24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 24:35

اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ١ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍ١ۙ یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ١ؕ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ١ؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌۙ Open ayah 24:35 in the Quran reader

اللہ (ہی) آسمانوں اور زمین کا نور ہے،76۔ اس کے نور (ہدایت) کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق ہے اس میں ایک چراغ ہے چراغ قندیل میں ہے قندیل گویا ایک چمک دار ستارہ ہے چراغ روشن کیا جاتا ہے ایک نہایت مفید درخت (یعنی) زیتوں سے جو نہ پورب رخ ہے اور نہ پچھم رخ ہے،77۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خود بخود جل اٹھے گا اگرچہ آگ اسے نہ بھی چھوئے،78۔ نور ہی نور ہے،79۔ اللہ اپنے اسی نور تک جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے،80۔ اور اللہ لوگوں کے لئے (یہ) مثالیں بیان کرتا ہے،81۔ اور اللہ ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے،82۔

76۔ یعنی اللہ ہی نور ہدایت بخشنے والا ہے اہل آسمان کو بھی، اہل زمین کو بھی، یعنی جملہ مخلوقات کو۔ اے ھادی من فی السموت والارض فھم بنورہ الی الحق یھتدون بھذہ من جرۃ الضللۃ یعتصمون (ابن جریر) یقول اللہ سبحانہ ھادی اھل السموات والارض (ابن جریر، عن ابن عباس ؓ ھادی السموت والارض (جصاص عن انس ؓ) اے مثل نور اللہ تعالیٰ فی قلب ال مومن ھو النور الذی یھتدی بہ (معالم) انجیل میں بھی خدا کو نور کہا گیا ہے۔ یوحنا کے پہلے عام خط میں ہے :۔” خدا نور ہے اور اس میں ذرا بھی تاریکی نہیں “ (1۔ 5) اصل انجیل یوحنا باب اول کے شروع میں بھی اس قسم کی کچھ عبارتیں ہیں۔ (آیت) ” نور “۔ اپنے لغوی معنی میں وہ روشنی ہے جس کا ادراک آنکھ سے ہوسکے، تو حق تعالیٰ پر اس کا اطلاق جب بھی ہوگا مجازی ہی معنی میں ہوگا۔ النور فی کلام العرب الضوء المدرک بالبصر فاسنادہ الی اللہ تعالیٰ مجاز (بحر) یا یوں کہا جائے کہ اس کی صفت نورانیت کے اظہار عظمت کے لئے ہے۔ وتسمیتہ تعالیٰ بذلک لمبالغۃ فعلہ (راغب) 77۔ یعنی نہ اس کے جانب شرقی میں کوئی آڑ ہے نہ جانب غربی میں۔ اس کا فیض شرق وغرب کے ساتھ مخصوص نہیں کوئی جانب اس سے خالی نہیں، وہ مقید کسی جہت کے ساتھ نہیں۔ (آیت) ” زیتونۃ “۔ روغن زیتون اپنی لطافت وصفائی و روشنی کے لئے مشہور ہے۔ عرب میں مشہور تر تھا۔ (آیت) ” مثل “۔ اہل تحقیق نے بہ طور عبارۃ النص یہاں لکھا ہے کہ اللہ کی صفات کی مثال بیان کرنا جائز ہے۔ بشرطیکہ خلاف آداب حضرت نہ ہو۔ اور نفی (آیت) ” لیس کمثلہ شیء “۔ میں جس چیز کی کی گئی ہے، وہ وجود مثل ونظیر کی ہے۔ 78۔ یعنی وہ روغن اپنی غایت تنویر سے از خود روشن ہوجانے والا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خود ایمان غایت وضوح سے کسی ایضاح خارجی کا محتاج نہیں۔ 79۔ (آیت) ” نور علی نور “۔ کا یہ ترجمہ اردو محاورہ کے لحاظ سے کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایک تو اس میں خود قابلیت نور کی اعلی درجہ کی تھی پھر ادھر سے فاعل یعنی نار کے ساتھ اجتماع ہوگیا۔ اور پھر اجتماع بھی ان کیفیات کے ساتھ کہ چراغ قندیل میں رکھا ہو۔ جس سے بالمشاہدہ چمک بڑھ جاتی ہے۔ اور پھر وہ ایسے طاق میں رکھا ہو جو ایک طرف سے بند ہے۔ ایسے موقع پر شعاعیں ایک جگہ تیز ہو کر روشنی ہوتی ہے۔ اور پھر تیل بھی زیتون کا جو مزید اشراق وقلت دخان میں مشہور ہے۔ تو اس قدر روشنی ہوگئی کہ جیسے بہت سی روشنیاں جمع ہوگئی ہوں۔ اس کو (آیت) ” نور علی نور “۔ فرمایا۔ یہاں مثال ختم ہوگئی۔ بس اسی طرح مومن کے قلب میں اللہ تعالیٰ جب نور ہدایت ڈالتا ہے تو روز بروز اس کا انشراح قبول حق کے لیے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اور ہر وقت احکام پر عمل کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ اور جب اس کو علم حاصل ہوجاتا ہے تو نور عمل یعنی عزم علی العمل کے ساتھ جو کہ ایک حال رفیع ہے، نور علم بھی منظم ہوجاتا ہے جسے وہ فورا ہی قبول کرلیتا ہے۔ بس علم وعمل جمع ہو کر (آیت) ’ نور علی نور “۔ صادق آجاتا ہے “۔ (تھانوی (رح ) 80۔ (اور انہیں اپنے قانون تکوینی کے ماتحت منزل تک پہنچا دیتا ہے) اس نعمت پر اہل ایمان کو خوش ہونا چاہیے۔ 81۔ (تاکہ معقولات، مجردات محسوسات کی مثالوں کے ذریعہ سے آسان اور قریب الفہم ہوجائیں، اور اس سے خوب ہدایت حاصل ہو) ” یہ ہدایت جو ضرب امثال پر مرتب ہے عامہ ہے۔ ؛ اور (آیت) ” یھدی اللہ “۔ میں ہدایت خاصہ ہے، اس لیے وہاں (آیت) ” من یشآء “ کے ساتھ متعلق ہے اور یہاں جمیع ناس کے لیے۔ پس باہم تعارض نہیں۔ “ (تھانوی (رح ) 82۔ ہدایت کے طریقے بھی اس نے کافی بلکہ وافی اختیار کیے ہیں اور ہر ایک شخص کی صلاحیت ہدایت کا بھی صحیح علم اسی کو ہے۔
Ayah 24:36

فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ١ۙ یُسَبِّحُ لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِۙ Open ayah 24:36 in the Quran reader

وہ) ،83۔ ایسے گھروں میں ہیں جن کے لئے اللہ نے حکم دیا ہے کہ ان کا ادب کیا جائے اور ان میں اس کا نام لیا جائے،84۔ ان میں وہ لوگ صبح وشام اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں،85۔

83۔ یعنی یہی ہدایت پائے ہوئے اشخاص۔ 84۔ مراد مسجدوں کا ہونا ظاہر ہے۔ اکثر المفسرین قالوا المراد المساجد (کبیر) قال ابن عباس ؓ ھذہ البیوتھی المساجد وکذلک قال الحسن و مجاھد (جصاص) (آیت) ” ترفع “۔ رفع کے لفظی معنی بلند کرنے کے ہیں۔ لیکن بلندی ہمیشہ مادی ہی نہیں ہوتی۔ معنوی بھی ہوتی ہے۔ الرفع قال تارۃ فی الاجسام الموضوعۃ ...... وتارۃ فی المنزلۃ اذا شرفھا (راغب) ترفع اے تشرف (راغب) اور معنوی بلندی یہی ہے کہ مسجدوں کی تعظیم وتطہیر کا اہتمام رکھا جائے۔ اے تعظم وتطھر عن الانجاس وعن اللغو من الاقوال (کبیر۔ عن الزجاج) اے تعظم بذکرہ (کبیر۔ عن مجاہد) فقہاء نے یہیں سے مسجد کی تعظیم وادب اور اس کے اندر بیٹھ کر دنیوی امور میں مشغولیت کی ممانعت نکالی ہے۔ ھذا یدل علی انہ یجب تنزیھھا من القعود فیھا لامور الدنیا مثل البیع والشراء وعمل الصناعات ولغو الحدیث الذی لافائدۃ فیہ والسعۃ وما جری مجری ذلک (جصاص) 85۔ صبح وشام سے محاورہ میں مراد دوام سے ہوتی ہے۔ اس سے قطع نظر اصیل کا وقت دن ڈھلنے کے بعد سے پوری رات تک رہتا ہے۔ گویا نماز فجر اگر غدو میں آگئی تو ظہر سے لے کر عشاء تک کی نمازیں اصال میں۔
Ayah 24:37

رِجَالٌ١ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ١۪ۙ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُۗۙ Open ayah 24:37 in the Quran reader

ایسے لوگ جنہیں نہ تجارت غفلت میں ڈال دیتی ہے نہ (خریدو) فروخت وہ ڈرتے رہتے ہیں ایسے دن سے جس میں دل اور آنکھیں الٹ جائیں گی،87۔

86۔ احکام فرعی میں سے یہ دو نہایت اہم ہیں۔ انہیں بطور نمونہ کے بیان کردیا گیا۔ (آیت) ” ذکر اللہ “۔ اللہ کی یاد سے مراداس کے احکام کی بجاآوری ہے۔ (آیت) ” تجارۃ ولابیع “۔ خوب غور کرکے دیکھ لیا جائے۔ اس خاص فضیلت کے موقع پر ذکر کس کا فرمایا گیا۔ گوشہ نشین، تارک دنیا زاہدوں راہبوں کا نہیں۔ بلکہ ان کا جو دنیا کے معاملات میں پوری طرح پڑے ہوئے ہیں۔ بیع وتجارت میں لگے ہوئے ہیں۔ پھر بھی دل ان کے کہیں اور ہی اٹکے ہوئے ہیں۔ فرائض میں غفلت نہیں کرتے۔ ادائے حقوق میں سستی نہیں برتتے۔ روی عن الحسن فی ھذہ الایۃ واللہ لقد کانوا یتبایعون فی الاسواق فاذا حضر حق من حقوق اللہ بدء و ابحق اللہ حتی یقضوہ ثم عادو الی تجارتھم (جصاص) صوفیہ کے مسئلہ خلوت درانجمن کی اصل یہیں سے نکلتی ہے۔ 87۔ یہ بیان ان کے کمال خشیت وتقوی کا ہے کہ باوجود یہیں سے نکلتی ہے۔
Ayah 24:38

لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 24:38 in the Quran reader

انجام یہ ہوگا کہ اللہ ان کو ان کے اعمال کا بہت ہی اچھا بدلہ دے گا اور ان کو اپنے فضل سے اور بھی زیادہ دے دے گا اور اللہ جسے چاہتا ہے بیشمار دے دیتا ہے،88۔

87۔ یہ بیان ان کے کمال خشیت وتقوی کا ہے کہ باوجود پابندی احکام کے ہر وقت روز جزاء سے ڈرتے رہتے ہیں۔ 88۔ مفصل ومستقل متعین وعدہ، اہل ایمان سے جس جزا کا ہے وہ تو جنت ہے۔ اس کے علاوہ محض اپنے فضل وکرم سے اللہ جس کو جتنا نواز دینا چاہے اس کے لیے کوئی حدوحساب ہی نہیں۔ اسلام کا خدا بعض دوسرے مذہبوں کی طرح کرم وعطا میں کنجوس نہیں۔
Ayah 24:39

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْئًا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ Open ayah 24:39 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں ان کے اعمال مثل سراب کے ہیں چٹیل میدان میں کہ پیاسا اس کو پانی خیال کرتا ہے یہاں تک کہ جب اس کے پاس آیا تو اسے کچھ بھی نہ پایا اور اس کے پاس (قضاء) الہی کو پایا،89۔ سو اللہ نے اس کا حساب پورا چکا دیا،90۔ اور اللہ بہت ہی جلد حساب کردیتا ہے

89۔ یعنی تڑپ کر پیاس سے مرگیا۔ یہ مثال ان کافروں، منکروں کی ہے جو اپنے اپنے باطل مذہب پر قائم، اپنے زعم میں عمر بھراعمال صالحہ میں لگے رہے اور جزائے آخرت کے امیدوار۔ ان بدنصیبوں کی آخری مایوسی کی شدت کا کیا ٹھکانا ہے کہ جب حقیقت کا انکشاف ہوگا تو ان کے دل خوش کن امیدیں کچھ بھی کام نہ دیں گی، اور غایت تحسر کے ساتھ انہیں قعر ہلاکت میں گرنا ہوگا۔ 90۔ یعنی عمر کا خاتمہ کردیا۔
Ayah 24:40

اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ١ؕ اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠ Open ayah 24:40 in the Quran reader

یا (وہ اعمال) ایسے ہیں جیسے بڑے گہرے سمندر کے اندرونی اندھیرے کہ اس کو ایک (بڑی) موج نے ڈھانپ لیا ہو پھر اس (موج) کے اوپر (ایک اور) موج ہو (پھر) اس کے اوپر بادل ہو (غرض) اوپر تلے اندھیرے ہیں اگر کوئی اپنا ہاتھ نکالے تو اس کے دیکھنے کا احتمال تک نہیں،91۔ اور جس کو اللہ ہی نور (ہدایت) نہ دے اس کے لئے (کہیں سے) نور نہیں،92۔

91۔ یہ مثال ان کافروں کی ہے، جو سرے سے ملحد یا لامذہب ہیں اور جنہیں کوئی وہمی سہارا بھی آخرت کا حاصل نہیں، ان کی غایت ظلمانیت کا کیا کہنا۔ ا 9 تو قعر سمندر کی تاریکیاں خود ہی معاذ اللہ کیا کم ہیں، اور پھر سطح سمندر کے اوپر موج در موج اور اس پر چھائی ہوئی گھٹائیں، غرض کیسا کچھ اندھیرا گھپ ! 92۔ چناچہ یہ بھی اپنے اعراض کے باعث ایسی تاریکیوں میں گھرے اور پڑے رہ گئے ہیں کہ اب ان کا کوئی سہارا نہیں ! انہیں چاہیے تھا کہ اتباع احکام الہی کا قصد اپنی طرف سے کرتے، حق تعالیٰ اپنی عادت کے موافق ان کے عزم پر فعل کو بھی ضرور مرتب کردیتا۔ (آیت) ” ومن لم یجعل اللہ لہ نور “۔ اور اللہ کی طرف سے ہدایت سے محروم وہی رہتے ہیں جو خود ہی حصول ہدایت کا قصد نہیں کرتے۔ صوفیہ نے یہیں سے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ جس میں استعداد نہیں اس میں عقل بھی نہیں۔
Ayah 24:41

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ١ؕ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِیْحَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 24:41 in the Quran reader

کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ کی تسبیح کرتے رہتے ہیں جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں اور پرند بھی جو پر پھیلائے ہوئے ہیں،93۔ ہر ایک کو معلوم ہے اپنی اپنی دعا اور اپنی تسبیح،94۔ اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ لوگ کرتے رہتے ہیں،95۔

93۔ (اور بہ ظاہر زمین و آسمان کی درمیانی فضا میں معلق) (آیت) ” الم تر “۔ خطاب عام سننے والے سے ہے۔ یعنی کیا تجھ پر دلالت عقل ومشاہدات سے یہ بات واضح نہیں ہوتی ؟ (آیت) ’ یسبح لہ من فی السموت والارض “۔ یہ تسبیح خواہ قالا ہو یا حالا ہر صنف موجودات کے اپنے اپنے مرتبہ وجود کے مطابق ہوتی ہے۔ (آیت) ” والطیر “۔ پرند پرستی جاہلی قوموں میں سب سے زیادہ پھیلی رہی ہے۔ باز، عقاب، طوطا، نیل کنٹھ، ہنس، شکرہ اور خدا معلوم کتنے اور پرندے پج چکے ہیں۔ مخلوقیت وعبدیت کے موقع پر پرندوں کا ذکر خصوصیت کے ساتھ، عجب نہیں کہ اسی مصلحت سے ہو۔ 94۔ (بہ طریق الہام) (آیت) ” کل “۔ یہاں مراد پرند (الطیر) بھی ہوسکتی ہے۔ جو بالکل قریب ہے۔ اور ہر موجود و مخلوق بھی مراد ہوسکتی ہے۔ 95۔ (اور وہ ان کو وقت مناسب پر سزا دے کر رہے گا) اشارہ ہے ان لوگوں کی جانب جو دلالتوں کے باوجود توحید ایمان سے اعراض کرتے رہتے ہیں۔
Ayah 24:42

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 24:42 in the Quran reader

اور اللہ ہی کی ملک ہیں آسمان اور زمین اور اللہ ہی کی طرف واپسی ہے،96۔

96۔ اس وقت ملکیت وحاکمیت سب کے مشاہدہ میں آکر رہے گی۔
Ayah 24:43

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَهٗ ثُمَّ یَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْهَا مِنْۢ بَرَدٍ فَیُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُ١ؕ یَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ یَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِؕ Open ayah 24:43 in the Quran reader

کیا تجھے یہ علم نہیں کہ اللہ ایک ایک بادل کو چلاتا رہتا ہے پھر اس کو باہم ملا دیتا ہے پھر اس کو تہ بتہ کردیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے بارش کو کہ وہ اس کے بیچ میں نکل کر آتی ہے اور اسی بادل سے یعنی اس کے بڑے بڑے حصول میں سے اولے برساتا ہے پھر ان کو جس پر چاہتا ہے گراتا ہے اور اسے ہٹا دیتا ہے جس سے وہ چاہتا ہے اس (بادل) کے بجلی کی چمک گویا اب بینائی جایا ہی چاہتی ہے،97۔

97۔ غرض اپنی مشیت تکوینی کے یہ عجائب وغرائب ہر لحظہ وہر آن دکھاتا رہتا ہے۔ دیکھنے کے لیے صرف چشم بینا ہونا چاہیے۔ ایک مناسب وقت پر مناسب موسم میں، ابر کو پیدا کرنا، ایک مناسب بلندی پر لے جانا، ہوا میں مناسب حال تغیرات پیدا کرنا، ابر کے منتشر ٹکڑوں کو تلے اوپر جمع کرکے انہیں گھنگھورگھٹا کی شکل میں تبدیل کردینا، پھر ایک مناسب مقدار میں مناسب مدت تک بارش کرتے رہنا یہ سب کام اسی صانع مطلق و حکیم برحق کے ہیں۔ (آیت) ” من السمآء “۔ سمآء کے لغوی معنی پر حاشیے کئی بار گزر چکے۔ ہر بلند سائبان اور چھت پر اس کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ یہاں مراد ابر ہے۔ (آیت) ” من جبال “۔ عربی محاورہ میں کثرت و عظمت کے اظہار کے لیے آتا ہے۔ مثلا کثرت علم کے موقع پر عندہ جبال من العلم (کثرت زر کے موقع پر فلان یملک جبالا من ذھب (بحر) اردو محاورہ میں بھی بولتے ہیں۔ ” اس کے پاس تو سونے پہاڑ ہیں “۔ زجاج لغوی کا قول نقل ہوا ہے کہ (آیت) ” من جبال “ یہاں کجبال کے معنی میں ہے۔ حرف تشبیہ ک محذوف ہے۔ (بحر) سحابا۔ لفظ واحد ہے۔ لیکن بہ طور اسم جنس جمع کے معنی میں ہے۔ المعنی یسوق سحابۃ الی سحابۃ (بحر) (آیت) ” بینہ “۔ کو بین اجزاۂ کے معنی میں لیا گیا ہے۔ اے یؤلف بین اجزاۂ (بحر) (آیت) ” فیصیب بہ من یشآء “۔ جسے چاہتا ہے اپنی مشیت تکوینی کے مطابق مال اور جان کا نقصان پہنچا دیتا ہے۔ (آیت) ” یصرفہ عن من یشآء “۔ جس کو چاہے اپنی مشیت تکوینی کے مطابق محفوظ کردیتا ہے۔ (آیت) ” من السمآء “۔ میں من ابتداء غایت کا ہے۔ اور (آیت) ” من جبال “ میں من تبعیض کا ہے اور (آیت) ” من برد “۔ میں من تبیین جنس کا ہے۔ (جصاص)
Ayah 24:44

یُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 24:44 in the Quran reader

اللہ رات اور دن کو الٹتا پلٹتا رہتا ہے اس میں اہل بینش کے لئے (بڑا) سبق ہے98

98۔ (اللہ کی توحید ربوبیت کا، اس کی صنعت کاملہ وقدرت مطلقہ کا) یہ ساری صناعیاں اسی صانع مطلق کی ہیں، کوئی دیوی دیوتا اس میں شریک نہیں۔
Ayah 24:45

وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْنِ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ١ؕ یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 24:45 in the Quran reader

اور اللہ ہی نے ہر چلنے والے جانور کو پانی سے پیدا کیا ہے سو ان میں وہ بھی ہیں جو پیٹ کے بل چلتے ہیں اور ان میں وہ بھی ہیں جو دو پیروں پر چلتے ہیں اور ان میں وہ بھی ہیں جو چار پیروں پر چلتے ہیں اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے بیشک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے99

99۔ (اسے کچھ بھی مشکل نہیں، وہ جو جانور جس قسم کا بھی چاہے پیدا کردے) (آیت) ” یمشی علی بطنہ “۔ پیٹ کے بل چلنے والوں میں کل رینگنے والے جانور، حشرات الارض آگئے۔ مثل سانپ کے اور تیرنے والے جانور بھی مثل مچھلی کے، (آیت) ” یمشی علی رجلین “۔ دو پایہ جانوروں کی مثال خود انسان ہے۔ نیز پرندے جب وہ زمین پر چل رہے ہوں (آیت) ” یمشی علی اربع “ چوپایہ جانوروں کی مثالیں بالکل ظاہر ہیں۔ (آیت) ” واللہ خلق کل دآبۃ من مآء “۔ حاشیہ پ 17 سورة الانبیاء میں گزر چکا۔
Ayah 24:46

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 24:46 in the Quran reader

بیشک ہم نے کھلے ہوئے نشان نازل کئے ہیں اور اللہ جسے چاہے سیدھی راہ کی طرف ہدایت کردیتا ہے،100۔

100۔ یہ احسان خاص ہے ہدایت یافتوں کے لیے۔ یہ ظہور ہے رحمت خاصہ کا۔ (آیت) ’ ’ لقد انزلنا ایت مبینت “۔ یعنی دلائل حق سب کی ہدایت کے لیے نازل کیے ہیں۔ یہ ظہور ہے رحمت عامہ کا۔
Ayah 24:47

وَ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:47 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے (تو) ہیں کہ اللہ اور رسول پر ایمان لے آئے اور ان کا حکم مانا پھر ان میں کا ایک گروہ اس کے بعد سرتابی کرجاتا ہے اور یہ لوگ ( ہرگز) ایمان والے نہیں،101۔

101۔ ان لوگوں کے ایمان کامل کی نفی بیان کی جارہی ہے۔ یعنی دل میں ایمان تو کسی منافق کے بھی نہیں۔ لیکن ان کھلم کھلا عدول حکمی کرجانے والوں نے تو اس ایمان کا ظاہری پردہ بھی ہٹا دیا۔ (آیت) ” من بعد ذلک “۔ یعنی جب اس زبانی دعوی کے عملی ظہور کا وقت آتا ہے۔ ذکر منافقین کا ہے۔ زبان سے تو یہ لوگ بڑے دعوے ایمان و اطاعت کے کیا کرتے ہیں۔ مگر جب وقت اس دعوی کے ثبوت کا آتا ہے۔ تو ان میں کا زیادہ شریر حصہ صاف نکل جاتا ہے۔
Ayah 24:48

وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 24:48 in the Quran reader

اور جب یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جاتے ہیں کہ (رسول) ان کے درمیان فیصلہ کردیں تو ان میں کا ایک گروہ پہلو تہی کرتا ہے،102۔

102۔ (رسول کی خدمت میں حاضری دینے سے) یہ آیت اوپر کی آیت کی تفصیل کررہی ہے۔ یعنی اپنے قضیوں، جھگڑوں کے فیصلہ کے واسطے جب یہ رسول اللہ ﷺ کے حضور میں طلب کیے جاتے ہیں تو یہ لوگ یہ سمجھ کر کہ وہاں تو فیصلہ تمامتر حق و انصاف ہی کے مطابق ہوگا، اور کوئی خیانت، چالاکی چلنے نہ پائے گی، ٹال مٹول کرجاتے ہیں۔ (آیت) ” دعوا الی اللہ “۔ ظاہر ہے کہ ان لوگوں کی طلبی صرف بارگاہ رسول ہی میں ہوتی تھی مگر چونکہ رسول کے فیصلے عین خدائی ہی فیصلے کے نافذ کرنے والے ہوتے تھے اس لیے دعوا کے ساتھ (آیت) ” الی اللہ “ بڑھا دیا گیا۔ (آیت) ” دعوا الی اللہ “۔ میں دعوت حکم اللہ کی طرف ہے۔ دوربین فقہاء نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ حاکم اسلام جب کسی مقدمہ کے تصیفہ کے لیے بلائیں تو حاضری لازمی ہے۔ معناہ الی حکم اللہ ھذا یدل علی من ادعی الی غیرہ حقا ودعاہ الی الحاکم فعلیہ اجابتہ والمصیر معہ الیہ (جصاص)
Ayah 24:49

وَ اِنْ یَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْۤا اِلَیْهِ مُذْعِنِیْنَؕ Open ayah 24:49 in the Quran reader

اور اگر ان کا حق (نکلتا ہوتا) ہے تو (رسول) کی طرف سرتسلیم خم آجاتے ہیں،103۔

103۔ یعنی جب ان کا حق کسی اور کے ذمہ نکلتا ہوتا ہے اور یہ خود مظلوم ہوتے ہیں تو پھر بےتکلف چلے آتے ہیں اس اطمینان پر کہ وہاں تو حق رسی ہو ہی گی،
Ayah 24:50

اَفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ بَلْ اُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 24:50 in the Quran reader

آیا ان کے دلوں میں مرض ہے یا یہ شک میں پڑے ہوئے ہیں یا ان کو یہ اندیشہ ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان پر ظلم نہ کرنے لگیں (نہیں) بلکہ یہ لوگ تو خود ہی ظالم ہیں،104۔

104۔ (اور چونکہ خود برسر ظلم ہوتے ہیں) اس لیے ان مقدمات کو حضور نبوی میں لانے سے پہلو بچاتے ہیں کہ وہاں تو قلعی کھل کررہے گی) (آیت) ’ ’ افی قلوبھم مرض “۔ مرض سے مراد کفر قطعی ہے۔ یعنی آیا یہ انکار نبوت پر جرم میں مبتلا ہیں۔ (آیت) ’ ام ارتابوا “۔ یعنی آیا یہ نبوت و رسالت کی طرف سے شک میں پڑے ہوئے ہیں۔
Ayah 24:51

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:51 in the Quran reader

ایمان والوں کا قول تو یہ ہے، جب وہ بلائے جاتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف کہ (رسول) ان کے درمیان فیصلہ کردیں تو وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا،105۔ تو ایسے ہی لوگ تو فلاں یاب ہیں

105۔ (اور پھر فورا حضور نبوی میں حاضر بھی ہوجاتے ہیں) یعنی اہل ایمان کے قول پر ان کا عمل گواہ رہتا ہے۔ (آیت) ” الی اللہ “۔ کے معنی کیے گئے ہیں کہ حکم الہی کی طرف۔ معناہ الی حکم اللہ (جصاص) اور فقہاء نے اس سے استدلال کیا ہے کہ حاکم شریعت جب طلب کرے حاضری ضروری ہوجاتی ہے۔ ھذا الایۃ دلیل علی وجوب اجابۃ الدعوی الی الحاکم لان اللہ تعالیٰ ذم من دعی الی رسول اللہ لیحکم بینہ وبین خصمہ فلم یجب بالقبح المذمۃ (ابن العربی) تاکید لما تقدم ذکرہ من وجوب الاجابۃ الی الحاکم اذا دعوا الیہ وجعل ذلک من صفات ال مومنین (جصاص) اور فقہاء نے اسی معنی میں یہ حدیث نبوی بھی نقل کی ہے۔ من دعی الی سلطان فلم یجب فھو ظالم لاحق لہ (جصاص)
Ayahs 24:52–53

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 24:52 in the Quran reader

اور جو کوئی بھی کہا مانے کگا اللہ اور اس کے رسول کا اور اللہ سے ڈرے گا اور اس (کی نافرمانی) سے بچے گا تو بس ایسے ہی لوگ بامراد ہوں گے

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ اَمَرْتَهُمْ لَیَخْرُجُنَّ١ؕ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا١ۚ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:53 in the Quran reader

اور یہ لوگ بڑے زور سے اللہ کی قسم کھاتے رہتے ہیں کہ اگر آپ ہمیں حکم دیں تو ہم نکل پڑیں،106۔ آپ کہیے کہ (بس) قسمیں نہ کھاؤ فرمانبرداری معلوم ہے اللہ تمہارے اعمال کی پوری خبر رکھتا ہے،107۔

106۔ (گھر بار سب چھوڑ چھاڑ) اب ذکر انہیں منافقین کا ہے۔ 107۔ (اور اس نے مجھے بتا دیا ہے) مطلب یہ ہے کہ زبانی ونمائشی دعو وں سے کچھ بھی نہیں ہونے کا، ضرورت صرف مخلصانہ عمل کی ہے۔ (آیت) ” طاعۃ معروفۃ “۔ یعنی تمہاری فرمانبرداری کی حقیقت خوب معلوم ہوچکی !
Ayah 24:54

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:54 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو پھر اگر روگردانی کرو گے تو (سمجھ لو کہ) رسول کے ذمہ اسی قدر ہے جس کا باران پر رکھا گیا ہے اور تمہارے اوپر اسی قدر جس کا بارتم پر رکھا گیا ہے،108۔ اور اگر تم نے ان کی اطاعت کرلی،109۔ تو راہ سے جالگو اور رسول کے ذمہ تو صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے،110۔

108۔ یعنی رسول کے ذمہ تو تبلیغ تھی وہ اسے پوری طرح ادا کرچکے۔ اب آگے اس پر عمل تمہارا کام تھا۔ تم وہ نہیں کرتے سو خود ہی بھگتو گے، رسول کا اس سے کیا ضرر ؟ 109۔ (جو عین اطاعت ہے اللہ کی) بندوں کے پاس اور کوئی ذریعہ ہی احکام الہی ومرضیات الہی کے علم کا نہیں بجز وساطت رسول کے۔ صوفیہ نے کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت ہی سے کشف حقائق ہوتا ہے اور وہی حاصل ہے اہتداء کا۔ 110۔ (نہ کہ کسی کو ہدایت پر مجبور کردینا) یہ بات بھی بار بار صاف کرنے کی تھی۔ دنیا کو کثرت سے اس باب میں ٹھوکر لگی ہے۔ (آیت) ” تھتدوا “۔ یعنی ہدایت پاکر خود ہی فائدہ میں رہو گے۔
Ayah 24:55

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْئًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 24:55 in the Quran reader

تم میں سے جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں ان سے اللہ وعدہ کرتا ہے کہ انہیں زمین میں حکومت عطا کرے گا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو حکومت دے چکا ہے،111۔ اور جس دین کو ان کے لئے پسند کیا ہے اس کو ان کے واسطہ قوت دے گا،112۔ اور ان کے خوف کے بعد اس کا امن میں تبدیل کردے گا (بشرطیکہ) میری عبادت کرتے رہیں کسی کو میرا شریک نہ بنائیں،113۔ اور جو کوئی اس کے بعد بھی کفر کرے گا سو ایسے ہی لوگ تو نافرمان ہیں،114۔

111۔ (مثلا قوم طالوت کو جالوت اور زبردست فلسطینیوں کے مقابلہ میں، یا یوشع بن نون کے زمانہ میں بنی اسرائیل کو زبردست قوم عمالقہ کے مقابلہ میں) (آیت) ’ منکم خطاب نوع انسانی سے ہے۔ یعنی تم انسانوں میں سے جو طبقہ بھی ایمان ومقتضیات ایامن پر عمل کرے گا۔ (آیت) ” لیستخلفنھم “۔ یہ استخلاف یا حکومت ارض اسی ایمان وعمل صالح کی برکت سے حاصل ہوگی، آیت کی پوری قدر اس وقت ہوگی۔ جب اس کا زمانہ نزول بھی ذہن میں رہے۔ نازل اس وقت ہوئی ہے۔ جب مسلمان تمامتر حالت مغلوبیت میں تھے اور رسول اللہ ﷺ کی تکذیب ہورہی تھی۔ اس وقت اس دھڑلے سے پیش گوئی کردینا بجز حق تعالیٰ کے اور کسی کا کام ہو نہیں سکتا تھا۔ فقہاء نے کہا ہے کہ یہ گویا نص ہے خلفاء اربعہ کے برسرحق ہونے کی۔ ان کی ذات میں اللہ کا وعدہ استخلاف فی الارض تمکین دین پوری طرح پورا ہو کر رہا۔ البتہ امیر معاویہ ؓ اس زمرہ میں شامل نہیں، کہ وہ نزول آیت کے وقت تک ایمان نہیں لائے تھے۔ اور نص میں ان کی جانب اشارہ نہیں، وفیہ الدلالۃ علی صحۃ امامۃ الخلفاء الاربعۃ ایضا لان اللہ استخلفھم فی الارض ومنکن لھم کما جاء الوعد ولا یدخل فیھم معاویۃ لانہ لم یکن مومنا فی ذلک الوقت (جصاص) الایۃ اوضح علی صحۃ خلافۃ الخلفاء الراشدین ؓ اجمعین لان المستخلفین الذین امنوا وعملوا الصالحات ھم ھم (مدارک) قال بعض السلف خلافۃ ابی بکر وعمر ؓ حق فی کتاب اللہ ثم تلا ھذہ الایۃ (ابن کثیر) 112۔ یہ گویا اس حکومت سے مقصود ہوگا، یعنی حکومت دنیوی مقصود بالذات نہ ہوگی، بلکہ ذریعہ اور واسطہ ہوگی اللہ کے پسند کیے ہوئے دین اسلام کی تقویت کا۔ 113۔ یعنی توحید ومقتضیات توحید پر قائم رہیں۔ (آیت) ” ........ ولیبدلنھم ....... امنا “۔ پر قوت دشمن کی طرف سے خوف ایذاء طبعی ہوتا ہے جو ایمان کامل کے منافی نہیں۔ (آیت) ” لایشرکون بی شیئا “۔ کے ایک معنی تو یہی ہیں کہ کسی کو بھی میرا شریک نہ بنائیں۔ دوسرے معنی یہ ہوسکتی ہیں کہ کسی طرح کا بھی شرک میرے ساتھ نہ روا رکھا جائے۔ 114۔ (اور ان سے کوئی وعدہ استخلاف ارض کا نہیں) (آیت) ” بعد ذلک “۔ سے مراد ہے اس وعدہ کے صدق کے ظہور کے بعد۔ اے بعد الوعد (مدارک) گویا اب کفر وفسق اور اشد ہے۔ اے ھم الکاملون فی فسقھم (مدارک)
Ayah 24:56

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 24:56 in the Quran reader

اور نما زکی پابندی رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور رسول کی اطاعت کرتے رہو تاکہ تم پر رحمت (کامل) کی جائے،115۔

115۔ (دنیا وآخرت دونوں میں) یعنی طاعات بدنی ومالی میں تمامتر مشغول رہو، اور رسول برحق کے جملہ احکام وہدایات کی پابندی کرتے رہو۔ یہ تاکید ہے انہیں ارشادات کی جو اوپر گزر چکے۔ (آیت) ’ ’ اطیعوا الرسول “۔ حکم ابھی اوپر بھی آچکا تھا۔ یہ تکرار ظاہر کر رہی ہے کہ حکم اکدواشد ہے۔ کر رت طاعۃ الرسول تاکیدا لوجوبھا (مدارک)
Ayah 24:57

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 24:57 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں ان کی نسبت یہ خیال نہ کرنا کہ وہ زمین میں (ہمیں) ہرا دیں گے اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور یہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے،116۔

116۔ یعنی آخرت میں تو ان کے لیے عذاب جہنم ہے ہی۔ دنیا میں بھی خیال نہ گزرے کہ ان کی چالیں خدائی تدبیروں پر غالب آسکتی ہیں۔ اور معاندین منکرین ہمارے قہر کی گرفت سے بچ کر کہیں نکل جاسکتے ہیں۔ خطاب یہاں عام ہے ہر پڑھنے والے سے (آیت) ” فی الارض “ یعنی زمین کے کسی حصہ میں بھی۔
Ayah 24:58

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِیْنَ مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ١ؕ مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَ حِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِیْرَةِ وَ مِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِ١ؕ۫ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ وَ لَا عَلَیْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّ١ؕ طَوّٰفُوْنَ عَلَیْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:58 in the Quran reader

اے ایمان والو تمہارے مملوکوں کو اور تم میں جو (لڑکے) حد بلوغ کو نہیں پہنچے ہیں ان کو تم سے تین وقتوں میں اجازت لینا چاہیے،117۔ (ایک) نماز صبح سے پہلے (دوسرے) جب دوپہر کو اپنے کپڑے اتار دیا کرتے ہو اور (تیسرے) بعد نماز عشا (یہ) تین وقت تمہارے پردہ کے ہیں،118۔ ان (اوقات) کے سو ا نہ تم پر کوئی الزام ہے اور نہ ان پر،119۔ وہ بکثرت تمہارے پاس آتے جاتے رہتے ہیں کوئی کسی کے پاس،120۔ اسی طرح اللہ تم سے احکام کھول کر بیان کرتا ہے اور اللہ بڑا علم والا ہے بڑا حکمت والا ہے،121۔

117۔ عام آنے جانے والوں، عاقلوں، بالغوں، آزادوں کے واسطے حکم اوپر گزر چکا ہے کہ گھروں میں جب آئیں اجازت لے کر آئیں۔ اب حکم مل رہا ہے مملوکوں کے لیے، غلاموں اور کنیزوں کے لیے، جنہیں گھروں میں بار بار آنے جانے کی ضرورت رہتی ہے نیز نابالغ بچوں کے لیے جو بلاضرورت بھی گھر کے اندر چکر لگاتے رہتے ہیں، ان کے لیے اس عام حکم کی پابندیاں دشوار تھیں، اب ان کے باب میں حکم الگ نازل ہورہا ہے۔ اللہ اللہ ! مسلمان کے گھر کی اندرونی راحت کا اہتمام کس درجہ مد نظر ہے۔ کیسے کیسے جزئیات تک کے احکام اس غرض کے لیے صادر ہورہے ہیں ! (آیت) ” الذین ملکت ایمانکم “۔ پر حاشیہ پہلے گزر چکا ہے۔ 118۔ (کہ یہ تین وقت عام طور پر تخلیہ واستراحت کے ہوتے ہیں) ” یعنی یہ اوقات چونکہ عادۃ اور غالبا تخلیہ اور استراحت کے ہیں۔ ان میں اکثر آدمی بےتکلفی سے رہتے ہیں۔ اس لیے اپنے مملوکین اور نابالغ بچوں کو سمجھا دو کہ بےاطلاع اور اجازت لیے ہوئے تمہارے پاس نہ آیا کریں “۔ (تھانوی (رح) فقہاء نے تصریح کردی ہے کہ کچھ تخصیص انہیں تین وقتوں کی نہیں۔ جہاں جیسی ضرورت ہو وجود علت پر مدار ہے حکم معلول کا۔ اوقات خواب وتخلیہ تابع نص کے نہیں، بلکہ یہاں خود نص میں رعایت عرف عام کی ہے۔ 119۔ ان پر الزام بلا اجازت چلے آنے میں نہیں اور تم پر الزام انہیں منع نہ کرنے میں نہیں۔ 120۔ (اس کا مطلب موافق مذہب حنفیہ کے یہ ہے کہ غلام تو تمہارے پاس آتے جاتے رہتے ہیں نہ کہ عورتوں کے پاس کیونکہ غلام کا حکم غیر محرم مرد کا سا ہے۔ اور لونڈیاں عورتوں کے پاس بھی۔ اور اسی طرح نابالغ بچے سب جگہ آتے ہیں۔ پس ہر وقت اجازت لینے میں دقت ہے۔ اور چونکہ یہ وقت پردہ کے نہیں۔ اس لیے ان میں اعضائے مستورہ کو چھپائے رکھنا کچھ مشکل نہیں، پس مرد تو غلام کے سامنے ناف سے زانوتک چھپائے رکھے اور عورت کافر لونڈی بجز مواقع زینت کے باقی سب چھپائے رکھے، اور مرد کو لونڈی سے اگر وہ اس کے لیے حلال ہے کسی بدن کا چھپانا ضروری نہیں اور اگر حرام ہے تو ناف سے زانو تک چھپائے رکھے اور عورت مسلمان لونڈی سے صرف ناف سے زانوتک چھپائے رکھے سو اس استتار میں کوئی دشواری نہیں۔ لہذا بےاذن آنا جائز ہوا۔ اور نابالغ بچہ کے روبرو مرد صرف زانو سے ناف اور عورت بہ استثناء مواقع زینت کے سب چھپائے رکھے۔ یہ بھی دشوار نہیں، اور ہر وقت اجازت لینے میں تنگی ہے۔ کیونکہ اس کی آمد رفت بھی بہت ہے “۔ (تھانوی (رح) یعنی ان بکم وبھم حاجۃ الی المخالطۃ والمداخلۃ یطوفون علیکم للخدمۃ وتطفون علیھم لاست خدام (مدارک) استیناف ببیان القدر المرخص فی ترک الاستیذان (بیضاوی) یشق علیھم الاستیذان فی کل وقت لکثرۃ دخولھم خروجھم وھو معنی طوافون علیکم بعضکم علی بعض (جصاص) فقہاء مفسرین نے یہاں سے یہ بھی نکالا کہ احکام مصلحتوں پر مبنی ہوتے ہیں وفیہ دلیل علی تعلیل الاحکام (بیضاوی) 121۔ (سو اس کی نظر انفرادی واجتماعی ساری حکمتوں اور مصلحتوں پر ہے اس کے احکام میں سب ہی پہلوؤں کی رعایت ہوتی ہے)
Ayah 24:59

وَ اِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا كَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:59 in the Quran reader

اور جب تم میں کے لڑکے بلوغ کو پہنچ جائیں،122۔ تو انہیں بھی اجازت لینا چاہیے جیسا جیسا کہ ان کے اگلے لوگ اجازت لے چکے ہیں اسی طرح اللہ تم سے اپنے احکام کھول کر بیان کرتا ہے اور اللہ بڑا علم والا ہے اور بڑا حکم والا ہے،123۔

122۔ یعنی بالغ یا تقریبا بالغ ہوجائیں۔ خطاب یہاں احرار مسلمین سے ہے۔ ممالیک کا ذکر تو ابھی اوپر آچکا۔ 123۔ (اس کے احکام کو خفیف اور اس کی ہدایات کو حقیر نہ سمجھو) یہ تاکید و تکرار اس امر کی صاف دلیل ہے کہ ایہ احکام جو بظاہر محض جزئیات معلوم ہوتے ہیں اللہ کے قانون میں حد درجہ اہمیت رکھتے اور درجہ اہتمام کے مستحق ہیں۔ (آیت) ” فلیستاذنو ..... من قبلہم “۔ یعنی جب بچے سیانے ہونے لگیں تو جس طرح ان کے بڑوں پر اندر آنے کے لیے ہر وقت اجازت کی ضرورت تھی، ان پر بھی اجازت لینا انہیں تین اوقات میں نہیں، بلکہ ہر وقت واجب ہوگی، اے فی جمیع الاوقات کما استاذن الذین بلغوا الحلم من قبلھم۔ یعنی جب بچے سیانے ہونے لگیں تو جس طرح ان کے بڑوں پر اندر آنے کے ہر وقت اجازت کی ضرورت تھی، ان پر بھی اجازت لینا انھیں تین اوقات میں نہیں، بلکہ ہر وقت واجب ہوگی، اے فی جمیع الاوقات کمااستاذن الذین بلغوا لحلم من قبلھم وھم الرجال (مدارک)
Ayah 24:60

وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍ١ؕ وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:60 in the Quran reader

اور بڑی بوڑھیاں جنہیں نکاح کی امید نہ رہی ہو،124۔ ان کو کوئی گناہ نہیں (اس بات میں) کہ وہ اپنے زائد کپڑے اتار رکھیں،125۔ (بشرطیکہ) زینت کو دکھلانے والیاں نہ ہوں،126۔ اور اگر (اس سے بھی) احتیاط رکھیں تو ان کے حق میں اور بہتر ہے،127۔ اور اللہ بڑا سننے والا ہے بڑا جاننے والا ہے،128۔

124۔ یعنی وہ اس سن کو پہنچ گئی ہوں کہ اب اصلامحل رغبت نہ رہیں۔ اور ان کی بےپردگی سے احتمال فتنہ کا نہ باقی رہے۔ (آیت) ” القواعد من النسآء “۔ کے لفظی معنی ہیں خانہ نشین عورتیں۔ 125۔ یعنی نامحرم کے روبرو اس ہئیت سے آجائیں کہ ان کے جسم پر چادر وغیرہ لپٹی نہ ہو۔ یعنی بہ الرداء والمقنعۃ التی فوق الخمار وھو قول ابن مسعود (ابن العربی) 126۔ یہ قید یہاں بھی لگی ہوتی ہے۔ قدرتی یا مصنوعی سنگار کے موقعوں کو نامحرموں کے سامنے بےپردہ لانا اس سن کی بوڑھیوں کے لیے بھی جائز نہیں، جو حد نکاح سے گزر چکی ہوں۔ اس سے ظاہر ہے کہ جوان جہان عورتوں کو اپنے جسم کے اخفاء کے باب میں کتنا اہمتام چاہیے۔ یہاں تک کہ چہرہ اور ہتھیلیاں جو بالذات داخل ستر نہیں، بہ قول فقہاء کے احتمال فتنہ سے وہ بھی داخل ستر ہوجاتی ہیں۔ 127۔ خوب خیال کرلیا جائے۔ حجاب وستر کی جو پابندیاں بوڑھیوں پر واجب نہیں، بہتر وہ بھی ان کے حق میں ہیں۔ 128۔ (تمہارا ظاہر و باطن، تمہارے رمزوکنائے تمہارے ارادے اور نیتیں سب ہی اس پر روشن ہیں)
Ayah 24:61

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآئِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوْ صَدِیْقِكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا١ؕ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِیَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَیِّبَةً١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 24:61 in the Quran reader

نہ اندھے (آدمی) پر الزام ہے نہ لنگڑے (آدمی) پر الزام ہے اور نہ بیمار (آدمی) پر الزام ہے اور نہ خود تم پر اس بات میں کہ تم اپنے گھروں میں سے کھانا کھالو،129۔ یا اپنے باپ کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا (ان گھروں سے) جن کی کنجیاں تمہارے اختیار میں ہوں یا اپنے دوستوں (کے گھروں) سے،130۔ تم پر کچھ الزام نہیں کہ سب مل کر کھاؤ یا الگ الگ،131۔ پھر جب تم گھروں میں داخل ہونے لگو تو اپنے لوگوں کو سلام کرلیا کرو،132۔ (جو) دعا کے طور پر اللہ کی طرف سے (مقرر) ہے بابرکت (اور) عمدہ (چیز) اللہ اسی طرح تم سے کھول کر احکام بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھو،133۔

129۔ عرب جاہلیت میں کھانے پینے کے باب میں ایک ہلکی سی شکل کمیونزم (اشتمالیت) کی جاری تھی، دستور یہ تھا کہ جو جس کے ہاں پہنچ جاتا بےتکلفی سے اس کے ہاں کی چیزیں کھانا پینا شروع کردیتا، یہ بےتکلفی بجائے خود تو اچھی چیز تھی۔ لیکن افراط اس میں اس قدر ہوگئی تھی کہ مستحقین پر نوبت ظلم کی پہنچ گئی تھی اور گھر والے اکثر گھاٹے میں رہنے لگے تھے۔ جب (آیت) ” لاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل “۔ نازل ہوئی تو متقی مسلمان فرط خشیت سے بہت ہی زائد احتیاط کرنے لگے۔ اور وہاں بھی کھانے پینے سے پرہیز کرنے لگے جہاں رضا یقینی طور پر معلوم تھی، اور اپنے ساتھ میں اندھوں، لنگڑوں، بیماروں، معذوروں کالے جانا تو بالکل ہی رک گیا، اس شدت احتیاط کو توڑنے اور اعتدال قائم کرنے کے لئے آیت بالا نازل ہوئی، مطلب یہ ہے کہ جن گھروں کی تفصیل بیان کی جارہی ہے، یہاں خود کھالینے یا اپنے ساتھ معذورین کو کھلا دینے میں جب کہ صاحب خانہ کی رضا کا یقین ہو، کوئی مضائقہ نہیں۔ (آیت) ’ من بیوتکم “۔ اپنے گھروں میں بیوی اور اولاد کے گھر بھی داخل ہیں۔ (آیت) ” علی “۔ یہاں فی کے معنی میں لیا گیا ہے یعنی اندھوں، لنگڑوں وغیرہ کے باب میں نہ تم پر کوئی الزام ہے نہ ان پر۔ 130۔ (کہ عادتا اور اغلبا ان جگہوں میں رضا مل ہی جاتی ہے) اگر کہیں عدم رضا ہو تو فقہاء نے تصریح کردی ہے کہ اس موقع پر یہ حکم ثابت نہ رہے گا۔ اسی طرح اگر ان گھروں کے علاوہ بھی یہ رضا مل جائے تو وہاں یہ حکم ثابت ہوجائے گا، غرض یہ کہ مدار اس حکم کا صاحب خانہ کی رضا پر ہے۔ مسئلہ کی اصل یہ ہے کہ کسی کے گھر کا کھانا بغیر اس کی اجازت کے جائز نہیں۔ البتہ اجازت کے لیے ضروری نہیں کہ ہمیشہ صریحی ہی ہو۔ ضمنی، حکمی، عرفی اجازت بھی اجازت ہی ہے۔ (آیت) ” ماملکتم مفاتحہ “۔ سے مراد وہ گھر ہیں جن کا یہ مخاطب، امین، نگران وغیرہ ہو۔ بعض لوگ جہاں لڑکی بیاہی ہو یعنی اپنے سمدھیانہ میں کھانا پینا باعث عار سمجھتے ہیں۔ یہ تمامتر مشرکین ہند کی صحبت کا اثر ہے۔ 131۔ فرط تقوی سے بعض صحابہ کو اپنے اپنے متعلق خیال یہ پیدا ہوگیا تھا کہ ساتھ کھانے میں کہیں ایسانہ ہو کہ میں زیادہ کھا جاؤں اور ساتھیوں کے حصہ کی حق تلفی ہو کر رہے۔ آیت میں بتایا گیا کہ اتنے دقیق احتمالات قابل اعتناء نہیں۔ ” دو تنگیاں تو اوپر رفع کی جاچکیں، تیسری تنگی جو ساتھ کھانے کے متعلق تھی وہ اب رفع کی جاتی ہے۔ یعنی ایسے ضعیف وسوسے کہ شاید میں زیادہ کھاؤں تو پرایا حق کھالیا اور دوسرا کم کھائے تو اس کا حق رہ گیا۔ شریعت کو مطمح نظر نہیں ہیں۔ مخالطت میں ایسے دقائق کی تکلیف نہیں، البتہ اگر کسی کے کھانے پر گھر والے کی رضا نہ صراحۃ قال سے معلوم ہو نہ دلالت حال سے اس وقت جائز نہیں۔ اس طرح جس مواکلت پر شریک بااختیار راضی نہ ہو اس کی تقسیم ضروری ہے۔ اور اگر شریک بااختیار نہیں ہے جیسے یتیم باعتبار اپنے وصی وقیم کے کہ اس کی رضا وعدم رضا بہ وجہ عدم بلوغ نامعتبر ہے وہاں بلارضا بھی مخالطت درست ہے بشرط رعایت اس کے مصالح کے “ ‘۔ (تھانوی (رح) کھانے میں چھوت چھات کا دخل ہونا، اونچی ذاتوں کا نیچی ذاتوں کے ساتھ ایک کھانے پر نہ جمع ہونا، یہ دستور بہت سی مشرک قوموں کا رہا ہے۔ ہندوستان میں تو یہ دستور آج تک زندہ ہے۔ مصر قدیم میں بھی رہ چکا ہے۔ آیت میں اس عقیدۂ باطل کی بھی تردید کی طرف اشارہ ہے۔ 132۔ یعنی جو مسلمان وہاں موجود ہوں انہیں سلام کرلیاکرو، سعید بن جبیر، حسن بصری، قتادۃ، زہری حضرات تابعین سے یہی معنی مروی ہیں۔ (ابن کثیر) 133۔ ایک بار پھر اس کی تاکید کہ معاشری وخانگی زندگی کے یہ جزئی احکام حد درجہ اہم اور واجب الاعتناء ہیں۔ (آیت) ” کذلک یبین اللہ لکم الایت “۔ ان احکام کے سلسلہ میں یہ فقرہ مکرر ہی نہیں، تیسری بار لایا گیا ہے۔ اور اس سے ظاہر ہے کہ ان احکام کا کس قدر اہتمام مقصود ہے۔ کر رہ ثلاثا لمزید التاکید وتفخیم الاحکام المختتمۃ بہ (بیضاوی) (آیت) ” مبرکۃ “۔ بابرکت اس اعتبار سے کہ سلام پر ثواب مرتب ہوتا ہے۔ (آیت) ” طیبۃ “۔ عمدہ اس اعتبار سے کہ مخاطبین کا دل اس سے خوش ہوجاتا ہے۔
Ayah 24:62

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:62 in the Quran reader

بس مومنین تو وہی ہیں جو ایمان رکھتے ہیں اللہ اور اس کے رسول پر اور جب رسول کے پاس (کسی ایسے) کام پر ہوتے ہیں جس کے لئے مجمع کیا گیا ہے تو جب تک آپ سے اجازت نہیں لے لیتے جاتے نہیں،134۔ بیشک جو لوگ آپ سے اجازت لیتے ہیں وہ وہی لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں،135۔ پھر جب یہ لوگ آپ سے اجازت طلب کریں اپنے کسی کام کے لئے تو آپ ان میں سے جس کیلئے چاہیں اجازت دے دیں،136۔ اور آپ ان کے لئے اللہ سے مغفرت کی دعا بھی کیجیے بیشک اللہ بخشنے والا ہے مہربان ہے،137۔

134۔ منافقین پر تو رسول اللہ ﷺ کی مجلس مبارک ہی میں حاضری بار تھی، پھر عبادت (مثلا خطبہ جمعہ) میں حاضری تو اور زیادہ۔ جب موقع پاتے تو چپکے سے کھسک جاتے۔ ان کے مقابلہ میں یہاں مدح مومنین کی ہورہی ہے کہ ان کی شان تو یہ ہے کہ اگر اتفاقا انہیں کوئی ضرورت مجلس مبارک سے چلے جانے کی پیش آجاتی ہے، تو بھی جب تک آپ ﷺ سے اجازت لے نہ لیں اور آپ ﷺ دے نہ دیں اپنی جگہ سے ہلتے نہیں۔ (آیت) ” امر جامع “۔ کے معنی اہم مشورت کے بھی ہیں۔ جس میں ضرورت اہتمام و اجتماع کی پڑتی ہے۔ ھو الامر الموجب للاجتماع (کبیر) یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ جس معاملہ میں خطاب عام (پبلک اسپیچ) کی ضرورت پڑے۔ کل شیء تکون فیہ الخطبۃ (کبیر عن الضحاک) 135۔ یعنی جس طرح منافق اجازت نہیں لیتا اور مومن بغیر اجازت کے جاتا نہیں، اسی طرح جو اجازت لیتا ہے وہ مومن ہی ہوتا ہے، منافق نہیں ہوتا۔ (آیت) ” انما ال مومن ون “۔ الخ کا حاصل تو یہ ہے کہ ایمان بدون استیذان کے نہیں پایا جاتا، کیونکہ ہر مومن اجازت لیتا تھا۔ اور (آیت) ” ان الذین “۔ الخ کا حاصل یہ ہے کہ استیذ ان بغیر ایمان کے نہیں پایا جاتا۔ کیونکہ کوئی منافق اجازت نہیں لیتا تھا “۔ (تھانوی (رح) (آیت) ” انما ال مومن ون ....... یستاذنوہ “۔ کا حاصل یہ ہے کہ ایمان بدون استیذان کے نہیں پایا جاتا۔ ہر مومن اجازت ضرور لیتا تھا۔ (آیت) ” ان الذین ..... رسولہ “۔ کا حاصل یہ نکلا کہ استیذان بغیر ایمان کے نہیں پایا جاتا۔ کوئی غیر مومن (یعنی منافق) اجازت نہیں لیتا تھا۔ 136۔ یعنی آپ ان میں سے جن کیلیے مناسب سمجھیں اجازت دے دیں، اور جن کے لیے مناسب نہ سمجھیں نہ دیں، ضرورت کے اہم وغیر اہم ہونے کا فیصلہ تمامتر رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں رہا۔ ؛ اور یہی اختیار امام المسلمین کو حاصل ہے۔ فقہاء نے یہاں سے یہ نکالا ہے کہ بعض احکام رسول اللہ ﷺ ہی کی رائے پر چھوڑ دیئے گئے تھے۔ تفویض للامر الی رای رسول اللہ ﷺ واستدل بنہ علی ان بعض الاحکام مفوضۃ الی رایہ (بیضاوی) 137۔ (وہ تو گنہگاروں تک کو معاف کردیتا ہے تو یہاں تو معصیت سے کم کا معاملہ ہے) استغفار کے ذکر سے یہ نکلا کہ گو اجازت لے کر چلا جانا جائز ہے، لیکن بہرحال کچھ بہتر نہیں بلکہ ایک صورت نقص ہی کی ہے۔ اور استغفار جس طرح تلافی معصیت کے لیے ہے تلافی نقص کے لیے بھی ہوتا ہے۔ وذکر الاستغفار للمستاذنین دلیل علی ان الافضل ان لایستاذن (مدارک)
Ayah 24:63

لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا١ؕ قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا١ۚ فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 24:63 in the Quran reader

تم لوگ رسول کے بلانے کو ایسا مت سمجھو جیسا تم میں ایک دوسرے کو بلا لیتا ہے،138۔ اللہ خوب جانتا ہے ان لوگوں کو جو تم میں سے آڑ میں ہو کر کھسک جاتے ہیں،139۔ ان لوگوں کو جو اللہ کے حکم کی مخالفت کررہے ہیں ڈرنا چاہیے کہ کہیں ان پر (دنیا میں ہی) کوئی آفت نازل ہوجائے یا انہیں کوئی درد ناک عذاب آپکڑے،140۔

138۔ (کہ جی چاہا آئے نہ جی چاہا نہ آئے۔ بلکہ رسول کا بلانا ایک حاکمانہ حیثیت رکھتا ہے اجابت واجب ہے اور بلااجازت چلا آنا حرام) این لاتقیسوا دعاء ہ (علیہ الصلوۃ والسلام) ایاکم علی دعاء بعضکم بعضا فی حال من الاحوال (روح) قیل ھذا ھم عن الابطاء والتاخیر اذا دعاھم واختارہ المبرد والقفال وھذا القول موافق لمساق الایۃ وانظمھا (بحر) فقہاء نے کہا کہ یہی حکم امام کے لیے بھی ہے، امام المسلمین اگر اب بھی بلائے تو جانا واجب ہوگا اور بلااجازت چلے آنا ناجائز۔ جو امور مباحات میں داخل نہیں امام کے حکم کے بعد واجب ہوجاتے ہیں۔ اور امت کا کسی جگہ جمع ہونا اور جمع رہنا، جب امام کے حکم سے ہوں، واجب ہوجائیں گے البتہ جب کسی اجتماع میں یہ معلوم ہوجائے کہ اب جمع رہنا امام کی طرف سے مامور نہیں تو بلااجازت اٹھ آنے میں بھی مضائقہ نہیں۔ (آیت) ” دعآء الرسول “ کی اس تفسیر میں مصدر کی اضافت فاعل کی جانب ہے۔ لیکن یہ بھی جائز ہے کہ مصدر کی اضافت مفعول کی جانب کی جائے، اس کے اعتبار سے معنی یہ ہوں گے کہ ” اے لوگو رسول کو اس طرح نہ پکارو جیسے آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے رہتے ہو “۔ مثلا محض یہ محمد ﷺ کہہ کر۔۔۔ منقول یہ تفسیر بھی ہے، لیکن سیاق سے بہت بعید ہے۔ قال مجاھد وقتادۃ ادعوہ بالخضوع والتعظیم نحو یا رسول اللہ یا نبی اللہ ولا تقولوا یا محمد (جصاص) لاتجعلوا تسمیتہ ونداء ہ بینکم کما یسمی بعضکم بعض (کشاف) ذلک نبی من اللہ ان یدعوا رسول اللہ ﷺ بغلظ وجفاء وامرلھم ان یدعوہ بلین و تواضع (ابن جریر) وتعقبہ ابن عطیۃ بان لفظ الایۃ یدفع ھذا المعنی (روح) 139۔ اشارہ انہیں چپکے سے کھسک جانے والے منافقین کی طرف ہے۔ 140۔ اس وعید سے ظاہر ہوگیا کہ امر سے امر ایجابی مراد ہے الایۃ تدل علی ان الامر للایجاب (مدارک) (آیت) ” الذین یخالفون عن امرہ “۔ مراد وہی منافقین ہیں۔ اے الذین یصدون عن امرہ دون ال مومنین وھم المنافقون (مدارک) (آیت) ” عن امرہ “۔ یعنی ان کے دین سے یا ان کی طاعت سے۔ اے عن طاعتہ ودینہ (مدارک)
Ayah 24:64

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قَدْ یَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ١ؕ وَ یَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْهِ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 24:64 in the Quran reader

یاد رکھو اللہ ہی کی ملک ہے جو کچھ بھی آسمانون اور زمین میں ہے،141۔ وہ اس کو بھی جانتا ہے جس (حالت) پر تم اب ہو،142۔ اور اس دن کو بھی جب (سب) اس کے پاس لوٹائے جائیں گے پھر وہ انہیں جتلادے گا جو کچھ انہوں نے کیا تھا اور اللہ سب ہی کچھ جانتا ہے،143۔

141۔ (اور اختیار واقتدار اسی کا کامل ہے) 142۔ (تو کیا بعید ہے کہ یہیں دنیا میں گرفت ہوجائے) 143۔ (اس کا علم جب دارین کے ساتھ متعلق ہے تو وہ سزا جب اور جہاں چاہے دے سکتا ہے)