25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 25:41

وَ اِذَا رَاَوْكَ اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا Open ayah 25:41 in the Quran reader

اور آپ کو جب یہ دیکھ لیتے ہیں تو بس آپ کے حق میں تمسخر ہی کرنے لگتے ہیں کیا یہی وہ (حضرت) ہیں جنہیں خدا نے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے ؟ ،47۔

47۔ اور وہ یہ فقرہ طنز و استہزاء کے طور پر کہتے تھے، یعنی اگر رسالت کوئی چیز ہے تو رسول کسی بڑے رئیس کو ہونا چاہیے تھا۔ نہ کہ ایک عامی معمولی شخص کو۔ مشرکین عرب کے خیال میں منصب رسالت اگر واقعی کسی کو ملنا تھا ہی تو کسی سردار قریش کو ملتا نہ کہ ایک معمولی تاجر کو (آیت) ” ھذا “۔ یہاں تحقیر کے لیے ہے۔
Ayah 25:42

اِنْ كَادَ لَیُضِلُّنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا لَوْ لَاۤ اَنْ صَبَرْنَا عَلَیْهَا١ؕ وَ سَوْفَ یَعْلَمُوْنَ حِیْنَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 25:42 in the Quran reader

اس (شخص) نے تو ہم کو ہمارے معبودوں سے ہٹا ہی دیا ہوتا اگر ہم ان پر قائم نہ رہتے،48۔ اور عنقریب یہ جان لیں گے جب عذاب دیکھ لیں گے کہ کون (شخص) راہ سے ہٹا ہوا تھا ؟

48۔ یعنی وہ تو کہوخیر ہوگئی کہ ہم اپنی استقامت سے اپنے طریق قدیم پر قائم رہے، ورنہ اس شخص میں قوت تسخیر وجادوبیانی اس غضب کی ہے کہ اس نے ہمیں اکھاڑ ہی دیا ہوتا۔
Ayah 25:43

اَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ١ؕ اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَیْهِ وَكِیْلًاۙ Open ayah 25:43 in the Quran reader

آپ نے اس کی بھی حالت دیکھی ہے جس نے اپنی خواہشوں کو اپنا خدا بنا رکھا ہے ؟ کیا آپ اس کے ذمہ دار رہ سکتے ہیں،49۔

49۔ یعنی آپ ان پر مسلط کرکے تو بھیجے نہیں گئے ہیں، پھر آپ ان کی بےراہی پر غم کیوں کیجئے۔ (آیت) ” من التخذ الھہ ھوہ “۔ سے یہ صاف ہوگیا کہ ان کی گمراہی کی بنیاد میں کوئی شبہ عقلی واجتہادی نہیں، بلکہ محض اتباع ہوائے نفس ہے۔ جاہلیت عرب کے لوگ آج ہی کل کی فرنگی قوموں کی طرح ایک نیم دہری قسم کے الحاد پسند لوگ تھے۔ ان کی طبیعت ذکر وفکر آخرت کی طرف آمادہ ہی نہیں ہوتی تھی، اور بت پرستی سے بھی بڑھ کر ہوا پرستی اور دنیوی لذات میں مبتلا رہتے تھے۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔
Ayah 25:44

اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْ یَعْقِلُوْنَ١ؕ اِنْ هُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:44 in the Quran reader

یا آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ ان میں اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں یہ تو محض چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بےراہ ہیں،50۔

50۔ (کہ وہ مکلف نہیں اور یہ مکلف ہو کر بھی نہ حق بات سنتے ہیں نہ فہم سے کام لیتے ہیں) (آیت) ” کالانعام “۔ چوپایوں سے تشبیہ ان کی بےحسی اور عدم تأثر میں ہے۔
Ayah 25:45

اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ١ۚ وَ لَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًا١ۚ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْهِ دَلِیْلًاۙ Open ayah 25:45 in the Quran reader

کیا تو نے اپنے پروردگا رپر نظر نہیں کی کہ اس نے سایہ کو کیوں کر پھیلا دیا ہے،51۔ اور اگر وہ چاہتا تو اسے ٹھہرایا ہوا رکھتا پھر ہم نے آفتاب کو اس پر ایک علامت مقرر کردیا،52۔

51۔ (اے مخاطب ! ) یہاں مسئلہ یہ بیان ہوا ہے کہ چیزوں کے سایہ کا طلوع آفتاب کے بعد، صبح کے وقت پڑھنا اور آفتاب کے بلند ہونے پر خصوصا دوپہر کے وقت بالکل گھٹ جانا اور پھر بڑھتے بڑھتے شام کو معدوم ہوجانا، یہ سب بہ تخلیق باری تعالیٰ ہے۔ ارادۂ حق کا محتاج اور اس کے ماتحت ہے۔ محض اقتضائے طبیعت سے خود بخود نہیں ہورہا ہے۔ (آیت) ’ الظل “۔ صوفیہ کی اصطلاح میں ممکنات کو واجب الوجود کا ظل (سایہ) کہا گیا ہے۔ 52۔ یعنی آفتاب کے طلوع وبلندی کو ایک ظاہری علامت سایہ کی درازی وکوتاہی پر بنا دیا۔ اہل اشارات نے یہاں یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ سارے عالم کی تخلیق و ربوبیت وفنا حق تعالیٰ کے آفتاب قدرت سے وہی نسبت رکھتی ہے جو سایہ کو نور آفتاب سے ہے۔
Ayah 25:46

ثُمَّ قَبَضْنٰهُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا Open ayah 25:46 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کو اپنی طرف آہستہ آہستہ سمیٹ لیا،53۔

53۔ یعنی وہ سایہ جو اس کے نزدیک معدوم ہوجاتا ہے۔ لیکن علم الہی سے غائب نہیں ہوجاتا۔
Ayah 25:47

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا وَّ النَّوْمَ سُبَاتًا وَّ جَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا Open ayah 25:47 in the Quran reader

اور وہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لئے رات کو پردہ کی چیز اور نیند کو آرام کی چیز اور دن کو گویا) جی اٹھنے کا وقت بنادیا،54۔

54۔ بیان توحید ویکتائی ذات حق کا ہورہا ہے۔ دن ورات اس نے بنائے، اپنی قدرت سے بلاکسی شرکت کے اور اپنی حکمت سے کسی خاص مقصد ومصلحت کے لئے۔ ایسے مضامین کی پوری قدر اسی وقت ہوتی ہے جب مشرک قوموں کے عقیدے بھی پیش نظر ہوں، جنہوں نے خود دن اور رات کو دیوتا قرار دیا ہے یا انہیں کسی دیوی یادیوتا کا پیدا کیا ہوا مانا ہے۔ (آیت) ” والنوم سباتا “۔ نیند کا باعث تفریح وتازگی ہونا ایک طبی حقیقت ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔
Ayah 25:48

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًاۙ Open ayah 25:48 in the Quran reader

اور وہ وہی ہے جو اپنی بارش رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیج دیتا ہے کہ وہ خوش کردیتی ہیں اور ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں خوب پاک وصاف (کرنے والا) ،55۔

55۔ ہوا، بارش وغیرہ سب کا خالق وہی ایک ہے۔ اندر دیوتا یا اور کوئی دیوی دیوتا وجود نہیں رکھتے، طھور فعول کے وزن پر طاہر کا صیغہ مبالغہ ہے، اور امام ابو حنفیہ (رح) نے اسے طاہر ہی کے معنی میں لیا ہے، دوسرے بعض فقہاء نے اسے مطھر کے معنی میں بھی لیا ہے واختلف الناس فی معنی وصفہ بانہ طھور علی قولین احدھما انہ مطھر لغیرہ وبہ قال مالک والشافعی وخلق کثیر سواھما والثانی انہ وبمعنی طاھر وبہ قال ابو حنیفۃ (ابن العربی) فقہاء مفسرین نے آیت کے تحت میں طہارت آب کے متعلق طویل بحثیں چھیڑ دی ہیں، جن کا تعلق تفسیر قرآنی سے نہیں، فقہیات سے ہے۔ یہاں صرف اتنا جان لینا کافی ہے کہ پانی کے اس وصف مخصوص سے فقہاء نے یہ استنباط کیا ہے کہ حکمی نجاستوں کے ازالہ اور طہارت کا کام صرف آب خالص ہی دے سکتا ہے۔ آب غیر خالص مثلا عرق کیوڑہ، عرق گلاب، شربت انار گو کیسے ہی لطیف ہوں، صرف طاہر ہیں مطہر نہیں۔
Ayahs 25:49–50

لِّنُحْیَِۧ بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا وَّ نُسْقِیَهٗ مِمَّا خَلَقْنَاۤ اَنْعَامًا وَّ اَنَاسِیَّ كَثِیْرًا Open ayah 25:49 in the Quran reader

تاکہ ہم اس کے ذریعہ سے مرادہ پستی میں جان ڈال دیں اور اپنے پیدا کئے ہوؤں میں سے بکثرت مویشیوں اور انسانوں کو سیراب کردیں

وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَیْنَهُمْ لِیَذَّكَّرُوْا١ۖ٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 25:50 in the Quran reader

اور ہم اس پانی کو ان کے درمیان تقسیم کردیتے ہیں تاکہ وہ غور کریں،56۔ تاہم اکثر لوگ ناشکر اگزار ہوئے بغیر نہیں رہتے،57۔

56۔ (اور اس نتیجہ تک پہنچیں کہ یہ سارے طبعی تصرفات اور پھر انسانوں کے درمیان پانی کی حسب مصلحت تقسیم کسی بڑے قادر و حکیم ہی کے ہوسکتے ہیں) (آیت) ” صرفنہ “۔ میں ضمیر پانی کی طرف بھی ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ ترجمہ میں اختیار کیا گیا ہے۔ اور قول کی جانب بھی ہوسکتی ہے یعنی ہم نے یہ حقیقت ان پرانی امتوں کے سامنے بار بار دہرائی ہے۔ (آیت) ” بلدۃ میتا “۔ سے مراد خشک زمین ہے۔ 57۔ (اور سب سے بڑی ناشکری کفر وشرک ہے)
Ayah 25:51

وَ لَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ نَّذِیْرًا٘ۖ Open ayah 25:51 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ایک ایک بستی میں ہم ایک ڈرانے والا بھیج دیتے،58۔

58۔ (اور تنہا آپ پر اتنا بار نہ ڈالتے، لیکن ہماری مشیت تکوینی اس کی مقتضی نہیں ہم تو دنیا کی اصلاح کا کام آپ ہی کے ذریعہ سے لینا چاہتے ہیں)
Ayah 25:52

فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِیْرًا Open ayah 25:52 in the Quran reader

سو آپ کافروں کا کہا نہ مانئے اور قرآن کے ذریعہ سے ان کا مقابلہ زور شور سے کیجیے،59۔

59۔ (جیسا کہ اب تک یہی کرتے رہے ہیں) یعنی کافر تو چاہتے ہی یہ ہیں کہ ان کی آزادی میں فرق نہ پڑنے پائے۔ اور آپ تبلیغ کے کام میں سست پڑجائیں، سو آپ کہیں ان کے کہیں میں نہ آجائیے گا۔ آپ قرآن کے قائم کیے ہوئے دلائل حق کے ساتھ اپنی تبلیغ عام وتام دونوں جاری رکھیے۔ فقہاء نے کہا ہے کہ اعلاء کلمۃ الحق اور ترک دعوت کے باب میں کافروں کی رعایت و اطاعت حرام ہے، اور اعلان قرآن وتبلیغ بالقرآن میں غایت سعی و جہاد واجب ہے۔” بہ “۔ میں ضمیر قرآن کی جانب ہے۔ اے بالقران (ابن جریر۔ عن ابن عباس ؓ
Ayah 25:53

وَ هُوَ الَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ۚ وَ جَعَلَ بَیْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:53 in the Quran reader

اور وہ ہی (اللہ) ہے جس نے دو دریاؤں کو ملایا ایک شیریں تسکین بخش ہے اور ایک کھاری اور تلخ ہے اور دونوں کے درمیان ایک حجاب اور ایک مانع قوی رکھ دیا،60۔

60۔ (جو خود تو خفی اور غیر محسوس ہے لیکن اس کا اثر یعنی امتیاز دونوں پانیوں کے درمیان محسوس ہے) مراد ان دو دریاؤں سے وہ مواقع ہیں جہاں شیریں ندیاں اور نہریں بہتے بہتے سمندر میں آکر گری ہیں، وہاں باوجود اس کے کہ اوپر سے دونوں کی سطح ایک معلوم ہوتی ہے لیکن قدرت الہیہ سے ان میں ایک ایسی حد فاصل ہے کہ ملتقی کے ایک جانب سے پانی لیاجائے تو شیریں سے اور دوسری جانب سے جو کہ جانب اول کے بالکل قریب ہے پانی لیاجائے تو تلخ (تھانوی (رح) ہندوستان میں دو دریاؤں کے درمیان اس قسم کے اختلاط صوری اور افتراق معنوی کا مشاہدہ متعدد مقامات پر ہوسکتا ہے۔ مثلا مشرقی سرحد پر، اراکان (علاقہ برھما) اور چاٹگام کے درمیان اسی طرح ضلع باریسال (مشرقی بنگالہ) میں بھی دو ندیاں ایک دوسرے سے متصل اسی قسم کی بیان کی گئی ہیں۔ مزید معلومات کے لیے ملاحظہ ہو فاضل جلیل مولانا شبیر احمد صاحب عثمانی کا حاشیہ ترجمۃ القرآن (مدینہ پر یس، بجنور، یوپی) یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ دنیا میں پانی کے دو عظیم الشان دخیرہ ہیں۔ ایک سمندری پانی جو کھاری اور پیاس بڑھانے والا ہوتا عظیم الشان ذخیرہ ہیں۔ ایک سمندری پانی جو کھاری اور پیاس بڑھانے والا ہوتا ہے۔ دوسرا پانی جو دریا، جھیل، تالاب، پہاڑی چشموں وغیرہ میں ملتا ہے اور شیریں اور مسکن ہوتا ہے۔ المراد من البحر العذب ھذہ الاودیۃ ومن الاجاج البحار الکبار (کبیر) یہ دونوں پانی باہمی تعامل وتاثر کے باوجود اپنے الگ الگ خصوصیات پر قائم رہتے ہیں۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” البحرین “۔ صوفیہ نے اس نظیر سے فائدہ اٹھا کر معنوی حیثیت سے بھی دوبحر قرار دیئے ہیں، ایک بحر روح، موصوف بصفات حمیدہ۔ دوسرا بحر نفس، موصوف بصفات ذمیمہ۔ اور کہا ہے کہ سطحی طور پر دونوں ایک دوسرے سے ملتبس ومختلط معلوم ہوتے ہیں۔ مگر واقع میں دونوں میں امتیاز ہے، جسے مبصر معلوم کرلیتا ہے۔
Ayah 25:54

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهْرًا١ؕ وَ كَانَ رَبُّكَ قَدِیْرًا Open ayah 25:54 in the Quran reader

اور وہ وہی ہے جس نے انسان کو پانی سے پیدا کیا،61۔ پھر اس کو خاندان والا اور سسرال والا بنایا اور آپ کا پروردگار بڑا قدرت والا ہے،62۔

61۔ یہاں پانی سے مراد نطفہ بشری لیا گیا ہے۔ یجوز ان یرید بہ النطفۃ التی خلق بھا ولد ادم (جصاص) یجوز ان یراد بالماء النطفۃ (روح) اگر مطلق پانی بھی مراد لیا جائے تو اس پر حاشیہ سورة الانبیاء پ 17 میں آیت (آیت) ” وجعلنا من المآء کل شیء حی “۔ کے تحت میں گزر چکا۔ 62۔ (کہ کیسی بہ ظاہر بےحقیقت چیز سے کتنی عظیم الشان اور دور دراز کے تعلقات قائم کردیئے) (آیت) ” فجعلہ نسباوصھرا “۔ اسلام نے سارے انسانی معاشرہ کی بنیاد خاندان ہی پر رکھی ہے اور سسرال کو بھی خاندان ہی کا ایک جزو ٹھہرایا ہے۔ عقد مناکحت کی پوری اہمیت جبھی ذہن نشین ہوگی جب پہلے خاندان کی اہمیت اجتماعی زندگی میں ذہن نشین کرلی جائے۔
Ayah 25:55

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُهُمْ وَ لَا یَضُرُّهُمْ١ؕ وَ كَانَ الْكَافِرُ عَلٰى رَبِّهٖ ظَهِیْرًا Open ayah 25:55 in the Quran reader

اور یہ (مشرک لوگ) اللہ کے مقابلہ میں ان کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انہیں نفع پہنچا سکیں اور نہ انہیں نقصان پہنچا سکیں اور کافر تو اپنے پروردگار کا مخالف ہی ہے،63۔

63۔ (سومخالف کی فکروغم ہی میں آپ کیوں پڑیے اور اس کے ایمان وہدایت کی کیوں اتنی پروا کیجئے) (آیت) ” الکافر “۔ صورۃ مفرد ہے۔ بہ طور اسم جنس آیا ہے۔ والمراد بالکافر الجنس (بیضاوی) یرید بالکافر الجنس (کشاف)
Ayah 25:56

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا Open ayah 25:56 in the Quran reader

اور ہم نے تو آپ کو بس اس لئے بھیجا ہے کہ خوش خبری سنائیں اور ڈرائیں،64۔

64۔ (اس تبشیر وانذار سے بڑھ کر کوئی ذمہ داری آپ پر ہرگز نہیں)
Ayah 25:57

قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 25:57 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ میں تم سے کوئی معاوضہ تو مانگتا نہیں،65۔ ہاں (یہ البتہ چاہتا ہوں کہ) جو کوئی چاہے اپنے پروردگار تک راستہ اختیار کرلے

65۔ (اور میری کوئی غرض، جاہی ومالی اس تبلغ حق کے سلسلہ میں متعلق نہیں) پیغمبر کے ” تبلیغی لکچروں “۔ کو گراں قدر فیسوں سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا، پیغمبر ایک پیکر بےغرضی وبے نفسی کا ہوتا ہے۔
Ayah 25:58

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرَا٤ۚۛۙ Open ayah 25:58 in the Quran reader

اور آپ بھروسہ اسی زندہ پر رکھیے جسے کبھی موت نہیں اور اسی کی حمد میں تسبیح کرتے رہتے اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے (خوب) خبردار ہے،66۔

66۔ (وہ خود ہی جب مناسب سمجھے گا انہیں پوری سزا دے لے گا) اسم باری حی الذی لایموت ہم مسلمانوں کو ایک معمولی سی بات معلوم ہوتی ہے اور چونکہ کان شروع ہی سے اس کے عادی ہیں، حیرت اس پر ہوتی ہے اور چونکہ کان شروع ہی سے اس کے عادی ہیں، حیرت اس پر ہوتی ہے کہ اس کے خلاف کوئی عقیدہ ممکن کیونکر ہے ؟ یہ ہو کیسے سکتا ہے کہ کوئی خدا بھی ہو اور ساتھ ہی فانی بھی ! لیکن دنیا کی دوسری قوموں میں خدائی کے تصور کے ساتھ یہ بقا وعدم فنا کالزوم ہرگز قائم نہیں، مشرک قومیں کثرت سے اپنے دیوتاؤں کی مستقل یا عارضی وفات کی قائل ہیں اور صلیب پر ابن اللہ کی وفات (گوتین ہی دن کے لیے سہی) تو مسیحیت کا بنیادی ومرکزی عقیدہ ہے۔
Ayah 25:59

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ۛۚ اَلرَّحْمٰنُ فَسْئَلْ بِهٖ خَبِیْرًا Open ayah 25:59 in the Quran reader

) وہ) وہی ہے جس نے آسمان و زمین اور جو کچھ دونوں کے درمیان ہے اسے پیدا کردیا چھ دنوں میں پھر وہ تخت پر قائم ہوگیا،67۔ (وہی ہے خدائے) رحمن سو اس کی شان کسی جاننے والے سے پوچھا چاہیے،68۔

67۔ تخت یعنی تخت حکومت۔ (آیت) ” ستۃ ایام، استوی “۔ عرش سب پر مفصل حاشیے سورة اعراف رکوع 7 میں گزر چکے۔ 68۔ (کافروں ومشرکوں، منکروں کو کیا خبر اور کیا قدر ؟ ) مشرک جاہلی قومیں اپنے دیوی دیوتاؤں کو ہوا بنائے ہوئے ان سے محض ڈرنا، سہمنا، خوف کرنا جانتی ہیں۔ صفت رحمانیت کا مظہر کامل ہونا ان کی سمجھ میں ہی نہیں آتا۔ خود مسیحیوں کو بھی اسی صفت باری کے سمجھنے میں ٹھوکر لگی، اور اسی سے انہیں کفار وغیرہ کے عقاید تراشنے کی ضرورت پڑی۔ (آیت) ” بہ “۔ میں ب عن کے معنی میں ہے، یہ بھی کیا گیا ہے کہ سوال کا صلہ جس طرح عن آتا ہے۔ ب بھی آتا ہے۔ اہل نحو سے دونوں قول منقول ہیں۔ والباء فی بہ صلۃ سئل کماتکون عن صلتہ (کشاف) والسوال کما یعدی بعن لتضمنہ معنی التفتیش یعدی بالیاء لتضمنہ معنی الاعتناء (بیضاوی) قال الزجاج معناہ عنہ (کبیر)
Ayah 25:60

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَ مَا الرَّحْمٰنُ١ۗ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ نُفُوْرًا۠۩ Open ayah 25:60 in the Quran reader

اور ان سے کہا جاتا ہے کہ (خدائے) رحمن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں کہ رحمن ہے کیا چیز ؟ ،69۔ کیا ہم اسے سجدہ کرنے لگیں گے جس کے لئے تم ہمیں حکم دو گے اور انہیں اور زیادہ نفرت ہوگئی ہے،70۔

69۔ یہ سوال مشرکین عرب کی طرف سے پیش ہوتا تھا۔ وہ مسلمانوں سے کہتے تھے کہ اللہ تک تو خیر اسے تو معبوداعظم کی حیثیت سے ہم بھی جانتے ہیں، لیکن یہ دوسرا نام (آیت) ” الرحمن “۔ تم کیا لیا کرتے ہو۔ یہ کیا کوئی دوسرا خدا ہے۔ اس کی ماہیت اور صفات تو بیان کرو، مشرکین حق تعالیٰ کی صفت رحمانیت سے بہت ہی دور اور بیگانہ تھے۔ 70۔ (اور بجائے اس کے کہ اسلام سے قریب ہوتے اور زیادہ دور ہوگئے)
Ayah 25:61

تَبٰرَكَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ جَعَلَ فِیْهَا سِرٰجًا وَّ قَمَرًا مُّنِیْرًا Open ayah 25:61 in the Quran reader

بہت عالی شان ہے وہ جس نے آسمان میں بڑے بڑے ستارے بنائے اور اس میں ایک چراغ اور نورانی چاند بنادیا،71۔

71۔ (آیت) ” سرجا “۔ سراج سے مراد یہاں آفتاب ہے۔ یعنی الشمس (راغب) ویعبر بہ کل مضیء (راغب) وھی الشمس المنیرۃ التیھی کالسراج فی الوجود (ابن کثیر) (آیت) ” بروجا “۔ بروج کے معنی بڑے بڑے ستاروں کے ہیں، البروجھی الکواکب العظام (کبیر۔ عن ابن عباس ؓ ھی الکواکب العظام (ابن کثیر، عن مجاہد، و سعید بن جبیر وابی صالح والحسن وقتادۃ) (آیت) ” فیھا “۔ سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ اجرام فلکی، فلک کے اندر ہی ہوں۔
Ayah 25:62

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا Open ayah 25:62 in the Quran reader

اور وہ وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بنا دیا اس شخص کے لئے جو سمجھنا چاہے یا شکر ادا کرنا چاہے،72۔

72۔ مطلب یہ ہے کہ یہ مہیب وعظیم الشان نورانی اجسام تو ایسے ہیں کہ مشرک قومیں انہیں کو دیوتا اور صاحب اختیار و تصرف خدا سمجھ بیٹھی ہیں، ان سب کا ایک نظام کے ماتحت ہونا، ایک آئین میں جکڑا ہونا، ان کے خالق وصانع کی قدرت، حکمت، صفت سب کے کمال، اور صفت یکتائی پر ایک دلیل قوی ہے۔ (آیت) ” لمن ...... شکورا “۔ یہ سب ” سمجھنے والے کی نظر میں استدلالات ہیں اور شکر گزاری کرنے والے کی نظر میں انعامات ہیں۔ “
Ayah 25:63

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا Open ayah 25:63 in the Quran reader

اور (خدائے) رحمن کے (خاص) بندے وہ ہیں جو زمین پر فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں،73۔ اور جب ان سے جہالت والے لوگ بات چیت کرتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں خیر،74۔

73۔ یعنی بجائے فخر و غرور وتمکنت کے جو جاہلیت اور جاہلی قوموں کا شعار خاص ہے ان کے مزاج میں نرمی و تواضع غالب آگئی ہے۔ یہاں تک کہ چال میں اس کا اثر ظاہر ہونے لگا ہے۔ مقصود یہاں رفتار کی کوئی مخصوص ہئیت نہیں بلکہ محض تواضع و انکسار کا بیان ہے۔ المراد مدجسم بالسکینۃ والوقار فیہ (روح) رکوع میں اللہ کے بندگان خاص کے جو اوصاف بیان ہورہے ہیں گوعمومی رنگ میں ہیں تاہم براہ راست اس کے مصداق خود رسول کے معاصر مومنین یعنی صحابہ کرام ہیں جو ابھی ابھی شرک کے دین اور جہالت کے آئین کو چھوڑ کر داخل اسلام ہوئے ہیں رسول کی صحبت سے ان کی قلب ماہیت ہوچکی ہے۔ رکوع کی تفسیر مزید کے لیے ملاحظہ ہوراقم آثم کا ایک مقالہ ” مردوں کی مسیحائی “ کے عنوان سے بہ طور ضمیمہ کے سورت کے خاتمہ پر۔ (آیت) ” عباد الرحمن “۔ میں بندوں کی اضافت رحمن کی جانب ان کے اظہار خصوصیت وفضیلت کے لیے ہے۔ ورنہ تکوینی طور پر تو سارے انسان رحمن ہی کے بندے ہیں۔ ھذہ الاضافۃ للتخصیص والتفضیل والا فالخلق کلھما عباد اللہ (معالم) 74۔ (اور اپنے نفس کے لیے انتقام قولی وفعلی کے درپے نہیں ہوجاتے) (آیت) ” سلما “۔ ” خیر “ اردو محاورہ میں ایسے ہی موقع پر آتا ہے۔ جہاں بات کو ختم کردینا اور پی جانا منظور ہوتا ہے۔ یہ سلام ” تسلیم “ سے نہیں، ” تسلم “۔ سے ہے جو علیحدگی وبرأت کے موقع پر آتا ہے۔ لیس سلاما من التسلیم انما ھو من التسلم۔ تقول العرب سلاما اے تسلما منک اے براءۃ منک (قرطبی) یعنی یہ لوگ نہ صرف اپنے معاملات میں متواضع ومنکسر ہیں بلکہ دوسروں کے مقابلہ کے وقت بھی ضبط و تحمل کے پیکر بنے رہتے ہیں اور از خود کسی پر زیادتی کرنا الگ رہا، جب دوسرے ان پر زیادتی کرنے لگتے ہیں، جب بھی اشتعال قبول کرکے آمادۂ جنگ نہیں ہوجاتے، غرض حقوق اللہ وحقوق العباد دونوں کی ادائی میں سرگرم رہتے ہیں۔ ” جو خشونت، تادیب واصلاح وسیاست شرعیہ یا اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے ہو، اس کی نفی مقصود نہیں۔ “ (تھانوی (رح) (آیت) ” الجھلون “ جہالت والوں سے مراد ہر وہ شخص ہوتا ہے جو بات جہالت کی کرے، مگر جس طرح جاہلیت کا اطلاق خاص طور پر شرک قبل الاسلام پر ہوتا ہے (آیت) ” الجھلون “ سے بھی مراد خصوصیت کے ساتھ وہی دور قبل اسلام کے مشرکین ہیں۔
Ayah 25:64

وَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا Open ayah 25:64 in the Quran reader

اور جو راتوں کو اپنے پروردگار کے سامنے سجدہ قیام میں لگے رہتے ہیں،75۔

75۔ یہ لوگ راتیں شراب خانوں میں، نشاط خانوں میں، ناچ گھروں میں نہیں گزارتے، سینما، تھیٹر وغیرہ میں مارے مارے نہیں پھرتے۔ جائز استراحت میں توغل سے کام نہیں لیتے، بلکہ الٹے نماز و عبادت میں پوری پوری راتیں گزار دیتے ہیں۔
Ayahs 25:65–66

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ١ۖۗ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًاۗۖ Open ayah 25:65 in the Quran reader

اور وہ جو دعائیں مانگتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم سے جہنم کے عذاب کو دور رکھیو کہ بیشک اس کا عذاب پوری تباہی ہے

اِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:66 in the Quran reader

اور بیشک وہ (جہنم) برا ٹھکانا ہے اور (برا) مقام ہے،76۔

76۔ باوجود طاعت و عبادت میں اس اہتمام تام کے ان کی خشیت قلب کی کیفیت یہ رہتی ہے۔
Ayah 25:67

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا Open ayah 25:67 in the Quran reader

اور وہ لوگ جب خرچ کرنے لگتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ تنگی کرتے ہیں اور اس کے درمیان (ان کا خرچ) اعتدال پر رہتا ہے،77۔

77۔ یعنی مالی معاملات میں ان کا طریقہ عین اعتدال ومیانہ روی کا رہتا ہے، نہ وہ افراط کہ معصیت کی راہ میں خرچ کرنے لگیں، نہ یہ تفریط کہ طاعت و عبادت کے موقع پر بھی پیسہ اٹھانے سے بخل کریں۔ مختصر آیت کے اندر صحیح معاشیات ملی وانفرادی کا اصل اصول بیان کردیا ہے۔
Ayah 25:68

وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ یَلْقَ اَثَامًاۙ Open ayah 25:68 in the Quran reader

اور جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے،78۔ اور جس (انسان کی) جان کو اللہ نے محفوظ قرار دے دیا ہے اسے قتل نہیں کرتے مگر ہاں حق پر،79۔ اور نہ زنا کرتے ہیں،80۔ اور کوئی ایسا کرے گا اس کو سزا سے سابقہ پڑے گا

78۔ اور اپنے عقیدہ میں کوئی شائبہ شرک کا نہیں آنے دیتے) 79۔ یعنی بجز اس صورت کے کہ کسی کے قتل کے وجوب یا جوز پر کوئی شرعی سند ہی مل جائے، ان کا دامن قتل وخون سے تمامتر پاک رہتا ہے، اس کی پوری قدر اس وقت ہوگی جب یہ پیش نظر رہے کہ اہل عرب اسلام سے معا قبل بھی قتل و خونریزی میں کس قدر غرق تھے، بات بات پر تلواریں نکل آتیں اور گردنیں کٹ جاتی تھیں۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ 80۔ حالانکہ چند ہی سال قبل ان کی سوسائٹی میں حرام کاری بالکل معیوب نہ تھی، بلکہ ٹھیک آج کل کی جاہلی فرنگی کی طرح اس جاہلی فرنگی قوموں کی طرح اس جاہلی تہذیب میں بھی تھوڑی بہت حرام کاری اور ” خوش وقتی “ عین فیشن میں داخل تھی۔
Ayah 25:69

یُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ یَخْلُدْ فِیْهٖ مُهَانًاۗۖ Open ayah 25:69 in the Quran reader

قیامت کے دن اس کا عذاب بڑھتا جائے گا وہ اس میں (ہمیشہ) ذلیل ہو کر پڑا رہے گا،81۔

81۔ (آیت) ” ذلک “۔ میں اشارہ ان تمام اعمال کی طرف آگیا جن کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ یعنی شرک، قتل، زنا، عذاب کے ساتھ زیادتی عذاب، دوام عذاب اور اہانت کی قیدوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مقصود یہاں کفار ومشرکین ہی ہیں۔ عاصی مومن پر عذاب اگر ہوگا بھی تو محض اصلاح وتطہیر کی غرض سے۔
Ayah 25:70

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:70 in the Quran reader

مگر ہاں جو توبہ کرے اور ایمان لے آئے اور نیک کام کرتا رہے سو ایسے لوگوں کو اللہ ان کی بدیوں کی جگہ نیکیاں عنایت کرے گا،82۔ اور اللہ تو ہی ہے بڑا مغفرت والا بڑا رحمت والا،83۔

82۔ یعنی جو شخص اپنے کفر کو اسلام سے بدل دے اور اپنے فسق کو طاعت سے اس کے گزشتہ یعنی زمانہ کفر کے گناہ تو اسلام کی برکت سے محو ہو ہی جائیں گے، اور اب التزام طاعت سے آیندہ نیکیاں ہی اس کے لیے لکھی جائیں گی ، 83۔ چناچہ بہ اقتضائے مغفرت وہ گناہوں کو محو کردیتا ہے، اور بہ اقتضائے رحیمیت حسنات کو ثبت فرماتا رہتا ہے۔
Ayah 25:71

وَ مَنْ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ یَتُوْبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا Open ayah 25:71 in the Quran reader

اور جو کوئی توبہ کرتا ہے اور نیک کام کرتا ہے تو وہ بھی اللہ کی طرف خاص طور پر رجوع کررہا ہے،84۔

84۔ یہاں ذکر مومن عاصی کا ہے جو معصیتوں سے تائب ہورہا ہے اور آئندہ نیکیاں کرتا ہے۔ یعنی ان معصیتوں کا اعادہ نہیں ہونے دیتا۔ (آیت) ” متابا “۔ متاب مصدر ہے جو فعل کی تاکید کے لیے لایا گیا ہے۔ یعنی مومن عاصی توبہ نصوح کررہا ہے، اللہ کیوں نہ اسے قبول کرے گا۔ اے تاب حق التوبہ وھی النصوح ولذا اکد بالمصدر، فمتابا مصدرمعناہ التاکید کقولہ کلم اللہ موسیٰ تکلیما اے فانہ یتوب الی اللہ حقا فیقبل اللہ توبتہ حقا (قرطبی)
Ayah 25:72

وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ١ۙ وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا Open ayah 25:72 in the Quran reader

اور وہ لوگ ایسے ہیں کہ بیہودہ باتوں میں شامل نہیں ہوتے اور جب وہ لغو مشغلوں کے پاس سے گزرتے ہیں تو شرافت کے ساتھ گزر جاتے ہیں،85۔

85۔ یعنی نظریں نیچی کیے ہوئے سلامت روی کے ساتھ ان بیہودگیوں سے گزر جاتے ہیں نہ ان لایعنی مشاغل کی طرف مشغول ہوتے ہیں، نہ عاصیوں کی تحقیر کرکے اپنا کبر ظاہر کرتے ہیں۔ (آیت) ” الزور “۔ زور کے معنی کذب اور میل عن الحق کے ہیں، (راغب) یشھدون الزور سے مراد لی گئی ہے ناجائز مجمع میں حاضری۔ اے حضور مواضع الکذب (کبیر) ویحتمل کل موضع یجری فیہ مالا ینبغی (کبیر) اور اس کے تحت میں مشرکوں کے جشن اور فاسقوں کے جلسے سب داخل ہیں۔ یدخل فیہ اعیاد المشرکین ومجامع الفساق (کبیر) عن عکرمۃ لعب کان فی الجاھلیۃ یسمی بالزور (قرطبی) ہمارے زمانہ کے میلے ٹھیلے، مختلف ” بازیوں “ کے جمگھٹے، ناچ رنگ کی محفلیں، تھیڑ، سینما وغیرہ سب اس کے تحت میں داخل ہیں۔ دوسرے معنی جھوٹی گواہی دینے کے بھی کیے گئے ہیں۔ الزور یحتمل ان منہ الشھادۃ الباطلۃ (کبیر) اے انھم لایشھدون شھادۃ الزور (کبیر) اور ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ مراد مجالس زور ہیں، جن میں اللہ و رسول سے متعلق باتیں گڑھ گڑھ کر بیان کی جاتی ہیں۔ المراد مجالس الزور التی یقولون فیھا الزور علی اللہ تعالیٰ ورسولہ (کبیر) اور کوئی جھوٹی گواہی اس سے بڑھ کر کیا ہوسکتی کہ شرک کی گواہی دی جائے، امام رازی (رح) نے یہ سب معانی بیان کرکے لکھا ہے کہ درست یہ سب ہوسکتے ہیں۔ البتہ زور کا استعمال کذب کے معنی میں اکثر ہوتا ہے۔ کل ھذہ الوجوہ محتملۃ ولکن استعمالہ فی الکذب اکثر (کبیر) (آیت) ” واذا مروا “۔ یعنی جب کبھی اتفاقی طور پر ادھر ان کا گزر ہوتا ہے۔ (آیت) ” باللغو ‘۔ لغو عملی یا زبانی ہر وہ لایعنی مسئلہ ہے جو بچنے کے قابل ہوتا ہے۔ گانے، تماشے خاص طور پر اس کے مفہوم میں داخل ہیں۔ اے بما ینبغی ان یلقی ویطرح ممالاخیر فیہ (روح) وھو کل مسقط من قول اوفعل فیدخل فیہ الغناء واللھو وغیر ذلک مما قاربہ (قرطبی) لغو کے لیے ملاحظہ ہو پ 18 حاشیہ نمبر 3
Ayah 25:73

وَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْهَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا Open ayah 25:73 in the Quran reader

اور وہ لوگ ایسے ہیں کہ جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے ان کے پروردگار کی آیات کے ذریعہ سے تو یہ ان پر اندھے بہرے ہو کر نہیں گرتے،86۔

86۔ یعنی قرآن کے حقائق ومعارف کی طرف سے اندھے بہرے نہیں ہوجاتے بلکہ عقل وفہم کے ساتھ اس طرف متوجہ ہوتے اور تعمیل احکام میں الگ جاتے ہیں، یہ انہیں بگوش قبول سنتے اور بچشم عبرت دیکھتے ہیں۔ ایات سے مراد احکام الہی بھی ہوسکتے ہیں اور اللہ کی نشانیاں بھی۔
Ayah 25:74

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا Open ayah 25:74 in the Quran reader

اور یہ وہ لوگ ہیں جو دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہم کو پرہیزگاروں کا سردار بنادے،87۔

87۔ یعنی ہمارے گھر والے، ہمارے بیوی بچے، سب ایسے دیندار وپابند شریعت ہوں کہ ہم انہیں دیکھ دیکھ کر باغ باغ ہوجایا کریں۔ اور ہم کو تقوی میں کمال بھی اس درجہ کا عطا کر کہ دوسرے اہل تقوی ہم سے ہدایت پائیں۔ انسان کا بجائے خود دیندار ہونا کافی نہیں، اپنے گھروالوں کی بھی دینداری کی دیکھ بھال اس پر لازم ہے۔ ضمنا یہ بات بھی نکل آئی کہ صاحب اہل و عیال ہونا، ایمان کیا معنی کمال ایمان وتقوی کے بھی منافی نہیں۔ اور اس میں رد ہے مسیحیوں اور بعض ان مشرک قوموں کا جنہوں نے تجرد و انقطاع ورہبانیت کو دلیل کمال سمجھا ہے۔
Ayah 25:75

اُولٰٓئِكَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْهَا تَحِیَّةً وَّ سَلٰمًاۙ Open ayah 25:75 in the Quran reader

ایسے لوگوں کو بالا خانے ملیں گے بوجہ ان کی ثابت قدمی کے اور ان کو وہ ان دعا وسلام ملے گا،88۔

88۔ (فرشتوں کی طرف سے بہ طور جنتیوں کی تعظیم واکرام کے) (آیت) ” بما صبروا “۔ ثابت قدمی سے مراد ہے دین پر ثابت قدمی، ہجوم مشکلات میں صبر و استقامت۔
Ayahs 25:76–77

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:76 in the Quran reader

اسی میں وہ ہمیشہ رہیں گے کیسا اچھا ہے وہ ٹھکانا اور مقام ! آپ کہہ دیجیے

قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ١ۚ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَكُوْنُ لِزَامًا۠ Open ayah 25:77 in the Quran reader

کہ میرا پروردگار تمہاری پرواہ ذرا بھی نہ کرے گا اگر تم عبادت نہ کرو گے سو تم خوب جھٹلاچکے سو عنقریب یہ (تکذیب) وبال بن رہے گی،89۔

89۔ (خواہ دنیا میں، خواہ آخرت میں، خواہ دونوں ہی جگہ) (آیت) ” قل ...... دعآؤ کم “۔ اس میں رد آگیا ان جاہل صوفیوں کا جو محض تبرکات یا کسی صالح کے ساتھ انتساب کو مقبولیت کے لیے کافی سمجھتے ہیں، حقیقۃ دربار خداوندی میں بندوں کی جو بھی قدر ہے ایمان وطاعت ہی کی بنا پر ہے۔