Ayah 35:32ثم اور ثنا الکتب الذین اصطفینا من عبادنا . پھر یہ کتاب ہم نے ان لوگوں کے ہاتھ میں پہنچائی جن کو ہم
نے اپنے تمام بندوں میں سے منتخب کرلیا۔
اِرث کا معنی ہے کسی کے پاس سے ایک چیز کا دوسرے کے پاس منتقل ہوجانا۔ اَوْرَثْنَا کا ترجمہ اَخَّرْنَا بھی کیا گیا ہے ‘ اسی معنی کے لحاظ سے میراث کو میراث کہتے ہیں۔ اس صورت میں آیت کا معنی یہ ہوگا کہ گذشتہ امتوں سے اس قرآن کو مؤخر کردیا اور اپنے منتخب بندوں کو دیا۔ مِنْ عِبَادِنَا میں مِنْ تبعیضیہ اور عِبَادِنَا میں اضافت عباد کی عزت و عظمت کو ظاہر کر رہی ہے۔
عباد سے مراد ہیں صحابۂ کرام اور ان کے بعد قیامت تک آنے والے علماء امت۔ حضرت ابن عباس کے نزدیک پوری امت اسلامیہ مراد ہے۔ اللہ نے اس امت کو امت وسط بنایا اور تمام امتوں پر برتری عطا فرمائی ہے۔ یہی امت سب لوگوں پر شہادت دینے والی ہے اور سید الانبیاء کو مبعوث فرما کر اس امت کو یہ شرف عنایت کیا۔
طُوْبٰی لَنَا مَعْشَرَ الْاِسْلَامِ اِنَّ لَنَا
مِنَ الْعِنَایلۃِ رُکْنًا غَیْرَ مُنْھَدِمِ
اے گروہ اہل اسلام ! ہمارے لئے خوشی ہو کہ ہمارا ایک مضبوط سہارا ہے ‘ اللہ کی عنایت سے جو منہدم ہونے والا نہیں۔
لَمَّا دَعَی اللّٰہُ دَاعِیْنَا لِطَاعَتِہٖ
بِاَکْرَمِ الرُّسُلِ اَکْرَمَ الْاُمَمِ
جب اشرف المرسلین کے ذریعہ اللہ نے ہم کو اپنی طاعت کیلئے دعوت دی تو ہم اشرف الامم ہوگئے۔
فمنھم ظالم لنفسہ ومنھم مقتصد ومنھم سابق بالخیرت باذن اللہ سو ان میں سے کچھ تو اپنی جان
پر ظلم کرنے والے ہیں اور کچھ ان میں متوسط درجہ کے ہیں اور کچھ ان میں ایسے ہیں جو خدا کی توفیق سے نیکیوں میں ترقی کئے چلے جاتے ہیں۔
ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ یعنی عمل میں کوتاہی کرنے والے۔ اللہ نے انہی کے حق میں فرمایا ہے : وَاٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لَاِمْرِ اللّٰہِ اِمَّا یُعَذِّبُھُمْ وَاِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْھِمْ ۔ دوسری جگہ فرمایا ہے : یَاعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِھِمْ لاَ تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا ‘ اِنَّہٗ ھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ۔
مُقْتَصِدٌ یعنی ظاہر قرآن پر عمل کرتے ہیں ‘ حقیقت تک ان کی رسائی نہیں ہوئی۔ اللہ نے انہی کے متعلق ارشاد فرمایا ہے : واٰخَرُوْنَ عْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِھِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّاٰخَرَ سَیِّءَا عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْھِمْ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ بِاِذْنَ اللّٰہِ یعنی اللہ کے ارادہ سے ‘ یہ وہ لوگ ہیں جن کی رسائی حقائق قرآن تک ہے۔ اللہ نے انہی کے متعلق فرمایا ہے : وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُھَاجِرِیْنَ الخ۔ نیز فرمایا : وَالسَّابِقُوْنَ السَّابِقُوْنَ الخ اول الذکر دونوں قسمیں دائیں جانب والوں کی ہیں۔
بعض علماء کا قول ہے کہ مقتصد وہ لوگ ہیں جو اکثر قرآن کے موافق عمل کرتے ہیں اور سابق بالخیرات وہ ہیں جو عمل بھی کرتے ہیں اور دوسروں کو تعلیم بھی دیتے اور ہدایت بھی کرتے ہیں۔
بغوی نے اپنی سند سے ابوعثمان مہندی کی روایت سے بیان کیا کہ میں نے خود حضرت عمر سے سنا ‘ آپ نے یہ آیت پڑھی اور فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ہم میں کے جو سابق ہیں ‘ وہ تو آگے بڑھنے ولے ہیں اور جو مقتصد ہیں ‘ وہ نجات پانے والے ہیں اور جو ہم میں ظالم ہیں ‘ ان کی مغفرت کردی جائے گی۔ 1
ابو قلابہ نے کہا : میں نے یہ حدیث یحییٰ بن معین سے بیان کی تو وہ تعجب کرنے لگے۔ بغوی نے یہ حدیث مرفوعاً بھی بیان کی ہے۔ سعید بن منصور اور بیہقی نے اس کو حضرت عمر کا قول بیان کیا ہے۔
بغوی نے ابو ثابت کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ایک شخص مسجد میں آیا اور اس نے کہا : اے اللہ ! میری غریب الوطنی پر رحم فرما ‘ میری تنہائی میں انس (کا ذریعہ) پیدا کر دے اور کسی نیک ہم نشین کو میرے پاس پہنچ دے۔ حضرت ابو درداء (وہاں موجود تھے ‘ آپ) نے فرمایا : اگر تو سچا ہے تو میں تجھ سے زیادہ خوش نصیب ہوں کہ میری ملاقات تجھ سے ہوگئی۔ میں نے خود سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی ‘ پھر فرمایا : سابق تو بلاحساب جنت میں چلا جائے گا (اور مقتصد کا آسانی سے کسی قدر حساب ہوجائے گا اور ظالم لنفسہٖ کو مقام حساب میں (حساب کیلئے) روک لیا جائے گا اتنا کہ اس کو فکر پیدا ہوجائے گی ‘ پھر اس کو بھی جنت میں داخل کردیا جائے گا۔ یہ فرمانے کے بعد آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبْ عَنَّا الْحَزْنَ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَکُوْرٌ۔ یہ حدیث احمد ‘ ابن جریر ‘ طبرانی ‘ حاکم اور بیہقی نے بھی نقل کی ہے ‘ اس میں اتنا زائد ہے : لیکن جن لوگوں نے (اپنی جانوں پر) ظلم کیا ہوگا ‘ ان کو پورے حشرت کی مدت تک روک کر (مقام حساب میں) رکھا جائے گا ‘ پھر اللہ اپنی رحمت سے ان (کے گناہوں) کی تلافی فرما دے گا۔ یہی لوگ کہیں گے : اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبْ عَنَّا الْحَزْنَ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَکُوْر۔
بیہقی نے لکھا ہے : یہ حدیث متعدد طریقوں سے حضرت ابو درداء کی روایت سے آئی ہے اور کوئی حدیث اگر متعدد طریقوں سے منقول ہو تو اس کی کچھ اصل ہوتی ہے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت اسامہ بن زید نے اس آیت کے متعلق فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ سب (تینوں قسم کے لوگ) اسی امت کے ہوں گے۔ بیہقی نے بھی یہ حدیث حضرت اسامہ کی روایت سے بیان کی ہے۔ اسی طرح کعب وعطاء کی روایت سے بیان کیا ہے کہ تینوں قسمیں جنت میں جائیں گی۔
ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے حضرت ابن عباس کا قول اس آیت کی تشریح میں نقل کیا ہے کہ یہ سب امت محمدیہ ہوگی۔ اللہ نے جو کتاب بھی نازل فرمائی ‘ سب کا وارث اس امت کو بنایا۔ ان میں جو لوگ ظالم لنفسہٖ ہیں ان کی مغفرت کردی جائے گی ‘ جو لوگ مقتصد ہیں ان کا ہلکا سا حساب ہوجائے گا اور جو لوگ سابق ہیں وہ بلاحساب جنت میں چلے جائیں گے۔
امام احمد ‘ ترمذی اور بیہقی نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کیا ہے اور ترمذی نے اس کو حسن کہا ہے کہ اس آیت کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ سب لوگ بمنزلۂ ایک جماعت کے ہوں گے اور سب جنت میں جائیں گے۔ فریابی نے حضرت براء بن عازب کا قول بیان کیا ہے ‘ حضرت براء نے آیت فمنھم ظالم لفنسہٖ الخ کی تشریح میں فرمایا : میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ ان سب کو جنت میں داخل فرمائے گا۔
ابن ابی عاصم اور اصبہانی نے حضرت ابو موسیٰ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن اللہ بندوں کو اٹھائے گا ‘ پھر علماء کو الگ کر کے فرمائے گا : اے گروہ علماء ! میں نے تمہارے اندر علم اس لئے رکھا تھا کہ میں تم کو جانتا تھا (تم کو جانے بغیر میں نے تم کو عالم نہیں بنایا تھا) اور نہ اپنا علم تمہارے اندر اس لئے رکھا کہ (علم دینے کے بعد) پھر تم کو عذاب دوں۔ جاؤ ‘ میں نے تم کو بخش دیا۔
طبرانی نے ثقہ راویوں کے سلسلہ سے حضرت ثعلبہ بن حکم کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ جب اپنی کرسی پر اپنے بندوں کے فیصلہ کیلئے بیٹھے گا تو علماء سے فرمائے گا : میں نے تم کو اپنا علم اور حکم صرف اس لئے دیا تھا کہ تمہاری مغفرت کرنا چاہتا تھا۔ جو عمل بھی تم سے صادر ہو (سب کو میں نے بخش دیا) اور مجھے پرواہ نہیں۔
ابن عساکر نے ابو عمر صنعانی حفص بن میسرہ کی روایت نقل کی ہے کہ قیامت کا دن ہوگا تو علماء کو الگ کردیا جائے گا ‘ جب اللہ حساب فہمی کرچکے گا تو علماء سے فرمائے گا : میں نے اپنی حکمت تمہارے اندر رکھی تھی ‘ وہ ایک بھلائی کیلئے رکھی تھی جو آج میں تم سے کرنا چاہتا ہوں۔ تم سے جو کچھ بھی ہوا ہو ‘ اس کے باوجود تم جنت میں چلے جاؤ۔
لقبہ بن صہبان کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عائشہ سے آیت اَوْرَثْنَا الْکِتٰبَ الَّذِیْنَ الْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا کے متعلق دریافت کیا تو ام المؤمنین نے فرمایا : میرے بیٹے ! یہ سب جنت میں جائیں گے۔ سابق بالخیرات تو وہ تھے جو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں گذر گئے ‘ حضور ﷺ نے ان کیلئے جنت کی شہادت دے دی تھی اور مقتصد وہ لوگ ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے نشان قدم پر چل کر آپ سے جا ملے اور ظالم لنفسہٖ مجھ جیسے اور تم جیسے لوگ ہیں۔ ام المؤمنین نے اپنے آپ کو بھی ہمارے ساتھ شامل کردیا۔
میں کہتا ہوں : تینوں قسمیں اگر اکابر امت اسلامیہ کی قرار دی جائیں تب بھی ممکن ہے ‘ یعنی تینوں اقسام اولیاء امت ہی کے مانے جائیں۔ پہلی قسم ظالم لنفسہٖ کی ہے ‘ یہ وہ گروہ ہے جو اپنے نفوس کو لذتوں سے تو محروم کر ہی دیتا ہے ‘ جائز حقوق سے بھی محروم کردیتا ہے۔ یہ وہ اہل رہبانیت ہیں جو سخت ریاضتیں اور مجاہدے کرتے ہیں اور یہ رہبانیت انہوں نے خود ایجاد کر رکھی ہے۔ دوسرا گروہ اہل اقتصاد کا ہے جو لذتوں (میں ڈوبنے) سے تو اپنے نفوس کو روکتا ہے لیکن حقوق نفوس ضرور دیتا ہے۔ روزہ بھی رکھتا ہے ‘ ناغہ بھی کرتا ہے۔ نماز بھی پڑھتا ہے ‘ سوتا بھی ہے۔ نکاح بھی کرتا ہے اور جائز چیزیں کھاتا پیتا بھی ہے۔ غرض پورے طور پر اتباع سنت کرتا ہے۔ یہ وہی گروہ ہے جس کے متعلق حضرت عائشہ نے فرمایا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے نشان قدم پر چلتا ہے یہاں تک کہ آپ سے جا ملتا ہے۔ تیسرا گروہ سابق بالخیرات کا ہے جو کمالات نبوت میں ڈوبا ہوتا ہے ‘ یہ گروہ صحابہ کا اور صدیقوں کا ہے۔ حضرت عائشہ نے ظالم لنفسہٖ گروہ میں اپنے آپ کو محض انکسار کے طور پر شامل کیا اور مخاطب جیسے لوگوں کو اس گروہ میں اس لئے شامل کیا کہ وہ لوگ سخت ریاضتیں کرنے والے تھے۔
خلاصہ یہ کہ احادیث مبارکہ سے یہ امر ثابت ہوگیا کہ تینوں قسمیں (جن کا ذکر آیت میں کیا گیا ہے) اسی امت کی ہیں یا علماء کی ہیں۔ اس تفصیل کے بعد بھی جو شخص کہتا ہے کہ فَمِنْھُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ سے مراد کافر یا منافق ہیں۔ اس کا قول واجب الرد اور ناقابل قبول ہے۔
امام ابو یوسف سے اس آیت کے متعلق دریافت کیا گیا تو فرمایا : یہ سب مؤمن ہیں ‘ رہے کفار تو ان کی حالت اگلی آیت والَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَھُمْ نَارُ جَھَنَمَّ الخ میں بیان فرمائی ہے ‘ تینوں طبقات مؤمنوں کے ہوں گے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اللہ نے اپنے منتخب بندوں کے تین طبقات ذکر فرمائے ہیں ‘ تینوں جگہ منہم منہم منہم میں ضمیریں منتخب کردہ بندوں ہی کی طرف راجع ہیں۔ جمہور علماہ کا یہی قول ہے۔ سابق بالخیرات کو سب سے آخر میں اور ظالم لنفسہٖ کو پہلے بیان کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ظالمین کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور سابقین کی تعداد بہت کم اور متقصدین کی تعداد متوسط ہے ‘ یا یوں کہا جائے کہ اپنے اوپر ظلم یعنی خواہشات نفس کی طرف جھکاؤ پیدائشی اور فطری ہوتا ہے۔ باقی دونوں امور یعنی اقتصاد اور سبقت بالخیرات عارضی ہیں اوراقتصاد کا درجہ پھر بھی کسی قدر توسط کا ہے۔
ذلک ھو الفضل الکبیر یہی (ا اللہ کا) بڑا فضل ہے۔ یعنی کتاب کا وارث بنانا ‘ یاتبدوں کو منتخب کرلینا ‘ بڑی مہربانی ہے۔
Ayah 35:33جنت عدن یدخلونھا یحلون فیھا من اساور من ذھب ولولوا ولباسھم فیھا حریر وہ باغات
ہیں ہمیشہ رہنے کے جن میں وہ داخل ہوں گے اور ان کو وہاں سونے کے کنگنوں اور موتیوں کا زیور پہنایا جائے گا اور وہاں ان کی پوشاک ریشم کی ہوگی۔
یَدْخُلُوْنَ کی ضمیر اہل جنت کی تینوں اقسام کی طرف راجع ہے ‘ اس کا ثبوت احادیث سے پیش کیا جا چکا ہے۔ حضرت ابو سعید خدری راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت جَنّٰتُ عَدْنٍ یَدْخُلُوْنَھَا تلاوت کی ‘ پھر فرمایا : ان کو تاج پہنائے جائیں گے جن کا ایک ادنیٰ موتی مشرق سے مغرب تک (پوری دنیا کو) روشن کر دے گا۔ رواہ الترمذی والحاکم والبیہقی۔ حاکم نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
قرطبی نے لکھا ہے : اہل تفسیر نے کہا ہے کہ کوئی جنتی ایسا نہ ہوگا جس کے ہاتھ میں تین کنگن نہ ہوں : ایک سونے کا ‘ ایک چاندی کا اور ایک موتی کا۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مؤمن کا زیور (ہاتھ میں) وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وضو کا پانی پہنچا ہوگا۔ متفق علیہ
حضرت حذیفہ کا بیان ہے کہ میں نے خود سنا ‘ رسول اللہ ﷺ فرما رہا تھے : ریشم اور دریائی نہ پہنو ‘ سونے اور چاندی کے برتنوں میں نہ پیو ‘ نہ ان کی رکابیوں میں نہ کھاؤ۔ یہ ان (کافروں) کیلئے دنیا میں ہیں اور تمہارے لئے آخرت میں۔ رواہ الشیخین فی الصحیحین
حضرت عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو دنیا میں ریشم پہنے گا ‘ آخرت میں ریشم نہیں پہنے گا ‘ متفق علیہ۔ طیالسی نے صحیح سند اور ابن حبان و حاکم نے حضرت ابو سعید کی روایت سے اسی طرح یہ حدیث روایت کی ہے ‘ اس کے آخر میں اتنا زائد ہے کہ وہ اگر جنت میں داخل بھی ہوجائے گا تو ریشم (کا لباس) نہیں پہنے گا۔
ابن ابی حاتم اور ابن ابی الدنیا نے حضرت کعب کی روایت سے بیان کیا ہے کہ اگر جنت کا کوئی کپڑا آج دنیا میں پہن لیا جائے تو جس کی نظر اس پر پڑے گی ‘ وہ بیہوش ہوجائے گا ‘ کسی کی نظر اس کو برداشت نہ کرسکے گی۔
Ayah 35:34وقالو الحمد اللہ الذی اذھب عنا الحزن . اور کہیں گے کہ اللہ کا (لاکھ لاکھ) شکر ہے جس نے ہم سے (رنج و)
غم دور کیا۔
قَالُوْا یعنی کہیں گے (ماضی بمعنیء مستقبل) احادیث مندرجہ اسی پر دلالت کر رہی ہیں اور اسی پر دلالت کر رہی ہے آیت الَّذِیْ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَۃِ (یعنی جنتی جنت میں یہ بات کہیں گے) قبروں سے اٹھنے کے وقت بھی مؤمن یہی بات کہیں گے۔ حضرت ابن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لا الہ الا اللہ کہنے والوں کو نہ مرنے کے وقت وحشت ہوگی ‘ نہ قبروں کے اندر ‘ نہ قبروں سے اٹھنے کے وقت۔ گویا وہ منظر میرے سامنے ہے کہ صور پھونکے جانے پر لوگ سروں سے مٹی جھاڑ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں : اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبْ عَنَّا الْحَزْنَ ط رواہ الطبرانی۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : (حزن سے مراد ہے) دوزخ کا غم۔ قتادہ نے کہا : موت کا غم (مراد ہے) ۔ مقاتل نے کہا : اس غم کی وجہ یہ ہو بی کہ ان لوگوں کو معلوم نہیں نہ ہمارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ عکرمہ نے کہا : گناہوں اور خطا کاریوں کا خوف اور طاعت کے نامقبول ہونے کا خوف (مراد ہے۔ کلبی نے کہا : دنیوی زندگی میں آخرت میں ہونے والے امور کا غم مراد ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا : دنیا میں روٹی کی فکر مراد ہے۔ بعض نے کہا : معاش اور معاد دونوں کا غم مراد ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ حزن سے ہر فکر مراد ہے ‘ کوئی فکر ہو۔
ان ربنا لغفور شکور واقعی حقیقت یہ ہے کہ ہمارا رب بہت مغفرت کرنے والا اور بڑا قدرداں ہے۔ یعنی جن لوگوں
نے اپنے اوپر ظلم کیا ‘ ان کو بخشنے والا ہے اور مقتصدین و سابقین کی قدردانی کرنے والا ہے۔
Ayah 35:35الذی احلنا دارالمقامۃ من فضلہ . جس نے اپنی مہربانی سے ہم کو ہمیشہ رہنے کے مقام میں لا اتارا۔
یعنی یہ اللہ کی مہربانی اور اس کا کرم ہے کہ اس نے ہم کو دوامی قیامت کیلئے یہ مقام عطا فرمایا ‘ ہمارا کوئی حق اللہ پر واجب نہ تھا۔
مُقَامَۃِ مصدر میمی بمعنی اقامت۔
بیہقی نے البعث میں اور ابن ابی حاتم نے بوساطت نقیع بن حارث ‘ حضرت عبد اللہ بن ابی اَوفٰی کی روایت سے بیان کیا کہ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! (میٹھی) نیند سے اللہ ہماری آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے تو کیا جنت میں بھی نیند آئے گی ؟ فرمایا : نہیں ‘ نیند تو موت کی شریک ہے (یعنی موت کا ایک حصہ ہے) اور جنت کے اندر موت نہیں ہوگی۔ سائل نے عرض کیا : پھر وہاں راحت کیسے ملے گی ؟ یہ بات حضور ﷺ کو بےادبی کی معلوم ہوئی اور فرمایا : وہاں کسی طرح کی تھکان ہی نہیں ہوگی ‘ اہل جنت کا ہر کام تو سکھ ہی سکھ کو ہوگا۔ اس پر آیت نازل ہوئی۔
لا یمسنا فیھا نصب ولا یمسنا فیھا لغوب . جہاں ہم کو نہ کوئی کلفت پہنچے گی ‘ نہ خستگی پہنچے گی۔
نَصَبٌ تھکان۔ لُغُوْبٌ خستگی ‘ ماندگی۔
Ayah 35:36والذین کفروا لھم نار جھنم لا یقضی علیھم فیموتوا ولا یخفف عنھم من عذابھا کذلک
نجزی کل کفور . اور جن لوگوں نے کفر کیا (اور توبہ نہیں کی) ان کیلئے دوزخ کی آگ ہے ‘ نہ تو ان کی قضا آئے گی کہ مر ہی جائیں اور نہ دوزخ کا عذاب ہی ان سے ہلکا کیا جائے گا۔ ہم ہر کافر کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔
لاَ یُقْضٰی عَلَیْھِمْ یعنی ان کی موت کا فیصلہ نہ کیا جائے گا کہ مرجائیں اور سکھ سے ہوجائیں۔ شیخین نے صحیحین میں حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب جنتی ‘ جنت کو چلے جائیں گے اور دوزخی ‘ دوزخ کو تو پھر موت کو لا کر جنت اور دوزخ کے درمیان ذبح کردیا جائے گا اور منادی ندا دے گا : اے اہل جنت ! (آئندہ) موت نہیں ‘ اے دوزخ والو ! (آئندہ) موت نہیں۔ یہ سن کر جنتیوں کو مسرت بالائے مسرت ہوگی اور دوزخیوں کو غم بالائے غم۔ شیخین نے حضرت ابو سعید کی روایت سے بھی اسی طرح نقل کیا ہے ‘ اس روایت میں ہے : قیامت کے دن موت کو چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا ‘ الحدیث
ولا یخفف علیھم . یعنی پل بھر کیلئے بھی عذاب جہنم میں کمی نہیں کی جائے گی ‘ بلکہ جب دوزخیوں کی کھالیں پک جائیں
گی تو دوسری کھالیں پہنا دی جائیں گی اور جب آگ بجھنے لگے گی تو اور بھڑکا دی جائے گی۔
کَفُوْرٍ بڑا ناشکرا ‘ یعنی اللہ کا منکر۔ ہر منعم کی نعمت کا انکار کرنے والے سے اللہ کے منکر کا کفر شدید ہے۔
Ayah 35:37وھم یصطرخون فیھا ربنا اخرجنا نعمل صالحا غیر الذی کنا نعمل . اور وہ دوزخ کے اندر
چیخیں گے : اے ہمارے رب ! ہم کو (اس دوزخ سے) نکال تاکہ جو عمل ہم پہلے کرتے تھے ‘ ان کے خلاف نیک عمل کریں۔
صراخ کا معنی ہے چیخنا ‘ مراد ہے فریاد کرنا یعنی دوزخی چیخ کر فریاد کریں گے۔
رَبَّنَا اَخْرِجْنَا یعنی وہ کہیں گے : اے ہمارے رب ! ہمیں دوزخ سے نکال۔
نعمل صالحًا یعنی دوزخیوں کو اپنے گذشتہ غیر صالح اعمال پر افسوس ہوگا ‘ یا گذشتہ اعمال کے غیر صالح ہونے کا اعتراف ہوگا اور یہ مقصد ہوگا کہ پہلے دنیا میں ہم ان اعمال کو صالح جانتے تھے ‘ اب ان کا غیر صالح ہونا کھل گیا اس لئے درخواست کرتے ہیں کہ گذشتہ اعمال کی تلافی کرنے کیلئے تو ہم کو دوزخ سے باہر نکال دے۔ اللہ اس کے جواب میں فرمائے گا۔
اولم نعمرکم ما یتذکر فیہ من تذکر . کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی تھی جس میں نصیحت حاصل کرنے والا
نصیحت حاصل کرلیتا۔
آیت میں عمر سے کتنی عمر مراد ہے ‘ علماء کے اقوال اس میں مختلف ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ قتادہ ‘ عطاء اور کلبی کے نزدیک اٹھارہ سال کی عمر مراد ہے۔ حسن نے چالیس کی حد مقرر کی ہے۔ حضرت ابن عباس اور حضرت علی کے نزدیک ساٹھ سال کی عمر مراد ہے۔ یہ وہ عمر ہے کہ اس کے بعد آدمی کو اللہ کے سامنے عذرخواہی کا کوئی موقع نہیں رہتا۔ حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب اللہ کسی شخص کی عمر ساٹھ سال تک پہنچا دے تو پھر اس کی طرف سے کسی عذر کو قبول نہیں کرتا۔ رواہ البخاری و کذا اخرج البزار واحمد وعبد بن حمید عن ابی ہریرۃ۔
طبرانی اور ابن جریر نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کا دن ہوگا تو کہا جائے گا : ساٹھ سال کی عمر والے کہاں ہیں ؟ یہی وہ عمر ہے جس کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے : اَوَلَمْ نُعَمِّرْکُمْ مَّا یَتَذَکَّرُ فِیْہِ مَنْ تَذَکَّرَ ۔
میں کہتا ہوں : حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کی عمر ساٹھ سال تک پہنچا دی گئی تو اس کے بعد اللہ اس کی ہر معذرت کو سلب کرلیتا ہے ‘ کیونکہ زیادہ تر طبعی عمر اس کے بعد نہیں رہتی۔ ترمذی نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے ابویعلٰی نے مسند میں حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (عام طور پر) میری امت کی عمریں ساٹھ سال سے ستر سال تک ہوں گی اور ستر سال سے آگے بڑھنے والے بہت کم ہوں گے۔ یہ مطلب نہیں کہ ساٹھ سال سے پہلے گناہ کرنے کا عذر قابل قبول نہ ہوگا ‘ کیونکہ بالغ ہونے کے بعد نماز اور دوسرے فرائض کو ترک کرنے کا کوئی معقول عذر نہیں ہوسکتا ‘ خصوصاً ایمان نہ لانے کا تو کوئی عذر ہو ہی نہیں سکتا۔ اگر یہ مطلب آیت کا نہ مانا جائے تو پھر قیامت کے دن اللہ کی طرف سے اس جواب کے مخالب تو صرف وہی کافر قرار پائیں گے جن کی عمر ساٹھ برس ہوئی ہو ‘ دوسرے کم عمر مخاطب ہی نہیں قرار پائیں گے۔
وجاء کم النذیر اور تمہارے پاس ڈرانے والے (شخص یعنی محمد رسول اللہ ﷺ آگئے تھے۔
مگر تم نے ان کی بات نہیں مانی۔ نذیر سے مراد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ اکثر مفسرین کا یہی قول ہے۔ ابن ابی حاتم نے سدی کا نیز ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے زید کا قول بھی یہی بیان کیا ہے۔ بعض کے نزدیک قرآن مراد ہے۔ نذیر کا لفظ عام ہے ‘ تمام پیغمبر اور اللہ کی کتابیں اس لفظ میں شامل ہیں ‘ لیکن اس امت کیلئے رسول اللہ ﷺ اور قرآن نذیر ہیں (اور قرآن و رسول کے منکروں کے حق میں آیت کا نزول ہوا ہے ‘ اسلئے رسول اللہ ﷺ اور قرآن ہی آیت میں مراد ہیں) ۔
بعض علماء کے نزدیک عقل مراد ہے۔ یہ ان لوگوں کا قول ہے جو تنہا عقل کو وجوب ایمان کیلئے کافی سمجھتے ہیں ‘ ان لوگوں کے نزدیک اگر کوئی عاقل پہاڑ کی چوٹی پر (تمام انسانوں سے الگ تھلگ) ہو اور نبی کی دعوت اس کو نہ پہنچی ہو ‘ تب بھی وہ اللہ پر ایمان لانے کا مکلف ہے۔ اگر اللہ نہیں مانے گا تو اس کو کافر قرار دیا جائے گا۔
لیکن وَجَاءَکُمْ کا اَوَلَمْ نُعَمِّرْکُمْ پر عطف ہے اور عطف مغایرت کو چاہتا ہے (معطوف و معطوف علیہ میں مغایرت ہونی چاہئے) اسلئے نذیر سے عقل مراد نہیں ہوسکتی ‘ کیونکہ سوچنے اور غور کرنے کے قابل عمر ہوجانا اور صاحب عقل ہو اجانے میں مفہوم کی مغایرت نہیں ہے ‘ کیونکہ بالغ ہونے کے بعد اگر عاقل بھی ہو تو مکلف ہے اور بےعقل ہے تو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ سوچنے اور غور کرنے کی عمر اس کو دی گئی ہے (گویا بالغ العمر وہی ہوگا جو صاحب عقل ہو اور صاحب عقل اسی کو کہا جائے گا جو قابل تامل و غور ‘ عمر بھی رکھتا ہو) ۔
عکرمہ ‘ سفیان بن عیینہ اور وکیع نے کے نزدیک نذیر سے مراد ہیں بڑھاپے کے سفید بال۔ عبد بن حمید اور ابن المنذر نے اس قول کی عکرمہ کی طرف نسبت کی ہے۔ بیہقی نے سنن میں حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ بڑھاپے کے سفید بال موت کے قاصد ہیں۔
بغوی نے ایک اثر نقل کیا ہے کہ اگر ایک بال بھی سفید ہوتا ہے تو وہ اپنے ساتھی سے کہتا ہے : تو بھی تیار ہوجا ‘ موت قریب آگئی ہے۔ بعض نے کہا : عزیزوں اور ساتھیوں کی موت نذیر ہے۔
فذوقوا فما للظلمین من نصیر سو (عذاب کا مزہ) چکھو ‘ اب ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہے (کہ عذاب کو دفع
کر سکے) ۔
Ayah 35:38ان اللہ علم غیب السموت والارض انہ علیم بذات الصدور . بلاشبہ اللہ ہی آسمان کی اور زمین کی
چھپی چیزوں کو جاننے والا ہے ‘ کوئی شک نہیں ہ وہ دلوں کی باتوں سے (بھی) خوب واقف ہے۔
جب وہ آسمانوں کی اور زمین کی تمام چھپی ہوئی باتوں کو جاننے والا ہے تو لوگوں کے حالات اس سے پوشیدہ کیسے رہ سکتے ہیں ؟ وہ تو دلوں کے اندر کے پوشیدہ خیالات سے بھی بخوبی واقف ہے ‘ پھر لوگوں کے (بیرونی) احوال سے کس طرح لاعلم ہوسکتا ہے۔
Ayah 35:39ھو الذی جعلکم خلئف فی الارض فمن کفر فعلیہ کفرہ ولا یزید الکفرین کفرھم
عندربھم الا مقتا ولا یزید الکفرین کفرھم الاخسارا . وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں آباد کیا ‘ سو جو شخص کفر کرے گا اس کے کفر کا وبال اسی پر پڑے گا اور کافروں کیلئے ان کا کفر ان کے پروردگار کے نزدیک ناراضی ہی بڑھنے کا باعث ہوتا ہے اور کافروں کیلئے ان کا کفر خسارہ ہی بڑھاتا ہے۔
خلائف ‘ خلیفہ کی جمع ہے اور خلفاء ‘ خلیف کی یعنی بعض انسان بعض کے جانشین ہوتے ہیں ‘ اس صورت میں تمام انسان مخاطب ہوں گے۔ بعض نے یہ مطلب بیان کیا کہ اللہ نے تم کو ایک ایسی امت بنایا جو پچھلی امتوں کے بعد آئی ہے اور گذشتہ امتوں کے احوال اس امت کیلئے عبرت آفرینی کا سامان اپنے اندر رکھتے ہیں۔ بعض نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اللہ نے تم کو زمین میں خلیفہ کے بعد خلیفہ بنایا ‘ یعنی ایک کے بعد دوسرے کو اس کا جانشین بنایا اور زمین میں تصرف کرنے کا تم کو اختیار دیا اور کائنات ارضی پر تم کو تسلط عطا کیا۔
مقت ناراضی ‘ غضب ‘ نفرت۔ اِلاَّ خَسَارًا یعنی آخرت میں کافروں کا کفر خسارا بڑھنے ہی کا باعث ہوگا۔
لاَ یَزِیْدُ الْکَافِرِیْنَ کُفْرُھُمْ کی تکرار بتارہی ہے کہ کفر کا مستقل تقاضا اللہ کی ناراضگی کی زیادتی بھی ہے اور آخرت کا خسارہ بھی ‘ اسلئے کفر سے پرہیز لازم ہے۔
Ayah 35:40قل ارء تیم شرکاء کم الذین تدعون من دون اللہ ارونی ماذا خلقوا من الارض ام لھم
شرک فی السموت (اے محمد ﷺ ! ) آپ کہئے کہ تم اپنے قرار دادہ شریکوں کا حال تو بتاؤ ‘ جن کو تم اللہ کے سوا پوجا کرتے ہو ‘ مجھے بتاؤ کہ انہوں نے اس زمین کا کونسا حصہ جزء بنایا ہے یا ان کو آسمان (بنانے) میں کچھ ساجھا ہے ؟
شُرَکَاءَ سے مراد ہیں بت۔ شَُرکَآءَکُمْ کہنے کے دو معنی ہیں (فاعل کی طرف اضافت ہے یا مفعول کی طرف):
(1) تم نے ان کو اللہ کا شریک قرار دے رکھا ہے۔
(2) تم نے اپنے مال میں ان کو شریک بنا رکھا ہے (کہ ان کی منت مانتے اور بھینٹ چڑھاتے ہو) ۔
اَمْ لَھُمْ شِرْکٌ یا اللہ کے ساتھ تخلیق سماوات میں ان کی شرکت ہے جس کی وجہ سے وہ الوہیت ذاتیہ میں شریک ہوگئے۔ اَرُوْنِیْ مجھے دکھاؤ ‘ یعنی مجھے بتاؤ۔
ام اتینھم کتبا فھم علی بینۃ منہ . یا ہم نے ان کو کوئی کتاب دی ہے کہ یہ اس کی کسی دلیل پر قائم ہوں ؟
اتَیْنَاھُمْ مقاتل نے کہا : یعنی ہم نے کفار مکہ کو کوئی ایسی کتاب دی ہے جو ظاہر کر رہی ہو کہ جن معبودوں کو ان نے شرکاء بنا رکھا ہے ‘ وہ شرکاء ہیں۔
بل ان یعد الظلمون بعضھم بعضا الا غرورا . بلکہ یہ ظالم ایک دوسرے سے نرے دھوکہ کی باتوں کا وعدہ کرتے ہیں۔ یعنی ان کے پاس شرک کا کوئی ثبوت نہیں ‘ نہ کوئی کتاب جس سے یہ شرک پر استدلال کرسکیں بلکہ ان کے اسلاف اپنے اخلاف کو بےبنیاد دھوکہ دیتے چلے آئے ہیں ‘ ایسی کوئی دلیل نہیں کہ ان بتوں کا اللہ کی بارگاہ میں شفیع ہونا ثابت کرسکے۔ ان کے اسلاف کہتے چلے آئے ہیں کہ یہ بت اللہ کے ہاں ہماری سفارش کریں گے۔
Ayah 35:41ان اللہ یمسک السموت والارض ان تزولا . یعنی بات ہے کہ اللہ آسمانوں کو اور زمین کو تھامے ہوئے
ہے کہ (کہیں) وہ موجودہ حالت کو چھوڑ نہ دیں۔ یعنی اللہ آسمانوں کو اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ یہ اپنے مقام سے ہٹ نہ سکیں ‘ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ کو زوال سے روکے ہوئے ہے ‘ کیونکہ جس طرح کسی چیز کے وجود کیلئے کسی علت موجدہ کا ہونا ضروری ہے ‘ اسی طرح کسی چیز کو اس کی حالت پر باقی رکھنے کیلئے بھی باقی رکھنے والی علت کا ہونا لازم ہے۔
ولئن زالتا ان امسکھما من احد من بعدہ اور اگر (بالفرض) وہ موجودہ حالت کو چھوڑ بھی دیں تو پھر اللہ کے
سوا اور کوئی ان کو تھام بھی نہیں سکتا۔
یعنی اگر یہ دونوں ذاتی امکان کے تقاضے کی وجہ سے زائل ہوجائیں اور اللہ اپنی طرف سے افاضۂ وجود باقی نہ رکھے تو اللہ کے بعد یعنی اللہ کے سوا یا زوال کے بعد ان کو کوئی روک کر نہیں رکھ سکتا۔
انہ کان حلیما غفورا . بلاشبہ اللہ بڑی برداشت والا (اور) مغفرت کرنے والا ہے۔
حلم ہی کی وجہ سے ان کفار کو ڈھیل دے رکھی ہے اور فوری عذاب میں گرفتار نہیں کیا اور مغفرت ہی کے سبب مسلمانوں کے قصوروں کو وہ معاف کرتا رہتا ہے۔ اگر اس کی طرف سے کافروں کو مہلت نہ ملتی اور مسلمانوں کو مغفرت حاصل نہ ہوتی تو وہ آسمانوں اور زمین کو تھامے نہ رہتا ‘ نتیجہ میں آسمان ان پر ٹوٹ پڑتے اور زمین ان کو لے کر دھنس جاتی۔
ابن ابی حاتم نے ابن ابی ہلال کی روایت سے بیان کیا ہے کہ (رسول اللہ ﷺ کی بعث سے پہلے) قریش کہا کرتے تھے : اگر اللہ ہم میں سے کسی کو نبی بنا دے گا تو ہم سے زیادہ اس نبی کی فرمانبردار اور خالق کی اطاعت گذار اور کتاب اللہ کے احکام کی پابند کوئی اور امت نہیں گذری ہوگی۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 35:42واقسموا باللہ جھد ایمانھم لئن جاء ھم نذیر لیکونن اھدی من احدی الامم . اور انہوں
نے اللہ کی پکی قسمیں کھائی تھیں کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈرانیوالا (یعنی پیغمبر) آئے گا تو وہ ہر امت سے زیادہ قبول کرنے والے ہوں گے۔
اَیْمَان قسمیں۔ جَھْدَ اَیْمَان زور دار پکی قسمیں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے قریش کو اطلاع ملی تھی کہ اہل کتاب نے اپنے پیغمبروں کی تکذیب کی ‘ اس پر انہوں نے کہا : یہودیوں اور عیسائیوں پر خدا کی لعنت ‘ ان کے پاس ان کے پیغمبر آئے اور انہوں نے پیغمبروں کو جھوٹا قرار دیا ‘ پھر انہوں نے قسمیں کھا کر کہا کہ اگر ہمارے پاس کئی پیغمبر (ہماری ہدایت کیلئے) آیا تو گذشتہ امتوں میں سے ہر امت سے زیادہ ہم اس کی ہدایت پر چلیں گے۔
کفار قریش نے یہ بات اس لئے کہی تھی کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے باہم ایک دوسرے کی تکذیب کی تھی ‘ یہودیوں نے کہا تھا کہ عیسائی حق پر نہیں ہیں (ان کے دین کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہے) اور عیسائیوں نے یہودیوں کے متعلق یہی بات کہی تھی۔
فلما جاء ھم نذیر ما زادھم الا نفورا لیکن جب ان کے پاس ڈرانے والے (شخص یعنی رسول اللہ ﷺ آگئے تو ان کے آنے سے بس ان میں نفرت ہی کی ترقی ہوئی۔
یعنی رسول ﷺ کے آنے سے ان کے اندر حق سے اور دوری پیدا ہوگئی۔ رسول کے آنے سے زیادت نفرت کی نسبت مجازی ہے۔
Ayah 35:43استکبار فی الارض ومکرا لسیئ . دنیا میں اپنے کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے اور بری تدبیر کی وجہ سے۔
یعنی برے عمل کی وجہ سے۔ کلبی نے کہا : مَکْرَ السَّیِّیءِسے مراد ہے سب کا شرک پر اتفاق کرلینا۔ میں کہتا ہوں : ان کا برا فریب یہ تھا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو قید یا قتل کردینا یا وطن سے نکال دینا چاہا تھا اور اس تدبیر پر سب کا اتفاق رائے ہوگیا تھا۔
ولا یحیق المکر السیئ الا باھلہ . اور بری تدبیروں کا وبال تدبیر والوں پر ہی پڑتا ہے۔ چناچہ بدر کے دن بری تدبیر کا وبال تدبیر کرنے والوں پر ہی پڑا (کچھ) مارے گئے (کچھ گرفتار کئے گئے) ۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : شرک کا برا نتیجہ مشرکوں پر ہی پڑتا ہے ‘ یعنی شرک کا وبال انہی پر لوٹ کر پڑتا ہے۔
فھل ینظرون الا سنت الاولین فلن تجد لسنت اللہ تبدیلا . سو کیا یہ لوگ اسی دستور کے منتظر ہیں جو
اگلے (کافر) لوگوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے ‘ سو آپ اللہ کے اس دستور کو ہرگز (کبھی) بدلتا ہوا نہ پائیں گے۔
سُنَّتَ الْاَوَّلِیْنَ یعنی پچھلے کافروں کے ساتھ اللہ کا دستور عمل۔ اس سے مراد ہے یہ ضابطۂ الٰہیہ کہ جب کافر کفر پر جمع رہے تو اللہ نے ان کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا۔
فَلَنْ تَجِدَ الخ یعنی اللہ کا ضابطہ بدلتا نہیں ‘ اس میں تغیر نہیں آتا۔ چناچہ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لے آئے ‘ مکہ کا کوئی کافر نہیں بچا ‘ سب ہی تباہ کر دئیے گئے۔
ولن تجد لسنت اللہ تحویلا . اور آپ اللہ کے ضابطہ کو ہرگز منتقل ہوتا ہوا نہ پائیں گے۔
یعنی ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ ضابطۂ ہلاکت ‘ تکذیب کرنے والوں کو چھوڑ کر دوسروں کی طرف منتقل کردیا جائے (کہ بجائے منکروں کے ‘ دوسروں کو تباہ کردیا جائے) ۔
Ayah 35:44اولم لیسیروا انی الارض فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبلھم وکانوا اشد منھم قوۃ
کیا یہ لوگ ملک میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے بھالتے کہ جو (منکر) لوگ ان سے پہلے ہو کر گزرے ہیں ‘ ان کا انجام کیسا ہوا ‘ حالانکہ وہ قوت میں ان سے بڑھے ہوئے تھے۔
اَوَلَمْ یَسِیْرُوْا میں استفہام انکاری ہے اور محذوف جملہ پر اس کا عطف ہے ‘ پورا کلام اس طرح تھا : کیا ان لوگوں نے گذشتہ کافروں کے نشانات نہیں دیکھے اور کیا یہ ملک میں چلے پھرے نہیں کہ گذشتہ لوگوں کا برا انجام ان کو نظر آجاتا۔ مطلب یہ کہ شام ‘ عراق اور یمن کو آتے جاتے میں انہوں نے گذشتہ کافروں کے کھنڈر دیکھے ہیں ‘ وہ مکہ کے باشندوں سے زیادہ قوت والے تھے ‘ اس کے باوجود ان کو تباہ کردیا گیا۔ ان کی قوت ان کو کچھ بھی فائدہ نہ پہنچا سکی ‘ پھر مکہ والے ان سے عبرت کیوں نہ حاصل کرتے۔
وماکان اللہ لیعجزہ من شیءٍ فی السموت ولا فی الارض انہ کان علیما قدیرا اور اللہ ایسا
ہیں کہ کوئی چیز اس کو ہرا دے (یعنی اس کی گرفت سے چھوٹ جائے اور اس سے آگے بڑھ جائے) نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں ‘ کیونکہ وہ بڑے علم والا اور بڑی قدرت والا ہے۔ یعنی تمام چیزوں کو اور ان کے استحقاق کو جاننے والا ہے اور جیسا چاہے ویسا کرنے پر قدرت رکھنے والا ہے۔ آیات مذکورہ سے واضح ہوگیا کہ کافروں کی جڑ اکھاڑ دینے کا اللہ کا مقررہ ضابطہ ہے اور یہ ضابطہ ناقابل تغیر ہے ‘ اسی ضابطہ کے مطابق گذشتہ کافروں کو تباہ کردیا گیا ‘ باوجودیکہ وہ بڑے طاقتور تھے ‘ مگر ان کی طاقت ان کو فائدہ نہ پہنچا سکی۔ پھر ان کافروں کو اللہ نے ڈھیل کیوں دے دی ہے ‘ اس کا جواب آئندہ آیات میں دیا ہے اور فرمایا ہے۔
Ayah 35:45ولو یؤاخذ اللہ الناس بما کسبوا ما ترک علی ظھرھا من دآبہۃ ولکن یؤخرھم الی اجل
مسمی اور اگر اللہ (ان) لوگوں کی (فوری) گرفت ان کے اعمال پر کرتا تو زمین پر کسی متنفس کو نہ چھوڑتا لیکن اللہ ایک معین میعاد (یعنی قیامت) تک ان کو مہلت دے رہا ہے۔
دَآبَّۃً جاندار جو زمین پر چلتے ہیں یعنی کسی گناہگار متنفس کو نہ چھوڑتا ‘ یا یہ مطلب ہے کہ ان کافروں کی بداعمالی کی نحوست سب زندہ جانوروں پر پڑتی اور اللہ سب کو تباہ کردیتا۔
اَجَلٍ مُّسَمَّیً سے مراد ہے موت یا قیامت۔
فاذا جاء اجلھم فان اللہ کان بعبادہ بصیرا . پھر جب ان کی وہ میعاد آجائے گی ‘ اس وقت اللہ اپنے بندوں کو دیکھ لے گا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : عباد سے مراد تمام بندے ہیں ‘ اطاعت گذار ہوں یا نافرمان۔ اللہ سب کے احوال دیکھ رہا ہے ‘ یعنی سب کو ان کے اعمال کے موافق سزا و جزا دے گا۔
الحمد اللہ سورة فاطر (ملائکہ) کی تفسیر 11/ماہ صفر 1207 ھ کو ختم ہوئی
اس کے بعد انشاء اللہ سورة یٰسین کی تفسیر آئے گی