ہی یلحدون کے ذیل میں آتے ہیں۔
لاَ یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا ہم سے پوشیدہ نہیں ہیں ‘ اسلئے سزا اور انتقام سے بےخوف نہ رہیں۔
افمن یلقی فی النار خیرام من یاتی امنا یوم القیمۃ کیا جو دوزخ میں ڈالا جائے گا ‘ وہ بہتر ہے یا وہ جو
قیامت کے دن (ہر عذاب سے) بےخوف ہو کر آئے گا ؟
اَفَمَنْ میں استفہام انکاری ہے۔ ابن المنذر نے بشیر بن فتح کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ اس آیت کا نزول ابوجہل اور حضرت عمار بن یاسر کے حق میں ہوا۔ بعض نے حضرت عمار کی جگہ حضرت حمزہ یا حضرت عثمان کا نام ذکر کیا ہے۔ الفاظ میں عموم ہے ‘ اسلئے اس صفت کے تمام لوگ اس میں شامل ہیں۔
بظاہر ترتیب عبارت یوں ہونی چاہئے تھی : کیا جو دوزخ میں ڈالا جائے گا ‘ وہ بہتر ہے یا وہ بہتر ہے جو جنت میں داخل ہوگا (اس ترتیب سے جہنم کا جنت سے تقابل ہوجائے گا) لیکن کلام میں زور نہیں پیدا ہوگا ‘ کلام میں زور اسی طریقہ سے ہوتا ہے جس طرح بیان کیا گیا ہے کیونکہ دوزخ میں ڈالا جانے والا جب اس شخص کی طرح نہیں ہوسکتا جو قیامت کے دن بےخوف اور مامون ہو کر آئے گا تو جنت میں داخل ہونے کے برابر نہ ہونے کا تو ذکر ہی کیا ہے ‘ جنت میں داخل ہونے والے کے برابر ہونے کا احتمال ہی نہیں ہوتا۔
اعملوا ما شئتم ان بما تعلمون بصیر (اے کافرو ! ) جو چاہو کئے جاؤ ‘ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اسکو دیکھ رہا ہے۔ یعنی تمہارے اعمال کی تم کو ضرور سزا دے گا۔ آیت میں عذاب کی سخت وعید ہے۔
Ayah 41:41ان الذین کفروا بالذکر لما جاءھم جو لوگ اس قرآن کا جبکہ قرآن ان کے پاس پہنچتا ہے ‘ انکار کرتے ہیں
(ان میں خود تدبر کی کمی ہے) اس جملہ کی خبر محذوف ہے مثلاً قرآن کا جن لوگوں نے انکار کیا وہ محض عناد کرنے والے ہیں ‘ یا اللہ ان کو اس کفر کی سزا دے گا ‘ یا وہ ہلاک ہونے والے ہیں۔ بعض کے نزدیک اس کی خبر اولٰءِکَ یُنَادَوْنَ مِنْ مَّکَانٍم بَعِیْدٍ ہے۔
وانہ لکتب عزیز اور بلاشبہ یہ قرآن عزت والی کتاب ہے۔
کلبی کی روایت میں آیا ہے کہ حضرت ابن عباس نے (اس آیت کی تفسیر میں) فرمایا : اللہ کے نزدیک عزت والی کتاب ہے۔ قتادہ نے کہا : اللہ نے اس کو عزت والا بنایا ہے ‘ باطل کو اس کی طرف راہ نہیں مل سکتی۔
Ayah 41:42لا یاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ باطل (شیطان) اسکے پاس نہیں آسکتا ‘ نہ آگے سے ‘ نہ پیچھے سے۔
قتادہ اور سدی نے کہا : باطل سے مراد شیطان ہے ‘ شیطان قرآن میں کوئی کمی بیشی یا تبدیل تغییر نہیں کرسکتا۔ شیطان انس ہو یا جن ‘ سب ہی کو لفظ باطل حاوی ہے۔ فرقۂ شیعہ نے قرآن میں دس پاروں کا اضافہ کیا تھا ‘ لیکن کامیاب نہیں ہوئے ‘ قرآن انکے پاس بھی تیس ہی پاروں کا رہا۔ پھر بعض آیات میں الفاظ کی کمی بیشی کی ‘ جیسے لِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ کے آکر میں لفظ عَلِی بڑھا دیا اور سیعلم الذین ظلموا کے آخر میں آل محمد کا لفظ زیادہ کیا۔ لیکن اللہ نے ان کی اس کوشش کو بارآور نہیں ہونے دیا اور بڑھائے ہوئے الفاظ جزء قرآن نہ بن سکے۔
زجاج نے کہا کہ آگے سے باطل نہ آ سکنے کا معنی ہے کمی نہ ہونا اور پیچھے سے باطل نہ آنے کا معنی ہے زیادتی نہ ہونا ‘ اس تفسیر پر باطل سے مراد ہوگی کمی بیشی۔ مقاتل نے یہ مطلب بیان کیا کہ کتب سابقہ سے اس قرآن کی تکذیب نہیں ہوتی ‘ نہ اس کے بعد کوئی ایسی کتاب آئے گی جو قرآن کو باطل اور منسوخ کر دے۔
تنزیل من حکیم حمید یہ خدائے حکیم محمود کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔
یعنی وہ خدا جس کی حکمت کامل ہے اور ہر مخلوق اس کی نعمت سے بہرہ یاب ہے ‘ اسلئے تمام مخلوق اس کی ثناء کرتی ہے اور خود بھی وہ محمود ہے ‘ مخلوق کی حمد کرنے کی اس کو ضرورت بھی نہیں ‘ ایسے خدا کی طرف سے یہ قرآن نازل کردہ ہے۔
Ayah 41:43ما یقال لک الا ما قد قیل للرسل من قبلک (کافروں کی طرف سے) آپ کو وہی (تکذیب و ایذا
کی) باتیں کہی جاتی ہیں جو آپ سے پہلے پیغمبروں سے کہی جا چکی ہیں۔
اس آیت میں تلقین تسکین ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو کہ کفار مکہ جو آپ کو ساحر کذاب کہتے ہیں ‘ یہ نئی بات نہیں ‘ گذشتہ پیغمبروں کو بھی کافروں نے یہی کہا تھا لیکن انہوں نے صبر کیا ‘ آپ بھی صبر کریں ‘ رنجیدہ نہ ہوں۔ بعض اہل تفسیر نے آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ پچھلے پیغمبروں کے پاس وحی کے ذریعہ سے جو پیام توحید آیا تھا اور اصول دین بتائے گئے تھے اور مؤمنوں سے سعادت دارین کا وعدہ کیا گیا تھا اور کافروں کو عذاب سے ڈرایا گیا تھا ‘ وہی سب سے کہا جا رہا ہے۔ بعض علماء نے کہا : قول کا مقولہ آئندہ آیت ہے۔
ان ربک لذو مغفرۃ وذوعقاب الیم بلاشبہ آپ کا رب (مؤمنوں کیلئے) مغفرت کرنے والا اور (مشرکوں
کیلئے) دردناک سزا دینے والا ہے۔ کافروں نے محض انکار اور سرکشی کے طور پر کہا تھا کہ جس طرح توریت و انجیل عجمی زبانوں میں بھیجی گئیں ‘ اسی طرح کیا قرآن کسی عجمی زبان میں اتارا گیا ؟ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 41:44ولو جعلنہ قرانا عجمیا لقوا لو لا فلت ایتہ ئاعجمی وعربی اگر ہم اسکو عجمی (زبان کا) قرآن بناتے
تو لوگ یوں کہتے کہ اسکی آیات صاف صاف کیوں نہیں بیان کی گئیں ؟ (یہ بات) کیا ہے کہ (کتاب تو) عجمی اور (رسول) عربی ہے ؟
یعنی یہ نصیحت نامہ جو آپ لوگوں کو پڑھ کر سنا رہے ہو ‘ اگر یہ عجمی زبان میں پڑھا جانے والا ہوتا تو اہل مکہ کہتے : اس کی آیات عربی زبان میں صاف صاف کیوں نہیں بیان کی گئیں کہ ہم سمجھ لیتے ؟ مقال نے کہا : عامر حضرمی کا ایک یہودی عجمی غلام تھا ‘ جس کا نام یسار اور کنیت ابو فکیہہ تھی۔ رسول اللہ ﷺ اس کے پاس آتے جاتے تھے ‘ یہ دیکھ کر مشرکوں نے کہنا شروع کیا کہ یسار ‘ محمد ﷺ کو تعلیم دیتا ہے۔ یسار کے آقا نے اس کو مارا اور کہا : تو محمد ﷺ کو سکھلاتا ہے ؟ یسار نے کہا : وہ تو مجھے تعلیم دیتے ہیں۔ اس پر اللہ نے آیت مذکورہ نازل فرمائی۔
ابن جریر نے سعید بن جبیر کا قول نقل کیا ہے کہ قریش نے کہا تھا : یہ قرآن عجمی اور عربی (دونوں زبانوں میں) کیوں نہیں نازل کیا گیا ؟ اس پر اللہ نے آیت لقالوا لو لا فصلتالخ نازل فرمائی۔ ابن جریر نے لکھا ہے : اس تفسیر پر اعجمی وعربی بغیر ہمزۂ استفہام کے قرأت مروی ہے۔
قل ھوللذین امنوا ھدی و شفاء والذین لایومنون فی اذانھم وقر وھوعلیھم عمی اولئک
ینادون من مکان بعید آپ کہہ دیجئے : یہ قرآن ایمان والوں کیلئے راہنما اور شفاء ہے اور جو ایمان نہیں لائے انکے کانوں میں ڈاٹ ہے اور وہ قرآن انکے حق میں نابینائی ہے۔ یہ لوگ (قرآن سے نفع اندوز نہ ہونے کی وجہ سے) ایسے ہیں کہ (گویا) بڑی دور جگہ سے ان کو پکارا جا رہا ہے (کہ آواز تو سنتے ہیں مگر سمجھتے نہیں) ۔
شِفَآءٌ اس میں تنوین اظہار عظمت کیلئے ہے ‘ یعنی بڑی شفاء ہے ‘ سینہ کی جہالت اور بیماری اور قلب و نفس کے امراض خبیثہ کیلئے۔ بعض نے کہا : قرآن جسمانی دکھ درد کیلئے شفاء ہے۔
وَقْرٌ گرانی ‘ بوجھ۔
عَمیً نابینائی ‘ مراد تاریکی اور شبہات۔
قتادہ نے کہا : کفار ‘ قرآن (کی سچی تصویر) کو دیکھنے سے اندھے اور (اسکی نداء حق) سننے سے بہرے تھے ‘ اسلئے قرآن سے انکو کوئی نفع نہیں پہنچتا تھا۔
اُولٰءِکَ یُنَادَوْنَ یہ جملہ بطور تشبیہ کہا گیا ہے ‘ جیسے بہت دور سے کسی کو آواز دی جائے تو وہ کچھ سنتا تو ہے اور سمجھتا نہیں ہے ‘ یہی حالت کافروں کی تھی کہ قرآن کی آواز ان کو سنائی نہیں دیتی تھی ‘ گویا ان کو بہت دور سے پکارا جا رہا تھا (اسلئے سنتے نہ تھے) ۔
Ayah 41:45ولقد اتینا موسیٰ الکتب فاخلتف فیہ اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی ‘ پھر اس میں اختلاف کیا جانے
لگا۔ یعنی کسی نے تصدیق کی ‘ کسی نے تکذیب کی ‘ اسی طرح قریش نے قرآن میں اختلاف کیا۔
ولو لا کلمۃ سبقت من ربک لقضی بینھم اور اگر ایک بات نہ ہوتی جو آپ کے رب کی طرف سے پہلے ٹھہر چکی ہے (کہ پورا عذاب آخرت میں ملے گا ‘ روز قیامت تک کامل عذاب نہیں آئے گا ‘ یا مقرر مدت سے پہلے عذاب نہیں آئے گا) تو ان کا فیصلہ (دنیا میں ہی) ہوچکا ہوتا ‘ یعنی ان پر عذاب آچکا ہوتا اور دنیا میں ہی ان کو ہلاک کردیا گیا ہوتا۔
وانھم لفی شک منہ مریب اور یہ لوگ اسکی طرف سے ایسے شک میں پڑے ہوئے ہیں جس نے ان کو تردد میں ڈال رکھا ہے۔ اِنَّھُمْ وہ تکذیب کرنے والے۔ مِنْہُ توریت یا قرآن کی طرف سے۔
Ayah 41:46من عمل صالحا فلنفسہ ومن اساء فعلیھا وما ربک بظلام للعبید جو شخص نیک عمل کرتا ہے وہ
اپنے نفع کیلئے (کرتا ہے) اور جو برا عمل کرتا ہے سو اس کا وبال اسی پر پڑے گا۔ اور آپ کا رب بندوں پر بالکل ظلم کرنے والا نہیں۔ یعنی نیکی کرنے والوں کے اعمال کا ثواب اللہ ضائع نہیں کرے گا ‘ نہ بدکاروں کو سزا جرم سے زائد دے گا۔
ایک شبہ : اللہ تو تھوڑا بھی ظلم نہیں کرتا ‘ کیونکہ ظلم یہ ہے کہ کوئی شخص دوسرے کی ملکیت میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف کرے اور ہر چیز کا مالک اللہ ہے ‘ اسلئے اسکے کسی فعل میں ظلم کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اور آیت میں کہا گیا ہے کہ اللہ بڑا ظالم نہیں ہے تو اس کا کیا یہ مطلب ہے کہ اللہ تھوڑا ظالم ہے۔
الزالہ : حقیقت میں اس لفظ سے کافروں کی پرزور تردید بطور تعریض کی گئی ہے ‘ مقصد یہ ہے کہ کافر بڑے ظالم ہیں۔
الحمد اللہ کہ چوبیسواں پارہ ختم ہوا
Ayah 41:47الیہ یرد علم الساعۃ وما تخرج من ثمرت من اکمامھا وما تحمل من انثی ولا تضع الا
بعلمہ قیامت کے علم کا حوالہ اللہ ہی کی طرف دیا جاسکتا ہے اور کوئی پھل اپنے خول سے نہیں نکلتا اور نہ کسی عورت کو حمل رہتا ہے اور نہ وہ بچہ جنتی ہے ‘ مگر سب اس کی اطلاع سے ہوتا ہے۔ یعنی قیامت کے برپا ہونے کے وقت کا علم اللہ ہی کی طرف لوٹایا جائے ‘ مطلب یہ ہے کہ اگر کسی سے قیامت برپا ہونے کا وقت دریافت کیا گیا تو اس کو جواب میں کہنا چاہئے : اللہ ہی کو اس کا علم ہے ‘ اسکے سوا کوئی قیامت کے معین وقت کا علم نہیں رکھتا۔
اَکْمَام شگوفے۔ مَا تحْمِلُ مِنْ اُنْثٰی میں مَا نافیہ ہے اور مِنْ زائد ہے۔
ویوم ینادیھم این شرکائی قالوا اذنک ما منا من شھید اور جس روز کہ اللہ ان (مشرکوں) کو پکارے
گا (اور کہے گا کہ) میرے شریک (آج) کہاں ہیں ؟ وہ کہیں گے کہ (اب تو) ہم آپ سے یہی عرض کرتے ہیں کہ (آج) اس عقیدہ کا ہم میں کوئی نہیں۔
وَیَوْمَ یُنَادِیْھِمْ یعنی اللہ مشرکوں کو پکارے گا اور بطور استہزاء و توبیخ دریافت کرے گا کہ جن مفروضہ شریکوں کو تم نے معبود سمجھ رکھا تھا ‘ آج وہ کہیں ہیں ؟
اٰذَنّٰکَ یعنی اب ہم آپ کو اطلاع دے رہے ہیں۔
مَا مِنَّا مِنْ شَھِیْدٍکہ ہم میں سے کوئی شرک کی شہادت دینے والا نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب عذاب آنکھوں کے سامنے دیکھیں گے تو شرک سے بیزاری کا اظہار کریں گے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ آج ہم میں سے کوئی بھی ان شریکوں کا مشاہدہ نہیں کرتا ‘ سب غائب ہوگئے کہ کوئی سامنے نظر نہیں آتا۔
Ayah 41:48وضل عنہم ما کانوا یدعون من قبل وظنوا ما لھم من محیص اور جن جن کو یہ پہلے سے (یعنی
دنیا میں) پوجا کرتے تھے ‘ وہ سب غائب ہوجائیں گے اور وہ لوگ سمجھ لیں گے کہ ان کیلئے کہیں بچاؤ کی صورت نہیں۔
وَضَلَّ عَنْھُمْ یعنی کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا ‘ یا یہ مطلب ہے کہ سب غائب ہوں گے ‘ کوئی معبود دکھائی نہ دے گا۔
یَدْعُوْنَ پکارتے تھے ‘ یعنی پوجا کرتے تھے۔
وَظَنُّوْا اور گمان کریں گے ‘ یعنی یقین کرلیں گے۔
مَّحِیْص بھاگنے کی جگہ ‘ مفر۔
Ayah 41:49لا یسئم الانسان من دعاء الخیر وان مسہ الشر فیؤس قنوط ترقی کی خواہش سے انسان کا جی
نہیں بھرتا اور اگر اس کو کوئی تکلیف چھو بھی جاتی ہے تو ناامید اور نراس ہوجاتا ہے۔
لاَ یَسْءَمُ الْاِنْسَان یعنی کافر آدمی نہیں اکتاتا ‘ اس کا جی نہیں بھرتا۔
مِنْ دُعَآءِ الْخَیْرِ خیر کی طلب سے ‘ یعنی برابر مال و دولت ‘ صحت وغیرہ کی اللہ سے درخواست کرتا رہتا ہے۔
وَاِنْ مَّسَّہُ الشَّرُّ اور اگر اس کو کوئی تکلیف یعنی افلاس و بیماری (وغیرہ) پہنچ جائے۔
فَیَءُوْسٌ قَنُوْطٌ تو اللہ کی رحمت اور رحمت ملنے سے ناامید ہوجاتا ہے۔
Ayah 41:50ولئن اذقنہ رحمۃ منا من بعد ضرا مستہ لیقولن ھذا لی وما اظن الساعۃ قائمۃ ولئن
رجعت الی ربی ان لی عندہ للحسنی اور جو تکلیف اس کو پہنچ جاتی ہے ‘ اس کے بعد اگر ہم اپنی مہربانی کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو وہ کہتا ہے : یہ تو میرے لئے ہونا ہی چاہئے تھا اور میں قیامت کو آنے والا خیال نہیں کرتا اور اگر (بالفرض) میں اپنے رب کے پاس لوٹا کرلے جایا بھی گیا تو میرے لئے اس کے پاس بہتری ہی ہوں گی۔
رَحْمَۃً یعنی مال و عافیت۔
ھٰذَا لِیْ یعنی یہ تو میرا حق تھا ہی۔ میرے علمی اور عملی کمالات کا یہی تقاضا تھا ‘ یا یہ مطلب ہے کہ یہ دولت و عافیت مجھے ہمیشہ حاصل رہے گی۔
اِنَّ لِیْ عِنْدَہٗ لَلْحُسْنٰی یعنی بالفرض اگر قیامت برپا بھی ہوئی تو میری حالت وہاں بھی اچھی ہوگی اور خدا کے پاس بھی مجھے عزت حاصل ہوگی۔ اس قول کی وجہ یہ ہے کہ کافر کو دنیا میں جو بہبودی اور ترقی حاصل ہوتی ہے ‘ وہ اس کو اپنا استحقاق جانتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میرا یہ استحقاق خدا کے پاس بھی قائم رہے گا۔
فلننبئن الذین کفروا بما عملوا ولنذیقنھم من عذاب غلیظ سو ہم ان منکروں کو ان کی کی ہوئی
(ساری) بداعمالیاں ضرور ضرور بتلائیں گے اور سخت عذاب کا مزہ بلاشبہ یقیناً چکھائیں گے۔
بِمَا عَمِلُوْا حضرت ابن عباس نے فرمایا : ہم ضرور ان کی بداعمالیوں کی مصیبت ان پر ڈالیں گے۔
مِنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے جس سے رہائی ممکن نہ ہوگی۔
Ayah 41:51واذا نعمنا علی الانسان اعرض ونابجانبہ واذا مسہ الشر فذو دعاء عریض اور جب آدمی کو ہم نعمت عطا کرتے ہیں تو (ہم سے اور ہمارے احکام سے) منہ پھیر لیتا ہے اور کروٹ بدل لیتا ہے اور جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو خوب لمبی چوڑی دعائیں کرتا ہے۔
الْاِنْسَان یعنی کافر آدمی۔
اَعْرَضَ یعنی شکر کرنے سے رخ پھیر لیتا ہے۔
وَنَاٰبِجَانِبِہٖ اور اپنا پہلو موڑ لیتا ہے۔
بعض علماء نے کہا کہ جانب سے بطور کنایہ نفس مراد ہے ‘ جیسے آیت جنب اللہ میں جنب سے مراد ذات ہے ‘ اس صورت میں یہ مطلب ہوگا کہ وہ اپنے نفس کو (ادائے شکر سے) دور لے جاتا ہے اور غفلت کی وجہ سے بالکل دور ہوجاتا ہے۔
عَرِیْضٍ لمبی چوڑی ‘ یعنی کثیر۔ عرب لمبے چوڑے سے مراد کثیر لے لیتے ہیں ‘ محاوہ میں بولا جاتا ہے : اطال فی الکلام والدعاء واعرض اس نے بہت باتیں اور دعائیں کیں۔ لفظ عرض کثرت و وسعت کے مفہوم پر زیادہ دلالت کرتا ہے ‘ کیونکہ طول نام ہے سب سے بڑی مسافت و امتداد کا اور جب دوسرا امتداد یعنی عرض بھی اتنا ہی ہو (یعنی شکل مربع بن جائے) تو پھر اس کی وسعت کا کیا کہنا ‘ اسی لئے جنت کے متعلق اللہ نے فرمایا : عرضھا السَّمٰوٰت۔
ایک شبہ : آیت فیؤس قنوط اور آیت فذو دعاء عریض میں بظاہر تضاد ہے (ناامیدی میں لمبی چوڑی دعاء کیسی) ۔
ازالہ : پہلی آیت میں اور لوگ مراد ہیں اور دوسری آیت میں جو لوگ مراد ہیں وہ پہلے لوگوں سے غیر ہیں ‘ غالباً پہلی آیت میں کافر مراد ہیں کیونکہ اللہ نے فرمایا : لاَ یَیْأَسُ مِنْ رَّوْحِ اللہ الاَّ الْقَوْمُ الْکٰفِرُوْنَ اور فرمایا ہے : وَمَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَۃِ رَبِّہٖٓ الاَّ الضَّآلُّوْنَ اور مؤخر الذکر آیت میں غافل مؤمن مراد ہیں۔
یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں آیتیں کافروں ہی کے متعلق ہوں ‘ مطلب یہ ہے کہ کافر پر جب کوئی دکھ آتا ہے تو وہ خلوص کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور سچے دل سے دعائیں کرتا ہے ‘ لیکن کسی مصلحت کی وجہ سے اگر قبول دعاء میں تاخیر ہوجاتی ہے تو وہ نراس ہوجاتا ہے۔ مؤمن صالح کی حالت اس سے بالکل جدا ہوتی ہے ‘ وہ کبھی ناامید نہیں ہوتا ‘ قبول دعاء میں تاخیر کو وہ مصلحت خداوندی سمجھتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے : دعاء کرنے والوں کو یا تو اللہ جلد (یعنی اس دنیا میں) عطا فرما دیتا ہے یا ان کیلئے آخرت میں جمع رکھتا ہے۔
یا یوں کہا جائے کہ دل سے تو نراس اور ناامید ہوتا ہے مگر زبان سے لمبی چوڑی دعائیں کرتا ہے ‘ یا یوں کہا جائے کہ بتوں کی طرف سے ناامید ہوجاتا ہے اور خدا سے دعائیں کرتا ہے۔
مسئلہ : جو چاہتا ہے کہ مصیبت اور سختی کے وقت اس کی دعاء قبول کی جائے ‘ اس کو چاہئے کہ سکھ اور راحت کے وقت دعا زیادہ کرے ‘ ایک حدیث میں اسی طرح آیا ہے۔
Ayah 41:52قل ارئیتم ان کان من عند اللہ ثم کفرتم بہ من اضل ممن ھو فی شقاق بعید آپ کہئے :
یہ تو بتاؤ کہ اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے ہی آیا ہو ‘ پھر تم کرو اس کا انکار ‘ تو اس سے زیادہ غلطی میں کون ہوگا جو (حق سے) دور دراز مخالفت میں پڑا ہو ؟
اس کلام کا ربط آیت قُلْ ھُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ھُدًی وَّشِفَآءٌ سے ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ اگر قرآن اللہ کی طرف سے ہو تو یقیناً حق ہوگا اور اس سے انکار حق سے دور دراز مخالفت ہوگا اور تم اس کے منکر ہو ‘ لہٰذا تم سے زیادہ اور کوئی گمراہ (اضلّ ) نہیں ہے۔
Ayah 41:53ہم عنقریب اپنی (قدرت کی) نشانیاں ان کے گردونواح میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کی ذات میں بھی یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ وہ (قرآن حق) ہے
اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاق حضرت ابن عباس نے آیت فی الاٰفاق کی تفسیر میں فرمایا : گذشتہ اقوام کے (پارینہ کھنڈر اور) مکان اور فی انفسم سے مراد غزوۂ بدر کا واقعہ (جس میں باوجود طاقت اور فوج کی کثرت کے کافروں کو شکست ہوئی ‘ کچھ مارے گئے اور کچھ قید ہوئے) قتادہ نے بھی اس کی یہی تفسیر کی ہے۔ بعض کے نزدیک آیات فی انفسھم سے مراد ہیں مصائب اور جسمانی روگ۔ مجاہد اور سدی نے کہا : آیات فی الاٰفاق یہ تھیں کہ رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو اللہ نے مختلف بستیوں کی فتوحات عنایت فرمائیں اور آیات فی انفسھم سے مکہ کی فتح مراد ہے۔
عطاء اور ابن زید نے کہا : آیات فی الاٰفاق ارضی اور سماوی نشانیاں ہیں ‘ سورج ‘ چاند ‘ ستارے ‘ سبزہ ‘ درخت اور دریا آفاقی آیات ہیں اور آیات فی الانفس اللہ کی عجیب بےمثال حکمت اور لطیف بناوٹ ہے۔
بیضاوی نے لکھا ہے کہ آیات فی الاٰفاق یہ ہیں : (ا) آئندہ کے واقعات کے متعلق رسول اللہ ﷺ کی پیشن گوئیاں (2) گذشتہ حوادث و مصائب کے نشانات (3) رسول اللہ ﷺ اور آپ کے خلفاء کا بلاد شرق و غرب پر معجزانہ تسلط۔ اور آیات فی انفسہم سے مراد ہیں : (1) وہ واقعات جو اہل مکہ کو خود پیش آئے (مثلاً بدر کی شکست اور مکہ کی فتح) ۔ (2) انسان کی جسمانی ساخت ‘ صنعت الٰہیہ کی عجیب کارفرمائیاں اور کمال قدرت کی ندرت آگیں اعجوبہ زائیاں۔
حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ یعنی یہ بات ان پر ظاہر ہوجائے کہ یہ قرآن اللہ کا بھیجا ہوا ہے اور رسول کو اللہ کی امداد حال ہے ‘ یا دین خدا ہے ‘ یا اللہ حق ہے اور توحید کی تائید اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔
اولم یکف بربک انہ علی کل شیء شھید کیا آپ کے رب کی یہ بات (آپ کی تصدیق کیلئے) کافی
نہیں ہے کہ وہ ہر چیز کا شاہد ہے۔
بِرَبِّکَ میں ب زائد ہے اور ربک فاعل ہے اور صرف مادۂ کفی (یعنی کفایت سے جو افعال بنتے ہیں ‘ ان) میں فاعل پر جو (ب) آتی ہے وہ زائد ہے۔
اَوَلَمْ یَکْفَ میں استفہام انکاری ہے اور فعل محذوف پر اس کا عطف ہے ‘ اصل عبارت اس طرح تھی : کیا اپنے کام کے انجام میں آپ کو کچھ شک ہے اور آپ کیلئے یہ بات کافی نہیں ہے کہ آپ کا رب ہر چیز پر شاہد ہے۔ جن نشانات کا اس نے وعدہ کیا ہے ان کو آپ کے معاملہ میں ضرور پورا کرے گا ‘ یا شہید ہونے سے مراد ہے عالم ہونا ‘ یعنی اللہ ان کے حال اور آپ کے حال کو جانتا ہے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ انسان کو گناہوں سے روکنے کیلئے کیا یہ بات کافی نہیں ہے کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے ‘ کوئی بات اس سے چھپی نہیں ہے ‘ یعنی وہ ضرور ہر بات کا بدلہ دے گا۔
مقاتل نے یہ مطلب بیان کیا : کیا یہ بات کافی نہیں ہے کہ اللہ قرآن کے منزّل من اللہ ہونے کا خود شاہد ہے اور اسکی شہادت یہ ہے کہ اس نے قرآن کو معجزہ بنایا ہے۔
زجاج نے کہا : کافی ہونے کا یہ معنی ہے کہ اللہ نے ایسے دلائل بیان کئے ہیں جو تصدیق کیلئے کافی ہیں ‘ مطلب یہ ہے کہ اللہ کی شہادت کافی ہے کیونکہ وہ ہر چیز کا شاہد ہے ‘ اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔
Ayah 41:54الا انھم فی مریۃ من لقاء ربھم الا انہ بکل شیء محیط یاد رکھو کہ وہ لوگ اپنے رب کے روبرو جانے
سے شک میں پڑے ہیں۔ خوب سن لو کہ اللہ ہر چیز کو اپنے علم کے احاطہ میں لئے ہوئے ہے۔
مِنْ لِّقَآءِ رَبِّھِمْ لقاءِ رب سے مراد ہے قیامت برپا ہونا ‘ اعمال کا بدلہ ملنا۔
بِکُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطٌ یعنی ہر چیز اس کے علم اور قدرت کے احاطہ میں ہے ‘ ہر چیز کا اجمالی اور تفصیلی علم اس کو ہے اور ہر چیز پر وہ قدرت رکھتا ہے ‘ کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں ہے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ ہر چیز پر اس کا ذاتی احاطہ ہے اور ذاتی احاطہ بےکیف ہے ‘ اس کی کیفیت بیان نہیں کی جاسکتی۔
الحمد اللہ سورة فصلت (حٰمٓ السجدۃ) کی تفسیر 28/ماہ صفر 1208 ھ کو ختم ہوئی
اس کے بعد سورة شوریٰ تفسیر آئے گی ‘ انشاء اللہ۔
والحمد اللہ ربّ العٰلمین وصلّی اللہ عَلٰی خیر خلقہ محمد واٰلہٖ واصحابہٖ اجمعین