Ayah 40:28وقال رجل مؤمن من ال فرعون یکتم ایمانہ اتقتلون رجلا ان یقول ربی اللہ وقد جائکم
بالبینت من ربکم وا اللہ یک کاذبا فعلیہ کذبہ وان یک صادقا یصبکم بعض الذی یعدکم ان اللہ لا یھدی من ھو مسرف اور ایک مؤمن شخص نے جو فرعون کے خاندان سے تھا (اور) اپنا ایمان (اب تک) چھپائے ہوئے تھا (مشورہ کمیٹی والوں سے) کہا : کیا تم ایک شخص کو محض اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے ‘ حالانکہ (وہ اپنے دعوے پر) تمہارے رب کی طرف سے دلیلیں بھی لے کر آیا ہے۔ اگر وہ (بالفرض) جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ اسی پر پڑے گا اور اگر وہ سچا ہوا تو وہ جس چیز سے تم کو ڈرا رہا ہے ‘ اس میں سے کچھ تو (ضرور) تم پر آپڑے گا۔ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو منزل مقصود تک نہیں پہنچاتا جو حد سے گذر جانے والا ‘ بڑا جھوٹا ہو۔
رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ مقاتل اور سدی کا بیان ہے کہ وہ مؤمن قبطی تھا اور فرعون کے چچا کا بیٹا تھا۔ یہ وہی شخص تھا جس کے متعلق سورة القصص میں اللہ نے فرمایا ہے : وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَی الْمَدِیْنَۃِ یَسَعٰی۔ روایت میں آیا ہے کہ اس کا نام حبیب تھا۔ بعض اہل علم نے کہا کہ وہ اسرائیلی تھا ‘ اس کا نام جزئیل تھا۔ حضرت ابن عباس اور اکثر علماء کا یہی قول مروی ہے۔ ابن اسحاق نے کہا : اس کا نام خبول تھا۔
اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلاً یعنی کیا تم ایسے آدمی کو قتل کرنے کا ارادہ کررہے ہو ‘ جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے ‘ یا ایسے وقت جبکہ ہو اپنا رب اللہ کو کہہ رہا ہے ‘ تم اس کو قتل کرنے کا ارادہ کر رہے ہو ‘ یا یہ مطلب ہے کہ اس خوف سے تم اس کو قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔
رَبِّیَ اللہ یعنی میرا رب صرف ایک اللہ ہے۔ ربّی کی اللہ پر تقدیم مفید حصر ہے جیسے صَدِیْقِی زَیْدٌ کا جملہ مفید حصر ہے۔
بِالْبَیِّنٰتِ یعنی کثیر معجزات جو اس کی سچائی کی شہادت دے رہے ہیں۔
مِنْ رَّبِّکُمْ تمہارے رب کی طرف سے کھلے معجزات لایا ہے ‘ کیونکہ ایسے معجزات وہی عطا کرسکتا ہے ‘ جس نے تم کو پیدا کیا ہے ‘ وہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ‘ کوئی دوسرا ایسا نہیں کرسکتا۔ رب کی اضافت کُمْ کی طرف کرنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ جس نے تم کو پیدا کیا اور جس نے تمہاری پرورش کی ‘ وہی تم پر عذاب نازل کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔
اس سے آگے بطور احتیاط و احتجاج اس بندۂ مؤمن نے کہا کہ تمہارے خیال کے موافق اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال صرف اسی پر پڑے گا ‘ تم پر نہیں پڑے گا کہ اس کو قتل کر کے اس وبال کو دفع کیا جائے اور اگر وہ سچا ہے جیسا کہ معجزات اور آیات سے معلوم ہوتا ہے تو کم سے کم اس عذاب کا کچھ حصہ تو تم پر ہی آپڑے گا ‘ جس سے وہ تم کو ڈرا رہا ہے اور تمہارے ہلاک ہونے کیلئے عذاب کا تھوڑا حصہ بھی کافی ہوگا۔
اس کلام میں پرزور تخویف ہے اور تعصب سے پاک انصاف کا اظہار ہے ‘ اسلئے کاذبًا کو صادقًا سے پہلے ذکر کیا۔
مَنْ ھُوَ مُسْرِفٌ کَذَّابٌ یہ تیسرا احتجاج ہے جو دو 2 اسلوب کا حامل ہے : نمبر 1 اگر یہ حد سے تجاوز کرنے والا ہوتا (یعنی باوجود نبی نہ ہونے کے خدا کا فرستادہ بننے کا مودعی ہوتا) تو خدا اس کو معجزات عطا نہ کرتا ‘ اس کو معجزات کی راہ بھی معلوم نہ ہوتی۔ نمبر 2 اگر یہ مسرف اور کذاب ہوگا تو اللہ اس کی مدد نہ کرے گا اور اس کو ہلاک کر دے گا ‘ تم کو اس کے قتل کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ شاید اس بندۂ مؤمن کا مقصد اول الذکر احتجاج ہی تھا ‘ دوسرا اسلوب تو کافروں کی شدت غضب کو نرم کرنے کیلئے اختیار کیا تھا۔ اس میں درپردہ فرعون کی تعریض بھی تھی کہ یہ مسرف کذاب ہے ‘ اللہ اس کو راہ صواب و نجات پر گامزن نہیں کرے گا۔
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص سے کہا : مجھے بتائیے کہ مشرکوں نے رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ سخت تکلیف دہ برتاؤ کونسا کیا ؟ حضرت عبد اللہ نے فرمایا : ایک بار رسول اللہ ﷺ کعبہ کے صحن میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آگیا اور حضور ﷺ کے دونوں مونڈھے پکڑ کر آپ کی گردن میں اپنا کپڑا ڈال کر مروڑنے اور گلا گھونٹنے لگا۔ اتنے میں حضرت ابوبکر آگئے ‘ اپ نے عقبہ کے دونوں مونڈھے پکڑ کر رسول اللہ ﷺ سے الگ کیا اور فرمایا : اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلاً اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللہ وَقَدْ جَآءَکُمْ بالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّکُمْ ۔ رواہ البخاری 1
Ayah 40:29یقوم لکم الملک الیوم ظھرین فی الارض فمن ینصرنا من باس اللہ ان جاء نا اے میری
قوم والو ! آج تو تمہاری حکومت ہے ‘ اس ملک میں تم غالب ہو ‘ لیکن اگر اللہ کا عذاب ہم پر آگیا تو اس سے ہم کو کون مدد کر کے بچائے گا ؟
ظٰھِرِیْنَ غالب ‘ اونچے۔ الْاَرْضِ یعنی مصر کی سرزمین۔ مطلب یہ ہے کہ ملک مصر میں تمہاری حکومت ہے ‘ تم کو غلبہ حاصل ہے ‘ اسلئے اللہ کے نبی کو قتل کر کے عذاب خداوندی کا نشانہ نہ بنو کہ تمہاری حکومت اور سلطنت تباہ ہوجائے۔ اگر اللہ کا عذاب آگیا تو کوئی اس سے ہم کو بچا نہ سکے گا۔
یَنْصُرُنَا میں نَا ضمیر جمع اسلئے ذکر کی کہ وہ بندۂ مؤمن نسب کے لحاظ سے قبطی ہی تھا ‘ اس کے علاوہ وہ یہ بات بتانا چاہتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں ‘ تمہارا شریک ہوں (عذاب آئے گا تو ہم سب پر آئے گا) ۔
قال فرعون ما اریکم الا ما اری وما اھدیکم الا سبیل الرشاد فرعون نے کہا : میں تو تم کو وہی رائے
دے رہا ہوں جو خود مناسب سمجھتا ہوں ‘ اور میں تم کو صحیح راستہ بتارہا ہوں۔
مَآ اُرِیْکُمْ- اُرِیْ ‘ راٰی سے ماخوذ ہے ‘ یعنی میں تم کو مشورہ نہیں دے رہا ہوں۔ ضحاک نے اُرِیْکُمْ کا ترجمہ کیا اَعْلِمُکُمْ یعنی تم کو نہیں سکھاتا۔ اِلاَّ مَآ اَرٰی مگر جو میں صحیح اور مناسب سمجھتا ہوں ‘ یعنی موسیٰ کو قتل کردینا (ہی میری رائے میں مناسب ہے) ۔
سَبِیْلَ الرَّشَاد صواب کی راہ ‘ صحیح راستہ۔
Ayah 40:30وقال الذی امن یقوم انی اخاف علیکم مثل یوم الاحزاب۔ اور اس مؤمن نے کہا : میرے عزیزو ! مجھے تمہارے متعلق اور امتوں جیسے روزبد کا اندیشہ ہے ‘
Ayah 40:31مثل داب قوم نوح وعاد وثمود والذین من بعدھم وما اللہ یرید ظلما للعباد جیسا قوم نوح اور عاد اور ثمود اور ان کے بعد والوں کا حال ہوا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ بندوں کیلئے کسی ظلم کا ارادہ نہیں کرتا۔
اَخَافُ عَلَیْکُمْ یعنی موسیٰ کی جو تم تکذیب کر رہے ہو اور اس کو قتل کرنا چاہتے ہو ‘ اس سے مجھے تمہارے متعلق اندیشہ ہے کہ تم پر بھی ویسا ہی عذاب نہ آیا جیسا ان گذشتہ امتوں پر آیا تھا جنہوں نے پیغمبروں کی تکذیب کی تھی ‘ جیسے قوم نوح پر اور عاد پر اور ثمود پر اور ان کے بعد والوں پر (مثلاً قوم لوط اور نمرود وغیرہ پر) عذاب آیا تھا ‘ ویسا ہی تم پر عذاب آنے کا مجھے ڈر ہے۔
ظُلْمًا لِّلْعِبَاد ۔ للعباد میں لام زائد ہے اور العباد مفعول ہے ‘ لام کی زیادتی مصدر (ظلماً ) کے عمل کو قوت پہنچانے کیلئے کی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کسی بندہ پر کسی طرح کا ظلم نہیں کرنا چاہتا کہ کسی کو بلاقصور سزا دے ‘ یا ظالم کو بغیر انتقام کے چھوڑ دے ‘ یا کسی کی نیکی کے ثواب میں کمی کر دے ‘ یا کسی مجرم کی سزا اس کے جرم کی مقدار سے زائد کر دے۔
Ayah 40:32ویقوم انی اخاف علیکم یوم التناد۔ اور اے میری قوم والو ! مجھے تمہارے متعلق اس دن (کے عذاب) کا اندیشہ ہے
Ayah 40:33یوم تولون مدبرین مالکم من اللہ من عاصم ومن یضلل اللہ فما لہ من ھاد جس روز کہ (کثرت سے) پکار مچی ہوگی ‘ جس روز کہ (موقف حساب سے) پشت پھیر کر (دوزخ کی طرف) تم لوٹو گے (اس روز) اللہ کے عذاب کے تم کو کوئی بچانے والا نہ ہوگا اور جس کو اللہ ہی گمراہ کر دے ‘ اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔
یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ مجاہد نے کہا : یعنی بھاگ رہے ہو گے ‘ لیکن چھوٹ نہ سکو گے۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک اس دن سے مراد ہے نفخۂ بےہوشی سے پہلے نفخۂ فزع کا دن (یعنی پہلی بار صور پھونکے جانے کا دن جب صور کی آواز سن کر لوگ گھبرا جائیں گے ‘ اس کے بعد نفخۂ ضعق ہوگا کہ صور کی آواز سے لوگ بےہوش جائیں گے اور مرجائیں گے) ابن جریر نے المطولات میں اور ابویعلیٰ نے مسند میں اور بیہقی نے البعث میں اور ابو الشیخ نے کتاب العظمۃ میں اور عبد بن حمید نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے رسول اللہ ﷺ کی یاک طویل حدیث بیان کی ہے جس میں تین بار صور پھونکے جانے کا ذکر آیا ہے ‘ حضور گرام ﷺ نے فرمایا : اللہ اسرافیل کو پہلی بار صور پھونکنے کا ہم دے گا اور فرمائے گا : گھبراہٹ (پیدا کرنے) والی پھونک مار۔ حسب الحکم اسرافیل صور پھونکے گا ‘ جس کی آواز سے آسمانوں والے اور زمین والے گھبرا جائیں گے ‘ ہاں جس کو اللہ چاہے گا (گھبراہٹ سے محفوظ رہے گا) اسرافیل صور کی پھونک کو برابر کھینچتا اور لمبا کرتا جائے گا ‘ بیچ میں سلسلہ منقطع نہیں کرے گا یعنی دم نہ لے گا ‘ یہاں تک کہ دودھ پلانے والیاں دودھ پیتے بچوں سے غافل ہوجائیں گی اور حاملہ کا حمل ساقط ہوجائے گا اور بچوں کے بال (شدت خوف سے) سفید ہوجائیں گے اور شیطان گھبراہٹ کی وجہ سے اڑے اڑے بھاگتے پھریں گے ‘ جب زمین کے کناروں پر پہنچیں گے تو ملائکہ ان کے چہروں پر ضرب رسید کریں گے اور لوٹا دیں گے ‘ لوگ پشت پھیر کر بھاگیں گے اور آپس میں پکار مچی ہوگی ‘ یہی ہو دن ہوگا جس کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے : ” یوم التناد “۔
بعض اہل تفسیر کے نزدیک یوم التناد سے قیامت کا دن مراد ہے جبکہ آدمیوں کے ہر گروہ کو ان کے پیشوا کے ساتھ پکارا جائے گا۔ ابونعیم نے بیان کیا کہ ابو حازم اعرج نے اپنے نفس کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا : اعرج ! قیامت کے دن ندا دی جائے گی : اے فلاں فلاں گناہ کرنے والو ! یہ ندا سن کر تو ان خطاکاروں کے ساتھ جا کھڑا ہوگا ‘ پھر ندا ہوگی : اے فلاں فلاں گناہ کرنے والو ! یہ لوگ پہلے خطاکاروں سے الگ دوسری قسم کے گناہگار ہوں گے ‘ یہ سن کر تو ان گناہگاروں کے ساتھ جا کھڑا ہوگا۔ اے اعرج ! میں دیکھ رہا ہوں کہ تو ہر قسم کے گناہگاروں میں شامل ہو کر کھڑا ہونا چاہتا ہے۔ ابن ابی عاصم نے حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کا دن ہوگا تو ایک منادی ندا دے گا : اے اللہ کے حریفو ! (یعنی فرقۂ قدریہ والو ! جو انسان کو اپنے افعال کا خود خالق قرار دیتے تھے ‘ گویا اس طرح وہ اللہ کے حریف اور مقابل قرار پائے۔ مترجم) اس وقت جنت والے دوزخیوں کو اور دوزخ والے اہل جنت کو پکاریں گے اور اعراف والے بھی پکاریں گے ‘ جیسا کہ اللہ نے سورة اعراف میں بیان فرمایا ہے۔ اور اس وقت لوگوں کو بدبختی اور خوش نصیبی کے ساتھ ندا دی جائے گی اور کہا جائے گا : سنو ! فلاں بن فلاں ایسا خوش نصیب نکلا کہ اس کے بعد کبھی بدنصیب نہ ہوگا۔ سنو ! فلاں بن فلاں ایسا بدبخت ہوا کہ اس کے بعد کبھی خوش بخت نہ ہوگا۔
بزار اور بیہقی نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن ابن آدم کو لا کر میزان کے دونوں پلڑوں کے درمیان کھڑا کیا جائے گا اور ایک فرشتہ کو اس پر مامور کردیا جائے گا (اور اعمال کا وزن کیا جائے گا) سو اگر اس کی نیکیوں کا وزن بھاری نکلا تو وہ فرشتہ اتنی بلند آواز سے ندا دے گا جو تمام مخلوق سنے گی : فلاں شخص خوش نصیب ہوگیا ‘ اسکے بعد کبھی بدنصیب نہ ہوگا۔ اور اگر (نیکیوں کا) وزن ہلکا نکلا تو ایک فرشتہ ایسی آواز سے جس کو سب مخلوق سن لے گی ‘ ندا دے گا : فلاں شخص بدبخت نکلا ‘ اس کے بعد کبھی خوش نصیب نہ ہوگا اور اس وقت ایک پکارنے والا پکارے گا : میں نے (تمہارا) ایک رشتہ مقرر کیا تھا اور تم نے (اپنے لئے) دوسرا رشتہ مقرر کیا تھا (یعنی میں نے تقویٰ کو تمہارے لئے پسند کیا تھا اور اس کو تمہارا نسب قرار دیا تھا اور تم نے رشتۂ تولید و قرابت کو اختیار (کیا) ۔ طبرانی نے الاوسط میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کا دن ہوگا تو اللہ ایک منادی کو یہ ندا دینے کا حکم دے گا : سن لو ! میں نے ایک رشتہ مقرر کیا تھا اور تم نے (دوسرا) رشتہ مقرر کیا تھا۔ میں نے سب سے زیادہ معزز اس کو قرار دیا تھا جو تم میں سب سے بڑا پرہیزگار ہو ‘ مگر تم نے اس کو ماننے سے انکار کردیا۔ سنو ! تم نے کہا تھا کہ فلاں بن فلاں ‘ فلاں بن فلاں سے بہتر ہے۔ آج میں اپنے (قائم کردہ) نسب کو اونچا کروں گا اور تمہارے (قائم کردہ) نسب کو نیچے گرا دوں گا۔ کہاں ہیں تقویٰ والے ! اور اس وقت جب کہ موت کو ذبح کردیا گیا ہوگا ‘ ندا دی جائے گی : اے اہل جنت ! (یہاں) ہمیشہ رہنا ہے اور (کبھی) موت نہ ہوگی اور اے دوزخ والو ! (یہاں) ہمیشہ رہنا ہے اور کبھی موت نہیں ہوگی۔
شیخین نے صحیحین میں حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب جنت والے جنت کو اور دوزخ والے دوزخ کو چلے جائیں گے تو جنت و دوزخ کے درمیان موت کو لا کر ذبح کردیا جائے گا ‘ پھر ایک منادی ندا دے گا : اے اہل جنت ! آئندہ موت نہیں اور اے دوزخ والو ! آئندہ موت نہیں۔ یہ ندا سن کر اہل جنت کو فرحت بالائے فرحت حاصل ہوگی اور دوزخ والوں پر غم بالائے غم سوار ہوجائے گا۔ حضرت ابو سعید کی روایت سے بھی یہ حدیث اسی طرح آئی ہے اور حاکم و ابن حبان نے بھی حضرت ابوہریرہ کی روایت سے اس کو بیان کیا ہے۔
حضرت ابن عباس اور ضحاک کی قرأت میں یوم التناد کی جگہ یوم التنادّ بتشدید دال (بھاگنے اور منتشر ہونے کا دن) آیا ہے۔ جس طرح اونٹ اپنے مالکوں سے بھاگتے اور بدکتے ہیں ‘ اسی طرح قیامت کے دن لوگ بھاگے بھاگے زمین پر پھریں گے۔ ابن جریر اور ابن مبارک نے ضحاک کا بیان نقل کیا ہے کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ اس نچلے آسمان کو حکم دے گا ‘ وہ پھٹ جائے گا اور اس کے فرشتے اس کے کناروں پر رہیں گے ‘ پھر بحکم الٰہی اتر کر زمین کو اور زمین والوں کو گھیر لیں گے ‘ پھر دوسرے ‘ پھر تیسرے ‘ پھر چوتھے ‘ پھر پانچویں ‘ پھر چھٹے ‘ پھر ساتویں آسمان کی بھی یہی کیفیت ہوگی کہ آسمان پھٹتے جائیں گے اور ہر آسمان کے فرشتے قطار در قطار صف بستہ ہوجائیں گے ‘ پھر ملک اعلیٰ (شاہ عالی جاہ) نزول اجلال فرمائے گا ‘ جہنم کو اس کے بائیں جانب ہوگا (اور جنت دائیں جانب) دوزخ کو دیکھ کر زمین والے منتشر ہو کر بھاگیں گے ‘ لیکن زمین کے جس کنارے پر پہنچیں گے ‘ وہاں ملائکہ کی سات قطاریں (ایک کے پیچھے ایک) موجود پائیں گے۔ مجبوراً جہاں تھے ‘ وہیں لوٹ آئیں گے۔ اسی کا بیان ہے آیات ذیل میں :
اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ یَوْمَ التَّنَادِ ‘ یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ مَالَکُمْ مِّنْ اللہ مِنْ عَاصِمٍ ... اور ... وَجَآءَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا وَّجَیْٓیءَ یَوْمَءِذٍم بِجَھَنَّمَ ... اور ... یَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ... اور ... وَانْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَھِیَ یَوْمَءِذٍ وَّاھِیَۃٌ وَّالْمَلَکُ عَلآی اَرْجَاءِھَا۔
یہی حالت ہوگی کہ لوگ ایک آواز سنیں گے اور حسان (کے مقام) کی طرف چل پڑیں گے۔
بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے (جس کے مطابق ہم نے ترجمہ نقل کیا ہے) کہ آیت یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ کا مطلب یہ ہے کہ تم لوگ مقام حساب سے دوزخ کی طرف لوٹو گے۔
مَالَکُمْ مِّنْ اللہ مِنْ عَاصِم یعنی اللہ کے عذاب سے تم کو کوئی بچانے والا ہی نہ ہوگا کہ بچا سکے۔ اللہ کے عذاب کو دفع کرنے کی کسی کو قدرت نہیں ہوگی ‘ صرف اللہ کی رحمت ہی عذاب کو دفع کرسکتی ہے اور اللہ کی رحمت تم کو نصیب نہیں ہوگی۔
وَمَنْ یُّضْلِلِ اللہ یعنی اللہ جس کو جنت کا راستہ نہیں بتائے گا ‘ اس کو راہ جنت بتانے والا کوئی نہ ہوگا۔
Ayah 40:34ولقد جائکم یوسف من قبل بالبینت فمازلتم فی شک مما جائکم بہ حتی اذا ھلک
قلتم لن یبعث اللہ من بعدہ رسولا اور اس کے قبل تم لوگوں کے پاس یوسف (توحید و نبوت کے) واضح دلائل لے کر آ چکے ہیں ‘ سو تم ان امور میں جو یوسف لے کر آئے تھے ‘ برابر شک میں پڑے رہے۔ یہاں تک کہ جب ان کی وفات ہوگئی تو تم کہنے لگے کہ بس اللہ اب کسی رسول کو نہیں بھیجے گا۔ یوسف سے مراد ہیں یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (علیہم السلام) ‘ یوسف بن یعقوب اس وقت مراد ہوں گے جب حضرت موسیٰ کے زمانہ کا فرعون وہی ہو جو حضرت یوسف کے زمانہ کا تھا (حضرت یوسف بن یعقوب اور حضرت موسیٰ کے درمیان تقریباً چار سو برس کی مدت تھی اور اتنی طویل عمر فرعون کی مانی جائے تو اس صورت میں یوسف سے مراد یوسف بن یعقوب ہوں گے ‘ لیکن تاریخی شہادت اس کے خلاف ہے) اسلئے بعض کے نزدیک یوسف سے مراد ہیں یوسف بن یعقوب کے پوتے یعنی یوسف بن ابراہیم (یا افرائیم) بن یوسف بن یعقوب ‘ یا یوں کہا جائے کہ یوسف بن یعقوب ہی مراد ہیں اور آباء و اجداد کے احوال کو اولاد کی طرف منسوب کردیا جاتا ہے (اگر اولاد اپنے آباؤ اجداد کے اعمال و اقوال کو پسند کرتی ہو) یعنی تمہارے اسلاف کے پاس یوسف بن یعقوب آ چکے ہیں۔
مَنْ قَبْلُ یعنی موسیٰ سے پہلے۔ بِالْبَیِّنٰتِ یعنی معجزات لے کر۔
مِمَّا جَآءَکُمْ بِہٖ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یعنی تنہا اللہ کی خالص عبادت کا حکم۔
قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللہ مِنْم بَعْدِہٖ رَسُوْلاً یعنی تم لوگ کفر پر قائم رہے اور تم نے خیال کرلیا کہ اللہ اب کسی رسول کو بھیج کر تمہارے خلاف اتمام حجت نہیں کرے گا۔
کذلک یضل اللہ من ھو مسرف مرتاب اسی طرح اللہ آپے سے باہر ہوجانے والوں (اور) شبہات میں
پڑے رہنے والوں کو بھٹکتا چھوڑ دیتا ہے۔
یُضِلُّ اللہ یعنی گناہوں میں پڑے رہنے دیتا ہے۔ مُسْرِفٌ یعنی مشرک۔
مُرْتَاب شک میں پڑا ہوا ‘ یعنی غلبۂ وہم اور اسلاف کی تقلید میں ڈوبنے کی وجہ سے ان امور میں شک کرنے والا جن کی صدقات کی شہادت معجزات دے رہے ہیں۔
Ayah 40:35الذین یجادلون فی ایت بغیر سلطان اتاھم کبر مقتا عند اللہ وعند اذین امنوا کذلک
یطبع اللہ علی کل قلب متکبر جبار جو بغیر کسی خداداد سند کے اللہ کی آیات میں جھگڑاے نکالا کرتے ہیں۔ اس (کج بحثی) سے اللہ تعالیٰ کو بھی بڑی نفرت ہے اور مؤمنوں کو بھی۔ اسی طرح اللہ ہر مغرور و جابر کے پورے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔
اَلَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ موصول اول سے بدل ہے ‘ کیونکہ مَنْ ھُوَ (یعنی موصول اول) جمع کے حکم میں ہے۔
سُلْطٰنٍ واضح دلیل ‘ یعنی آیات الٰہیہ میں کسی واضح دلیل کی روشنی میں جھگڑے نہیں نکالتے بلکہ صرف تقلید اسلاف یا بےبنیاد شبہات کی وجہ سے جھگڑتے ہیں۔
کَبُرَ مَقْتًا ‘ کَبُر کی ضمیر مفرد مَنْکی طرف راجع ہے ‘ کیونکہ مَنْ کا لفظ مفرد ہے (اگرچہ جمع کا معنی مراد ہے) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ الذین یجادلون سے پہلے مضاف محذوف ہو اور کَبُر کی ضمیر اسی محذوف مضاف کی طرف راجع ہو ‘ یعنی جدال الذین یجادلون (آیت کا ترجمہ اسی تفسیر کے لحاظ سے کیا گیا ہے) ۔
یَطْبَعُ اللہ عَلٰی کُلِّ قَلْبِ یعنی اللہ پورے دل پر مہر لگا دیتا ہے ‘ پھر نور ایمان دل کے اندر داخل ہونے کا کوئی راستہ نہیں رہتا۔
Ayah 40:36وقال فرعون یا ھامان ابن لی صرحا لعلی ابلغ الاسباب۔ اور فرعون نے کہا : اے ہامان ! میرے لئے ایک بلند عمارت بنوا ‘ شاید میں آسمان کی راہوں تک پہنچ جاؤں ‘
Ayah 40:37اسباب السموت فاطلع الی الہ موسیٰ وانی لاظنہ کاذبا پھر (وہاں پہنچ کر) موسیٰ کے خدا کو دیکھوں بھالوں ‘ میں تو موسیٰ کو جھوٹا ہی سمجھتا ہوں۔
وَقَالَ فِرْعَوْنُ یعنی فرعون نے اپنے وزیر ہامان سے کہا۔
صَرْحًا ایسی اور اونچی عمارت (منارہ وغیرہ) جو دور سے دیکھنے والوں کو بھی دکھائی دے ‘ اسی مناسبت سے تصریح کا لفظ بمعنی اظہار آتا ہے۔
اَسْبَاب السَّمٰوٰتِ آسمانوں کی راہیں اور دروازے ‘ یعنی ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک پہنچنے کے راستے۔ کسی چیز تک پہنچنے کے ذریعہ کو سبب کہتے ہیں ‘ جیسے رسی اور ڈول کو سبب اسلئے کہتے ہیں کہ یہ پانی تک پہنچنے کے ذریعے ہیں۔
ظاہر یہ ہے کہ نمرود کی طرح فرعون نے کسی عمارت کے بنوانے کا حکم دیا تھا۔ نمرود کی عمارت کا بیان ہم نے سورة نمل میں کردیا ہے۔
بیضاوی نے لکھا ہے کہ شاید فرعون نے کسی اونچے مقام پر کوئی رصد گاہ بنوانے کا ہکم دیا ہو تاکہ وہاں پہنچ کر ستاروں کے حالات اور چالیں دیکھ سکے ‘ کیونکہ ستاروں کی رفتار کی کیفیات ہی اسباب سماویہ ہیں ‘ جو ارضی حوادث کو ظاہر کرتے ہیں۔ اسباب سماویہ کو دیکھ کر فرعون جاننا چاہتا ہوگا کہ خدا نے موسیٰ کو بھیجا ہے ‘ یا فرعون ‘ موسیٰ کے قول کو لوگوں کی نظر میں غلط ثابت کرنا چاہتا ہو ‘ کیونکہ آسمانوں کے خدا کی طرف سے کسی قسم کی اطلاع اس کی نظر میں بغیر اس بات کے ممکن نہ تھی کہ خدا تک موسیٰ پہنچے ہوں اور وہاں پہنچ کر ان کو اطلاع ملی ہو ‘ اور یہ بات آسمان پر چڑھے بغیر ممکن نہ تھی اور آسمان پر چڑھنے کی کسی انسان کو قدرت نہیں۔ یہ سب فرعون کی جہالت تھی ‘ وہ نہ اللہ کو جانتا تھا ‘ نہ نبی بنانے کی کیفیت کو۔
وَاِنِّیْ لَاَظُنُّہٗ یعنی رسول ہونے کے دعوے میں موسیٰ کو جھوٹا سمجھتا ہوں۔
وکذلک زین لفرعون سوء عملہ وصدعن السبیل وما کید فرعون الا فی تباب اور اسی
طرح فرعون کی (دوسری) بداعمالیاں (بھی) اس کیلئے خوبصورت بنا دی گئی تھیں اور (حق کے) راستہ سے روک دیا گیا تھا۔ اور (موسیٰ کے بارے میں) فرعون کی ہر تدبیر غارت ہی گئی۔
وَکَذٰلِکَ یعنی جس طرح رب السمٰوٰت کو دیکھنے بھالنے کیلئے اونچی عمارت کی تعمیر کو فرعون کی نظر میں زینت آگیں بنا دیا گیا ‘ اسی طرح اس کی ہر بدکاری جو عقل سلیم کے خلاف تھی ‘ فرعون کے خیال میں زینت آفریں بنا دی گئی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے فرعون کی بصیرت ہی تباہ کردی تھی ‘ اسی وجہ سے وہ اپنے ہر برے عمل کو اچھا جانتا تھا۔
وَصُدَّعَنِ السَّبِیْلِ اور راہ صواب سے اس کو روک دیا گیا تھا ‘ یعنی اللہ نے راہ حق سے اس کو روک دیا تھا (جس کا سبب اس کی بصیرت کی نابینائی اور عمل کی بدی تھی اور) حقیقی فاعل ہر امر کا اللہ ہی ہے ‘ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت یاب ہونے کی توفیق دیتا ہے۔
وَمَا کَیْدُ فِرْعَوْنَ یعنی موسیٰ کو زیر کرنے کی فرعون کی ہر تدبیر۔
اِلاَّ فِیْ تَبَابٍ ۔ تباب ‘ خسارہ ‘ بربادی ‘ بیکار۔
Ayah 40:38وقال الذی امن یقوم اتبعون اھدکم سبیل الرشاد اور مؤمن نے کہا : اے میری قوم (کے بھائیو ! ) تم
میری راہ پر چلو ‘ میں تم کو ٹھیک راستہ بتاتا ہوں۔
سَبِیْلَ الرَّشَاد ایسا راستہ جس پر چلنے والا منزل مقصود پر پہنچ جائے ‘ سبیل الرشاد کہلاتا ہے۔ اس میں فرعون اور اسکے ساتھیوں کے طریقہ پر تعریض ہے کہ وہ طریقہ ‘ رشاد کا طریقہ نہیں ہے۔
Ayah 40:39یقوم انما ھذہ الحیوۃ الدنیا متاع زوان الاخرۃ ھی دار القرار اور اے میری قوم (کے بھائیو ! ) یہ
دنیوی زندگی محض چندہ روزہ ہے اور اصل قیام گاہ تو آخرت ہے۔
مَتَاعٌ ایک حقیر متاع کہ تھوڑے دنوں اس سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے ‘ پھر ختم ہوجاتی ہے۔
دَارُ الْقَرَار لازوال مقام ‘ لہٰذا تم کو ایسا ہی کام کرنا چاہئے جس سے آخرت میں فائدہ حاصل ہو۔
Ayah 40:40من عمل سیءۃ فلا یجزی الا مثلھا ومن عمل صالحا من ذکر او انثی وھو مؤمن فاولئک
یدخلون الجنۃ یرزقون فیھا بغیر حساب جو شخص گناہ کرتا ہے ‘ اس کو گناہ کے برابر سرابر سزا دی جاتی ہے اور جو شخص نیک کام کرتا ہے خواہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ مؤمن ہو ‘ سو ایسے لوگ جنت میں جائیں گے اور وہاں ان کو بےحساب رزق دیا جائے گا۔
وَھُوَ مُوْمِنٌ مؤمن ہونا اسلئے ضروری ہے کہ ایمان ہر نیک عمل کے ثواب کی شرط ہے ‘ کیونکہ اللہ ہی جزاء کا مالک ہے ‘ لہٰذا اس پر ایمان لانا ضروری ہے تاکہ جو عمل کیا جائے ‘ وہ اس کی مرضی کے مطابق خلوص کے ساتھ کیا جائے۔
بِغَیْرِ حِسَابٍ یعنی اعمال کے برابر نہیں۔ اعمال سے ثواب کا موازنہ نہ ہوگا بلکہ اللہ کے کرم اور رحمت سے چند در چند کتنے ہی گنا بدلہ دیا جائے گا۔
Ayah 40:41ویقوم مالی ادعوکم الی النجوۃ وتدعوننی الی النار۔ اور اے میری قوم (کے بھائیو ! ) یہ کیا بات ہے کہ میں تم کو نجات (کے راستہ) کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے دوزخ (کے راستہ) کی طرف بلا رہے ہو ؟
Ayah 40:42تدعوننی لا کفر باللہ واشرک بہ ما لیس لی بہ علم وانا ادعوکم الی العزیز الغفار تم مجھے اس بات کی دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ کا منکر ہوجاؤں اور ایسی چیزوں کو اس کا شریک ٹھہراؤں جن (کے شریک ہونے) کی میرے پاس کوئی دلیل نہیں ہے ؟ اور میں تم کو اس (ا اللہ) کی طرف بلا رہا ہوں جو سب پر غالب اور بڑا خطا بخش ہے۔
مَالِیْ یعنی مجھے بتاؤ کہ عقل و دانش کے خلاف تمہاری یہ عادت کیوں ہے ؟
اِلَی النَّجٰوۃِ یعنی میں اللہ واحد و لاشریک پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہوں تاکہ تم کو دوزخ سے نجات حاصل ہو۔
اِلَی النَّار اور تم مجھے شرک کی طرف بلا رہے ہو جو دوزخ میں لے جانے والا ہے۔ خواب غفلت سے بیدار کرنے اور اس امر پر تنبیہ کرنے کیلئے کہ تم میری خیرخواہی کے مقابلہ میں بدخواہی کر رہے ہو ‘ مکرر خطاب کیا۔
تَدْعُوْنَنِیْ لِاَکْفُرَ یہ پہلے تدعوننی سے بدل یا اس کا بیان ہے اور دعاء (کے افعال اور اس سے مشتقات) کے بعد عربی میں لفظ اِلٰی بھی آتا ہے اور لام بھی ‘ لفظ ہدایت (اور اس کے مشتقات) کا استعمال بھی اسی طرح ہوتا ہے۔
لَیْسَ لِیْ بِہٖ جس کے رب ہونے کا مجھے علم نہیں ‘ یعنی کوئی دلیل نہیں بلکہ شرک کے ناممکن ہونے کے قطعی دلائل میرے پاس ہیں۔ ایمان کیلئے کوئی ایسی دلیل ہونی چاہئے جو معبود کی ہستی اور اس کے رب ہونے کو ثابت کرسکے ‘ بغیر کسی دلیل کے ایمان نہیں ہوسکتا اور اعتقاد بغیر یقین کے صحیح نہیں۔
اَلْعَزِیْز یعنی غالب ہستی جو منکروں سے بدلہ لینے پر قادر ہو۔
اَلْغَفَّار یعنی مؤمنوں میں سے جس کے چاہے گناہ بخش دے ‘ مطلب یہ ہے کہ وہ تمام صفات الوہیت کو جامع ہے۔ اسکی قدرت بھی کامل ہے ‘ علم بھی ہمہ گیر اور ارادہ بھی مطلق ہے۔
Ayah 40:43لا جرم انما تدعوننی الیہ لیس لہ دعوۃ فی الدنیا ولا فی الاخرۃ فان مردنا الی اللہ وان
المسرفین ھم اصحب النار۔ یقینی بات یہ ہے کہ جس چیز کی (عبادت کی) طرف تم مجھے بلاتے ہو ‘ وہ نہ تو دنیا ہی پکارنے جانے کے لائق ہے اور نہ آخرت میں اور یہ (بھی یقینی بات ہے) کہ ہم سب کو اللہ کے پاس لوٹ کر جانا ہے اور جو لوگ (بندگی کی) حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ‘ وہ دوزخ ہوں گے۔
Ayah 40:44فستذکرون ما اقول لم واوفض امر الی اللہ ان اللہ بصیر بالعباد آگے چل کر تم میرے بات کو یاد کرو گے۔ اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ بلاشبہ سب بندوں کا نگراں ہے۔
جو لوگ بندۂ مؤمن کو بت پرستی کی طرف بلاتے ہیں ‘ ان کی تردید میں اس نے یہ (پرزور مدلل) تردید کی ‘ یعنی جس چیز کی پرستش کی تم مجھے دعوت دے رہے ہو ‘ یہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اس صورت میں لَا جَرَمَ میں لا نافیہ ہوگا ‘ جس سے دعوت کفار کی نفی ہوجائے گی اور جَرَمَ فعل ہے جس کا معنی ہے حَقّ (ثابت اور صحیح ہے یہ بات) یعنی تم جو مجھے بتوں کی پوجا کی دعوت دے رہے ہو اس کا دونوں جہان میں بےاصل اور ہیچ ہونا یقینی ہے ‘ کیونکہ یہ (بےعقل) جمادات ہیں ‘ نہ دنیا میں کسی کو اپنی پرستش کی طرف بلاتے ہیں ‘ نہ آخرت میں اپنے پرستاروں کا ساتھ دیں گے بلکہ ان پجاریوں سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔
یا یہ مطلب ہے کہ ان کی دعوت کا قابل قبول نہ ہونا یقینی ہے ‘ یا ان کی دعوت قبول نہ ہونا یقینی ہے۔ سدی نے کہا : یہ بت کسی کیلئے نہ دنیا میں دعا کرتے ہیں ‘ نہ آخرت میں کریں گے۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ جَرَمَ فعل ہے ‘ جَرْممصدر ہے۔ جَرْم کا معنی ہے انقطاع اور لا نافیہ ہے ‘ جیسے لابُدّ میں لا نفی کا ہے اور بُدّ فعل ہے۔ تبدید کا معنی ہے تفریق ‘ یعنی الوہیت اصنام کے دعوے کا بطلان ہر زمانہ میں ہے ‘ کسی وقت اس دعوے کے غلط ہونے کا انقطاع نہیں ہے۔ یہ تو ہوئی لفظ لاجرم کی (اصلی لغوی) تحقیق ‘ عرف عام میں لاَ جَرَمَ کا معنی ہوتا ہے قطعی ‘ یقینی۔ قاموس میں ہے : لاَ جَرَمَ یعنی لاَ بُدّ (ضروری) قطعی ‘ لامحالہ۔ یہ لاَ جَرَمَ کا عمومی استعمال ہے ‘ اس کے بعد کسی کلام کو پختہ کرنے کیلئے قسم کے معنی میں اس کا استعمال کیا جانے لگا ‘ اسلئے اس کے جواب میں لام کا آنا ضروری قرار دیا گیا ‘ جیسے کہا جاتا ہے : لاَ جَرَمَ لَاٰتِیَنَّکَ میں ضرور ضرور تیرے پاس آؤں گا۔
وَاِنَّ مَرَدَّنَا یعنی مرنے کے بعد ہم سب کو لوٹ کر اللہ کے پاس جانا ہے ‘ وہی حسب استحقاق ہر ایک کو جزا و سزا دے گا۔
وَاَنَّ الْمُسْرِفِیْنَ گمراہی میں حد سے تجاوز کرنے والے ‘ یعنی شرک اور بےقصور خوں ریزی کرنے والے۔
ھُمْ اَصْحٰبُ النَّار یعنی ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔
فَسَتَذْکُرُوْنَ یعنی جب عذاب آنکھوں کے سامنے آجائے گا ‘ اس وقت تم لوگ باہم میری نصیحت یاد کرو گے ‘ لیکن اس وقت نصیحت یاد کرنے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
وَاُفَوِّضُ اَمْرِیْٓ اِلَی اللہ اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں کہ وہی ہر دکھ اور تکلیف سے مجھے محفوظ رکھے۔ جب عبدمؤمن نے فرعونیوں کے دن کی علی الاعلان مخالفت کی تو لوگوں نے اس کو سزا دینے کی دھمکی دی ‘ اس وقت اس نے یہ جملہ کہا۔
اِنَّ اللہ بَصِیْرٌم بالْعِبَاد یعنی اللہ سب بندوں کو خوب دیکھتا ہے ‘ وہی خوب جانتا ہے کہ کون حق پرست ہے اور کون باطل کوش۔ اس کے بعد عبدمؤمن فرعونیوں کے پاس سے چلا گیا اور روپوش ہوگیا ‘ جس کے بعد کافروں کو اس پر کبھی دسترس حاصل نہ ہوئی۔
Ayah 40:45فوقہ اللہ سیات ما مکروا وحاق بال فرعون سواء العذاب اس کے بعد اللہ نے اس کو فرعون اور
فرعونیوں کی ضرر رساں تدبیروں سے محفوظ رکھا اور فرعون (اور اس) کے پیروؤں (یعنی کافروں) پر برا عذاب نازل ہوا۔
فَوَقٰہُ سے پہلے چند جملے محفوظ ہیں ‘ پوری عبارت اس طرح تھی : فرعونیوں نے اس کو قتل کرنا چاہا ‘ مگر وہ وہ بھاگ گیا۔ فرعون نے اس کو پکڑنے کیلئے اپنے آدمیوں کو بھیجا ‘ لیکن اللہ نے اس کو محفوظ رکھا۔
وَحَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ یعنی فرعون اور فرعونیوں پر برا تکلیف دہ عذاب آ نازل ہوا۔ فرعون کا ذکر کرنا بیکار تھا ‘ کیونکہ وہ تو عذاب کا مستحق سب سے زیادہ تھا ‘ اسلئے اس کے ذکر کی ضرورت ہی نہیں تھی۔
سُوْٓءُ الْعَذَاب یعنی دنیا میں پانی میں غرق کردیا اور مرنے کے بعد دوزخ میں ڈال دیا۔
بعض اہل تفسیر کا قول ہے کہ آل فرعون سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو فرعون نے عبدمؤمن کی گرفتاری کیلئے بھیجا تھا ‘ اس صورت میں سوء العذاب سے مراد ہوگا عذاب قتل۔ عبدمؤمن بھاگ کر ایک پہاڑ پر چلا گیا ‘ لوگوں نے اس کا پیچھا کیا اور پہاڑ پر چڑھ گئے ‘ جا کر دیکھا تو اس کو نماز میں مشغول پایا اور چاروں طرف گھیرا ڈال لیا۔ صف بستہ جنگلی درندے اسکی حفاظت کر رہے تھے ‘ مجبور ہو کر لوٹ آئے ‘ اس جرم میں فرعون نے ان کو قتل کرا دیا۔
Ayah 40:46النار یعرضون علیھا غدوا وعشیا ویوم تقوم الساعۃ ادخلوا ال فرعون اشد العذاب
صبح و شام (روزانہ) ان کو دوزخ کے روبرو لایا جاتا ہے اور جس روز قیامت برپا ہوگی تو (حکم ہوگا : فرعون اور) فرعونیوں کو شدید ترین عذاب میں داخل کرو۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا کہ آل فرعون کی روحیں سیاہ پرندوں کے جوف کے اندر داخل ہو کر روزانہ دو مرتبہ صبح و شام دوزخ پر پیش ہوتی ہیں اور ان سے کہا جاتا ہے : اے آل فرعون ! قیامت برپا ہونے تک تمہارا یہی ٹھکانہ ہے۔ اس کی تائید حضرت عبد اللہ بن عمر کی اس روایت سے ہوتی ہے جو صحیحین میں مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی مرجاتا ہے تو اس کی قیام گاہ صبح و شام اسکے سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر وہ جنتی ہوتا ہے تو جنت والوں کی قیام گاہ اور اگر دوزخی ہوتا ہے تو دوزخ والوں کی قیام گاہ (اسکے سامنے لائی جاتی ہے) اور اس سے کہا جاتا ہے : یہی تیرے رہنے کی جگہ اس وقت تک ہے جب تک کہ اللہ قیامت کے دن تجھے اٹھائے گا۔
آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ روح باقی رہتی ہے اور قبر (یعنی برزخ) میں عذاب ہوتا ہے (متعدد) احادیث بھی اسی پر دلالت کرتی ہیں اور اسی پر اجماع علماء ہے۔
اَدْخِلُوْا یعنی (عذاب کے) فرشتوں کو حکم دیا جائے گا کہ آل فرعون کو سخت ترین عذاب میں داخل کر دو ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اشد العذاب سے مراد ہے طرح طرح کا عذاب جو عالم برزخ کے عذاب سے بالکل الگ قسم کا ہوگا۔
Ayah 40:47واذ یتحاجون فی النار فیقول الضعفاء للذین استکبروا انا کنا تبعا فھل انتم مغنون عنا
نصیبا من النار۔ اور جب کفار دوزخ کے اندر ایک دوسرے سے جھگڑا کریں گے تو ادنیٰ درجہ کے لوگ (یعنی تابع حکم لوگ) بڑے درجہ کے لوگوں سے (یعنی سرداروں سے) کہیں گے : (دنیا میں) ہم تمہارے تابع تھے تو کیا (آج) تم ہم سے آگ کا کچھ حصہ ہٹا کر ہمارے کام آسکتے ہو ؟
Ayah 40:48قال الذین استکبروا ان اکل فیھا ان اللہ قد حکم بین العباد (اسکے جواب میں) وہ لوگ جو (دنیا میں) بڑے بن بیٹھے تھے ‘ کہیں گے : ہم سب ہی دوزخ میں ہیں ‘ اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کرچکا۔
وَاِذْ یَتَحَآجُّوْنَ یعنی اے محمد ﷺ ! آپ اپنی قوم کے سامنے اس وقت کا ذکر کیجئے جب وہ دوزخ کے اندر باہم جھگڑیں گے۔
تَبَعًا۔ تَبَع واحد بھی ہے اور جمع بھی ‘ جیسے خَدَم ‘ خادم کی جمع ہے۔ یہ قول علماء بصرہ کا ہے ‘ لیکن ادباء کوفہ کے نزدیک یہ جمع کا صیغہ ہے مگر اس کا واحد نہیں آتا ‘ البتہ اس کی جمع اَتْبَاعٌ آتی ہے۔
فَھَلْ اَنْتُمْ- ھَلْ حرف استفہام ہے لیکن استفہام بمعنی امر ہے۔
نَصِیْبًا مغنون کا مفعول ہے یا مصدر ہے۔ اس جگہ اس کا استعمال اسی طرح ہے ‘ جس طرح آیت لَنْ تُغْنِیَ عَنْھُمْ اَمْوَالُھُمْ وَلَآ اَوْلاَدُھُمْ مِّنَ اللہ شَیْءًا میں لفظ شَیْءًا کا ہے۔
اِنَّا کُلٌّ ہم یعنی (اور تم) ہر فریق آج دوزخ میں ہے تو ہم کس طرح تم سے یہ عذاب دور کرسکتے ہیں ؟ اگر کرسکتے تو اپنے اوپر سے دفع کرتے۔
اِنَّ اللہ یعنی اللہ جنتیوں کیلئے جنت کا اور دوزخیوں کیلئے دوزخ کا فیصلہ کرچکا ‘ اسکے فیصلہ کو کوئی پلٹ نہیں سکتا۔
Ayah 40:49وقال الذین فی النار لخزنہ جھنم ادعوا ربکم یخفف عنا یوما من العذاب اور دوزخی (جب
شدت عذاب میں مبتلا ہوں گے تو) جہنم کے کارندوں سے کہیں گے : تم اپنے رب سے اتنی درخواست کر دو کہ وہ کسی روز (کچھ بھی) ہمارے اس عذاب میں تخفیف کر دے۔
Ayah 40:50قالوا اولم تک تاتیکم رسلکم بالبینت قالوا بلی قالوا فاعودا وما دعوا الکفرین الا فی
ضلل جہنم کے دربان کہیں گے : کیا تمہارے پیغمبر تمہارے پاس واضح احکام لے کر نہیں پہنچے تھے ؟ دوزخی کہیں گے : پہنچے کیوں نہ تھے۔ اس پر دوزخ کے کارندے کہیں گے : تو اب تم (خود) ہی دعا کرو اور کافروں کی دعا محض بیکار ہے۔
اَوَلَمْ تَکُ تَأتِیْکُمْ استفہام انکاری ہے اور اس امر پر زجر کرنا مقصود ہے کہ تم نے دعا کا وقت اور قبول دعا کے اسباب کو کھو دیا۔
قَالُوْا فَادْعُوْا۔ فَادْعُوْا امر کا صیغہ ہے اور بطور استہزاء استعمال کیا گیا ہے ‘ اس سے مراد ہے ناامید بنا دینا۔
اِلاَّ فِیْ ضَلٰلٍ یعنی بیکار ‘ ناقابل قبول۔ یہ جملہ اللہ کا قول ہے ‘ یہ بھی ممکن ہے کہ دوزخ کے کارندوں کے کلام کا جزء ہو۔
Ayah 40:51انا لننصر رسلنا والذین امنوا فی الحیوۃ الدنیا ویوم یقوم الاشھاد۔ ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیوی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور اس روز (بھی مدد کریں گے جس روز) گواہی دینے والے (ملائکہ گواہی دینے) کھڑے ہوں گے ‘
Ayah 40:52یوم یا ینفع الظمین معذرتھم ولھم اللعنۃ ولھم سوء الدار اس روز کافروں کا عذر ان کو فائدہ نہیں دے گا اور رحمت خدا سے ان کو دوری ہوگی اور اس عالم میں ان کیلئے خرابی ہوگی۔
اِنَّا لَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ضحاک نے کہا : دنیا میں مدد کرنے سے مراد ہے دلیل وبرہان سے مدد کرنا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : غلبہ عطا کرنا مراد ہے۔ بیضاوی نے کہا : اگرچہ کبھی کافروں کو بھی غلبہ عطا کیا گیا ‘ لیکن اعتبار انجام و مآل اور اکثریت کا ہے (اور اکثر صورتوں میں پیغمبروں کو کافروں پر غلبہ ہی عطا کیا گیا ہے) بعض لوگوں نے کہا : نصرت رسل سے مراد ہے دشمنوں سے انتقام (یعنی دنیا میں اللہ نے پیغمبروں کے دشمنوں سے پیغمبروں کا انتقام ضرور لیا) ۔
وَیَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْھَاد یعنی قیامت کے دن جب اعمال نامے لکھنے والے فرشتے شہادت دیں گے کہ پیغمبروں نے اللہ کا پیام اپنی امتوں تک پہنچا دیا تھا اور کافروں نے ان کو جھوٹا قرار دیا تھا۔
اَلظّٰلِمِیْنَ ظالموں سے مراد ہیں کافر۔ وَلَھُمُ اللَّعْنَۃُ لعنت سے مراد ہے رحمت خدا سے دوری۔
سُوْٓءُ الدَّار یعنی برا گھر ‘ مراد جہنم۔
Ayah 40:53ولقد اتینا موسیٰ الھدی واورثنا بنی اسراء یل الکتب۔ اور (آپ سے پہلے) ہم موسیٰ کو (کتاب) ہدایت (یعنی توریت) دے چکے ہیں اور ہم نے وہ کتاب بنی اسرائیل کو پہنچائی تھی
Ayah 40:54ھدی وذکری لاولی الالباب
کہ وہ ہدایت اور نصیحت (کی کتاب) تھی (سلیم) عقل والوں کیلئے۔
وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْھُدٰی اس آیت کا ربط حضرت موسیٰ کے قصہ سے ہے ‘ درمیان میں معترضہ جملے ہیں۔
الْھُدٰی یعنی وہ کتاب جس میں دینی ہدایت تھی (یعنی جو دینی ہدایت کا ذریعہ تھی) حضرت موسیٰ کو توریت فرعون کے ہلاک ہونے کے بعد عطا کی گئی تھی۔
ھُدًی وَّذِکْرٰی یعنی ہدایت اور نصیحت کیلئے ‘ یا (مصدر اسم فاعل کے معنی میں ہے ‘ یعنی) وہ کتاب ہدایت کرنے والی اور نصیحت آفریں تھی۔
Ayah 40:55فاصبر ان وعد اللہ حق واستغفر لذنبک وسبح بحمد ربک بالعشی والابکار پس (اے
محمد ﷺ ! دشمنوں کی ایذا پر) آپ صبر کیجئے ‘ اللہ کا وعدہ بلاشبہ سچا ہے اور خطا کی اللہ سے معافی طلب کیجئے اور صبح و شام اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرتے رہئے۔
اِنَّ وَعْدَ اللہ حَقٌّ یعنی اللہ نے جو آپ سے نصرت کا وعدہ کیا ہے ‘ وہ ضرور پورا ہوگا ‘ اس کے خلاف ہونا ممکن نہیں۔ اس بات کے ثبوت کیلئے اللہ نے حضرت موسیٰ اور فرعون کا واقعہ بیان فرما دیا۔
وَاسْتَغْفِرْ لِذَمنْبِکَ (رسول اللہ ﷺ گناہ سے معصوم و محفوظ تھے ‘ پھر آپ سے صدور گناہ کیسے ہوسکتا تھا ؟ اور استغفار کا حکم کیوں دیا گیا ؟ اس شبہ کو دور کرنے کیلئے حضرت مفسر نے کہا :) یہ امر تعبدی ہے تاکہ رسول اللہ ﷺ کے درجات میں اضافہ ہو (یعنی باوجود گناہ نہ ہونے کے محض حکم استغفار کے زیر اثر استغفار کرنے سے رسول اللہ ﷺ کے درجات قرب میں اضافہ ہوگا) اور امت کیلئے ایک طریقۂ مسنونہ جاری کرنا بھی مقصود ہے۔
وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ یعنی رب کے انعامات کے شکریہ میں نماز پڑھو۔
بِالْعَشِیِّ وَالْاِبْکَار حسن نے کہا : اس سے مراد ہیں عصر اور فجر کی نمازیں۔ حضرت ابن عباس کے نزدیک پانچوں نمازیں مراد ہیں۔
Ayah 40:56ان الذین یجادلون فی آیت اللہ بغیر سلطن اتھم ان فی صدورھم الاکبر جو لوگ بلا کسی سند
کے جو ان کے پاس موجود ہو ‘ اللہ کی آیتوں میں جھگڑے نکالا کرتے ہیں ‘ ان کے دلوں میں برائی (ہی برائی) ہے۔
یُجَادِلُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِ اللہ یعنی قرآن کا انکار کرتے ہیں۔
بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتَاھُمْ یعنی بغیر خدائی سند کے۔
فِیْ صُدُوْرِھِمْ سینوں سے مراد ہیں دل۔ سینہ کے اندر دل ہوتا ہے۔
اِلاَّکِبْرٌ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یعنی آپ کی تکذیب پر آمادہ کرنے والا محض ان کا غرور اور تکبر ہے جو ان کے دلوں کے اندر بھرا ہوا ہے۔ وہ اپنے کو آپ سے بڑا جانتے ہیں ‘ اسی لئے آپ کے پیرو ہونے سے نفرت کرتے ہیں۔
ماھم ببالغیہ کہ وہ اس تک کبھی پہنچنے والے نہیں ہیں۔
مجاہد نے کہا : یعنی وہ جو بڑے ہونے کے مدعی ہیں ‘ وہ بڑائی کو پہنچ نہیں سکتے ‘ اللہ ان کو ذلیل کرے گا۔ ابن قتیبہ نے کہا : ان کے دلوں میں تکبر ہے اور رسول اللہ ﷺ پر غالب آجانے کی خواہش ہے ‘ لیکن وہ اس بڑائی تک پہنچ نہیں سکیں گے۔
فاستعذ باللہ پس (ان کی شرارتوں سے) آپ اللہ کی پناہ مانگئے۔
انہ ھو السمیع البصیر کیونکہ وہ بلاشبہ (تمہاری باتوں کو) سننے والا اور (تمہارے افعال کو) دیکھنے والا ہے۔