Ayah 40:57لخلق السموت والارض اکبر من خلق الناس ولکن اکثر الناس لا یعلمون کوئی شک نہیں
کہ آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کرنا آدمیوں کو پیدا کرنے سے بڑا کام ہے ‘ لیکن اکثر لوگ ناواقف ہیں۔
یعنی اتنے بڑے آسمان و زمین جس نے بغیر کسی ابتدائی عمل کے پیدا کئے ‘ وہ انسانوں کو دوبارہ پیدا کرسکتا ہے۔ قرآن نے قیامت ہونے کے عقیدہ کا اظہار کیا تو جھگڑے نکالنے والوں نے جھگڑے کرنے شروع کئے کہ دوبارہ انسان کی تخلیق کیسے ہوسکتی ہے ؟ کافروں کے اس شبہ کو آیت مذکورہ میں دور کیا گیا ہے۔
چونکہ اکثر لوگ انتہائی غفلت ‘ خواہشات کے غلبے اور اسلاف کی کو رانہ تقلید کی وجہ سے غور نہیں کرتے اور سوچ سے کام نہیں لیتے ‘ اسلئے ناواقف ہیں (اور قیامت کی حقانیت کو نہیں جانتے) ۔
ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ کا بیان نقل کیا ہے کہ ایک بار یہودی ‘ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دجال کا کچھ تذکرہ کیا اور دجال کی بڑی تعریف کی اور کہنے لگے : وہ ہم میں سے ہوگا اور فلاں فلاں کارنامے انجام دے گا ‘ اس پر اللہ نے آیت اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ ... فَاسْتَعِذْ باللّٰہِ ... تک نازل فرمائی۔ مطلب یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنا آدمیوں کو یعنی دجال کو پیدا کرنے سے بڑا ہے ‘ پھر اپنے نبی کو حکم دیا کہ آپ دجال کے فتنہ سے اللہ کی پناہ مانگیں۔
کعب احبار کا قول ہے کہ ان الذین یجادلون سے مراد یہودی ہیں۔ وہ دجال کے منتظر تھے ‘ انکے متعلق اس آیت کا نزول ہوا۔
حضرت عمران بن حصین کا بیان ہے کہ میں نے خود سنا کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : تخلیق آدم سے قیامت تک کوئی واقعہ دجال کے واقعہ سے بڑھ کر نہیں ہوگا ‘ رواہ مسلم۔
حضرت عبدان بن مسعود راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم پر یہ بات مخفی نہ رہنا چاہئے کہ اللہ کانا نہیں ہے اور مسیح دجال دائیں آنکھ سے کانا ہوگا ‘ اس کی دائیں آنکھ پر انگور کی طرح ٹینٹ پھولا ہوگا (متفق علیہ) ۔
حضرت انس کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کوئی نبی ایسا نہیں ہوا جس نے اپنی امت کو کانے کذاب سے نہ ڈرایا ہو۔ خوب سمجھو ! وہ کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے۔ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان (لفظ) کر لکھا ہوگا ‘ متفق علیہ۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا میں تم سے دجال کے متعلق ایک بات نہ کہہ دوں ؟ ہر نبی نے اپنی امت کو دجال کے متعلق (کچھ نہ کچھ) بتایا ہے۔ بلاشبہ وہ کانا ہوگا ‘ اسکے ساتھ جنت بھی ہوگی اور دوزخ بھی۔ جس کو وہ جنت کہے گا ‘ حقیقت میں وہ دوزخ ہوگی۔ میں تم کو (دجال کے فتنہ سے) ڈراتا ہوں ‘ جس طرح نوح نے اپنی قوم کو ڈرایا تھا ‘ متفق علیہ۔
حضرت حذیفہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دجال خروج کرے گا تو اس کے ساتھ پانی بھی ہوگا اور آگ بھی۔ جس کو لوگ پانی سمجھیں گے ‘ وہ آتش سوزاں ہوگی اور جس کو آگ سمجھیں گے ‘ وہ ٹھنڈا میٹھا پانی ہوگا۔ تم میں سے جو کوئی اس کو پالے اس کو چاہئے کہ جس کو آگ (کی صورت) میں دیکھ رہا ہو ‘ اس میں گرجائے ‘ وہ بلاشبہ ٹھنڈا پاکیزہ پانی ہوگا ‘ متفق علیہ۔ مسلم کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ دجال کی آنکھ مٹی ہوئی ہوگی ‘ اس پر ایک موٹا ناخونہ ہوگا۔ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان (لفظ) کافر لکھا ہوگا۔ ہر مؤمن خواہ لکھنا جانتا ہو یا نہ جانتا ہو ‘ اس کو پڑھ لے گا۔
حضرت نواس بن سمعان راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے دجال کا ذکر کیا گیا تو حضور ﷺ نے فرمایا : اگر وہ میری زندگی میں برآمد ہوگا تو میں تمہاری طرف سے اس کا مقابلہ کروں گا اور اگر وہ میری زندگی میں نمودار نہیں ہوگا تو اللہ میری جانب سے تمہارا نگراں (مددگار) ہوگا ‘ اور ہر شخص اپنی ذات سے اس کا مقابل ہوگا۔ دجال ایک ژولیدہ نوجوان ہوگا ‘ اس کی آنکھ میں پھولا ہوگا۔ میں اس کو عبدالعزٰی بن قطن کے ہم شکل قرار دیتا ہوں۔ تم میں سے جو اس کو پالے تو سوۂ کہف کی ابتدائی آیات پڑھ کر اس پر دم کرے ‘ یہ آیات دجال کے فتنہ سے بچاؤ کا ذریعہ ہوجائیں گی۔ وہ شام اور عراق کی درمیانی گھاٹی (یا سبزہ زار) سے خروج کرے گا اور دائیں بائیں تباہی مچائے گا۔ اللہ کے بندو ! تم ثابت قدم رہنا۔ ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! اس کا قیام زمین پر کتنی مدت رہے گا ؟ فرمایا : چالیس روز ‘ جن میں ایک دن ایک سال کے برابر ہوگا اور ایک دن ایک ماہ کے برابر اور ایک دن ایک ہفتہ کے برابر اور باقی دن تمہارے دنوں کے برابر ہوں گے۔ ہم نے عرض کیا : جو دن ایک سال کے برابر ہوگا ‘ کیا اس دن میں اتنی ہی نمازیں ہمارے لئے کافی ہوں گی جتنی ہماری ایک دن کی ہوتی ہیں ؟ فرمایا : نہیں ‘ بلکہ تم (اوقات کا) اندازہ کرلینا (گویا ہر 24 گھنٹوں میں پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم دیا ‘ اس طرح ایک سال کے برابر والے دن کی کل نمازیں اٹھارہ سو ہوں گی ‘ مترجم) رواہ مسلم۔
حضرت ابو سعید خدری راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دجال خروج کرے گا تو سامنے سے ایک ایمان دار اسکی طرف متوجہ ہوگا ‘ دجال کے سرحدی سپاہی (یا باڈی گارڈ) اس کے سامنے آجائیں گے اور پوچھیں گے : کہاں جانے کا ارادہ ہے ؟ مؤمن کہے گا : میں اس شخص کے پاس جانے کا ارادہ کر رہا ہوں ‘ جس نے خروج کیا ہے۔ سپاہی کہیں گے : کیا ہمارے رب پر تیرا ایمان نہیں ہے ؟ مؤمن کہے گا : ہمارے رب سے کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے۔ سپاہی کہیں گے : اس کو قتل کر دو ۔ انہی میں سے ایک شخص کہے گا : کیا تمہارے رب نے تم کو اسکے حکم کے بغیر کسی کو قتل کردینے سے منع نہیں کردیا ؟ یہ سن کر (سپاہی اس مؤمن کو قتل نہیں کریں گے بلکہ) اس کو لے کر دجال کے پاس چلے جائیں گے ‘ مؤمن دجال کو دیکھتے ہی کہے گا : لوگو ! یہ وہی دجال ہے ‘ جس کا ذکر رسول اللہ ﷺ نے کیا ہے۔ دجال حکم دے گا : اس کا سر توڑ دو ۔ حسب الحکم لوگ تلوار سے اس کا پیٹ اور پیٹھ پھاڑ دیں گے۔ دجال کہے گا : کیا اب بھی تو مجھ پر ایمان نہیں لائے گا ؟ مؤمن کہے گا : تو فریبی بڑا جھوٹا ہے۔ دجال کہے گا : اس کو آرے سے چیر دو ۔ لوگ وسط سے دونوں ٹانگوں کے درمیان تک چیر ڈالیں گے ‘ پھر دجال اسکے دونوں ٹکڑوں کے درمیان کھڑا ہو کر کہے گا : اٹھ جا ‘ مؤمن زندہ ہو کر سیدھا اٹھ کھڑا ہوگا۔ دجال کہے گا : کیا تو اب مجھ پر ایمان رکھتا ہے ؟ مؤمن کہے گا : اب تو تیرے متعلق میری بصیرت اور بڑھ گئی (یعنی مجھے یقین ہوگیا کہ تو دجال ہی ہے) پھر مؤمن کہے گا : لوگو ! میرے بعد یہ کسی کے ساتھ ایسی حرکت نہیں کرسکے گا۔ دجال اس کو پکڑ کر ذبح کرنے کی کوشش کرے گا ‘ لیکن اللہ اس کی گردن (کی جڑ) سے ہنسلی کی ہڈی تک (پوری گردن اور گلے کو) تانبا کر دے گا (کہ چھری یا تلوار اس کو کاٹ نہ سکے گی) جب دجال کو کوئی صورت بن نہ پڑے گی تو حکم دے گا : اس کے ہاتھ پاؤں پکڑ کر آگ میں پھینک دو ۔ لوگ خیال کریں گے کہ دجال نے اس کو آگ میں پھنکوا دیا اور حقیقت میں وہ جنت میں جا گرے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ کے نزدیک یہ سب سے بڑا شہید ہوگا ‘ رواہ مسلم۔
حضرت انس راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اصفہان کے ستر ہزار یہودی دجال کے پیچھے پیچھے ہوں گے اور یہ سب شاہانہ چادریں اوڑھے ہوں گے (یعنی سردار ہوں گے) رواہ مسلم۔
حضرت ابو سعید خدری راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دجال مدینہ کی گھاٹیوں میں گھسنے کیلئے آئے گا ‘ لیکن مدینہ میں اس کا داخلہ حرام کردیا گیا ہے ‘ اسلئے مدینہ سے متصل بعض ریگستانی شوریلے مقاموں پر اترے گا۔ ایک آدمی جو سب سے افضل ہوگا (مدینہ سے) نکل کر اسکے پاس پہنچے گا۔ دجال کہے گا : اگر میں اس شخص کو قتل کر کے دوبارہ زندہ کر دوں تو پھر بھی کیا تم میری بات میں شک کرو گے ؟ لوگ کہیں گے : نہیں۔ دجال اس شخص کو قتل کر کے پھر زندہ کر دے گا ‘ وہ شخص کہے گا : خدا کی قسم : آج سے زیادہ تیرے متعلق تو مجھے کبھی بصیرت حاصل ہی نہیں ہوئی تھی۔ دجال اس کو دوبارہ قتل کرنا چاہے گا ‘ لیکن قابو نہ پا سکے گا ‘ رواہ البخاری و مسلم فی صحیحہما۔
حضرت ابوبکر راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مسیح دجال کا رعب مدینہ کے اندر داخل نہ ہوگا۔ اس روز مدینہ کے سات دروازے ہوں گے اور ہر دروازے پر دو فرشتے نگراں مقرر ہوں گے ‘ متفق علیہ۔
حضرت ابوبکر صدیق کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے بیان فرمایا اور ارشاد کیا : دجال ایک مشرقی ملک سے جس کو خراسان کہا جاتا ہے ‘ برآمد ہوگا۔ اس کے پیچھے بہت لوگ ہوں گے ‘ جن کے چہرے ایسے ہوں گے جیسے کو ٹی ہوئی (چپٹی) ڈھالیں ‘ رواہ الترمذی۔
حضرت اسماء بنت یزید بن سکن کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دجال زمین پر چالیس سال رہے گا ‘ جس کا ایک سال اتنا (چھوٹا اور بےبرکت) ہوگا جیسے ایک ماہ ‘ اور مہینہ ایک ہفتہ کی طرح ہوگا اور ہفتہ ایک دن کے برابر ‘ اور ایک دن اتنا ہوگا جیسے آگ میں کھجور کی کوئی چھیپٹ جل جاتی ہے (بھڑک جاتی ہے) رواہ البغوی فی شرح السنۃ والمعالم۔
حضرت ابو سعید خدری راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری امت (یعنی امت دعوت) کے ستر ہزار تاج پوش (حکام ‘ بادشاہ ‘ نواب وغیرہ) لوگ دجال کے پیچھے ہوجائیں گے (رواہ البغوی فی شرح السنۃ والمعالم) ۔
بغوی نے حضرت ابو امامہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس روز ستر ہزار یہودی تاج پوش آراستہ تلواروں والے دجال کے پیچھے ہوجائیں گے۔
حضرت اسماء بنت یزید انصاریہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے گھر تشریف فرما تھے ‘ آپ نے دجال کا تذکرہ کیا اور فرمایا : دجال کے سامنے تین سال ایسے آئیں گے کہ ایک سال تو آسمان ایک تہائی بارش کو روک لے گا اور زمین ایک تہائی روئیدگی کو روک لے گی اور دوسرے سال دو تہائی بارش اور دوتہائی روئیدگی رک جائے گی اور تیسرے سال (بالکل کال ہوجائے گا) بارش بالکل نہ ہوگی اور نہ زمین سے کچھ اگے گا ‘ تمام کھر اور ڈاڑھوں والے جانور مرجائیں گے۔ دجال کا شدید ترین فتنہ یہ ہوگا کہ وہ ایک اعرابی کے پاس جائے گا اور اس سے کہے گا : اگر میں تیرے اونٹوں کو زندہ کر دوں تو کیا پھر بھی تو مجھے اپنا رب نہیں جانے گا ؟ وہ اعرابی جواب دے گا : کیوں نہیں۔ دجال شیطانوں کو اونٹوں کی شکل میں کر دے گا ‘ جن کے خوبصورت تھن اور بہت بڑے بڑے کوہان ہوں گے۔ ایک آدمی کا بھائی مرچکا ہوگا اور باپ بھی ‘ دجال اس سے کہے گا : اگر میں تیرے باپ اور بھائی کو زندہ کر دوں ‘ تب بھی تو مجھے اپنا رب نہیں جانے گا ؟ وہ شخص کہے گا : کیوں نہیں۔ دجال شیاطین کو اسکے باپ اور بھائی کی شکل میں لا کر پیش کر دے گا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ اپنے کام سے باہر تشریف لے گئے ‘ کچھ دیر کے بعد لوٹ کر آئے تو لوگوں کو ایک خاص فکر و غم میں مبتلا پایا۔ حضور ﷺ نے جو حالت دجال کی بیان کی تھی ‘ اس سے لوگوں کو بڑی فکر ہوگئی تھی۔ آپ نے دروازے کے دونوں بازو پکڑ کر فرمایا : اسماء ! کیا بات ہے ؟ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! دجال کا جو ذکر آپ نے کیا اس کو سن کر ہمارے دل نکلے پڑتے ہیں۔ فرمایا : اگر وہ میری زندگی میں آیا تو میں اس سے مقابلہ کروں گا ‘ ورنہ ہر مؤمن کا اللہ (نگران) ہے ‘ میرے بجائے اللہ ہوگا۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ہم آٹا گوندھتے ہیں اور روٹی پکانے نہیں پاتے کہ بھوکے ہوجاتے ہیں ‘ پھر اس روز مؤمنوں کی کیا حالت ہوگی ؟ فرمایا : تسبیح خداوندی ان کیلئے کافی ہوگی ‘ جیسے آسمان والوں کیلئے کافی ہوتی ہے (یعنی روٹی پانی کی ضرورت ہی نہیں ہوگی) رواہ احمد والبغوی فی المعالم۔
حضرت مغیرہ بن شعبہ راوی ہیں کہ دجال کے متعلق جتنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا ‘ اتنا اور کسی نے نہیں پوچھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا تھا : وہ تجھے ضرر نہیں پہنچا سکتا۔ میں نے عرض کیا : لوگ کہتے ہیں کہ اسکے ساتھ روٹی کا پہاڑ اور پانی کا (بھرا ہوا) دریا چلے گا ؟ فرمایا : اللہ کیلئے یہ بات اس سے بھی زیادہ آسان ہے (یعنی اللہ کو اپنے ساتھ روٹی اور پانی رکھنے کی ضرورت ہی نہیں ہے) متفق علیہ۔
آیت مذکورہ میں فرمایا تھا : اکثر لوگ ناواقف ہیں ‘ آئندہ آیت میں اسی مناسبت سے فرمایا کہ جاہل ‘ اندھا ہوتا ہے اور عالم ‘ صاحب بصر ہوتا ہے۔
Ayah 40:58وما یستوی الاعمی والبصیر والذین امنوا وعملوا الصلحت ولا المسی قلیلا ما تتذکرون
اور نابینا و بینا اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک کام کئے اور جو لوگ بدکردار ہیں ‘ برابر نہیں ہوسکتے۔ تم لوگ بہت ہی کم سمجھتے ہو۔
اَعْمٰی یعنی جاہل۔ بَصِیْر یعنی عالم۔ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یعنی نیکوکار۔ مُسِیْٓءٌ بدکار۔ مطلب یہ کہ جاہل اور عالم ‘ نیکوکار اور بدکار برابر نہیں ‘ ان میں بڑا تفاوت درجات ہے۔ دنیا میں تو ان کے درمیان کوئی تفاوت (محسوس) نہیں ہوتا ‘ لامحالہ مرنے کے بعد اور قیامت کے دن ان کے درمیان فرق مراتب ہونا ضروری ہے۔
قَلِیْلًا مَّا یعنی بہت کم سمجھتے ہو ‘ یا تھوڑی دیر سمجھتے ہو۔
Ayah 40:59ان الساعۃ لاتیہ لاریب فیھا ولکن اکثر الناس لا یؤمنون بیشک وہ گھڑی یعنی قیامت ضرور آنے
والی ہے ‘ اس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں ‘ لیکن اکثر لوگ نہیں مانتے۔
لَاٰتِیَۃٌ ضرور آنے والی ہے تاکہ نیکوکار اور بدکار کا فرق مرتبہ ظاہر ہوجائے۔
لاَّ رَیْبَ فِیْھَا اللہ کی دی ہوئی خبر میں جھوٹ کی آمیزش بھی محال ہے ‘ اسلئے جب اللہ نے فرما دیا کہ قیامت آئے گی تو یقیناً بلاشک و شبہ آئے گی۔
لَا یُؤْمِنُوْنَ یعنی قیامت کو نہیں مانتے اور اللہ کے وعدہ کو سچا نہیں جانتے۔ اکثر لوگ غافل ہیں ‘ شقی ہیں ‘ ان کی نظر محسوسات سے آگے نہیں بڑھتی ‘ اسلئے قیامت پر ان کا ایمان نہیں۔
Ayah 40:60وقال ربکم ادعونی استجب لکم ان الذین یستکبرون عن عبادتی سیدخلون جھنم
دخرین اور تمہارے رب نے فرما دیا ہے کہ مجھے پکارو ‘ میں تمہاری درخواست قبول کروں گا۔ جو لوگ میری عبادت سے غرور کی وجہ سے سرتابی کرتے ہیں ‘ وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔
اُدْعُوْنِیْ بعض اہل علم نے کہا کہ دعا سے مراد عبادت ہے ‘ یعنی میری ہی عبادت کرو ‘ کسی اور کی پوجا نہ کرو۔ اور عبادت کی جگہ چونکہ دعا کا صیغہ استعمال کیا ہے ‘ اسلئے ثواب کے صیغہ کی جگہ اَسْتَجِبْ فرمایا۔ دعا سے عبادت اور استجابت سے عطاء ثواب مراد ہونے کا قرینہ آئندہ آیت میں عَنْ عِبَادَتِیْ کا لفظ ہے۔
ظاہر یہ ہے کہ دعا اور عبادت دونوں سے مراد سوال ہے۔ ہر ضرورت کی چیز اللہ ہی سے مانگنا اور کسی دوسرے کی طرف رخ نہ کرنا ہی کمال عبودیت ہے اور اللہ کی بےنیازی اور اپنے محتاج ہونے کا اظہار ہے۔ حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے بعض لوگ (ایسے بھی ہیں جو) اپنی ضرورت کی ہر چیز اپنے رب سے ہی مانگتے ہیں ‘ یہاں تک کہ اگر ان کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جاتا ہے تو وہ بھی اپنے رب سے ہی مانگتے ہیں ‘ رواہ الترمذی۔ ثابت بنانی کی روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں : یہاں تک کہ وہ نمک بھی رب سے ہی مانگتے ہیں ‘ اور جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ بھی (ا اللہ ہی سے) طلب کرتے ہیں۔
حضرت نعمان بن بشیر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دعا ہی عبادت ہے۔ پھر حضور ﷺ نے یہ آیت اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ... دٰخِرِیْنَ تک تلاوت فرمائی ‘ رواہ احمد وابو داؤد ورواہ ابن ابی شیبۃ فی المصنف والحاکم فی المستدرک ‘ وابن حبان فی صحیحہ والترمذی وابن ماجۃ والنسائی فی مسندیہما وقال الترمذی حدیث حسن صحیح۔
بعض روایات میں آیا ہے کہ حضرت نعمان نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے ‘ اور یہ فرما رہے تھے ‘ میں نے خود سنا تھا ‘ حدیث مبارک کے جو یہ الفاظ ہیں : ” انّ الدعاء ھو العبادۃ “۔ اس میں ھُوَ ضمیر فصل اور العبادۃ (خبر) پر الف لام لانا حصر پر دلالت کر رہا ہے ‘ اگر مسند الیہ اور مسند کے درمیان ضمیر فصل ذکر کی جائے اور خبر (یعنی مسند) پر الف لام داخل کردیا جائے تو اس کلام میں مسند الیہ (مبتداء) پر مسند (خبر) کا حصر مقصود ہوتا ہے ‘ جیسے اِنَّ اللہ ھُوَ الرَّزَّاق یعنی اللہ کے سوا اور کوئی رازق نہیں ‘ اللہ ہی رازق ہے اور کبھی مسند الیہ کو مسند پر محصور کرنا مقصود ہوتا ہے (یعنی پہلی صورت کے برعکس) جیسے ایک حدیث کے الفاظ ہیں : ” الکرم ھو التقویٰ والحسب ھو الایمان “ یعنی تقویٰ ہی عزت ہے ‘ تقویٰ کے سوا کوئی عزت نہیں ہے اور ایمان ہی نسب ہے ‘ ایمان کے سوا کوئی نسب نہیں۔ حدیث مذکورہ بالا میں دونوں معنی مراد ہوسکتے ہیں : (ا) دعا ہی عبادت ہے (2) عبادت ہی دعا ہے۔ یہ حصر بطور مبالغہ ہے ‘ شاید اس سے یہ مراد ہے کہ دعا اور عبادت کی حقیقت ایک ہی ہے ‘ صرف مفہوم کا اعتبار ہی فرق ہے۔ ہر دعا اور سوال عبادت و اطاعت ہے۔ سوال میں سائل کی عاجزی اور احتیاج کا اظہار ہوتا ہے اور لغت میں عبودیت اظہار عجز و احتیاج کو ہی کہتے ہیں۔ عبادت کا لفظ عبودیت سے زیادہ بلیغ ہے۔ اظہار عجز کے انتہائی درجہ کا نام عبادت ہے جس کا مستحق سوائے اللہ کے اور کوئی نہیں۔ اللہ نے خود ارشاد فرمایا ہے : وَقَضٰی رَبُّکَ اَلاَّ تَعْبُدُوٓا اِلَّآ اِیَّاہ اور ہر عبادت وطاعت سوال ہی ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : اکثر دعائی ودعاء الانبیاء قبلی بعرفات لاَ الٰہ الاّ اللہ وحدہٗ لا شریک لہٗ لہ الملک ولہ الحمد وھو علٰی کلّ شیءٍ قدیر۔ رواہ ابن ابی شیبۃ فی المصنف۔ دوسری آیت میں فرمایا ہے : وَاٰخِرُ دَعْوٰھُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلِیْنَ ۔
جزری نے نہایہ میں لکھا ہے : تہلیل (لا الٰہ الا اللہ کہنا) اور تمحید (الحمد اللہ کہنا) کو دعا اسلئے کہا گیا کہ تہلیل وتحمید سے بھی دعاء کی طرح ثواب و جزاء کا استحقاق ہوجاتا ہے ‘ جیسا کہ دوسری حدیث میں آیا ہے کہ بندہ جب میری تعریف کے شغل میں بجائے سوال کرنے کے لگا رہتا ہے تو میں جتنا مانگنے والے کو دیتا ہوں ‘ اس سے زیادہ اس ثناء کرنے والے کو دیتا ہوں۔ ترمذی اور مسلم نے بیان کیا ہے کہ (ا اللہ نے فرمایا) جس کو قرآن (کی تلاوت) میرے ذکر سے اور مجھ سے سوال کرنے سے باز رکھتی ہے ‘ میں اس کو اتنا دیتا ہوں جو سوال کرنے والوں سے افضل (بہتر اور زیادہ) ہوتا ہے۔ دوسری روایت میں آیا ہے : جس کو قرآن (کی تلاوت) اور میرا ذکر کرنے سے باز رکھتا ہے ‘ الحدیث۔
دعاء کی تفصیل : بعض دعائیں تو فرض ہیں ‘ جیسے نماز کے اندر سورة فاتحہ میں اہدنا الصراط المستقیم پڑھا جاتا ہے۔ بعض دعائیں سنت مؤکدہ ہوتی ہیں ‘ جیسے آخری قعدہ کے آخر میں ‘ یا حج کے مقامات میں دعائیں کی جاتی ہیں۔ بعض دعائیں حرام یا مکروہ ہوتی ہیں ‘ جیسے صرف لذات دنیا کا سوال ‘ یا ایسے کام کیلئے دعا جو گناہ ہے ‘ یا ناممکن بات کی درخواست۔ اللہ نے فرمایا ہے : کچھ لوگ کہتے ہیں : ربّنا آتنا فی الدنیا حسنۃً ۔ ایسی دعا کرنے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ یہ بھی ارشاد خداوندی ہے کہ اللہ نے جو بعض لوگوں کو بعض چیزوں میں فضیلت عطا فرمائی ہے ‘ تم اس کی تمنا نہ کرو۔
دنیا اور آخرت میں بندہ جس چیز کا محتاج ہے اس کی درخواست اللہ سے کرنی اور ہر شر سے اس کی پناہ مانگی تو ایسی دعا مستحب ہے ‘ اس کا استحبابی حکم دیا گیا ہے۔ علماء کا اس پر اجماع ہے۔ بعض زاہد کہتے ہیں کہ اللہ سے کچھ نہ مانگنا افضل ہے ‘ اس میں تسلیم و رضاء بالقضاء کا زیادہ ظہور ہوتا ہے۔ علماء کا ایک گروہ قائل ہے کہ اگر مسلمانوں کیلئے دعا کی جائے تو اچھا ہے اور اگر صرف اپنے لئے کی جائے تو اچھا نہیں ہے۔
ہمارے مسلک کی دلیل کتاب اللہ ‘ احادیث رسول ﷺ اور اجماع امت ہے۔ حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دعا سے زیادہ کوئی چیز اللہ کے نزدیک عزت والی نہیں ہے ‘ رواہ الترمذی وقال حسن غریب۔ ابن ماجہ اور حاکم نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے۔
حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دعاء عبادت کا مغز ہے ‘ رواہ الترمذی۔
حضرت ابن مسعود راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ سے اس کا فصل طلب کرو ‘ کیونکہ اللہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس سے سوال کیا جائے اور بہترین عبادت کشائش کا انتظار ہے ‘ رواہ الترمذی وقال ہذا حدیث غریب۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص اللہ سے نہیں مانگتا ‘ اللہ اس پر ناراض ہوتا ہے ‘ رواہ الترمذی وابن حبان والحاکم ‘ ترمذی نے اس کو حدیث غریب کہا ہے۔ اس طرح کی حدیثوں کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص غرور کی وجہ سے اللہ سے سوال نہیں کرتا ‘ اللہ اس پر ناراض ہوتا ہے۔ یہی مطلب ہے آیت : اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَھَنَّمَ دٰخِرِیْنَ کا۔
حضرت انس راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دعا کرنے میں کمزوری نہ کرو ‘ دعا کی موجودگی میں اللہ کسی کو ہلاک نہیں کرے گا ‘ رواہ ابن حبان والحاکم۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دعا مؤمن کا ہتھیار ہے ‘ دین کا ستون ہے ‘ آسمانوں اور زمین کا نور ہے ‘ رواہ الحاکم فی المستدرک۔
حضرت ابن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کیلئے دعا کا دروازہ کھول دیا گیا ‘ اس کیلئے رحمت کے دروازے کھول دئیے گئے اور اللہ سے جو چیزیں مانگی جاتی ہیں ‘ سب سے مرعوب اسکے نزدیک یہ ہے کہ عافیت کی درخواست کی جائے ‘ رواہ الترمذی۔ حاکم کی مستدرک میں بجائے رحمت کے دروازوں کے ” جنت کے دروازے کھول دئیے گئے “ آیا ہے۔
فصل : دعاء کو قبول کرنے کا وعدہ۔ حضرت ابن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے جس کیلئے دعا کا دروازہ کھول دیا گیا ‘ اس کیلئے قبولیت کے دروازے کھول دئیے گئے ‘ رواہ ابن ابی شیبۃ۔
حضرت سلمان راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہارا رب بڑا حیادار اور کریم ہے۔ جب بندہ اسکے سامنے ہاتھ اونچے کرتا (یعنی پھیلاتا) ہے تو اس کو اپنے بندے کے خالی ہاتھ واپس کرتے شرم آتی ہے ‘ رواہ الترمذی وابو داؤد والبیہقی فی الدعوات الکبیر۔
حضرت ابو سعید خدری راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو مسلمان کوئی ایسی دعا کرتا ہے جس میں گناہ نہ ہو ‘ نہ حق قرابت کا انقطاع ہو تو اللہ تین چیزوں میں سے ایک چیز اس کو ضرور عطا فرماتا ہے : (ا) یا اس کی دعا جلد پوری کردیتا ہے (2) یا آخرت کیلئے اس کو جمع رکھتا ہے (3) یا اس سے دعا کے برابر برائی کو دور کردیتا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! خواہ ہم بہت سی دعائیں کریں (تب بھی یہ معاوضہ ملے گا) فرمایا : اللہ کے پاس بہت کچھ ہے (وہ ضرور عطا فرمائے گا) رواہ احمد۔
حضرت ابن عمر راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دعا ان (آفات) سے بھی فائدہ دیتی ہے جو نازل ہوچکی ہوتی ہیں اور ان (آفات و مصائب) سے بھی جو وقت دعا تک نازل نہیں ہوتیں (بلکہ آئندہ نازل ہونے والی ہوتی ہیں) اے اللہ کے بندو ! دعا کا التزام کرو ‘ رواہ الترمذی۔
امام احمد نے حضرت معاذ بن جبل اور حضرت جابر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو کوئی اللہ سے دعا کرتا ہے ‘ اللہ اسکا سوال پورا کرتا ہے ‘ یا بقدر سوال کسی دکھ کو اس سے روک دیتا ہے بشرطیکہ دعا کسی گناہ یا قطع قرابت کی نہ ہو ‘ رواہ الترمذی۔
فصل : کسی کی دعا رد نہیں کی۔ حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تین دعائیں مقبول ہوتی ہیں جن کے قبول ہونے میں کوئی شک نہیں : باپ کی دعا ‘ مظلوم کی دعا ‘ مسافر کی دعا ‘ رواہ الترمذی وابو داؤد وابن ماجۃ۔ یہ بھی حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تین ہیں جن کی دعا رد نہیں کی جاتی : (1) روازہ دار کی دعا افطار کے وقت (2) امام عادل کی دعا (3) مظلوم کی دعا۔ مظلوم کی بددعا بادلوں سے اوپر اٹھا لی جاتی ہے اور آسمان کے دروازے اس کیلئے کھول دئیے جاتے ہیں اور رب فرماتا ہے : مجھے اپنی عزت کی قسم ! میں تیری ضرور مدد کروں گا اگرچہ کچھ وقت کے بعد ہو ‘ رواہ الترمذی۔
حضرت ابو درداء راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مسلمان کی دعا اپنے (مسلمان) بھائی کیلئے اس کی غیرحاضری میں (یعنی پس پشت) قبول ہوتی ہے۔ جب وہ اپنے بھائی کیلئے خیر کی دعا کرتا ہے تو جو فرشتہ اس کے سر کے پاس کھڑا ہوتا ہے ‘ وہ آمین کہتا ہے (یعنی اللہ تیرے بھائی کیلئے ایسا ہی کر دے اور تیرے لئے بھی ایسا ہی ہوجائے) رواہ مسلم۔
حضرت ابن عباس راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پانچ دعائیں قبول کی جاتی ہیں : مظلوم کی دعا اس وقت تک کہ اس کا انتقام مل جائے ‘ حاجی کی دعا وقت واپسی تک ‘ بیمار کی دعا صحت مند ہونے تک ‘ بھائی کی دعا اپنے بھائی کیلئے غائبانہ۔ پھر فرمایا : سب سے زیادہ جلد قبول ہونے والی یہی بھائی کیلئے غائبانہ دعا ہے ‘ رواہ البیہقی فی الدعوات الکبیر۔
حضرت عبد اللہ بن عمر راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جلد ترین قبول ہونے والی وہ دعا ہے جو غائب (مسلمان) کیلئے اسکے پس پشت کی جائے ‘ رواہ الترمذی وابو داؤد۔
فصل : قبولیت دعا کی شرطیں : (1) کھانے پینے اور پہننے میں حرام چیز سے پرہیز۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آدمی طویل سفر کرتا ہے ‘ بال پراگندہ اور غبار آلود ہوتے ہیں ‘ ایسی حالت میں وہ آسمان کی طرف ہاتھ پھیلا کر دعا کرتا ہے اور کہتا ہے : اے رب ! اے رب ! لیکن اس کا کھانا حرام کا ‘ پینا حرام کا اور لباس حرام کا ہوتا ہے ‘ اور مال حرام سے ہی اس کی پرورش ہوتی ہے تو دعا کیسے قبول ہو ؟ رواہ مسلم۔ (2) دعا میں حضور قلب ہونا ضروری ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قبول ہونے کا یقین رکھتے ہوئے دعا کیا کرو۔ خوب سمجھ لو کہ غافل دل کی دعا اللہ قبول نہیں کرتا ہے ‘ رواہ الترمذی وقال ہذا حدیث غریب۔ (3) قطعی دعا کی جائے۔ حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص دعا کرے تو یوں نہ کہے : اے اللہ ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے ‘ بلکہ عزم رکھے (کہ اللہ اس کی دعا قبول کرے گا) اور بڑی رغبت کے ساتھ دعا کرے ‘ کیونکہ اللہ جو کچھ عطا فرماتا ہے ‘ اس کیلئے وہ چیز بڑی نہیں ہوتی ‘ رواہ مسلم۔
فصل : دعا کے آداب : حضرت فضالہ بن عبید راوی ہیں کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ (مسجد میں) تشریف فرما تھے۔ ایک شخص آیا ‘ آکر نماز پڑھی اور نماز کے بعد کہا : اے اللہ ! مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اے نماز پڑھنے والے ! تو نے (دعا کرنے میں) جلدی کی ‘ جب تو نماز پڑھ چکے اور بیٹھ جائے تو (پہلے) ان صفات کے ساتھ جن کا اللہ مستحق ہے ‘ اس کی حمد کر (پھر) مجھ پر درود بھیج ‘ پھر دعا کر۔ راوی کا بیان ہے : پھر ایک اور شخص نے آکر نماز پڑھی ‘ نماز کے بعد اللہ کی حمد کی اور رسول اللہ ﷺ کیلئے دعاء رحمت کی۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اب تیری دعا قبول کی جائے گی ‘ رواہ الترمذی وروی ابو داؤد والنسائی نحوہ۔
حضرت ابن مسعود کا بیان ہے کہ میں نماز پڑھ رہا تھا ‘ جب میں نے (آخری) قعدہ کیا تو اول اللہ کی ثناء کی ‘ پھر رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجا ‘ پھر اپنے لئے دعا کی۔ حضور ﷺ نے فرمایا : مانگ (جو مانگے گا) تجھے دیا جائے گا ‘ رواہ الترمذی۔
حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا : دعا آسمان و زمین کے درمیان روکی رکھی جاتی ہے۔ جب تک تو اپنے نبی ﷺ پر درود نہ پڑھے ‘ دعا کا کوئی حصہ اوپر نہیں چڑھتا ‘ روہ الترمذی۔
حضرت مالک بن یسار راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم اللہ سے دعا کرو تو ہتھیلیوں کو پھیلا کر دعا کرو ‘ ہتھیلیوں کی پشت کی طرف سے نہ مانگو۔
حضرت ابن عباس کی روایت میں آیا ہے کہ ہتھیلیوں کی طرف سے مانگو ‘ ہتھیلیوں کی پشت کی طرف سے نہ مانگو ‘ اور دعا سے فاعغ ہوجاؤ تو ہتھیلیاں منہ پر پھیرلیا کرو۔
حضرت عمر کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ دعا میں جب دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے تو اس وقت تک نیچے نہیں گراتے تھے جب تک کہ منہ پر نہیں پھیر لیتے تھے ‘ رواہ الترمذی۔
حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ دعا کے جامع الفاظ کو پسند فرماتے تھے اور دوسرے الفاظ کو نظرانداز کرتے تھے ‘ رواہ ابو داؤد۔ حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دعا میں اتنے ہاتھ اٹھاتے تھے کہ دونوں بغلوں کی سفیدی دکھائی دے جاتی تھی۔ سائب بن یزید نے اپنے باپ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب دعا کرتے تھے تو (دعا کے بعد) دونوں ہاتھ اٹھا کر منہ پر پھیر لیتے تھے ‘ رواہ البیہقی فی الدعوات الکبیر۔
عکرمہ نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا کہ دعا (کی شکل) یہ ہے کہ دونوں مونڈھوں تک یا ان کے قریب تک تم اپنے دونوں ہاتھ اٹھا لو ‘ رواہ ابو داؤد۔
حضرت ابن عمر فرماتے تھے کہ (دعا میں) تمہارا ہاتھوں کو اوپر اٹھانا بدعت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ اس سے یعنی سینہ سے اوپر ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے ‘ رواہ احمد۔
حضرت ابی بن کعب کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی کا ذکر کرتے اور اس کیلئے دعا فرماتے تو شروع اپنی ذات (کیلئے دعا) سے کرتے تھے ‘ رواہ الترمذی وقال ہذا حدیث حسن غریب صحیح۔
Ayah 40:61اللہ الذی جعل لکم الیل لتسکنوا فیہ والنھار مبصرا ان اللہ لذو فضل علی الناس ولکن
اکثر الناس لا یشکرون اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے آرام کیلئے رات بنائی اور دن کو روشن بنایا۔ اللہ لوگوں پر بلاشبہ بڑا مہربان ہے ‘ لیکن اکثر آدمی شکر نہیں کرتے۔
لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ یعنی رات میں نیند سے تم کو آرام ملے۔
لاَ یَشْکُرُوْنَ یعنی منعم کو نہیں جانتے اور نعمتوں کی اہمیت اور اللہ کے فضل کی عظمت سے غافل ہیں۔ الناس کی تکرار اس امر کو ظاہر کرنے کیلئے ہے کہ ناشکری انہی لوگوں کے ساتھ مخصوص ہے ‘ وہی ناشکری کرتے ہیں۔ جیسے دوسری آیت میں آیا ہے : اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ کَفَّارٌ۔
Ayah 40:62ذلکم اللہ ربکم خالق کل شی لا الہ الا ھو فانی تؤفکون۔ یہ ہے اللہ تمہارا رب ‘ وہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے ‘ اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں ‘ سو تم لوگ (شرک کر کے) کہاں الٹے جا رہے ہو ؟
Ayah 40:63کذلک یؤفک الذین کانوا بایت اللہ یجحدون اور اسی طرح وہ لوگ بھی الٹے چلا کرتے تھے جو اللہ کی نشانیوں کا انکار کرتے تھے۔
ذٰلِکُمْ یعنی یہ ذات جس کے تمام افعال الوہیت اور ربوبیت کے مقتضی ہیں۔ اللہ ہی تمہارا رب ہے ‘ ہر چیز کا خالق ہے۔ جوہر ہو ‘ عرض ہو ‘ یا بندوں کے افعال ہوں ‘ ہر چیز اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔
لَآ اِلٰہَ الاَّ ھُوَ اللہ کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں ‘ کیونکہ اس کے سوا کسی میں ایسی صفات نہیں جو مستحق الوہیت بنا سکیں۔
فَاَنّٰی تُؤْفَکُوْنَ پھر اسکی عبادت سے دوسروں کی عبادت کی طرف کہاں پھرے جاتے ہو (تمہارا رخ دوسروں کی طرف کیوں ہوجاتا ہے) ۔
کَذٰلِکَ یُؤْفَکُ یعنی کفار مکہ کی طرح وہ لوگ اللہ کی عبادت سے دوسروں کی عبادت کی طرف پھرے جاتے تھے جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے۔
Ayah 40:64اللہ الذی جعل لکم الارض قرار والسماء بناء وصورکم فاحسن صورکم اللہ ہی تو ہے
جس نے زمین کو تمہاری قرار گاہ اور آسمان کو چھت بنایا ‘ اور تم لوگوں کی صورتیں بنائیں اور اچھی صورتیں بنائیں۔
قَرَارًا بمعنی مستقر ‘ یعنی قرار گاہ۔
بِنَآءً یعنی تمہارے اوپر چھت۔ اس جملہ میں (الوہیت و ربوبیت کی) دوسری دلیل بیان کی ہے جس میں اللہ نے دوسری طرح کے مخصوص افعال سے استدلال کیا ہے۔
فَاَحْسَنَ صُوَرَکُمْ یعنی تمہارے قد موزوں ‘ جلد صاف ‘ اعضاء مناسب اور صنائع و کمالات حاصل کرنے کے قابل ارکان بدن (اور قویٰ ) بنائے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اللہ نے آدمی کو کشیدہ قامت ‘ معتدل (اعضاء والا) بنایا۔ وہ ہاتھ سے کھانا لیتا اور پکڑتا ہے ‘ دوسرے جانور منہ سے پکڑتے اور لیتے ہیں۔
ورزقکم من الطیبت اور تم کو (مزیدار) پاکیزہ چیزیں (روزی کے طور پر) دیں۔
اَلطَّیِّبَاتِ سے مراد ہیں لذیذ کھانے۔
ذلکم اللہ ربکم فتبٰرک اللہ رب العلمین یہ ہے اللہ تمہارا رب ‘ سو بڑی شان والا ہے ‘ اللہ جو سارے جہان کا
رب ہے۔ یعنی اللہ ہی تمہارا رب ہے ‘ اور سارا جہان اسی کا پروردہ ہے ‘ سب اس کے محتاج ہیں اور روبہ زوال ہیں۔
Ayah 40:65ھو الحی لا الہ الا ھو وہی زندہ ہے ‘ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ یعنی اس کی حیات ذاتی ہے ‘ وہ حیات ذاتی میں
منفرد ہے (اس کی حیات مستعار اور کسی کی عطا کردہ نہیں ہے) وجود اس کا تقاضاء ذات ہے اور واجب ہے ‘ وجود اور وجوب اگرچہ اس کی صفات کمالیہ ہیں ‘ لیکن (جس طرح دوسری صفات اس کی ذات کا پرتو ہیں ‘ اسی طرح) وجود و وجوب بھی اس کی ذات کے پرتو ہیں۔
فادعوہ مخلصین لہ الدین سو تم (سب) لوگ خالص اعتقاد کر کے اسی کو پکارو۔
فَادْعُوْہُ یعنی اس کی عبادت کرو ‘ اپنی ہر حاجت اسی سے ہی مانگو۔
فَادْعُوْہُ میں فَ سببی ہے (یعنی سابق کلام فَ سے بعد والے کلام کا سبب ہے) مطلب یہ ہے کہ اللہ کی صفات مذکورہ اس امر کی موجب ہیں کہ اس کی عبادت کرو۔ الدِّیْن دین سے مراد ہے طاعت ‘ طاعت و عبادت کو خالص کرنے کا یہ معنی ہے کہ عبادت شرک اور ریا سے پاک ہو۔
الحمد اللہ رب العلمین ساری خوبیاں اللہ کیلئے ہیں جو سارے جہان کا رب ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ بعض علماء کے نزدیک لفظ قائلین محذوف ہے ‘ یعنی یہ جملہ کہتے ہوئے اللہ کو پکارو۔ فراء نے کہا : یہ جملہ خبر ہے اور اس خبر کے اندر حکم مضمر ہے ‘ یعنی اللہ کی عبادت کرو اور الحمد اللہ رب العٰلمین کہو۔
مجاہد نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ جو شخص لا الٰہ الا اللہ کہے ‘ اس کو اسکے بعد الحمد اللہ رب العٰلمین بھی کہنا چاہئے۔ یہی مطلب ہے آیت فادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ ط اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ کا۔
حضرت ابن عباس راوی ہیں کہ ولید بن مغیرہ اور شبیہ بن ربیعہ وغیرہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا : محمد ! ﷺ تم اپنے قول کو چھوڑ دو اور باپ دادا کے مذہب پر چلو۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
Ayah 40:66قل انی نھیت ان اعبد الذین تدعون من دون اللہ لما جاءنی البینت من ربی وامرت ان
اسلم لرب العلمین آپ (ان مشرکوں سے) کہہ دیجئے کہ مجھے ان معبودوں کی پوجا کرنے کی ممانعت کردی گئی ہے جن کو اللہ کے سوا تم پوجتے ہو ‘ جبکہ میرے رب کی طرف سے میرے پاس (توحید ‘ ربوبیت و الوہیت کی) کھلی ہوئی دلیلیں آچکی ہیں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں صرف رب العٰلمین کے سامنے سر جھکا لو۔
الْبَیِّنَات دلائل اور نشانیاں جن کی تائید براہین عقلیہ سے ہو رہی ہے اور جو غیر اللہ کی عبادت سے روک رہی ہیں۔ اَنْ اُسْلِمَ کہ میں اطاعت کروں اور اپنی اطاعت و عبادت کو شرک سے پاک رکھوں۔
Ayah 40:67ھو الذی خلقکم من تراب ثم من نطفۃ ثم من علقۃ ثم یخرجکم طفلا ثم لتبلغوا اشدکم ثم لتکونوا شیوخا ومنکم من یتوفی من قبل ولتبلغوا اجلا مسمی ولعلکم تعقلون وہی ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ‘ پھر نطفہ سے ‘ پھر خون کے لوتھڑے سے ‘ پھر تم کو بچہ کر کے ماں کے پیٹ سے نکالتا ہے ‘ پھر (تم کو زندہ رکھتا ہے) تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچو ‘ پھر تاکہ تم بوڑھے ہوجاؤ ‘ اور تم میں سے کچھ لوگ پہلے ہی مرجاتے ہیں اور تاکہ تم سب اپنے مقرر وقت تک پہنچ جاؤ اور (یہ سب کچھ اسلئے کیا) تاکہ تم سمجھو۔
Ayah 40:68ھو الذی یحی ویمیت فاذا قضی امر فانما یقول لہ کن فیکون وہی زندگی دیتا ہے اور (وہی)
موت دیتا ہے۔ جب وہ کسی کام (کے ہوجانے) کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو صرف اتنا کہتا ہے ” ہو “ اور وہ فوراً ہوجاتا ہے۔
فَاذَا قَضآی جب وہ کسی امر کا ارادہ کرتا ہے۔
فَیَکُوْنُ یعنی وہ چیز فوراً ہوجاتی ہے ‘ اللہ کو کسی چیز کی تخلیق میں کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔
فَاذَا میں لفظ فَ دلالت کر رہا ہے کہ یہ کلام سابق کا نتیجہ ہے ‘ سابق کلام بتارہا ہے کہ اللہ کی قدرت ذاتی ہے ‘ کسی سامان اور مواد کی اس کو کوئی حاجت نہیں۔
Ayah 40:69الم تر الی الذیہ یجادلون فی ایت اللہ انی یصرفون۔ کیا آپ نے ان لوگوں کی حالت کو نہیں دیکھا جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑے نکالتے ہیں ‘ وہ کہاں پھرے چلے جا رہے ہیں ؟
Ayah 40:70الذین کذبوا بالکتب وبما ارسلنا بہ رسلنا فسوف یعلمون یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی کتاب کی ‘ اور اللہ نے اپنے پیغمبروں کو جو (شریعتیں) دے کر بھیجا ‘ ان کی (بھی) تکذیب کی ‘ سو ان کو عنقریب معلوم ہوجائے گا۔
اَنّٰی یُصْرَفُوْنَکہاں یعنی کس طرح ان کو حق سے پھیرا جاتا ہے۔ یہ استفہام جزری ‘ توبیخی ہے ‘ مجادلہ کرنے والوں کا دو بار ذکر مذمت مجادلہ کی تاکید کیلئے ہے ‘ یا مجادلہ کرنے والے الگ الگ تھے ‘ یا جن مسائل میں جدال کرتے تھے ‘ وہ مسائل جدا جدا تھے ‘ اسلئے دو بار جدال کرنے والوں کا ذکر کیا۔ محمد بن سرین نے کہا : پہلی آیت مشرکوں کے بارے میں ہے اور یہ آیت فرقۂ قدریہ کے متعلق نازل ہوئی۔
اَلَّذِیْنَ کَذَّبُوْا یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے کتاب اللہ کی تکذیب کی اور جو شریعتیں دے کر اللہ نے اپنے پیغمبروں کو بھیجا تھا ‘ ان کو جھوٹا قرار دیا۔
ایک شبہ : فرقۂ قدریہ تو کتاب اللہ کو مانتا ہے اور تمام شریعتوں اور پیغمبروں کے سچا ہونے کا اقرار کرتا ہے ‘ پھر جدال کرنے والوں سے فرقۂ قدریہ کیسے مراد ہوسکتا ہے ؟
ازالہ : قدریہ گروہ والے اس امت کے مجوسی ہیں۔ کتاب اللہ اور احادیث رسول ﷺ سے ثابت ہے کہ اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے۔ ساری کائنات خیر ہو یا شر ‘ جواہر ہوں یا اعراض ‘ سب اسی کی مخلوق ہے۔ اس کی قدرت کلی ہے ‘ ہمہ گیر ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے اور جو گناہ چاہتا ہے ‘ بخشتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ‘ جرم کی سزا دیتا ہے ‘ ہر صغیرہ گناہ اگر وہ چاہے تو معاف کرسکتا ہے۔ وہ جیسا چاہتا ہے ‘ کرتا ہے اور جیسا چاہتا ہے ‘ حکم دیتا ہے۔ وہ سب سے بازپرس کرنے والا ہے ‘ اس سے کسی امر کی کوئی بازپرس نہیں کرسکتا۔ فرقۂ قدریہ ان سب باتوں کا منکر ہے۔ وہ گروہ پل صراط ‘ میزان اور شفاعت وغیرہ کا بھی انکار کرتا ہے ‘ اسلئے اس گروہ کو آیات میں جدال کرنے والا اور شرائع انبیاء کی تکذیب کرنے والا قرار دیا۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ الّذین کذبوا سے جملہ الگ الّذین مع صلہ کے مبتداء ہو اور فسوف یعلمون خبر ہو۔
Ayah 40:71اذ الاغلل فی اعناقھم والسلسل یسحبون۔ جبکہ انکی گردنوں میں طوق ہوں گے اور زنجیریں (جن میں باندھ کر) ان کو کھولتے پانی میں گھسیٹا جائے گا
Ayah 40:72فی الحمیم ثم فی النار یسجرون ‘ پھر آگ میں ان کو جھونک دیا جائے گا۔
یُسْحَبُوْنَ یعنی یُسْحَبُوْنَ بِھَا زنجیروں سے ان کو کھینچا جائے گا۔
یُسْجَرُوْنَ انکو جلایا جائے گا۔ سَجَر التنور اس نے تنور میں ایندھن بھر دیا ‘ جھونک دیا۔ مقاتل نے کہا : ان سے آگ بھڑکائی جائے گی۔ مجاہد نے کہا : ان کو آگ کا ایندھن بنایا جائے گا۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ ان کو طرح طرح کا عذاب دیا جائے گا ‘ کبھی کھولتے ابلتے پانی کا عذاب ‘ کبھی دہکتی بھڑکتی آگ کا عذاب۔ ترمذی ‘ نسائی ‘ ابن ماجہ ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابن حبان ‘ حاکم اور بیہقی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سر کی کھوپڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر سیسے کا کوئی ایسا گولہ آسمان سے زمین کی طرف پھینکا جائے جن کے درمیان پانچ سو برس کی راہ ہے تو گولہ رات ہونے سے پہلے زمین تک پہنچ جائے گا (یعنی پانچ سو برس کی راہ دس بارہ گھنٹے میں طے کرلے گا) لیکن اگر (دوزخ کی) زنجیر کے سرے سے ایک گولہ پھینکا جائے تو تہہ یا انتہائی گہرائی تک پہنچنے میں اس کو چالیس سال رہنا پڑے گا (یعنی دوزخ کی گہرائی آسمان و زمین کی درمیانی مسافت سے ہزاروں گنا زائد ہے) ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔
Ayah 40:73ثم قیل لھم این ما کنتم تشرکون۔ پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ اللہ کے سوا وہ (معبود) کہاں گئے جن کو تم اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے ؟
Ayah 40:74من دون اللہ قالوا ضلوا عنا بل لم نکن ندعو منقبل شیئا وہ کہیں گے : وہ تو سب ہم سے غائب ہوگئے ‘ بلکہ اس سے پہلے ہم تو کسی کو نہیں پوجتے تھے۔
ضَلُّوْا یعنی ہم سے غائب ہوگئے ‘ ہم کو کہیں نظر نہیں آتے۔ یہ جواب اس وقت دیں گے جب ان کے معبود ان کے ساتھ نہیں ہوں گے۔ یا ضلّوا عنّا کا معنی ہے وہ ہم سے کھو گئے ‘ ہم کو جو ان سے امیدیں تھیں وہ پوری نہیں ہو سکیں۔
بَلّ لَّمْ نَکنْ نَّدْعُوْ بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ کافروں کی طرف سے یہ شرک کرنے کا ہی انکار ہوگا ‘ یعنی وہ کہیں گے : ہم شرک کرتے ہی نہیں تھے۔ جیسے دوسری آیت میں مقولہ (معنوی) نقل کیا ہے کہ وہ کہیں گے : وا اللہ ربّنا ما کنَّا مشرکین۔ بعض علماء نے کہا کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہم کسی ایسی چیز کی عبادت نہیں کرتے تھے جو ہم کو نہ فائدہ پہنچا سکتی ‘ نہ تکلیف دور کرسکتی۔ حسن بن فضل نے کہا : یعنی اس سے پہلے ہم نے کچھ کیا ہی نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہماری ساری عبادت (جو مخلوق کی ہم نے کی تھی) بیکار گئی۔ کذلک یضل اللہ الکفرین۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح کافروں کو غلطی میں پھنسائے رکھتا ہے۔
Ayah 40:75ذلکم بما کنتم تفرحون فی الارض بغیرالحق وبما کنتم تمرحون۔ یہ (سزا) اس کے بدلے میں ہے کہ تم دنیا میں ناحق خوشیاں مناتے تھے ‘ اور اس کے بدلے میں ہے کہ تم اتراتے تھے۔
Ayah 40:76ادخلوا ابواب جھنم خلدین فیھا فبئس مثوی المتکبرین جہنم کے دروازوں میں گھس جاؤ اور ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہو ‘ وہ تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے۔
کَذٰلِکَ یعنی جیسے ان مشرکوں کو یا فرقۂ قدریہ کو گم کردہ راہ بنا دیا ‘ اسی طرح ان سب کافروں کو گمراہ بنا دیتا ہے کہ ان کو کسی سودمند ‘ فائدہ رساں چیز تک پہنچنے کا راستہ ہی نہیں ملتا اور راستہ مل جاتا ہے تو اس پر چلتے نہیں۔
ذٰلِکُمْ اللہ کی طرف سے گمراہ کنی اسلئے ہوئی کہ تم لوگ دنیا میں اکڑتے پھرتے تھے اور غرور کرتے تھے ‘ حالانکہ اس اکڑ اور غرور کا تم کو کوئی حق نہیں تھا ‘ یہ باطل اکڑ ہی شرک اور سرکشی تھی۔
تَمْرَحُوْنَ اٹھلا کر چلتے تھے ‘ یعنی بےجا خوشی میں پھولے نہیں سماتے تھے۔
اُدْخُلُوْا یعنی (آج اور اب) جہنم کے ساتوں دروازوں میں داخل ہوجاؤ جو (جرم کے موافق تمہارے لئے) مقرر کر دئیے گئے ہیں اور ان کے اندر ہمیشہ رہنا تمہارے لئے مقدر کردیا گیا ہے۔
فَبِءْسَ مَثْوَیسو جو لوگ حق سے نیوڑاتے اور غرور کرتے ہیں ‘ ان کیلئے جہنم برا ٹھکانا ہے۔ چونکہ جہنم میں داخلہ دوامی قیام کا ذریعہ ہوگا ‘ اسلئے جہنم کو برا ٹھکانا فرمایا۔
Ayah 40:77فاصبر ان وعد اللہ حق فاما نرینک بعض الذی نعدھم اونتوا فینک فالینا یرجعون سو
آپ صبر کیجئے ‘ بلاشبہ اللہ کا وعدہ سچا ہے ‘ پس اگر ہم آپ کو (آپ کی زندگی میں) اس (عذاب و سزا) کا کچھ حصہ جس کا ہم ان (مشرکوں) کے متعلق وعدہ کر رہے ہیں ‘ دکھا دیں یا (اس سے پہلے) آپ کو وفات دے دیں ‘ بہرحال ہماری ہی طرف ان سب کو لوٹنا ہوگا ( آخرت میں ہم ان کو ضرور عذاب دیں گے) ۔
فَاصْبِرْ یعنی اے محمد ﷺ ! آپ ان مشرکوں کی ایذا رسانی پر صبر کریں۔
اِنَّ وَعْدَ اللہ حَقٌ یعنی اللہ نے آپ کو فتحیاب کرنے اور کافروں کو تباہ کرنے کا جو وعدہ کیا ہے ‘ وہ حق ہے ‘ لامحالہ پورا ہو کر رہے گا۔
فَاِمَّا۔ اِمّا اصل میں اِنْ مَا تھا ‘ اِنْ شرطیہ ہے اور مَا زائد ہے ‘ تاکید شرط کو ظاہر کر رہا ہے ‘ اسلئے نون ثقلیہ تاکیدیہ فعل (نُری) کے ساتھ لایا گیا۔
نَعِدُھُمْ یعنی قید و قتل کا وعدہ۔
اَوْ نَتَوَفَّیَنَّکَ یعنی دنیوی عذاب دکھانے سے پہلے ہم آپ کو وفات دے دیں۔
فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ یعنی قیامت کے دن ہماری طرف ہی سب کو لوٹنا ہوگا ‘ ہم ہی اعمال کے مطابق ان کو سزا جزا دیں گے۔
یہ جملہ نَتَوَفَّیَنَّکَ کا جواب ہے ‘ یعنی اگر کافروں کو دنیوی عذاب میں مبتلا کرنے سے پہلے ہم آپ کو وفات دے دیں تو آخرت میں ان کو ضرور عذاب دیں گے ‘ اس صورت میں نُرِیّنک کا جواب محذوف ہوگا۔ یہ بھی جائز ہے کہ جملہ فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ دونوں کا جواب ہو اور دونوں سے اس کا تعلق ہو۔ مطلب یہ ہے کہ کافروں کا دنیوی عذاب ہم آپ کو زندگی ہی میں دکھا دیں ‘ یا آپ کو وفات پہلے دے دیں ‘ بہرحال آخرت میں تو سب کو ہمارے پاس آنا ہی ہے ‘ وہاں سخت عذاب لازم ہے۔
Ayah 40:78ولقد ارسلنا رسلا من قبلک منھم من قصصنا علیک ومنھم من لم نقصص علیک اور
ہم آپ سے پہلے بہت رسول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے احوال تو ہم نے آپ سے بیان کر دئیے اور بعض کے احوال آپ سے نہیں بیان کئے۔
رُسُلاً اس میں تنوین تکثیر ہے (بکثرت پیغمبر) ۔
احمد نے اور ابن راہویہ نے اپنی مسندوں میں اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں اور حاکم نے مستدرک میں حضرت ابو لبابہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے انبیاء کی تعداد دریافت کی گئی ‘ فرمایا : ایک لاکھ چوبیس ہزار۔ دریافت کیا گیا : ان میں رسول کتنے ہوئے ؟ فرمایا : 313‘ ایک بڑی جماعت۔ ابن حبان نے حضرت ابوذر کی روایت سے بھی اسی مضمون کی حدیث نقل کی ہے۔ قرآن مجید میں صرف 27 کا ذکر آیا ہے۔
وما کان لرسول ان یاتی بایۃ الا باذن اللہ اور کوئی رسول ایسا نہیں ہوا کہ کوئی معجزہ بغیر اذن خدا کے لے
آئے۔ آیت سے مراد ہے معجزہ۔ اذن اللہ یعنی اللہ کا حکم ‘ اور ارادہ۔ مطلب یہ ہے کہ کسی رسول کو یہ اختیار نہیں کہ کوئی فرمائشی معجزہ خود اپنی قوت ومرضی سے بغیر حکم خدا کے ظاہر کر دے۔
فاذا جاء امر اللہ قضی بالحق وخسرھنا لک المبطلون سو جس وقت اللہ کا حکم (عذاب) آجائے گا ٹھیک ٹھیک فیصلہ ہوجائے گا اور اس وقت اہل باطل خسارہ میں رہیں گے (ترجمہ تھانوی) ۔
اَمْرُ اللہ یعنی انبیاء اور ان کی امتوں کے درمیان اللہ کا آخری فیصلہ۔
بِالْحَقِّ یعنی کافروں پر عذاب اور انبیاء و مؤمنین کی فتح و نصرت۔
اَلْمُبْطِلُوْنَ یعنی وہ کافر جن کیلئے معجزات نبوت سے حق کا ظہور نہیں ہوتا بلکہ وہ محض عناد و عداوت کے زیر اثر (خود تراشیدہ) نشانیاں طلب کرتے ہیں۔
Ayah 40:79اللہ الذی جعل لکم الانعام لترکبوا منھا ومنھا تاکلون۔ ہی ہے جس نے تمہارے لئے مویشی بنائے تاکہ ان میں بعض سے تم سواری لو اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں جن کو تم کھاتے ہو
Ayah 40:80ولکم فیھا منافع ولتبلغوا علیھا حاجۃ فی صدورکم وعلیھا وعلی الفلک تحملون اللہ اور تمہارے ان میں اور بھی فائدے ہیں اور (اسلئے بنائے) تاکہ تم ان پر سوار ہو کر اپنے مطلب کو پہنچو اور ان پر اور کشتیوں پر تم لدے لدے پھرتے ہو (ترجمہ تھانوی) ۔
لِتَرْکَبُوْا مِنْھَا یعنی چوپایوں کی جنس میں سے کچھ تو وہ ہیں جن کا گوشت تم کھاتے ہو ‘ جیسے بکریاں ‘ بھیڑیں ‘ اور کچھ وہ ہیں جن کا گوشت بھی کھاتے ہو اور ان پر سوار بھی ہوتے ہو ‘ جیسے اونٹ ‘ بیل وغیرہ۔
وَلَکُمْ فِیْھَا مَنَافِعُیعنی تمہارے لئے ان سے بہت فائدے ہیں ‘ اون ‘ بال ‘ کھال (سینگ ‘ آنت) دودھ (دہی ‘ پنیر ‘ مکھن ‘ گھی وغیرہ)
وَلِتَبْلُغُوْا عَلَیْھَا یعنی خشی کے سفر میں ان پر سوار ہو کر اپنے دلی مقصد تک پہنچ جاؤ۔
وَعَلَیْھَا وَعَلَی الْفُلْکِ تُحْمَلُوْنَ اور خشکی میں جانوروں پر اور دریاؤں میں کشتی یا جہاز پر تم کو سوار کیا جاتا ہے۔ وَعَلَی الْفُلْکِ بجائے فِی الفُلک (کشتیوں میں) کے علیھا کی مناسبت کی وجہ سے فرمایا۔ سواری کا سفر میں استعمال مختلف دینی اغراض کیلئے بھی ہوتا ہے ‘ یہ اغراض کبھی واجب ہوتی ہیں ‘ کبھی مستحب ‘ اور کھانا محض ضرورت زندگی یا لذت اندوزی کیلئے ہوتا ہے (دینی غرض کے زیراثر نہیں ہوتا) اسلئے اسلوب عبارت بدل دیا (سوار ہونے اور مقصد حاصل کرنے کیلئے تو لِتَرْکَبُوْا اور وَلِتَبْلُغُوْا فرمایا اور کھانے کیلئے وَمِنْھَا تاکُلُوْنَ بطور اظہار واقعہ فرمایا۔
Ayah 40:81ویریکم ایتہ فای ایت اللہ تنکرون اور اللہ تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے ‘ سو کس (کس) آیت خداوندی کا انکار
کرو گے ؟ یعنی اللہ تم کو ایسی نشانیاں دکھاتا ہے جو اس کی ہستی قدرت کاملہ اور رحمت عامہ پر دلالت کرتی ہے۔
اَیَّ اٰیٰتِ اللہ میں استفہام انکاری ہے ‘ یعنی آیات الٰہیہ اتنی ظاہر اور اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کا انکار کیا ہی نہیں جاسکتا۔
Ayah 40:82افلم یسیروا فی الارض فینظرواکیف کان عاقبۃ الذین من قبلھم کانوا اکثر منھم واشد
قوۃ واثار فی الارض فما اغنی عنھم ما کانوا یکسبون کیا ان لوگوں نے ملک میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ جو (مشرک) لوگ ان سے پہلے ہو گذرے ہیں ان کا کیا برا انجام ہوا ؟ حالانکہ وہ لوگ ان سے زیادہ تھے اور قوت و نشانات میں بھی جو زمین پر چھوڑ گئے تھے ‘ بڑھے ہوئے تھے ‘ سو ان کی یہ ساری کمائی ان کے کچھ بھی کام نہیں آئی۔
اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا یعنی کیا یہ شہر سے باہر نہیں نکلے اور ملک میں چل پھر کر انہوں نے نہیں دیکھا۔
اٰثَارًا یعنی محلات ‘ قلعے ‘ کارخانے وغیرہ جو زمین پر چھوڑ گئے۔
فَمَآ اَغْنٰی عَنْھُمْ پس اس نے ان کو فائدہ نہیں پہنچایا ‘ کچھ کام نہ آیا۔ مآ اغنٰی میں مَا نافیہ ہے ‘ یا استفہام انکاری کیلئے ہے۔