30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 30:30

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙۗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۗۙ Open ayah 30:30 in the Quran reader

تو تم ایک طرف کے ہوکر دین (خدا کے رستے) پر سیدھا منہ کئے چلے جاؤ (اور) خدا کی فطرت کو جس پر اُس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے (اختیار کئے رہو) خدا کی بنائی ہوئی (فطرت) میں تغیر وتبدل نہیں ہو سکتا۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

فاقم وجھک للذین حنیفا . سو آپ اپنا رخ سیدھا دین کی طرف کرلیں۔ فاء سببیہ ہے یعنی جب اللہ کی وحدانیت ثابت ہوگئی اور ظاہر ہوگیا کہ مشرک اپنی خواہشات کے پیرو ہیں تو آپ اپنا رخ خالص طور پر بغیر ادھر ادھر مڑے دین اسلام کی طرف کرلیجئے۔ فطرت اللہ التی فطر الناس علیھا . (اپنے اوپر لازم کرلو) اللہ کی فطرت (یعنی دین اسلام کو) جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ فطرت (بمعنی پیدائش) سے مراد حضرت ابن عباس اور جماعت مفسرین کے نزدیک اسلام ہے۔ آیت میں براہ راست خطاب رسول اللہ کو اور آپ کے ذیل میں ساری امت کو ہے۔ فطرت کہنے کی وجہ یہ ہے کہ ساری مخلوق کے لئے اطاعت الٰہی لازم ہے۔ اَلَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا یعنی تمام لوگوں کے اندر صلاحیت اور استعداد پیدا کردی ہے کہ فطرت کو جان سکتے ہیں اور اس پر چل سکتے ہیں (گویا فطرت سے مراد ہے فطرتی استعداد جو ہر شخص میں پیدائشی ہے) بعض علماء کے نزدیک فطرت سے وہ وعدہ مراد ہے جو اللہ نے حضرت آدم اور آپ کی ساری نسل سے کیا تھا اور فرمایا تھا : اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْکیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ قَالُوْا بَلٰیتو سب نے جواب دیا : کیوں نہیں ‘ تو ہی ہمارا رب ہے۔ ہر بچہ جو پیدا ہوتا ہے ‘ اسی ازلی اقرار پر پیدا ہوتا ہے۔ یہ ہی حنیفیت ہے جس سارے انسانوں کی تخلیق ہوتی ہے۔ سورة آل عمران میں آیت مذکورہ کی تفسیر کے ذیل میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے آئی ہوئی یہ حدیث گزر چکی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : ہر بچہ فطرت ہی پر پیدا ہوتا ہے ‘ پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا عیسائی یا مجوسی بنا لیتے ہیں جیسے چوپائے سے چوپایہ سالم پیدا ہوتا ہے۔ کیا تم کسی کو پیدائشی نکٹا ‘ بوچا پاتے ہو ؟ پھر حضور ﷺ نے آیت فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا لاَ تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ تلاوت فرمائی۔ متفق علیہ۔ یعنی ہر بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو سالم سرشت لے کر آتا ہے ‘ اس کی طبیعت قبول حق کے لئے تیار ہوتی ہے۔ اگر اس پر بیرونی اثر نہ ڈالا جائے تو وہ اپنی سلامتی پر قائم رہتی ہے کیونکہ سادہ عقل اور سالم فہم کے اندر دین اسلام مرکوز ہے (دین اسلام سادگی اور سلامتی طبیعت ہی کا نام ہے) اب کسی بیرونی وجہ مثلاً ماں باپ کی پیروی یا کسی دوسرے سبب سے تبدیلی آتی ہے تو اس کی سلامتی (یعنی فطرت) زائل ہوجاتی ہے۔ لا تبدیل لخلق اللہ . اللہ کی اس پیدا کی ہوئی چیز کو نہ بدلو۔ یعنی دین خدا کو تبدیل نہ کرو۔ مجاہد اور ابراہیم نخعی نے کہا : فطرۃ اللہ پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہو ‘ اس کی پیروی کرو اور توحید کو شرک سے نہ بدلو۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ عبد اللہ بن مبارک نے حدیث کل مولود یولد علی الفطرۃ کی تشریح میں کہا : ہر بچہ کو اس سرشت پر پیدا کیا جاتا ہے جو اللہ کے علم میں ہے یعنی (بموجب علم الٰہی) ہر بچہ کو خوش نصیب یا بدنصیب پیدا کیا گیا ہے۔ آخر میں ہر آدمی اسی سعادت یا شقاوت کی طرف لوٹ جاتا ہے جو اللہ نے اس کی سرشت میں پیدا کردی ہے اور اس کا عمل فطرت کے مطابق آخر میں ہوجاتا ہے۔ اس مطلب پر آیت لاَ تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ کا معنی یہ ہوگا کہ جس سعادت یا شقاوت پر انسان کی فطری تخلیق ہوی ہے ‘ وہ بدل نہیں سکتی۔ سعید شقی نہیں ہوسکتا اور شقی سعید نہیں بن سکتا۔ حضرت ابن مسعود کا بیان ہے کہ رسول اللہ نے جو صادق مصدوق تھے ‘ فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک کا مادۂ تخلیق بصورت نطفہ ماں کے پیٹ میں جمع رہتا ہے ‘ پر اتنی ہی مدت خون بستہ کی شکل میں رہتا ہے ‘ پھر اتنی ہی مدت بوٹی (یعنی گوشت کا لوتھڑا) رہتا ہے ‘ پھر اللہ چار باتوں کا حکم دے کر ایک فرشتہ کو اس کی طرف بھیجتا ہے۔ فرشتہ اس کے عمل ‘ میعاد زندگی ‘ مقدار رزق اور اس کا بدبخت یا سعادت مند ہونا لکھ دیتا ہے ‘ پھر اس کے اندر روح پھونک دی جاتی ہے۔ قسم ہے اس کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ اس کا شکم مادر کے اندر کا لکھا غالب آتا ہے اور وہ دوزخیوں کا عمل کرنے لگتا ہے ‘ آخر دوزخ میں داخل ہوجاتا ہے اور کوئی ساری عمر دوزخیوں کے کام کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان ایک ہاتھ سے زیادہ کا فاصلہ نہیں رہتا ‘ آخر وہی لکھا غالب آتا ہے اور وہ جنتیوں کا عمل کرنے لگتا ہے اور جنت میں چلا جاتا ہے ‘ متفق علیہ۔ حضرت ابو درداء کا بیان ہے کہ ہم رسول اللہ کی خدمت میں بیٹھے تذکرہ کر رہے تھے کہ کیا ہوگا ‘ رسول اللہ نے فرمایا : اگر تم سنو کہ کوئی پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل گیا ہے تو سچ مان لینا اور اگر یہ سنو کہ کوئی آدمی اپنی جبلت (سرشت) سے بدل گیا ہے تو سچ نہ ماننا کیونکہ (آخرکار ہر) آدمی اسی کی طرف لوٹے گا جو اس کی سرشت ہے ‘ رواہ احمد۔ اس تفسیر پر آیت کا معنی یہ ہوگا کہ اللہ نے ہر شخص کو ایک فطرت پر پیدا کیا ہے جس سے وہ بدل نہیں سکتا۔ اور آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو خوش نصیب بنایا ہے لہٰذا اپنا رخ دین کی طرف سیدھا کرلیجئے ‘ اس صورت میں آیت مذکورہ کلام سابق کی علت ہوگی اور اخلاص دینی کی ترغیب اس سے مقصو دہو گی۔ عکرمہ اور مجاہد نے پوری آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ تخلیق خداوندی کو مت بدلو یعنی جانوروں کو خصی نہ کرو۔ ذلک الدین القیم . یہ (دین جس کی اقامت کا حکم دیا گیا ہے یا یہ فطرت) ہی سیدھا دین ہے۔ یعنی دین مستقیم ہے جس میں کسی طرح کی کجی نہیں ہے۔ ولکن اکثر الناس لا یعلمون . لیکن اکثر لوگ (یعنی کفار مکہ) نہیں جانتے (کہ یہ دین مستقیم ہے کیونکہ وہ غور ہی نہیں کرتے) ۔
Ayah 30:31

مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 30:31 in the Quran reader

(مومنو) اُسی (خدا) کی طرف رجوع کئے رہو اور اس سے ڈرتے رہو اور نماز پڑھتے رہو اور مشرکوں میں نہ ہونا

منیبین الیہ واتقوہ واقیموا الصلوۃ . تم خدا کی طرف رجوع ہو کر (فطرت کا اتباع کرو) اور اس سے ڈرو اور نماز کی پابندی کرو۔ مُنِیْبِیْنَ ۔ اَنَابَ سے ماخوذ ہے یعنی اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے ‘ یا سب کو چھوڑ کر اللہ ہی کی طرف کٹتے ہوئے۔ ولا تکونوا من المشرکین۔ اور ان شرک کرنے والوں میں سے مت ہوجاؤ
Ayah 30:32

مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 30:32 in the Quran reader

(اور نہ) اُن لوگوں میں (ہونا) جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور (خود) فرقے فرقے ہو گئے۔ سب فرقے اسی سے خوش ہیں جو اُن کے پاس ہے

من الذین فرقوا دینھم وکانوا شیعا کل حزب بما لدیہم فرحون . جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے کرلیا اور بہت سے گروہ ہوگئے۔ ہر گروہ اپنے اس طریقے پر مگن ہے جو اس کے پاس ہے۔ اَلَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَھُمْ ۔ اَلْمُشْرِکِیْنَ سے بدل ہے (یعنی مشرکوں سے مراد ہیں دین کو پارہ پارہ کرنے والے) مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے اپنی خواہشات کے زیر اثر اپنے اپنے معبود الگ الگ بنا لئے اور دین کے طریقہ کو بدل ڈالا تو ان مشرکوں میں سے نہ ہو۔ ان مشرکوں میں سے ہر گروہ مگن ہے اس طریقہ پر جس پر وہ قائم ہے۔ ہر گروہ کا امام جدا ہے جس نے ان کے لئے دین تراش لیا ہے اور پورا گروہ اس کے پیچھے چل رہا ہے۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ دین کو ٹکڑے کرنے والوں سے مراد ہیں اس امت کے اہل بدعت جنہوں نے دین حق کو چھوڑ کر اپنی اپنی خواہشات کا اتباع اختیار کرلیا ہے۔ ان کو مشرک اس وجہ سے فرمایا کہ ان کے ہر گروہ نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا رکھا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔ سوائے ایک فرقہ کے باقی سب لوگ دوزخ میں ہوں گے۔ عرض کیا گیا : وہ کونسا فرقہ ہوگا ؟ فرمایا : جس (طریقہ) پر میں اور میرے صحابہ ہیں (اس پر چلنے والا فرقہ نجات یافتہ ہوگا) رواہ الترمذی۔ مَالَدَیْھِمْ سے مراد ہے اپنا عقیدہ (یا طریقہ ‘ مترجم) فَرِحُوْنَ خوش ہیں کیونکہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں۔ دارمی نے بحوالۂ ابراہیم بن اسحاق بروایت ابن مبارک اوزاعی کا قول نقل کیا ہے کہ ابلیس نے اپنے ساتھیوں سے کہا : تم اولاد آدم کے پاس (بہکانے کے لئے) کس طریقے سے جاتے ہو ؟ ساتھیوں نے کہا : ہر طریقہ سے۔ ابلیس نے کہا : استغفار کے راستہ سے بھی جاتے ہو ؟ ساتھیوں نے کہا : یہ بات نہیں ہوسکتی ‘ استغفار تو توحید سے وابستہ ہے (یعنی ہر مؤمن استغفار کرتا ہے) ابلیس نے کہا : میں ان کے اندر ایسی چیز پھیلا دوں گا جس سے وہ کبھی استغفار نہیں کریں گے (کیونکہ اس چیز کو وہ گناہ نہیں خیال کریں گے بلکہ حق سمجھیں گے) چناچہ ابلیس نے اولاد آدم کے اندر خواہشات (کا اختلاف) پھیلا دیا۔
Ayah 30:33

وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 30:33 in the Quran reader

اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو پکارتے اور اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔ پھر جب وہ ان کو اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو ایک فرقہ اُن میں سے اپنے پروردگار سے شرک کرنے لگتا ہے

واذا مس الناس ضر دعوا ربھم منیبین الیہ . اور جب لوگوں کو (یعنی کفار مکہ کو) کوئی دکھ (یعنی قحط اور تنگ حالی) چھو جاتی ہے تو اپنے رب کی طرف رجوع ہو کر اس کو پکارتے ہیں۔ یعنی دوسرے معبودوں سے خدا کی طرف لوٹ آتے ہیں اور اپنے کسی معبود کو سوائے خدا کے نہیں پکارتے۔ ثم اذاقھم منہ رحمۃ اذا فریق منھم بربھم یشرکون . پھر جب وہ اپنی طرف سے ان کو کسی قدر رحمت کا مزہ چکھا دیتا ہے تو ان میں سے ایک گرہ اپنے رب کے ساتھ (دوسروں کو عبادت میں) شریک قرار دینے لگتا ہے۔ رحمت سے مراد شدت و تنگ حالی سے خلاصی یا سرسبزی۔ یُشرِکُوْنَ یعنی رحمت تو کرتا ہے رب اور خلاصی مل جاتی ہے تو خلاصی دینے میں ساجھی قرار دیتے ہیں وہ دوسروں کو۔ حضرت زید بن خالی جہنی کی روایت ہے کہ حدیبیہ میں رات کو بارش ہوئی ‘ صبح کو رسول اللہ نے ہم کو نماز پڑھائی۔ نماز ختم کرنے کے بعد لوگوں کی طرف رخ کر کے فرمایا : کیا تم کو معلوم ہے کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ صحابہ نے جواب دیا : اللہ جانے اور اللہ کا رسول۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اللہ نے فرمایا کہ صبح کو میرے بندوں میں سے کوئی مؤمن رہا ‘ کوئی کافر (یعنی میری نعمت کا منکر ہوگیا) ہوگیا۔ جس نے کہا : اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہم پر بارش ہوئی ‘ وہ مجھ پر ایمان رکھتا ہے اور ستاروں کا منکر ہے اور جس نے کہا : ہم پر فلاں ستارے کے نکلنے سے بارش ہوئی ‘ وہ میرا منکر ہے اور ستاروں پر یقین رکھنے والا ہے ‘ رواہ البخاری (مسلم وفی الصحیحین) حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جب بھی اللہ اوپر سے برکت (بارش) نازل فرماتا ہے ‘ انسانوں کا ایک گروہ اللہ کی رحمت کا منکر ہوجاتا ہے۔ بارش نازل تو کرتا ہے اللہ اور وہ کہتا ہے کہ فلاں فلاں ستاروں کی وجہ سے یہ بارش ہوئی ‘ رواہ مسلم۔
Ayah 30:34

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:34 in the Quran reader

تاکہ جو ہم نے ان کو بخشا ہے اُس کی ناشکری کریں سو (خیر) فائدے اُٹھالو عنقریب تم کو (اس کا انجام) معلوم ہو جائے گا

لیکفروا بما اتینھم . (جس کا حاصل یہ ہے کہ) ہم نے جو ان کو دیا ہے اس کی ناشکری کریں۔ لِیَکْفُرُوْا میں لام عاقبت ہے یعنی اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی عطا کردہ رحمت کے منکر ہوجاتے ہیں ‘ یا لام امر ہے اور امر سے مراد ہے دھمکی دینا یعنی وہ اب تو ہماری رحمت کا انکار کرلیں (اس کا نتیجہ جب عذاب کی شکل میں نکلے گا تو پتہ چلے گا) ۔ فتمتعوا فسوف تعلمون . (اب تو) مزے کرلو آئندہ تم کو (اس کا برا انجام) معلوم ہوجائے گا۔
Ayah 30:35

اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ یَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ یُشْرِكُوْنَ Open ayah 30:35 in the Quran reader

کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل نازل کی ہے کہ اُن کو خدا کے ساتھ شرک کرنا بتاتی ہے

ام انزلنا علیھم سلطنا فھو یتکلم بما کانوا بہ یشرکون . کیا ہم نے ان پر کوئی سند نازل کی ہے کہ وہ ان کو شرک کرنے کو کہہ رہی ہے ؟ اَمْ منقطعہ ہے یا متصلہ ہے اور فعل محذوف پر عطف ہے یعنی کیا یہ لوگ بغیر کسی دلیل کے شرک کر رہے ہیں ‘ یا اللہ نے شرک کی کوئی سند نازل کی ہے ‘ استفہام انکاری ہے۔ حضرت ابن عباس نے سلطانا کا ترجمہ کیا دلیل اور عذر۔ قتادہ نے کہا : (آسمانی) کتاب۔ بعض نے کہا : سلطان سے صاحب سلطان مراد ہے۔ یعنی فرشتہ جس کے ساتھ دلیل ہو ‘ یا پیغمبر جس کی تائید معجزہ سے کی گئی ہو۔ یَتَکَلَّمُ کہہ رہی ہو زبان سے یا بدلالت حال۔ دوسری آتی میں کِتَابُنَا یَنْطِقُ عَلَیْکُمْ بالْحَقِّ بِمَا کَانُوْا بِہٖ یُشْرِکُوْنَ ۔ مَا مصدریہ یعنی شرک اور صحت شرک کی شہادت دے رہی ہے ‘ یا ما سے مراد ہے امر اور باء سببیہ ہے یعنی ایسا امر جس کی وجہ سے یہ شرک کر رہے ہیں اور اس کو معبود بنا رہے ہیں۔
Ayah 30:36

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ اِذَا هُمْ یَقْنَطُوْنَ Open ayah 30:36 in the Quran reader

اور جب ہم لوگوں کو اپنی رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو اُس سے خوش ہو جاتے ہیں اور اگر اُن کے عملوں کے سبب جو اُن کے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں کوئی گزند پہنچے تو نااُمید ہو کر رہ جاتے ہیں

واذا ذقنا الناس رحمۃ فرحوا بھا وان تصبھم سیءۃ بما قدمت ایدھیھم اذاھم یقنطون اور جب ہم لوگوں کو رحمت (یعنی صحت و کشائش) کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو وہ (اس کی وجہ سے) اترا جاتے ہیں اور جب ان کے سابق کرتوت کی وجہ سے کوئی دکھ ان کو پہنچ جاتا ہے تو وہ یکدم نراس ہوجاتے ہیں۔ یعنی گناہوں کی نحوست کی وجہ سے جب کوئی بدحالی ان کو پہنچتی ہے۔ یہ بات مؤمن کی شان کے خلاف ہے ‘ مؤمن تو نعمت ملنے پر اپنے رب کا شکر کرتا ہے اور دکھ آنے پر صبر کرتا اور ثواب کی امید رکھتا ہے اور اپنے رب سے امید کو وابستہ رکھتا ہے۔
Ayah 30:37

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 30:37 in the Quran reader

کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کرتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کرتا ہے۔ بیشک اس میں ایمان لانے والوں کے لئے نشانیاں ہیں

اولم یروا ان اللہ یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر . کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ جس شخص کا رزق فراخ کرنا چاہتا ہے فراخ کرتا ہے اور جس کی روزی نپی تلی کرنا چاہتا ہے نپی تلی کردیتا ہے۔ یعنی کوئی وجہ نہیں کہ فراخی حال میں تو اترانے لگیں اور ناشکری کریں اور تنگ حالی میں ناامید ہوجائیں ‘ اللہ کی طرف نہ لوٹیں اور گناہوں پر پشیمان ہو کر توبہ نہ کریں اور گناہوں کو نہ چھوڑیں اور مؤمنوں کی طرح صبر نہ کریں اور مصیبت پڑنے پر ثواب کی امید نہ رکھیں۔ ان فی ذلک لایت لقوم یؤمنون . (رزق کی) اس (تنگی ‘ فراخی) میں مؤمنوں کے لئے بہت نشانیاں ہیں۔ وہ اللہ کی قدرت اور حکمت پر اس سے استدلال کرتے ہیں۔
Ayah 30:38

فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 30:38 in the Quran reader

تو اہلِ قرابت اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق دیتے رہو۔ جو لوگ رضائے خدا کے طالب ہیں یہ اُن کے حق میں بہتر ہے۔ اور یہی لوگ نجات حاصل کرنے والے ہیں

فات ذا القربی حقہ والمسکین وابن السبیل جب یہ معلوم ہوگیا کہ رزق کی تنگی ‘ فراخی اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے) تو قرابتداروں کو ان کا حق ادا کرو (یعنی ان کے ساتھ صلہ رحمی کرو ‘ اچھا سلوک کرو اور جو حق ان کا واجب ہے اس کو ادا کرو۔ اس کی تفصیل آیت وَعَلَی الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِکَ کی تفسیر میں گزر چکی ہے) اور مسکین و مسافر کو بھی اس کا حق ادا کرو۔ یعنی جس مسافر کے پاس پردیس میں کچھ نہ ہو اور وطن میں مال ہو اس کو اور دوسرے مسکینوں کو زکوٰۃ کے مال میں سے دو ۔ ذٰلِکَ خَیْرٌ یعنی قرابت داروں وغیرہ کو دینا خود لذت اندوز ہونے سے بہتر ہے۔ وَجْہَ اللہ اللہ کی ذات یا اللہ کی جہت۔ مراد یہ ہے کہ وہ اللہ ہی کی رضا کے طلبگار ہیں ‘ اسی سے ثواب چاہتے ہیں۔ شہرت حاصل کرنے اور چرچا ہونے کے لئے نہیں دیتے۔ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ وہ ہی فلاح پانے والے ہیں کیونکہ انہوں نے فای دنیا دے کر لازوال آخرت خریدی ہے۔ یعنی دوسرے لوگ فلاح یاب نہیں ہیں۔
Ayah 30:39

وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ Open ayah 30:39 in the Quran reader

اور جو تم سود دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں افزائش ہو تو خدا کے نزدیک اس میں افزائش نہیں ہوتی اور جو تم زکوٰة دیتے ہو اور اُس سے خدا کی رضا مندی طلب کرتے ہو تو (وہ موجبِ برکت ہے اور) ایسے ہی لوگ (اپنے مال کو) دو چند سہ چند کرنے والے ہیں

وما اتیتم من ربا لیربوا فی اموال الناس فلا یربوا عند اللہ اور جو چیز تم اس غرض سے دو گے کہ وہ لوگوں کے مال میں پہنچ کر زیادہ ہوجائے تو وہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتا۔ وَمَا اٰتَیْتُمْ یعنی جو کچھ تم سود خواروں کو دو گے۔ مِنْ رِّبًا۔ رِبَوا سے مراد ہے لین دین میں ایک طرف سے وہ زیادتی جو شرعاً حرام کردی گئی ہے ‘ یا وہ مباح اور عطیہ اور ہدیہ مراد ہے جس کو دینے کی غرض یہ ہو کہ اس سے زیادہ واپس مل جائے گا۔ اس تشریح پر عطیہ کو ربوا کہنا مآل کے اعتبار سے ہے یعنی وہ زیادتی جو عطیہ کا اصل مقصد ہے۔ فِیْ اَمْوَال النَّاس یعنی دینے والوں کے مال میں یا جن کو دیا جاتا ہے ان کے مال میں۔ فَلاَ یَرْبُوْا عِنْدَ اللہ یعنی اللہ کے نزدیک اس میں برکت نہیں ہوتی ‘ اللہ کے نزدیک وہ بڑھتا نہیں۔ بغوی نے لکھا ہے : آیت کا کیا معنی ہے ‘ علماء تفسیر نے اس میں اختلاف کیا ہے۔ سعید بن جبیر ‘ مجاہد ‘ طاؤس ‘ قتادہ اور اکثر اہل تفسیر نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ جو شخص کسی کو کچھ عطیہ اس لالچ میں دیتا ہے کہ وہ لوٹا کر اس سے زیادہ دے دے تو گو شرعاً یہ فعل جائز ہے لیکن ایسے دینے کو قیامت کے دن کوئی ثواب نہیں ملے گا۔ لا یربوا عند اللہ کا یہی معنی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے لئے یہ عمل بھی ناجائز تھا۔ اللہ نے اپنے رسول سے فرمایا تھا : ولا تمنن تستکثر۔ ضحاک نے کہا : اس سے مراد وہ آدمی ہے جو اپنے کسی رشتہ دار اور دوست کو اس کا مال بڑھانے کے لئے کچھ دیتا ہے ‘ رضائے خداوندی کا حصول اس کے پیش نظر نہیں ہوتا۔ شعبی نے کہا : اس سے مراد وہ شخص ہے جو دوسرے آدمی کے ساتھ چمٹا رہتا ہے ‘ اس کی خدمت کرتا ہے اور سفر میں بھی اس کے ساتھ رہتا ہے۔ وہ آدمی اپنی تجارت کے نفع میں اس کا کوئی حصہ مقرر کردیتا ہے تاکہ وہ کام میں مالک کا ہاتھ بٹاتا رہے۔ ایسے دینے کا آخرت میں کوئی حاصل نہیں کیونکہ رضائے رب مطلوب نہیں ہے (اپنا کام کرانا مقصود ہے ‘ عمل کا معاوضہ دینا ہے ‘ مترجم) رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : اعمال کا مدار نیت پر ہے۔ جس شخص کی جو نیت ہوگی ‘ وہی اس کو ملے گا۔ جس شخص نے ہجرت اللہ اور رسول کے لئے کی ہوگی ‘ اس کی ہجرت اللہ اور رسول کے لئے ہوگی (یعنی وہ ثواب کا مستحق ہوگا) اور جس شخص نے دنیا پانے یا عورت سے نکاح کرنے کے لئے کی ہوگی ‘ اس کی ہجرت (ا اللہ اور رسول کے لئے نہیں بلکہ) اسی چیز کے لئے قرار پائے گی جس کے لئے اس نے کی ہوگی۔ (متفق علیہ) وما اتیتم من زکوٰۃ تریدون وجہ اللہ فاولئک ھم المضعفون . اور جو اللہ کی خوشنودی طلب کرتے ہوئے زکوٰۃ دو گے تو ایسے ہی لوگ (خدا تعالیٰ کے پاس) بڑھاتے رہیں گے۔ مَا اٰتَیْتُمْ یعنی زکوٰۃ دو گے یا خیرات دو گے۔ وَجَْہَ اللہ اللہ کی ذات یا اللہ کا عطا کردہ ثواب یا اللہ کی خوشنودی۔ اَلْمُضْعِفُوْنَ یعنی ایسے لوگوں کو ثواب چند گنا ملے گا۔ ایک نیکی کا ثواب دس گنے سے لے کر سات سو گنے تک اور اس سے بھی زیادہ جس کی کوئی حد نہیں اور زکوٰۃ کی برکت سے ان کے مالوں میں بھی ترقی ہوگی۔ یا اَلْمُضْعِفُوْنَ کا ترجمہ ہے : چند گونہ ثواب والے جیسے مقوی قوت والا ‘ موسر مال والا (یعنی باب افعال کی ہمزہ صاحب ماخذ ہونے پر دلالت کر رہی ہے ‘ مترجم) ۔ عبارت کا ظاہری تقاضا تھا کہ لاَ یُرْبُوْا عِنْدَ اللہ کے مقابلے میں یَرْبُوْا عِنْدَ اللہ کہا جاتا لیکن طرز ادا میں تغیر مبالغے کیلئے کیا گیا اور اٰتَیْتُمْ اور تِریْدُوْنَ کے خطاب سے ضمیر غائب کی طرف انتقال کیا اور ھم فرمایا ‘ ایسا زکوٰۃ دینے والوں کی عظمت کو ظاہر کرنے کیلئے کیا گویا ملائکہ اور اونچے خاص درجہ کی مخلوق کو خطاب کر کے زکوٰۃ دینے والوں کی عظمت شان سے واقف بنایا (گویا یوں فرمایا کہ فرشتو ! تم جان لو کہ زکوٰۃ دینے والوں کا مرتبہ بڑا ہے وہ مضعف ثواب ہیں ‘ مترجم) زجاج نے کہا : اَھْلُھَاکا لفظ محذوف یعنی اہل زکوٰۃ مضعف اجرو ثواب ہیں۔
Ayah 30:40

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 30:40 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر تم کو رزق دیا پھر تمہیں مارے گا۔ پھر زندہ کرے گا۔ بھلا تمہارے (بنائے ہوئے) شریکوں میں بھی کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ کر سکے۔ وہ پاک ہے اور (اس کی شان) ان کے شریکوں سے بلند ہے

اللہ الذی خلقکم ثم رزقکم ثم یمیتکم ثم یحییکم ھل من شرکائکم من یفعل من ذلکم من شی . اللہ ہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر تم کو رزق دیا پھر تم کو موت دے گا پھر تم کو زندہ کرے گا۔ کیا تمہارے (مفروضہ) شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے کہ اس میں سے کچھ بھی کرتا ہو ؟ ھَلْ مِنْ شُرَکَآءِ کُمْ یعنی بتوں وغیرہ کو جو تم شریک الوہیت قرار دیتے ہو ‘ ان میں سے کوئی ایسا کرسکتا ہے ؟ ا اللہ نے پہلے لوازم الوہیت ذکر کئے پھر ان کو اپنی ذات کے لئے ثابت کیا اور دوسرے معبودوں سے ان کی نفی کردی اور بطور تاکید استفہام انکاری کا طرز بیان اختیار کیا۔ عقلی دلائل ‘ مشاہدہ اور اجماع (انسانی) کا یہی لازمی تقاضا ہے۔ اس کے بعد اگلی آیت میں اپنی ذات کے ہر شرک سے پاک ہونے کا نتیجہ نکالا اور فرمایا : سبحنہ وتعالی عما یشرکون وہ پاک ہے اور ان کی شرک آفرینیوں سے بالا ہے۔
Ayah 30:41

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 30:41 in the Quran reader

خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا ہے تاکہ خدا اُن کو اُن کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے عجب نہیں کہ وہ باز آجائیں

ظھر الفساد فی البرو البحر . خشکی اور سمندر میں فساد پھیل رہا ہے۔ یعنی اموات کی کثرت ‘ غرقابی ‘ آگ لگانا اور جلانا ‘ جنگ وجدال ‘ مار دھاڑ ‘ خوں ریزی ‘ ظلم ‘ دکھ ‘ ضرر ‘ امراض اور گمراہی کی کثرت ہوگئی ‘ سمندروں میں طوفان اور آندھیاں آنے لگیں ‘ سمندر کے جانور باہم لڑنے لگے۔ بغوی نے لکھا ہے بر سے مراد ہے صحرا ‘ بیابان اور بحر سے مراد ہیں وہ شہر اور بستیاں جو نہروں اور دریاؤں کے کنارے پر آباد ہیں۔ عطیہ نے کہا : روئے زمین پر جو شہر وغیرہ ہیں ‘ وہ بر ہیں اور بحر تو معروف ہی ہے (یعنی سمندر) بارش کی کمی کا اثر جس طرح خشکی پر پڑتا ہے اسی طرح سمندر پر بھی پڑتا ہے۔ بارش ہوتی ہے تو سمندر کی تہہ سے سیپ اوپر سطح پر آجاتی ہے اور منہ کھول دیتی ہے۔ اس کے منہ میں بارش کا جو قطرہ پڑجاتا ہے وہ موتی ہوجاتا ہے۔ اگر بارش نہیں ہوتی تو سیپ اوپر نہیں آتی اور موتی نہیں بنتا۔ حضرت ابن عباس اور مجاہد کا قول ہے کہ بر میں فساد سے مراد ہے آدم کے بیٹے (قابیل) کا اپنے بھائی (ہابیل) کو قتل کردینا اور بحر میں فساد سے مراد ہے ظالم بادشاہ (جلندی) کا (حضرت موسیٰ کے زمانہ میں) کشتیوں کو چھین لینا جیسا کہ فرمایا : یَاْخُذُ کُلَّ سَفِیْنَۃٍ غَصْبًا۔ فریابی ‘ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد کا تفسیری قول اس طرح نقل کیا ہے کہ بر میں فساد ظاہر ہوگیا (یعنی پیدا ہوگیا) اس طرح کہ قابیل نے اپنے بھائیی کو قتل کردیا اور بحر میں فساد کا ظہور جلندی شاہ عمان کی وجہ سے ہوا کہ وہ ہر کشتی کو چھین لیتا تھا۔ ضحاک نے کہا : زمین پہلے سرسبز اور شاداب تھی۔ جس درخت کے پاس آدمی جاتا تھا ‘ اس کو بارآور پاتا تھا۔ اور سمندر کا پانی پہلے میٹھا تھا اور شیر ‘ گائے ‘ بکری کو قتل کرنے کا ارادہ بھی نہیں کرتا تھا لیکن قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا تو زمین خشک ہوگئی ‘ درخت پر خار ہوگئے اور سمندر کا پانی شور ہوگیا اور جانور ایک دوسرے کو پھاڑنے لگے۔ بما کسبت ایدی الناس . لوگوں کے (برے) اعمال کی وجہ سے۔ یعنی ان کے گناہوں کی نحوست کی وجہ سے یا ان کے برے عمل کرنے کی وجہ سے۔ مطلب یہ ہے کہ اہل مکہ جو قحط میں مبتلا ہوئے کہ ہڈیاں اور مردار تک کھا گئے ‘ یہ انہی کے گناہوں کی نحوست کی وجہ سے ہوا۔ لیذیقھم بعض الذی عملوا لعلھم یرجعون . تاکہ اللہ ان کو ان کے اعمال کی کچھ سزا کا مزہ چکھا دے کہ وہ (اپنے گندے اعمال سے) توبہ کرلیں۔ قتادہ نے کہا : رسول اللہ کی بعثت سے پہلے زمین ظلم اور گمراہی سے گھری ہوئی تھی۔ جب حضور ﷺ کی بعثت ہوگئی تو جو لوٹنے والے تھے ‘ گمراہی سے لوٹ آئے۔
Ayah 30:42

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّشْرِكِیْنَ Open ayah 30:42 in the Quran reader

کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جو لوگ (تم سے) پہلے ہوئے ہیں ان کا کیسا انجام ہوا ہے۔ ان میں زیادہ تر مشرک ہی تھے

قل سیروا فی الارض فانظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبل کان اکثرھم مشرکین آپ کہہ دیجئے کہ زمین میں گھوم پھر کر دیکھو کہ (تم سے) پہلے لوگوں کا انجام کیا ہوا ‘ ان میں سے اکثر مشرک تھے (اس لئے ان پر عذاب آیا۔ دیکھو لو کہ ان کے گھر کھنڈر پڑے ہیں) ۔ کَانَ اَکْثَرْھُمْ مُّشْرِکِیْنَکا یہ مطلب ہے کہ (گو ان کے گناہ دوسرے بھی ہیں لیکن) شرک ان پر غالب تھا اس لئے تباہ کر دئیے گئے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ شرک بہتوں میں تھا اور دوسرے گناہ کم لوگوں میں تھے لیکن ہلاک ان کو بھی کردیا گیا کیونکہ مشرکوں کے ساتھ ان ی مصاحبت تھی ‘ یا اس لئے کہ انہوں نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو چھوڑ دیا تھا (خود مشرک نہ تھے لیکن مشرکوں کو نیکی کا حکم ور برائی سے بازداشت بھی نہیں کرتے تھے) ۔
Ayah 30:43

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ یَوْمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ Open ayah 30:43 in the Quran reader

تو اس روز سے پہلے جو خدا کی طرف سے آکر رہے گا اور رک نہیں سکے گا دین (کے رستے) پر سیدھا منہ کئے چلے چلو اس روز (سب) لوگ منتشر ہوجائیں گے

فاقم وجھک للذین القیم من قبل ان یاتی یوم لا مردلہ من اللہ . سو آپ اپنا رخ دین قیم (یعنی اسلام) کی طرف کرلیجئے قبل اس کے کہ اللہ کی طرف سے وہ دن آجائے کہ جس کو لوٹانا ممکن نہیں۔ فَاَقِمْ وَجْھَکَ یعنی گزشتہ کافروں کی بدانجامی سے ڈر کر آپ اپنا رخ دین مستقیم کی طرف کرلیجئے۔ لاَ مَرَدَّلَہٗ یعنی جس کو لوٹا دینے والا کوئی نہیں۔ ممکن ہے اس دن سے مراد ہو دنیوی عذاب کا مقرر دن ‘ لیکن صحیح یہ ہے کہ اس سے قیامت کا دن مراد ہے۔ یومئذ یصدعون . اس روز سب لوگ جدا جدا ہوجائیں گے۔ یعنی آخرت کے روز ایک فریق جنت میں اور دوسرا فریق دوزخ میں چلا جائے گا۔ یا دنیا میں ایک فریق عذاب میں مبتلا کردیا جائے گا اور دوسرا فریق عذاب سے محفوظ ہوگا جیسے بدر کے دن ہوا۔
Ayah 30:44

مَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ یَمْهَدُوْنَۙ Open ayah 30:44 in the Quran reader

جس شخص نے کفر کیا تو اس کے کفر کا ضرر اُسی کو ہے اور جس نے نیک عمل کئے تو ایسے لوگ اپنے ہی لئے آرام گاہ درست کرتے ہیں

من کفر فعلیہ کفرہ . جو کفر کر رہا ہے اسی پر اس کا کفر (یعنی دنیا اور آخرت میں کفر کا وبال) پڑے گا۔ ومن عمل صالحا فلا نفسھم یمھدون اور جو نیک عمل کر رہے ہیں سو وہ اپنے ہی لئے سامان کر رہے ہیں۔ یعنی قبروں میں اور جنت میں اپنی اپنی اچھی فرود گاہیں تیار کر رہے ہیں۔
Ayah 30:45

لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 30:45 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اُن کو خدا اپنے فضل سے بدلہ دے گا۔ بیشک وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا

لیجزی الذین امنوا عملوا الصلحت من فضلہ . جس کا حاصل یہ ہوگا کہ اللہ اپنے فضل سے ان لوگوں کو جزا دے گا جو ایمان لائے اور نیک کام کئے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : تاکہ اعمال صالحہ سے زیادہ ان کو ثواب عنایت کرے (یعنی جتنے ثواب کے وہ اللہ کے مقرر کردہ قانون سے مستحق قرار پاتے ہیں اس سے زیادہ اپنے فضل سے ان کو عطا کرے) صرف ثواب اعمال کا آیت میں ذکر کیا (سزائے کفر نہیں بیان کی) ۔ اس میں اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ اللہ ثواب دینا ہی چاہتا ہے۔ ہاں جو شخص خود انکار و کفر کر کے عذاب آخرت کو پسند کرے تو اللہ بھی ان کو عذاب دے گا۔ انہ لا یحب الکفرین . بیشک اللہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔ پس وہ اپنے کفر کی وجہ سے مستحق فضل نہیں قرار پاتے۔ مذکورہ بالا تشریح اس صورت میں ہوگی جب لِیَجْزِیَ کا تعلق یَمْھَدُوْنَ سے قرار دیا جائے گا لیکن شیخ جلال الدین نے لکھا ہے کہ لِیَجْزِیَ کا تعلق یَصَّدَّعُوْنَ سے ہے۔ اس تفسیر پر دونوں فریقوں کے اعمال کے بدلے کا ذکر آیت میں ہوجائے گا۔ اِنَّہٗ لاَ یُحِبُّ الْکَافِرِیْنَ کا مرادی مطلب یہ ہوگا کہ اللہ کافروں کو سزا دے گا۔ آیت میں مِنْ فَضْلِہٖ کا لفظ دلالت کر رہا ہے کہ اعمال کا ثواب عطا فرمانا محض اللہ کی مہربانی ہے (اعمال صالحہ سے استحقاق ذاتی نہیں پیدا ہوجاتا ‘ مترجم) اگر فضل سے مراد عطا ہو یا (اعمال کے واقعی) ثواب کی بیشی مراد ہو تو یہ بلا دلیل تاویل ہوگی۔ اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جو ابو الحارث کی روایت سے امام احمد نے الزہد میں بیان کی ہے کہ اللہ نے حضرت داؤد کے پاس وحی بھیجی : میرے نیک بندوں کو ڈراؤ ‘ وہ مغرور نہ ہوجائیں اور اپنے اعمال پر بھروسہ نہ کرلیں۔ کیونکہ میرے بندوں میں کوئی ایسا بندہ نہ ہوگا کہ میں اس کو حساب فہمی کے لئے کھڑا کروں اور اس کے معاملہ میں عدل سے کام لوں (اور وہ میرے عذاب سے بچ جائے بلکہ جس نیک بندے کو حساب فہمی کے لئے کھڑا کروں گا اور عدل سے کام لوں گا) تو ضرور اس کو عذاب دوں گا۔ ابو نعیم نے حضرت علی کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : اللہ نے بنی اسرائیل کے ایک نبی کے پاس وحی بھیجی کہ اپنی امت کے ان بندوں سے جو اطاعت گزار ہیں ‘ کہہ دو کہ اپنے (نیک) اعمال پر بھروسہ نہ کرلیں۔ کیونکہ قیامت کے دن میں جس بندے کو حساب فہمی کے لئے کھڑا کروں گا اور اس کو عذاب دینا چاہوں گا تو عذاب دوں گا (اور یہ ظلم نہ ہوگا ‘ عدل ہوگا) اور اپنی امت کے گناہ گاروں سے کہہ دو کہ وہ مایوس نہ ہوجائیں میں بڑے بڑے گناہوں کو بخشتا ہوں اور مجھے (کسی کے گناہ کی) پرواہ نہیں ہوتی۔ طبرانی نے حضرت واثلہ بن استع کا بیان نقل کیا ہے کہ قیامت کے دن اللہ ایک ایسے بندے کو اٹھائے گا جس کا کوئی گناہ نہیں ہوگا اور اس سے فرمائے گا (بتا) تجھے دو باتوں میں سے کونسی بات پسند ہے ‘ کیا تو اپنے عمل کا بدلہ چاہتا ہے یا میرے فضل کا خواستگار ہے ؟ بندہ عرض کرے گا : تو خوب واقف ہے کہ میں نے تیری نافرمانی نہیں کی۔ اللہ فرمائے گا : میرے بندے (کے اعمال) کا میری ایک نعمت سے مقابلہ کرو۔ چناچہ (جب نعمت کا مقابلہ عمل سے کیا جائے گا تو) تمام نیکیوں کو اللہ کی ایک نعمت (مقابلہ کے وقت) اپنے اندر سما لے گی اور کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی۔ آخر بندہ عرض کرے گا : تیرے فضل و رحمت سے (میں مغفرت کا طلبگار ہوں) ۔ بزار نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : قیامت کے دن آدمی کے تین رجسٹر سامنے لائے جائیں گے۔ ایک رجسٹر میں ساری نیکیوں کا اندراج ہوگا ‘ دوسرے رجسٹر میں سارے گناہ لکھے ہوں گے اور تیسرے رجسٹر میں اللہ کی نعمتیں درج ہوں گی۔ اللہ نعمتوں کے رجسٹر سے سب سے چھوٹی نعمت کو لے کر فرمائے گا : اس بندہ کے تمام نیک اعمال کا مقابلہ کر۔ چناچہ ایک چھوٹی نعمت تمام اعمال کو گھیر لے گی۔ نعمتوں کا رجسٹر کہے گا : تیری عزت کی قسم ! میں نے ابھی پورا پورا احاطہ کیا بھی نہیں ہے کہ سارے نیک اعمال ختم ہوگئے اور گناہ باقی ہیں۔ لیکن جب ا کسی بندے پر رحم کرنے چاہے گا تو فرمائے گا : میرے بندے ! میں نے تیری نیکیاں چند در چند کردیں (یعنی ہزاروں گنا کردیں) اور تیرے گناہوں سے درگزر کرلی اور اپنی نعمتیں تجھے بخش دیں۔ طبرانی نے الاوسط میں حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جس نے لا الہ الا اللہ کہہ دیا (یعنی یقین کے ساتھ اقرار کرلیا) اللہ کے نزدیک اس کے لئے (جنت میں داخ کرنے کا) ایک پختہ وعدہ ہوگیا اور جس نے سبحان اللہ کہا (یعنی اللہ کو ہر عیب اور برائی سے پاک سمجھا اور اس کا اقرار کیا) اس کے لئے اس کلمہ کی وجہ سے ایک لاکھ نیکیاں لکھ دی جائیں گی۔ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! پھر ہم ہلاک کیسے ہوسکتے ہیں (یعنی پھر ہم کو عذاب نہیں ہوسکتا) فرمایا : قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! قیامت کے دن آدمی ایسے (وزنی) اعمال لے کر آئے گا جو پہاڑ پر بھی بھاری ہوں گے لیکن اللہ کی نعمتوں میں سے ایک ہی نعمت کے مقابلہ میں ختم ہوجائیں گے۔ یہ سارا کچھ تو اس روز اللہ کی مہربانی سے ہوگا۔ اللہ اس روز اپنی رحمت سے جس پر چاہے گا مہربانی فرمائے گا۔ بخاری اور مسلم نے حضرت عائشہ اور حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : سیدھی چال رکھو اور لگے لگے چلو اور خوش ہوجاؤ کیونکہ جنت کے اندر کسی کو اس کے اعمال نہیں لے جائیں گے۔ صحابہ نے عرض کیا : کیا آپ بھی یا رسول اللہ (اپنے اعمال کی وجہ سے جنت میں نہیں جائیں گے) فرمایا : اور نہ میں ‘ مگر یہ کہ اللہ مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانک لے۔ مسلم نے یہ حدیث حضرت جابر کی روایت سے بھی بیان کی ہے اور بزار نے حضرت ابوموسیٰ کے بیٹے اور شریک بن طارق کی روایت سے اور امام احمد نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے اور طبرانی نے شریک بن طریف اور اسامہ بن شریک اور اسد بن کرز کی کی روایت سے یہ حدیث نقل کی ہے۔ دو شبہات (1) اگر یہ مضمون صحیح ہے تو پھر طاعت کی کیا ضرورت اور ترک معصیت کا کیا فائدہ کیونکہ اگر اللہ مہربانی نہیں کرے گا تو اطاعت گزاروں کو بھی جہنم میں بھیج دے گا اور مہربانی فرمائے گا تو نافرمانوں کو بھی جنتی بنا دے گا۔ (2) اللہ نے فرمایا ہے : اُدْخُلُوْا الْجَنَّۃَ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ تم جو عمل کرتے ہو ان کے سبب سے جنت میں داخل ہوجاؤ (اس سے معلوم ہوا کہ نیک مؤمن اپنے عمل کی وجہ سے جنت میں جائے گا) اور احادیث مذکورہ کا مطلب اس کے خلاف ہے۔ اول شبہ کا جواب یہ ہے کہ بندہ کی طرف سے اللہ کی اطاعت چاہتی ہے کہ اللہ بندے سے محبت کرے۔ اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیتے ہوئے فرمایا : اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہ فَاتَّبِعُوْنِیْ تُحْبِبْکُمْ اللہ وَیَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرا اتباع کرو ‘ ایسا کرو گے تو اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔ رسول اللہ نے اللہ تعالیٰ کا قول نقل کرتے ہوئے فرمایا تھا : میرے بندہ نوافل کے ذریعہ سے میرے قریب آجاتا ہے یہاں تک کہ مجھے اس سے محبت ہوجاتی ہے۔ راوہ البخاری عن ابی ہریرہ فی حدیث طویل۔ محبت ‘ مہربانی چاہتی ہے اور مہربانی کا تقاضا ہے کہ ہر بھلائی عطا کی جائے اور ہر دکھ دور کردیا جائے۔ دوسرے شبہ کا جواب یہ ہے کہ اعمال کے فرق کے لحاظ سے جنت کے درجات مختلف ہیں جن کا حصول اعمال کے ذریعہ سے ہوگا اگرچہ جنت میں ابتدائی داخلہ اور اس کے اندر ہمیشہ رہنا محض اللہ کے فضل و رحمت ہوگا۔ اس کی تائید حضرت ابن مسعود کے اس قول سے ہوتی ہے جو ہناد نے الزہد میں نقل کیا ہے ‘ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : تم پل صراط سے اللہ کے عفو کی وجہ سے پار ہوجاؤ گے اور جنت کے اندر اللہ کی رحمت سے داخل ہو گے اور درجات جنت کی تقسیم تمہارے اعمال کے مطابق ہوگی۔ ابو نعیم نے عون بن عبد اللہ کی روایت سے بھی یہ قول نقل کیا ہے۔
Ayah 30:46

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّ لِیُذِیْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 30:46 in the Quran reader

اور اُسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ خوشخبری دیتی ہیں تاکہ تم کو اپنی رحمت کے مزے چکھائے اور تاکہ اس کے حکم سے کشتیاں چلیں اور تاکہ اس کے فضل سے (روزی) طلب کرو عجب نہیں کہ تم شکر کرو

ومن ایتہ ان یرسل الریاح مبشرات ولیذیقکم من رحمتہ ولتجری الفلک بامرہ ولتبتغوا من فضلہ ولعلکم تشکرون اور اسی کی نشانیوں میں سے (ایک) یہ ہے کہ وہ ہواؤں کو بھیجتا ہے خوش خبریاں دیتی ہوئی اور اس لئے کہ تم کو اپنی رحمت کا مزہ چکھائے اور اس لئے کہ کشتیاں اس کے حکم سے (ہواؤں کی مدد سے) رواں ہوں اور اس لئے کہ تم اس کے فضل کی تلاش کرو اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔ مِنْ اٰیٰتِہٖ یعنی اللہ کی قدرت کے دلائل میں سے ایک دلیل یہ ہے۔ وَلِیُذِیْقَکُمْ تاکہ طرح طرح کے اناج اور پھلوں کے مزے چکھائے۔ وَلِتَجْرِیَ الْفُلْکُ اور اس غرض سے ہوائیں چلاتا ہے کہ ہواؤں کے ذریعہ سے بحکم خدا کشتیاں (اور جہاز) چلیں۔ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ اور اس لئے ہوائیں چلاتا ہے کہ تم دریائی سفر کر کے تجارتی نفع حاصل کرو اور اللہ کے فضل کو طلب کرو۔ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو اور دنیا و آخرت میں شکر کے ثمرات تم کو حاصل ہوں۔
Ayah 30:47

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا١ؕ وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 30:47 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے بھی پیغمبر ان کی قوم کی طرف بھیجے تو وہ اُن کے پاس نشانیاں لےکر آئے سو جو لوگ نافرمانی کرتے تھے ہم نے اُن سے بدلہ لےکر چھوڑا اور مومنوں کی مدد ہم پر لازم تھی

ولقد ارسلنا من قبلک رسلا الی قومھم فجاء وھم بالبینت . اور آپ سے پہلے ہم بہت سے پیغمبر ان کی قوموں کے پاس بھیج چکے ہیں اور پیغمبر (اپنی سچائی کی) واضح نشانیاں لے کر ان کے پاس گئے (قوم میں سے کسی نے ان کو سچا مانا اور کسی نے جھوٹا قرار دیا) ۔ فانتقمنا من الذین اجرموا . تو ہم نے مجرموں سے انتقام لیا یعنی جن لوگوں نے انبیاء کو ماننے سے انکار کیا ‘ ان کو سزا دی۔ وکان حقا علینا نصر المؤمنین . اور مؤمنوں کی مدد ہم پر لازم ہے۔ یعنی جو لوگ پیغمبروں پر ایمان لائے ہم نے ان کی مدد کی کیونکہ مؤمنوں کی مدد کرنے کا ہم پر حق ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مؤمنوں کو فتح یاب کرنے کے لئے ہم نے کافروں کو عذاب دیا۔ ایک شبہ آیت سے معلوم ہو رہا ہے کہ اللہ نے اپنی مہربانی سے مؤمنوں کو فتح یاب کرنا اپنے اوپر لازم کرلیا ہے یعنی کافروں کو مؤمنوں پر کبھی فتح حاصل نہیں ہوسکتی لیکن ہم اس کے خلاف کبھی کافروں کا مؤمنوں پر غلبہ دیکھتے ہیں۔ ایک ازالہ اَلْمُؤْمِنِیْنَ ‘ الف لام عہدی ہے یعنی وہ مؤمن جو محض اللہ کا بول بالا کرنے کے لئے کافروں سے جہاد کرتے ہیں ان کی مدد کرنے کا حق اللہ نے اپنے اوپر لازم کرلیا ہے (اور پھر فوری غلبہ ضروری نہیں) مآل کار ان کو غلبہ اللہ کی طرف سے حاصل ہوگا۔ حضرت ابو درداء کا بیان ہے کہ میں نے خود سنا ‘ رسول اللہ فرما رہے تھے : جو مسلم اپنے بھائی کی آبرو کی طرف سے دفاع کرتا ہے اللہ پر اس کا حق ہوجاتا ہے کہ وہ قیامت کے دن دوزخ کی آگ کو اس کی طرف سے لوٹا دے۔ پھر حضور ﷺ نے یہی روایت تلاوت فرمائی۔ ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔ طبرانی اور اسحاق بن راہویہ نے یہ حدیث حضرت اسماء بنت یزید کی روایت سے بیان کی ہے۔ بعض قرأتوں میں حَقًّا پر وقف ہے اس صورت میں حَقًّا کا تعلق اِنْتَقَمْنَا سے ہوگا۔
Ayah 30:48

اَللّٰهُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُهٗ فِی السَّمَآءِ كَیْفَ یَشَآءُ وَ یَجْعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَۚ Open ayah 30:48 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جو ہواؤں کو چلاتا ہے تو وہ بادل کو اُبھارتی ہیں۔ پھر خدا اس کو جس طرح چاہتا ہے آسمان میں پھیلا دیتا اور تہ بتہ کر دیتا ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے بیچ میں سے مینھہ نکلنے لگتا ہے پھر جب وہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے اُسے برسا دیتا ہے تو وہ خوش ہو جاتے ہیں

اللہ الذی یرسل الریح فتثیر سحابا فیبسطہ فی السماء کیف یشاء ویجعلہ کسفا فتری الودق یخرج من خللہ اللہ ایسا ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے پھر ہوائیں بادلوں کو اٹھا کر لاتی ہیں پھر اللہ جس طرح چاہتا ہے بادل کو (کبھی) آسمان میں پھیلاتا ہے (اور کبھی) اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے اور (دونوں صورتوں میں) تم کو مینہ اس کے اندر سے نکلتا دکھائی دیتا ہے۔ اَلْسَّمَآء سے مراد ہے اوپر کی سمت جیسے دوسری آیت میں آیا ہے وَفَرْعُھَا فِی السَّمَآءِ ۔ یَبْسُطُ یعنی ایک طرف سے دوسری طرف کو رواں کرتا ہے ‘ گھنگھور گھٹا کی شکل میں یا بغیر گھٹا کے۔ مقصد یہ ہے کہ کبھی پھیلا دیتا ہے اور کبھی ٹکڑے ٹکڑے الگ الگ کردیتا ہے۔ فاذا اصاب بہ من یشاء من عبادہ اذاھم یستبشرون . پھر جب وہ اپنے بندوں میں سے جن (کی بستی) پر اس کو پہنچا دیتا ہے وہ خوشیاں کرنے لگتے ہیں۔ یعنی کھیتیوں کے سرسبز ہوجانے سے خوش ہوجاتے ہیں۔
Ayah 30:49

وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْهِمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمُبْلِسِیْنَ Open ayah 30:49 in the Quran reader

اور بیشتر تو وہ مینھہ کے اُترنے سے پہلے نااُمید ہو رہے تھے

وان کانوا من قبل اللہ ینزل علیھم من قبلہ لمبلسین اور وہ لوگ (خوش ہونے سے پہلے) قبل اس کے کہ بارش ان پر نازل کی جائے یقیناً ناامید تھے۔ مِنْ قَبْلِہٖ پہلے مِنْ قَبْلِ کی تاکید ہے (بشرطیکہ مِنْ قَبْلِہٖ کی ضمیر کا مرجع بارش کے نزول کو قرار دیا جائے۔ لیکن مترجم نے جو ترجمہ کیا ہے اس کی بنا پر تاکید نہ ہوگی بلکہ مِنْ قَبْلِہٖ کی ضمیر استبشار کی طرف راجع ہوگی) لفظ قبل کا تکرار بتارہا ہے کہ بارش ہوئے بہت مدت گزر گئی تھی اور وہ بالکل ناامید ہوگئے تھے۔ مذکورہ تفسیر اس صورت میں ہوگی کہ وَاِنْ کَانُوْا میں اس کو مخففہ مانا جائے لیکن بعض علماء نے اِنْ کو نافیہ قرار دیا ہے اور لَمُبْلِسِیْنَ کے لام کو الاَّ (استثنائیہ) کے معنی میں کہا ہے یعنی وہ نہیں تھے مگر ناامید۔
Ayah 30:50

فَانْظُرْ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 30:50 in the Quran reader

تو (اے دیکھنے والے) خدا کی رحمت کی نشانیوں کی طرف دیکھ کہ وہ کس طرح زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ بیشک وہ مردوں کو زندہ کرنے والا ہے۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

فانظرا الی اثر رحمت اللہ کیف یحی الارض بعد موتھا ان ذلک لمحی الموتی . سو اللہ کی رحمت کے آثار دیکھو کہ وہ زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد کیسے زندہ کرتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے۔ اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللہ یعنی بارش کے نتائج ‘ سبزہ ‘ درخت ‘ غلہ ‘ پھل۔ یُحْیِ الْاَرْضَ زمین کو سرسبز کر کے حیات بخشتا ہے۔ بَعْدَ مَوْتِھَا اس کے خشک ہونے کے بعد۔ لَمُحْیِ الْمَوْتٰی ضرور مردوں کو زندہ کرے گا جب حیات بعد الموت نظروں کے سامنے ہے تو پھر اسی کی طرح دوبارہ زندہ ہونے کا انکار بےدلیل ہے۔ وھو علی کل شیء قدیر . اور وہ ہر چیز پر قادر ہے یعنی تمام ممکنات پر اس کی قدرت ایک جیسی ہے۔
Ayah 30:51

وَ لَئِنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا فَرَاَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 30:51 in the Quran reader

اور اگر ہم ایسی ہوا بھیجیں کہ وہ (اس کے سبب) کھیتی کو دیکھیں (کہ) زرد (ہو گئی ہے) تو اس کے بعد وہ ناشکری کرنے لگ جائیں

ولئن ارسلنا ریحا فراوہ مصفرا لظلوا من بعدہ یکفرون . اور اگر ہم ان پر دوسری ہوا چلائیں پھر وہ کھیتی کو زرد شدہ دیکھیں تو وہ اس کے بعد ناشکری کرنے لگیں۔ رِیْحًا یعنی ایسی ہوا جو زمین کو خشک کر دے۔ فَرَاَوْہُ پھر وہ اس کا اثر یا کھیتی کو زرد دیکھیں۔ یَکْفُرُوْنَ ان کی نعمت کی ناشکری کرنے لگیں۔ کیونکہ ثبات حاصل نہیں ‘ غور کرتے نہیں ‘ عدم تفکر کی وجہ سے ان کی رائے متزلزل ہوجاتی ہے۔ اگر ان کی نظر درست ہوتی تو وہ اللہ پر اعتماد رکھتے ‘ استغفار کرتے اور بارش نہ ہونے کی صورت میں اللہ سے التجا کرتے ‘ رحمت سے مایوس نہ ہوتے ‘ اگر اللہ اپنی رحمت سے ان پر مینہ برساتا تو طاعت خداوندی میں اور سرگرم ہوجاتے اور حد سے بڑھ کر خوشیاں نہ منات کہ خدا سے غافل ہوجاتے اور اگر ان کی کھیتی پر کوئی آفت آجاتی تو مصیبت پر صبر کرتے ‘ ناشکری نہ کرتے۔
Ayah 30:52

فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 30:52 in the Quran reader

تو تم مردوں کی (بات) نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو جب وہ پیٹھ پھیر کر پھر جائیں آواز سنا سکتے ہو

فانک لا تسمع الموتی . ا ؂ بلاشبہ آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔ یعنی انہوں نے حق کی طرف سے اپنے حواسی باطنی اور آلات شعور معطل کر رہے ہیں ‘ اس لئے یہ بھی مردوں کی طرح ہیں اور آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔ ولا تسمع الصم الدعاء اذا ولوا مدبرین . اور نہ آپ نپٹ بہروں کو پکار سنا سکتے ہیں جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر چل دیں۔ بہرے بہرحال پکار نہیں سنتے خواہ وہ پشت پھیرے جا رہے ہوں یا ان کا رخ پکارنے والے کی طرف ہو اور وہ متوجہ ہوں لیکن اگر متوجہ ہوں تو حرکات و اشارات سے مطلب سمجھ جاتے ہیں اور پشت پھیرے جا رہے ہوں تو سمجھ ہی نہیں سکتے ‘ اسی لئے عدم سماعت کی شدت کو ظاہر کرنے کے واسطے اِذَا وَلَّوْ مُدْبِرِیْنَ کی قید بڑھا دی۔
Ayah 30:53

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ Open ayah 30:53 in the Quran reader

اور نہ اندھوں کو اُن کی گمراہی سے (نکال کر) راہ راست پر لاسکتے ہو۔ تم تو انہی لوگوں کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں سو وہی فرمانبردار ہیں

وما انت بھد العمی عن ضللتھم . اور نہ آپ اندھوں کو راستہ دکھا سکتے ہیں کہ ان کو گمراہی سے نکال دیں۔ اندھوں سے مراد کفار ہیں ‘ کافروں کے پاس آنکھیں تھیں لیکن دیکھنے کا جو مقصد تھا وہ ان کو حاصل نہ تھا اس لئے ان کو نابینا قرار دیا۔ یا اندھے پن سے مراد ہے دل کا اندھا ہونا۔ ان تسمع الا من یومن بایتنا فھم مسلمون . آپ تو بس انہی لوگوں کو سنا سکتے ہیں (یعنی ایسا سنا سکتے ہیں کہ وہ سمجھ جائیں اور مان لیں) جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں ‘ پس وہ ہی (آپ کے حکم کی) اطاعت کرنے والے ہیں۔ یعنی جو ایمان لانے والے ہیں ‘ وہی آیات کے معانی پر غور کرتے ہیں (اس لئے آپ کے سنانے کا فائدہ انہی کو پہنچتا ہے) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت میں مَنْ یُّوْمِنُ سے مراد ہوں وہ لوگ جو قریب ایمان پہنچ چکے ہیں یا وہ لوگ مراد ہوں جن کے لئے اللہ نے مؤمن ہونا مقدر کردیا ہے۔
Ayah 30:54

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَیْبَةً١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ Open ayah 30:54 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے تم کو (ابتدا میں) کمزور حالت میں پیدا کیا پھر کمزوری کے بعد طاقت عنایت کی پھر طاقت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ صاحب دانش اور صاحب قدرت ہے

اللہ الذی خلقکم من ضعف ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ثم جعل من بعد قوۃ ضعفا وشیبۃ ا اللہ ہی تو ہے جس نے تم کو ناتوانی کی حالت میں بنایا ‘ پھر ناتوانی کے بعد توانائی عطا کی ‘ پھر توانائی کے بعد ضعف اور بڑھاپا کردیا۔ یعنی تمہاری ابتداء آفرنیش ضعف طفولیت سے کی ‘ یا مراد ہے کہ ضعف تمہاری زندگی کی بنیاد ہے (یعنی تمہاری تخلیق میں داخل ہے) جیسے دوسری آیت میں آیا ہے : خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ یعنی عجلت انسان کی سرشت میں داخل ہے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ تم کو ضعیف اصل یعنی نطفہ سے پیدا کیا ہے جیسے دوسری آیت میں آیا ہے : اَلَمْ نَخْلُقْکُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّھِیْنٍ کیا حقیر پانی سے ہم نے تم کو نہیں پیدا کیا۔ مِنْم بَعْدِ ضُعْفٍ قُوَّۃً یعنی ضعف طفولیت کے بعد جوانی دی۔ یخلق ما یشاء اللہ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ یعنی ضعف ‘ قوت ‘ جوانی ‘ بڑھاپا جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ وھو العلیم . اور وہ ہی (اپنی مخلوق کو) خوب جانتا ہے۔ القدیر . (جو کچھ اس کی مشیت ہو اس پر وہ) قادر ہے۔
Ayah 30:55

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ١ۙ۬ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَةٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَانُوْا یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 30:55 in the Quran reader

اور جس روز قیامت برپا ہوگی گنہگار قسمیں کھائیں گے کہ وہ (دنیا میں) ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے تھے۔ اسی طرح وہ (رستے سے) اُلٹے جاتے تھے

ویوم تقوم الساعۃ . اور جس روز قیامت برپا ہوگی۔ قیامت کو ساعت کہنے کی وجہ یہ ہے کہ قیامت دنیا کی آخری ساعت ہوگی ‘ یا یہ وجہ ہے کہ قیامت یکدم آجائے گی (یعنی السَّاعَۃ کا معنی ہے فوراً ‘ یکدم ‘ آن کی آن میں ‘ مترجم) اَلسَّاعَۃ غلبۂ استعمال کی وجہ سے قیامت کا نام ہوگیا جیسے الکوکب زہرہ کو کہتے ہیں۔ یقسم المجرمون . مجرم یعنی مشرک قسمیں کھائیں گے کہ مالبثوا غیر ساعۃ . وہ ایک ساعت سے سوا نہیں رہے۔ یعنی دنیا میں یا قبروں میں۔ آگے دوسری آیت میں آیا ہے : لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ کِتَاب اللّٰہِ اِلٰی یَوْمِ الْبَعْثِ تم روز حشر تک قبروں میں رہے۔ اخروی عذاب کی مدت کے مقابلہ میں انہوں نے دنیا میں یا قبروں میں قیام کی مدت کو قلیل قرار دیا ‘ یا پچھلی طویل مدت قیام کو وہ بھول جائیں گے ‘ یا یوں کہا جائے کہ گزشتہ مدت تو بھولی بسری ہوگئی اس لئے اس کو ایک ساعت کہا۔ کذلک کانوا یوفکون . دنیا میں اس طرح الٹے چلا کرتے تھے۔ یعنی قیامت کے دن صداقت اور تحقیقی مدت سے جس طرح وہ روگردان ہوں گے اسی طرح دنیا میں حق کی طرف سے وہ روگردان تھے ‘ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک مانتے تھے اور قیامت کے منکر تھے۔
Ayah 30:56

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَ الْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ اِلٰى یَوْمِ الْبَعْثِ١٘ فَهٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَ لٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:56 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو علم اور ایمان دیا گیا تھا وہ کہیں گے کہ خدا کی کتاب کے مطابق تم قیامت تک رہے ہو۔ اور یہ قیامت ہی کا دن ہے لیکن تم کو اس کا یقین ہی نہیں تھا

وقال الذین اوتو العلم والایمان لقد لبثتم فی کتب اللہ الی یوم البعث . اور جن لوگوں کو علم اور ایمان دیا گیا ہے یعنی انبیاء اور مؤمن ‘ وہ کہیں گے : تم اللہ کی کتاب میں (یعنی اللہ کی تحریر کے بموجب) روز حشر تک رہے۔ لَبِثْتُمْ فِیْ کِتَابِ اللہ یعنی جتنے زمانہ تک تمہارا قیام اللہ نے لکھ دیا تھا ‘ اتنی مدت تم رہے۔ یا یہ معنی ہے کہ اللہ کی کتاب میں جتنی تمہاری مدت قیام لکھی ہوئی تھی ‘ اتنی مدت تک رہے۔ یا کتاب سے مراد ہے لوح محفوظ یا ان فرشتوں کی تحریرجو ارحام کے اندر بچہ بننے کے وقت تحریر پر مقرر ہوتے ہیں۔ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : تمہارا تخلیقی مادہ ماں کے پیٹ میں چالیس روز تک بصورت نطفہ ‘ پھر اتنی ہی مدت بصورت منجمد خون ‘ پھر اتنی ہی مدت گوشت کے لوتھڑے کی شکل میں جمع رہتا ہے ‘ پھر اللہ ایک فرشتہ کو چار باتیں لکھنے کے لئے مقرر کرتا ہے ‘ فرشتہ اس شخص کے اعمال اور مدت زندگی وغیرہ لکھ دیتا ہے۔ یا کتاب اللہ سے مراد ہے قرآن مجید۔ اللہ نے فرمایا : وَمِنْ وَّرَآءِھِمْ بَرْزَخٌ اِلٰی یَوْمٍ یُبْعَثُوْنَ ۔ فھذا یوم البعث ولکنکم کنتم لا تعلمون . سو یہ قیامت کا دن ہے مگر تم نہیں جانتے تھے۔ یعنی یہ وہی دن ہے جس کا انکار تم دنیا میں کرتے تھے۔ آج تمہارے انکار کا غلط ہونا ظاہر ہوگیا۔
Ayah 30:57

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 30:57 in the Quran reader

تو اس روز ظالم لوگوں کو ان کا عذر کچھ فائدہ نہ دے گا اور نہ اُن سے توبہ قبول کی جائے گی

فیومئذ لا ینفع الذین ظلموا معذرتھم ولا ھم یستعتبون . سو اس روز ظالموں کو ان کی معذرت فائدہ نہیں دے گی اور ان سے خدا کی خفگی کا تدارک چاہا جائے گا۔ وَلاَ ھُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ ۔ عتی کا معنی ہے رضامندی (قاموس) یعنی ان سے اللہ کی راضی کرنے والی باتیں ‘ توبہ ‘ استغفار ‘ اطاعت طلب نہیں کی جائیں گی ‘ دنیا میں اللہ کو راضی کرنے والے امور کا ان کو حکم دیا گیا تھا ‘ آخرت میں موجبات رضا کی طلب نہ ہوگی۔ عربی محاورہ ہے : استعتبنی زید فارضیتہ زید نے مجھ سے ان باتوں کی طلب کی جن سے وہ راضی ہوجائے ‘ میں نے زید کو راضی کرنے والی بات کردی (یعنی اس کو راضی کرلیا) یا یہ مطلب ہے کہ قیامت کے دن ظالموں کی رضامندی مطلوب نہ ہوگی ‘ مؤمنوں کو راضی رکھنا مطلوب ہوگا۔ حضرت ابو سعید خدری کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : اللہ اہل جنت سے فرمائے گا : کیا تم راضی ہو۔ اہل جنت عرض کریں گے : ہم کیسے راضی نہ ہوں گے جب کہ تو نے ہم کو وہ چیزیں عطا فرمائی ہیں جو کسی کو نہیں دیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں اس سے بھی بڑھیا چیز تم کو دیتا ہوں۔ اہل جنت عرض کریں گے : اس جنت سے بہتر اور کیا چیز ہے ؟ اللہ فرمائے گا : میں تم سے اپنی رضامندی (ہمیشہ کے لئے) کھولتا ہوں ‘ آئندہ (کبھی) تم سے ناراض نہیں ہوں گا۔ متفقہ علیہ۔ اللہ نے خود فرمایا ہے : وَلَسَوْفَ یَرْضٰی۔
Ayah 30:58

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ لَئِنْ جِئْتَهُمْ بِاٰیَةٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ Open ayah 30:58 in the Quran reader

اور ہم نے لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کر دی ہے اور اگر تم اُن کے سامنے کوئی نشانی پیش کرو تو یہ کافر کہہ دیں گے کہ تم تو جھوٹے ہو

ولقد ضربنا للناس فی ھذا القران من کل مثل . اور ہم نے لوگوں کی ہدایت کے واسطے اس قرآن میں ہر طرح کے عمدہ مضمون بیان کئے ہیں۔ مَثَل (کہاوت) سے مراد ہے ہر ایسا واقعی بیان جس کے اندر ندرت ہے۔ قیامت کے دن کافروں کو اٹھایا جائے گا۔ وہ کیا کہیں گے ‘ ان سے کیا کہا جائے گا ‘ ان کو کوئی عذر فائدہ نہیں پہنچائے گا وغیرہ ‘ یا مثل سے مراد ہیں ایسی باتیں جو توحید ‘ قیامت اور صداقت رسول کو ثابت کر رہی ہیں۔ ولئن جئتھم بایۃ . اور اگر آپ ان کے سامنے کوئی آیت لے آئیں۔ یعنی قرآن کی کوئی آیت یا عصا موسیٰ کی طرح کوئی (محسوس) معجزہ۔ یقولن الذین کفروا ان انتم الا مبطلون . تب بھی کافر کہیں گے کہ تم محض غلط کہتے ہو۔ یعنی رسول اللہ کو اور مسلمانوں کو خطاب کر کے کہیں گے کہ تم بےہودہ ‘ بےحقیقت باتیں کہتے ہو۔
Ayah 30:59

كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:59 in the Quran reader

اسی طرح خدا اُن لوگوں کے دلوں پر جو سمجھ نہیں رکھتے مہر لگا دیتا ہے

کذلک . اسی طرح۔ یعنی جس طرح ہم نے مکہ کے کافروں کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا ہے اسی طرح۔ یطبع اللہ علی قلوب الذین لا یعلمون اللہ ٹھپہ لگا دیتا ہے ان لوگوں کے دلوں پر جو (ا اللہ کی توحید کو) نہیں جانتے۔ لَا یَعْلَمُوْنَ سے مراد یہ ہے کہ اللہ کی توحید سے ناواقف ہیں ‘ یا یہ مراد ہے کہ ان کو علم کی طلب ہی نہیں ہے ‘ اپنے بےہودہ عقائد پر جمے ہوئے ہیں۔ جہل مرکب معرفت حق سے روکتا ہے اور تکذیب حق پر آمادہ کرتا ہے۔
Ayah 30:60

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 30:60 in the Quran reader

پس تم صبر کرو بیشک خدا کا وعدہ سچا ہے اور (دیکھو) جو لوگ یقین نہیں رکھتے وہ تمہیں اوچھا نہ بنادیں

فاصبر ان وعد اللہ حق . سو آپ (ان کی اذیت رسانی پر) صبر کیجئے کیونکہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ یعنی اللہ نے جب آپ کی مدد کرنے کا اور آپ کے مذہب کو تمام مذاہب پر غالب بنا دینے کا وعدہ کیا ہے ‘ وہ سچا ہے ‘ یہ وعدہ ضرور پورا ہوگا۔ ولا یستخفنک الذین لا یوقنون . اور ایمان نہ رکھنے والے لوگ (آپ کو ایذائیں پہنچا کر اور آپ کی تکذیب کر کے) آپ کو غیرمتحمل نہ بنا پائیں۔ یا لاَ یَسْتَخِفَّنَّکَ کا مطلب یہ ہے کہ یہ بےیقین لوگ آپ کو نادانی اور گمراہی کی پیروی پر آمادہ نہ کر پائیں۔ بحمد اللہ سورة روم کی تفسیر 15/ رجب 1206 ھ ؁ کو ختم ہوئی۔ اس کے بعد انشاء اللہ سورة لقمان کی تفسیر شروع ہوگی۔ الحمد اللہ والمنتہ لہ کہ 11/ محرم الحرام 1391 ھ کو تفسیر مظہری سورة روم کا ترجمہ ختم ہوا فالشکر قبل لہ والشکر بعدلہ حاشیہ (1 ؂ ترمذی اور حاکم نے اس آیت کے ذیل میں حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے اور حاکم نے اس کو صحیح قرار دیا ہے کہ مکہ کے مشرک چاہتے تھے کہ فارس والے رومیوں پر غالب آجائیں کیونکہ اہل فارس بت پرست تھے۔ اور مسلمان پسند کرتے تھے کہ رومی ایرانیوں پر غالب آجائیں کیونکہ رومی اہل کتاب تھے۔ جب رومی مغلوب ہوگئے تو مشرکوں نے بطور طنز حضرت ابوبکر سے اس کا تذکر کیا اور حضرت ابوبکر نے رسول اللہ سے جا کر اس کا اظہار کیا ‘ حضور ﷺ نے فرمایا : وہ (رومی) عنقریب غالب آجائیں گے۔ حضرت ابوبکر نے مشرکوں سے یہی بات کہہ دی۔ مشرکوں نے کہا : کوئی مدت مقرر کرو۔ اگر ہم شرط جیت گئے تو ہم تو سے اتنا اتنا مال لیں گے اور تم جیت گئے تو تم ہم سے اتنا اتنا لے لینا۔ غرض فریقین نے پانچ سال کی مدت باہم طے کی لیکن پانچ سال میں رومی غالب نہیں آئے۔ حضرت ابوبکر نے یہ واقعہ رسول اللہ کی خدمت میں عرض کیا تو حضور ﷺ نے فرمایا : تم نے دس سال کے اندر کی مدت کیوں مقرر نہیں کی۔ اس کے بعد رومی غالب آگئے، الم غلبت الروم میں اسی کا بیان ہے۔ سفیان نے کہا : میں نے سنا ہے کہ رومی بدر کے دن غالب آئے تھے۔ یہ حدیث مختلف متعدد مشہور طریقوں سے حضرت ابن مسعود ‘ حضرت براء بن عازب اور حضرت نبار بن مکرم کی روایات سے بھی آئی ہے (از مفسر رحمتہ اللہ ) ۔