42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 42:41

وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:41 in the Quran reader

اور جو اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد بدلہ (برابر کا) لے لے، سو ایسے لوگوں پر کوئی الزام نہیں،46۔

46۔ یہاں دو اصول ارشاد ہوئے ہیں : (1) ایک قانون عدل، کہ جو جیسا کرے گا، ویسا پائے گا۔ مثلا دانت کا بدلہ دانت اور آنکھ کا بدلہ آنکھ، لیکن یہاں بھی یہ شرط ہے کہ وہ شے فی نفسہ ممنوع و حرام نہ ہو۔ مثلا لوٹ کا بدلہ لوٹ اور زنا کے عوض زنا، کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ (2) دوسرا قانون فضل۔ یعنی رحم ورعایت کا قانون۔ آیت سے انتقام کا صرف جواز نکلتا ہے نہ کہ اس کی ماموریت۔ ؛ ومقتضی ذلک اباحۃ الانتصار لا الامربہ (جصاص)
Ayah 42:42

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:42 in the Quran reader

الزام تو ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے اور زمین پر ناحق سرکشی کرتے (پھرتے) ہیں ایسوں کے لئے دردناک عذاب ہے،47۔

47۔ یہاں یہ حقیقت بیان کردی کہ تشدد مطلق صورت میں اسلام میں ممنوع نہیں۔ ممنوع و حرام تو صرف تشدد بےجا ہے۔ (آیت) ” ویبغوں فی الارض بغیر الحق “۔ اس سے اس جانب بھی اشارہ ہوگیا کہ کبر نفس ہی ظلم و زیادتی کی جانب لے آتا ہے۔
Ayah 42:43

وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠ Open ayah 42:43 in the Quran reader

اور جو شخص صبر کرے اور معاف کردے، یہ البتہ بڑے ہمت کے کاموں میں سے ہے،48۔

48۔ یہاں سے یہ مسئلہ صاف ہوگیا کہ انتقام کی بھی جائز حدود کے اندر پوری اجازت اسلام میں ہے، لیکن اولی و افضل معاف ہی کردینا ہے۔ فطرت بشری کی کیسی ٹھیک ٹھیک اور پوری رعایت ہماری شریعت میں موجود ہے۔
Ayah 42:44

وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ Open ayah 42:44 in the Quran reader

اور جسے اللہ گمراہ کردے اس کے لئے اللہ کے سوا کوئی چارہ ساز نہیں،49۔ اور آپ کافروں کا دیکھیں گے کہ جب وہ عذاب کا مشاہدہ کریں گے تو کہتے ہوں گے کہ آیا واپس جانے کی کوئی صورت ہے ،

49۔ (کہ وہ اسے زبردستی راہ راست پرلے آئے) (آیت) ” ومن یضلل اللہ “۔ یہ اضلال اسی بناء پر ہوگا کہ اس بندہ کے اندر حق کی طلب و تلاش موجود نہیں۔
Ayah 42:45

وَ تَرٰىهُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 42:45 in the Quran reader

اور آپ انہیں دیکھیں گے کہ وہ دوزخ کے روبرو لائے جائیں گے ذلت سے جھکے ہوئے سست نگاہوں سے دیکھتے ہوئے،50۔ اور ایمان والے کہیں گے کہ (اصلی) خسارہ والے تو وہ لوگ ہیں جو اپنی ذات سے اور اپنے متعلقین سے قیامت کے دن خسارہ میں پڑے، یاد رکھو کہ کافر عذاب دائمی میں رہیں گے،51۔

50۔ (جس طرح ایک خوفزدہ انسان دیکھتا ہے) (آیت) ” الظلمین “۔ ظالم۔ یہاں بھی کافر کا مرادف ہے۔ 51۔ ایسے ظالم جو عذاب ابدی کے مستحق ہیں ظاہر ہے کہ صرف کافر و مشرک ہی ہوسکتے ہیں۔ ورنہ جو کسی درجہ میں بھی مومن ہوگا وہ بہرحال آخر کار جنتی ضرور ہوجائے گا۔
Ayah 42:46

وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِیَآءَ یَنْصُرُوْنَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:46 in the Quran reader

اور ان کے کوئی چارہ ساز نہ ہوں گے جو اللہ سے الگ ہو کر ان کی مدد کرسکیں اور جس کو اللہ گمراہ کرے اس کے لئے کوئی راہ نہیں،52۔

52۔ (نہ نجات کی، نہ معذرت کی، نہ نصرت کی) (آیت) ” ومن یضلل اللہ “۔ یہ اضلال ان لوگوں کے عدم تلاش حق کی پاداش میں ہوگا .... یہ اضلال کی نسبت حق تعالیٰ کی جانب ہمیشہ تکوینی ہی حیثیت سے بطور مسبب الاسباب کے ہوگی۔
Ayah 42:47

اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِیْرٍ Open ayah 42:47 in the Quran reader

کہنا مان لو اپنے پروردگار کا قبل اس کے کہ ایسا دن آپہنچے جس کے لئے اللہ کی طرف سے کوئی ہٹنا نہیں، تم کو اس روز کوئی پناہ نہ ملے گی، اور نہ تمہارے بارے میں کوئی روک ٹوک کرنے والا ہے،53۔

53۔ (جو اتنا پوچھ ہی لے کہ ان لوگوں کا یہ حال کیوں بنایا ہے) (آیت) ” یوم لامردلہ “۔ یعنی دنیا میں تو عذاب کا ہٹ جانا ممکن بھی ہے وہاں مہلت وتوقف کی کوئی صورت ہی نہ ہوگی۔
Ayah 42:48

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ؕ اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ Open ayah 42:48 in the Quran reader

یہ لوگ اگر پھر بھی اعراض کئے رہیں تو ہم نے آپ کو ان پر کوئی نگران کرکے نہیں بھیجا ہے، آپ کے ذمہ صرف پہنچا دینا ہے،54۔ اور ہم انسان کو جب کچھ اپنی عنایت کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو وہ اس پر خوش ہوجاتا ہے، اور اگر ایسے لوگوں پر کوئی مصیبت آپڑتی ہے ان کرتوتوں کے بدلہ میں جو وہ پہلے اپنے ہاتھوں کرچکے ہیں تو انسان ناشکری کرنے لگتا ہے،55۔

54۔ (ہمارے احکام وپیامات کا) مطلب یہ ہے کہ اتنے سمجھانے بجھانے کے بعد بھی یہ لوگ بدستور ایمان سے منکر رہیں تو آپ زیادہ فکر وتردد میں نہ پڑیئے۔ آپ سے ان کے اعمال سے متعلق باز پرس کا احتمال ہی نہیں۔ 55۔ (بجائے اس کے حق تعالیٰ کی طرف بطریق تو بہ والتجائے رجوع کرے) (آیت) ” انسان “۔ سے آیت میں دونوں جگہ کافر قسم کا انسان مراد ہے۔ (آیت) ” اذا ..... بھا “۔ یعنی بجائے اس کے کہ منعم کی جانب منسوب کرکے اس کی شکر گذاری میں لگ جائے، یہ اسے اپنی جانب منسوب کرکے بےجا طور پر اترانے لگتا ہے۔
Ayahs 42:49–50

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ Open ayah 42:49 in the Quran reader

اللہ ہی کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین میں، وہ جو چاہتا ہے پیدا کردیتا ہے جس کو چاہتا ہے (اولاد) مادہ عنایت کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے (اولاد) نرینہ عنایت کرتا ہے، یا ان کو نرومادہ ،

اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا١ۚ وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ Open ayah 42:50 in the Quran reader

(کی صورت میں) جمع بھی کردتا ہے اور جسے چاہتا ہے لاولد رکھتا ہے بیشک وہ بڑا علم والا ہے، بڑا قدرت والا ہے،56۔

56۔ دنیا میں جو کچھ بھی ہورہا ہے۔ کسی کے اولاد خوب ہوتی ہے کوئی لاوالد رہتا ہے کسی کے صرف بیٹیاں ہوتی ہیں کسی کے صرف بیٹے، کسی کے دونوں۔ سو یہ سب کچھ محض اٹکل پچو، اندھا دھند نہیں ہورہا ہے، فرد، جماعت، کائنات سب کی بےانتہا حکمتوں اور بیشمار مصلحتوں کے پیش نظر ایک حکیم مطلق کے زیر انتظام ہورہا ہے۔ پھر اسی حکیم مطلق کی قدرت اور اختیارات بھی محدود نہیں، لامحدود ہیں۔ (آیت) ” یخلق مایشآء “۔ اس کی قوت تخلیق بھی غیر محدود ہے، جس کو جب اور جس طرح چاہے پیدا کرے۔ آیت میں عام قدرت الہی کا بیان ہے۔ کسی خاص واقعہ کی تعیین مراد نہیں، وقال الاکثرون من المفسرین ھذا الحکم عام فی حق الناس لان المقصود بیان نفاذقدرۃ اللہ فی تکوین الاشیاء کیف شاء واراد فلم یکن للتخصیص معنا (کبیر)
Ayah 42:51

وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ Open ayah 42:51 in the Quran reader

اور یہ کسی بشر کا مرتبہ نہیں کہ اللہ اسی سے کلام کرے مگر ہاں یا تو وحی سے یا کسی آڑ سے، یا کسی (فرشتہ) قاصد کو بھیج دے، سو وہ وحی پہنچا دے اللہ کے حکم سے، جو اللہ کو منظور ہوتا ہے،57۔ بیشک وہ عالیشان ہے، حکمت والا ہے،58۔

57۔ یہاں یہ مسئلہ بیان فرمایا گیا ہے کہ عام فطری قوائے بشری اس قابل ہی نہیں کہ حق تعالیٰ سے براہ راست عزت ہم کلامی حاصل کرسکیں۔ مخاطبت کے ممکن طریقے صرف تین ہیں :۔ (1) بطریق وحی، یعنی بلاواسطہ مدرکات طبعی قلب میں کوئی بات ڈال دی جائے۔ (2) بواسطہ حجاب کچھ کلام کیا جائے۔ حجاب کا تعلق تجلی حق سے نہیں ضعف ادراک سے ہے۔ حجاب، حجاب عظمت ہے جو مشاہدۂ تجلیات سے بشر کو روک دیتا ہے ذات حق محجوب نہیں۔” اور یہ حجاب کوئی جسم حائل نہیں۔ اور نہ یہ حجاب حق تعالیٰ کے نور وذات کو مخفی کرسکتا ہے۔ بلکہ حقیقت اس حجاب کی بشر کا ضعف ادراک ہے۔ جس سے باوجود کمال ظہور نور ذات کے یہ ادراک سے قاصر ہے۔ “ (تھانوی (رح) ولیس المراد بہ حجاب اللہ تعالیٰ لان اللہ تعالیٰ لایجوز علیہ مایجوز علی الاجسام من الحجاب ولکن المراد بہ ان السامع محجوب عن الرؤیۃ فی الدنیا (مدارک) (3) تیسرا طریقہ یہ ہے کہ فرشتہ کے ذریعہ سے وحی بشر کو بھیج دی جاتی ہے۔ اس وحی کے مخاطب حضرات انبیاء تو قطعی ہوتے ہیں اور غیر انبیاء کے لئے بھی اس کی گنجائش ہے جیسا کہ حضرت مریم (علیہ السلام) کے معاملہ میں قرآن مجید ہی سے ثابت ہے۔ اور یہ منکرین ومشرکین جو خود مخاطبہ الہی کی تمنا میں ہیں ان کا ظرف ان میں سے کسی طریق کے بھی قابل نہیں۔ 58۔ (آیت) ” علی “۔ وہ بلند شان ہے۔ اور اس کی علوشان کا تقاضا یہی ہے کہ بندہ کو اس سے ہمکلامی کی مجال ہی نہ ہو (آیت) ” حکیم “۔ لیکن وہ حکیم مطلق بھی ہے، اس لیے اس نے بندوں کے مصالح پر نظر کرکے اپنی ہم کلامی کے تین طریقے نکال دیئے۔
Ayah 42:52

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا١ؕ مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا١ؕ وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ Open ayah 42:52 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے آپ کے پاس وحی یعنی اپنا حکم بھیجا ہے،59۔ آپ کو نہ یہ خبر تھی کہ کتاب کیا چیز ہے، اور نہ یہ کہ ایمان (کیا چیز ہے) ،60۔ لیکن ہم نے اس (قرآن) کو نور بنادیا ہے کہ اس کے ذریعہ سے ہم ہدایت کرتے ہیں بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ راہ راست ہی کی ہدایت کررہے ہیں،61۔

59۔ (اور آپ ﷺ کو نبی بنا کر آپ کی نبوت پر دلائل قائم کئے ہیں) روح سے یہاں مراد قرآن یا وحی ہے۔ جبرئیل یافرشتہ مراد نہیں۔ وما اوحی الیہ (علیہ الصلوۃ والسلام) اوالقرآن الذی ھو للقلوب بمنزلۃ الروح للابدان (روح) والمراد بہ القران وسماہ روحا لانہ یفید الحیاۃ من موت الجھل اوالکفر (کبیر) (آیت) ” کذلک “۔ یعنی جس طرح ہم انبیاء قدیم پر وحی نازل کرتے رہے ہیں۔ اے کما اوحینا الی الرسل قبلک (مدارک) 60۔ یہاں اس عام حقیقت کا اظہار ہے کہ بلافیضان الہی، کامل ترین استعداد وصلاحیت رکھنے والا بھی بیکار ہے اور اس خاص حقیقت کا اعلان کہ قبل نبوت آپ کی یہ لاعلمی ہرگز ان کمالات کی قادح نہیں جو بعد نبوت آپ ﷺ کو حاصل ہوئے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ کمالات سب کے سب موہوب ہیں۔ جس کو ہبہ کمالات پر قدرت ہے۔ اس کو سلب کمالات پر بھی قدرت ہے تو کسی کو بھی اپنے کمال پر ناز نہ چاہیے۔ 61۔ (اسی کتاب کے ذریعہ سے) یہاں اس حقیقت کا اعادہ ہے کہ محمد بن عبداللہ نامی شخص نہ اپنے ارادہ واختیار سے رسول وصاحب وحی بن گئے نہ اپنے ارادہ واختیار سے قرآن اپنے اوپر اتار لائے اور نہ بندوں کی عام ہدایت یابی ان کے اختیار میں ہے .... یہ سارے کام صرف حق تعالیٰ کے ہیں۔ ہ۔ ضمیرہ (آیت) ” الکتب “ کی طرف ہے۔
Ayah 42:53

صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 42:53 in the Quran reader

یعنی راہ اسی اللہ کی کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے سب اسی کا ہے یاد رکھو سب امور اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں،62۔

62۔ (اور کسی مخلوق کو نہ کوئی اختیار ان تصرفات کا ہے، نہ کوئی شرکت آسمان و زمین میں ہے) یہاں صفات باری میں سے دو صفات کمال کا اثبات ہے۔ ایک حق تعالیٰ کی ملکیت کاملہ کا، دوسرے اس کی طرف مرجعیت مطلقہ کا۔