35. Surah Faatir

فاطرThe Originator · 45 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 35:41

اِنَّ اللّٰهَ یُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا١ۚ۬ وَ لَئِنْ زَالَتَاۤ اِنْ اَمْسَكَهُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا Open ayah 35:41 in the Quran reader

بیشک اللہ ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں،53۔ اور اگر وہ ٹلنے لگیں بھی تو پھر اللہ کے سوا کوئی بھی انہیں تھام نہیں سکتا،54۔ بیشک وہ بڑا حلم والا ہے، بڑا مغفرت والا ہے،55۔

53۔ (اپنے انتظام معین وہیئت مقرر سے) آیت میں بتایا ہے کہ حق تعالیٰ دنیا کا خالق وفاطر ہی نہیں، بلکہ اس کا منتظم، مدبر، حاکم بھی ہے، وہی اپنے دست قدرت سے اس کے سارے انتظامات بھی سنبھالے ہوئے ہے۔ یہ نہیں کہ پیدا کرنے والے برہماجی ہوں، پالنے والے اور حفاظت کرنے والے، وشنوجی، اور مارنے والے شیوجی، !۔ غرض مختصر سی عبارت سے متعدد جاہلی تخیلات پر ضرب لگ گئی، لفظ امساک سے یہ مراد لینا کسی طرح بھی صحیح نہیں کہ حق تعالیٰ (نعوذ باللہ) کسی بڑے عظیم الشان دیوپیکر دیوتا کی طرح زمین و آسمان کی باگیں اپنے ہاتھ میں پکڑے اور سمیٹے ہوئے بیٹھے ہیں ! امساک سے مراد صرف ان اجرام کی ہیئت منتظمہ پر انہیں قائم رکھنا ہے، اور وہ جن قوانین طبعی کے واسطہ سے ہو قانون کشش اجسام وغیرہ یہ سب اللہ ہی کے امساک کے ذریعے اور واسطے میں ہیں۔ (آیت) ” ان تزولا “۔ زوال سے مراد صرف ہیئت موجودہ منتظمہ سے ان کا انتقال ہے نہ کہ مطلق حرکت۔ اس لیے آیت سے آسمان و زمین کے سکون وعدم حرکت پر استدلال کرنا تمامتر لغو ہے۔ 54۔ تو جب دوسروں سے اس نظم عالم کی حفاظت ہی نہیں ہوسکتی، تو جواہر واعراض کے ایجاد واحداث کا کیا ذکر۔ (آیت) ” لئن زالتا “۔ یعنی اگر وہ ٹلنے کے قریب ہوجائیں۔ ٹلنے پر آجائیں۔ اے ان اشرفتا علی الزوال (روح) (آیت) ” من احد “۔ من زائد ہے تاکید نفی کے لئے یعنی کوئی بھی۔ من مزیدۃ لتاکید النفی (مدارک) (آیت) ” من بعدہ “۔ بعد یہاں بجز یا علاوہ کے معنی میں ہے۔ بعدہ اے سواہ (جلالین) 55۔ (آیت) ” حلیما “۔ اور اسی صفت حلم کے تقاضہ سے شرک جیسی کھلی ہوئی اور انتہائی گستاخی پر بھی انہیں فورا سزا نہیں دیتا۔ (آیت) ” غفورا “۔ اور اسی صفت غفر کے تقاضہ سے ان سے اب بھی درگزر کرنے کو تیار ہے اگر یہ اپنی شرارتوں سے باز آجائیں۔
Ayahs 35:42–43

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَهُمْ نَذِیْرٌ لَّیَكُوْنُنَّ اَهْدٰى مِنْ اِحْدَى الْاُمَمِ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ نَذِیْرٌ مَّا زَادَهُمْ اِلَّا نُفُوْرَاۙ Open ayah 35:42 in the Quran reader

اور ان (کفار) نے اللہ کی بڑی زور دار قسم کھائی تھی کہ اگر ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا آیا تو ہم ہر امت سے بڑھ کر ہدایت قبول کرنے والے ہوں گے، لیکن جب ان کے پاس (وہ) ڈرانے والا آہی گیا تو بس ان کی نفرت ہی کو ترقی ہوئی

اِ۟سْتِكْبَارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَكْرَ السَّیِّئِ١ؕ وَ لَا یَحِیْقُ الْمَكْرُ السَّیِّئُ اِلَّا بِاَهْلِهٖ١ؕ فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا سُنَّتَ الْاَوَّلِیْنَ١ۚ فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا١ۚ۬ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَحْوِیْلًا Open ayah 35:43 in the Quran reader

دنیا میں اپنے کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے، اور (ان کی) بری چالوں کو (بھی ترقی ہوئی) اور بری چالوں کا وبال انہیں چال والوں پر پڑتا ہے،56۔ سو کیا یہ اسی آگے والوں کے دستور کے منتطر ہیں،57۔ آپ اللہ کے دستور کو کبھی بدلتا ہوا نہ پائیں گے اور نہ آپ اللہ کے دستور کو منتقل ہوتا ہوا دیکھیں گے،58

56۔ یہ کہنے والے مشرکین قریش تھے یہ لوگ قبل بعثت نبوی زور دے دے کر کہا کرتے تھے کہ بنی اسرائیل میں اس کثرت سے نبی آئے اور ان لوگوں نے انکی قدر نہ کی۔ ہماری قوم میں اگر کوئی نبی آئے تو ہم البتہ اس کی پوری قدر کرکے دکھادیں۔ پھر جب آپ ﷺ آئے تو جیسی قدر کی ظاہر ہے۔ (آیت) ” مازادھم الا نفورا استکبارا “۔ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس میں وہی مذکور ہے جو صوفیہ کہا کرتے ہیں کہ جس کی استعداد فاسد ہے اس کا مرض اور ادواشغال سے اور بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے کو بزرگوں میں شمار کرنے لگتا ہے۔ 57۔ (اور وہ دستور یہ ہے کہ وقت مقرر پر سزا وہلاکت آئے) (آیت) ” سنت الاولین “۔ وہ ماجرا جو ساری اگلی سرکش ونافرمان قوموں کو پیش آچکا ہے۔ یعنی عذاب الہی سے ہلاکت و بربادی۔ 58۔ تبدیلی یہ کہ مثلا ایسے مجرموں کو بجائے سزاوعقوبت کے انعام واکرام ملنے لگے۔ اور منتقلی یہ کہ مثلا عذاب بجائے مجرموں کے کسی اور پر ہونے لگے۔ یا یہ مطلب لیاجائے کہ نہ تبدیلی نفس عذاب میں ہوسکتی ہے اور نہ منتقلی اس کے اوقات میں۔ سنۃ لایبدلھا فی ذا تھا ولا یحولھا عن اوقا تھا (مدارک)
Ayah 35:44

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعْجِزَهٗ مِنْ شَیْءٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَلِیْمًا قَدِیْرًا Open ayah 35:44 in the Quran reader

کیا یہ لوگ زمین پر چلے پھرے نہیں جو دیکھتے بھالتے کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جو ان سے قبل ہوئے ہیں درآنحالیکہ وہ قوت میں بھی ان سے بڑھے ہوئے تھے،59۔ اور اللہ ایسا نہیں کہ کوئی بھی چیز آسمانوں میں یا زمین میں اسے ہرا سکے بیشک وہ بڑا علم والا ہے،60۔

59۔ تاریخ عالم کا سبق یہی ہے کہ جو قوم بھی خدا فراموشی میں مبتلا ہوئی، وہ آخر کو ہلاک وبرباد ہو کر رہی۔ (آیت) ” الذین .... قوۃ “۔ قوم عاد، قوم ثمود، اہل بابل وکلدانیہ، قبطیان مصر وغیرہا۔ 60۔ چناچہ اپنے علم کامل سے وہ ہر ارادہ کے نفاذ کا طریقہ وتدبیرجانتا ہے، اور اپنی قدرت کامل سے اسے نافذ کردیتا ہے۔ اس لیے کائنات کی کوئی سی قوت اس سے مقابلہ کی مجال نہیں رکھتی۔ (آیت) ” وما کان ...... الارض۔ مسلمانوں کو بتایا ہے کہ ان کا خدائے ذوالجلال مشرکوں کے دیوی دیوتاؤں کی طرح محدود القوی نہیں کہ آج فلاں سے مغلوب ہوگئے اور کل فلاں سے۔
Ayah 35:45

وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهْرِهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ یُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِیْرًا۠ Open ayah 35:45 in the Quran reader

بڑا قدرت والا ہے اور اگر اللہ ان لوگوں پر داروگیر کرنے لگتا، ان کے اعمال کے سبب، تو پشت زمین پر ایک بھی چلنے پھرنے والے کو بھی نہ چھوڑتا اللہ تو انہیں مہلت دے رہا ہے ایک میعاد متعین تک، سو جب ان کی وہ میعاد آپہنچے گی اللہ اپنے بندوں کو آپ ہی خوب دیکھ لے گا،61۔

61۔ (اور ہر ایک سے اس کے مناسب حال برتاؤ کرے گا) (آیت) ’ ولو ...... دآبۃ “۔ یعنی یہ تو مشیت تکوینی سرے سے ہے ہی نہیں کہ معاصی وذنوب پر گرفت فی الفور اور اسی دنیا میں ہوجایا کرے، یہ اگر ہوتا تو کوئی کافر زندہ ہی نہ رہنے پاتا، اور اہل ایمان اس لیے اٹھا لیے جاتے کہ نظام عالم مجموعہ کے ساتھ ہی وابستہ ہے اور جب انسان نہ رہتے تو کوئی حیوان بھی نہ باقی رہنے دیا جاتا۔ کہ حیوانات کی حیثیت تو محض انسانوں کے خادم کی ہے۔ (آیت) ” من دآبۃ “۔ اس سیاق میں (آیت) ” دآبۃ “۔ سے کیا مراد ہے، اس پر اچھی خاصی بحث ہوئی ہے۔ ہر متحرک جانور، جن وانس، اور نوع انسانی یہ سب مراد لیے گئے ہیں۔ اور مآل ہر تفسیر کا ایک ہی ہے۔ قال ابن مسعود یرید جمیع الحیوان مما دب ودرج وقال الکلبی یرید الجن والانس دون غیرھما لانھما مکلفان بالعقل وقال ابن جریر والاخفش والحسن، بالفضل اے وبالدآبۃ ھنا الناس وحدھم دون غیرھم (قرطبی) اے لاھلک جمیع اھل السموت والارض وما یملکونہ من دوآب وارزاق (ابن کثیر) ۔