29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 29:41

مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ١ۚۖ اِتَّخَذَتْ بَیْتًا١ؕ وَ اِنَّ اَوْهَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْكَبُوْتِ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:41 in the Quran reader

جن لوگوں نے اللہ کے سوا اور کارساز تجویز کر رکھے ہیں ان کی مثال مکڑی کی سی مثال ہے اس نے ایک گھر بنایا اور مکڑی کا گھر سب گھروں سے زیادہ بودا ہوتا ہے،46۔ کاش انہیں اس حقیقت کا علم ہوتا،47۔

46۔ یعنی جس طرح وہ مکڑی کا گھر اپنے غایت ضعف کی بناء پر کالعدم ہوتا ہے ان کے یہ معبودان باطل بھی جن کی کارسازی پر انہیں بھروسہ ہے ان کے لیے لاشئے محض ثابت ہوں گے آسرے کے غایت ضعف کے موقع پر مثال اس مکڑی کے جالے کی قدیم صحیفوں میں بھی ملتی ہے۔” ان کی جو خدا کو بھول جاتے ہیں یہ راہیں ہیں اور ریاکار کی امید توڑی جاتی ہے۔ ان کی امید کی جڑکٹ جاتی اور ان کی آس مکڑی کا جالا سا ہے “۔ (ایوب۔ 8: 14) ” وہ ناگ کے انڈے سیتے ہیں اور مکڑی کی طرح جالا بنتے ہیں۔ انکے جالے کی اسٹاک بن نہیں سکتی، وہ اپنی بناوٹ یا آپ کی ڈھانپ نہیں سکتے “۔ (یسعیاہ۔ 59: 60) ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ 47۔ (کہ شرک کس درجہ لچر، مہمل اور بیہودہ چیز ہے ! )
Ayah 29:42

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:42 in the Quran reader

بیشک اللہ کے سوا جس کسی کو بھی پکارتے رہتے ہیں،48۔ اللہ ان سب کو جانتا ہے اور وہ بڑا زبردست ہے بڑا حکمت والا ہے،49۔

48۔ (درحقیقت یہی ان پر خوب روشن ہے کہ وہ سہارے کیسے بودے اور پھسپھ سے ہیں) 49۔ یعنی قوت عملی میں بھی کامل، اور قوت علمی میں بھی کامل۔ وہ جب اور جو، جس سے چاہے ہر انتقام پر قادر ہے۔ پھر بھی جو فورا نہیں لیتا ہے تو اپنے کمال حکمت سے کسی دوسرے وقت کے لیے اٹھائے ہوئے ہے۔
Ayah 29:43

وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ١ۚ وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ Open ayah 29:43 in the Quran reader

ہم ان مثالوں کو لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں اور انہیں بس علم والے ہی سمجھتے ہیں،50۔

50۔ یعنی وہ لوگ جو حقائق کا علم رکھتے ہیں یا علم وحق کے طالب ہیں۔ ان احقائق کو اپنی گرفت میں وہی لاتے ہیں جو درجہ ضروری میں اپنے عقل وعلم سے کام لیتے رہتے ہیں۔
Ayah 29:44

خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 29:44 in the Quran reader

اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے (بالکل) ٹھیک طور پر، اسی میں (بھی بڑی) دلیل ہے ایمان والوں کے لیے،51۔

51۔ (ایسے خالق وصانع کے معبود واحد ہونے کی) (آیت) ” بالحق “۔ اس خلق کائنات سے بھی اسے مقصود احقاق حق ہی رہا ہے۔ اور لوگوں کو اپنی ذات وصفات کمال کی طرف توجہ دلانا۔ اے محقا غیر قاصد بہ باطلا فان المقصود بالذات من خلقھا افادۃ الخیر والدلالۃ علی ذاتہ وصفاتہ (بیضاوی) اے محقا مراعیا للحکم والمصالح (روح)
Ayah 29:45

اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ Open ayah 29:45 in the Quran reader

جو کتاب آپ پر وحی کی گئی ہے اسے پڑھا کیجیے اور نماز کی پابندی رکھیے،52۔ بیشک نماز بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی رہتی ہے،53۔ اور اللہ کی یاد بہت بڑی چیز ہے، اور اللہ تمہارے سب کاموں کو جانتا ہے،54۔

52۔ (آیت) ” اتل ....... اقم الصلوۃ “۔ یعنی تشریع قولی اور تشریع فعلی، دین کے دونوں کاموں میں برابر لگے رہیے۔ (آیت) ” اتل “۔ میں خطاب رسول اللہ ﷺ سے ہے اور (آیت) ” اقم “۔ میں رسول وامت دونوں سے۔ (آیت) ” اقم الصلوۃ “۔ اقامت صلوۃ کے تحت میں نماز کے وقت کی پابندی اور اس کے ارکان و شرائط کی رعایت آگئی۔ اقامۃ الصلوۃ اداؤھا فی وقتھا بقراء تھا ورکوعھا وسجودھا وقعودھا وتشھدھا و جمیع شروطھا (قرطبی) (آیت) ” اتل “۔ یعنی قرآن کی تلاوت خود بھی کیجئے اور دوسروں کو بھی سنائیے۔ علم عمل پر مقدم ہوتا ہے۔ اس ترتیب کے مطابق یہاں تلاوت قرآن کو اقامۃ الصلوۃ پر مقدم رکھا ہے۔ (آیت) ” من الکتب “۔ میں من بیانہ ہے۔ 53۔ یعنی نماز میں خاصہ طبعی یہی ہے کہ وہ عظمت الہی کا استحضار بار بار کرا کے ہر گناہ ومعصیت سے روک دیتی ہے۔ اب اگر نماز کے شرائط ہی پوری طرح نہ ادا کئے جائیں تو اسی نسبت سے ادائے نماز ناقص رہے گی۔ اور پھر اسی مناسبت سے اس کی یہ طبعی خاصیت بھی ضعیف ومضمحل رہے گی، یہاں تک کہ جو نماز بالکل سطحی اور اوپری ہوگی۔ اور روح نماز سے خالی، اس میں وہ برائیوں کے روک تھام والی قوت بھی گویا معدوم ہوگی۔ دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ نماز جو یاد الہی اور اس کی عظمت کے استحضار کی ایک اعلی ومکمل شکل ہے اس کا اقتضاء یہی ہے کہ وہ ہر برائی سے روک دے۔ اس کا اثر ہونا بھی چاہئے، عام اس سے کہ کسی پر ہو یا نہ ہو۔ (آیت) ” الصلوۃ “ میں ال عہد کا ہے۔ یعنی وہ نماز جو ظاہری وباطنی شرائط معین کے ساتھ ادا کی گئی ہو۔ (آیت) ” الفحشآء “۔ بےحیائی کے تصریح ذکر میں نکتہ یہ ہے کہ اکثر دوسری قوموں اور مذہبوں میں بےحیائی صرف جائز ہی نہیں بلکہ ایک لازمی جزوعبادت و نماز کا ہے۔ اور مغربی فاضلوں کی تحقیق یہ ہے کہ بیسوائی کی ابتدائی ہی مندروں اور مشرکانہ معبدوں کے سایہ پڑی ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ گویا یہاں یہ ارشاد ہوا کہ فحش دوسرے مذہبوں میں جزوعبادت ہو تو ہو، اسلامی عبادت تو اس کے جواز کی بھی روادار نہیں عین اسے توڑنے اور کاٹنے والی ہے۔ 54۔ اللہ کے یہی عالم کل ہونے کا مراقبہ ہی ہر مجاہدہ کو آسان بنادینے اور قلب میں خشیت پیدا کردینے کو کافی ہے۔ (آیت) ” ذکر اللہ اکبر “۔ ذکر الہی ہی کی افضل ترین ومکمل ترین فرد نماز ہے۔ (آیت) ” ولذکر اللہ اکبر “۔ کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں، کہ بڑائی تو بس اسی کے ذکر کی ہے نہ کہ کسی اور کے ذکر کی۔ اے لہ الکبر لالغیرہ (کبیر) اور ایک اور معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ اللہ جو تمہیں یاد کرے گا اس کا مرتبہ اس یاد سے بھی بڑھا ہوا ہے جو تم اس کی کرتے رہتے ہو۔ اے ذکر اللہ ایاکم افضل من ذکرکم ایاہ (معالم) اے ذکر اللہ لکم بالثواب والثناء علیکم اکبر من ذکرکم لہ فی عبادتکم وصلواتکم (قرطبی) ابن عباس، ابن مسعود ابن عمر ؓ وغیرہ متعدد صحابیوں اور مجاہد وعکرمہ و سعید بن جبیر تابعین سے یہی معنی مروی ہیں۔ بلکہ ایک روایت میں تو خود رسول اللہ ﷺ سے۔ یروی ذلک عن ابن عباس ؓ وھو قول مجاھد وعکرمۃ و سعید بن جبیر ؓ ویروی ذلک مرفوعا عن ابن عمر عن النبی ﷺ (معالم) وقدروی ھذا من غیروجہ عن ابن عباس وروی ایضا عن ابن مسعود وابی الدرداء وسلم ان الفارسی وغیرھم (ابن کثیر) امام ابن جریر (رح) نے بھی ترجیح اسی توجیہ کو دی ہے۔ واشبہ ھذہ الاقوال بھادل علیہ ظاہر التنزیل قول من قال لذکر اللہ ایاکم افضل من ذکرکم ایاہ (ابن جریر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں اعمال سلوک کے اصول سب جمع ہوگئے یعنی تلاوت اور نماز اور ذکر اور مراقبہ۔ باقی جتنے اعمال و اشغال ہیں سب انہیں کے تابع ہیں۔
Ayah 29:46

وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ۖۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ اِلٰهُنَا وَ اِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 29:46 in the Quran reader

اور تم اہل کتاب سے مباحثہ مت کرو بجز مہذب طریقہ کے سوا ان میں سے ان لوگوں کے جو زیادتی کریں،55۔ اور کہہ دو کہ ہم ایمان رکھتے ہیں اس (کتاب) پر بھی جو ہم پر نازل ہوئی اور ان (کتابوں) پر بھی جو تم پر نازل ہوئیں، اور ہمارا معبود اور تمہارا معبود تو ایک ہی ہے اور ہم تو اسی کے فرمانبردار ہیں،56۔

55۔ (تو انہیں البتہ جواب ترکی بہ ترکی دینے میں مضائقہ نہیں) مسلمانوں کو ہدایت کی جارہی ہے کہ تبلیغ کے سلسلہ میں موقعے مباحثہ ومناظرہ کے بھی آئیں گے۔ کتابی مذہب والوں یعنی جو توحید وسلسلہ نبوت کے قائل ہیں ان سے مباحثہ کے وقت ہمیشہ نرمی، تہذیب اور ان کی دلجوئی سے کام لیتے رہو کہ اس سے انہیں ترغیب اسلام میں داخل ہونے کی ہوتی رہے گی۔ ہاں البتہ ان میں جو بدزبان ہوں انہیں حسب مصلحت ان کے رنگ میں بھی جو اب دیا جاسکتا ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا، اس میں دلالت ہے کہ مخالف کے ساتھ اول نرمی برتے اور جب عناد ظاہر ہو تو خشونت کی اجازت ہے۔ چناچہ یہی طریقہ ہے اہل اللہ کا مخالفین کے ساتھ۔ البتہ طالبین کے ساتھ طرز دوسرا ہے۔ یعنی ان کے ساتھ نرمی کی جائے جب تک عذر جہل باقی ہے۔ اور جب یہ عذر نہ رہے تو پھر سختی کی جائے۔ اور یہی معاملہ تھا رسول اللہ ﷺ کا صحابہ کے ساتھ۔ 56۔ یعنی اہل کتاب کو سمجھاؤ کہ جب ہم تم میں اتنا اشتراک ہے کہ ہماری طرح تم بھی توحید کے قائل ہو، اور بجائے ملکی یا قومی یا قبائلی خدا کے، ایک خدائے پروردگار عالم کے قائل ہو، ہماری طرح سلسلہ وحی ونبوت کو مانتے ہو اور ہم تمہاری الہامی کتابوں کو مانتے ہیں، تو اب بات ہی کیا رہ جاتی ہے، جو تم ہمارے صحفیہ آسمانی سے انکار کیے جاتے ہو ؟ (آیت) ” امنا ...... الیکم “۔ مسلمان اپنے رسول کریم ﷺ کی وحی ونبوت کو دنیا سے بالکل الگ ومنفرد نہیں مانتا۔ وہ تو تسلسل وحی کا قائل ہے، وہ تو اس کا معتقد ہے کہ ہمارے نبی کے پاس وہی وحی آخر میں بطور خاتم الانبیاء و اعظم والانبیاء ہونے کے آئی ہے، جو اب سے قبل ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور بیسیوں دوسرے پیغمبران جلیل القدر پر آچکی تھی۔ (آیت) ” والھنا والھکم واحد “۔ اور تم فلاں فلاں دیوتا کے پجاری۔ پروردگار عالم کی توحید اور اس کی عبادت تو ہم تم میں مشترک ہے۔ اسلام کا یہ ایک امتیازی نشان تمام غیر کتابی مذہبوں کے مقابلہ میں خوب سمجھے رہنا چاہیے کہ اسلام ہی نے پروردگار عالم کا، الہ الکائنات کا تخیل دنیا کے سامنے پیش کیا۔ ورنہ دنیا میں اب تک تو ہر ہر علاقہ، یا ہر ہر قوم کے الگ الگ دیوتا ہوتے تھے۔
Ayah 29:47

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ۚ وَ مِنْ هٰۤؤُلَآءِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 29:47 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے آپ پر کتاب نازل کی، سو جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس پر ایمان بھی لے آتے ہیں،57۔ اور ان لوگوں میں سے بھی بعض اس پر ایمان لے آئے ہیں اور ہماری آیتوں سے بجز (کٹے) کافروں کے اور کوئی منکر نہیں ہوتا،58۔

57۔ چناچہ ان لوگوں کا ذی فہم اور منصف مزاج طبقہ بالآخر اسلام لے ہی آیا۔ یعنی مومنی اھل الکتب (معالم) اے الذین اخذوہ فتلوہ حق تلاوتہ من احبارھم العلماء الاذکیاء (ابن کثیر) (آیت) ” الکتب “۔ سے یہاں مراد جنس کتاب ہے۔ (آیت) ” بہ “۔ یعنی قرآن پر (آیت) ” الذین اتینھم الکتب “۔ کی ایک تفسیر امام رازی (رح) نے یہ بھی نقل کی ہے کہ اس سے مراد اہل کتاب نہیں بلکہ خود انبیاء کرام ہیں کہ کتابیں براہ راست ودرحقیقت تو انہیں کو عطا ہوئی تھیں۔ 58۔ (جو ہر طرح کے وضوح دلائل کے بعد بھی انکار پر اڑے ہوئے ہیں) (آیت) ” من ھؤلآء “۔ یعنی مشرکین مکہ میں سے۔ یعنی اھل مکۃ (معالم) یعنی العرب من قریش وغیرھم (ابن کثیر) (آیت) ” بہ “۔ یعنی قرآن پر (آیت) ” الاالکفرون “۔ یعنی بجز ضدی اور ہٹ دھرم کافروں کے۔ الاالمتوغلون فی الکفر فان جزمھم بہ یمنعھم عن التامل (بیضاوی) امام رازی (رح) نے ایک تفسیر یہ نقل کی ہے کہ (آیت) ’ من ھؤلاء “۔ سے مراد بعض مشرکین مکہ نہیں بلکہ بعض اہل کتاب ہی ہیں۔ اور اسی تفسیر کو عقل ونقل سے قریب تر قرار دیا ہے۔ اولی واقرب الی العقل والنقل واقرب الی الاحسن من الجدال المأموربہ (کبیر)
Ayah 29:48

وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 29:48 in the Quran reader

اور آپ تو اس (قرآن) سے قبل نہ کوئی کتاب پڑھے ہوئے تھے اور نہ اسے (یعنی کوئی کتاب) اپنے ہاتھ سے لکھ سکتے تھے ورنہ (یہ) ناحق شناس لوگ شبہ نکالنے لگتے،59۔

59۔ یعنی اس وقت کچھ تو منشاء اشتباء ان لوگوں کے پاس ہوتا۔ اور یہ لوگ آپ ﷺ کی بابت یہ کہنے لگتے کہ آدمی پڑھے لکھے ہیں کسی دوسری آسمانی کتاب سے مضامین چرا لیے ہیں حالانکہ قرآن کے وجوہ اعجاز اتنے کھلے ہوئے ہیں کہ اس وقت بھی دعوے کو چلنے نہ دیتے لیکن بہرحال کچھ تو گنجائش ہوتی، اور اب تو اتنی بھی نہیں۔ رسول کریم ﷺ کی امت اور ناخواندہ ہونے پر اس سے بڑھ کر صریح شہادت اور کیا ہوگی۔ اس پر بھی ناحق شناسوں کا ایک گروہ (خصوصا مسیحی پادریوں کا) آج تک اس پر مصر چلا آرہا ہے کہ آپ ﷺ ضرور پڑھے لکھے تھے، اور اس پر رسالے اور کتابیں چھاپتا چلا جاتا ہے ! باطل پرستی کی بھی کوئی انتہاء ہے !
Ayah 29:49

بَلْ هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 29:49 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ یہ (کتاب خود ہی بہت ہی) کھلی ہوئی نشانیاں ہے ان لوگوں کے ذہن میں جنہیں علم عطا ہوا ہے،60۔ اور ہماری آیتوں سے تو بس ضدی ہی لوگ انکار کرتے ہیں،61۔

60۔ یعنی اس کے وجوہ اعجاز اتنے کھلے ہوئے اور متعدد ہیں، کہ یہ ایک کتاب بجائے خود بہت سے نشانوں کے قائم مقام ہے۔ (آیت) ” الذین اوتوا العلم “۔ سے مراد مومنین ہیں۔ (آیت) ” صدور “۔ کے معنی اگر لفظی یعنی سینہ کے لیے جائیں تو مراد ہوگی کہ یہ کتاب بطور نشان واضح کے سینہ بہ سینہ محفوظ چلی آتی ہے ہر امکان تحریف سے ماوراء۔ 61۔ (ورنہ منصف مزاج کو تو ذار شک نہیں رہ سکتا) (آیت) ” یجحد “۔ جحد کے معنی پہلے بیان ہوچکے ہیں کہ دل کو یقین تو کسی بات کا آجائے۔ پھر بھی ضد وجہل سے زبان انکار پر اڑی رہے۔ (آیت) ” الظلمون “ یعنی ضدی۔ ہٹ دھرم۔ اے المتوغلون فی الظلم بالمکابرۃ بعد وضوح دلائل اعجازھا (بیضاوی)
Ayah 29:50

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 29:50 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ان (پیغمبر) پر کوئی نشان ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی نہیں اترے،62۔ آپ کہہ دیجئے کہ نشان تو بس اللہ کے قبضہ میں ہیں،63۔ اور میں تو بس ایک صاف صاف ڈرانے والا ہوں،64۔

62۔ (ہماری خواہش و فرمائش کے مطابق) نشان سے مراد خارق عادت ہے۔ مشرک اور مشرک مزاج قوموں کو ہمیشہ گرویدگی عجائب وخوارق ہی سے رہی ہے۔ اسی بناء پر رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات اور پیام کو بالکل نظر انداز کرکے فرمائشیں بار بار ہوتی تھیں کہ فلاں اور فلاں معجزہ دکھاؤ ! گویا پیغمبر بھی ایک طرح کا بازیگر ہوتا ہے ! 63۔ رسول اللہ ﷺ کی زبان سے قرآن میں یہ بار بار کہلایا گیا ہے کہ واقعات و حوادث تکوینی تمامتر اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ چناچہ خوارق ومعجزات بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ میں جس طرح کسی واقعہ مطابق عادت کی تکوین میں بےبس محض ہوں اسی طرح واقعات خارق عادت میں بھی۔ (آیت) ” انما “۔ کلمہ حصر ہے۔ یعنی میرا کسی عمل تکوینی سے قطعا کوئی بھی تعلق نہیں۔ 64۔ یعنی میری صداقت کی جانچ کرنا ہو تو میری تعلیمات کو دیکھو پرکھو اور جو دین میں لایا ہوں، اس کی تحقیق کرو۔
Ayah 29:51

اَوَ لَمْ یَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ یُتْلٰى عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرٰى لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 29:51 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کیلئے یہ کافی نہیں ہے کہ ہم نے آپ کے اوپر کتاب نازل کی ہے جو ان کو سنائی جاتی رہتی ہے،65۔ بےشبہ اسی (کتاب) میں بڑی رحمت اور نصیحت ہے ایمان والے لوگوں کے لئے،66۔

65۔ جو ہر قسم کی معنوی گہرائیوں ادبی لطافتوں، مطالب کی ہمہ گیری، مضامین کی جامعیت و کاملیت سے معمور ہے۔ 66: رحمۃ۔ تعلیم احکام کے پہلے سے۔ ذکریٰ نصیحت و ترغیب وترہیب کے اعتبار سے
Ayah 29:52

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ شَهِیْدًا١ۚ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 29:52 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ اللہ کافی ہے میرے اور تمہارے درمیان بطور گواہ کے اسی ہر چیز کی خبر ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے،67۔ اور جو لوگ باطل پر ایمان لائے ہیں اور اللہ کے منکر ہیں وہی تو ہیں بڑے گھاٹے میں پڑے ہوئے،68۔

67۔ (میرے دل میں ذرہ بھر بھی کھوٹ ہوگا تو اس سے نہیں چھپ سکتا) مطلب یہ ہے کہ کسی کے ماننے نہ ماننے سے کیا ہوتا ہے۔ میری رسالت تو عنداللہ ثابت ہے۔ ایک حقیقی مذہبی شخص کے پاس اس سے بڑا واسطہ اور ہے ہی کیا کہ وہ خدا کو درمیان ڈال کر کسی بات کا اقرار کرے۔ 68۔ جنہوں نے اللہ اور اس کی شریعت سے کفر کرکے باطل کو اپنا سہارا قرار دے لیا، تو انہوں نے تو ایک تمامتر غلط نقشہ زندگی ہی تیار کرلیا۔ اب انہیں فوز و فلاح نصیب ہی کہاں سے ہوسکتا ہے ؟
Ayah 29:53

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَیَاْتِیَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 29:53 in the Quran reader

اور یہ لوگ آپ سے جلدی کررہے ہیں۔ عذاب کی،69۔ اور اگر یہ میعاد متعین نہ ہوتی تو ان پر عذاب آچکا ہوتا اور (وہ عذاب) ان پر اچانک آپڑے گا اور انہیں خبر بھی نہ ہوگی،70۔

69۔ (کہ اچھا اگر تم سچے ہو اور ہم نافرمان اہل باطل، تو ہم پر عذاب فورا کیوں نہیں لے آتے ہو ؟ ) 70۔ یعنی نزول عذاب کی ساعت تو علم الہی میں مقرر ہے۔ اس کی تاخیر کو صحت دعوئے نبوت کی تغلیط وتردید سے مربوط کرنا عجب طرح کا جہل بلکہ خبط ہے۔ (آیت) ” لیاتینھم ...... لایشعرون “۔ عذاب موت کا ہو یا قیامت کا۔ بہرحال جب بھی آئے گا ان شامت زدوں کی غفلت میں یک بیک ہی آئے گا۔
Ayah 29:54

یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 29:54 in the Quran reader

آپ سے جلدی کررہے ہیں عذاب کی اور یقیناً دوزخ کافروں کو گھیرے ہوئے ہیں،71۔

71۔ (جس کا پورا ظہور قیامت میں ہوکر رہے گا) (آیت) ” محیطۃ “۔ صیغہ اسم فاعل کا ہے۔ فعل مضارع کا نہیں۔ یعنی یہ نہیں کہ جہنم کہیں آگے چل کر انہیں گھیرے گی، بلکہ اسی وقت ہی گھیرے ہوئے ہے۔ اس سے بعض عارفین نے یہ نکالا ہے کہ اصل جہنم تو کفر ومعصیت ہی ہیں۔ آخرت میں صرف اتنا ہوگا کہ ان کا ظہور کامل ہوکر رہے گا۔
Ayahs 29:55–56

یَوْمَ یَغْشٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ وَ یَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:55 in the Quran reader

جس دن کے عذاب ان پرچھا جائے گا ان کے اوپر سے بھی اور ان کے پیروں کے نیچے سے بھی (اللہ) کہے گا (اب) مزا چکھو اس کا جو کچھ تم کرتے رہے ہو۔

یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَةٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 29:56 in the Quran reader

اے میرے ایمان داربندوں میری زمین تو بہت وسیع ہے سواکیلی میری ہی پرستش کرو،72۔

72۔ (خواہ یہاں یا جہاں کہیں بھی، توحیدی عبادت ممکن ہے) یہ ترغیب ہے ہجرت یعنی اقامت دین کی خاطر ترک وطن کی، علماء نے اس سے یہ نکالا ہے کہ جہاں کفر وفسق کی شدت ہو اور خدا پرستی کا موقع نہ مل سکے، وہاں سے بندۂ مومن چلا جائے۔ (آیت) ” ان ارضی واسعۃ “۔ میں اشارہ ہے کہ اللہ کی نعمتیں کھانے پینے، رہنے سہنے سے متعلق کسی ایک خطہ یا علاقہ تک محدود نہیں۔ یہ تو وطن کے باہر بھی سب کہیں مل سکتی کہیں ان کی طرف سے اتنا فکر مند کیوں ہوتے ہو۔ یہ مضمون زیادہ کھول کر پہلے ہی بیان ہوچکا ہے۔ یجد فی الارض مراغما کثیرا (سورۃ النساء)
Ayah 29:57

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١۫ ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:57 in the Quran reader

ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے،73۔ پھر تم سب ہماری طرف واپس لائے جاؤ گے،74۔

73۔ (اور دنیا کے مرغوبات ومالوفات کو ایک دن تو بہرحال چھوڑنا ہی ہے، پھر آج اقامت دین ہی کی خاطر ترک وطن و اقارب کیوں نہ اختیار کیا جائے) ہجرت کے جو مانع نفس میں موجود ہیں انمیں ایک (آیت) ” ان ارضی واسعۃ “۔ سے رفع کیا جاچکا ہے۔ دوسرا جواب اب مل رہا ہے کہ جن چیزوں کا ترک ومفارقت آج شاق گزر رہی ہے ان سے دوری اور مہجوری ایک دن تو بہرحال ناگزیر ہی ہے۔ تو آج ہی اپنے قصد واختیار سے کیوں نہ حاصل کرلی جائے کہ آئندہ ہر طرح کی نعمتوں کا استحقاق ہوجائے۔ فقال لھم ان ماتکرھون لابد من وقوعہ فان کل نفس ذائقہ الموت والموت متفرق الاحباب فالاولی ان یکون ذلک فی سبیل اللہ فیجازیکم علیہ (کبیر) اے انتم لامحالۃ میتون ومحشررون الینا فالبدار الی طاعۃ اللہ والھجرۃ الیہ والی مایمتثل (قرطبی) 74۔ (تو اگر نافرمان ہو کر آئے تو کیسی گزرے گی) (آیت) ” الینا ترجعون “۔ ذرا سے دو لفظی فقرے میں دو اہم حقیقتوں کا اثبات آگیا ایک یہ کہ موت، عدم محض وخلاء محض کا نام نہیں، موت کے بعد سزا جزاء حساب و کتاب یقینی ہے۔ دوسرے یہ کہ سب کی پیشی حق تعالیٰ ہی کے حضور میں ہوگی کسی اور کے ہاں نہیں۔
Ayah 29:58

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَۗۖ Open ayah 29:58 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کئے،75۔ ہم ان کو جنت میں جگہ دیں گے بالا خانوں پر جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے کیا اچھا اجر ہے نیک کام کرنے والوں کا

75۔ (اور انہیں نیک اعمال میں بوقت ضرورت ہجرت بھی ہے جس کا ابھی اوپر بیان آچکا ہے)
Ayah 29:59

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 29:59 in the Quran reader

جنہوں نے صبر کیا اور اپنے پروردگار پر توکل کیا کرتے تھے،76۔

76۔ (چنانچہ اس صبر و توکل علی اللہ ہی کی بناء پر وہ اس فکر میں زیادہ نہیں پڑے کہ ہجرت کے بعد کھانا پینا کہاں سے چلے گا) (آیت) ” الذین صبروا “۔ جو صالح بندے ہوتے ہیں، لازمی نہیں کہ انہیں سارے تکوینی حالات اپنی مرضی کے موافق ہی ملتے رہیں۔ ایسے موقعوں پر وہ بےصبری سے نہیں، صبر سے کام لیتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” وعلی ربھم یتوکلون “۔ بڑی بات ان نیک اور صالح بندوں میں یہ ہوتی ہے کہ وہ آخری اعتماد چھوٹی بڑی ہر چیز میں اللہ ہی پر رکھتے ہیں جھوٹے اور چھوٹے معبودوں کے پھیر میں پڑ کر اپنی قوتوں کو ضائع ومنتشر نہیں کرتے رہتے۔
Ayah 29:60

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا١ۗۖ اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَ اِیَّاكُمْ١ۖ٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:60 in the Quran reader

اور کتنے ہی جانور ہیں جو اپنی غذا اٹھا کر نہیں رکھتے اللہ ہی انہوں روزی پہنچاتا ہے اور تم کو بھی اور وہی خوب سننے والا ہے (اور) خوب جاننے والا ہے،77۔

77۔ سب کی ضرورتوں سے خبردار، سب کے حالات سے خوب واقف۔ (آیت) ” وکاین من ..... ایاکم “۔ ایک بار پھر یہ حقیقت دلوں میں اتاردی ہے کہ اللہ کا تعلق بندوں سے صرف معاوی ہی زندگی کا نہیں، بلکہ اس ناسوتی زندگی اور اس کے معاشی پہلوؤں میں بھی پورا پورا ہے۔ اس کے ایک ایک جزئیہ کے ساتھ ہے۔ بےصبر اور تھرڈ لے انسان کو سمجھایا ہے کہ جانوروں کی حالت پر غور کر ووہ کب اپنا رزق اپنے ساتھ لیے لیے گھومتے ہیں، لیکن باوجود اس کے انہیں بھی کہیں بھوکا نہیں رکھا جاتا ہے۔ ان کی غذا انہیں بہم پہنچائی ہی جاتی ہے۔ تو انسان کیوں اپنے متعلق اتنا بےآس ہوا جاتا ہے ؟ انسان کے لیے کیا اتنا بھی فکر واہتمام نہ ہوگا جتنی پر واحیوانات کے لیے رکھی جاتی ہے ؟
Ayah 29:61

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ۚ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 29:61 in the Quran reader

اور اگر آپ ان سے دریافت کرے کہ وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور سورج و چاند کو کام میں لگا دیا تو وہ یہی کہیں گے کہ اللہ نے تو پھر یہ ادھر الٹے چلے جارہے ہیں،78۔

78۔ یعنی ترحید فی التکوین کے قائل ہو کر پھر معبودیت والوہیت میں بھی توحید پر کیوں نہیں قائم رہتے، اور اس باب میں کیسے بھٹکے جا رہے ہو کہ آکاش دیوتا دھرتی مائی اور سورج دیوتا کے بھی قائل ہو رہے ہو !
Ayah 29:62

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 29:62 in the Quran reader

اللہ روزی کھول دیتا ہے اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے اور (جس کیلئے چاہے) تنگ کردیتا ہے بیشک اللہ ہی ہر چیز سے خوب واقف ہے،79۔

79۔ (اور وہی جیسی مصلحت دیکھتا ہے روزی دیتا ہے۔ پھر رزق کے لیے شرک کرنا کیسی حماقت ہے ! ) (آیت) ” یبسط ..... لہ “۔ رزق میں کسی بندہ کی کشادگی ہو یا تنگی، بہرحال کسی نہ کسی مصلحت تکوینی ہی کے ماتحت ہوتی ہے۔ ہر کشادگی اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کا ایک انبار ہی لاتی ہے جن کے ظرف ان کا تحمل نہیں کرسکتے انہیں اس بار سے سرے سے سبکدوش کیا جاتا ہے۔
Ayah 29:63

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 29:63 in the Quran reader

اور اگر آپ ان سے پوچھئے کہ آسمان سے پانی کس نے برسایا پھر اس سے زمین کو اس کی خشکی کے بعد تروتازہ کردیا تو بھی یہ لوگ کہیں گے کہ اللہ نے آپ کہیے الحمدللہ،80۔ لیکن ان میں سے اکثر عقل سے کام نہیں لیتے،81۔

80۔ یعنی تمہارے اس اقرار سے اس شرک کی جڑ تو کٹی، جو تمہیں ایک بارش کے دیوتا اور ایک زراعت کے دیوتا کی طرف لیے جاتا ہے۔ 81۔ (اس لیے صحیح مقدمات سے جو نتیجہ بالکل واضح طور پر نکلتا ہے وہ بھی یہ نہیں نکالتے، اور پھر شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں)
Ayah 29:64

وَ مَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّ لَعِبٌ١ؕ وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:64 in the Quran reader

اور یہ دنیوی زندگی بجز کھیل تماشہ کے کچھ ہے ہی نہیں،82۔ اور عالم اخرت ہی اصل زندگی ہے،83۔ کاش انہیں (اس کا) علم ہوتا،84۔

82۔ (اپنے فانی، عارضی، بےثبات ہونے کے لحاظ سے) لیکن اگر یہی حیات دنیا تحصیل دین کا ذریعہ بن جائے تو یہی لہو ولعب خود دار آخرت کا ایک جزو بن جائین گا اور باعتبار ثمرات اس کا شمار بھی باقی میں ہوجائے گا۔ (تھانوی (رح ) 83۔ (اپنے باقی، قائم وپائیدار ہونے کے اعتبار سے) حیوان، یہاں اپنے عام معنی میں جاندار یا ذی حیات کے مرادف نہیں، بلکہ مصدر ہے خود حیات کے معنی میں، البتہ اس کے معنی میں حیات سے زور زائد ہے۔ الحیوان مصدر حی کا لحیاۃ لکن فیھا مبالغۃ لیست فی الحیاۃ (کبیر) اور فقرہ کے معنی یہ ہوئے کہ اصلی اور حقیقی زندگی وہی آخرت کی زندگی ہے۔ فکانہ قال الحیاۃ الثانیۃ ھی الحیاۃ المعتبرۃ (کبیر) حیوان کے معنی مستقر حیات کے بھی کیے گئے ہیں۔ الحیوان المقر الحیوۃ : (راغب) 1 (غم و حسرت :۔ آج یوم جمعہ، 19 رجب 1363 ؁ھ مطابق 1943 ؁ء جولائی جبکہ قل (آیت) ” ان الدار الاخرۃ لھی الحیوان “ کی تلاوت سے فارغ ہوچکا تھا، اطلاع موصول ہوئی کہ مفسر جلیل، امام علم وعرفان، مجدد وقت، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی (رح) نے اپنے وطن تھا نہ بھون میں 15، 16 رجب (دو شنبہ، سہ شنبہ) کی درمیانی شب میں رحلت فرمائی۔ (آیت) ” انا للہ وانا الیہ رجعون “۔ آہ کہ اس دور کا بہترین مفسر وبہترین فقیہ، بہترین متکلم اور بہترین عارف، درویش اٹھ گیا ! آج تک انہیں بزرگ کے افادات مرشد تھانوی مدظلہ، کے نام سے درج ہوتے رہے تھے۔ اب آج سے یہ ” مدظلہ “ ” (رح) “۔ میں تبدیل کرنا پڑا۔ آہ ! کہ کس دل سے !۔ 84۔ (تو فانی میں منہمک ہو کر باقی کو بھول نہ جاتے، اور غور و تدبر سے کام لے کر اپنی عقل کو شرک کے ترک اور ایمان کے اختیار پر مجبور پاتے) انسان اگر اس عالم کے عارضی ناپائیدار ہونے اور اس عالم کے مستقل وپائیدار ہونے کو مستحضر رکھے تو زندگی کا نقشہ ہی سراسر بدل جائے۔
Ayah 29:65

فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 29:65 in the Quran reader

اور جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خالص اعتقاد کرکے اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں پھر جب وہ انہیں نجات دے کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو یہ لوگ فورا ہی شرک کرنے لگتے ہیں،85۔

85۔ مطلب یہ ہوگا کہ جہاں ظاہری سہارے ٹوٹے، بس خدائے واحد یاد آنے لگتا ہے، اور ادھر ذرا آس اپنے عادی سہاروں کی بناء پر قائم ہوئی پھر توحید چھوڑ اپنی پرانی گمراہیوں میں پڑگئے، یہ مضمون پہلے بھی کئی بار آچکا ہے۔
Ayah 29:66

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ۙۚ وَ لِیَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:66 in the Quran reader

یعنی جو (نعمت) ہم نے انہیں دی ہے اس کی ناشکری کرنے لگتے ہیں یہ لوگ چندے اور حظ اٹھا لیں پھر تو انہیں عنقریب معلوم ہی ہوا جاتا ہے،86۔

86۔ یعنی وقوع موت یا قرب موت پر (آیت) ” لیکفروا۔۔ لیتمتعوا “۔ دونوں میں ل ’ تاکہ ‘ کے معنی میں ہے۔ کے کا مرادف۔ اے ل کے یکفروا و کی یتمتعوا (مدارک) والمعنی یعودون الی شرکھم لیکونوا بالعود الی شرکھم کافرین بنعمۃ النجاۃ قاصدین التمتع بھا (مدارک) اور بعض نے کہا ہے کہ ل امر کا ہے اعملوا ماشئتم کا مرادف اور کمال غضب کا مظہر جیسے اردو میں ایسے موقع پر کہا جائے گا کہ اچھا، خوب کفر کرلو، اور اس دنیائے چند روزہ کے خوب مزے لوٹ لو، اولام الامر علی التھدید (بیضاوی)
Ayah 29:67

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 29:67 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے اس پر نظر نہیں کی کہ ہم نے (ان کے شہر کو) امن والاحرام بنایا ہے۔ اور ان کے گرد وپیش لوگوں کو نکالا جارہا ہے تو کیا یہ لوگ جھوٹے معبودوں پر ایمان رکھیں گے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری ہی کرتے رہے گے،87۔

87۔ اشارہ مشرکین مکہ کی جانب ہے۔ (آیت) ” حرما ...... حولھم “۔ یعنی یہ مشرکین مکہ اس پر غور نہیں کرتے کہ اب تک ہم نے ان کے خاص شہر کو کیسا محفوظ رکھا ہے۔ درآنحالیکہ اردگرد کے سارے مقامات زد میں آچکے ہیں۔ (آیت) ” نعمۃ اللہ “۔ میں نعمۃ بطور اسم جنس کے آیا ہے۔ مراد ساری ہی نعمتیں ہیں۔
Ayah 29:68

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 29:68 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ افتراء کرے اور سچی بات جب اس کے پاس آئے تو اسے جھٹلائے کیا کافروں کا ٹھکانہ جہنم میں نہ ہوگا،88۔

88۔ ایسے ناانصافوں کو جہنم کی سزا ملنا بالکل قدرتی ہے۔ (آیت) ” افتری علی اللہ کذبا “۔ افتراء علی اللہ سب سے بڑا یہی ہے کہ اللہ کا شریک کسی کو ٹھہرایا جائے۔ (آیت) ” کذب بالحق “۔ تکذیب حق سے سے بڑی یہی ہے کہ توحید و رسالت سے انکار کیا جائے۔
Ayah 29:69

وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 29:69 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری راہ میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں ہم ان کو اپنے راستے ضرور دکھادیں گے اور بیشک خلوص والوں کے ساتھ ہے،89۔

89۔ (دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی) (آیت) ” مع المحسنین “۔ اللہ کی معیت اس کی نصرت واعانت ہی کا دوسرا نام ہے۔ اے معیۃ النصرۃ والمعونۃ (روح) (آیت) ’ سبلنا “ یعنی اللہ کے قرب کے راستے۔ سبلنا اے سبل الیسر الینا والوصول الی جنابنا (بیضاوی) (آیت) ” فینا “۔ یعنی ہماری رہ میں یا ہماری خاطر۔ اے فی شاننا ومن اجلنا ولو جھنا خالصا (روح) فی حقنا (بیضاوی) (آیت) ” الذین ...... سبلنا “۔ انسان کے لیے بس جدوجہد شرط ہے مجرد مجاہدہ پر ہدایت یابی کا وعدہ ادھر سے موجود ہی ہے۔ (آیت) ” جاھدوا فینا “۔ کے معنی، قدرت، صنعت، حکمت الہی کے دلائل پر غور وفکر کے بھی کیے گئے ہیں۔ اے الذین نظروا فی دلائلنا (کبیر)