Ayah 33:3777۔ (بطور فہمائش ومشورہ، نہ بطور حکم وجوبی) اے امر ندب (بحر)
78۔ مراد وہی حضرت زید صحابی ہیں۔ اللہ کا انعام تو ظاہر ہے کہ اسلام و ایمان کی توفیق دی، جو سب سے بڑی دینی نعمت ہے۔ اور پھر غلامی سے نجات دلائی جو سب سے بڑی دنیوی نعمت ہے۔ اور رسول کی طرف سے انعام یہ ہے کہ آپ نے امور دین کی تعلیم فرمائی، غلامی سے آزاد کیا۔ اپنی قریبی رشتہ کی بہن سے نکاح کرا دیا۔ حدیث میں ان کے لیے الفاظ آئے ہیں۔ کان من احب الناس الی، میرے محبوب ترین انسانوں میں ہیں۔
79۔ یعنی بیوی کے حقوق میں کوتاہی نہ کر۔ واتق اللہ فی معاشر تھا (بحر) (آیت) ” زوجک “۔ یہ بیوی صاحبہ وہی حضرت زینب ؓ تھیں، آخر ان شوہر کو بھی راضی نہ رکھ سکیں۔ حضرت زید ؓ نے طلاق دینے کا فیصلہ کرلیا، رسول اللہ ﷺ نے آپ کو فہمائش کی کہ جہاں تک بن پڑے نباہ کرو۔ (آیت) ” اتق اللہ “۔ قرآن مجید نے یہ ایک ایسی جامع ہدایت کردی کہ خانگی زندگی کو خوشگوار بنانے اور رکھنے کے لیے پھر اس کے بعد کسی اور ہدایت کی ضرورت ہی نہیں رہتی، تقوی الہی پر اگر عمل ہو، تو ازدواجی زندگی بلکہ خانگی زندگی ہی پر کیا موقوف ہے۔ ہر شعبہ زندگی کی تلخیاں شیر ینیوں میں تبدیل ہوسکتی ہیں۔
80۔ جب شکایتیں اور رنجشیں حد سے بڑھ گئیں اور آپ کو خواہ وحی سے خواہ قرائن سے خواہ دونوں سے یقین ہوگیا کہ اب یہ تعلق ازدواج نبھ نہیں سکتا۔ تو قدرۃ آپ کو بڑی فکر اس کی پیدا ہوئی کہ اب آئندہ کیلئے انتظام کیا ہو، زینب ؓ کی ایک دل شکنی تو پہلے ہوچکی تھی، جب ان کا عقد ان کی علی نسبی کے باوجود ایک آزاد شدہ غلام سے کرایا گیا تھا۔ دوسرا داغ اس سے بڑھ کر ان کی عزت عرفی اور نیک نامی پر یہ لگ رہا تھا کہ نباہ ان آزادشدہ غلام کے ساتھ بھی نہ ہوسکا ! طلاق ان سے بھی مل رہی ہے اور اب ساری زندگی ایک آزاد شدہ غلام کی مطلقہ ہی کہلا کر بسر کرنا ہوگی ! یہ ننگ درننگ جس قدر شاق ہوا ہوگا ظاہر ہے۔ اس موقع پر اشک شوئی اور دلشکنی کے تدارک کی صورت یہی تھی کہ سردار اسلام ﷺ زینب ؓ کو خود اپنے عقد نکاح میں لاکر ان کی دلجوئی اور قدر افزائی کریں، ساتھ ہی یہ خیال بھی تھا کہ قوم عرب جو منہ بولے بیٹے کے ساتھ نکاح کو اتنا معیوب سمجھ رہی ہے وہ کیا کہے گی، آپ اسی فکر وتردد میں تھے کہ حکم الہی ملا، کہ طعن خلق سے بےپرواہ ہو کر نکاح کرلیجئے۔ زینب کی اشک شوئی ودلدہی جو تھی، وہ تو تھی ہی، اصلاح عامہ کی طرف بھی کتنا بڑا قدم اس طرح اٹھ گیا کہ متبنی کی زوجہ سے نکاح کا جواز خود فعل رسول اللہ سے ثابت ہوگیا۔ (آیت) ” وتخفی ...... مبدیہ “۔ یعنی یہی ارادۂ نکاح جو بغرض اشک شوئی ودلدہی جس کا اظہار حق تعالیٰ نے کلام مجید کے ذریعہ سے کردیا۔ یعنی من نکاحک لھا (ابن العربی) والمراد بالموصول مااوحی اللہ تعالیٰ بہ الیہ ان زینب ؓ سیطلقھا زید ویتزوجھا بعد (علیہ الصلوۃ والسلام) والی ھذا ذھب اھل التحقیق من المفسرین (روح) (آیت) ” وتخشی الناس “۔ یعنی وہی عرف عام و رواج کے خلاف ہونے کی بنا پر اہل قوم وقبیلہ طرح طرح کے طنز کریں گے کہ دیکھئے منہ بولی بہو کے ساتھ نکاح کرلیا، اور آپ ﷺ کو اپنی بدنامی کا اندیشہ تھا۔ ان یتکلموا فیک (ابن العربی) یہاں بعض اہل تفسیر کے قلم کو لغزش ہوگئی ہے، اور بعض ایسے قصے کردیئے ہیں، جو ایک طرف تو نقلا بےسند ہیں اور دوسری طرف عقلا بےسروپا اور شان رسالت کے منافی۔ یعنی ناقابل قبول نہ روایۃ نہ درایۃ محققین مفسرین نے اسی لیے ایسے قصوں کی بلانقل کئے بھی تردید وتکذیب کردی ہے۔ ولبعض المفسرین کلام فی الایۃ یقتضی النقص من منصب النبوۃ ضربنا عنہ صفحا (بحر) احببنا ان نظرب عنھا صفحا لعدم صحتھا فلا نوردھا (ابن کثیر) وللقصاص فی ھذہ القصۃ کلام لاینبغی ان یجعل فی حیز القبول (روح) (آیت) ” ما اللہ مبدیہ “۔ کی تفسیر محبت وغیرہ سے کرنا جیسا بعض اقوال شاذہ غیر مستند الی الدلیل الصحیح میں ہے صحیح نہیں، کیونکہ ان سے پوچھا جائے گا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کا ابداء کہاں کیا۔ بخلاف تفسیر نکاح کے کہ (آیت) ” زوجنکھا “۔ میں بھی ابداء ہوا ہے (تھانوی (رح) مسیحی اہل قلم نے خوب خوب اس موقع پر اپنے نامہ اعمال کو سیاہ کیا ہے۔ لیکن خدا کی شان ہے کہ ایک ممتاز برطانوی مصنف باسورتھ اسمتھ (BOSWORTESMITE) نے ٹھیک اس کے برعکس نتیجہ حضور ﷺ کے کمال اخلاص کا اسی سورت سے نکالا ہے۔ ملاحظہ ہو۔ تفسیر انگریزی۔ آیت سے معلوم ہوا کہ طعن عوام سے اندیشہ ایک امر طبعی ہے۔ اور منافی مرتبہ رسالت نہیں۔ پھر منافی کمالات ولایت تو اور بھی نہیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ جس فعل میں کوئی دینی مصلحت ہو جیسے اس قصہ میں مصلحت تھی۔ اس میں ملامت کی پروانہ کرنی چاہیے۔ اور یہ مصلحت وہ تھی جو (آیت) ” لکی لا یکون علی ال مومنین حرج “۔ میں مذکورہ ہوئی۔ البتہ جس میں بجائے مصلحت کے عام مومنین کے لیے کوئی مفسدہ ومضرت ہو اس میں احتیاط کرنا چاہیے، جیسے کہ رسول اللہ ﷺ نے قصہ حطیم میں کیا۔
81۔ (اور کوئی واسطہ اس سے باقی نہ رہا) یعنی جب زید نے طلاق دے دی اور عدت بھی گزر گئی۔ قضاء وطرکا اطلاق اس صورت میں ہوتا ہے جب کوئی بھی واسطہ فریقین میں باقی نہ رہ جائے۔ اور یہ اسی وقت ہوتا ہے جب طلاق پر مدت عدت بھی گزر جائے۔ والمعنی فلما لمیبق لزید فیھا حاجۃ وتقاصرت عنھا ھتمہ وطابت عنھا نفسہ وطلقھا وانقضت عدتھا (کشاف) اے طلقھا کماروی عن قتادۃ (روح) اے لما طلقھا زید وانقضت عدتھا (کبیر) قیل ان قضاء الوطر یشعر بانقضاء العدۃ (روح) تمام صحابیوں میں یہ شرف حضرت زید ؓ ہی کو حاصل ہے کہ ان کا نام صراحت کے ساتھ قرآن مجید میں آیا ہے۔ اور اسی بناء پر بعض لوگوں نے حضرت زید ؓ کو افضل الصحابہ قرار دیا ہے۔
82۔ صحیح مسلم میں حضرت انس ؓ کی روایت میں اس کی تصریح موجود ہے کہ جب عدت ختم ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے نکاح کا پیغام بھی حضرت زید ؓ ہی کی معرفت بھیجا۔ ضیافت ولیمہ بڑے پیمانہ پر ہوئی۔ حضرت انس ؓ ہی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اور کسی بیوی صاحبہ کا ولیمہ اس پیمانہ پر اور اتنا اچھا نہیں کیا۔ (آیت) ” زوجنکھا “۔ کے روشن ترین اعلان نکاح کے بعد حقیقۃ اب کسی ظاہری عقد نکاح کی ضرورت ہی نہیں باقی رہی تھی، لیکن اس کے باوجود اس عالم ظاہری میں بھی نکاح ہوا۔ یہ نکاح خود حضرت زینب کے بھائی ابو احمد بن جحش نے پڑھایا، اور رسول اللہ ﷺ نے مہر چار سو درہم کا رکھا۔ زوجھا ایاھا اخوھا ابو احمد بن جحش وامھرلھا رسول اللہ ﷺ اربع ماءۃ درھم (ابن ہشام) لفظ زوجناک سے بعض فقہاء نے مسئلہ ولایت نکاح کا استنباط کیا ہے۔ دلیل علی ثبوت الولی فی النکاح (قرطبی)
83۔ (آیت) ” لکی ...... ادعیآءھم “۔ مطلب یہ ہوا کہ اس عام تشریع کا اعلان تو ہمیں مقصود ہی تھا۔ فقہاء نے یہیں سے یہ استنباط کیا ہے کہ جو احکام تشریعی نبی کے لیے ہیں (جب تک ان کی خصوصیت کی تصریح نہ کردی جائے) وہی ساری امت کے لیے بھی ہوتے ہیں۔ الامۃ مساویۃ لنبی ﷺ فی الحکم الاماخصہ اللہ تعالیٰ بہ لانہ اخبر انہ احل ذلک للنبی ﷺ لیکون ال مومن ون مساوین لہ (جصاص) واستدل بھذا علی ان ماثبت لہ ﷺ من الاحکام ثابت لامتہ الاما علم انہ من خصوصیاتہ (علیہ الصلوۃ والسلام) بدلیل (روح)
84۔ (کہ حکمت تکوینی مقتضی ہی اس کی تھی)
Ayah 33:3885۔ (تکوینا خواہ تشریعا) یہاں مراد اسی نکاح زینب سے ہے۔ اے فی ما احل لہ وامرہ بہ من تزویج زینب (ابن کثیر)
86۔ یعنی انبیاء سابقین کا یہی دستور رہا ہے کہ انہیں جس امر کی اجازت ہوتی ہے، اسے بلاتامل کر گزرتے ہیں۔ اور اس میں مورد طعن وملامت نہیں ہوسکتے۔ (آیت) ’ ’ الذین خلوا من قبل “۔ سے مراد انبیاء سابقین ہیں، جیسا کہ آئندہ آیت میں تصریح سے آرہا ہے۔ الذین یبلغون رسلت اللہ۔ اے من قبلک من الانبیاء علیھم الصلوۃ والسلام (روح)
87۔ یعنی بیشمار حکمتوں اور مصلحتوں پر مشتمل دنیوی حکمرانوں کے احکام کی طرح فوری مقصد و ضرورت پر مبنی نہیں۔
Ayah 33:3988۔ (چنانچہ آج جو آپ پر طعن کرنے والے ہیں وہ بھی کل حساب سے بچے نہ رہیں گے) (آیت) ” یبلغون رسلت اللہ “۔ تبلیغ پیام الہی عام ہے قولی اور فعلی ہر قسم کی تبلیغ کے لیے انبیاء گزشتہ کے قصے محض آپ ﷺ کی تقویت قلب کے لیے ہیں، ورنہ آپ تو یوں بھی کبھی غیر اللہ کے خوف کو خاطر میں نہ لائے۔
Ayah 33:4089۔ (اور جب ان کے کوئی بیٹا ہی نہیں تو بہو کے ساتھ نکاح کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا) اسم پاک محمد پر حاشیہ سورة آل عمران (پ 4) میں گزر چکا۔ (آیت) ” وما محمد الا رسول “۔ کے تحت میں۔
90۔ (اور اسی طرح ساری امت کے روحانی مربی) اس میں یہ بھی اشارہ نکل آیا کہ آپ ﷺ کو امت کے ایک ایک فرد کے ساتھ جو تعلق شفقت و رحمت ہے وہ طبعی نہیں ماتحت رضاء الہی ہے۔
91۔ (اس لیے آپ ﷺ کی تربیت روحانی بھی غیر موقوف وغیر منقطع ہے) ختم نبوت کی یہ تصریح نہ ہوتی جب بھی دوسری آیات۔ مثلا (آیت) ” الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی “ وغیرہ اس عقیدہ کی بنیاد بننے کے لیے کافی تھیں۔ جب کوئی درجہ مزید تعلیم واصلاح کا باقی ہی نہ رہا تو اب کسی نئے نبی کی ضرورت ہی کیا رہی ؟ لیکن اس غرض سے کہ آئندہ کی جھوٹے مدعی نبوت کے لیے اتنی گنجائش بھی باقی نہ رہے، یہاں بتصریح یہ وارد کردی گئی۔ (آیت) ” خاتم۔۔۔ خاتم “۔ اور خاتم دونوں کے معنی لغت میں آخر کے ہٰں۔ خاتمھم وخاتمھم اے اخرھم (لسان) خاتم النبیین اے اخرھم (تاج) اور آپ ﷺ کا لقب خاتم النبیین ہے ہی اسی لیے کہ نبوت آپ ﷺ پر ختم ہوگئی۔ اور نبوت کی تکمیل آپ کی آمد سے ہوگئی۔ وخاتم النبیین لانہ ختم اے تممھا بمجیۂ (راغب) ھوالذی ختم النبوۃ بمجۂ (تاج) خاتم النبیین اے اخرالانبیاء (کشاف) والمعنی انہ لانبی احد بعدہ (بحر) خاتم بفتح التاء اے اخرھم (معالم) ختم اللہ بہ النبوۃ (معالم) ھذہ الایۃ نص فی انہ لانبی بعدہ وبذالک وردت الاحادثا لمتواترہ عن رسول اللہ عن جماعۃ من الصحابہ (ابن کثیر) خود قرآن مجید ہی میں دوسری قرأت خاتم النبیین فھوخاتمھم (معالم) ختم نبوت یعنی ذات محمدی پر ہر قسم کی نبوت کا ختم ہوجانا امت کا اجماعی عقیدہ ہیں اور جو اجر اء نبوت کا اب بھی قائل ہے اہل تحقیق نے تصریح کردی ہے کہ وہ اجماع امت سے زندیق بلکہ حکومت اسلامی میں واجب یجب قتلہ (بحر) واجمعت علیہ الامۃ فیکفر مدعی خلافہ ویقتل ان اصر (روح) یہ ختم نبوت کا دعوی بھی اسلام کے امتیازی خصوصیات میں سے ہے، پیغمبر اور ہادیان مذہب قرآن سے قبل بیشمار آچکے تھے۔ کتابیں بھی نازل ہوچکی تھیں۔ مگر یہ دعوی کسی نے بھی نہیں کیا تھا کہ میں آخری پیغمبر ہوں اور میرے بعد اب کوئی پیغمبر نہ آئے گا، اور اس دعوے کی بولتی ہوئی سچائی دیکھئے کہ اس تیرہ چودہ سو برس کی مدت میں کوئی سنجیدگی کے ساتھ دعویدار نبوت ہوا ہی نہیں۔ مسیلمہ متنبی وغیرہ کا جو حشر ہو اوہ ظاہر ہی ہے۔ لے دے کے نام ساری تاریخ میں صرف دو شخصوں کے اس سلسلہ میں لیے جاسکتے ہیں۔ ایک بہاء اللہ (بانی مذہب بہائی) دوسرے مرزا غلام احمد (بانی سلسلہ قادیانی) تو ان میں مرزا تو اپنے کو کھلم کھلا محمدی اور متبع کامل دین احمدی کہتے ہیں۔ چناچہ ان کی نبوت تو ان کے زعم واصطلاح میں تمامتر اتباع رسول ہی ہے۔ رہا مذہب بہائی تو وہ بھی بڑی حد تک دین محمدی ہی کی تحریف شدہ شکل کا نام ہے۔
92۔ (سو اس نے کسی مصلحت ہی سے رسول کو اس نکاح کا حکم دیا)
Ayah 33:4193۔ طاعتیں اور عبادتیں جتنی بھی ہیں، سب ذکر الہی ہی کی فرد ہیں۔ کل طاعۃ وکل خیرمن جملۃ الذکر (کشاف)
Ayah 33:4294۔ یعنی اس کے ذکر وطاعت پر دوام رکھو، بکرۃ واصیلا اشارۃ علی المداومۃ (کبیر) اے کافۃ الاوقات (کشاف)
Ayah 33:4395۔ (اسی کے حکم سے) اللہ کا رحمت بھیجنا تو ظاہر ہی ہے۔ فرشتوں کا رحمت بھیجنا رحمت کی دعا کرنا ہے۔
96۔ (کہ اللہ کی رحمت اور ملائکہ کی دعاء کی برکت سے یہ نعمت تمہیں برابر حاصل ہوتی رہے) (آیت) ” الظلمت “۔ سے مراد جہل وضلالت کی تاریکیاں ہیں۔ (آیت) ” النور “۔ سے مراد علم وہدایت کا نور ہے۔
Ayah 33:4497۔ اللہ اپنے بندوں کو خود سلام کرے، جنت میں مومنین کے اعزاز واکرام کی یہ انتہا ہوگی ! وتحیۃ اللہ لھم یقول لل مومنین السلام علیکم مرحبا بعبادی الذین ارضونی (بحر) یہی سلام اہل جنت کا آپس میں اور فرشتوں کی طرف سے بھی ہوگا۔
Ayah 33:4598۔ اس صفت کا ظہور حشر میں ہوگا، جب آپ ﷺ کی شہادت پر آپ کی امت کا فیصلہ ہوگا۔ (آیت) ” شاھدا “۔ کے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ آپ ﷺ تمام امتوں کے رسولوں پر بطور شاہد پیش ہوں گے کہ وہ ادائے رسالت کرچکے۔ قیل المراد شاھدا علی جمیع الامم یوم القیامۃ بان انبیاء ھم قد بلغوھم الرسالۃ (روح) اور مولانائے رومی (رح) نے تو یہ پہلولیا ہے کہ حق تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بندوں کے مختلف مراتب ومنازل سے مطلع کر رکھا ہے۔
ع : درنظر بودش مقامات العباد زاں سبب نامش خدا شاہد نہاد :۔
Ayah 33:4699۔ (آیت) ” داعیا الی اللہ “۔ پر ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔
100۔ (سرتاپانمونہ ہدایت ہونے کے لحاظ سے) مفسرین قدیم نے لکھا ہے کہ بجائے آفتاب کے چراغ سے آپ کے تشبیہ دینے میں یہ نکتہ ہے کہ نور آفتاب گو تیز وقوی ہوتا ہے۔ لیکن اس کا فیضان ضعیف ہے اپنا سا کسی کو نہیں بنا سکتا بخلاف اس کے چراغ سے صدہاہزار ہا چراغ جلتے چلے جاتے ہیں۔ چناچہ امت میں فیضان رسول سے قیامت تک اولیاء و ابرار ہوتے رہیں گے۔” احقر کے نزدیک چراغ سے تشبیہ دینے میں یہ نکتہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک تو چراغ تک رسائی آسان ہے۔ پھر چراغ سے ہر وقت نور حاصل کرنا ممکن ہے۔ پھر سہل الحصول ہے، پھر اس سے نور حاصل کرنے میں اکتساب اور قصد کو بھی داخل ہے۔ پھر صحیح المزاج اور صحیح البدن انسان کو اس سے ناگواری کسی وقت نہی ہوتی۔ پھر اس میں شان انیس ہونے کی بھی ہے۔ اور ان سب صفات کو انبیاء (علیہم السلام) کی شان سے زیادہ مناسبت ہے (تھانوی (رح )
Ayah 33:47101۔ (آپ کے واسطہ سے) یعنی دنیا میں غلبہ ونصرت اور آخرت میں عفو ومغفرت۔ پھر ہر نعمت اخروی میں دوام وبقاء۔
Ayah 33:48102۔ یعنی ایسا نہ ہو کہ ان کے طعن پیہم سے آزردہ ہو کر ان پر تبلیغ ہی ترک کردیجئے۔ یہ تو نتیجہ اور مآل کے اعتبار سے عین انہیں کی رائے کا اتباع ہوگیا۔
103۔ (جیسا کہ اس واقعہ نکاح میں کہ آپ ﷺ کی طرف سے تبلیغ فعلی تھی، ان کی طرف سے سخت اذیت قولی آپ ﷺ کو پہنچی)
104۔ (اور آپ کو ہر ضرر سے بچا لے گا) اللہ کی کارسازی کا مراقبہ خود ہر تلخی کو شیرینی میں تبدیل کردینے کے لیے کافی ہے۔
Ayah 33:49105۔ (اور اس لیے انہیں فوری نکاح ثانی سے کوئی مدت عدت مانع نہیں درآنحالیکہ مدخولہ کی طلاق کی بعد عدت واجب ہوجاتی ہے) (آیت) ” نکحتم “۔ نکاح کے لغوی معنی تو صحبت یا جماع کے ہیں۔ مگر قرآن مجید میں عموما عقد نکاح کے معنی میں آیا ہے۔ (آیت) ” تمسوھن “۔ ہاتھ لگانا کنایہ صحبت سے ہے۔ حقیقۃ یا حکما مثل خلوت صحیحہ کے۔ پس دونوں سے عدت واجب ہے (تھانوی (رح) والخلوۃ الصحیۃ کالمس (مدارک) (آیت) ” اذا نکحتم ال مومنت “۔ الفاظ آیت سے فقہاء مفسرین نے یہ نکالا ہے کہ نکاح گوجائز کتابیہ عورتوں سے بھی ہے۔ لیکن اولی یہی ہے کہ مومنات کے ساتھ کیا جائے۔ وفی تخصیص المومنات مع ان الکتابیات تساوی ال مومن ات فی ھذا الحکم اشارۃ الی ان الاولی بالمومن ان ینکح مومن ۃ (مدارک) (آیت) ” لکم “۔ کی ضمیر مذکر سے فقہاء نے یہ نکالا ہے کہ عدت حق زوج ہے، جیسا کہ ولد حق والد ہے۔ فیہ دلیل علی ان العدۃ تجب علی النساء للرجال (مدارک)
106۔ نکاح ہو، یا طلاق، رفاقت ہو یا افتراق، قرآن خوبی وخوش اسلوبی کی شرط ہر جگہ لگائے ہوئے ہے۔ جو کچھ بھی ہو (آیت) ” سراحا جمیلا “۔ ہو بالمعروف ہو، یعنی شریفانہ طرز پر ہو، حفظ وضع وپ اس ناموس کے ساتھ ہو۔ نفضیح وبدنمائی کی صورت بہرحال نہ پیدا ہونے پائے۔
Ayah 33:50107۔ (باوجود اس کے کہ وہ چار کے جائز عدد سے زائد ہیں) پیغمبر کے شرف و امتیاز نیز آپ کی ضرورتوں اور مصلحتوں کے پیش نظر آپ کی ازدواجی زندگی سے متعلق اب بعض مخصوص احکام کا بیان ہورہا ہے۔
108۔ (کنیز شرعی کی حیثیت سے) یعنی ان سب کے رکھنے کی آپ ﷺ کو اللہ کی طرف سے اجازت ہے۔ (آیت) ” افآء اللہ علیک “۔ کی قید سے زر خرید باندیاں اس حکم اجازت سے نکل گئیں۔
109۔ دونوں کا خلاصہ یہ کہ آپ کے والد کے خاندان کی بیٹیاں۔
110۔ دونوں کا حاصل یہ کہ آپ کی والدہ کے خاندان کی بیٹیاں۔
111۔ یعنی دادھیالی اور نانہالی خاندانوں کی بھی سب عورتیں نہیں، بلکہ وہی جنہوں نے عمل ہجرت میں موافقت کی ہو غیر مہاجر بیویاں اس قید سے نکل گئیں۔ (آیت) ” معک “۔ میں قید معیت زمانی کی نہیں۔ مراد صرف عمل مہاجرت میں موافقت سے ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔ واسلمت مع سلیمان ومع لیس للقران بل لوجودھا (مدارک) المعیۃ ھنا الاشتراک فی الھجرۃ لافی الصحبۃ فیھا (قرطبی)
112۔ یعنی وہ زن مومنہ جو بلا مہر اپنے کو آپ ﷺ کے نکاح میں لے آنا چاہے۔ یہ اجازت آپ ﷺ کے لیے مخصوص تھی، جیسا کہ ابھی آرہا ہے۔ (آیت) ” خالصۃ لک من دون ال مومنین “۔ آپ ﷺ کو یہ اجازت تھی۔ لیکن کبھی آپ ﷺ نے اس اجازت سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ یعنی کوئی نکاح بلا ذکر مہر نہیں کیا۔ (آیت) ” ان یستنکحھا “۔ استنکاح۔ نکاح کے معنی میں بھی آتا ہے۔ اور طلب نکاح کے معنی میں بھی۔ اے ینکحھا یقال نکح واستنکح مثل عجب واستعجب ویجوزان یرد الاستنکاح بمعنی طلب النکاح (قرطبی)
113۔ (اور جو ہم نے دوسری آیتوں یا روایتوں کے ذریعہ سے بندوں کو بھی معلوم کر ادئیے ہیں) (آیت) ” خالصۃ لک من دون ال مومنین “۔ رسول اللہ ﷺ کے لیے حکم مخصوص (جس میں امت شریک نہیں) یہی تھا کہ آپ ﷺ بلامہر بھی بیویوں کو اپنے نکاح میں لے سکتے تھے۔ آیت کے اس جزو سے اس پر بھی روشنی پڑگئی کہ یہ خاص حکم آپ ﷺ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے۔ ورنہ اور احکام مذکورۂ بالا آپ ﷺ میں اور امت میں مشترک ہیں۔ اخبرانہ مخصوص بذالک دون امتہ وانہ وامتہ سواء فی من تقدم ذکرھن (جصاص)
Ayah 33:51114۔ یعنی یہ عام مومنین کے احکام سے آپ ﷺ کے حق میں بعض امتیازات وتخصیصات آپ ﷺ کی مخصوص مصلحتوں کے لحاظ ہیں تاکہ آپ ﷺ کے مقاصد پیغمبرانہ ومصالح میں ہرج واقع نہ ہو۔ اخبر اللہ تعالیٰ بتوسعہ علی النبی ﷺ فی اباحتہ لہ وعلی ال مومنین فی ما اطلقہ لھم (جصاص) (آیت) ” لکیلا یکون یکون علیک حرج “۔ کا ربط نحوی (آیت) ” قد علمنا ما فرضنا علیھم فی ازواجھم “۔ سے ہے۔ (آیت) ” وما ملکت ایمانھم “۔ درمیان میں بطور جملہ معترضہ کے ہے۔
115۔ چناچہ رحیمیت کی بناء پر احکام میں بڑی سہولتیں ملحوظ رکھتا ہے۔ پھر اگر سہل احکام کی تعمیل میں بھی غفلت ہوجائے تو غفوریت کی بناء پر جب چاہے معاف بھی کردیتا ہے۔
116۔ یعنی جس کو جتنی مدت تک چاہیں اسے باری نہ دیں اور اپنے سے الگ رکھیں۔ اور جس کو جتنی مدت تک چاہیں، باری دیتے رہیں اور اپنے پاس ہی رکھیں، یہ آپ ﷺ ہی کی صوابدید ومصلحت پر ہے۔ اس باب میں آپ پر وہ پابندیاں نہیں، جو عام امت پر ہیں۔ ھذہ الایۃ تدل علی ان القسم بینھن لم یکن واجبا علی النبی ﷺ وانہ کان مخیرا فی القسم لمن شاء منھن وترک من شاء منھن (جصاص) (آیت) ” منھن “۔ ضمیر ظاہر ہے کہ ازواج مطہرات کی جانب ہے ذکر انہیں کا ہورہا ہے۔
117۔ آیت کا مطلب یہ ہوا کہ آپ ﷺ پر ادائے حقوق زوجیت کے باب میں وہ متعدد پابندیاں عائد نہیں جو عام مسلمین کے لیے ہیں۔ اور بیویوں کو بہت سے معاملات میں آپ ﷺ پر کوئی دعوی یا حق ہی نہیں۔ یہ محض آپ کی خوشی ومصلحت پر ہے کہ آپ فلاں فلاں امور میں ان کی دلجوئی ورعایت کرتے رہیں تو جب ازواج مطہرات کا استحقاق ہی باقی نہ رہا تو قدرۃ انہیں رنج بھی بہت کم ہوگا۔ عموما وعادتا تو رنج کی بنیاد یہی استحقاق ہی ہوتا ہے۔ جب یہ معلوم ہوگیا کہ یہ انتظامات حق تعالیٰ ہی کی جانب سے ہیں۔ تو اب بجائے رنج کے تعمیل احکام میں اور مسرت ہوگی۔ لانھن اذا علمن ان ھذا التفویض من عند اللہ اطمأنت نفوسھن وذھب التغایر وحصل الرضاء (مدارک) (آیت) ” ذلک “۔ یعنی یہی انتظامی سہولتیں اور رعایتیں جو آپ ﷺ کے حق میں اوپر مذکور ہوئیں۔ یا یہ کہ آپ ﷺ کی مرضی پر چھوڑ دینے کا حکم۔ اے التفویض الی مشیتک (مدارک)
118۔ وہ اپنے علم کامل سے ہر ایک کی بدگمانیوں اور گستاخانہ خیالات پر بھی مطلع ہے جس کی جب چاہے گرفت کرے، لیکن اپنے کمال حلم سے فورا گرفت نہیں کرتا۔ سب کو موقع ومہلت دے رہا ہے۔
Ayah 33:52119۔ (چنانچہ اہل قرابت میں سے غیر مہاجر بیویاں حلال نہیں اور دوسری عورتوں میں سے غیر مومن ات حلال نہیں) (آیت) ” من بعد “۔ یعنی ان بیویوں کے علاوہ جن کے اوصاف ابھی بیان ہوچکے۔ قال عکرمۃ والضحاک معنی الایۃ لایحل لک النساء الا اللاتی احللنا لک بالصفۃ التی تقدم ذکرھا (معالم) اے من بعد الاصناف التی سمیت قالہ ابی بن کعب وعکرمۃ وابورزین وھو اختیار محمد بن جریر (قرطبی)
120۔” اس طرح سے کہ ان میں سے کسی کو طلاق دے دیں اور بجائے ان کے دوسری کرلیں، اور یوں بدون ان کے طلاق دیئے ہوئے اگر کسی سے نکاح کرلیں تو اس کی ممانعت نہیں۔ اسی طرح اگر بلاقصد تبدل کسی کو طلاق دیں تو اس کی بھی ممانعت ثابت نہیں۔ بلکہ لفظ تبدل اس مجموعہ کی ممانعت پر دال ہے، پس یہ تبدل ممنوع ہے “۔ (تھانوی (رح) عرب میں ایک دستور یہ بھی تھا کہ شوہر شوہر اپنی بیویوں کا تبادلہ آپس میں کرلیا کرتے تھے۔ چناچہ بعض مفسرین نے آیت کے تحت میں اس رواج جاہلیت کا بھی ذکر کیا ہے۔ کانت العرب فی الجاھلیۃ یتبادلون بازواجھم یقول الرجل للرجل بادلنی بامرأتی (معالم) قال ابن زید ھذا شیء کانت العرب تفعلہ یقول احدھم خذ زوجتی واعطنی زوجتک (قرطبی)
121۔ (تو اس کو اس کی بھی پوری خبر رہتی ہے کہ کون کس کو کس نظر سے دیکھتا ہے، اور اس سے تاثیر میں قصد واختیار کو کتنا دخل ہے) (آیت) ” الا ما ملکت یمینک “۔ اس استثناء نے باندیوں میں تبدل کو رسول اللہ ﷺ کے لیے جائز کردیا۔ (آیت) ” ولو اعجبک حسنھن “۔ قرآن مجید نے اول تو اسے محض بطور احتمال فرض کیا ہے۔ اور احتمالات اس سے کہیں بڑھ بڑھ کر بھی فرض کیے جاسکتے ہیں۔ چناچہ قرآن مجید نے فرض کیے بھی ہیں۔ ، لیکن اگر تحقق واقعۃ بھی کبھی ہوجاتا جب بھی محض اتنے میں کہ کسی نامحرم کے چہرہ پر نظر پڑگئی، اور اس چہرہ کی زیبائی ادراک میں بھی آگئی کوئی قباحت شرعی نہیں۔ یہ تو ایک امر غیر اختیاری ہوا۔ مذموم جو کچھ ہے وہ بالقصد نظر کرنا اور بالقصد اس سے لذت حاصل کرنا ہے۔ فقہاء نے آیت سے یہ بھی نکالا ہے کہ نامحرم کے چہرہ پر نظر کرنی جائز ہے۔ جبکہ اس سے یہ تاثر حسن نہ پیدا ہوتا ہو۔ یدل علی جواز النظر الی وجہ المرأۃ الاجنبیۃ اذلا یعجبہ حسنھا (جصاص) فقہاء نے آیت سے یہ بھی نکالا ہے کہ جس عورت سے شادی کا ارادہ ہو اس کا دیکھنا جائز ہے۔ فی ھذہ الایۃ دلیل علی جواز ان ینظر الرجل الی من یرید زاجھا (قرطبی) اور بعض نے اجازت سے بڑھ کر اس کو ارشاد کے معنی میں لیا ہے۔ الامر بالنظر الی المخطوبۃ انما ھو علی جھۃ الارشاد الی المصلحۃ (قرطبی)
Ayah 33:53122۔ مطلب یہ ہے کہ اول تو بےدعوت جاؤ مت اور دعوت پر جاؤ جب بھی اتنا قبل سے مت پہنچ جاؤ، بعض لوگ خدمت رسول میں کھانا کھانے کے لیے جاتے اور بہت قبل سے جا کر بیٹھ جاتے اور کھانے کے انتظار میں بیٹھے رہتے۔ آپ ﷺ مروت کی بنا پر زبان سے تو کچھ نہ فرماتے۔ لیکن طبعا گرانی ضرور ہی محسوس فرماتے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی، تہذیب مجلسی وآئین منزلی شریعت اسلامی کے اہم مقاصد میں سے ہے، قرآن کو اس باب میں ہدایات دنیا ضرور تھا۔ فقہاء نے تصریح کردی ہے کہ گونزول آیت آداب نبوی میں سے ہے مگر حکم عام ہے۔ وھذا الحکم وان نزل خاصا فی النبی ﷺ وازواجہ فالمعنی عام فیہ وغیرہ (جصاص) ” یہ بتصریح علماء سرکار نبوی کے ساتھ خاص نہیں۔ یعنی اس قسم کی جو بات کسی کو گراں وناگوار ہو وہ ناجائز ہے “۔ (تھانوی (رح) (آیت) ” الا ان یؤذن لکم “۔ گھر میں کسی کے بھی بےاذن نہ جانا چاہیے۔ اور آستانہ نبوی ﷺ پر اذن کی اہمیت توبدرجہ اولی ہے۔ کسی کے کھانے میں نظر لگانا اور بےبلائے دعوت میں طفیلی بن کر جانا جائز نہیں، اسی طرح کسی کے گھر میں بےضرورت اور خلاف اذن دیر تک بیٹھے رہنا جائز نہیں۔ حقوق جس طرح مہمان کے ہیں۔ میزبان کے بھی ہیں۔ کسی مہمان کو یہ حق نہیں کہ اپنے کسی قول وفعل سے صاحب خانہ کو ایذاء پہنچائے۔ (آیت) ” بیوت النبی “۔ بیوت کی اضافت نبی کی جانب کی گئی ہے۔ حالانکہ چند ہی آیتیں قبل (آیت) ” واذکرن مایتلی فی بیوتکن “۔ میں بیوت کی اضافت ازواج نبی ﷺ کی جانب کی گئی تھی، دونوں اضافتیں اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں۔ وہ گھر رسول اللہ کے بھی تھے۔ اس معنی میں کہ آپ ہی ان گھروں کے مالک تھے۔ اور وہ گھر بیوی صاحبوں کے بھی تھے، اس معنی میں کہ مسکن انہیں کے تھے۔ اضافۃ البیوت الی النبی اضافۃ ملک واضافۃ البیوت الی الازواج اضافۃ محل (ابن العربی) بدلیل انہ جعل فیھا الاذن للنبی ﷺ والاذن انما یکون للمالک (قرطبی) اس سے قطع نظر ایک فرق کھلا ہوا ہے۔ وہاں مقصود تو ازواج کرام کو ان کے مسکنوں کے شرف واحترام کی یاددہانی تھی،۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ کے گھر کو ان بیویوں ہی کا گھر کہنا مناسب وموزوں تھا۔ اس کے برعکس یہاں لوگ جس گھر میں جمع ہورہے تھے وہ رسول ہی کے گھر کی حیثیت سے جمع ہورہے تھے اس لیے یہاں رسول ہی کا گھر کہنا مناسب تھا۔ (آیت) ’ ’ نظرین انہ “۔ انی۔ کے معنی وقت کے ہیں۔ اور ناظر وہ ہے جس کا دل کھانے کی طرف اٹکا رہے۔ معناہ غیر منتظرین وقتہ والناظر ھو المنتظر والانی ھوالوقت (ابن العربی)
123۔ (اس لیے صاف صاف نہیں کہتے) آیت سے رسول اللہ ﷺ کا کمال ذی مروت ہونا ظاہر ہے، امتی ظاہر ہے سب آپ ﷺ سے چھوٹے اور کتنا چھوٹے تھے۔ ان تک کا آپ ﷺ اتنا لحاظ فرماتے رہتے تھے۔
124۔ (اس لئے تم سے صاف صاف کہا جارہا ہے) اس سے یہ شبہ نہ گزرے کہ رسول اللہ ﷺ کو کبھی اعلان حق سے مروت مانع ہوجاتی تھی۔” اصل یہ ہے کہ جس حق کا اظہار واجب ہے۔ وہ حق للہ ہے، اور جس سے آپ کا استحیاء واقع ہوا وہ حق للنفس تھا کہ اپنے اوپر کلفت اٹھائی، اس سے حکم شرعی کا اخفاء لازم نہیں آتا کہ منشاوسوسہ ہو۔ “ (تھانوی (رح )
125۔ یعنی اتنا پردہ تو ضرورت کے وقت بھی رہنا چاہئے اور بلاضرورت تو اس کا اہتمام اور اشد ہے۔ المراۃ کلھا عورۃ بدنھا وصو تھا کما تقدم فلایجوز کشف ذلک الا لحاجۃ کا لشھادۃ علیھا او داء یکون ببدنھا اوسوالھا عما یعرض وتعین عندھا (قرطبی) یہ حکم بھی ازواج مطہرات کے ساتھ مخصوص نہیں۔ حجاب ہر نامحرم سے لازم ہے۔ ویدخل فی ذلک جمیع النساء بالمعنی (قرطبی)
126۔ (جیسا کہ اب تک بھی جانبین کے دل پاک رہے ہیں) لفظ اطھر سے یہ نکتہ بھی نکالا گیا ہے کہ نفس طہارت تو تقوی ہی سے پیدا ہوجاتی ہے لیکن طہارت مزید یعنی خطرات قلب بھی دور ہوجائیں اس کا زریعہ نامحرموں سے حجاب ہے۔
127۔ کوئی مسلمان دانستہ وارادۃ تو ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک کو ایذاء پہنچانے کا خیال بھی نہیں لاسکتا۔ حکم سے مراد یہ ہے کہ اس کا اہتمام خاص رکھو، یہ نہ ہو کہ اپنی بےخیالی، بےتوجہی، کم غوری کی بناء پر اپنے کسی قول وفعل سے رسول اللہ ﷺ کے حق میں ناگواری وگرانی کے باعث بن جاؤ۔
128۔ (کہ یہ بھی ایک فرد اسی نادانستہ ایذاء رسول کی ہے اور اس ممانعت میں رسول کے کمال شرف واحترام کا اظہار ہے)
129۔ (کہ تم اپنی ماؤں، امت کی ماؤں سے متعلق ایسا خیال بھی دل میں لاؤ)
Ayah 33:54130۔ (اور ہر شخص سے اپنے اسی علم محیط وکامل کے مطابق معاملہ کرے گا) یہاں چیزوں کے ابداء واخفاء دونوں کا تعلق ایذاء رسول اللہ ﷺ سے ہے۔ یعنی کوئی بھی ایسی چیز کروگے جس سے رسول اللہ کو اذیت ہو تو خواہ اسے کھلم کھلا کرو، خواہ پوشیدہ رکھو، حق تعالیٰ کو بہرحال اس کی اطلاع رہے گی۔
Ayah 33:55131۔ (اس لئے ان تمام احکام کی نگہداشت لازمی ہے) اوپر ازواج رسول اللہ ﷺ کے حجاب کا حکم مذکور ہوچکا۔ اب بیان یہ ہوا کہ فلاں فلاں کے سامنے، باحجاب آجانا درست ہے۔ لیکن حصران میں مقصود نہیں۔ محرموں کا ذکر سورة النور (پ 18) میں بھی آچکا ہے۔
Ayah 33:56132۔ اللہ کا رحمت بھیجنا تو ظاہر ہی ہے۔ بندوں یعنی فرشتوں اور انسانوں کی صلوۃ بھیجنے کے معنی یہ ہیں کہ انہیں حکم مل رہا ہے کہ رسول پر اس رحمت خاص کی دعا کرتے، اور اسے ان کے حق میں طلب کرتے رہیں۔ اسی کو ہماری زبان میں درود بھیجنا کہتے ہیں۔ الصلوۃ من اللہھی الرحمۃ ومن العباد الدعاء (جصاص) الصلوۃ من اللہ رحمۃ ورضوانہ ومن الملئکۃ الدعاء والاستغفار ومن الامۃ الدعاء والتعظیم لامرہ (قرطبی) (آیت) ” یصلون “۔ صلوۃ سے یہاں مراد رحمت عام نہیں، رحمت خاص ہے، نبی کے شایان شان۔ (آیت) ” یا ...... تسلیما “۔ مومنین کو ذات رسالت کے ساتھ اس طریقہ پر جو ربط پیدا ہوسکتا ہے وہ بالکل ظاہر ہے۔ اور خود رسول اللہ ﷺ کے مراتب عالیہ میں بھی ان دعاؤں سے ترقی واضافہ ممکن ہے ” آپ ﷺ پر سلام بھیجنے کے معنی مجموعہ دوامر کا ہے، ایک دعاء ہے سلامت عن الآفات کی۔ دوسرے ثناء ہے جو اس دعاء کے لئے لازم ہے۔ کیونکہ عرفا یہ صیغہ مخصوص مستحق ثناء ہی کے لئے ہے۔ بس حالت حیات میں تو دونوں کا تحقق ہوسکتا ہے، اور بعد وفات مجرد معنی ثانی رہ جاتے ہیں۔ “ (تھانوی (رح) ” چونکہ اس مقام کے مطالعہ کے وقت احتمال ہے کہ شاید ناظرین کو قصدا صلوۃ وسلام سے ذہول ہوجائے اس لئے ایک مختصر صیغہ عبارت میں لکھ دینا بھی مناسب ہے کہ لکھا ہوا کہ ضرور ہی پڑھیں گے۔ اللھم صل علی سیدنا ومولانا محمد وعلی ال سیدنا ومولانا محمد وبارک وسلم “۔ (تھانوی (رح) درود کے واجب ہونے پر تو ہر مذہب کے فقہاء کا اتفاق ہے۔ لیکن فقہاء حنفیہ اور بعض دوسرے ائمہ کی رائے ہے کہ عمر میں ایک بار بھی اگر پڑھ دیا تو فرض ادا ہوگیا۔ قد تضمن الامر بالصلوۃ علی النبی ﷺ وظاہرہ یقتضی الوجوب وھو فرض عندنا فمتی فعلھا الانسان مرۃ واحدۃ فی صلاح او غیر صلاۃ فقد ادی فرضہ وھو مثل کلمۃ التوحید والتصدیق بالنبی ﷺ متی فعلہ الانسان مرۃ واحدۃ فی عمرہ فقد ادی فرضہ (جصاص) لاخلاف للعلماء فی ان ھذا الامر للوجوب وانما الخلاف فی اوقاتہ واعدادہ فعند مالک والطحاوی یجب فی العمر مرۃ والباقی مندوب (احمدی) ولاخلاف فی ان الصلاۃ علیہ فرض فی العمر مرۃ (قرطبی) (آیت) ” علی النبی “۔ محققین نے کہا ہے کہ بجائے اسم ذات محمد لانے کے، جیسا کہ قرآن کا عام دستور حضرات انبیاء کے معاملہ میں ہے۔ اسم صفت النبی لانا آپ ﷺ کے مزیداعزاز واکرام کے لئے ہے۔ وعبربالنبی دون اسمہ ﷺ علی خلاف الغالب فی حکایتہ تعالیٰ عن انبیاۂ (علیہم السلام) اشعارا بما اختص بہ ﷺ من مزید الفخامۃ والکرامۃ وعلو القدر (روح)
Ayah 33:57133۔ (قصدا) ظاہر ہے کہ قصد کے ساتھ رسول کو ایذاء پہنچانا صرف کافروں اور منافقوں کا کام ہوسکتا ہے۔ چناچہ آگے وعیدیں انہیں کے حق میں ہیں۔ جو مسلمان اپنی سادہ لوحی اور بےخیالی سے بلاارادہ ایذاء رسول کا سبب بن جاتے تھے ان کا ذکر اوپر گذر چکا۔ (آیت) ” اللہ ورسولہ “۔ ایذاء رسول کے ساتھ ایذاء الہی کو ضم کردینا ایذاء رسول کی اہمیت واشدیت کے اظہار کے لئے ہے۔ اللہ کو ایذاء پہنچانا یہی ہے کہ اس کی مرضیات کے خلاف عمل کئے جائیں ..... یا یوں کہا جائے کہ مقصود کلام ایذاء رسول ہے اور اللہ کے نام کے ساتھ عطف رسول کے اعزاز واکرام کیلئے ہے۔ ؛ اے یوذون رسول اللہ ﷺ وذکر اسم اللہ للتشریف (مدارک) اوعبر بایذاء اللہ ورسولہ عن فعل مالایرضی بہ اللہ ورسولہ کالکفر (مدارک)
Ayah 33:58134۔ مسلمانوں کو اخلاق واعلی معاشرت کی تعلیم مل رہی ہے۔ (آیت) ” بغیر مااکتسبوا “۔ یعنی بغیر اس کے کہ انہوں نے کوئی ایسی بات کی ہو جس سے سزا وملامت کے واقعی مستحق ہوجائیں، اس قید کے لگ جانے سے تادیب وسیاست حسب قواعد شرعی کا جواز نکل آیا۔
Ayah 33:59135۔ یعنی جب ضرورۃ باہر نکلنا ہو، تو اپنی چادریں اپنے اوپر سروں سے ذرالٹکا لیاکریں، تاکہ چہرہ کے اطراف تو خوب ڈھک جائیں اور خود چہرہ کی ٹکیا بھی ایک حد تک۔ ہمارے ملک میں اسی کو گھونگھٹ نکالنا کہتے ہیں۔ تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ محل فتنہ پورا چہرہ مع اطراف و جوانب کے ہے نہ یہ کہ ملحقات چہرہ کو چھپا کر صرف چہرے کی ٹکیا کھلی رہنے دی جائے، کوئی عضو بجائے خود کیسا ہی حسین ہو، دوسروں کو متاثر جب ہی کرسکتا ہے جب وہ اپنے حسن تناسب کو ظاہر کررہا ہو اور اس حسن تناسب کا اظہار جبھی ممکن ہے جب اس عضو کے ملحقات بھی کھلے ہوں۔ (آیت) ” من جلابیبھن “۔ جلابیب جمع ہے جلباب کی اور جلباب بڑی چادر کو کہتے ہیں، جو سارے جسم کے ڈھانپنے کے کام آجائے۔ وھو ثوب اکبر من الخمار والصحیح انہ یستر جمیع البدن (قرطبی) اس قسم کے سارے احکام کا ماحصل عورت کے حجاب کامل کی تاکید ہے، بخلاف جاہلی تہذیبوں کے جہاں عورت کی نیم برہنگی ہی فیشن میں داخل رہی ہے اور آج بھی ہے۔ مفسرین نے آیت کے ذیل میں ایک حدیث نقل کی ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں قبیلہ بنوتمیم کی کچھ بیبیاں حاضر ہوئیں جو لباب بہت باریک پہنے ہوئے تھیں۔ حضرت صدیقہ ؓ نے انہیں ڈانٹا، کہ کیسی مسلمان ہو، جو یہ نامسلموں کا لباس پہنے ہوئے ہو۔ ودخل نسوۃ من بنی تمیم علی عائشۃ ؓ ثیاب رقاق فقالت عائشۃ ان کنتن مومن ات فلیس ھذا بلباس ال مومن ات (قرطبی)
136۔ یعنی اس شریفانہ لباس سے ہر شخص کو اول نظر میں معلوم ہوجائے گا کہ یہ شریف عزت دار بیبیاں ہیں، بےحیا نہیں ہیں اور اس لئے ان سے چھیڑ چھاڑ کی جرأت راہ چلتے ہوئے بدمعاشوں کو نہ ہوگی، عورت کی عصمت کے تحفظ میں بڑا دخل اس کی وضع و لباس کے وقار کو ہے جو عورت اپنی وضع وقطع وپوشش سے آوارہ معلوم ہوتی ہے اسے دیکھ کر محض لفنگوں اور بدمعاشوں ہی کے نہیں، بلکہ دوسروں کی طبیعتوں میں بھی گدگدی پیدا ہوتی ہے، بخلاف اس کے جس عورت کی وضع وقطع، چال ڈھال سنجیدہ، حیادار انہ وشریفانہ ہے اور وہ اپنارکھ رکھاؤ قائم کئے ہوئے اسے چھیڑنے کی ہمت بدمعاشوں کو بھی مشکل ہی سے ہوتی ہے۔ فقہاء نے آیت سے نکالا ہے کہ جو ان عورت پر نامحرموں سے اپنے چہرہ کا پردہ واجب ہے، اور یہ بھی واجب ہے کہ جب باہر نکلے تو پردہ کا اہتمام کر کے۔ وفی ھذہ الایۃ دلالۃ علی ان المراۃ الشابۃ مامورۃ بستر وجھھا عن الاجنبیین واظھار الستر والعفاف عند الخروج لئلا یطمع اھل الریب فیھا (جصاص)
137۔ (جوخواہ مخواہ اور بہت سختی سے گرفتیں نہیں کرتا رہتا) چناچہ اس سر اور چہرہ کے ڈہانپنے کے حکم میں اگر بلاقصد کچھ کمی یا بےاحتیاطی رہ جائے گی تو اسے معاف کردے گا۔
Ayah 33:60138۔ (روگ آوارگی کا یا تاک جھانک کا) (آیت) ” والذین فی قلوبھم مرض “۔ مرض سے مراد ایمان کی کمزوری ہے۔ وھو ضعف الیقین (جصاص) وھم قوم کان فیھم ضعف ایمان وقلۃ ثبات علیہ (روح) یہ وہ لوگ تھے جو مسلم کنیزوں سے راستہ اور گلی میں چھیڑ چھاڑ کیا کرتے تھے۔ اور کبھی کبھی ان کے شبہ میں، مسلم معزز وشریف عورتوں سے بھی۔
139۔ چھوٹی چھوٹی اور پریشان کرنے والی۔ مثلا یہ کہ فلاں غنیم چڑھائی کرنے کو ہے ..... آج کل کی اصطلاح میں، مسلم اسٹیٹ کو جنگ اعصابی میں مبتلا کرنے والے ...... یہ لوگ اپنے اس پر اپیگنڈا سے مسلمانوں پر اہل کفر کی دہشت اور رعب خواہ مخواہ طاری کرتے رہتے تھے۔ واخرون ممن لابصیرۃ لہ فی الدین یرجفون باجتماع الکفار والمشرکین وتعاضدھم ومسیرھم الی ال مومنین فیعظمون شان الکفار بذالک عندھم ویخوفونھم (جصاص)
140۔ (کہ آپ ایسے نالائقوں سے اپنے شہر کو پاک کرکے رہیں) آیت کے اس ٹکڑے سے صاف ظاہر ہے کہ مسلم کنیزوں اور باندیوں سے بھی چھیڑ چھاڑ ایسی چیز نہ تھی، جسے گوارا کرلیا گیا تھا، یا جس کا انتظام نظر انداز ہوگیا تھا۔ (آیت) ” لئن ..... بھم “۔ فقہاء نے کہا ہے کہ مومنین کے درمیان وحشت ناک اف وہیں اور مومنین کو تکلیف پہنچانے والی خبریں پھیلانا اس کا مستوجب ہے کہ اس کا مرتکب سزاپائے اور شہر بدر کیا جائے، جب تک کہ اس سے توبہ نہ کرے۔ وفی ھذہ الایۃ دلالۃ علی ان الارجاف بال مومنین والاشاعۃ بما یغمھم ویؤذیھم یستحق بہ التعزیز والنفی اذا اصر علیہ ولم ینتہ عنہ (جصاص)
Ayah 33:61141۔ نفاق کی حقیقت بھی کفر ہی ہے۔ اس پر صرف پردہ اسلام کا پڑا ہوتا ہے۔ اس لیے منافقوں کے ساتھ معاملہ اصلا وہی ہونا چاہیے تھا جو کافروں کے ساتھ ہوتا ہے۔ پناہ تو صرف اظہار اسلام کی بناء پر حاصل رہتی ہے۔ جب علانیہ مخالفتیں کرنے لگے تو یہ مانع بھی اٹھ گیا اور ان کے ساتھ معاملہ وہی ہوگا جو کفر کا مقتضائے اصلی ہے یعنی اخراج، قید قتل سب جائز۔ (تھانوی (رح) ملخصا) (آیت) ” الا قلیلا “۔ قدرے قلیل یعنی جب ان کے اخراج کا حکم ہوگا، تو اس کے لئے ایک مدت بھی معین ہوجائے گی۔ اتنی مدت کیلئے بسبب معاہدہ کے مامون رہیں گے۔ اس کے بعد جہاں ملیں گے، قید وقتل کی اجازت ہوگی (تھانوی (رح) ملخصا)
Ayah 33:62142۔ یعنی باغیوں، غداروں کے ساتھ یہی معاملت قدیم آسمانی شریعتوں میں بھی رہی ہے۔ آپ کو کوئی نیاحکم نہیں مل رہا ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔
Ayah 33:63143۔ (کہ کب آئے گی) وقت قیامت سے متعلق یہ سوال، براہ طنز واعتراض منکروں کی زبان سے ہورہا تھا۔
Ayah 33:64144۔ یعنی رحمت خاصہ سے دنیا وآخرت دونوں میں۔ اور اسی لعنت ہی کا اثر دنیا میں قید وقتل ہے اور آخرت میں عذاب جہنم۔
Ayahs 33:65–68145۔ تینوں آیتوں میں یہ بتایا ہے کہ جب دوزخ میں کافر ڈالے جائیں گے اور گھسیٹے جائیں گے جس سے ان کے چہرے الٹ پلٹ ہونے لگیں گے، تو کمال حسرت کا اظہار اپنے اسلام نہ لانے پر کریں گے اور کمال غضب کا اپنے گمراہ کرنے والے اکابر پر (آیت) ” یلیتنا ..... الرسولا “۔ آخرت میں کام آنے والی شے صرف اطاعت خدا و اطاعت رسول نکلے گی، باقی ہیچ۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ بڑوں کی مطلقا تقلید ہرگز کوئی عذر نہیں، اور آج کل کے بدعات اختیار کرنے والے اپنے مشائخ کے رسوم سے اکثر تمسک کیا کرتے ہیں۔
Ayah 33:69146۔ (طرح طرح کی تہمتیں لگاکر) بنی اسرائیل کا معاملہ اپنے سردارو پیغمبر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ عجیب و غریب تھا۔ یہ لوگ طرح طرح انہیں چھیڑتے ہر ہر طرح ان کی نافرمانی کرتے، عجیب عجیب طرح انہیں غضب میں لاتے۔ یہاں ممکن ہے کہ اشارہ کسی خاص واقعہ کی جانب ہو، یا اسی عام مفسدانہ روش سے متعلق۔ آیت میں اشارہ نکلتا ہے ایذاء رسول اللہ ﷺ کی حرمت کا، خواہ وہ ایذاء براہ راست ذات رسول سے متعلق ہو یا بواسطہ اصحاب وازواج وغیرہ۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس میں عام مسلمانوں کو بھی ممانعت ہے، جو اولیاء متقین کو ایسے امور کی تہمت سے تکلیف پہنچاتے رہتے ہیں جن کی ان کو خبر بھی نہیں۔
147۔ (ہر ہر الزام اور تہمت سے جو آپ (علیہ السلام) پر لگاتے رہتے تھے) چناچہ نقصان آپ (علیہ السلام) کو تو کچھ نہ پہنچا۔ مستحق عذاب وہی تہمت لگانے والے ٹھہرے۔
148۔ اللہ نے ان کی برأت ظاہر فرمادی۔ اور آج تک ان کا نام دنیا میں روشن چلا آرہا ہے) (آیت) ” وجیھا “۔ وجیہ کے معنی عربی میں بڑے معزز، صاحب منزلت کے آتے ہیں۔ الوجیہ عندالعرب العظیم القدر الرفیع المنزلۃ (قرطبی) آپ (علیہ السلام) کی وجاہت آخرت میں تو انشاء اللہ دوست و دشمن سب ہی کو نظر آجائے گی۔ باقی آج یہ حال ہے کہ ساری دنیا آپ کو ایک مفنن اعظم (A.greAt, Low, giver) سمجھ رہی ہے اور دنیا کے تینوں کتابی مذاہب، یہودیت، اسلام، مسیحیت آپ (علیہ السلام) کے پیغمبر برحق ہونے پر متفق ہیں۔
Ayah 33:70149۔ یعنی زندگی کے ہر شعبہ میں خوف خدا کو بطور حال اپنے اوپر طاری کرلو۔ خطاب ایمان والوں سے ہے۔ ایمان کی دولت تو انہیں حاصل ہی ہے، اب ارشاد یہ ہورہا ہے کہ مرتبہ تقوی بھی حاصل کرو،
150۔ یعنی افراط وتفریط سے الگ اور عدل و اعتدال کے مطابق بات جچی تلی اور پکی منہ سے نکالو، ” قول سدید “۔ تو خود بھی تقوی ہی کی ایک فرد ہے، خصوصیت کے ساتھ اس کے الگ بیان کرنے سے مقصود زبان کی اہمیت کو ظاہر کرنا ہے، جہاں تک اعضاء وجوارح کا تعلق ہے جو اہمیت ومرکزیت وہمہ جہتی زبان کو حاصل ہے۔ کسی اور عضو کو نصیب نہیں اور یہ اگر قابو میں آگئی تو انسان گناہوں کی کتنی بڑی تعداد سے بچ سکتا ہے۔
Ayah 33:71151۔ بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ یہ آیت وعدۂ الہی ہے کہ تقوی وقول صادق پر اصلاح اعمال اور مغفرت ذنوب مرتب ہوگی، اور وعدہ الہی میں تخلف محال ہے۔ وعد عزوجل بانہ یجازی علی القول السدید باصلاح الاعمال وغفران الذنوب وحسبک بذل درجۃ ورفعۃ منزلۃ (قرطبی) انسان کی عادت اگر بات صحیح اور سچی، جچی تلی اور پکی کہنے کی پڑجائے تو اس کی برکت سے سارے ہی اعمال زندگی درست ہوجائیں گے، اور باقی جو رہ گئے، ان کی مغفرت بآسانی ہوجائے گی۔
152۔ دنیا وآخرت دونوں زندگیوں کے کامیاب دستور العمل ہی کا نام شریعت اسلامی ہے۔ اسے چھوڑ کر اور کسی طریق پر کامیابی کی راہ ڈھونڈنا سعی بےحاصل میں پڑنا ہے۔
Ayah 33:72153۔ (ان میں بقدر ضرورت شعور پیدا کرکے) (آیت) ’ الامانۃ “۔ کے معنی میں اختلاف بہت کچھ منقول ہے۔ لیکن بیشتر اختلاف ایسے ہیں کہ ان کے درمیان تطبیق آسانی ممکن ہے۔ مثلا راغب ہی نے اپنی لغت میں دو مختلف معنی لکھے ہیں، ایک توحید کے، دوسرے عقل کے اور ترجیح دوسرے معنی کو دی ہے۔ قیلھی کلمۃ التوحید، قیل العقل وھو صحیح ..... وبہ فضل علی کثیر ممن خلقہ۔ لیکن جس سیاق میں لفظ (آیت) ” امانۃ “۔ آیا ہے اس کے لحاظ سے توحید کی معرفت وشناخت کا آلہ و معیار، عقل وقوت امتیاز ہی کی بناء پر تو احکام الہی انسان پر فرض ہوتے ہیں۔ اسی امانت کا بار اٹھالینا ہی رحمت کا موجب ہے، اور اس کا ضائع کرنا ہی تعذیب کا سبب ہے۔ احکام کی تشبیہ امانت سے دینے سے غالبا مقصود ان کی ادائی کا وجوب ہے۔ اور امانۃ سے مراد طاعت ہی کا ہونا اکثر اہل تحقیق سے منقول ہے۔ یا پھر اصول وارکان دین۔ یعنی بالامانۃ الطاعۃ (ابن کثیر عن ابن عباس ؓ قال مجاھد الامانۃ الفرائض وحدود الدین (معالم) وقال ابوالعالیۃ ہ ماامروابہ ونھوا عنہ (معالم) والامانۃ تعم جمیع وظائف الدین علی الصحیح من الاقوال (قرطبی) مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی (رح) کی تحقیق میں امانت سے مراد تجلی ذاتی کی استعداد و قابلیت ہے۔ جنات عبادت سے صالح بن جاتے ہیں۔ اور ملائکہ عصمت سے مقرب ہیں، مگر انوار صفات سے صعود کرکے تجلی ذات سے یہ دونوں اصناف بھی مشرف نہیں ہوسکتے۔ اس لئے کہ تحمل نور ممکن نہیں بغیر ترکیب عنصر خاک کے۔ قیام انوار اجسام شفاف پر نہیں ہوسکتا۔ اسکے محل ومحتمل اجسام کثیف ہی ہوسکتے ہیں۔ یہی نکتہ ہے کہ خلافت دنیوی کے قابل عنصر خاک ہی قرار پایا۔
154۔ یعنی اس کے نہ اٹھ سکنے سے اور اپنے انجام سے ڈرے، مطلب یہ ہوا کہ انسان کے سوا باقی اور قوی سے قوی مخلوق نے اس کی ذمہ داریوں کے ڈر سے قوت، ارادہ واختیار کے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ (آیت) ” اشفقن “۔ کی صراحت سے یہ حقیقت صاف ہوگئی کہ یہ اباء و انکار کسی تمردو شرارت سے نہ تھا، بلکہ تمامتر خشیت پر مبنی تھا۔ حسن بصری (رح) سے روایت ہے کہ ساتوں آسمانوں اور عرش سے خطاب ہوا کہ تم یہ امانت اور جو کچھ اس میں سے اٹھاؤگے ؟ عرض کیا کہ اس میں کیا ہے ؟ ارشاد ہوا کہ نیکی پر اجروثواب اور بدی پر مواخذہ و عذاب۔ اس پر ان سب نے عذر کردیا۔ پھر اسی طرح زمین سے پھر پہاڑوں سے خطاب و جواب ہوا (ابن کثیر) اور ابن جریج کا یہ قول نقل ہوا ہے کہ یہ معاملہ تین دن تک پیش رہا، اور سب نے بکمال خشیت عذر کیا کہ اے پروردگار ! ہم تو محض تابع اور حکمبردار ہیں، ہم عذاب وثواب نہیں چاہتے۔ (ابن کثیر)
155۔ (بغیر عواقب کا پورا لحاظ کئے ہوئے) (آیت) ” الانسان “۔ سے مراد جنس انسانی ہے، جیسا کہ بعض دوسری آیتوں میں بھی انسان اسی معنی میں آیا ہے۔ مثلا (آیت) ” ان الانسان لربہ لکنود “۔ یا ” ان الانسان لیطغی “۔ اے ھذا الجنس (روح)
156۔ (آیت) ” ظلوما “۔ یعنی اپنی عملی زندگی میں بڑا حق ناشناس (آیت) ” جھولا “۔ یعنی اپنی اعتقادی زندگی میں بڑا کوتاہ اندیش۔
Ayah 33:73157۔ (رحمت ومغفرت کے ساتھ) یعنی انسان کے اس انتخاب کا، اور بارامانت قبول کرلینے کا انجام یہ ہوا کہ ایک طبقہ اہل شرک ونفاق کا قرار پا گیا۔ اور ایک دوسرے طبقہ اہل ایمان کا، ایک اہل جہنم کا ایک اہل جنت کا۔ (آیت) ” لیعذب “۔ میں ل عاقبت کا ہے۔ (آیت) ” لیعذب “۔ الخ کا ربط نحوی (آیت) ” حملھا الانسان “ سے ہے۔ (آیت) ” انہ کان ظلوما جھولا “۔ درمیان میں بطور جملہ معترضہ آگیا ہے۔ واللام متعلقۃ بحمل اے حملھا لیعذب العاصی ویثیب المطیع فھی لام التعلیل لان العذاب نتیجۃ حمل الامانۃ (قرطبی)
158۔ (چنانچہ جو احکام کی خلاف ورزی کرکے پھر باز آجاتے ہیں، ان کے ساتھ بھی وہ معاملہ مغفرت و رحمت کا کرنے لگتا ہے)