32. Surah As-Sajda

السجدةThe Prostration · 30 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 32:30

فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ۠ Open ayah 32:30 in the Quran reader

تو اُن سے منہ پھیر لو اور انتظار کرو یہ بھی انتظار کر رہے ہیں

فاعرض عنھم . (جب ان کا حال اور مآل آپ کو معلوم ہوگیا) تو اب ان کی پرواہ نہ کیجئے (اور ان کی تکذیب کا کوئی خیال نہ رکھئے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یہ جملہ منسوخ ہے ‘ آیت قتال سے اس کا حکم منسوخ کردیا۔ وانتظر انھم منتظرون اور (جس فتح کا ہم نے وعدہ کیا ہے اس کا) انتظار کیجئے ‘ وہ بھی (اس بات کے) منتظر ہیں (کہ آپ حوادث زمانہ اور مصائب میں مبتلا ہوجائیں) ۔ بعض اہل علم نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ ہمارے عذاب کا آپ انتظار کیجئے ‘ وہ بھی عذاب ہی کے منتظر ہیں۔ حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ فجر کی نماز میں رسول اللہ اآآ تَنْزِیْل اور ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَان پڑھتے تھے۔ حضرت جابر راوی ہیں کہ رسول اللہ سوتے نہ تھے جب تک ا آآ تَنْزِیْل اور تَبَارکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ نہ پڑھ لیتے تھے۔ رواہ احمد والترمذی والدارمی۔ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ حضرت خالد بن معدان کا بیان ہے کہ ا آآ تَنْزِیْل کے متعلق مجھے یہ خبر پہنچی ہے اور یہ ہی اطلاع تَبَارکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ کے متعلق بھی ملی ہے کہ ایک شخص یہی دونوں سورتیں پڑھتا تھا اور کچھ نہیں پڑھتا تھا اور تھا بڑا گناہ گار۔ مرنے کے بعد انہی سورتوں نے اس کو اپنے سایہ میں لے لیا ‘ اس پر اپنے پر پھیلا دئیے اور دعا کی : اے رب ! اس کو بخش دے ‘ یہ مجھے بہت پڑھا کرتا تھا۔ اللہ نے ان سورتوں کی شفاعت قبول فرما لی (اور اس کو بخش دیا) اور فرمایا : ہر بدی کے عوض اس شخص کے لئے نیکی لکھ دو اور اس کے درجہ کو اونچا کر دو ۔ یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ یہ سورت قبر کے اندر اپنے پڑھنے والے کی طرف سے وکالت کرے گی اور عرض کرے گی : اے رب ! اگر میں تیری کتاب کی سورت ہوں ‘ تو اس شخص کے متعلق میری شفاعت قبول فرما اور اگر میں تیری کتاب کا حصہ نہیں ہوں تو مجھے کتاب کے اندر سے مٹا دے۔ یہ سورت اپنے پڑھنے والے پر اپنے پر پھیلا دے گی ‘ اس کو اپنے سایہ میں لے لی گی ‘ اس کے لئے شفاعت کرے گی اور عذاب قبر سے اس کو بچا لے گی۔ یہ بھی روایت ہے کہ قرآن کی ہر سورت پر ان دونوں سورتوں کی فضیلت ساٹھ نیکیوں کے برابر ہے۔ رواہ الدارمی۔ حضرت ابن عباس راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : جس نے ا آآ تَنْزِیْل اور تَبَارکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ پڑھی ‘ اس کو اتنا ثواب ملا کہ گویا شب قدر میں اس نے رات بھر عبادت کی۔ رواہ الثعلبی وابن مردویہ۔ ابن مردویہ نے حضرت ابن عمر کی روایت سے بھی یہ حدیث اسی طرح بیان کی ہے۔ سیوطی نے کہا : یہ حدیث موضوع ہے۔ الحمد اللہ بروز دو شنبہ 24/ رجب 1206 ھ ؁ کو الم تنزیل کی سورت ختم ہوئی ‘ اس سے آگے سورة احزاب کی تفسیر آئے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ