30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 30:41

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 30:41 in the Quran reader

بلائیں پھیل پڑی ہیں خشکی وتری میں لوگوں کے کرتوت سے،50۔ اس غرض سے کہ اللہ ان کے بعض اعمال کا مزہ ان کو چکھائے، تاکہ وہ لوگ باز آجائیں،51۔

50۔ (آیت) ” فی البروالبحر “۔ یعنی جمیع کائنات میں۔ بشری آبادی کے چونکہ بڑے اور نمایاں مظہر یہی دو ہیں۔ لہذا نام انہیں کے لیے گئے (آیت) ” الفساد “۔ فساد کا لفظ جامع ہے۔ انفرادی واجتماعی زندگی کی ہر قسم کی جسمانی، مادی، اخلاقی، معاشری ابتری اور بدنظمی اس کے تحت میں آجاتی ہے۔ خروج الشیء عن الاعتدال قلیلا کان الخروج عنہ او کثیرا (راغب) انسان کے اپنے کرتوتوں، شرک، کفر، معصیت غرض غیر اسلامی زندگی اور جاہلی نظام کے اتباع سے ہر طرح کے اخلاقی ومعاشری مفسدوں کا اٹھ کھڑا ہونا بالکل ظاہر ہے۔ البتہ آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مادی حوادث تکوینی (قحط، وبا، طوفان وغیرہ) بھی بہت دفعہ اسی جاہلی زندگی کے نتیجے ہوتے ہی۔ نظام عالم قائم ہی ہے معاشری مفسدوں کا اٹھ کھڑا ہونا بالکل ظاہر ہے۔ البتہ آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مادی حوادث تکوینی (قحط، وبا، طوفان وغیرہ) بھی بہت دفعہ اسی جاہلی زندگی کے نتیجے ہوتے ہیں۔ نظام عالم قائم ہی ہے طاعت الہی سے یا طریق اسلام سے۔ اور اس راہ راست سے کجروی کا نتیجہ ہی یہ ہے کہ اخلاقی عمارت کے ستون گرجائیں۔ اور یہ جو روایات حدیث میں آتا ہے کہ آخر زمانہ میں عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کے عہد حکومت میں زمین، عدل وامن سے بھرجائے گی، اس کا راز بھی یہی ہے کہ اس وقت سکہ شریعت اسلامی کا چل رہا ہوگا۔ (آیت) ” الفساد۔ البر۔ البحر “۔ تینوں میں کلمہ ال جنس فساد، جنس بر، جنس بحر کے لیے ہے۔ کوئی متعین بروبحر اور کوئی متعین صورت فساد کی مقصود نہیں، اے ظہر جنس الفساد فی جنس البر وجنس البحر (روح) یہاں بیان عام ہے۔ کسی ملک، کسی زمانہ کے ساتھ مقید نہیں، تاہم اس عموم کو اس زمانہ کے ساتھ ایک خصوص بھی حاصل ہے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تھی، اور قرآن کی روشنی اول بار طلوع ہورہی تھی، عرب کا ملک تو تمامتر دین ودیانت سے معرا تھا ہی، پاس اور دور کے سارے ملک، مصر، ہندوستان وغیرہ شرک کی گندگی اور بداخلاقی کی تاریکی میں یکساں مبتلا تھے۔ دنیا میں بڑی تہذیبیں اس وقت دو تھیں۔ ایک رومی مسیحی، دوسری ایرانی مجوسی، یہ دونوں تمدن خود انحطاط اخلاقی کی آخری پستیوں تک پہنچ چکے تھے۔ یہاں تک کہ قرآن نے آکر یہ اعلان کیا کہ ہر مرض کا مداوا تو میرے ہی شفاخانہ میں ہے۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔ اللہ ٹھنڈی رکھے ہمارے اسلاف کی تربت کو۔ ہمارے ہاں کے قدیم ترین مفسرین بھی اسی نتیجہ تک پہنچ گئے تھے۔ جو آج جدید ترین مؤرخ بیان کررہے ہیں۔ ترجمان القرآن میں حبر الامۃ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے حوالہ سے یہ روایت آج تک منقول چلی آتی ہے۔ رویت عن ابن عباس ؓ وکان ظھر الفساد برا وبحرا وقت بعثۃ رسول اللہ ﷺ وکان الظلم عم الارض فاظھر اللہ بہ الدین وازال الفساد واحمدہ ﷺ (بحر) 51۔ (اپنے ناکردنی اعمال سے، اور آئندہ کے لیے اصلاح کرلیں) (آیت) ” لعلھم یرجعون “۔ یہاں حوادث تکوینی کا راز بتادیا۔ یہ بلائیں اسی لیے آتی ہیں کہ انسان ان سے اپنی طرف توجہ کرنا سیکھے۔ مقصود ان بلاؤں سے بھی اصلاح خلق ہی ہوتی ہے۔ صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ شر مقصود بالذات نہیں ہوتا۔ مقصود ومطلوب تو صحت ہوتی ہے نشتر محض اس کا ذریعہ ہوتا ہے (آیت) ” بعض الذی عملوا “۔ میں اشارہ اس طرف ہے کہ یہ مواخذہ شاید ہر گناہ پر نہیں ہوتا۔ کچھ مخصوص ہی معاصی اس کے لیے انتخاب کرلیے جاتے ہیں۔ (آیت) ” لیذیقھم “۔ میں ل لام علت بھی مانا گیا ہے اور لام عاقبت بھی۔ واللام للعلۃ والعاقبۃ (بیضاوی)
Ayah 30:42

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّشْرِكِیْنَ Open ayah 30:42 in the Quran reader

آپ کہیے کہ زمین میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ جو لوگ پہلے گذرے ہیں ان کا انجام کیسا ہوا ہے اس میں سے اکثر مشرک ہی تھے،52۔

52۔ (سو وہ قومیں کیسی کیسی بلاؤں میں مبتلا ہو کر ہلاک ہوئیں)
Ayah 30:43

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ یَوْمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ Open ayah 30:43 in the Quran reader

سو تو اپنا رخ دین مستقیم کی طرف کرلے،53۔ قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس کیلئے پھر اللہ کی طرف سے ہٹنا نہ ہوگا اس روز (سب لوگ) جدا جدا ہوجائیں گے،54۔

53۔ (اے مخاطب) دین مستقیم کی طرف یعنی توحید اسلامی کی طرف۔ 54۔ (باعتبار جزاء کے) یعنی اہل جہنم کا گروہ الگ ہوجائے گا اور اہل جنت کا الگ۔ فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر (بحر) (آیت) ” یوم لامردلہ “۔ یعنی آج جس طرح عذاب ٹلتا رہتا ہے۔ اس یوم موعود کے وعدہ پر۔ جب یوم موعود آجائے گا۔ تو اب کوئی صورت اس عذاب کے ٹلنے کی باقی نہ رہے گی۔
Ayah 30:44

مَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ یَمْهَدُوْنَۙ Open ayah 30:44 in the Quran reader

جو کافر رہا ہے اس پر اسی کا کفر پڑے گا اور جو نیک عمل کررہا ہے، سو ایسے لوگ اپنے لئے (نفع و راحت کا) سامان کررہے ہیں،55۔

55۔ (آیت) ” فعلیہ کفرہ ....... فلانفسھم یمھدون “۔ اجزاء کلام کی یہ تقدیم وتاخیر زور وتاکید مفہوم کے لیے ہے (آیت) ” یمھدون “۔ مھد کے لفظی معنی بچھانے کے ہیں۔ تو گویا یہاں ارشاد یہ ہورہا ہے کہ جو اہل ایمان دنیا میں حسن عمل میں مصروف رہتے ہیں، وہ اپنے ہاتھ سے اپنے لئے راحت دائمی کا فرش بچھا رہے ہیں۔ اے فلانفسھم یستعدون ویسخرون المضجع لیسلموا من عقاب ربھم ونجوا من عذابہ (ابن جریر) (آیت) ” علیہ کفرہ “۔ کے صیغہ واحد سے اور لانفسھم یمھدون کے صیغہ جمع سے، امام المفسرین امام رازی (رح) نے یہ پہلو پیدا کیا ہے کہ حق تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب سے کہیں وسیع تر ہے۔ بدی کا بدلہ بدکار کی ذات تک محدود رہے گا۔ نیکی کی جزاء نیک کار کے عزیزوں قریبوں کو بھی اپنے اندر لے لے گی، اشارۃ الی ان الرحمۃ اعم من الغضب تشملہ واھلہ وذریتہ اما الغضب فمسبوق بالرحمۃ لازم لمن اسآء (کبیر) امام موصوف نے یہ بھی لکھا ہے کہ (آیت) ” من کفر “۔ کے مقابلہ میں قرآن مجید نے من امن نہیں کہا۔ بلکہ تقابل میں (آیت) ” ومن عمل صالحا “ کہا، تاکہ مومن کو ساتھ ہی عمل کی بھی ترغیب ہوجائے اور ایمان کی تکمیل عمل صالح ہی سے ہوتی ہے۔ ولم یقل من امن وذلک لان العمل الصالح بہ یکمل الایمان فذکرہ تحریضا للمکلف علیہ (کبیر)
Ayah 30:45

لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 30:45 in the Quran reader

جس کا حاصل یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے (اللہ) انہیں اپنے فضل سے (نیک) جزا دے گا، واقعی اللہ کافروں کو پسند نہیں کرتا،56۔

56۔ (بلکہ سخت مبغوض رکھتا ہے) لان عدم المحبۃ کنایۃ عن البغض فی العرب (روح) فان عدم المحبۃ من اللہ غایۃ العذاب (کبیر) (آیت) ” من فضلہ “۔ پہلی آیت میں ذکر دو طبقوں کا تھا۔ ایک (آیت) ” من کفر “۔ کفر اختیار کرنے والوں کا دوسرے (آیت) من عمل صالحا “۔ راہ حسن عمل پر چلنے والوں کا۔ پہلے کے انجام (آیت) ” علیہ کفرہ “۔ میں صاف علت انجام کا ذکر کردیا۔ یعنی وبال کفر کفر ہی کی بنا پر پڑے گا۔ اور دوسرے کی جزاء میں ’ بجائے علت کے (آیت) ” من فضلہ “۔ بڑھا دینا اشارہ ہے کہ سزا توبلاعلت نہیں ہوتی۔ لیکن رحمت بلاعلت محض فضل سے ہوتی ہے “۔ وذکر من فضلہ للدلالۃ علی انالا ثابۃ تفضل محض (روح) (آیت) ” لیجزی “ میں ل عاقبت کا ہے۔ تعلیل کا ہے۔ تعلیل کا بھی مانا گیا ہے۔ متعلق بیمھدون تعلیل لہ (کشاف)
Ayah 30:46

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّ لِیُذِیْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 30:46 in the Quran reader

اور اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ ہواؤں کو بھیجتا ہے خوش خبری دیتی ہوئی،57۔ اور تاکہ وہ تمہیں اپنی رحمت کی لذت چکھائے،58۔ اور تاکہ کشتیاں اس کے حکم سے چلیں اور تاکہ تم اس کے فضل کی تلاش کرو،59۔ تاکہ تم شکر ادا کرو،60۔

57۔ (بارش کی) قرآن کے مخاطب اول، اہل عرب تھے۔ اور عرب جیسے ملک میں برساتی ہواؤں کی خوش گواری خود ایک مستقل نعمت ہے۔ اور عرب کو چھوڑ کر، ہندوستان اور پاکستان جیسے زراعتی ملکوں میں مون سون کسان کے لیے ایک بشارت عظیم نہیں ؟ (آیت) ” من ایتہ “۔ یعنی اس کی قدرت، شفقت و حکمت کی نشانیوں میں سے۔ 58۔ یعنی پہلے تو بارشی ہواؤں سے تمہارا دل خوش کرے۔ پھر اصل بارش کے فائدے تمہیں عنایت کرے۔ (آیت) ” رحمتہ “ سے مراد یا بارش ہے یا وہ منافع جو بارش پر مرتب ہوتی ہیں۔ یعنی المنافع التابعۃ لھا (بیضاوی) 59۔ (انہیں ہواؤں کے ذریعہ سے) یعنی ہواؤں کا ایک کام علاوہ بارش لانے کے، یہ بھی ہے کہ وہ بحری سفر کو ممکن بنادے۔ اور اس طرح قوموں کی قومیں بحری تجارت کے ذریعہ سے بن جائیں۔ عربوں نے قرآن مجید کے ان اشارات سے جس قدر فائدہ اٹھایا۔ اس کا مفصل ذکر مولانا سید سلیمان ندوی کی کتاب ” عربوں کی جہاز رانی “ میں ملے گا۔ اور آج تو دنیا کی متمول ترین قوموں کا راز یہی بحری تجارت ہے۔ (آیت) ” فضلہ “۔ فضل یہاں تجارت بحری کے معنی میں ہے۔ اور یہ سلف سے مسلم چلا آتا ہے۔ اور بعض نے عام تجارتی سفر مراد لیے ہیں۔ یعنی تجارۃ البحر (بیضاوی۔ مدارک) من رزقہ بالتجارۃ فی البحر (معالم) اے فی التجارات والمعایش والسیر من اقلیم الی اقلیم وقطر الی قطر (ابن کثیر) (آیت) ” بامرہ “۔ امر یہاں تدبیر وتکوین کے معنی میں ہے۔ اے تدبیرہ وتکوینہ (مدارک) 60۔ مقصود ان تمام نعمتوں سے یہی ہے کہ ان نعمتوں کا استعمال مصرف صحیح میں کیا جائے۔ اور یہی وہ مقام ہے جو قرآن جیسی کتاب الہدی کو تمام ” علوم “ و ” فنون “ کی کتابوں سے ممتاز کیے ہوئے ہے۔ قدم قدم پر سبق ساری مادی ترقیوں کے بعد انسان کو حدود عبدیت کے اندر رہنے کا۔
Ayah 30:47

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا١ؕ وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 30:47 in the Quran reader

اور ہم نے آپ سے پہلے (بہت سے) پیغمبر ان کی قوموں کے پاس بھیجے اور وہ ان کے پاس دلائل لے کر آئے پھر ہم نے ان لوگوں سے انتقام لے لیا جو جرم کرتے رہے تھے،61۔ اور اہل ایمان کا غلبہ تو ہمارے ذمہ تھا،62۔

61۔ اور وہ جرم یہ تھا کہ ان لوگوں نے ان دلائل حق کی تصدیق نہ کی، بلکہ الٹی ان کی تکذیب کرتے رہے) (آیت) ” فانتقمنا “۔ بعض نافہموں نے انتقام حق کو اللہ تعالیٰ کی شان کے منافی اور اس سے بست سمجھا ہے۔ یہ نتیجہ ہے تمامتر ” انتقام “ اور ” کینہ پروری “ کے درمیان خلط مبحث کردینے کا۔ انتقام جس کے معنی مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے ہیں، وہ تو قیام عدل کے لئے لازمی ہے۔ ورنہ پھر نظام عدل ہی کو سرے سے خیر باد کہ دیا جائے۔ 62۔ (چنانچہ عذاب الہی سے کفار مغلوب ومقہور ہوئے اور اہل ایمان محفوظ ومقصور رہے) یہاں مومنوں اور کافروں کی عام آویزش کا بیان نہیں اور نہ ہر حال میں مومنین کی نصرت کا کوئی عام وعدہ ہے۔ بیان صرف اس وقت کا ہے جب پیغمبروں کی تکذیب اور ان سے براہ راست مقابلہ کیا جائے۔ اس وقت آخری شکست منکروں اور باغیوں کی یقینی ہوتی ہے)
Ayah 30:48

اَللّٰهُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُهٗ فِی السَّمَآءِ كَیْفَ یَشَآءُ وَ یَجْعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَۚ Open ayah 30:48 in the Quran reader

اللہ ایسا ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے تو وہ بادلوں کو اٹھائے پھرتی ہیں، پھر اللہ اس کو جس طرح چاہتا ہے آسمان میں پھیلا دیتا ہے اور اس کو ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے،63۔ پھر تو مینہ کو دیکھتا ہے کہ اس کے اندر سے نکلتا ہے پھر اسے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے پہنچا دیتا ہے،64۔ تو بس وہ خوش ہونے لگتے ہیں

63۔ (آیت) ” یبسطہ “۔ سے مراد یہ ہے کہ بادل کو مجتمع کرکے دور تک پھیلا دیتا ہے۔ جس سے گھنگھور گھٹا چھا جاتی ہے۔ (آیت) ” یجعلہ کسفا “۔ کا مطلب یہ ہے کہ بادل کو گھنا نہیں ہونے دیتا متفرق پتلی پتلی بدلیاں رکھتا ہے۔ (آیت) ” کیف یشآء “۔ کا حاصل یہ ہے کہ بادل کو جس حالت میں چاہتا ہے رکھتا ہے۔ خواہ خوب گہری گھٹا بنا دے، خواہ ہلکی پھلکی بدلی رکھے۔ (آیت) ” فی السمآء “۔ سے مراد صرف ” سمت آسمان میں “ ہے۔ اے فی سم تھا (بیضاوی) لافی نفس السماء بالمعنی المتبادر (روح) 64۔ یعنی اپنے بندوں کے جس ملک، جس سرزمین میں چاہتا ہے۔ لے جاتا ہے۔ یعنی بلادھم واراضیھم (بیضاوی) (آیت) ” الودق “۔ ودق مرادف ہے مطر کے۔ الودق قیل مایکون من خلال المطر کانہ غباروقد یعبر بہ عن المطر (راغب)
Ayah 30:49

وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْهِمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمُبْلِسِیْنَ Open ayah 30:49 in the Quran reader

درآنحالیکہ وہ لوگ قبل اس کے کہ اس خوشی سے قبل ان پر برسے بالکل مایوس ہورہے تھے،65۔

65۔ یعنی ابھی تو مایوس ہورہے تھے اور بھی خوش ہوگئے۔ کاشتکار اور زراعت پیشہ کسی ملک وقوم کے بھی ہوں، جو لوگ ان کی نفسیات سے واقف ہیں، قرآن مجید کے اس فقرہ کی دل کھول کر داد دیں گے۔
Ayah 30:50

فَانْظُرْ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 30:50 in the Quran reader

سوذرا رحمت الہی کے آثار کو دیکھو کہ اللہ زمین کو اس کے خشک ہونے کے بعد کس طرح شاداب کرتا ہے،66۔ بیشک وہی مردوں کا جلانے والا ہے،67۔ اور وہی ہر چیز پر (پوری) قدرت رکھنے والا ہے

66۔ (اور یہ خود ایک نظیر ہے قدرت علی البعث کی) (آیت) ” رحمت اللہ “۔ سے یہاں بھی مراد بارش ہے یا اس کے اثرات عالم میں نباتات پر۔ اے اثر الغیث من النبات والاشجار و انواع الثمار (بیضاوی) 67۔ (قیامت کے دن، اور وہی روز مرہ تجدید حیات کی نظیریں دکھاتا رہتا ہے) مطلب یہ ہے کہ خدا کی قدرت کاملہ اور اس کی خلاقی کا استحضار اگر رکھو تو امکان بعث میں کوئی اشکال ہی نہ رہ جائے۔
Ayah 30:51

وَ لَئِنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا فَرَاَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 30:51 in the Quran reader

اور اگر ہم (کوئی اور) ہوا چلا دیں، پھر یہ لوگ کھیتی کو زرد ہوا دیکھیں تو یہ اس کے بعد ناشکری کرنے لگیں،68۔

68۔ (ساری پچھلی نعمتوں کو بھول بھال کر) مقصود غافلوں کی بےحسی کو دکھانا ہے۔ (آیت) ” ریحا “۔ سے مراد ہے کسی دوسری قسم کی ہوا، جو زراعت کو نقصان پہنچانے والی ہو۔ مثلا بجائے پچھوا ہوا کے پروا کی، یا بجائے پروا کے پچھوا۔ (آیت) ” راوہ “۔ میں ضمیر کھیتی کی جانب ہے۔ اے رأو النبت والزرع مصفر ا (معالم) اے رأوا اثر رحمۃ اللہ لان رحمۃ اللہھی الغیث واثرھا النبات (کشاف) وھی النبات المفھوم من السیاق (بحر۔ روح)
Ayahs 30:52–53

فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 30:52 in the Quran reader

آپ مردوں کو تو نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو (اپنی) پکار سنا سکتے ہیں جب کہ وہ پیٹھ پھیرے چلے جارہے ہوں

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ Open ayah 30:53 in the Quran reader

اور آپ اندھوں کو بھی ان کی بےراہی سے راہ پر نہیں لاسکتے آپ تو بس انہیں کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیتوں کو یقین رکھتے ہیں، پھر وہ (انہیں) مانتے بھی ہیں،69۔

69۔ یعنی یہ لوگ بےادرا کی میں مردوں، بہروں، اندھوں کی سطح پر ہیں آپ ان سے نہ ایمان کی توقع رکھیے نہ ان کے انکار وتکذیب پر غم وتردد کیجئے۔ (آیت) ” فانک لا تسمع الموتی “۔ مردوں کے سننے نہ سننے پر حاشیہ سورة النمل (پ 20) آیت (آیت) ” انک لا تسمع الموتی “۔ کے تحت میں گزر چکا۔ کسی بندہ سے یہ کہنا کہ تم مردوں کو اپنی آواز سنا نہیں سکتے۔ اس کا مستلزم نہیں کہ سرے سے سماع میت کا انکار ہی مقصود ہے۔ کسی سے یہ کہنا کہ تم آسمان کی سیر نہی کرسکتے، اس کے مرادف نہیں کہ حق تعالیٰ بھی آسمان کی سیر نہیں کراسکتا۔ سماع موتی اپنے حدود کے اندر اہل سنت کے ہاں ایک متفقہ مسئلہ ہے۔ اس سے کلیۃ انکار درست نہیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہاں تینوں جملے اس پر دال ہیں کہ ہدایت کامل بنادینا شیخ کے اختیار میں ہے۔ (آیت) ” الامن یؤمن “۔ میں ایمان سے مراد استعداد ایمان ہے، ورنہ ظاہر ہے کہ اصل ایمان تو سماع سے مؤخر ہے نہ کہ اس پر مقدم۔
Ayah 30:54

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَیْبَةً١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ Open ayah 30:54 in the Quran reader

(اور وہی) اللہ ہے جس نے تم کو (تمہاری) ناتوانی کی حالت میں پیدا کیا، پھر ناتوانی کے بعد توانائی عطا کی پھر توانائی کے بعد ناتوانی اور ضعیفی دی، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے،70۔ اور وہ خوب جاننے والا ہے، ہر قدرت رکھنے والا ہے،71۔

70۔ ہر تصرف میں وہی آزاد خود مختار ہے۔ وہی جب چاہے نیست سے ہست کرے، ضعیف سے قوی اور قوی سے ضعیف، کوئی اس کا مانع ومزاحم کسی درجہ میں بھی نہیں ہوسکتا۔ (آیت) ” خلقکم من ضعیف “۔ اس ناتوانی سے مراد قبل پیدائش حالت جنبین یا نطفہ کی بےحقیقتی اور کمزوری ہے۔ (آیت) ” بعد ضعف “۔ میں ضعف سے مراد بچپن کی ناطاقتی اور بےبسی ہے۔ (آیت) ” قوۃ “۔ سے مراد جوانی اور قوی کے بلوغ اور پختگی کا زمانہ ہے۔ 71۔ ہر ضرورت ومصلحت کا علم بھی اسی کو پورا ہے۔ اور ہر تصرف پر قدرت بھی پوری پوری اسی کو حاصل ہے۔ سو اس کے خلق وخلقت میں کسی کمی یا نقص کا امکان ہی نہیں۔
Ayah 30:55

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ١ۙ۬ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَةٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَانُوْا یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 30:55 in the Quran reader

اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرم لوگ قسم کھابیٹھیں گے (کہ) ہم لوگ تو ایک ساعت سے زیادہ رہے ہی نہیں،72۔ اسی طرح یہ لوگ الٹے چلتے رہتے تھے،73۔

72۔ (عالم برزخ میں یا دنیا میں) (آیت) ” المجرمون “۔ کافروں کو یوم حشر کی انتہائی گھبراہٹ اور بدحواسی میں محسوس واقعی ایسا ہی ہوگا کہ جیسے قیامت اپنے وقت موعود سے بہت پہلے آگئی اور ان لوگوں کو کچھ مہلت ہی نہ ملی (آیت) ” ما لبثوا غیر ساعۃ “۔ یہ گھڑی بھر کی مدت قیام عالم برزخ میں بھی ہوسکتی ہے۔ اور دنیا میں بھی۔ ائمہ مفسرین دونوں طرف گئے ہیں۔ فی قبورھم (معالم عن مقاتل والکلبی) فی قبورھم (ابن جریر) فی الدنیا (ابن کثیر) فی الدنیا (معالم) اے ما اقاموا فی القبور وروی غیر واحد عن قتادۃ انھم یعنون ما لبثوا فی الدنیا ورجع الاول بانہ الاظہر (روح) 73۔ یعنی ادراک حقائق کے سلسلہ میں ان کی غلط بینیاں اور غلط اندیشیاں کچھ آج نئی نہیں، دنیا میں بھی تو ادراک حقائق کے سلسلہ میں یہ ایسے ہی کج اندیش تھے۔
Ayah 30:56

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَ الْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ اِلٰى یَوْمِ الْبَعْثِ١٘ فَهٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَ لٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:56 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو علم و ایمان عطا ہوا ہے وہ کہیں گے کہ تم نوشتہ الہی کے مطابق قیامت کے دن تک رہے سو یہی تو ہے قیامت کا دن البتہ تم ہی (اس کا) یقین نہیں کرتے تھے،74۔

74۔ یہ جواب دینے والے وہ لوگ ہوں گے جنہیں دنیا میں اخبار شرعیہ کا علم تھا۔ فی کتاب اللہ ای فی ماکتب اللہ لکم فی سابق علمہ من اللبث فی القبور (معالم) فی علم اللہ وقضاۂ اوفی ماکتبہ اے اوجبہ بحکمتہ (کشاف) آیت سے یہ بھی مستنبط ہوتا ہے کہ روز حشر کا ہول و انتشار کفار ہی کے ساتھ مخصوص ہوگا، شریعت پر عمل کرنے والے اہل ایمان انشاء اللہ اس وقت تمامتر محفوظ اور باحواس رہیں گے۔ (آیت) ” الذین اوتوا العلم والایمان “۔ بعض نے کہا، اس سے فرشتے مراد ہیں۔ اور بعض نے کہا انبیاء بعض نے کہا علماء امت، اور بعض نے سارے مومنین۔ فقیل الملائکۃ وقیل الانبیاء وقیل علماء الامم وقیل جمیع المومنین (قرطبی)
Ayah 30:57

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 30:57 in the Quran reader

غرض اس روز ظالموں کو ان کا عذر کرنا (کچھ) نفع نہ دے گا، اور نہ ان سے تدارک چاہا جائے گا،75۔

75۔ یعنی ان ظالموں، کافروں کو اس کا موقع نہ دیا جائے گا کہ اس روز توبہ کر کرا کے اللہ کو راضی کرلیں۔ اے لایطلب منھم ازالۃ عتب اللہ تعالیٰ والمراد بہ غضبہ سبحانہ علیھم بالتوبۃ والطاعۃ (روح) (آیت) ” یستعتبون “۔ استعتاب کے لفظی معنی ازالہ عتاب یعنی توبہ کے ہیں، جو گناہوں کو مٹادے، وھو ازالۃ العتب یعنی التوبۃ التی تزیل اثار الجریمۃ لاتطلب منھم لانھا لاتقبل منھم (کبیر) یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ انہیں دنیا میں واپسی کا موقع نہ دیا جائے گا۔ ولا ھم یرجعون الی الدنیا (ابن کثیر)
Ayah 30:58

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ لَئِنْ جِئْتَهُمْ بِاٰیَةٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ Open ayah 30:58 in the Quran reader

اور ہم نے لوگوں کے لئے اس قرآن میں ہر طرح کے مضمون بیان کئے ہیں،76۔ اور اگر آپ ان کے پاس کوئی نشان بھی لے کر آئیں تو بھی یہ لوگ جو کافر ہیں یہی کہیں گے کہ تم (لوگ) اہل باطل ہو،77۔

76۔ (جس کا مقتضی یہ تھا کہ منکرین ایمان لے آتے) (آیت) ” للناس “۔ یعنی لوگوں کی ہدایت ونفع کی غرض سے (آیت) ” من کل مثل “۔ یعنی ہر قسم کے عمدہ مفید مضمون۔ 77۔ کیا حد ہے ان کے عناد وضد اور حق طلبی کے فقدان کی ! کہاں تو خود ہی فرمائشی معجزوں کی بھرمار کر رہے ہیں، اور کہاں اگر معجزے دیکھ لیں تو الٹے مسلمانوں سے یہ کہنے لگیں کہ تم لوگ تو سحر کی باطل پرستیوں میں پڑے ہوئے ہو ! (آیت) ” ایۃ “۔ یعنی کوئی ایسا نشان جس کی یہ خود فرمائش کرتے رہتے ہیں ان کا فرمائشی نشان۔ (آیت) ” انتم “۔ یعنی تم سب، پیغمبر اور مومنین۔
Ayah 30:59

كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:59 in the Quran reader

جو لوگ یقین نہیں رکھتے اللہ انکے دلوں پر اسی طرح مہر کردیا کرتا ہے،78۔

78۔ (ان کی شدت عناد اور حق ناشناسی کی بناء پر) اور وہ دلوں پر مہر لگنا یہی ہے کہ روز بروز ان کی قبول حق کی استعداد ضعیف ومضمحل ہوتی جاتی ہے۔ (آیت) ” الذین لایعلمون “۔ کے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں یہ وہ لوگ جن کے دلوں میں علم صحیح کی طلب نہیں ہوتی۔ اے لایطلبون العلم (بیضاوی۔ روح)
Ayah 30:60

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 30:60 in the Quran reader

سو آپ صبر کیجیے بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے،79۔ اور جو لوگ بےیقین ہیں کہیں آپ کو بےبرداشت نہ کردیں،80۔

79۔ (کہ حق ایک روز منصور وکامیاب اور باطل بالآخرکام وسرنگوں ہو کر رہے گا) 80۔ یعنی حالات کیسے ہی سخت اور صبر آزما ہوں، آپ کے ہاتھ سے دامن صبر ومتانت و استقامت کسی حال میں بھی نہ چھوٹنے پائے، اور بےعقیدہ، بےایمان لوگوں کو کوئی سا موقع ہنسی کا یا طنز کا نہ ملنے پائے۔ آیت میں تعلیم ہے ساری امت کے لئے۔ اکابر امت کو تو خصوصا اپنے حال کا رکھ رکھاؤ چاہیے کہ حتی الامکان کافروں، فاجروں کو کوئی موقع اعتراض کا ہاتھ نہ لگنے پائے۔ (آیت) ” لا یستخلفنک “۔ خطاب براہ راست رسول سے ہے لیکن مفہوم کے اعتبار سے امت سے ہے۔ والخطاب للنبی ﷺ والمراد امتہ (قرطبی)