53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 53:41–42

ثُمَّ یُجْزٰىهُ الْجَزَآءَ الْاَوْفٰىۙ Open ayah 53:41 in the Quran reader

پھر اسے پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ،

وَ اَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهٰىۙ Open ayah 53:42 in the Quran reader

اور یہ کہ (سب کو) آپ کے پروردگار کے پاس ہی پہنچنا ہے،34۔

34۔ (سو ان اطلاعات کے باوجود یہی انسان کا اپنے انجام کی طرف سے نڈر اور اپنی فلاح کی طرف سے غافل اور اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی طرف متوجہ رہناکیسا عجیب ہے) (آیت) ” الجزآء الاوفی “۔ اس میں تنبیہ ہے کہ جزائے اعمال بالکل پوری پوری ملے گی۔ وہاں کے حساب کتاب میں کسی غلطی، دھوکے، فروگذاشت، بھول چوک کا امکان نہیں۔ (آیت) ” الی ربک المنتھی “۔ اتنے جزء سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ ہر آغاز کا انجام ہوتا ہے کوئی چیز لاانتہاء اور بےنہایت نہیں ہوتی، دوسرے یہ کہ ہر شے کا آخری رجوع حق تعالیٰ کی طرف ہوتا ہے نہ کہ کسی اور کی طرف۔
Ayahs 53:43–46

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَ اَبْكٰىۙ Open ayah 53:43 in the Quran reader

اور یہ کہ وہی ہنساتا اور رلاتا ہے،

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَمَاتَ وَ اَحْیَاۙ Open ayah 53:44 in the Quran reader

اور یہ کہ وہی مارتا اور جلاتا ہے،

وَ اَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىۙ Open ayah 53:45 in the Quran reader

اور یہ کہ اسی نے نر و مادہ دونوں جنسوں کو

مِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى۪ Open ayah 53:46 in the Quran reader

نطفہ سے پیدا کیا ہے، جب وہ ڈالا جاتا ہے،35۔

35۔ (رحم مادر میں) آیت کا خلاصہ مضمون یہ ہے کہ تمام واقعات غم ومسرت، سارے اسباب موت وحیات، ہر قسم کی تخلیق کی اصلی اور آخری علت صرف ذات حق تعالیٰ ہے، کوئی ان صفات میں اس کا شریک وسہیم نہیں اور نہ اس کے یہ صفات وافعال مختلف دیویوں ودیوتاؤں کے درمیان تقسیم ہیں کہ جلانا اور پیدا کرنا کسی اور کے ہاتھ میں اور مارنا اور فنا کرنا کسی اور کے اختیار میں، خوش نصیبی کا تعلق فلاں سے ہو اور بدنصیبی کا فلاں سے۔
Ayahs 53:47–48

وَ اَنَّ عَلَیْهِ النَّشْاَةَ الْاُخْرٰىۙ Open ayah 53:47 in the Quran reader

اور یہ کہ دوبارہ پیدائش اسی کے ذمہ ہے،

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَغْنٰى وَ اَقْنٰىۙ Open ayah 53:48 in the Quran reader

اور یہ کہ وہی غنی کرتا ہے اور (سرمایہ) باقی رکھتا ہے،36۔

36۔ یعنی دھن دولت، سرمایہ دیتا بھی ہے اور وہی اسے محفوظ بھی رکھتا ہے۔ لکشمی دیوی وغیرہ کسی اور کا اس میں دخل نہیں۔ (آیت) ” النشاۃ الاخری “۔ یعنی وہ بعث ثانی جو قیامت کے دن ہوگا۔ (آیت) ” علیہ “۔ یعنی اس کا وقوع ایسا ضروری ہے، کہ حق تعالیٰ پر وہ گویا واجب ہے یا حق تعالیٰ کے ذمہ ہے، حالانکہ حقیقۃ کوئی شے بھی حق تعالیٰ پر واجب نہیں ہوسکتی۔ واجب ہونے کے معنی کسی برتر قانون کے ماتحت پابندی کے ہیں۔ اور ارادء الہی سے بڑھ کر کون قانون ہوسکتا ہے جس کا وہ ماتحت یا پابند ہو۔ اسی لئے اہل سنت کا مسلک یہ ہے کہ حق تعالیٰ پر واجب کوئی سی بھی چیز نہیں۔
Ayah 53:49

وَ اَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعْرٰىۙ Open ayah 53:49 in the Quran reader

اور یہ کہ وہی پروردگار ہے شعری کا بھی،37۔

37۔ (جسے تم معبود سمجھ کر پرستش کررہے ہو) (آیت) ” الشعری “۔ شعری سے مراد مطلق ستارہ بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن (آیت) ” الشعری “ یا شعری سے مراد مطلق ستارہ بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن (آیت) ” الشعری “۔ یا شعرائے یمانی نام ستارہ جوزاء کا ہے۔ علماء ہئیت کی تحقیق میں یہ آسمان کا روشن ترین ستارہ ہے۔ اس کی پرستش نہ صرف عربوں میں بلکہ متعدد قدیم مشرک، جاہلی قوموں، مصریوں، یونانیوں، رومیوں وغیرہ میں کثرت وشدت سے ہوتی رہی ہے، قرآن مجید نے اس کا نام اس سیاق میں لاکر سارے نظام ستارہ پرستی پر ضرب لگادی۔ ذو الشعری۔ کی مورتی ایک چوکور سیاہ پتھر کی تھی اور زمین سے چار فٹ بلند اور دو فٹ چوڑی زمین پر نصب رہتی تھی مغربی محققین کا بیان ہے کہ الحجر کے نباطی عہد کے کتبوں میں اس دیوی کا نام منات دیوی کے نام کے ساتھ ساتھ ملتا ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔
Ayahs 53:50–51

وَ اَنَّهٗۤ اَهْلَكَ عَادَا اِ۟لْاُوْلٰىۙ Open ayah 53:50 in the Quran reader

اور یہ کہ اسی نے قوم عاد اول کو ہلاک کیا،

وَ ثَمُوْدَاۡ فَمَاۤ اَبْقٰىۙ Open ayah 53:51 in the Quran reader

اور ثمود کو بھی کہ کسی کو باقی نہ چھوڑا،38۔

38۔ (اور یہ ساری ہلاکتیں جرم کفر وشرک ہی کی پاداش میں ہوئیں)
Ayahs 53:52–54

وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا هُمْ اَظْلَمَ وَ اَطْغٰىؕ Open ayah 53:52 in the Quran reader

اور ان سے پہلے نوح کی قوم کو (ہلاک کیا) بیشک وہ اور بھی بڑھے ہوئے ظالم و سرکش تھے،

وَ الْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰىۙ Open ayah 53:53 in the Quran reader

اور الٹی ہوئی بستیوں کو بھی پھینک مارا تھا ،

فَغَشّٰىهَا مَا غَشّٰىۚ Open ayah 53:54 in the Quran reader

پھر ان بستیوں کو گھیر لیا، جس چیز نے کہ گھیر لیا،39۔

39۔ یعنی عذاب الہی نے۔ (آیت) ” والمؤتفکۃ “۔ الٹی ہوئی بستیوں سے مراد قوم لوط کے شہر ہیں۔ مغربی شام میں بحرمردہ کے نواح میں۔ (آیت) ” ماغشی “۔ یہ ابہام، اسلوب عرب کے مطابق، عذاب الہی کی عظمت وہولنا کی کے اظہار کے لئے ہے۔ (آیت) ” وقوم ... اطغی “۔ نوح وقوم نوح دونوں پر حاشیے بار بار گزر چکے۔
Ayah 53:55

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكَ تَتَمَارٰى Open ayah 53:55 in the Quran reader

سو تو اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں میں شک کرتا رہے گا ؟ ،40۔

40۔ (اے مخاطب ! ) مقصود کافر مخاطب کی حماقت پر اظہار تاسف ہے کہ اے احمق بجائے اس کے کہ ان مضامین کی تصدیق سے تو فائدہ اٹھاتا تو الٹا ان سے انکار وشک کررہا ہے۔ (آیت) ” الآء ربک “۔ انس سارے مضامین سے آگاہی۔ ان کے متعلق احکام وہدایات یہ سب بھی تو اللہ کی نعمتیں ہی ہیں۔
Ayahs 53:56–58

هٰذَا نَذِیْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى Open ayah 53:56 in the Quran reader

یہ ڈرانے والے (پیغمبر) بھی پہلے ڈرانے والوں میں سے ہیں ،

اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُۚ Open ayah 53:57 in the Quran reader

وہ قریب آجانے والی چیز قریب آگئی ،

لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَاشِفَةٌؕ Open ayah 53:58 in the Quran reader

اللہ کے سوا اس کا کوئی ہٹانے والا نہیں،41۔

41۔ (تو کسی اور کے بھروسہ پر ادھر سے بےرہنا انتہائی محرومی اور بدبختی کی بات ہے، چاہئے کہ ان پیغمبر کا کہنا مانو) (آیت) ” ھذا “۔ اشارہ رسول اللہ ﷺ کی جانب ہے اور جائز ہے کہ قرآن کی جانب سمجھا جائے۔
Ayahs 53:59–60

اَفَمِنْ هٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَۙ Open ayah 53:59 in the Quran reader

سو کیا تم لوگ اس کلام سے تعجب کرتے ہو،

وَ تَضْحَكُوْنَ وَ لَا تَبْكُوْنَۙ Open ayah 53:60 in the Quran reader

اور ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو ؟ ،42۔

42۔ (خوف مؤاخذہ آخرت سے) (آیت) ” تعجبون “ ، یعنی بےیقینی کے ساتھ اور اسے مستبعد سمجھ کر اس پر اظہار حیرت کررہے ہو۔ (آیت) ” وتضحکون “۔ اور انکار و استہزاء کیساتھ اس کی ہنسی اڑا رہے ہو۔
Ayahs 53:61–62

وَ اَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ Open ayah 53:61 in the Quran reader

اور تم تکبر کرتے ہو

فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ وَ اعْبُدُوْا۠۩ Open ayah 53:62 in the Quran reader

غرض یہ کہ اللہ کی اطاعت کرو اور عبادت کرو43

43۔ (حسب تعلیم وہدایت پیغمبر، تاکہ فلاح دارین حاصل کرو) (آیت) ” سمدون “۔ یعنی اپنے جہل و غفلت کی بناء پر طاعت الہی سے عار محسوس کررہے ہو۔ (آیت) ” فاسجدوا للہ “۔ سجدہ۔ یہاں اپنے لفظی معنی، خضوع و اطاعت کے مفہوم میں لیا گیا ہے۔ اے فاخضعوا لہ واخلصوا ووحدوہ (ابن کثیر) لیکن آیت حنفیہ کے نزدیک سجدہ کی ہے، اور اس پر پہنچ کر رسول اللہ ﷺ سے سجدہ کرنا منقول ہے۔ ھذہ ایۃ سجدۃ عند اکثر اھل العلم وقد سجد النبی ﷺ عندھا (روح)