39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 39:41

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ۠ Open ayah 39:41 in the Quran reader

ہم نے آپ پر یہ کتاب لوگوں کیلئے اتاری ہے حق کے ساتھ، سو جو کوئی راہ ہدایت اختیار کرے گا وہ اپنے ہی لئے، اور جو کوئی بےراہ ہوگا تو اس کی بےراہی بھی اسی پر پڑے گی اور آپ ان پر ذمہ دار نہیں کئے گئے ہیں،53۔

53۔ (تو جس کا جی چاہے اسے مانے اور جس کا نہ چاہے نہ مانے) (آیت) ” للناس “۔ یعنی لوگوں کے نفع وافادہ کے لیے۔ اے لاجلھم ولا جل حاجتھم الیہ (مدارک) (آیت) ” بالحق “۔ یعنی عین حق و حکمت کے ساتھ دلائل و شواہد اور مقصد صحیح کے ساتھ۔
Ayah 39:42

اَللّٰهُ یَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِهَا١ۚ فَیُمْسِكُ الَّتِیْ قَضٰى عَلَیْهَا الْمَوْتَ وَ یُرْسِلُ الْاُخْرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 39:42 in the Quran reader

اللہ جانوں کو قبض کرتا ہے ان کی موت کے وقت اور ان (جانوں) کو بھی جن کی موت نہیں آئی ہے ان کے سونے کے وقت،54۔ پھر وہ ان (جانوں) کو تو روک لیتا ہے جن پر موت کا حکم کرچکا ہے، اور باقی (جانوں) کو ایک میعاد معین کیلئے رہا کردیتا ہے،55۔ بیشک اس (سارے تصرف) میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو سوچتے رہتے ہیں،56۔

54۔ نفس۔ کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ وہ روح کے مرادف ہے اور اس کی دو قسمیں ہیں ایک نفس حیاتی (یا فزیکل لائف) دوسرے نفس شعوری (یا سایکیکل لائف) ولکل انسان نفسان احداھما نفس الحیاۃ وھی التی تفارقہ عند الموت فتزول بزوالھا النفس والاخری نفس التمییز وھی التی تفارقہ اذا نام وھو بعد النوم یتنفس (معالم و مدارک) ہر انسان کے دونفس ہوتے ہیں ایک تو نفس حیاتی، جو موت کے وقت اس سے سلب ہوجاتا ہے کہ اس کے جانے سے جان چلی جاتی ہے اور دوسرا نفس ادراک وہ نیند کے وقت اس سے جدا ہوجاتا ہے اور نیند کے بعد واپس آجاتا ہے۔ (آیت) ’ ’ یتوفی ..... موتھا “۔ یہ سلب روح من کل الوجوہ ہوتا ہے جس کے بعد نہ حیات جسمانی باقی رہ جاتی ہے نہ شعور نہ ادراک۔ (آیت) ” والتی ...... منامھا “۔ یہ سلب روح صرف جزئی حیثیت سے ہوتا ہے۔ جس سے حیات جسمانی جوں کی توں باقی رہتی ہے، لیکن شعور وادراک باقی نہیں رہتا۔ نیند کے وقت سلب صرف حیات شعوری کا ہوتا ہے۔ 55۔ (سو وہ معطل روحیں جن کی موت کا وقت ابھی نہیں آیا ہے نیند سے جاگ کر بدستور تصرفات جسمی میں مصروف ہوجاتی ہیں) (آیت) ” فیمسک ....... الموت “۔ سو یہ روحیں پھر تصرفات جسمانی کی طرف واپس نہیں آتیں۔ حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ ” یخرج الروح عند النوم ویبقی شعاعۃ فی الجسد فبذالک یری الرؤیافاذا انتبہ من النوم عاد الروح الی جسدہ بامر مامن لحظۃ۔ (معالم۔ مدارک) ” اصل روح تو نیند کے وقت بھی جسم سے نکل جاتی ہے لیکن اس کا تعلق جسم کے ساتھ باقی رہتا ہے۔ (جیسے آفتاب کا شعاعی تعلق کروڑوں میل دور ہونے کے باوجود زمین سے قائم رہتا ہے) اور سوتا ہوا انسان (اسی جزئی تعلق کی بنا پر) خواب دیکھتا رہتا ہے پھر جب بیداری کا وقت آتا ہے تو یہ روح چشم زدن سے بھی کم میں جسم میں واپس آجاتی ہے۔ “ اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ :۔ فی ابن ادم نفس وروح بینھما شعاع مثل شعاع الشمس فالنفسھی التی بھا العقل والتمییز والروحھی التی بھا النفس والتحرک فاذا نام العبد قبض اللہ نفسہ ولم یقبض روحہ (مدارک) ” ابن آدم میں نفس بھی ہوتا ہے اور روح بھی، اور دونوں کا ایک شعاعی تعلق مثل شعاع آفتاب کے ہوتا ہے، بس نفس تو ہو ہے جو ادراک و شعور کا مبدأ ہے اور روح وہ ہے جس سے تنفس و حرکت قائم ہے اور انسان جب سوتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کے نفس کو قبض کرلیتا ہے نہ کہ اس کی روح کو۔ “ 56۔ یعنی دلائل و شواہد اس حقیقت کے کہ اللہ حکیم وقدیر ہی ہر دقیق وخفی تصرف پر قادر ہے۔ نیند اور خواب کی باریکیوں پر ماہرین فن نے جو دفتر کے دفتر لکھ ڈالے ہیں وہ سب حکمت خداوندی ہی کی شرحیں اور تفسیریں ہیں۔
Ayah 39:43

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُفَعَآءَ١ؕ قُلْ اَوَ لَوْ كَانُوْا لَا یَمْلِكُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 39:43 in the Quran reader

اچھا تو کیا ان لوگوں نے اللہ کے سوا (دوسروں کو) سفارشی قرار دے رکھا ہے ؟ ) آپ کہہ دیجئے کہ اگرچہ یہ (سفارشی) کچھ بھی قدرت نہ رکھتے ہوں اور نہ کچھ سمجھتے بوجھتے ہوں،57۔

57۔ یعنی سفارشی بھی کون ؟ ..... وہ بت اور مورتیاں جو عقل وقدرت تک سے محروم ہیں۔ (آیت) ” ام ...... شفعآء “۔ مشرکوں نے ان ” سفارشیوں “ کو صرف عملا ہی نہیں معبود قرار دے رکھا تھا بلکہ عقیدۃ بھی ایسا ہی سمجھ رکھا تھا۔
Ayah 39:44

قُلْ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِیْعًا١ؕ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 39:44 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے سفارش تمامتر اللہ ہی کے اختیار میں ہے اسی کی سلطنت آسمانوں اور زمین میں ہے پھر تم اسی کی طرف لوٹ کرجاؤ گئے،58۔

58۔ یعنی اس وقت بھی کائنات کے طول وعرض میں حکومت اسی اللہ کی ہے اور آخرت میں بھی فیصلہ اسی کے ہاتھ میں ہوگا۔ (آیت) ” قل ...... جمیعا “۔ مشرک قوموں نے تو علی العموم اور اہل کتاب میں سے مسیحیوں نے شفاعت کو بھی ایک شعبہ الوہیت کا قرار دے کر شافع کو مستقلا ایک قادر و متصرف ہستی سمجھ لیا ہے۔ اور عملا اسی سے اپنا تعلق جوڑے رکھنا کافی سمجھتے ہیں جس کے بعد خالق کائنات سے تعلق قائم رکھنے کی بھی چنداں ضرورت نہیں، شفاعت اس معنی میں اور اس مفہوم کے ساتھ ایک تمامتر مشرکانہ عقیدہ ہے، اور قرآن مجید نے اس معنی میں کسی غیر اللہ کے شافع ہونے سے تمامتر انکار کیا ہے اور بتایا ہے کہ اختیار و تصرف یکسر حق تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ مسئلہ شفاعت انبیاء وغیرہ جس محدود ومقید معنی میں حق ہے۔ اس کی وضاحت ان حواشی میں جابجا کی جاچکی ہے۔
Ayah 39:45

وَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اِذَا ذُكِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 39:45 in the Quran reader

اور جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت کا یقین نہیں رکھتے انکے دل منقبض ہونے لگتے ہیں اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس وقت یہ لوگ خوش ہوجاتے ہیں،59۔

59۔ توحید کامل کے ماننے والوں اور شرک آمیز عقیدۂ خدائی کے تسلیم کرنے والوں کے درمیان جو فرق عظیم ہوتا ہے اسے یہاں خوب واضح کردیا گیا ہے۔ خیر جو کھلے ہوئے مشرک ہیں ان کا حال تو ظاہر ہی ہے لیکن خود ہماری قوم میں جو جھوٹے پیروں، فقیروں، جن وپری، شہید مرد، اور شیخ سدو وغیرہ کے قائل ہیں خود ان کا کیا حال ہے ؟” یاشیخ عبدالقادر جیلانی شیئا للہ “ کا وظیفہ پڑھنے والے مصیبت کے وقت ” یا غوث، یا غوث “ پکارنے والے، اجمیر کی درگاہ کے اردگرد ” یا خواجہ تو ہی دیتا ہے، تو ہی دلواتا ہے “ کی صدائیں لگانے والے ہمارے درمیان کس کثرت سے ہیں !
Ayah 39:46

قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ اَنْتَ تَحْكُمُ بَیْنَ عِبَادِكَ فِیْ مَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 39:46 in the Quran reader

آپ دعا کیجئے کہ اے اللہ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے باطن اور ظاہر کے جاننے والے تو ہی اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کردے گا جن امور میں یہ اختلاف کرتے رہتے تھے،60۔

60۔ الفاظ دعاء کے اندر توحید کی اعلی تعلیم نہایت حکیمانہ انداز سے آگئی ہے، دعاء کا حاصل بس یہی ہے کہ زمین و آسمان کی پیدائش میں کوئی تیرا شریک نہیں، علم غیب میں کوئی تیرا شریک نہیں، قادر وحاکم ہونے میں کوئی تیرا شریک نہیں۔ خالق تو ہے، عالم الغیب تو ہے، مالک روز جزا تو ہے، ہمہ داں، ہمہ بیں تو ہی ہے۔ (آیت) ” فاطر السموت والارض “۔ قدرت کامل میں کوئی تیرا شریک نہیں۔ (آیت) ” علم الغیب والشھادۃ “۔ علم کامل میں کوئی تیرا شریک نہیں۔ (آیت) ” انت ...... یختلفون “۔ فیصلہ روز جزا میں کوئی تیرا شریک نہیں۔ توحید میں غلطی وگمراہی کے عموما یہی تین راستے رہے ہیں۔ آیت نے سب کی تردید کردی۔
Ayah 39:47

وَ لَوْ اَنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ مِنْ سُوْٓءِ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ بَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ یَكُوْنُوْا یَحْتَسِبُوْنَ Open ayah 39:47 in the Quran reader

اور اگر شرک کرنے والوں کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اتنا ہی اور بھی تو ان سب کو وہ قیامت کے دن عذاب سخت کے فدیہ میں دینے لگیں،61۔ اور اللہ کی طرف سے انہیں وہ پیش آکر رہے گا جس کا انہیں گمان بھی نہ تھا،62۔

61۔ یہ قیامت کی شدت اور ہولناکی کا نقشہ ہے۔ (آیت) ” للذین ظلموا “۔ مراد مشرکین سے ہے۔ ایک کفروا (مدارک) (آیت) ” ما ...... مثلہ “۔ انسان کے محدود پیرایہ بیان میں مال کی زیادہ سے زیادہ ممکن مقدار کے لئے یہی پیمانہ ہوسکتا تھا۔ 62۔ یہ بےشان و گمان وقوع دو چیزوں کا پیش آئے گا۔ ایک تو نفس قیامت کہ وہ اسی کے منکر تھے، اور اسے ” خلاف عقل “۔ ” خلاف عادت “۔ قرار دیتے رہتے تھے۔..... اور دوسرے عذاب کا خود اپنے اوپر وقوع کہ وہ اپنے کو تو نیک کار اور برسر صواب سمجھ رہے تھے۔
Ayah 39:48

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 39:48 in the Quran reader

(اس وقت) ان پر ان کے (تمام) برے اعمال ظاہر ہو کر رہیں گے اور انہیں وہ (عذاب) آگھیرے گا جس پر وہ استہزاء کیا کرتے تھے،63۔

63۔ یہ غفلت کے پردے بس اسی دنیا کی حد تک ہیں۔ آخرت میں تو انکشاف تام بڑے سے بڑے منکر کو بھی ہو کر رہے گا۔
Ayah 39:49

فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا١٘ ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰهُ نِعْمَةً مِّنَّا١ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ١ؕ بَلْ هِیَ فِتْنَةٌ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:49 in the Quran reader

جس وقت آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے وہ ہم کو پکارتا ہے لیکن جب ہم اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ یہ کہتا ہے کہ یہ مجھے (اپنی) تدبیر سے ملی ہے،64۔ اصل یہ ہے کہ وہ ایک آزمائش ہے، لیکن اکثر لوگ سمجھتے نہیں،65۔

64۔ عام بدسرشت انسان کی فطرت کا بیان ہے جہان اسے اطمینان حاصل ہوا، وہ اپنی ہر کامیابی کو اپنی سعی وحسن تدبیر کی جانب منسوب کرنے لگتا ہے اور جادۂ توحید سے ہٹ جاتا ہے۔ مجازی واسطوں اور وسیلوں کا ذکر مطلق صورت میں ممنوع نہیں، صرف اس صورت میں حرام ہے جب نظرفاعل حقیقی سے ہٹ جائے۔ 65۔ یعنی ہر نعمت خدا کی دی ہوئی اور واسطہ اسباب سے حاصل کی ہوئی دراصل بندوں کے حق میں آزمائش ہوتی ہے کہ نظر علت حقیقی پر رہتی ہے یا علت قریبی صوری پر ..... اور یہ مشرکین اس ایمانی حقیقت سے بھی جاہل ہیں۔ (آیت) ” ھی .... نعمۃ “۔ لفظ مؤنث ہے اور معنی کے اعتبار سے مذکر۔ اس لیے اس کے لئے ضمیریں مؤنث ومذکر دونوں جائز ہیں۔ (آیت) ” اوتیتۃ “۔ میں ضمیر مذکر بھی اسی کی جانب ہے۔ اور ھی ضمیر مؤنث بھی اسی کی طرف۔
Ayah 39:50

قَدْ قَالَهَا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:50 in the Quran reader

یہ بات ان لوگوں نے بھی کہی تھی جو ان سے پیشتر ہوگذرے ہیں، سو ان کی کارروائی ان کے کچھ بھی کام نہ آئی،66۔

66۔ (اور یہی حشر آج کے منکرین کا بھی ہونا ہے) (آیت) ’ ’ قد ....... قبلھم “۔ یہاں یہ بتایا ہے کہ یہ مغالطہ نفس بہت قدیم ہے، کچھ آج کا اور نو پیدا نہیں۔ (آیت) ” قالھا “۔ ضمیر مؤنث کلمہ کی جانب ہے۔ مؤنث علی تانیث الکلمۃ (قرطبی)
Ayah 39:51

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ؕ وَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ هٰۤؤُلَآءِ سَیُصِیْبُهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ۙ وَ مَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 39:51 in the Quran reader

بلکہ ان کی (ساری) بدعملیاں ان پر آپڑیں اور ان میں جو لوگ ظالم ہیں ان پر ان کی بدعملیاں ابھی آپڑنے والی ہیں اور وہ ہرا نہیں سکتے،67۔

67۔ (خدا تعالیٰ کو اور خدائی تدبیروں کی) یعنی انہیں سزا بہرحال مل کر رہے گی، جیسا کہ ان کے قبل والوں کو ملتی رہی ہے۔ (آیت) ” الذین ظلموا “۔ سے مراد مشرکین ہیں۔ اور میں (آیت) ” من ھؤلآء “ میں من بیانیہ ہے۔ اے المشرکین ومن للبیان فانھم کلھم کانوا ظالمین (روح) اے من ھؤلآء المشرکین (بیضاوی) (آیت) ” سیات ماکسبوا “۔ سیات سے مراد جزاء سیات ہے اور یہ استعمال عام ہے۔ اے جزاء سیات اعمالھم وقد یسمی جزاء السیءۃ سیءۃ (قرطبی)
Ayah 39:52

اَوَ لَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 39:52 in the Quran reader

کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی جس کا چاہتا ہے رزق بڑھا دیتا ہے اور وہی تنگ بھی کردیتا ہے، بیشک اس میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کے واسطے،68۔

68۔ یعنی اس قانون رزق، اس ضابطہ معاشیات کی باگ بھی ایک فاعل مختار، ایک قادر مطلق کے ہاتھ میں ہے، نادان مشرک واسطہ کو مقصود سمجھ بیٹھتا ہے اور صاحب ایمان کی صاحب فہم بھی ہوتا ہے، علت حقیقی کو سمجھے رہتا ہے۔
Ayah 39:53

قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 39:53 in the Quran reader

آپ (میری طرف سے) کہہ دیجئے کہ اے میرے بندوجو اپنے اوپر زیادتیاں کرچکے ہو، اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو،69۔ بیشک اللہ سارے گناہ معاف کردے گا،70۔ بیشک وہ بڑا غفور ہے بڑا رحیم ہے،71۔

69۔ (یہ خیال کرکے کہ اللہ تعالیٰ کفر وشرک کے معاف کرنے پر قادر نہیں) یہ رد ہے ان مذاہب پر جو خدا کے وجود کے تو قائل ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہے جاتے ہیں کہ وہ عفوذنوب پر قادر نہیں۔ (آیت) ” الذین اسرفوا علی انفسھم “۔ اسراف علی النفس سے مراد کفر وشرک سے ہے 70۔ (اسلام کی برکت سے) یعنی اب جب تم کفر وشرک ترک کر کے ایمان لارہے تو اب کیا ڈر ہے۔ اب تو تمہارے سارے گناہ دھل جائیں گے، دوسرے مذاہب کی تنگی کا تو ذکر ہی نہیں۔ خود مسیحیت جیسے لینت و شفقت وترحم پر ناز ہے اس کا حال انجیل کی زبانی سنیے :” میں تم سے کہتا ہوں کہ آدمیوں کا ہر گناہ اور کفر تو معاف کیا جائے گا مگر جو کفر روح کے حق میں ہو وہ معاف نہ کیا جائے گا اور جو کوئی ابن آدم کے خلاف کوئی بات کہے گا وہ تو اسے معاف کی جائے گی مگر جو کوئی روح القدس کے برخلاف کوئی بات کہے گا وہ اسے معاف نہ کی جائے گی نہ اس عالم میں نہ آنے والے میں۔ “ (متی۔ 12: 32) (آیت) ” یعبادی “۔ امام رازی (رح) نے یہ خطاب اور اس کے بعد کا وعدہ رحمت ومغفرت مومنین کے ساتھ مخصوص سمجھا ہے اور (آیت) ” الذین اسرفوا علی انفسھم “۔ سے انہیں مومنین کے معاصی مراد لئے ہیں اور بعض دوسرے مفسرین نے بھی اسی نقطہ نظر کی تائید کی ہے۔ واضافۃ العباد وتخصصہ بالمومنین علی ما ھو عرف القران (بیضاوی) انا بینا فی ھذا الکتب ان عرف القران جار بتخصیص اسم العباد بالمومنین (کبیر) وحمل غیر واحد الاضافۃ فی عبادی علی العھد اوعلی التشریف وذھبوا الی ان المراد بالعباد المومنون فکانہ قیل ایھا المومنون المذنبون (روح) بہرصورت آیت میں وعدۂ رحمت ومغفرت ہے بڑی تاکید وشدت کے ساتھ (آیت) ” لاتقنطوا من رحمۃ اللہ “۔ خود ہی ادائے مقصد کے لئے کافی تھا۔ اس پر دوسرے فقرہ کا اضافہ پر قوت الفاظ کے ساتھ کیا۔ (آیت) ” ان اللہ یغفرالذنوب جمیعا “۔ اعاد اسم اللہ وقرن بہ لفظۃ ان العقیدۃ لاعظم وجوہ التاکید وکل ذلک یدل علی المبالغۃ فی الوعد بالرحمۃ (کبیر) حسن بصری (رح) تابعی نے کہا ہے کہ اس وسعت کرم و شفقت کی کوئی انتہاء ہے کہ جنہوں نے اللہ کے دوستوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگین کئے انہیں کو دعوت توبہ ومغفرت دی جارہی ہے۔ قال الحسن البصری انظروا الی ھذا الکرم واجود قتلوا اولیاء ہ وھو یدعوھم الی التوبۃ والمغفرۃ والایات فی ھذا کثیرۃ جدا (ابن کثیر) 71۔ وہ کسی اور برتر قانون کا پابند و محکوم ہرگز نہیں، وہ رحمت ومغفرت میں کسی رنگ سے معذور نہیں وہ بغیر کسی ” کفارہ “ کے جس کسی کو چاہے بخش دے، اس کی صفت رحم پر کوئی قید عائد نہیں ....... بجز اسی کی مشیت و ارادہ کے، صحابیان کرام سے مروی ہے کہ یہ آیت قرآن مجید میں وسیع ترین اور امید افزاء ترین ہے، وقال علی بن ابی طالب مافی القران اوسع من ھذہ الایۃ (قرطبی) وقال عبد اللہ بن عمر ؓ وھذہ ارجی ایۃ فی القران (قرطبی) حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے نزدیک ایک اور آیت اس سے بھی بڑھ کر ہے اور وہ (آیت) ” وان ربک لذو مغفرۃ للناس علی ظلمھم ہے (قرطبی)
Ayah 39:54

وَ اَنِیْبُوْۤا اِلٰى رَبِّكُمْ وَ اَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 39:54 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو اور اس کی فرمانبرداری کرو قبل اس کے کہ تم پر عذاب واقع ہونے لگے، جب تمہیں کوئی مدد نہ پہنچ سے،72۔

72۔ یعنی اس مغفرت و رحمت کے لئے شرط بس یہی ہے کہ کفر سے رجوع کرو اور اسلام قبول کرو۔ قبل اس کے کہ اسلام نہ لانے کی صورت میں عذاب سے دو چار ہونا پڑے۔
Ayahs 39:55–58

وَ اتَّبِعُوْۤا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَّ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 39:55 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی طرف سے اترے ہوئے اچھے اچھے حکموں پر چلو قبل اس کے کہ تم پر اچانک عذاب آپڑے اور تم کو اس کا خیال بھی نہ ہو۔

اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِیْنَۙ Open ayah 39:56 in the Quran reader

یہ حکم اس لئے دیا جاتا ہے کہ) کہیں کوئی یہ نہ کہنے لگے کہ افسوس میری اس کوتاہی پر جو میں نے خدا کی جناب میں کی، اور میں تو تمسخر ہی کرتا رہا ،

اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 39:57 in the Quran reader

یا کوئی یہ کہنے لگے کہ اگر اللہ نے مجھے ہدایت دیدی ہوتی تو میں (بھی) پرہیزگاروں میں ہوتا

اَوْ تَقُوْلَ حِیْنَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِیْ كَرَّةً فَاَكُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 39:58 in the Quran reader

یا کوئی عذاب کو دیکھ کر یہ کہنے لگے کہ کاش میرا پھرجانا ہوجائے پھر میں نیک بندوں میں ہوجاؤں،73۔

73۔ یہ سب کافروں کی طرف سے قیامت میں پیش ہونے والے ممکن عذرات ہیں، یہاں ان سب کی جڑ ہی کاٹ دی گئی ہے۔ (آیت) ” احسن ماانزل الیکم “۔ مراد قرآن مجید ہے، اضافت محض بیانیہ ہے۔ یعنی وہ (آیت) ” احسن “ جو (آیت) ” ماانزل الیکم “۔ کی طرف منسوب ہے، یا قرآن کو غیر قرآن سے ممتاز کرتی ہے۔ ھو القران وکلہ حسن (قرطبی) (آیت) ” من ربکم “۔ رب کا لفظ لانے میں خود ایک بڑا ترغیبی پہلو آگیا ہے۔ یعنی وہ کلام تو اس کا نازل کیا ہوا ہے جو خود تمہارے حق میں سب سے زیادہ خیرخواہ ہے۔ (آیت) ” ان تقول “۔ ان یہاں لئلا کے مرادف ہے۔ اے لئلا تقول (مدارک) (آیت) ” نفس “۔ نفس صیغہ نکرہ میں اس لئے ہے کہ صرف نفس کافر مراد ہے۔ انما نکرت لان المراد بھا بعض الانفس وھی نفس الکافر (مدارک) (آیت) ’ فی جنب اللہ “۔ یعنی احکام خداوندی میں۔ اے فی امر اللہ اوفی طاعتہ (مدارک) والعرب تسمی السبب والطریق الی الشی جنبا اے لاجلک وسببک ولا مرضاتک (قرطبی) (آیت) ” لو ان اللہ ..... المتقین “۔ امام ابو منصور ماتریدی (رح) نے فرمایا ہے کہ معتزلہ سے زیادہ سمجھدار تو یہ کافر ہی ہے جو ہدایت کو تمامتر عطیہ خداوندی سمجھتا ہے۔ قال الامام ابو منصور (رح) ھذا الکافر اعرف بھدایۃ اللہ من المعتزلۃ (مدارک)
Ayah 39:59

بَلٰى قَدْ جَآءَتْكَ اٰیٰتِیْ فَكَذَّبْتَ بِهَا وَ اسْتَكْبَرْتَ وَ كُنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:59 in the Quran reader

کیوں نہیں ! ارے تجھ پر تو میری آیتیں یقیناً پہنچ چکی تھیں سو تو نے ان کو جھٹلایا اور تو نے تکبر کیا اور تو کافروں میں شامل ہورہا،74۔

74۔ جواب یہ ملے گا کہ ہدایت کا سامان تو دنیا میں پورا مل چکا تھا۔ پھر جو تو ایمان نہیں لایا، اس کی تہ میں کوئی اشتباہ عقلی نہ تھا، صرف تیرے نفس کی شرارت وخباثت تھی۔
Ayah 39:60

وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تَرَى الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلَى اللّٰهِ وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:60 in the Quran reader

اور آپ قیامت کے دن ان لوگوں کے چہرے سیاہ دیکھیں گے جنہوں نے اللہ پر جھوٹ بولا تھا کیا (ان) متکبرین کا ٹھکانا جہنم میں نہیں ہے ؟ ،75۔

75۔ (ہے اور ضرور ہے) (آیت) ” الذین کذبوا علی اللہ “۔ اللہ پر جھوٹ بولنے کی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ جو بات نہیں فرمائی گئی ہے وہ اس کی جانب منسوب کردی جائے دوسرے یہ کہ جو اس نے کہا ہے اسے اس کی جانب نسبت دینے سے انکار کردیاجائے، (آیت) ” وجوھھم مسودۃ “۔ یہ چہرہ کی سیاہی آگ سے جلنے کا اثر بھی ہوسکتی ہے۔ اور خوف رسوائی کا نتیجہ بھی اور قلب کی سیاہی کا عکس بھی۔ قیل ھو سواد قلوبھم ینعکس علی وجوھھم (روح) ہوسکتا ہے کہ یہ سیاہی ان کے قلوب کی ہو جو چہرہ پر منعکس ہوگئی ہو۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ عالم معاد کشف حقائق ہی کا تو عالم ہوتا ہے، اس لئے اس میں عجب کیا جو چہرہ پر عکس قلب کا نظر آنے لگا ہو،
Ayahs 39:61–62

وَ یُنَجِّی اللّٰهُ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ١٘ لَا یَمَسُّهُمُ السُّوْٓءُ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 39:61 in the Quran reader

اور جو لوگ بچ رہے تھے، اللہ ان لوگوں کو کامیابی کے ساتھ نجات دے گا ان کو نہ تکلیف پہنچے گی اور نہ یہ غمگین ہوں گے

اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١٘ وَّ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 39:62 in the Quran reader

اللہ ہی پیدا کرنے والا ہے ہر چیز کا اور وہی ہر چیز کا نگہبان ہے،76۔

76۔ مشرکوں کی سمجھ میں یہی موٹی بات نہیں آتی تھی کہ حق تعالیٰ جس طرح دنیا کا خالق اکیلا ہے اسی طرح متصرف، مدبر بھی اکیلا ہی ہے، بغیر کسی شریک وسہیم کے، ہندو مذہب علاوہ خالق اکبر (برہما) کے دو اور مستقل خداؤں کا قائل ہے ایک محافظ ومبقی (ویشنو) اور دوسرے مہلک ومفنی (شیو) قرآن مجید اس قسم کے ہر شرک کی قدم قدم پر تردید کرتا جاتا ہے۔..... یہاں اس نے صراحۃ دو صفات باری کا اثبات کیا ہے۔ ایک یہ کہ وہی سب کا خالق وآفرید گار ہے، دوسرے وہی سب کا منتظم ومدبر۔ (آیت) ’ ’ اللہ خالق کل شیء “۔ نور وظلمت، خیروشر، سعادت وہدایت سب کا خالق وہی ایک ہے ثنویت کا اس کے ہاں گزر نہیں۔ (آیت) وینجی ...... لاھم یحزنون “۔ یہ آیت متعدد دوسری آیتوں کی طرح اس باب میں وعدہ صریح ہے کہ مومنین کو قیامت میں کوئی وحشت اور گھبراہٹ نہ ہوگی۔ دلت الایۃ علی ان المومنین لاینالھم الخوف والرعب فی القیامۃ وتاکد ھذا بقولہ لایحزنھم الفزع الاکبر (کبیر)
Ayah 39:63

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 39:63 in the Quran reader

اسی کے اختیار میں آسمانوں اور زمین کی کنجیاں ہیں اور جو لوگ اللہ کی آیتوں سے (اب بھی) انکار کئے جاتے ہیں وہی لوگ بڑے گھاٹے میں پڑنے والے ہیں،77۔

77۔ (آخرت میں جو کشف حقائق کا وقت ہوگا) (آیت) ” بایت اللہ “۔ آیات الہی سے یہاں مراد اصول دین ہیں ..... عقیدۂ توحید، عقیدۂ رسالت، عقیدۂ حشر۔
Ayah 39:64

قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْٓنِّیْۤ اَعْبُدُ اَیُّهَا الْجٰهِلُوْنَ Open ayah 39:64 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ اے جاہلو کیا پھر بھی تم مجھ سے غیر اللہ کی عبادت کرنے کی فرمائش کرتے ہو ؟ ،78۔

78۔ یعنی اے مشرکو ! اب تمہارا اندھا پن اتنا بڑھ گیا ہے کہ تم مجھ سے فرمائش کرنے لگے ہو کہ میں توحید جیسے فطری اور سادہ دین کو چھوڑ کر شرک کیا احمقانہ وجاہلانہ وسفیہانہ راہ اختیار کرلوں !
Ayahs 39:65–66

وَ لَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَئِنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 39:65 in the Quran reader

اور واقعہ یہ ہے کہ آپ کی طرف بھی اور جو آپ سے قبل گزر چکے ہیں ان کی طرف بھی یہ وحی بھیجی جاچکی ہے کہ (اے مخاطب) اگر تو نے شرک کیا تو تیرا عمل (سب) غارت ہوجائے گا اور تو خسارہ میں پڑکر رہے گا

بَلِ اللّٰهَ فَاعْبُدْ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 39:66 in the Quran reader

تو تو اللہ ہی کی عبادت کرنا اور شکر گزار رہنا،79۔

79۔ مطلب یہ کہ یہ توحید کی دعوت تو بالکل بنیادی اور عین مرکزی دعوت ہے، ہمیشہ ہی سے انبیاء کا معمول رہی ہے۔ (آیت) ” وکن من الشکرین “۔ شکر گزاری کی بڑی فرد توحید پر ایمان ہے۔
Ayah 39:67

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ۖۗ وَ الْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌۢ بِیَمِیْنِهٖ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 39:67 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے اللہ کی عظمت نہ کی جیسی عظمت کرنا چاہیے تھی،80۔ اور حال یہ ہے کہ ساری زمین اسی کی مٹھی میں ہوگی قیامت کے دن اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوں گے وہ پاک ہے اور برتر ہے ان لوگوں کے شرک سے،81۔

80۔ (اپنی وسعت وظرف کے اعتبار سے) مطلب یہ ہوا کہ حق تعالیٰ کی ذات کاملہ کے حق اس کے مرتبہ کمال کے لحاظ سے تو کوئی ادا ہی نہیں کرسکتا۔ لیکن بندے اپنی وسعت وظرف کے لحاظ سے جس حد تک اس کے مکلف ہیں، ان ظالموں، بدبختوں نے اتنا بھی تو نہ کیا، اور اس مرتبہ حق کا اقل قلیل عقیدۂ توحید ہے۔ 81۔ (اور ہر قسم کی مادیت اور تجسیم کے شائبہ سے) (آیت) ” قبضتہ ...... بیمینہ “۔ قبضۃ سے مراد قبضہ قدرت، قبضہ اختیار ہے۔ اور یمین سے بھی ماد دست قدرت لی گئی ہے۔ فالقبضۃ مجاز عن الملک اوالتصرف کمایقال بلد فلان فی قبضۃ فلان والیمین مجاز عن القدرۃ التامۃ (روح) یقال مافلان الافی قبضتی بمعنی ما فلان الافی قدرتی وقد یکون القبض، والطی افناء الشیء واذھابہ (قرطبی) قال الفراء والمبرد الیمین القوۃ والقدۃ (قرطبی) آیت سے مقصود محاورہ بشری کے مطابق عظمت واجلال الہی کی تصویر کھینچ دینا ہے اور ساتھ ہی یہ پہلو بھی اس میں آگیا کہ ایسی حقیر مخلوقات کے فنا کردینے میں اسے دقت ہی کیا ہوسکتی ہے۔ اس لیے قبضہ ویمین کے حقیقی اور مجازی معنی کی بحث میں زیادہ پڑنے کی ضرورت ہی نہیں۔ والمراد بھذا الکلام تصویر عظمتہ والتوقیف علی کنہ جلالہ لاغیر من غیر ذھاب بالقبضۃ ولا بالیمین الی جھۃ حقیقۃ اوجھۃ مجاز (مدارک) تنبیہ علی عظمتہ وحقارۃ الافعال العظام التی تتحیر فیھا الاوھام بالاضافۃ الی قدرتہ ودلالۃ علی ان تخریب العالم اھون شیء علیہ علی طریقۃ التمثیل والتخییل من غیر اعتبار القبضۃ والیمین حقیقۃ ولا مجازا (بیضاوی) اللہ کے قبضہ اختیار اور دست قدرت میں تو ساری کائنات آج بھی ہے، قیامت کا ذکر تخصیص سے اس لئے ہے کہ اس روز کسی اور کو شرکت کا دعوی بھی نہ رہے گا۔ اور حقیقت سب کے مشاہدہ میں آکر رہے گی۔ وانما خص یوم القیامۃ بالذکر وان کانت قدرتہ کاملۃ لکل شیء ایضا لان الدعاوی تنقطع ذلک الیوم (قرطبی)
Ayah 39:68

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ Open ayah 39:68 in the Quran reader

اور صور پھونکا جائے گا تو ان سب کے ہوش اڑجائیں گے جو آسمانوں اور زمین میں ہیں بجز اس کے کہ جس کو اللہ چاہے پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو دفعۃ سب کے سب اٹھ کھڑے ہوں گے دیکھتے بھالتے ہوئے،82۔

82۔ قیامت کے دونوں منظروں کا بیان ہے، پہلا منظر نفخ اول کا جب سب غش کھاکر ہلاک ہوجائیں گے اور منظر دوم نفخ ثانی کا جب سب نئے سرے سے جی اٹھیں گے۔ (آیت) ” الا من شآء اللہ “۔ یعنی مخلوق میں سے اللہ جس کو چاہے گا غشی اور موت سے محفوظ رکھے گا۔ یہ کون لوگ ہوں گے ؟ بہتر ہوگا کہ اسے یوں ہی مجمل رہنے دیا جائے، جیسا کہ قرآن و حدیث نے اسے مجمل رکھا ہے۔ قال قتادۃ اللہ اعلم بانھم من ھم ولیس فی القران والاخبار ما یدل علی انھم من ھم (کبیر)
Ayah 39:69

وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِایْٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 39:69 in the Quran reader

اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے چمک اٹھے گی، اور نامہ اعمال رکھ دیا جائے گا اور پیغمبر اور گواہ حاضر کئے جائیں گے اور سب میں ٹھیک ٹھیک فیصلہ کیا جائے گا اور ان پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگا،83۔

83۔ (یوں کہ کسی کی جزائے خیر میں کمی ہوجائے یا کسی کی سزا میں زیادتی، یا کسی کا عمل نیک غائب کردیا جائے اور کسی کا عمل بد بڑھا دیا جائے) (آیت) ” واشرقت الارض بنورربھا “۔ یہ کوئی تجلی خصوصی اس وقت ہوگی، اور عام معنی نور رب کے عدل رب یا قضائے رب کے کیے گئے ہیں۔ اے انارت واضاءت بعدل اللہ وقضاۂ بالحق بین عبادہ (قرطبی) امام ماتریدی (رح) نے فرمایا کہ ممکن ہے حق تعالیٰ اس وقت کوئی خاص نور پیدا کرے اور اس سے زمین موقف کو منور کردے، وقال الامام ابو منصور (رح) یجوز ان یخلق اللہ نورا فینوربہ ارض الموقف (مدارک) (آیت) ” ووضع الکتب “۔ کتاب۔ بطور اسم جنس آیا ہے، مراد نامہ اعمال ہیں۔ اے صحائف الاعمال ولکنہ اکتفی باسم الجنس (مدارک) (آیت) ” الشھدآء “۔ شھید کے تحت میں ملائکہ ومومنین سب آگئے جو اس وقت گواہی دیں گے۔ الذین یشھدون للامم وعلیھم من الملائکۃ والمومنین (بیضاوی) (آیت) ” بنورربھا “۔ نور کی اضافت رب کی طرف اضافت تخصیصی ہے جیسے بیت اللہ وناقۃ اللہ میں، واضافتہ الیہ تعالیٰ کبیت اللہ وناقۃ اللہ (مدارک)
Ayah 39:70

وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 39:70 in the Quran reader

اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ ملے گا اور اللہ سب کے کاموں کو خوب جانتا ہے،84۔

84۔ (اس کی عدالت میں یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی کی جزائے خیر میں کچھ بھی کمی رہی جائے) حق تعالیٰ نے علم کامل و محیط کا بار تذکرہ ان جاہلی مذاہب کی تردید میں ہے، جو خدا کے علم کو ناقص و محدود سمجھتے تھے۔
Ayah 39:71

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ رَبِّكُمْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:71 in the Quran reader

اور جو کافر ہیں وہ گروہ گروہ جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے،85۔ یہاں تک کہ جب اس تک پہنچ جائیں گے تو اس کے دروازے کھول دئیے جائیں گے اور ان سے دوزخ کے محافظ کہیں گے، کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہیں آئے تھے جو تم کو تمہارے پروردگار کی آیتیں پڑھ کر سناتے تھے اور تم کو تمہارے اس دن کے پیش آنے سے ڈرایا کرتے تھے،86۔ وہ (کافر) کہیں گے ہاں (کیوں نہیں) لیکن عذاب کی بات (آخر) کافروں پر پوری ہو کر رہی،87۔

85۔ (ذلت و خواری کے ساتھ) (آیت) ” زمرا “۔ کافروں کے یہ گروہ یا تو اقسام و انواع کفر کے لحاظ سے ہوں گے اور یا پھر مراتب ومدارج کفر کے لحاظ سے۔ علی تفاوت اقدامھم فی الضلالۃ والشرارۃ (بیضاوی) 86۔ دوزخیوں سے یہ ساری گفتگو انہیں قائل کرنے کے لیے اور ان کی حسرتوں میں اضافہ کے لیے بطور زجر وملامت ہوگی۔ (آیت) ’ رسل منکم “۔ اپنے ہی ملک قوم وقبیلہ والوں سے حصول فیض آسان رہتا ہے۔ 87۔ یہ آخری فقرہ بھی اگر دوزخیوں ہی کی زبان سے ادا ہوگا تو یہ ان کی طرف سے اعتراف ہے کہ پیغمبروں کی تبلیغ بلیغ کے باوجود ہمنے کفر و انکار سے کام لیا۔ اور جو عذاب موعود تھا وہ ہمارے ہاتھوں ہمارے سامنے آیا۔ (آیت) ” قالوا بلی “۔ وہ کہیں گے کہ ہاں کیوں نہیں آئے آئے اور ضرور آئے، اور تبلیغ کا حق بھی پوری طرح ادا کرگئے۔
Ayah 39:72

قِیْلَ ادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:72 in the Quran reader

(پھر) کہا جائے گا دوزخ کے دروازوں میں داخل ہو (اور) اس میں (ہمیشہ) پڑے رہو تو غرض کہ بڑا برا ٹھکانا ہے تکبر کرنے والوں کا،88۔

88۔ یعنی ان لوگوں کے لیے جو اپنی ہوائے نفس اور اپنی چھوٹی سی عقل کو احکام الہی کے سامنے جھکانے میں عار محسوس کرتے تھے۔ (آیت) ” ادخلوا ...... فیھا “۔ چناچہ اس کے بعد دوزخ کے دروازے دوزخیوں پر ہمیشہ کے لیے بند ہوجائیں گے۔ (آیت) ” الی الجنۃ نار مؤصدۃ “۔
Ayah 39:73

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِیْنَ Open ayah 39:73 in the Quran reader

اور جو لوگ اہل تقوی تھے وہ جنت کی طرف گروہ گروہ روانہ کئے جائیں گے،89۔ یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچ جائیں گے اور اس کے دروازے کھلے ہوں گے اور وہاں کے محافظ ان سے کہیں گے سلام علیکم مزہ میں رہو، سو اس میں ہمیشہ کے لئے داخل ہوجاؤ،90۔

89۔ (بڑی قدر ومنزلت کے ساتھ) (آیت) ” الی الجنۃ زمرا “۔ مدارج کفر و اقسام شرک کی طرح قرب کے بھی مدارج و مراتب اور تقوی کے بھی اصناف و انواع ہیں۔ 90۔ (کہ اب اس جنت عیش سے کبھی باہر ہونے کا کوئی کھٹکا ہی نہیں) (آیت) ” وفتحت ابوابھا “۔ یہ دورازے اہل جنت کے اکرام میں تو پہلے ہی سے کھلے ہوئے ہوں گے اور انہیں توقف وانتظار ذرا سا بھی نہ کرنا پڑے۔ مفتحۃ لھم الابواب۔
Ayah 39:74

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَیْثُ نَشَآءُ١ۚ فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ Open ayah 39:74 in the Quran reader

اور وہ کہیں گے اللہ کا (لاکھ لاکھ) شکر ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچا کیا اور ہمیں (اس) زمین کا مالک کردیا کہ ہم جنت میں جہاں چاہیں مقام کریں تو غرض کہ عمل کرنے والوں کا کیسا اچھا انعام ہے،91۔

91۔ اہل جنت جوش مسرت سے بےخود ہو کر یہ نعرہ لگائیں گے۔ (آیت) ” الارض “۔ ارض سے اس سیاق میں مراد سطح جنت ہے، جس پر اہل جنت چلتے پھرتے ہوں گے، عبارۃ عن المکان الذی اقاموا فیہ واتخذوا مقرا ومتبوا (کشاف) یوں بھی ارض کا مفہوم عربی میں نہایت وسیع ہے اور جس طرح سماء کے اندر ہر وہ چیز داخل ہے جو سے کے اوپر ہو اس طرح ارض کے اطلاق میں ہر وہ چیز شامل ہے جو پیروں کے نیچے ہو۔ یعبربھا عن اسفل الشیء (راغب) (آیت) ” نتبوا ..... نشآء “۔ جنت میں ہر شخص کے لیے الگ الگ مقام اس کے مرتبہ تقوی ودرجہ تقرب کے لحاظ سے ہوگا لیکن سیر کی آزادی جنت بھر میں حاصل ہوگی اور چونکہ رشک مفقود ہوگا اس لیے اس کا احتمال ہی نہیں کہ کوئی شخص اپنے مقام سے غیر مطمئن دوسرے کے مرتبہ پر رشک کرتا ہوگا۔ پھر مقام کا تعین ہر شخص کی عین صلاحیت کے مطابق اور اس کے حسب حال ہوگا، اس لیے ہر شخص اس پر خوش ہوگا۔
Ayah 39:75

وَ تَرَى الْمَلٰٓئِكَةَ حَآفِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ قِیْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 39:75 in the Quran reader

اور آپ فرشتوں کو دیکھیں گے کہ حلقہ باندھے ہوں گے عرش کے گردا گرد اپنے پروردگار کی تسبیح وحمد کرتے ہوئے اور بندوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردیا جائے گا اور آواز آئے گی کہ ساری خوبیاں اللہ پروردگار عالم ہی کیلئے ہیں،92۔

92۔ (جس نے اتنا بہتر فیصلہ کیا ! ) (آیت) ” حافین من حول العرش “۔ یہ عین اجلاس عدالت حشر کے وقت ہوگا۔ (آیت) ” یسبحون بحمد ربھم “۔ یہ تسبیح وتحمید تو فرشتوں کی گویا غذا ہی ہے۔ (آیت) ” قیل ..... العلمین “۔ اس نعرۂ مسرت و انبساط میں فرشتے اور انسان سب ہی شریک ہوں گے اور عجب نہیں جو اسی پر اجلاس عدالت برخاست ہو۔