70. Surah Al-Ma'aarij

المعارجThe Ascending Stairways · 44 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 70:41

عَلٰۤى اَنْ نُّبَدِّلَ خَیْرًا مِّنْهُمْ١ۙ وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ Open ayah 70:41 in the Quran reader

کہ ان کی جگہ ان سے بہتر لوگ لے آئیں، اور ہم کچھ عاجز تو ہیں نہیں،17۔

17۔ خلاصہ استدلال یہ کہ جب ہم بالکل نئی مخلوق کے پیدا کرنے پر، جن میں صفات کمال بھی تم سے زائد ہوں، قادر ہیں، تو تم کو دوبارہ پیدا کردینے میں کیا دشواری ہے ؟ (آیت) ” انا ..... منھم “۔ یعنی اس دنیا میں ان سے بہتر مخلوق لا دکھائیں۔
Ayahs 70:42–44

فَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَ یَلْعَبُوْا حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 70:42 in the Quran reader

تو آپ ان کو (پڑا) رہنے دیجئے (اس) شغل اور تفریح میں یہاں تک کہ انہیں اپنے اس دن سے سابقہ واقع ہو جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے،

یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰى نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَۙ Open ayah 70:43 in the Quran reader

یعنی) وہ دن جب کہ یہ قبروں سے نکل کر (اس طرح) دوڑیں گے کہ گویا وہ کسی پرستش گاہ کی طرف دوڑے جاتے ہیں ،

خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ ذٰلِكَ الْیَوْمُ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ۠ Open ayah 70:44 in the Quran reader

ان کی آنکھیں جھکی ہوں گی ان پر مذلت چھارہی ہوگی یہی ہے وہ دن جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا،18۔

18۔ (اور دنیا میں اس کی ہمیشہ تکذیب ہی کرتے رہے تھے) (آیت) ” فذرھم یخوضوا ویلعبوا “۔ یعنی آپ ﷺ ان بدمستوں اور غفلت میں پڑے رہنے والوں کے حق میں زیادہ فکر وتردد نہ کیجئے یہ مطلب نہیں کہ آپ ﷺ ان پر تبلیغ بھی ترک کردیجئے۔ (آیت) ” کانھم الی نصب یوفضون “۔ یعنی جس طرح دنیا میں چڑھاوا چڑھانے کیلئے اپنی پرستش گاہوں کی طرف لپکتے ہوئے جاتے تھے۔ (آیت) ” نصب “۔ ملاحظہ ہو (آیت) ” وما ذبح علی النصب “۔ پر حاشیہ سورة المائدہ (پ 6) کے رکوع اول میں۔ (آیت) ” خاشعۃ ابصارھم “۔ یہ آنکھوں کا جھکا ہونا افراط خوف وندامت سے ہوگا (آیت) ” ترھقھم ذلۃ “۔ اردومح اور ہ میں ” انکے چہروں پر پھٹکار برس رہی ہوگی “۔