Ayah 8:4157 ۔ سورة کی ابتدائی آیتوں میں مال غنیمت اور اسکی تقسیم کا ذکر تھا، اب پھر اسی مضمون کی طرف مراجعت اور اب مصارف غنیمت کی تفصیل بیان ہورہی ہے۔ (آیت) ” ماغنیمتم۔ غنیمت کے لغوی معنی عام ووسیع ہیں یعنی ہر وہ شے جو انسان کوشش سے حاصل کرے۔ الغنیمۃ فی اللغۃ ماینالہ الرجل او الجماعۃ بسعی (قرطبی) اصطلاح فقہاء میں اس مال کو کہتے ہیں جو کافروں سے بہ زور قوت حالت جنگ میں حاصل ہو، الغنیمۃ مان نیل من الکفار عنوۃ والحرب قائمۃ (المغرب) الغنیمۃ فی الشریعۃ مادخلت فی ایدی المسلمین من اموال المشرکین علی سبیل القھر بالخیل والرکاب (کبیر) مال الکفار اذا ظفربہ المسلمون علی وجہ الغلبۃ والقھر (قرطبی) ما۔ الذی کے معنی میں ہے اور تقدیر کلام یوں ہے۔ الذی غنمتموہ “۔
58 ۔ یعنی کل مال غنیمت کا ، 4/5 حصہ تو غازیوں میں تقسیم ہوجائے گا اور باقی 1/5 اللہ کی نذر ہوگا یعنی آج کی اصطلاح میں یہ حصہ اسلامی اسٹیٹ کا ہوگا، اور اسلامی سرکاری خزانہ میں جمع ہوگا یہ 1/5 حصہ بھی اب یعنی رسول اللہ ﷺ کی وفات شریف کے بعد عملا تین حصوں میں تقسیم رہے گا۔ (آیت) ” للہ “۔ فقہاء حنفیہ نے صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ اللہ کا نام مصارف خمس کی ابتداء میں محض برکت کے لئے آیا ہے کہ حقیقۃ تو اللہ کی ملک ومملوک دنیا کی ہر چیز ہے۔ ذکرہ تعالیٰ للتبرک باسمہ فی ابتداء الکلام اذا الکل للہ (درمختار) فاما ذکر اللہ تعالیٰ فی الخمس فانہ لافتتاح الکلام تبرکا باسمہ (ہدایہ) قال الشعبی ھو مفتاح الکلام (جصاص) وعن الحسن بن محمد بن الحنفیۃ قال ھذا مفتاح کلام لیس اللہ نصیب فی الدنیا والاخرۃ (جصاص) (آیت) ” للرسول “۔ اللہ اور رسول کے یہ دو حصہ الگ الگ نہیں، کل ایک ہی حصہ ہے جو رسول اللہ ﷺ کو زمان حیات میں ملتا تھا۔ نائب الہی اور خلیفۃ اللہ کی خدمت میں اسے پیش کردینا اللہ ہی کی حضور میں پیش کرنا تھا۔ سرکاری 1/5 کا یہ پانچواں حصہ یعنی کل کا 1/25 حصہ اس کو مل رہا ہے جو ایک ہی وقت میں آمر حکومت بھی تھا، امیر لشکر بھی، حامل رسالت بھی ! وفات شریف کے بعد یہ حصہ ساقط ہوگیا۔ وسھم النبی ﷺ سقط بموتہ (ہدایہ) وسھم النبی ﷺ انما کان لہ مادام حیا فلما توفی سقط سھمہ (جصاص) شافعیہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کے بعد آپ کے خلیفہ کو یہ حصہ ملے گا، لیکن حنفیہ کا استدلال یہ ہے کہ آپ کا یہ حصہ تو منصب رسالت کی بنا پر تھا اور رسالت آپ کے بعد رہی نہیں۔ لانہ علی السلام کان یستحقہ برسالتہ ولا رسالۃ بعدہ (ہدایہ) خود خلفاء راشدین کا تعامل بھی حنفیہ ہی کی تائید میں ہے کہ انہوں نے کبھی رسول اللہ کا حصہ اپنی جانب منتقل نہیں کیا۔ (آیت) ” لذی القربی “۔ یہ دوسرا حصہ ہوا۔ (پہلا حصہ اللہ اور رسول کا ملا کر ایک تھا) یہ جان نثاروں کا وہ گروہ تھا جس نے مکہ سے مدینہ تک ہر حال میں، ہر مصیبت میں ساتھ دیا تھا، فقہاء حنفیہ نے لکھا ہے کہ یہ حصہ ان حضرات کی نصرت قدیم ہی کی بنا پر تھا۔ ان المراد من النص قرب النصرۃ لاقرب القرابۃ (ہدایہ) فقہاء مفسرین نے یہ بھی تصریح کردی ہے کہ لذی کال ملک و استحقاق کے اظہار کے لیے نہیں۔ محل ومصرف کے بیان کے لیے ہے لیست اللام لبیان الاستحقاق والملک وانماھی لبیان المصرف والمحل (قرطبی) بعد وفات نبوی یہ حصہ بھی ساقط ہوگیا۔ واما بعد رسول اللہ ﷺ فسھمہ ساقط بموتہ کذلک سھم ذوی القربی (مدارک) (آیت) ” والیتمی “۔ یہ تیسرا حصہ ہوا (آیت) ” والمسکین “۔ یہ چوتھا حصہ ہوا۔ (آیت) ” وابن السبیل “۔ یہ پانچواں حصہ ہوا۔ فقہاء حنفیہ کی تحقیق میں اب وہ سرکاری خمس ( 1/5) انہیں تین حصوں میں تقسیم ہوگا چناچہ خلفاء راشدین سے انہیں تین حصوں میں تقسیم منقول ہے۔ لنا ان الخلفاء الاربعۃ الراشدین قسموہ علی ثلثہ اسھم وکفی لھم قدوۃ (جصاص) یہ بھی جائز ہے کہ بجائے تینوں صنفوں کے ایک ہی صنف کے مصرف میں لے آیا جائے۔ ان تین حصوں کے اندر کی تقسیم یوں ہوتی ہے کہ ایک ثلث یتیموں کو دیا جاتا ہے۔ ایک ثلث مسکینوں کو اور ایک ثلث مسافروں کو۔ الخمس الباقی یقسم اثلاثا عندنا للیتیم والمسکین وابن السبیل (درمختار) سھم للیتمی وسھم للمساکین وسھم لابن السبیل (ہدایہ) خاندان رسالت کے حاجت مند بھی اسی میں داخل سمجھے گئے ہیں بلکہ ان کا حق مقدم ہے۔ البتہ خوش حال قرابتداروں کو کچھ نہ ملے گا۔ یدخل فقراء ذوی القربی فیھم ویقدمون ولا یدفع الی اغنیاءھم (ہدایہ) وقدم فقراء ذوی القربی من بنی ہاشم ولا حق لاغنیاء ھم عندنا (درمختار) اس طرز تقسیم کو آج کی عینک سے خوب غور کرکے دیکھ لیا جائے۔ سرکاری خزانہ کا 3/5 ہی نہیں، پورے کا پورا 5/5 آج بھی دنیا کی کسی بڑی سی غریب نواز وہمدرد عوام سلطنت میں رعایا کے سب سے زیادہ مصیبت زدہ طبقوں (لاوارث یتیموں محتاج مسکینوں اور بےزاد راہ مسافروں پر دیوسیوں) کے لئے وقف ہے ؟ (آیت) ” ابن السبیل “۔ مسافروں کی یہ اہمیت شاید نظروں کو کچھ کھٹکے لیکن بےزادوراحلہ تھکے ماندے، بھوکے پیاسے پیدل راہ گیروں پر آج بھی پردیس میں جو مصیبتیں پڑا کرتی ہیں اور چھوت چھات کے ماننے والوں کے درمیان دیہات میں جس طرح گرمی کی جلجلاتی ہوئی دوپہریں اور سردی کی کڑکڑاتی راتیں گزارنی پڑتی ہیں، ان کا ہلکا اور سرسری اندازہ بھی جگمگاتے ہوئے ہوٹلوں میں ٹھہرنے والے اور ریل کے اعلی درجوں میں سفر کرنے والے مسافر کر نہیں سکتے۔
59 ۔ یعنی معرکہ بدر کے دن، جب حق و باطل کے درمیان عملی اور حسی فیصلہ بھی سب کے مشاہدہ میں آگیا اور کفر واسلام کے درمیان اس پہلی مادی ٹکر نے دنیا کی تاریخ میں ایک کامیاب انقلابی دعوت کی بنیاد قائم کردی، اے الیوم الذی فرقت فیہ بین الحق والباطل وھو یوم بدر (قرطبی) (آیت) ” ماانزلنا علی عبدنا “۔ یعنی نصرت غیبی، جو ہر تفصیل کو جامع ہے۔ والمراد منہ ما انزل علیہ من الایات والملائکۃ والفتح فی ذلک الیوم (کبیر) (آیت) ” عبدنا “۔ موقع تخصیص وتشریف پر رسول اللہ ﷺ کا ذکر اسی عنوان سے کرنا قرآنی بلاغت کا ایک خالص جزء ہے یہ جنگ رمضان 2 ھ (624 ء۔ ) میں لڑی گئی۔ مسلمان 3 13 اور مشرک 950 کی تعداد میں تھے۔
60 ۔ اس افراد امت کو تنبیہ ہے کہ یہ 53 جو تمہیں مل رہا ہے، اسے اپنی قوت بازو کا نتیجہ نہیں محض فضل الہی کا نتیجہ سمجھو۔ (آیت) ” الجمعن “۔ مراد ایک طرف لشکر قریش ہے اور دوسری طرف مسلمانوں کی سپاہ۔
Ayah 8:4261 ۔ یعنی وہ تجارتی قافلہ جس کے تعاقب میں تم آئے تھے۔ وہ تم سے بچتا ہوا سمندر کے کنارہ کنارہ چلا جارہا تھا۔ (آیت) ” العدوۃ الدنیا “۔ یعنی مدینہ سے قریب تر حصہ میں۔ شام سے جو شاہراہ مکہ کو آتی تھی، اسی سے متصل شہر بدر کے حدود سے ذرا پہلے شمال ومغرب کی سمت میں یہ پہاڑی پڑتی تھی، (آیت) ” العدوۃ القصوی “۔ یعنی مدینہ سے بعید تر حصہ میں، یہ پہاڑی شہر بد ر کے جنوب ومشرق میں تھی۔ ابوجہل اپنی فوج لے کر یہیں مقیم تھا۔ مقام بدر سمندر (بحر احمر) سے اونٹ پر ایک منزل کی راہ پر تھا، مدینہ سے چار منزل اور مکہ سے آٹھ منزل کی راہ پر۔ اسلامی فوج شمال ومشرق سے آئی تھی۔ اور مشرکوں کا لشکر جنوب ومشرق سے۔ اس موضوع خاص کے محقق خصوصی ڈاکٹر محمد حمید اللہ لکھتے ہیں :۔” تاریخ عالم کا یہ ایک انقلاب انگیزمعر کہ ہے۔ مکہ، مدینہ اور شام کے راستوں کے جنکشن ہونے سے قریشی قافلہ کے آنے سے کچھ ہی پہلے آنحضرت ﷺ مدینہ سے آکر شمال مغربی درہ میں مقیم اور گھات میں رہے۔ ابوسفیان نے قافلہ کو کئی میل پہلے ہی روک کر ٹوہ لی اور اسلامی فوج کی بھنک ملنے سے بدر آئے بغیر راستہ کاٹ کر ساحل کے کنارے کنارے دو منزلہ کو یک منزلہ کرکے قافلہ کو بچا لیا۔ قافلہ کے بچ کر نکل جانے کی اطلاع کے باوجود آنحضرت ﷺ بدر ہی میں کسی کام سے مقیم رہے تو مکہ سے ابوجہل کی قریشی فوج آپہنچی، پیشگی اطلاع ملنے پر آنحضرت ﷺ نے پڑاؤ کی جگہ بدل کر پانی پر قبضہ کرلیا۔ صف بندی اور عمدہ فوج آرائی سے دشمن کی تگنی چوگنی فوج کو شکست دی، مسلمانوں کے دس بارہ اور دشمن کے ستر آدمی مارے گئے۔ “۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ” عہد نبوی کے میدان جنگ “ از ڈاکٹر محمد حمید اللہ استاذ جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن۔ (آیت) ” الرکب اسفل منکم “۔ بدر کی زمین پہاڑی تھی اور اس لیے قدرۃ بلند اور ساحل سمندر کی زمین جہاں سے قافلہ کترا کر گزررہا تھا، نشیبی۔
62 ۔ یعنی عام دستور ومعمول تو یہ ہے کہ مقاتلہ کے لیے فریقین اپنے قصد ومرضی سے کوئی میدان اور تاریخ مقرر کرتے ہیں، یہاں بھی اگر یہی صورت رہنے دی جاتی تو کوئی نہ کوئی فریق کوئی عذر پیدا کرلیتا، جس سے مقابلہ ومقاتلہ کی نوبت ہی نہ آتی اور جو فائدے اس سے اب مشاہدہ میں آرہے ہیں یہ ظہور ہی میں نہ آئے ہوتے، اسی لئے حالات تکوینی کا اجتماع ایسا کردیا گیا کہ مسلمانوں کو قصد و ارادہ کے بغیر بھی لڑنا پڑگیا، اور اس سے بہت سے مصالح پورے ہوگئے ،
63 ۔ یعنی جس امر کے وقوع سے مسلمانوں کے مدارج روحانی کی ترقیاں وابستہ تھیں، تکوینی حالات ایسے جمع کئے گئے کہ مسلمانوں کی خواہش، قصد واختیار کے بغیر خود بخود اس کا اظہار ہو کر رہا۔ (آیت) ” لیقضی “۔ میں، ل، متعلق ہے فعل محذوف کے۔ واللام فی لیقضی متعلقۃ بمحذوف والمعنی جمعھم لیقضی (قرطبی)
64 ۔ مطلب یہ ہوا کہ حکمت الہی کو یہ جنگ اس لئے منظور ہوئی کہ اس سے ایک خاص طریق پر اسلام کا حق ہونا ظاہر ہوجائے اور دنیا دیکھ لے کہ اسی قلت عددوکم سامانی کے باوجود مسلمان غالب آئے، جو ایک حد تک خارق عادت اور دل میں یہ یقین پیدا کرنے کے لئے کافی ہے کہ اسلام حق اور اس سے حجت الہی تمام ہوگئی، اس کے بعد جو گمراہ ہوگا وہ وضوح کے بعد ہوگا جس سے عذاب کا پورا استحقاق ہوجاتا ہے اور عذر کی گنجائش نہیں رہتی، اسی طرح جس کو ہدایت پانا ہو وہ حق کو اتنے وضوح کے بعد قبول کرلے گا۔ (آیت) ” عن بینۃ “۔ عن دونوں جگہ بعد کے مرادف ہے اور بینۃ کے معنی اقامت دلیل کے ہیں۔ اے بعد مشاھدۃ ھذہ المعجزۃ (کبیر) اے بعد حجۃ ظاھرۃ (جلالین) والبینۃ اقامۃ الحجۃ والبرھان (قرطبی) (آیت) ” لیقضی “۔ اور (آیت) ” لیھلک “ دونوں میں، ل، غرض وغایت کا ہے۔ اللام لام الغرض وظاھرہ یقتضی تعلیل افعال اللہ واحکامہ بالاغراض والمصالح (کبیر)
65 ۔ چناچہ اس ظاہر کا بھی وہ علم رکھتا ہے کہ اس وضوح حق کے بعد کون کون زبان پر کلمہ اسلام لاتا ہے اور کون کون کلمہ کفر کا تلفظ کئے جاتے ہے اور اس باطنی حقیقت کا بھی کہ دل سے کون کون ایمان لایا اور کون اب تک دل میں کفر کو جگہ دیئے ہوئے ہے۔
Ayah 8:4366 ۔ (اور آپ نے وہ خواب اپنے صحابیوں سے بیان کیا، جس سے ان کے دل قوی ہوگئے) (آیت) ” یریکھم “۔ میں ضمیر ظاہر ہے کہ لشکر قریش کی جانب ہے۔ آیت سے یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ خواب کا اپنے ہر ہر جزئیہ کے ساتھ صحیح اترنا پیغمبر تک کے لیے ضروری نہیں، چہ جائیکہ عام صالحین امت کے خوابوں کا۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ حق تعالیٰ بعض اوقات بعض واقعات کو نبی ﷺ سے بھی مخفی فرما لیتے ہیں۔ (جیسا کہ اس آیت میں ہے کہ کفار تھے تو زیادہ مگر آنحضرت ﷺ پر کم منکشف ہوئے) تو پھر غیر نبی کا کیا ذکر ہے اور اس شخص کا کیا کہنا جو اسے اپنے شیخ کیلئے جائز نہ سمجھے اور اس کے کشف وخواب پر جزم کرلیے اور یہ واقعہ تو خواب کا ہے لیکن ایسا ہی بیداری میں بھی ممکن ہے جیسا کہ اس کے بعد والی آیت میں آرہا ہے۔
67 ۔ یعنی اس قیل وقال، بحث و مباحثہ میں پڑجاتے کہ ایسی حالت میں جنگ کی بھی جائے یا نہیں (آیت) ” لفشلتم اور لتنازعتم “۔ سے ظاہر ہو رہا ہے کہ حضرت صحابہ باوجود اپنی قوت قدسی اور مقام عالی کے بہرحال بشر ہی تھے اور بشری کمزوریوں سے محفوظ ومصون نہیں کردیئے گئے تھے۔
68 ۔ (اور اس پر روشن تھا کہ ضعف کن تدبیروں سے پیدا ہوگا اور ہمت کن تدبیروں سے، چناچہ ویسا ہی اس نے انتظام کردیا) (آیت) ” سلم “۔ یعنی اس اختلاف وکم ہمتی کے، مظاہرہ سے تم کو بچا لیا۔
Ayah 8:4469 ۔ اب ذکر خواب کا نہیں عالم بیداری کا ہورہا ہے۔ اور بیان اس کا ہورہا ہے کہ یہ دونوں مشاہدات وواقعات عین حکمت پر مبنی تھے۔ (آیت) ” لیقضی اللہ امرا کان مفعولا “۔ مراد دو چیزیں ہیں، ایک تو کافروں کے لشکروں سے مذبھیڑ کرانا، دوسرے مشرکین کی ہلاکت وذلت اور اسلام کی فتح وسربلندی۔ کرر ھذا لان المعنی فی الاول من اللقاء وفی الثانی من قتل المشرکین و اعزاز الدین وھو اتمام النعمۃ علی المسلمین (قرطبی) مفصل حاشیہ سورة آل عمران، پارہ 4 میں گزر چکے۔
70 ۔ (اور اسی کا فیصلہ ہر گمراہ اور ہر راہ یاب کے حق میں ناطق ہوگا) آیت میں اشارہ اس طرف بھی آگیا کہ دنیا میں جو کچھ بھی پیش آرہا ہے یہ بجائے خود مقصود نہیں بلکہ مقصود تمام تر وہ اجر ہے جو ان سے آخرت میں حاصل ہوگا الغرض منہ التنبیہ علی ان احوال الدنیا غیر مقصود الذوا تھا وانما المراد منھا مایصلح ان یکون زاد الیوم المعاد (کبیر)
Ayah 8:4571 ۔ یہ حکم عام ہے۔ یہاں یہ بتا دیا گیا کہ فلاح کا ذریعہ یہی ثبات قلب وثبات قدم کا اجتماع ہے۔ اور فلاح کے عموم میں شخصی واجتماعی، دنیوی واخروی ہر قسم کی فلاح آگئی۔ (آیت) ” اذا لقیتم فءۃ “۔ اس لقاء یا مڈبھیڑہو جانے سے جہاد میں سامنا ہوجانا مراد ہے، (آیت) ” فاثبتوا “۔ یعنی پست ہمتی اور بزدلی نہ دکھاؤ (آیت) ” واذکروا اللہ کثیر “۔ کہ قلب میں قوت وثبات اسی ذکر الہی اور کثرت ذکر الہی سے پیدا ہوگی ،۔ امر بالذکر حتی یثبت القلب علی الیقین ویثبت اللسان علی الذکر (قرطبی)
Ayah 8:4672 ۔ (آیت) ” اطیعوا اللہ ورسولہ “۔ اللہ اور رسول کے احکام کی اطاعت تو ہمیشہ اور ہر حال میں واجب ہے۔ اس بیان میں اس کی تاکید سے مراد یہ ہے کہ حالت جہاد میں بھی احکام شریعت کے دائرہ سے قدم ذرا بھی باہر نہ نکلے، (آیت) ” ولا تنازعوا “۔ کوئی نزاع نہ افراد امت میں باہم ہونی چاہیے نہ امام یا امیر قوم سے، یہ اندرونی کشمکش، ڈسپلن (نظم و اطاعت) کے حق میں زہر قاتل ہے۔ (آیت) ” فتفشلوا “۔ یہاں گویا یہ اشارہ کردیا کہ انتشار قوت کا لازمی نتیجہ پست ہمتی ہے۔ (آیت) ” وتذھب ریحکم “۔ یعنی جو رعب تمہاری یک دلی، یک جہتی، یک رنگی کی بنا پر چھایا ہوا ہے، وہ جاتا رہے گا، اے قوتکم ونصرکم کما یقال الریح الفلان اذا کان غالبا فی الامر (قرطبی) (آیت) ” واصبروا “۔ یعنی جو ناگوار حالات گردوپیش میں پیدا ہوتے رہیں گے۔ ان پر بہرحال صبر سے کام لیتے رہو، صبر، محمود تو ہر حال میں ہے، موقع قتال پر اور زیادہ۔ امر بالصبر وھو محمود فی کل المواطن وخاصۃ موطن الحرب (قرطبی) (آیت) ” مع الصبرین “۔ یہ معیت حق خود ضامن نصرت ہے۔
Ayah 8:4773 ۔ (اور وقت مناسب پر جزاء اعمال بھی دے گا) (آیت) ” الذین خرجوا “۔ الخ مراد قریش کے لشکریان بدر میں جو ناحق و باطل کی راہ میں حمیت جاہلی کے علمبردار ہو کر لڑنے کو نکلے تھے۔ (آیت) ” بطرا “۔ اللہ کی طرف سے جب نعمتوں کا فیضان ہونے لگتا ہے تو اب بندہ کے لیے دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ انہیں اللہ ہی کی جانب منسوب کرتا رہے اور اسی کی رضا جوئی میں انہیں لگائے اور اس کا نام شکر ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ان سے اپنے معاصرین کے مقابلہ میں فخر کا کام لینے لگے یہی بطر ہے قال الزجاج البطر الطغیان فی النعمۃ والتحقیق ان النعم اذا کثرت من اللہ علی العبد فان صرفھا الی مرضاتہ وعرف انھا من اللہ تعالیٰ فذک ھو الشکر اما ان توسل بھا الی المفاخرۃ علی الاقران والمکاثرۃ علی اھل الزمان فذک ھو البطر (کبیر) ۔ (آیت) ” ورء آء الناس “۔ رئاء کا مفہوم ہے کہ جو شے واقعۃ زشت ہو اسے خوشنما کرکے ظاہر کرنا، الرئاء عبارۃ عن القصد الی الظھار الجمیل مع ان باطنہ یکون قبیحا (کبیر) امام رازی (رح) نے یہاں سوال یہ پیدا کیا ہے کہ بطر اور رئاء تو اسم ہیں اور یصدون فعل ہے تو یہ بات کیا ہے کہ ایک ہی فقرہ میں ایک وصف تو اسم کے ذریعہ سے ظاہر کیا گیا اور دوسرا فعل کے ذریعہ سے اور پھر خود ہی جرجانی نحوی وادیب کے حوالہ سے جواب دیا ہے کہ اسم دلالت کرتا ہے وصف کے استمرار وتمکین یا مستقل کیفیت پر اور فعل اسکی وقتی اور عارضی حالت پر، تو یہاں چونکہ فخرونمائش قریش کا وصف مستقل تھا، اس کے لیے اسم لایا گیا، اور مسلمانوں سے مقابلہ ومقاتلہ وقتی وعارضی کیفیت تھی اس کا اظہار فعل سے کیا گیا اور یہ بلاغت قرآنی کا ایک اعجاز ہے۔ (آیت) ” بطر اورء آ ء الناس “۔ یہ فخر ونمائش، غرور اور اتراہٹ کے اوصاف آج کی ” مہذب “ فرنگی قوموں اور ان کے لشکروں کی زرق برق وردیوں، ان کے جھنڈوں اور نشانوں، ان کے فخریہ دعو وں اور اعلانوں ان کے توپوں اور جہازوں، ان کے طیاروں اور آبدوزوں، ان کی بمباریوں اور ان کے جوہری بموں پر کتنے صادق آتے ہیں !
Ayah 8:4874 ۔ (جو وہ اسلام و رسول اسلام ﷺ کی مخالفت میں کررہے تھے) ۔ (آیت) ” میں کالذین بہت غور کے قابل ہے مسلمان ظاہر ہے کہ بطرورئاء میں مبتلا نہ تھے لیکن انہیں تصریح کے ساتھ ممانعت اس امر میں مشرکین کے ساتھ مشابہ ہونے سے بھی کی جارہی ہے، آج کے مسلمان سوچیں کہ وہ اولیاء اللہ ہونے کے مدعی ہو کر کن کن چیزوں میں اور کیسی کیسی حرام ومکروہ چیزوں میں مشابہت اعداء اللہ سے حاصل کرتے جارہے ہیں۔ شیطان کی اصلی کارفرمائی یہی تو ہے کہ وہ ہر معصیت، ہر کفر کو انسان کی نظر میں خوشمنا ودلفریب بنا دیتا ہے اس سے زیادہ کوئی قوت اسے ہرگز حاصل نہیں۔ انسان کی تربیت اگر صحیح ہوئی ہے۔ اور اس نے اپنی عقل سلیم سے کام لینا سیکھ لیا ہے تو وہ ہر ترغیب شیطانی سے محفوظ رہے گا۔
75 ۔ قال سے یہ مراد نہیں کہ شیطان نے یہ گفتگو زبان اور الفاظ کی مدد سے کی ہو۔ دل میں اس کی وسوسہ اندازی کا مفہوم پوری طرح قول سے ادا ہوجاتا ہے لفظ قول عربی زبان میں بڑی ہی وسعت رکھتا ہے اور ہر طرح کی دلالت حال پر شامل ہے۔ (آیت) ” لا غالب لکم الیوم من الناس “۔ یعنی اپنی قوت و حشمت کو دیکھ کر وسوسہ شیطانی سے یہ خیال سرداران قریش کے دل میں گزرا۔ (آیت) ” انی جارلکم “۔ جار یہاں حامی وپشت پناہ کے معنی میں ہے اور یہ مفہوم عربی زبان میں عام ہے۔ معنی الجار ھھنا الدافع عن صاحبہ انواع الضرر کما یدفع الجار عن جارہ والعرب تقول انی جارلکم من فلان اے حافظ لک من مضرتہ فلایصل الیک مکروہ منہ (کبیر) حسن بصری اور اصم تابعی اور دوسرے محققین سے بھی منقول ہے کہ شیطان مجسم ہو کر سامنے نہیں آیا تھا۔ بلکہ اس نے وسوسہ اندازی ہی کی تھی۔ وفی کیفیۃ ھذا التزیین وجھان الاول ان الشیطان زین بوسوستہ من غیران یتحول فی صورۃ الانسان وھو قول الحسن والاصم (کبیر) ووسوس الیھم (کشاف)
76 ۔ جتنا علم شیطان کو اللہ کی عظمت وقوت کا ہے اتنا تو انسان کو بھی نہیں اور یہ خوف اسی علم سے پیدا ہوا، اس لیے اس کا یہ کہنا محل اشکال نہیں اور نہ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ شیطان میں بھی خوف خدا کی بنا پر ایمان کی جھلک موجود ہے۔ (آیت) ” ترآءت “۔ یعنی اس طرح دونوں لشکر جمع ہوئے کہ ایک نے دوسرے کو دیکھا۔ (آیت) ” الفئتن “۔ سے مراد بدر میں مومنوں اور کافروں کی جماعتوں کا ہونا بالکل ظاہر ہے۔ (آیت) ” انی اری مالاترون “۔ سے مراد ہر خدائی قوت ہوسکتی ہے۔ سیاق میں فرشتوں کا وجود زیادہ لگتا ہوا ہے۔ وفیہ وجوہ الاول انہ رای الملائکۃ والثانی انہ رای اثر النصرۃ والظفرفی حق النبی (علیہ السلام) (کبیر) (آیت) ” اخاف اللہ “۔ خوف خدا سے لازمی طور پر خوف آخرت مراد نہیں ہوسکتا ہے کہ شیطان اسی سے ڈرا ہو کہ کہیں یہیں اور ابھی میری خبر نہ لے لی جائے مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے کئی مسئلہ نکلتے ہیں مثلا :۔ ( 1) شیطان جس طرح وسوسہ ڈالتا ہے، کبھی اسے ترک بھی کردیتا ہے، جیسا کہ یہاں (آیت) ” انی بری ٓ ء “۔ میں اس کی مثال موجود ہے اور یہ ترک وہ اس وقت کرتا ہے جب دیکھ لیتا ہے کہ انسان بغیر میرے وسوسہ کے بھی گناہ کرے گا۔ (2) کشف اہل باطل کے لئے بھی ممکن ہے۔ چناچہ یہاں شیطان کو ملائکہ مکشوف ہوگئے۔ (3) اللہ تعالیٰ سے محض طبعی خوف کا ہونا کافی نہیں، مطلوب خوف ایمانی ہے۔
Ayah 8:4977 ۔ (کہ اس میں آکر یہ اس بےسروسامانی پر اتنے زبردست لشکر سے مقابلہ کا حوصلہ کربیٹھے ہیں) حالات ظاہری کی بنا پر منافقوں اور کچھے ایمان والوں کا ایسا کہہ گزرنا بالکل قدرتی تھا۔ (آیت) ” المنفقون والذین فی قلوبھم مرض ‘۔ المنافقون سے تو منافقین مدینہ کا مراد ہونا ظاہر ہی ہے۔ الذین فی قلوبھم مرض سے مکہ کے کچ دلے مسلمان مراد ہیں۔ ھم قوم من قریش اسلموا وما قوی اسلامھم فی قلومھم ولم یھاجروا (کبیر)
78 ۔ (وہ اپنے مومنین متوکلین کو ہر حال میں غلبہ دلا سکتا ہے اور جب نہیں دلاتا تو یہ بھی کسی خاص حکمت ومصلحت ہی کے ماتحت ہوتا ہے)
Ayah 8:5079 ۔ یعنی یہ تکلیفیں تو صرف نزع وسکرات کی ہیں، ابھی کیا ہے ابھی کیا ہے ابھی آگے چل کر عذاب جہنم کو برداشت کرنا ہے۔ اس سلسلہ میں یہ واضح رہے کہ قرآن مجید نے نزع وسکرات کی یہ ہولناک تفصیلات جہاں بھی بیان کی ہیں وہاں یہ تصریح بھی کردی ہے کہ یہ کافروں اور دشمنان دین کے لئے ہیں، مطلق موت کا جہاں ذکر ہے وہاں الفاظ ” غمرات “ یا ” سکرۃ “ وغیرہ ایسے رکھے ہیں جن کا مفہوم لازمی طور پر تکلیف ہی کا نہیں بلکہ مطلق غفلت، غشی اور بےہوشی کو شامل ہے۔ متکلمین نے آیت سے یہ استنباط بھی کیا ہے کہ انسان جس شے کا نام ہے وہ اس جسم سے الگ ہے اور اس کا اطلاق روح پر ہوتا ہے۔ قال الواحدی ھذا یدل علی ان الانسان شیء مغائر لھذا لجسد (کبیر) (آیت) ” یضربون وجوھھم وادبارھم “۔ سے امام رازی (رح) نے یہ لطیف نکتہ بھی نکالا ہے کہ کافر کی روح جب دنیا سے روانہ ہوتی ہے تو دنیا کے چھوٹنے کا تو اسے صدمہ ہوتا ہی ہے ادھر آخرت پر جب نظر کرتی ہے تو ادھر بھی تاریکی ہی تاریکی نظر آتی ہے اس طرح اس پر آگے اور پیچھے دونوں طرف سے گویا دہری مارپڑتی ہے۔ فیہ معنی اخرا لطف منہ وھو ان روح الکافر اذا خرج من جسدہ فھو معرض عن عالم الدنیا مقبل علی الاخرۃ وھو لکفرہ لایشاھد فی عالم الاخرۃ الاالظلمات فبسبب مفارقتہ لعالم الدنیا تحصل لہ الالام بعد الالام وبسبب اقبالہ علی الاخرۃ مع عدم النور والمعرفۃ ینتقل من ظلمات الی ظلمات فھا تان الجھتان ھما المراد من قولہ یضربون وجوھھم وادبارھم۔
Ayah 8:5180 ۔ (جیسا کہ مشرک قوموں نے اپنے اپنے دیوتاؤں کے حق میں گمان کر رکھا ہے) (آیت) ” بما قدمت ایدیکم “۔ تصریح کردی ہے کہ عذاب جو کچھ بھی ہوگا کفر کے پاداش ہی میں ہوگا، خواہ مخواہ ہرگز نہ ہوگا، یہ تصریح مشرک قوموں کی ان خام خیالیوں کی تردی میں ضروری تھی جو وہ اپنے معبودوں کے جبار وظلام ہونے کے متعلق قائم کئے ہوئے تھے۔
Ayah 8:5281 ۔ (جس کی گرفت سے ان لوگوں کو کوئی بھی مادی قوت وتدبیر نہ بچا سکی) خدائے اسلام جس طرح ظالم و جابر نہیں اسی طرح مشرکوں کے بعض دیوتاؤں کی طرح عضو معطل اور بےدست وپا بھی نہیں، کہ سب کچھ دیکھے اور محض دیکھتا رہ جائے اس کی گرفت بھی اس کے مرتبہ عظمت و حرمت کے لحاظ سے شدید وبے پناہ ہوتی ہے۔ (آیت) ” کداب ال فرعون “۔ یہ تشبیہ کفر وعناد مسلسل پر معذب ہونے میں ہے۔ (آیت) ” الذین من قبلھم “۔ ظاہر ہے کہ وہ کافر و مشرک قومیں مراد ہیں جو فرعون سے بھی پہلے تھیں۔
Ayah 8:5382 ۔ یعنی جب تک کوئی قوم خود اپنی حالت اس سے مختلف نہ کرلے جو نزول نعمت کے وقت اس کی تھی اور اپنے اندر بجائے ایمان وطاعت کے کفر وخباثت پیدا کرلے، نعمت اور خبث کا اجتماع خلاف حکمت الہی ہے۔ (آیت) ” ذلک “۔ یعنی یہی قانون جو اوپر بیان ہوا۔ یہ کہ بےجرم شدید اللہ کسی کو سزا نہیں دیتا اور جب سزا دینا چاہتا ہے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا۔ (آیت) ” نعمۃ “۔ کا لفظ عام ہے دنیوی واخروی، مادی، روحانی، انفرادی وقومی سب ہی طرح کی نعمتیں اس میں آگئیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت کے عموم میں وہ صورت بھی داخل ہے کہ سالک سے جب کوئی معصیت سرزد ہوجاتی یا کوئی طاعت ترک ہوجاتی ہے تو اس سے انوار وبرکات مقصودہ منقطع ہوجاتے ہیں۔
83 ۔ چناچہ وہ ہر تغیرقولی کو سن رہا ہے اور ہر تغیر فعلی کو جان رہا ہے۔
Ayah 8:5484 ۔ عذاب جن جن کو بھی آیا، کفر ونافرمانی کی پاداش ہی میں آیا۔ (آیت) ” کداب ال فرعون، والذین من قبلھم۔ یہ تشبیہ نعمت کے لحاظ سے ہے۔ یہ امر سب میں مشترک رہا۔
Ayahs 8:55–5685 ۔ اشارہ خاص یہود بنی قریظہ کی جانب ہے جو رسول اللہ ﷺ سے بار بار یہ معاہدہ کرتے کہ ہم آپ کے مقابلہ میں مشرکین کی مدد نہ کریں گے، اور پھرجا کر انہی کے شریک ہوجاتے۔ قال ابن عباس ھم قریظۃ (کبیر) (آیت) ’ ’ شر الدوآب “۔ کافر تو سب ہی اللہ کے ہاں بدتر مخلوق ہیں، ان میں بھی بدترین وہ ہیں جنہوں نے کفر پر بدعہدی کا اضافہ کرلیا، بین تعالیٰ ان من جمع بین الکفر الدائم وبین نقض العھد علی ھذا الوجہ کان شرالدواب (کبیر) (آیت) ” منھم “۔ میں من تبعیض کیلئے ہے کہ معاہدہ ان کے سرداروں اور اشراف ہی سے ہوتے تھے۔ ومن للتبعیض لان العھد انما کان یجری مع اشرافھم (قرطبی) (آیت) ’ وھم لا یتقون “۔ یعنی نہ ان کے دلوں میں خوف خدا ہے اور نہ یہ انجام کار سے ڈرتے ہیں۔
Ayah 8:5786 ۔ (کہ عہد شکنی کا انجام یہی ہوتا ہے) لعلھم یتعظون (کشاف) حتی لایجسر علیک احد بعدھم اعتارا بھم واتعاظا بحالھم (کشاف) (آیت) ” تثقفنھم “۔ یعنی آپ ان پر قابوپاجائیں۔ فاما تصادفنھم وتظفرن بھم (کشاف) قال اللیث یقال ثقفنا فلانا فی موضع کذا اے اخذناہ وظفرنا بہ (کبیر) (آیت) ” فشردبھم “۔ یعنی ان کے واسطہ سے، انہیں نمونہ بنا کر انہیں پارہ پارہ کردے، التشرید عبارۃ عن التفریق مع الاضطراب (کبیر) والتشرید فی اللغۃ التبدید والتفریق (قرطبی) (آیت) ” من خلفھم “۔ خلف یہاں علاوہ کے معنی میں ہے اور من، الذی کے مرادف ہے۔ اے من وراءھم (کشاف) من بمعنی الذی (قرطبی)
Ayah 8:5887 ۔ قرآن مجید کی اس قسم کی آیتیں عربی اسلوب بیان کے مطابق ہیں، اردوادب میں ایسے موقع پر کہا جائے گا کہ اللہ خائنوں کو سخت ناپسند کرتا ہے۔ (آیت) ” اما تخافن من قوم خیانۃ “۔ یعنی اس قوم نے ابھی بدعہدی عملا کی نہ ہو لیکن قرائن سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ وہ بدعہدی کرنے پر ہے۔ اے اذا ظھرت اثار الخیانۃ وتثبت دلائلھا (قرطبی) (آیت) ” فانبذالیھم علی سوآء “۔ یعنی اسی طرح اس عہد کے باقی نہ رہنے کی اطلاع اس فریق کو کردیں۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ یہ امر واجب نہیں، تخییری ہے۔ اور امام کے اختیار تمییزی پر موقوف ہے۔ (آیت) ” علی سوآء “۔ یہ اعلان استرداد معاہدہ کی تاکید اس لیے ہے کہ کہیں مخالفین نقض عہد کی ابتداء مسلمانوں کے سر نہ ڈال دیں، لئلا یتوھموا نک نقضت العھد بنصب الحرب (جصاص)
Ayah 8:5988 ۔ یعنی یہ کہ اس کی گرفت سے بچ کر نکل جائیں۔
Ayah 8:6089 ۔ (اور اس دشمنی کی علت ان لوگوں کا کفر ہے) آیت میں بڑی گہری حقیقت کی تعلیم ہے، وہ یہ کہ اہل کفر تو برابر تمہارے اور تمہارے دین کے دشمن رہا ہی کریں گے تم ان سے مقابلہ کے لئے ہمیشہ تیار رہو۔ ان کی طرف سے غافل کبھی نہ ہو اور اپنے پاس وہ سامان برابر تیار رکھو جن سے ان پر ہیبت طاری ہوتی ہو اور ان کے دل دہلتے ہوں، (آیت) ” من قوۃ “۔ قوۃ کا لفظ عام ہے، عددی قوت، سامان جنگ کی قوت، آلات حرب کی قوت، سب کچھ اس کے اندر آگیا، یہاں تک کہ بڑے ہوئے ناخن بھی، وقدروی فی القوۃ انھا الرمی (جصاص) عموم اللفظ شامل لجمیع مایستعان بہ علی العدو من سائر انواع السلاح والات الحرب (جصاص) عن الحکم بن عمیر قال امر رسول اللہ ﷺ ان لانحفی الاظفار فی الجھاد قال ان القوۃ فی الاظفار وھذا یدل علی ان جمیع مایقوی عی العدو فھو مامور باستعدادہ (جصاص) اے من کل ما یتقوی بہ فی الحرب کائنا ماکان (روح) صاحب روح المعانی نے آیت کے تحت میں بندوق کا ذکر تصریح کے ساتھ کیا ہے اور اگر آج ہوتے تو مشین گن، طیارہ، اور ٹینک اور جیپ اور ایٹم بم وغیرہ سب کے نام لکھ جاتے (آیت) ” رباط الخیل “۔ سوار فوج کی اہمیت اس حکم سے ظاہر ہے، موجودہ جنگوں میں سوار فوج کے لئے ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ وضمیمہ ،
90 ۔ یہاں اشارۃ یہ بتادیا کہ علاوہ ان کافروں کے جن سے تمہارا سابقہ رہا کرتا ہے کچھ اور بھی قومیں ہیں جو ابھی تمہارے علم میں نہیں، مگر اللہ کے علم میں تو ہے کہ کبھی ان سے بھی تمہاری مڈبھیڑ ہوگی، اس میں ایران کے مجوسی اور رومہ کی مسیحی قومیں تو آہی گئیں، جن سے آگے چل کر حضرات صحابہ کو معرکہ آرائی کرنی پڑی، باقی قیامت تک کی ساری مخالف قومیں آسکتی ہیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ ان آیتوں میں جو تدابیر حرب وسیاست بتائی گئی ہیں، ان سے صاف دلالت اس امر پر ہورہی ہے کہ یہ سیاسی تدبیریں بڑے سے بڑے کمالات باطنی کے بھی منافی نہیں، جیسا کہ غالی وناقص صوفیہ نے خیال کر رکھا ہے۔
91 ۔ نفس کو مال خرچ کرنے میں بڑی تنگی اسی خیال سے پیدا ہوتی ہے کہ یہ ضائع جارہا ہے، اور اس کے معاوضہ میں حاصل کچھ نہ ہوگا۔ یہاں اسی خیال کی جڑکاٹ دی ہے اور اطمینان دلایا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے کھائیں گے کچھ بھی نہیں بلکہ سب وہاں پر حاصل کرلیں گے اور ان کے اجر میں ذرا بھی کمی نہ کی جائے گی ،
Ayah 8:6192 ۔ اس میں تعلیم اس کی آگئی کہ احکام خداوندی کے ماتحت ظاہری تدابیر اختیار کرتے رہئے اور مخالفوں کو جھکتے ہوئے دیکھئے تو آپ بھی صلح کے مجاز ہیں۔ لیکن اصل اعتماد اللہ ہی پر رکھیے۔ اس کا ہر حکم مصالح پر مبنی ہوتا ہے، وہی بندوں کے ظاہر کو بھی جانتا ہے اور وہی باطن کو بھی، (آیت) ” وان جنحوا “۔ مراد ظاہر ہے کہ کفار معاندین ہیں۔ (آیت) ” فاجنح لھا “۔ ضمیر مونث السلم کی جانب ہے، سلم مذکر بھی ہے اور مؤنث بھی السلم یذکر ویؤنث (ابوالبقاء) یذکر ویؤنث (لسان تاج) (آیت) ” فاجنح لھا “۔ یہ حکم نہیں ہے صرف اجازت ہے یعنی آپ اگر مصلحت صلح ہی میں دیکھیں تو کرسکتے ہیں۔ یہ آپ کے اختیار تمییزی پر ہے۔ صحح ان الامر فی من تقبل منھم الجزیۃ علی ما یری فی الامام صلاح الاسلام واھلہ من حرب اوسلم ولیس بحتم ان یقاتلوا ابدا ویجابوا الی الھدنۃ ابدا (روح) وعقد الصلح لیس بلازم للمسلمین وانما ھو جائز باتفاقھم اجمعین (ابن العربی)
Ayah 8:6293 ۔ (اور جس طرح اس نے یہ ماضی میں کیا، مستقبل پر بھی وہی قادر ہے) (آیت) ” ان یخدعوک “۔ یعنی اسی صلح ومصالحت کی آڑ میں وہ آپ کو دھوکا دینا چاہیں، (آیت) ” فان حسبک اللہ “۔ یہ محض اتفاق نہیں، اتفاق سے کچھ زائد ہی ہے کہ آیت کے نزول کے بعد کسی موقع پر بھی رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں کید وخدع سے کامیابی ثابت نہیں۔ (آیت) بنصرہ “۔ کوئی خاص نصرت غیبی مثلا نزول ملائکہ (آیت) ” بال مومنین “۔ دین کی ظاہری نصرت ظاہر ہے کہ مسلمانوں ہی کے ذریعہ سے ہوئی۔
Ayah 8:6394 ۔ وہ جو چاہے اپنی قدرت سے اور جس طریق مناسب سے چاہے اپنی حکمت سے کردکھائے۔ (آیت) ” الفت بین قلوبھم “۔ یہ اللہ کی کریمی اور کارسازی تھی کہ مسلمانوں سے نسلی، قبائلی، لسانی تفریقیں مٹ مٹا کر سب نصرت دین پر متحد ویکجا ہوگئے۔ بغیر اس یکجہتی کے نصرت دین پوری طرح پر ممکن ہی نہ تھی اللہ کا خاص موقع احسان پر اس نعمت اتحاد کو یاد لانا دلیل ہے اس کی کہ یہ نعمت کتنی اہم وعظیم الشان ہے۔ (آیت) ” لوانفقت ما فی الارض جمیعا ما الفت بین قلوبھم ولکن اللہ الف بینھم “۔ یعنی باوجود اس کے کہ آپ دنیابھر میں سب سے بڑھ کر صاحب حکمت، صاحب تدبیر ہیں، آپ تک سارے ممکن مالی ذرائع کے استعمال کے بعد بھی اس نعمت اتحاد واتفاق پر قادر نہ ہوپاتے، یہ تو محض فضل خداوندی کا کرشمہ ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” لوانفقت ما فی الارض جمیعا ما الفت بین قلوبھم “۔ سے یہ بھی نکلتا ہے کہ قلب میں کسی صفت محمود کا پیدا کردینا شیخ کے اختیار میں نہیں۔
Ayah 8:6495 ۔ (مرتبہ حقیقی میں صرف اللہ۔ اور درجہ ظاہری میں مومنین متبعین بھی۔
Ayah 8:6596 ۔ (خواہ وہ طبعا آمادہ ہوں یا نہ ہوں) (آیت) ” حرض “۔ کے لفظ سے اشارہ ادھر ہورہا ہے کہ مسلمان سب کے سب اور ہر وقت آمادہ قتال اور جنگجو نہ تھے جیسا کہ مسیحی مصنفین نے ایک الزام تراش رکھا ہے، بلکہ انہیں قتال پر آمادہ کرنے کی ضرورت تھی۔ (آیت) ” القتال “۔ واضح رہے کہ قرآن و شریعت نے اسلامی غزوات و جہاد کو قتال ہی سے تعبیر کیا ہے اور حرب کا لفظ جس کے ساتھ کید وخدع کی یادیں وابستہ ہیں، کافروں کی جنگ کے ساتھ مخصوص رکھا ہے۔
97 ۔ (اور چونکہ سمجھ سے کام نہیں لیتے اس لیے کفر پر مصر ہیں اور اس لئے امداد غیبی سے محروم ہیں اور بہ آسانی مغلوب ہوجاتے ہیں) ان یکن منکم عشرون صابرون یغلبوا مائتین وان یکن منکم ماءۃ یغلبوا الفا من الذین کفروا اعداد کی یہ نسبت یاد دلانے سے مقصود یہ کہنا ہے کہ تم پر واجب ہے کہ اپنے سے دس گنے لشکر کے مقابلہ میں بھی پسپا نہ ہو۔ (آیت) ” ان یکن “۔ سے دونوں جملہ جو شروع ہوئے ہیں ان سے مراد یہاں کوئی خبر دینا یا پیشگوئی کرنا نہیں بلکہ مقصود حکم دنیا ہے کہ اپنے سے بڑی جمعیت کے مقابلہ میں بھی ثابت وقائم رہو اور گریز اختیار نہ کرو، قرار واجب ہے اور فرار حرام۔ عربی زبان اور بلاغت قرآنی کا یہ ایک عام اسلوب بیان ہے کہ زور وتاکید کے موقع پر حکم وجوبی کو خبر کی صورت میں بیان کردیا جاتا ہے۔ وان کان لفظہ لفظ الخبر فمعناہ الامر (جصاص) لیس المراد منہ الخبر بل المراد الامر (کبیر) شرط فی معنی الامر (بیضاوی) (آیت) ” قوم لا یفقھون “۔ فتح و غلبہ میں بڑا دخل اعتقاد صحیح وثبات قلب کو ہے اور یہ نعمتیں ایمان ہی سے حاصل ہوتی ہیں۔ عشرون۔۔۔ مائتین۔ ماءۃ۔۔ الفا۔ بعض اہل تفسیر نے نہ نکتہ آفرینی بھی کی ہے کہ بجائے محض دس گناہ کہنے کے یہاں جو متعین بڑے بڑے اعداد ارشاد ہوئے ہیں اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ امر جہاد موقوف ہے جماعت وفوج پر، یہ نہیں کہ ایک ایک، دو دو آدمی بھی جہاد کے لئے کھڑے ہوجائیں۔
Ayah 8:6698 ۔ (اور جوش طبعی طور پر سرد پڑ ہی جاتا ہے جب تعد اد قلیل سے کثیر ہوجاتی ہے) (آیت) ” الئن “۔ یعنی ایک مدت کے بعد پچھلی آیت اور اس آیت کے نزول کے درمیان ایک خاصہ طویل وقفہ گزرا ہے۔ (آیت) ” خفف “۔ کے لفظ سے ادھر اشارہ ہے کہ اصل قاعدہ اور وعدہ تو وہی رہا جو اوپر بیان ہوچکا، صرف مشقت تم پر گھٹا دی گئی، یعنی اب اگر تم متحمل نہ ہوسکو اور ذرا لڑکھڑا جاؤ تو ویسی گرفت نہ ہوگی۔ (آیت) ” ضعفا “۔ سے یہاں قوائے جسمانی کی کمی مراد نہیں بلکہ جوش وہمت کی کمی مراد ہے۔ لم یرد بہ ضعف القوی والابدان وانما المراد ضعف النیۃ لمحاربۃ المشرکین (جصاص) قال الخلیل الضعف فی العقل والرای (راغب)
99 ۔ (تو مدار نصرت وتائیدغیبی کا بھی صبر وثابت قدمی پر ہے) (آیت) ” باذن اللہ “۔ کی قید نے صاف صاف بتادیا کہ یہ غلبہ و کامیابی خود بخود مشین کی طرح نہ حاصل ہوجائے گی بلکہ تمام تر اذن الہی ہی کے طفیل میں ہوگی، اور یہیں سے یہ پہلو بھی نکل آیا کہ اگر کسی موقع پر حکمت الہی اس اذن کی مقتضی نہ ہوئی تو نصرت و غلبہ بھی نہ ہوگا۔ اس قید سے یہ اشارہ بھی نکلتا ہے کہ نظر اسباب ظاہری سے کہیں زیادہ مسبب حقیقی پر رکھنی چاہیے۔
Ayah 8:67100 ۔ وہ جب اور جس کو چاہے کافروں پر غالب اور فتوحات سے مالا مال کردے اور جب اور جس کے لئے چاہے کسی حکمت کے تقاضہ سے اس نتیجہ میں تاخیر کردے، آیت کا پس منظر یہ ہے کہ معرکہ بدر کے بعد غنیم کے 70 آدمی گرفتار ہو کر آئے، سپہ سالار اعظم ﷺ نے مشورہ کیا کہ ان کے ساتھ کیا کیا جائے، اکثر اہل شوری کی رائے ہوئی کہ اس وقت امت کو بڑی ضرورت روپیہ کی ہے اور مصالح ملت کا تقاضا ہے کہ انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے، خود آپ ﷺ بھی اپنی خلقی رحمدلی کے مقتضاء سے اسی طرف مائل ہورہے تھے، چناچہ چند تو قتل کئے گئے اور باقی فدیہ لے کر بلکہ تو بلافدیہ ہی چھوڑ دیئے گے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (آیت) ” ماکان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض “۔ اثخان کے لفظ اور اس کے لغوی معنی پر بہت بحث ہوئی ہے لیکن اصل شئے اس اثخان یا خونریزی کی غایت ومقصود ہے اور وہ فساد کی جڑ کٹنا ہے تو مطلب یہ ہوا کہ کہ پیغمبر کو قتل و قتال اس وقت تک جاری رکھنا ہے جب تک فساد کی بیخ کنی نہ ہوجائے۔ الی ان یعز الاسلام بذل الکفر واھلہ (تھانوی) یعنی حتی یذل الکفر باشاعۃ القتل فی اھلہ ویعز الاسلام بالاستیلاء والقھر (مدارک) (آیت) ” تریدون عرض الدنیا، واللہ یرید الاخرۃ “۔ بندے لاکھ صالح و متقی سہی بہرحال ان کی نظر سطحی اور محدود ہی ہوگی، یہ تو صرف خدائی حکمت تھی جسے منظور یہ تھا کہ دشمنان توحید بالکل مقہور ومغلوب ہوجائیں ان کا زور ہر طرح ٹوٹ جائے اور لوگ آزادی کے ساتھ جوق در جوق مسلمان ہونے لگیں، توریت کا قانون ایسے موقع پر یعنی غنیم کے شہر پر قبضہ ہوجائے تو حسب ذیل ہے :۔” جب خداوند تیرا خدا اسے تیرے قبضہ میں کردیوے تو وہاں کے ہر ایک مرد کو تلوار کی دھار سے قتل کر، مگر عورتوں اور لڑکوں اور مواشی کو اور جو کچھ اس شہر میں ہو، اس کا سارا لوٹ اپنے لئے لے ، “ (استثناء 20: 13، 14) ” انہوں نے بارہ ہزار مرد بہادر روانہ کئے اور انہوں حکم دیا کہ عاد کے باشندوں کو جا کے عورتوں اور بچوں سمیت قتل کرو اور یہ وہ کام ہے جس کا تم کو کرنا ضرور ہے کہ سارے مردوں اور عورتوں کو جو مرد سے ہم بستر ہوئی ہوں ہلاک کردینا۔ (قاضیون 2 1: 1 1) مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ خطائے اجتہادی جب معصوم تک کے لیے جائز ہے توشیوخ غیر معصوم کے متعلق امتناع خطا کا اعتقاد کس درجہ غلوے قبیح ہے۔
Ayah 8:68101 ۔ قانون الہی یہی ہے کہ خطائے اجتہادی پر سزا نہیں ہے تو اگر یہ قانون میں بتایا پہلے سے موجود نہ ہوتا تو مسلمانوں کی یہ غلطی تھی تو سخت مؤاخذہ اور سزا کے قابل۔ ان لا یعذب احدا علی العمل بالا جتھاد وکان ھذا اجتھادا منھم (مدارک) وھو ان لا یعاقب المخطی فی اجتھادہ (بیضاوی)
Ayah 8:69102 ۔ چناچہ شان غفوریت کے تقاضہ سے اس نے تمہاری یہ خطا معاف کردی، اس پر کچھ گرفت نہ کی، اور شان رحمت کے تقاضہ سے زر فدیہ کو تمہارے لیے حلال وطیب بھی قرار دے دیا۔ (آیت) ” فکلوا مما غنمتم حللا طیبا “۔ یعنی جو کچھ فدیہ ان کافروں سے وصول ہوگیا ہے اس کے جائز وپاک ہونے میں شک وشبہ نہ کرو۔ (آیت) ” واتقوا اللہ “۔ اس تقوی کا اقتضاء یہ ہے کہ آیندہ ہر طرح کی احتیاط زیادہ رکھو گے۔
Ayah 8:70103 ۔ (اسی دنیا میں) حضرت عباس ؓ بن عبدالمطلب سے روایت ہے کہ مجھے معرکہ بدر کے بعد فدیہ میں 20 اوقیہ دینے پڑے تھے (اور اوقیہ 40 درہم یعنی تقریبا دس روپے کا ہوتا ہے گویا 20 اوقیہ تقریبا (200 کے برابر ہوئے) اور آج میرے پاس غلام بھی 20 ہیں اور ہر غلام مالدار ہے پس دنیا میں وعدۂ الہی کا ظہور تو یوں نمایاں طور پر ہوگیا۔ (آیت) ” فی قلوبکم خیرا “۔ اس سے مراد ایمان ہے اے خلوص ایمان وصحۃ نیۃ (مدارک) ایمانا واخلاصا (بیضاوی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں اس پر دلالت ہے کہ طاعت سے دنیاوآخرت دونوں کے برکات حاصل ہوتے ہیں خواہ مال کی صورت میں یا مقامات باطنی کی صورت میں۔
104 ۔ (اور ان صفات کا ظہور کامل آخرت میں ہوگا) آیت کے پہلے ٹکڑے میں ذکر دنیوی انعام کا ہے اور اس ٹکڑے میں اخروی انعام کا۔
Ayah 8:71105 ۔ (اور ان کی خیانت کو چلنے نہ دیا) مطلب یہ ہے کہ اگر ان کی نیت خالص نہ بھی ہو۔ اور ان کا مقصود آپ کو دھوکا ہی دینا ہو، جب بھی آپ تشویش نہ کیجئے۔ اللہ ان کی چالاکی چلنے نہ دے گا۔ اور انہیں آپ کے ہاتھ میں گرفتار کرا دے گا جیسا کہ اس کے قبل جنگ بدر میں کرچکا ہے۔ (آیت) ” ان یریدوا خیانتک “۔ یعنی یہ اگر دل سے مسلمان نہیں ہیں بلکہ محض اظہار اسلام سے آپ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں۔ خیانۃ کا لفظ وسیع ہے۔ ہر قسم کی چالاکی اس کے تحت میں داخل ہے۔ (آیت) ” فقد خانوا اللہ من قبل “۔ اور آپ کی مخالفت کرچکے اور آپ کے مقابلہ میں آچکے ہیں۔ (آیت) ” فامکن منھم “۔ یعنی اللہ نے انہیں آپ کے قابو میں دے دیا، مثلا معرکہ بدر میں۔ اے اقدرک علیھم جسما رایت فی البدر (روح)
106 ۔ چناچہ وہ خوب جانتا ہے کہ خائن کون کون ہے اور کوئی نہ کوئی تدبیر بھی ابھی نکال دے گا جس سے یہ خائن مغلوب ہو کر رہیں۔
Ayah 8:72107 ۔ یہ صفات مہاجرین کے بیان ہوئے، یہ وہ مکہ والے تھے کہ پہلے تو اپنی قوم کی مخالفت کی پروانہ کرکے اور ہر قسم کے خطرے مول لے کر ایمان لائے، پھر ترک وطن کیا، خدا کی راہ میں وطن اور سارے مالوفات وطن کو چھوڑ کر پردیس میں آئے، پھر اپنا روپیہ خرچ کرکے سامان جہاد درست کیا، پھر اپنی جانوں کو معرکہ قتال میں پیش کردیا۔ (آیت) ” فی سبیل اللہ “۔ کی قید بڑی اہم اور لازمی ہے۔ وطن وقوم کے پرستاروں کو ان مہاجرین فی سبیل اللہ کے درجہ میں کہنا اپنی قرآن فہمی پر شدید ظلم کرنا ہے۔
108 ۔ (جب تک کوئی مستقل قانون وراثت نازل نہیں ہوتا) قانون وراثت (سورۃ النساء میں) نازل ہونے کے بعد یا عارضی انتظام خود بخود ختم ہوگیا۔ اور اس اصطلاح میں ” نسخ “ کہتے ہیں، ثم نسخ اللہ ذلک بفتح مکۃ والمیراث بالقرابۃ سواء کان الوارث فی دارالحرب او فی دارالاسلام لسقوط اعتبار الھجرۃ بالسنۃ (ابن عربی) عن ابن عباس قال کان المھاجر لایتولی الاعرابی ولا یرثہ وھو مومن ولا ولا یرث الاعرابی المھاجر فنسخ تھا واولوا الارحام بعضھم اولی ببعض (جصاص) (آیت) ” والذین او وا ونصروا “۔ یہ مدح انصار مدینہ کی ہورہی ہے جنہوں نے مہاجرین مکہ کو اپنے گھروں میں میں جگہ دی اور ہر طرح انہیں آسائش پہنچا پہنچا کر پردیس ان کے لئے دیس بنادیا۔ (آیت) ” بعضھم اولیآء بعض۔ ولایت سے یہاں مراد وارثت میں حصہ ہے، فی ھذادلالۃ علی ان اطلاق لفظ الموالاۃ یوجب التوارث (جصاص) نقل الواحدی عن ابن عباس والمفسرین کلھم ان المراد ھو الولایۃ فی المیراث (کبیر) فی المیراث علی ما ھو المروی عن ابن عباس ؓ والحسن و مجاھد والسدی وقتادہ (روح)
109 ۔ آغاز اسلام میں ہجرت لوازم ایمان میں سے تھی (آیت) ’ مالکم من ولایتھم من شیء “۔ یعنی نہ تم ان کے مال کے وارث اور نہ وہ تمہارے مال کے۔ قال ابن عباس و مجاھد وقتادہ ذلک فی المیراث (بحر) معناہ نفی الموالاۃ فی التوارث (بحر) (آیت) ” حتی یھاجروا “۔ چناچہ جب انہوں نے ہجرت کرلی تو وہ بھی مہاجرین میں داخل ہوگئے، ہجرت کا وجوب گو بعد فتح مکہ باقی نہیں رہا، تاہم دارالکفر سے ہجرت کرجانا ہمیشہ اولی اور موجب اجرعظیم ہے۔ وقد کانت الھجرۃ فرضا حین ھاجر النبی ﷺ الی ان فتح النبی ﷺ مکۃ (جصاص)
110 ۔ (آیت) ” استنصروکم “۔ کے فاعل غیر مہاجرین ہیں یعنی دین کے باب میں یا قتال کفار میں یہ غیر مہاجرین بھی جب اور جس طرح مدد مانگیں تمہیں دینا واجب ہے۔
1 1 1 ۔ جب ایسی قوم کے مقابلہ میں امداد طلب کی جائے کہ ان میں اور مہاجرین میں باہم عہد و پیمان ہے تو بقاء عہد تک مدد نہ دی جائے گی، البتہ عہد کو ختم کرکے مدد جائز ہے۔ باقی یہ کہ خود ایسا عہد توڑنا کب واجب ہوجاتا ہے، اس کی تفصیل کتب فقہ و احکام میں ملے گی، (آیت) ” واللہ بما تعملون بصیر “۔ اللہ کے عالم کل اور بصیر مطلق ہونے کا استحضار تمہیں ہر نقض عہد، ہر بےاحتیاطی سے روکے گا۔
Ayah 8:73112 ۔ (اور تم نہ ان کے وارث، نہ وہ تمہارے وارث) دین کا رشتہ خون کے رشتہ سے کہیں بڑھ کر اور اہم تر ہے۔ ولایۃ کے معنی اس بیان میں وراثت کے نہیں، بلکہ اشتراک عداوت اسلام کے ہیں کہ یہود اور نصرانی اور مشرکین قریش گوآپس میں شدید دشمن تھے، لیکن رسول اللہ ﷺ کی عداوت میں سب ایک ہوگئے، الحق ان یقال ان کفار قریش کانوا فی غایۃ العداوۃ للیھود فلما ظھرت دعوۃ محمد ﷺ تناصروا وتعانوا علی ایذاۂ ومحاربتہ فکان المراد من الایۃ ذلک (کبیر)
113 ۔ (کیونکہ باہمی توارث سے سب ایک ہی جماعت سمجھی جائے گی اور ایک مستقل وعلیحدہ جماعت ہوئے بغیر اسلام کو قوت و شوکت حاصل نہ ہوگی) (آیت) ” الاتفعلوہ “۔ یعنی اگر اس حکم عدم توارث پر عمل نہ کیا اور باوجود تخالف دین، محض قرابت کی بنا پر مومن و کافر میں علاقہ توارث قائم رکھا اے الا تفعلوا ما امرتکم بہ من تو اصل المسلمین وتولی بعضھم بعضا (کشاف) ای تولی المسلمین وقطع الکفار (جلالین) یعنی ان لاتفعلوا ماامرتھم بہ فی ھاتین الایتین من ایجاب الموالاۃ والتناصروالتوارث بالاخوۃ والھجرۃ ومن قطعھا بترک الھجرۃ (جصاص) (آیت) ” تکن فتنۃ فی الارض و فساد کبیر “۔ شوکت وقوت اسلام کا ضعیف ہونا ہی فتنہ و فساد عالم کا سرمایہ ہے۔
Ayah 8:74114 ۔ (جنت میں) آخرت میں کامیاب ترین لوگ یہی تو ہوں گے جو دنیا میں سارے مراتب ایمان بجالے آئے۔ (آیت) ” الذین۔۔۔ فی سبیل اللہ “۔ یعنی طبقہ مہاجرین جنہوں نے ایمان، ہجرت و جہاد کا حق ادا کردیا۔ (آیت) ” والذین او واونصروا “۔ یعنی گروہ انصار جنہوں نے نصرت مہاجرین کا حق ادا کردیا۔ (آیت) ” ھم ال مومن ون حقا “۔ یعنی ایمان میں کامل، سارے مراتب ایمان کے طے کرجانے والے ، (آیت) ” لھم مغفرۃ “۔ مغفرۃ کا صیغہ نکرہ اس پر دال ہے کہ مغفرت اپنے پورے کمال پر ہوگی۔ وتنکیر لفظ المغفرۃ یدل علی الکمال والمعنی لھم مغفرۃ تامۃ کاملۃ عن جمیع الذنوب والسیات (کبیر)
Ayah 8:75115 ۔ (بہ اعتبار احکام شرعی کے) مہاجرین سابقین اور مہاجرین مابعد میں بہ اعتبار فضل و مرتبہ جو کچھ بھی فرق کہو، بہ اعتبار احکام شرعی سب برابر ہیں۔
116 ۔ یعنی مہاجرین مابعد میں جو لوگ آپس میں یا ان مہاجرین سابق کے قرابت دار ہوں وہی حقدار میراث کے ہیں نہ کہ غیر قرابت دار خواہ فضل و مرتبہ میں یہ غیر قربت دار ہی بڑھے ہوئے ہوں۔ (آیت) ” واولوا الارحام “۔ اس قرابت کا تعلق آپس سے ہے یا مہاجرین سابق سے ہے۔ (آیت) ” فی کتب اللہ “۔ یعنی حکم شرعی میں۔ اے فی حکمہ وقسمتہ (کشاف) اے فی حکمہ اوفی اللوح المحفوظ (روح) یہ حکم فتح مکہ کے بعد سے باقی نہیں رہا۔ اب میت کا وارث مسلمان عزیز ہی ہوگا خواہ وہ کہیں ہو۔
117 ۔ (اور اسی نے ہر وقت کے مناسب احکام دیئے ہیں اور احکام میراث وغیرہ میں ہر ایک کی مصلحت کا پورا لحاظ رکھ لیا ہے)