31. Surah Luqman

لقمانLuqman · 34 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 31:26

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 31:26 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) خدا ہی کا ہے۔ بیشک خدا بےپروا اور سزا وارِ حمد (وثنا) ہے

اللہ ما فی السموت والارض . اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے۔ یعنی اللہ ہی سب کا خالق اور مالک ہے اس لئے معبود ہونے کا مستحق بھی اس کے سوا کوئی نہیں۔ ان اللہ ھو الغنی الحمید . یہ سچی حقیقت ہے کہ ہر (تعریف کرنے والے کی) تعریف سے اللہ بےنیاز ہے اور وہ (فی نفسہٖ ) ہر حمد کا مستحق ہے (خواہ کوئی اس کی تعریف کرے یا نہ کرے) ۔ ابن اسحاق نے عطاء بن یسار کے حوالہ سے بیان کیا اور بغوی نے بھی یہ ہی ذکر کیا ہے کہ آیت وَمَا اُوْتِیْتُمْ مِّنْ الْعِلْمِ الاَّ قَلِیْلاً مکہ میں نازل ہوئی ‘ پھر جب رسول اللہ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے تو علمائے یہود نے حاضر ہو کر دریافت کیا کہ ہم کو اطلاع ملی ہے کہ آپ وَمَا اُوْتِیْتُمْ مِّنْ الْعِلْمِ الاَّ قَلِیْلاً کہتے ہیں ‘ اس سے مراد آپ کی اپنی قوم ہے (جو واقعی جاہل اور اُمّی ہے) یا ہم لوگ مراد ہیں (ہم تو بڑے بڑے علماء ہیں) حضور ﷺ نے فرمایا : سب لوگ مراد ہیں (قریش بھی اور تم بھی) ۔ یہودی بولے : کیا وہ کلام جو تمہارے پاس (تمہارے دعوے کے مطابق اللہ کی طرف سے) آیا ہے ‘ اس میں یہ بات نہیں ہے کہ ہم کو توریت عطا کی گئی ہے اور توریت میں ہر چیز کا بیان ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اللہ کے (بےپایاں) علم کے مقابلے میں توریت کا علم قلیل ہے۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 31:27

وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 31:27 in the Quran reader

اور اگر یوں ہو کہ زمین میں جتنے درخت ہیں (سب کے سب) قلم ہوں اور سمندر (کا تمام پانی) سیاہی ہو (اور) اس کے بعد سات سمندر اور (سیاہی ہو جائیں) تو خدا کی باتیں (یعنی اس کی صفتیں) ختم نہ ہوں۔ بیشک خدا غالب حکمت والا ہے

ولو ان ما فی الارض من شجرۃ اقلام والبحر یمدہ من بعدہ سبعۃ ابحر ما نفدت کلمت ا اللہ . اور اگر زمین میں جتنے درخت ہیں ‘ سب قلم ہوجائیں اور (محیط کل) سمندر کو اس کے پیچھے سے مزید سات سمندر مدد پہنچائیں (یعنی سب سیاہی بن جائیں اور اللہ کے معلومات لکھے جائیں تو قلم گھس کر ختم ہوجائیں گے اور روشنائی تمام ہوجائے گی مگر) اللہ کے کلمات (معلومات) ختم نہیں ہوں گے۔ یَمُدُّہٗ یعنی اس محیط کل سمندر میں پیچھے سے مزید سات سمندر روشنائی بڑھائیں اور اس میں آکر گریں۔ یَمُدُّہٗ مَدَّالدَّوَات سے مشتق ہے۔ دوات میں روشنائی پڑنے کو مددوات کہتے ہیں۔ کَلِمٰتُ اللہ یعنی ان کی معلومات (غیر متناہی ہیں ‘ کتنے ہی قلم ہوں اور کتنی ہی روشنائی ہو اللہ کے قلیل معلومات لکھنے کے لئے کافی نہیں ‘ کثیر معلومات کا تو ذکر ہی کیا ہے) ۔ ابن جریر نے عکرمہ کا بیان نقل کیا ہے کہ جب اہل کتاب (یعنی یہودیوں) نے رسول اللہ سے روح کی بابت دریافت کیا تو آیت وَیَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْْحِ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَمَا اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ الاَّ قَلِیْلاً نازل ہوئی۔ اہل کتاب نے کہا کہ آپ کا ہمارے متعلق یہ خیال ہے کہ ہم کو قلیل علم دیا گیا ہے حالانکہ ہم کو توریت عطا کی گئی جو سراسر حکمت و علم ہے اور جس کو حکمت عطا کردی گئی اس کو خیر کثیر عطا کردی گئی (پھر ہمارا علم ناقص اور قلیل کیسے ہوسکتا ہے) اس پر آیت مذکورہ زیر تفسیر نازل ہوئی۔ مندرجہ بالا روایات کی بناء پر آیت کو مدنی کہا جائے گا۔ لیکن کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ آیت مذکورہ مکی ہے۔ یہودیوں نے قریش کو مشورہ دیا تھا کہ وہ رسول اللہ سے روح کے متعلق دریافت کریں۔ اس وقت تک حضور ﷺ نے مکہ نہیں چھوڑا تھا۔ ابن جریر نے نیز ابوالشیخ نے کتاب العظمتہ میں بیان کیا ہے کہ مشرکوں نے کہا تھا کہ یہ کلام (قرآن مجید) عنقریب ختم ہوجائے گا ‘ اس پر آیت وَلَوْ اَنَّ مَا فِیْ الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَۃٍ الخ نازل ہوئی۔
Ayah 31:28

مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 31:28 in the Quran reader

(خدا کو) تمہارا پیدا کرنا اور جِلا اُٹھانا ایک شخص (کے پیدا کرنے اور جلا اُٹھانے) کی طرح ہے۔ بیشک خدا سننے والا دیکھنے والا ہے

ما خلقکم ولا بعثکم الا کنفس واحدۃ ان اللہ سمیع بصیر . تم سب کو پیدا کرنا اور سب کو (قیامت کے دن زندہ کر کے) اٹھانا (ا اللہ کے لئے) بس ایک شخص (کے پیدا کرنے اور اٹھانے) کی طرح ہے۔ بلاشبہ اللہ خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ یعنی اللہ کے نزدیک تم سب کو پیدا کرنا اور پھر دوبارہ اٹھانا ایسا ہی ہے جیسے ایک شخص کو پیدا کرنا اور اٹھانا۔ اس کی ذاتی قدرت سے جب اس کے ارادہ کا تعلق ہوجائے تو سب کو پیدا کرنے اور اٹھانے کے لئے بس یہی کافی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ایک کام میں مشغول ہونے کے وقت دوسرے کام سے غافل ہوجائے۔ آن کی آن میں جس طرح ایک کی تخلیق اس کے ارادے سے ہوجاتی ہے ‘ اسی طرح ایک پل میں سب کی تخلیق بھی اس کے ارادے سے ہوسکتی ہے۔ وہ ہر سنی جانے والی آواز کو سنتا اور ہر چیز کو دیکھتا ہے۔ ایک شئے کی شنوائی اور بینائی اس کو دوسری چیزوں کی شنوائی اور بینائی سے مانع نہیں ہوسکتی۔ یا سَمِیْعٌ مبَصِیْرٌ ہونے کا یہ مطلب ہے کہ مشرک جو قیامت کا انکار کرتے ہیں ‘ اللہ ان کے اس انکار قولی کو سننے والا اور ان کے اعمال کو دیکھنے والا ہے۔
Ayah 31:29

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١٘ كُلٌّ یَّجْرِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 31:29 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور (وہی) دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اُسی نے سورج اور چاند کو (تمہارے) زیر فرمان کر رکھا ہے۔ ہر ایک ایک وقتِ مقرر تک چل رہا ہے اور یہ کہ خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے

الم تر ان اللہ یولج الیل فی النھار ویولج النھار فی الیل وسخر الشمس والقمر کل یجری الی اجل مسمی . کیا آپ کو نہیں معلوم کہ اللہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور سورج و چاند کو اس نے فرماں بردار بنا رکھا ہے ‘ ہر ایک مقررہ وقت تک چلتا رہے گا۔ یعنی روز قیامت تک۔ وان اللہ بما تعملون خبیر . اور (کیا تم کو نہیں معلوم) کہ اللہ بلاشبہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔
Ayah 31:30

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ۠ Open ayah 31:30 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ خدا کی ذات برحق ہے اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ لغو ہیں اور یہ کہ خدا ہی عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے

ذلک بان اللہ ھو الحق وان مایدعون من دونہ الباطل . یہ (ان کی علمی وسعت ‘ احاطہ قدرت اور ندرت صنعت) اس سبب سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے (یعنی اس کا وجود اور تمام صفات کمالیہ محقق اور ثابت ہیں یا اس کی الوہیت ثابت شدہ ہے) اور اللہ کے سوا جن معبودوں کو وہ پکارتے ہیں وہ باطل ہیں (یعنی معدوم الاصل ہیں یا ان کی الوہیت کا دعویٰ بےحقیقت ہے) ۔ وان اللہ ھو العلی الکبیر . اور (اس سبب سے ہے) کہ اللہ ہی سب سے بالا اور غالب ہے اور بزرگی والا ہے۔ اس کی بزرگی اور عظمت ظاہر ہے اور جس ذات کی یہ عظمت ہے یقیناً اس کے علم وقدرت کے احاطہ سے کوئی چیز باہر نہیں ہوسکتی۔
Ayah 31:31

اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ لِیُرِیَكُمْ مِّنْ اٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 31:31 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی کی مہربانی سے کشتیاں دریا میں چلتی ہیں۔ تاکہ وہ تم کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائے۔ بیشک اس میں ہر صبر کرنے والے (اور) شکر کرنے والے کے لئے نشانیاں ہیں

الم تر ان الفک تجری فی البحر بنعمت اللہ لیریکم من ایتہ . کیا آپ کو نہیں معلوم کہ سمندر میں کشتیاں اللہ کے کرم سے چلتی ہیں تاکہ اللہ تم کو اپنی قدرت کی کچھ نشانیاں دکھا دے۔ ا اللہ کی قدرت و کرم کے عموم پر یہ دوسری دلیل ہے۔ نعمت سے مراد ہے احسان یعنی اللہ کا یہ کرم کہ اس نے اسباب نعمت فراہم کر دئیے۔ مِنْ اٰیَاتِہٖ میں مِنْ تبعیضیہ ہے یعنی سمندر کے اندر بعض عجائب قدرت۔ ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور . بیشک اس میں ہر ایسے شخص کے لئے جو صابر و شاکر ہو ‘ بہت نشانیاں ہیں۔ صَبَّارٍ سے وہ شخص مراد ہیں جو آفاق اور انفس (یعنی اندرون و بیرون یا اپنی ذات اور سارے جہاں) کا گہرا مطالعہ کرتا ہے اور اس سوچ وچار میں تکلیفیں برداشت کرتا ہے اور شَکُوْرِ وہ شخص جو اللہ کی نعمتوں کو پہچانتا اور نعمتیں عطا فرمانے والے کا شکر ادا کرتا ہے۔ یا صَبَّارٍ شَکُوْرٍ سے مراد ہیں اہل ایمان کیونکہ حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : ایمان کے دو نصف ہیں : آدھا ایمان صبر میں ہے اور آدھا شکر میں۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان یعنی مؤمن سکھ میں شکر کرتا ہے اور دکھ میں صبر کرتا ہے (اور انسان کی زندگی دکھ اور سکھ کا ہی نام ہے) ۔
Ayah 31:32

وَ اِذَا غَشِیَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ Open ayah 31:32 in the Quran reader

اور جب اُن پر (دریا کی) لہریں سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہیں تو خدا کو پکارنے (اور) خالص اس کی عبادت کرنے لگتے ہیں پھر جب وہ اُن کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو بعض ہی انصاف پر قائم رہتے ہیں۔ اور ہماری نشانیوں سے وہی انکار کرتے ہیں جو عہد شکن اور ناشکرے ہیں

واذا غشیھم موج کا لظلل دعوا اللہ مخلصین لہ الدین فلما نجھم الی البر فمنھم مقتصد اور جب ان پر کوئی لہر سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہے تو اللہ کو خالص اطاعت کے ساتھ پکارتے ہیں ‘ پھر جب اللہ ان کو بچا کر خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو (اس وقت) کچھ تو ان میں سے اعتدال پر رہتے ہیں۔ غَشِیَھُمْ ان کو ڈھانک لیتی ہے ‘ ان کے اوپر آجاتی ہے۔ ظُلَلٌ ظُلَّۃ کی جمع ہے (ظلۃ سائبان) مراد پہاڑ (مقاتل) یا بادل (کلبی) ۔ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ یعنی اللہ کے سوا کسی دوسرے کو نہیں پکارتے کیونکہ ان کے دماغوں میں فطری طور پر یہ بات جمی ہوئی ہے کہ مصیبتوں کو دور کرنے والا اللہ کے سوا اور کوئی نہیں۔ سخت خطرے اور خوف کے وقت وہ میلان نفسانی اور تقلید اسلاف جو فطرت پر پردہ ڈالے ہوئے تھی ‘ یکدم زائل ہوجاتی ہے۔ فَمِنْھُمْ مُقَتَصِدٌ اس جملہ کو بعض اہل تفسیر نے شرط کی جزا قرار دیا ہے لیکن غلط ہے ‘ جزا محذوف ہے۔ اصل کلام اس طرح تھا کہ جب اللہ ان کو بچا کر خشکی تک لے آتا ہے تو ان میں سے کچھ لوگ اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہیں اور کچھ ناشکرے بن جاتے ہیں اور کچھ درمیانی حالت پر ہوجاتے ہیں ‘ سخت ناشکری نہیں کرتے ‘ کسی قدر کافر نعمت ہوجاتے ہیں۔ کافروں کے کفران نعمت کے رجات بھی مختلف ہوتے ہیں۔ بعض کافر کفران نعمت میں دوسروں سے زیادہ سخت ہوتے ہیں۔ کلبی نے مُقَتَصِدٌ کا یہی معنی بیان کیا ہے (یعنی متوسط درجہ کا کافر) لیکن اکثر اہل تفسیر نے کہا کہ مُقَتَصِدٌ سے مراد ہے درمیانی راہ پر قائم رہنے والا یعنی توحید پر برقرار رہنے والا (قَصَْدُ السَّبِیْلِ درمیانی راہ ‘ چھوٹا راستہ ‘ صراط مستقیم یعنی راہ توحید) اس تفسیر کی وجہ یہ ہے کہ آیت کا نزول حضرت عکرمہ کے متعلق ہوا۔ فتح مکہ کے وقت حضرت عکرمہ بن ابوجہل مکہ سے بھاگ کر سمندر کے کنارے پہنچ گئے اور ایک کشتی میں سوار ہوگئے۔ راستہ میں طوفان آگیا ‘ حضرت عکرمہ نے کہا : اگر اللہ مجھے اس طوفان سے محفوظ رکھ کر کنارے پر پہنچا دے گا تو میں اپنا ہاتھ محمد ﷺ کے ہاتھ میں جا کر دے دوں گا۔ حضرت عکرمہ کے اس قول سے طوفان رک گیا اور عکرمہ مکہ واپس آکر مسلمان ہوگئے۔ اس تشریح پر پورا کلام اس طرح ہوگا : کچھ ان میں سے اعتدال پر رہتے ہیں اور کچھ کافر ہوجاتے ہیں۔ وما یجحد بایتنا الا کل ختار کفور . اور ہماری آیات کا انکار بس ہر بدعہد ناشکرا ہی کرتا ہے۔ خَتَّارٍ غدار ‘ عہدشکن جو عہد فطری کو توڑنے والا ہے ‘ یا وہ شخص مراد ہے جس نے مصیبت کے وقت اللہ سے وعدہ کیا تھا اور مصیبت دور ہوگئی تو عہد توڑ دیا۔ اٰیَات سے مراد ہیں آیات نازل شدہ یعنی آیات قرآنی کے حق ہونے کا انکار صرف عہد شکن ناشکرا کرتا ہے ‘ یا آیات سے دلائل قدرت مراد ہیں۔ منجملہ دیگر دلائل قدرت کے طوفان سے نجات دینا بھی ہے۔
Ayah 31:33

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ١٘ وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَیْئًا١ؕ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 31:33 in the Quran reader

لوگو اپنے پروردگار سے ڈرو اور اُس دن کا خوف کرو کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے۔ اور نہ بیٹا باپ کے کچھ کام آسکے۔ بیشک خدا کا وعدہ سچا ہے پس دنیا کی زندگی تم کو دھوکے میں نہ ڈال دے۔ اور نہ فریب دینے والا (شیطان) تمہیں خدا کے بارے میں کسی طرح کا فریب دے

یایھا الناس اتقوا ربکم واخشوا یوما لا یجزی والدعن ولدہ ولامولود ھوجازعن والدہ شیئا . اے لوگو ! اپنے رب سے خوف کرو اور ڈرو اس دن سے جب کوئی باپ اپنی اولاد کی طرف سے بدلہ نہیں دے گا اور نہ کوئی بیٹا اپنے باپ کی طرف سے کچھ بدلہ دینے والا ہوگا۔ یعنی مؤمن باپ کافر بیٹے کی طرف سے اور مؤمن بیٹا کافر باپ کی جانب سے معاوضہ نہیں دے گا۔ البتہ مؤمن مؤمن کی شفاعت کرے گا۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعُتْھُمْ ذُرِّیَّتُھُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ دوسری جگہ ارشاد فرمایا ہے : جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَھَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآءِ ھِمْ وَاَزْوَاجِھِمْ وَذَرِّیّٰتِھِمْ ۔ بجائے ولد کے مولود کا لفظ ذکر کرنے سے مقصود نفی معاوضہ کا پرزور اظہار ہے کیونکہ مولود تو صرف بیٹے کو کہتے ہیں اور ولد کا اطلاق پوتے ‘ پڑپوتے پر بھی ہوتا ہے۔ پس جب صلبی حقیقی بیٹا اپنے باپ کے کام نہیں آئے گا تو پوتے کا اپنے دادا کے کام نہ آنا ظاہر ہی ہے۔ ولد کا اطلاق بیٹے ‘ پوتے ‘ پڑپوتے بلکہ پوتی ‘ پڑپوتی پر بھی ہوتا ہے۔ دیکھو ! اللہ نے فرمایا ہے : وَاِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہٗ وَلَدٌوَّوَرِثَہٗ اَبَوَاہُ فَلِاُمِّہِ الثُّلُثْ یعنی اگر میت کی اولاد (بیٹا ‘ پوتا ‘ بیٹی ‘ پوتی بلکہ ان کی نسل) نہ وہ اور صرف ماں باپ وارث ہوں تو کل ترکہ میں سے ایک تہائی ماں کا ہوگا۔ خطاب آیت رسول اللہ کے زمانے کے مؤمنوں کو ہے ‘ اس زمانہ میں بیشتر مسلمان وہ تھے جن کے باپ دادا کفر کی حالت میں مرے تھے اس لئے نہایت پختہ طور پر اور پرزور تاکید کے ساتھ فرما دیا کہ تم لوگ اپنے باپ دادا کے کام نہیں آ سکو گے اور کافر باپ دادا کی شفاعت نہ کرسکو گے۔ ان وعد اللہ حق . بیشک اللہ کا وعدہ (یعنی قیامت ‘ حشر نشر اور ثواب ‘ عذاب کا وعدہ) حق ہے۔ یعنی اس کے خلاف ہونا ممکن نہیں ہے۔ فلا تغرنکم الحیوۃ الدنیا . پس دنیوی زندگی تم کو فریب نہ دے دے کیونکہ دنیا فانی ہے ‘ اس کا عیش بھی مصائب آگیں ہے۔ ولا یغرنکم باللہ الغرور . اور اللہ کے متعلق تم کو کوئی فریب دینے والا دھوکہ نہ دے پائے۔ یعنی اللہ کے حلم اور عذاب کی تاخیر سے یہ دھوکہ نہ کھانا چاہئے کہ عذاب نہیں ہوگا۔ غرور سے مراد ہے شیطان۔ شیطان اللہ کی (عمومی) مغفرت دکھا کر گناہوں کی جرأت دلاتا ہے (یہ اس کا فریب ہوتا ہے ‘ تم اس کے فریب میں نہ آجانا) ۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد کی مرسل روایت نقل کی ہے کہ صحرانشین لوگوں میں سے ایک شخض رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ بغوی نے اس شخص کا نام حارث بن عمرو بن حارث بن محارب بن حفصہ بتایا ہے اور اس نے رسول اللہ سے قیامت کے متعلق دریافت کیا یعنی یہ پوچھا کہ قیامت کب ہوگی ؟ اس شخض نے یہ بھی کہا کہ میری بی بی حاملہ ہے ‘ بتائیے کیا پیدا ہوگا (لڑکا یا لڑکی ؟ ) اور ہمارا ملک خشک سالی میں مبتلا ہے ‘ بتائیے بارش کب وہ گی ؟ اور جس زمین پر میں پیدا ہوا تھا وہ تو مجھے معلوم ہے لیکن کس جگہ مروں گا ‘ یہ آپ بتائیے۔ اس پر آیات ذیل نازل ہوئیں۔
Ayah 31:34

اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ١ۚ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 31:34 in the Quran reader

خدا ہی کو قیامت کا علم ہے اور وہی مینھہ برساتا ہے۔ اور وہی (حاملہ کے) پیٹ کی چیزوں کو جانتا ہے (کہ نر ہے یا مادہ) اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا۔ اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کس سرزمین میں اُسے موت آئے گی بیشک خدا ہی جاننے والا (اور) خبردار ہے

ان اللہ عندہ علم الساعۃ . اللہ ہی کے پاس ہے (آخری) ساعت یعنی قیامت (برپا ہونے کے وقت) کا (تعیینی) علم۔ وینزل الغیث . اور وہی (جب چاہتا ہے) بارش نازل کرتا ہے (اس کے سوا بارش کے وقت کو کوئی نہیں جانتا) ۔ وما تدری نفس ماذا اتکسب غدا . اور رحم کے اندر کی چیز کو بھی وہی جانتا ہے (کہ وہ لڑکا ہے یا لڑکی ‘ اس کے سوا کوئی نہیں جانتا) ۔ وما تدری نفس بای ارض تموت . اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ حضرت ابن عمر راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : غیب کے خزانے پانچ ہیں جن سے سوائے خدا کے کوئی واقف نہیں : سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہوگا ‘ سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا کہ رحم کے اندر کیا ہے ‘ سوائے خدا کے کوئی واقف نہیں کہ قیامت کب برپا ہوگی ‘ سوائے خدا کے کوئی شخص نہیں جانتا کہ اس کی موت کس سرزمین پر آئے گی اور سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا کہ بارش کب آئے گی۔ روای احمد والبخاری۔ بغوی نے حضرت ابن عمر کی روایت سے اس آیت کی تفسیر میں حدیث مذکور الفاظ ذیل کے ساتھ بیان کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : غیب کے خزانے (یا کنجیاں) پانچ ہیں ‘ پھر حضور ﷺ نے آیت اِنَّ اللہ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ سے بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْت تک تلاوت فرمائی۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے سوال جبرئیل والی حدیث میں آیا ہے۔ یہ پانچ چیزوں میں سے ہے یعنی قیامت کا علم ان پانچ چیزوں میں سے ہے جو آیت اِنَّ اللہ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ الخ میں مذکور ہیں۔ ابن ابی شیبہ نے المصنف میں خیثمہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ملک الموت حضرت سلیمان کے پاس آئے اور حضرت سلیمان کے پاس جو لوگ بیٹھے ہوئے تھے ‘ ان میں سے ایک شخص کی طرف گھور کر دیکھنے لگے۔ اس شخص نے پوچھا : یہ کون شخص ہے ؟ حضرت سلیمان نے فرمایا : ملک الموت ہے۔ اس شخص نے کہا : ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ مجھے (مارنا) چاہتا ہے۔ آپ ہوا کو حکم دیجئے کہ وہ مجھے اٹھا کر ہندوستان پہنچا دے۔ حضرت سلیمان نے ہوا کو حکم دے دیا (ہوا نے اس شخص کو ہندوستان پہنچا دیا) ملک الموت نے کہا : میں تعجب سے اس شخص کو برابر دیکھ رہا تھا کیونکہ یہ آپ کے پاس موجود تھا اور مجھے حکم دیا گیا تھا کہ ہندوستان میں اس کی روح قبض کروں (وا اللہ اعلم) ۔ ا اللہ نے اپنے علم کو ظاہر کرنے کے لئے لفظ عِلْمُ السَّاعَۃِ اور یَعْلَمُ مَا فِیْ الْاَرْحَام فرمایا اور مخلوق سے علم کی نفی کے لئے ماتدری فرمایا ‘ علم اور روایت میں کیا فرق ہے ؟ درایت اگرچہ علم ہی کو کہتے ہیں لیکن درایت کے اندر تدبیر کا مفہوم داخل ہے یعنی کسی تدبیر سے علم حاصل کرنا۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے : دَریتہ (یعنی) علمتہ بضرب من الحیلۃ میں نے کسی تدبیر سے اس کو جان لیا۔ گویا (آیت میں اشارہ اس طرح کیا گیا کہ) مخلوق کوئی تدبیر کرے اور جتنی طالقت ممکن ہو ‘ صرف کر دے پھر بھی اس کو معلوم نہیں ہوگا کہ وہ کیا کرے گا اور اس کا خاتمہ کب (اور کہاں) ہوگا ؟ دوسروں کے عمل اور موت کو جاننے کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ ہاں اگر اللہ کے پیغمبروں کے ذریعہ سے یا دلائل کی روشنی میں اللہ اس کو علم عطا فرما دے تو یہ صورت مستثنیٰ ہے۔ ان اللہ علیم . بلاشبہ اللہ (تمام چیزوں سے) واقف ہے۔ خبیر . (مکمل) باخبر ہے۔ ہر چیز کے ظاہر و باطن سے واقف ہے۔ ایک حکایت ہے کہ منصور (عباسی خلیفہ) نے خواب میں ملک الموت کو دیکھا ‘ منصور نے اس سے اپنی عمر کی مدت دریافت کی۔ ملک الموت نے اپنی پانچ انگلیاں دکھا دیں۔ اہل تعبیر سے تعبیر دریافت کی تو کسی نے کہا کہ پانچ برس ‘ کسی نے کہا کہ پانچ مہینے ‘ کسی نے کہا کہ پانچ دن۔ امام ابوحنیفہ سے دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا : یہ اشارہ ہے اس آیت کی طرف کہ یہ پانچوں چیزیں سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا۔ بحمد اللہ سورة لقمان کی تفسیر 22/ رجب 1206 ھ ؁ اور اس کا ترجمہ 12/ ربیع الثانی 1391 ھ ؁ کو ختم ہوا۔