56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 56:80–81

تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 56:80 in the Quran reader

اتارا ہوا ہے پروردگار عالم کی طرف سے ،

اَفَبِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَۙ Open ayah 56:81 in the Quran reader

تو کیا اس کلام کو سرسری سمجھے ہوئے ہو، ؟ ،31

31۔ یعنی ایسے مہتم بالشان کلام پر بھی ایمان لانا واجب نہیں جانتے ہو ؟ (آیت) ’ تنزیل من رب العلمین “۔ مطلب یہ ہوا کہ شیطان مردود کا گزر تو اس کلام پاک کے ارد گرد بھی نہیں، جہاں سے یہ نقل ہو کر آیا ہے۔ وہ تمامتر فرشتوں کے پہرہ میں پھر دنیا میں اس کا نزول حق تعالیٰ کی نگرانی میں۔ شیطان کو اس کی ہوا بھی کسی منزل میں نہیں لگنے پاتی۔
Ayahs 56:82–84

وَ تَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 56:82 in the Quran reader

اور تکذیب کو اپنی غذا بنا رہے ہو، ؟

فَلَوْ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَۙ Open ayah 56:83 in the Quran reader

سو جس وقت روح حلق تک آپہنچی

وَ اَنْتُمْ حِیْنَئِذٍ تَنْظُرُوْنَۙ Open ayah 56:84 in the Quran reader

اور تم اس وقت تکا کرتے ہو،32۔

32۔ (بیکسی اور حسرت کی تصویر بنے ہوئے) (آیت) ” فلو ..... الحلقوم “۔ موت اور قبض روح کے وقت کا منظر ہے۔ (آیت) ” وتجعلون ..... تکذبون “۔ یعنی بھی کس درجہ اور شدت کی ؟ گویا تکذیب حقائق کو اپنی غذا ہی بنائے ہوئے ہو۔
Ayah 56:85

وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 56:85 in the Quran reader

اور ہم تم سے بھی زیادہ قریب اس شخص کے ہوتے ہیں البتہ تم نہیں سمجھتے ہو،33۔

33۔ یعنی اس کے حالات ظاہری وباطنی سے تم سے کہیں زیادہ ہم واقف ہیں۔ (آیت) ” الیہ ضمیرہ مختصر کے لیے ہے جو سیاق کلام سے ظاہر ہے۔ المحتضر المغھوم من الکلام (روح)
Ayahs 56:86–87

فَلَوْ لَاۤ اِنْ كُنْتُمْ غَیْرَ مَدِیْنِیْنَۙ Open ayah 56:86 in the Quran reader

تو اگر تمہارا حساب کتاب ہونے والا نہیں ،

تَرْجِعُوْنَهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 56:87 in the Quran reader

تو تم اس (روح) کو پھر کیوں نہیں لوٹا لاتے، اگر تم سچے ہو۔34۔

34۔ (اپنے دعوی انکار بعث میں) مطلب یہ ہوا کہ جس وقت تمہارے کسی عزیز قریب کی جان نکلنے لگتی ہے تو کیا یہ ممکن ہے کہ تم کسی حکمت، کسی تدبیر کسی کوشش و کاوش سے اس کی جان روک لو ؟ اور جب تم پر اپنی بےبسی، قانون موت وحیات کے باب میں یوں عیاں و روشن ہوگئی تو یہ کیسے ممکن سمجھتے ہو کہ حشر میں اللہ تعالیٰ کو مردو وں کو اٹھانے سے روک سکوگے ؟ (آیت) ” ترجعونھا “۔ ضمیر ھانفس یا روح کی طرف ہے۔
Ayahs 56:88–89

فَاَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ Open ayah 56:88 in the Quran reader

تو جو کوئی مقربین میں سے ہوگا تو اس کیلئے راحت ہے،

فَرَوْحٌ وَّ رَیْحَانٌ١ۙ۬ وَّ جَنَّتُ نَعِیْمٍ Open ayah 56:89 in the Quran reader

غذائیں ہیں، اور عیش کی جنت ہے،35۔

35۔ اور مقربین وہ ہیں جن کا ذکر اس سورت کی آیت 11، 12 میں آچکا ہے۔ (آیت) ” اولئک المقربون “۔ وجنت نعیم “۔ یہاں بھی مقربین کا اور اہل یمین اور اہل شمال کا ذکر اسی ترتیب سے ہورہا ہے۔ (آیت) ” روح وریحان “۔ روح کے معنی رحمت اور ریحان کے معنی خوشبو کے بھی ہیں۔ دوسرے معنی مغفرت اور استراحت اور دوزخ سے نجات اور جنت میں دخول کے بھی کیے گئے ہیں۔ قالہ قتادۃ الروح الرحمۃ وقیل ھو الرحمۃ وھو قول مجاھد وقال سعید بن جبیر وغیرہ وقال الضحاک مغفرۃ ورحمۃ (معالم) وریحان استراحۃ وقال مجاھد و سعید بن جبیر ایضا (معالم) قال ابوبکر الوراق الروح النجاۃ من النار والریحان دخول دار القرار (معالم) تفسیر کبیر میں جو یہاں پہنچ کر افسوس ہے کہ خود امام المفسرین کی نہیں بلکہ ان کے بعد شاگردوں کی تفسیر رہ گئی ہے، یہ نکتہ بھی لکھا ہے کہ روح وریحان وجنت نعیم کی یہ سہ گانہ بشارتیں ان کی زندگی کے تین شعبوں، عقیدہ حق اور کلمہ طیبہ اور اعمال حسنہ کے مقابل ہیں اور اس سے اشارہ ان کے قلب، ان کی زبان اور ان کے اعضاء ظاہری تینوں کی سلامت ذوق کی جانب ہوگیا۔
Ayahs 56:90–91

وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِۙ Open ayah 56:90 in the Quran reader

اور جو کوئی داہنے والوں میں سے ہوگا تو (اس سے کہا جائے گا

فَسَلٰمٌ لَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِؕ Open ayah 56:91 in the Quran reader

( تیرے لئے امن وامان ہے کہ تو داہنے والوں میں سے ہے،36۔

36۔ (ہر آفت اور خطرہ سے) یہ (آیت) ” اصحب الیمین “ وہی آیت 27 والے (آیت) ” اصحب الیمین “۔ اور آیت 8 والے (آیت) ” اصحب المیمنۃ ہیں۔ (آیت) ” اما ان کان “۔ یہ فقرہ ان تینوں آیتوں میں جہاں جہاں آیا ہے، مراد اس سے متوفی یا محتضر سے ہے۔
Ayahs 56:92–94

وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِیْنَ الضَّآلِّیْنَۙ Open ayah 56:92 in the Quran reader

اور جو کوئی جھٹلانے والوں اور گمراہوں میں سے ہوگا

فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِیْمٍۙ Open ayah 56:93 in the Quran reader

تو اس کی مہمانی کھولتے ہوئے پانی سے ہوگی ،

وَّ تَصْلِیَةُ جَحِیْمٍ Open ayah 56:94 in the Quran reader

اور (اسے) دوزخ میں داخل ہونا ہوگا،37۔

37۔ (جس کے شدائد کی تفصیل بارہا پشتر گزر چکی ہے) (آیت) ” تصلیۃ جحیم “۔ کے معنی علاوہ ادخال نار کے، آگ سے ہر طرف سے گھر جانے کے بھی کیے گئے ہیں۔ اے وتقریر لہ فی النار التی تغمرہ من جمیع جھاتہ (ابن کثیر) یہ (آیت) ” المکذبین الضآلین “۔ وہی آیت 9 والے (آیت) ” اصحب المشئمۃ “۔ آیت 41 والے (آیت) ” اصحب الشمال “۔ اور آیت 51 والے (آیت) ” الضآلون المکذبون “۔ ہیں۔
Ayahs 56:95–96

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْیَقِیْنِۚ Open ayah 56:95 in the Quran reader

بیشک یہ تحقیقی یقینی بات ہے،

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 56:96 in the Quran reader

سو آپ اپنے عظیم الشان پروردگار کے نام کی تسبیح کیجئے،38۔

38۔ (جس کی قدرت و حکمت کے یہ سارے تصرفات ہیں) (آیت) ” ھذا اشارہ مرنے والوں کے ان سہ گانہ درجات کی طرف ہے۔ یعنی ماذکر من قصۃ المحتضرین (معالم) (آیت) ” حق الیقین “۔ اس دہری تاکید سے مراد یہ ہے کہ یہ امر اس درجہ یقینی اور قطعی ہے کہ اس سے زیادہ تحقیق کی کوئی اور گنجائش ہی نہیں۔ ذلک نو تاکید قال ھذا من حق الحق وصواب الصواب اے غایتہ ونھایتہ التی لاوصول فوقہ (کبیر۔ عن ابن عطیۃ)