22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 22:41

اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 22:41 in the Quran reader

(یہ لوگ ایسے ہیں کہ) اگر ہم انہیں زمین میں حکومت دے دیں تو یہ لوگ نماز کی پابندی کریں اور زکوٰۃ دیں اور (دوسروں کو بھی) نیک کام کا حکم دیں اور برے کام سے منع کریں،77۔ اور انجام (سب) کاموں کا اللہ ہی (کے ہاتھ) میں ہے،78۔

77۔ یہ ہے اصلی اور سچی تصویر اسلامی طرز حکومت کی۔ گورنمنٹ اگر مسلمانوں، سچے مسلمانوں کی قائم ہوجائے تو مسجدیں آباد پر رونق ہوجائیں۔ ہر طرف سے صدائیں تکبیر وتہلیل کی گونجا کریں۔ بیت المال کے بعد کوئی ننگا بھوکا نہ رہ جانے پائے۔ عدالتوں میں انصاف بکنے کے بجائے ملنے لگے۔ رشوت، جعلسازی، دروغ حلفی کا بازار سرد پڑجائے۔ امیر کو کوئی حق، کوئی موقع، غریب کی تحقیر کا، ایذا کا نہ باقی رہ جائے۔ غیبتیں، بدکاریاں، چوریاں، ڈاکے، خواب و خیال ہوجائیں۔ آبکاری کے محکمہ کو کوئی پانی دینے والا بھی نہ رہے۔ مہاجنی کو ٹھیوں، سود خوار ساہوکاروں، بینکوں کے ٹاٹ الٹ جائیں۔ گویے نچنئے اگر تائب نہ ہوں، شہربدر کردیئے جائیں، سینما، تھیڑ، تمام شہوانی تماشا گاہوں کے پردوں کو آگ لگادی جائے۔ گندہ، فحش، افسانہ و شاعری کی جگہ صالح وپاکیزہ ادبیات لے لیں۔ غرض یہ کہ دنیا، دنیا رہ کر بھی نمونہ جنت بن جائے۔ (آیت) ” مکنھم فی الارض “۔ کی مناسبت سے بعض صوفیہ نے کہا ہے کہ آیت میں اشارہ ہے اہل تمکین کے مقام کی طرف ان کے ہاں شطحیات نہیں ہوتے اور ان کے کلمات سے کوئی گمراہ نہیں ہوتا۔ محققین نے آیت سے خلفاء اربعہ کی صحت امارت و امامت پر بھی استدلال کیا ہے کہ ان چاروں مہاجرین (یعنی الذین اخرجوا من دیارھم بغیر حق مصداقوں) کے دور حکومت میں ان اوصاف کا تحقق پوری طرح پایا گیا۔ وھو صفۃ الخلفاء الراشدین الذین مکنھم فی الارض ھم ابوبکر وعمر وعثمان وعلی ؓ وفیہ الدلالۃ الواضحۃ علی صحۃ امامتھم لاخبار اللہ تعالیٰ بانھم اذا مکنوا فی الارض قاموا بفروض اللہ علیھم (جصاص) 78۔ (سوعارضی ناکامی ومغلوبیت سے اہل حق کو ہراساں ودل شکتہ نہ ہونا چاہیے)
Ayahs 22:42–44

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوْدُۙ Open ayah 22:42 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو (کیا ہوا) ان سے قبل قوم نوح وعاد وثمود

وَ قَوْمُ اِبْرٰهِیْمَ وَ قَوْمُ لُوْطٍۙ Open ayah 22:43 in the Quran reader

اور قوم ابراہیم وقوم لوط

وَّ اَصْحٰبُ مَدْیَنَ١ۚ وَ كُذِّبَ مُوْسٰى فَاَمْلَیْتُ لِلْكٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١ۚ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 22:44 in the Quran reader

اور اہل مدین بھی (تو اپنے اپنے پیغمبروں کو) جھٹلا چکے ہیں اور موسیٰ بھی جھٹلائے جا چکے ہیں،79۔ سو (پہلے تو) میں نے کافروں کو مہلت دی پھر میں نے انہیں پکڑ لیا سو (دیکھو) میرا عذاب کیسا ہوا،80۔

79۔ یعنی آپ کی قوم جو آپ کے پیام کی اور آپ کی پیامبری کی تکذیب کررہی ہے۔ کوئی نئی اور انوکھی چیز نہیں۔ سارے پیغمبروں کو یہی معاملہ اپنی قوم کی طرف سے پیش آتا رہا ہے۔ اور یہ تو محض تاریخ اپنا اعادہ کررہی ہے۔ نوح، عاد، ثمود، ابرھیم، لوط، مدین، موسیٰ ، ان سب حاشیے گزر چکے ہیں۔ 80۔ (یعنی وہ بڑی بڑی مہذب ومتمدن، پر قوت وپرشوکت، دولت وتمول والی قومیں تباہ وبے نشان ہی ہو کر رہیں۔ اور ان کے علوم وفنون، ان کی صناعی اور انجینئری، ان کی سپاہ اور ان کی خوش تدبیریاں کوئی بھی ہلاکت سے آڑے نہ آسکیں) (آیت) ” فاملیت “۔ عام سنت اللہ ہے یہی کی معاندوں، منکروں پر گرفت فی الفور نہیں ہوتی، بلکہ پہلے انہیں مہلت دی جاتی ہے۔
Ayah 22:45

فَكَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ فَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ Open ayah 22:45 in the Quran reader

غرض کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کرڈالا جو نافرمان تھیں سو وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور کتنے ہی بےکار کنوئیں اور بہت سے قلعی چونے کے محل ! ،81۔

81۔ یعنی ان کے ٹوٹے ہوئے قلعہ اور محل اور ان کے اجڑے ہوئے کنوئیں اب تک ان کے گزشتہ تمدن کی نشاندہی کررہے ہیں۔ (آیت) ” بئرمعطلۃ “۔ کنووں کو قدیم تمدن ومعاشرت میں مرکزی اہمیت حاصل تھی، اب بھی جہاں پانی کے نلوں اور پمپوں کا رواج نہیں، کنواں آبادی وبستی کے اندر بڑی اہم چیز ہوتا ہے۔
Ayah 22:46

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ Open ayah 22:46 in the Quran reader

سو کیا یہ لوگ زمین پر چلے پھرے نہیں کہ ان کے دل ایسے ہوجاتے جن سے یہ سمجھنے لگتے یا کان ایسے ہوجاتے ہیں جن سییہ سننے لگتے،82۔ اصل یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوجایا کرتیں بلکہ دل جو سینوں میں ہیں وہ اندھے ہوجایا کرتے ہیں،83۔

82۔ جغرافیہ، تاریخ، اثریات (آرکیالوجی) کا علم اگر محض علم وفن کی حیثیت سے نہیں بلکہ عبرت پذیری کی غرض سے پڑھا جائے تو داخل عبادت ہے۔ 83۔ سبق عبرت وموعظت حاصل کرنے کی جگہ دل ہے۔ ارشاد یہ ہورہا ہے کہ ان نہ سمجھنے والوں کے دل ہی اندھے ہوگئے ہیں، ظاہری آنکھوں سے دیکھتے سب کچھ ہیں۔ گزشتہ برباد قوموں کے حالات، اور ان کی تہذیب و تمدن بھی، لیکن سبق ان سے کچھ نہیں حاصل کرتے۔
Ayah 22:47

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ١ؕ وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 22:47 in the Quran reader

اور آپ سے یہ لوگ عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں درآنحالیکہ اللہ کبھی اپنے وعدہ کے خلاف نہ کرے گا اور آپ کے پروردگار کے پاس کا ایک دن مثل ایک ہزار سال کے ہے تم لوگوں کے شمار کے مطابق،84۔

84۔ (بہ لحاظ امتداد وبہ لحاظ اشتداد) مرادیہاں روز قیامت ہے۔ مقدار الحساب یوم القیمۃ الف سنۃ (ابن جریر، عن ابن عباس) اے من الایام الاخرۃ (ابن جریر، عن مجاہد) ھذہ ایام الاخرۃ (ابن جریر۔ عن مجاہد) عالم ناسوت کے ہزار سال کا عند اللہ ایک دن کے برابر ہونے کا محاورہ قدیم صحیفوں میں بھی آیا ہے :۔ ” ہزار برس تیرے آگے ایسے ہیں جیسے کل کا دن جو گزر گیا “۔ (زبور۔ 190: 4) اور انجیل میں ہے :۔ اے عزیزو، یہ خاص بات تم پر پوشیدہ نہ رہے کہ خداوند کے نزدیک ایک دن ہزار برس کے برابر ہے، اور ہزار برس ایک دن کے برابر “۔ (2 پطرس۔ 3: 8) (آیت) ” مما تعدون “۔ یعنی تم اہل ناسوت کے حساب کے مطابق۔ مطلب یہ ہوا کہ کسی کی جلدی کرنے یا تقاضا کرنے سے کیا ہوتا ہے۔ عذاب موعود تو اپنے وقت پر آکر رہے ہی گا، اللہ کے احکام میں کسی تغیر وتبدل کا امکان کچھ تھوڑے ہی ہے۔
Ayah 22:48

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا١ۚ وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:48 in the Quran reader

اور کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں میں مہلت دی تھی اور وہ نافرمان تھیں پھر میں نے انہیں پکڑلیا اور میری ہی طرف (سب کی) واپسی ہے،85۔

85۔ اس مہلت سے انہوں نے فائدہ یہ اٹھایا تھا کہ بجائے اپنی حالت کی اصلاح کے الٹے اسی استہزاء واستعجال میں لگی رہیں۔
Ayah 22:49

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 22:49 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ اے لوگو میں تو تمہارے لئے صرف ایک صاف صاف ڈرانے والا ہوں،86۔

86۔ (اور اس سے زیادہ میرا کوئی اختیار نہیں۔ سوا گر تمہاری حسب فرمائش میں عذاب نہ لاسکوں تو اس سے نفس وقوع عذاب کی تکذیب کیسے ہوگی ؟ )
Ayahs 22:50–51

فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 22:50 in the Quran reader

سو جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک کام کرنے لگے ان کے لئے مغفرت ہے اور عزت کی روزی

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 22:51 in the Quran reader

اور جو لوگ کوشش کرتے رہتے ہیں ہماری نشانیوں کے باب میں ہرانے کیلئے،87۔ وہی لوگ دوزخی ہیں

87۔ یعنی نبی کو اور اہل ایمان کو ہرانے کے لیے۔ اہل باطل کی کوششیں حق واہل حق کی مخالفت میں خواہ وہ فلسفہ یا سائنس کے نام سے ہوں یا ادب و شاعری کے یا حکومت وسیاست کے پردہ میں۔ غرض جس نام سے بھی ہوں سب اسی آیت کے تحت میں آجاتی ہیں۔
Ayah 22:52

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّیْطٰنُ فِیْۤ اُمْنِیَّتِهٖ١ۚ فَیَنْسَخُ اللّٰهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْكِمُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌۙ Open ayah 22:52 in the Quran reader

اور ہم نے آپ سے قبل کوئی رسول اور کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا مگر یہ کہ جب اس نے کچھ پڑھا ہو،88۔ تو شیطان نے اس کے پڑھنے کے باب میں شبہ ڈالا،89۔ سو اللہ شیطان کے ڈالے ہوئے شبہ کو مٹا دیتا ہے،90۔ پھر اللہ اپنی آیات کو (اور زیادہ) مضبوط کردیتا ہے،91۔ اور اللہ خوب علم والا ہے خوب حکمت والا ہے،92۔

88۔ (احکام الہی سے) (آیت) ” اذا تمنی “۔ منی کے معنی جس طرح تمنا کرنے کے ہیں، پڑھنے کے بھی ہیں۔ وقال رواۃ اللغۃ الامنیۃ القرأۃ (کبیر) فی امنیتہ اے فی تلاوتہ (راغب) اے قرء وتلا (لسان) تمنی الکتاب قراہ وکتبہ (لسان) چناچہ شاعر اسلام حضرت حسان ؓ کا یہ شعر حضرت عثمان ؓ کے مریثہ کا اور ایک دوسرا شعر بھی بہ کثرت نقل ہوا ہے۔ لسان العرب کے الفاظ یہ ہیں :۔ تمنی کتاب اللہ اخر لیلہ واخرہ لاقی حمام المقادر۔ والتمنی التلاوۃ وتمنی اذاتلاالقران وقال اخر۔ تمنی کتاب اللہ اخر لیلہ تمنی داؤد الزبور علی رسل۔ ان تینوں موقعوں پر تمنی صاف تلاوت وقرأت کے معنی میں ہے۔ اور یہاں یہی مراد ہے۔ یعنی بالتمنی التلاوۃ والقرأۃ (ابن جریر۔ عن الضحاک) ھذا القول اشبہ بتاویل الکلام (ابن جریر) و اکثر المفسرین قالوا معنی قولہ تمنی یعنی تلاوقرأ کتاب اللہ تعالیٰ (معالم) رسول ونبی کے درمیان جو واو عطف آیا ہے بعض نے اسے تفسیری قرار دے کر دونوں کا مفہوم متحد قرار دیا ہے لیکن محقق قول اس بارے میں یہ ہے کہ نزول وحی نبی و رسول دونوں میں مشترک ہوتا ہے۔ باقی رسول وہ نبی ہوتا ہے جو شریعت کے ساتھ بغرض تبلیغ احکام بھیجا جاتا ہے۔ والفرق بینھما ان الرسول من جمع الی معجزۃ الکتب المنزل علیہ والنبی من لم ینزل علیہ کتاب وانما امر ان یدعوا الی شریعۃ من قبلہ وقیل الرسول واضع شرع والنبی حافظ شرع غیرہ (مدارک) 89۔ (منکرین ومذبذبین کے قلب میں اور اہل باطل نے اسی شیطانی حربہ سے کام لے کر مجادلہ ومقابلہ کیا، اپنے اپنے عہد کے رسل وانبیاء سے۔ سو آپ کے معاصر منکرین کا بھی آپ سے اسی القاء شیطانی سے مجادلہ ومقابلہ کرنا کوئی انوکھی مثال تاریخ انبیاء میں نہیں) والمعنی وما ارسلنا من قبلک رسولا ولانبیا الاوحالہ انہ اذا قرأ شیئا من الایات القی الشیطان الشبہ والتخیلات فی مایقرأۂ علی اولیاۂ لیجادلوہ بالباطل ویردوا ماجاء بہ (روح) (آیت) ” الشیطن “۔ شیطان سے یہاں مراد جنس شیطان لی گئی ہے۔ جو سارے شیاطین جن وانس کو شامل ہے۔ وقیل ان الشیطان ھنا ھو جنس یراد بہ شیاطین الانس (بحر) سمی الذی القی ذلک فی حال تلاوۃ النبی ﷺ شیطانالانہ کان من شیاطین الانس (جصاص) یعنی وہ سارے انسان صورت شیطان بھی جو دوسروں کو قرآن واسلام اور حق کے خلاف بھڑکاتے، اکساتے رہتے ہیں۔ اس موقع پر بعض سادہ دل حضرات کی بےخیالی سے ایک لغوقصہ بھی نقل ہوگیا ہے۔ لیکن محققین نے اس کی پوری تردید کردی ہے اور وہ قصہ نہ روایۃ قابل قبول ہے نہ داریۃ چناچہ مشہور وقدیم ترین سیرت نگار رسول ابن اسحاق کا قول ہے کہ یہ قصہ زندیقون کا گڑھا ہوا ہے۔ قال ھذا وضع من الزنادقۃ (کبیر) اور انہوں نے اس کے رد میں ایک پوری کتاب لکھ دی ہے۔ وصنف فی ذلک کتابا (کبیر) اور مشہور محدث امام بیہقی نے کہا ہے کہ یہ قصہ روایۃ بےاصل ہے۔ اس کے راوی مطعون ہیں۔ اور یہ حدیث کی کسی معتبر کتاب میں نقل نہیں ہوا ہے (بحر) ھو مردود عند المحققین (بیضاوی) اما اھل التحقیق فقد قالوا ھذہ الروایۃ باطلۃ موضوعۃ واحتجوا علیہ بالقران والسنۃ والمعقول (کبیر) روایت جتنے طریقوں سے بھی آئی ہے کوئی سی بھی ان میں سے سند متصل کے ساتھ نہیں ہے۔ کلھا مرسلات ومنقطعات (ابن کثیر) 90۔ (جوابات قاطعہ سے، براہین ساطعہ سے، دلائل قاہرہ سے) عارفین صوفیہ کہتے ہیں کہ شیطان کے پیدا کئے ہوئے وسوسہ، اسی سنت الہی کے مطابق خود بخود مضمحل ونابود ہوجاتے ہیں اور محققین اہل تربیت اسی لیے ان کے لیے کسی خاص مستقل تدبیر کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ 91۔ یعنی ان کی قوت کو اور زیادہ واضح و روشن کردیتا ہے۔ 92۔ اس کے علم و حکمت کے سامنے ان خرافاتی اعتراضات کی حقیقت ہی کیا ہے۔
Ayah 22:53

لِّیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْقَاسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍۙ Open ayah 22:53 in the Quran reader

) اور یہ سب اس لئے ہوتا ہے) تاکہ اللہ شیطان کے ڈالے ہوئے (شبہات) کو آزمائش بنادے ان کے حق میں جن کے دلوں میں روگ ہے،93۔ اور ان کے دل بالکل سخت ہیں اور بیشک ظالم لوگ بڑی دور کی مخالفت میں (پڑے ہوئے) ہیں،94۔

93۔ (شک یا تذبذب یاکھلے ہوئے انکار کا) یہ مصلحت تکوینی بیان ہورہی ہے شیطان کے اختیار ووسوسہ اندازی کی۔ 94۔ (کہ حق کو باوجود اس کے وضوح کے قبول نہیں کرتے)
Ayah 22:54

وَّ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَیُؤْمِنُوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَهٗ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:54 in the Quran reader

اور (یہ سب اس لئے بھی) تاکہ جن لوگوں کو فہم عطا ہوا ہے وہ یقین کرلیں کہ یہ آپ کے پروردگار کی طرف سے حق ہے سو اس کے ایمان پر (اور زیادہ) قائم ہوجائیں،95۔ پھر اس کی طرف انکے دل (اور بھی) جھک جائیں اور بیشک اللہ ایمان والوں کو راہ راست دکھاکر رہتا ہے،96۔

95۔ یعنی یہ شیطان کو جو حق تصرف شبہات ڈالنے کا دیا گیا ہے، یہ ایک طرف تو منکرین ومذبذبین کے حق میں آزمائش کا طریقہ ہے، دوسری طرف اہل حق کے لیے ان کے ایمان میں اضافہ اور نور ہدایت میں ترقی کا باعث ہے۔ 96۔ راہ راست پر تو ایمان والے شروع ہی سے ہوتے ہیں، یہاں مراد یہ ہے کہ اللہ اس زیادت یقین کی برکت سے انہیں راہ راست کے انتہائی مقامات تک پہنچا کر رہتا ہے۔
Ayah 22:55

وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ Open ayah 22:55 in the Quran reader

اور جو کافر ہیں وہ تو ہمیشہ اس کی طرف سے شک ہی میں پڑے رہتے ہیں،97۔ یہاں تک کہ ان پر قیامت یک بیک آپہنچے یا ان پر بےبرکت دن کا عذاب آپہنچے،98۔

97۔” شک “ یعنی وہی شکوک و شبہات جو شیطان نے احکام الہی سے متعلق ان کے دلوں میں ڈال دیئے تھے جس طرح ایمان کی برکت سے قلب کی نورانیت روز بروز کامل ترہوتی جاتی ہے، اسی طرح کفر کی نحوست وشامت سے ظلمانیت بھی برابر بڑھتی اور ترقی ہی کرتی جاتی ہے۔ منہ میں ضمیر ’‘’ اس “ سے مراد وہ پڑھا ہوا حکم بھی ہوسکتا ہے جس سے متعلق شیطان نے وسوسہ اندازی کی ہے اور خود قرآن یارسول اللہ بھی مراد ہوسکتی ہے۔ منہ اے من القران اوالرسول اور مما القی الشیطان فی امنیتہ (بیضاوی) 98۔ یعنی قیامت کا محض آپہنچنا ہی اپنی ہولناکیوں کے لحاظ سے کیا کم تھا، چہ جائیکہ اس کا عذاب بھی ان پر واقع ہوجائے۔ قیامت کا بالکل دفعۃ برپا ہونا انجیل میں بھی مذکور ہے :۔” خداوند کا دن چور کی طرح آجائے گا، اس دن آسمان بڑے شور وغل کے ساتھ برباد ہوجائیں گے “۔ (2۔ پطرس۔ 3: 10)
Ayah 22:56

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 22:56 in the Quran reader

حکومت اس روز اللہ ہی کی ہوگی،99۔ وہ ان (سب) کے درمیان فیصلہ کردے گا سو جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل بھی کئے وہ عیش کے باغوں میں ہوں گے

99۔ (براہ راست وبلاوسائط) حکومت تو اللہ کی آج بھی ہے، مگر آج اس پر صدہا پردے درمیانی وسائط کے پڑے ہوئے ہیں۔ اس روز یہ حجابات دور ہوجائیں گے اور ہر کس وناکس کو مشاہدہ حکومت حق کا براہ راست ہونے لگے گا۔
Ayahs 22:57–58

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 22:57 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا سو انکے لئے تو عذاب ذلت والا ہوگا

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْۤا اَوْ مَاتُوْا لَیَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 22:58 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں اپنا وطن چھوڑا پھر وہ مارے گئے یا مرگئے اللہ انہیں یقیناً ایک بہترین رزق دے کر رہے گا،100۔ اور اللہ ہی سب رزق دینے والوں سے بہتر (اور بڑھ کر) ہے

100۔ (جنت میں) یعنی لوگ راہ دین میں ترک وطن کے بعد یا شہید ہوگئے یا اپنی طبعی موت سے مرگئے۔ غرض کسی سبب سے بھی اہل کفر پر غلبہ وفتحمندی کے ثمرات سے اس دنیا میں محروم رہ گئے، وہ اطمینان کامل رکھیں کہ وہ جنت میں ضرور اعلی سے اعلی نعمتوں سے مستفید ومحظوظ ہوں گے۔ (آیت) ” فی سبیل اللہ “۔ اللہ کی راہ “۔ سے مراد اللہ کے دین کی راہ میں۔ رزق کا مفہوم بہت وسیع ہے صرف کھانا پینا ہی مراد نہیں۔ نعمتیں، راحتیں اور آسائشیں دنیوی واخروی ہر قسم کی اس میں آگئی۔ الرزق ھو یقال للعطاء الجاری دنیویا کان اودینیا (ابو البقاء)
Ayah 22:59

لَیُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَهٗ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ Open ayah 22:59 in the Quran reader

وہ انہیں ایسی جگہ داخل کرے گا جسے وہ (بہت ہی) پسند کریں گے اور بیشک اللہ بڑا علم والا ہے،101۔ بڑا حلم والا ہے،102۔

101۔ ہر واقعہ کی حکمت ومصلحت اس پر خوب روشن رہتی ہے۔ اہل ایمان کو دنیا میں اگر ناکامی بھی ہو تو اس سے مایوس وبددل ہرگز نہ ہونا چاہیے۔ 102۔ چناچہ بڑے سے بڑے مجرموں، غداروں، باغیوں کو بھی ہمیشہ فوری ہی سزا نہیں دیتا۔
Ayah 22:60

ذٰلِكَ١ۚ وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْهِ لَیَنْصُرَنَّهُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 22:60 in the Quran reader

یہ (بات تو ہوچکی) اور جو شخص اسی قدر تکلیف پہنچائے جتنی تکلیف اسے پہنچائی گئی اور پھر اس پر زیادتی کی جائے،103۔ تو اللہ اس کی ضرور مدد کرے گا،104۔ بیشک اللہ بڑا معاف کرنے والا بڑا بخشنے والا ہے،105۔

103۔ یعنی ایک شخص پر اس کے دشمن نے ظلم کیا اور اس نے اپنا انتقام لے لیا، اور معاملہ برابر سرابر ہوگیا۔ لیکن اس پر بھی اس مظلوم پر از سرنو زیادتی شروع ہوئی۔ 104۔ (دنیا میں نصرت شرعی ہے، آخرت میں نصرت معنوی ہے) ” اور یہ جو اوپر قید لگائی گئی، (آیت) ” بمثل ماعوقب “ الخ سو اس مماثلت کی مراعاۃ مظلوم کے اجتہاد پر ہے جس میں اس نے اپنی وسعت حتی الامکان مبذول کی ہو اور اس پر بھی اگر مماثلت سے قدرے بیشی ہوجائے جو بوجہ غایت غموض وخفاء کے ضبط میں نہ آسکے تو وہ موجب مؤاخذہ مخل وعدۂ نصرت نہیں “۔ (تھانوی (رح) ” یہ رعایت مماثلت کو وجوب معاملات معاشرت میں ہے نہ کہ جہاد میں، چناچہ ادلہ شرعیہ سے یہ امر ظاہر ومشہور ہے۔ اور نیز جو افعال ہر حال میں معصیت ہیں اور اس عموم سے مستثنی ہیں۔ مثلا کوئی کسی کے والدین کو برا کہے تو عوض میں اس کے والدین کو برا کہنا جائز نہ ہوگا “۔ (تھانوی (رح ) 105۔ (سو وہ خفی ونازک دقائق پر گرفت نہیں کرتا)
Ayah 22:61

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 22:61 in the Quran reader

یہ (یعنی مومنین کی نصرت و غلبہ) اسی سبب سے ہے کہ اللہ رات کو داخل کردیتا ہے دن میں اور دن کو داخل کردیتا ہے رات میں،106۔ اور اس سبب سے کہ اللہ بڑا سننے والا ہے بڑا دیکھنے والا ہے،107۔

106۔ (سوجس کی قدرت اس قدر کامل، اور جس کا انتظام اس قدر مستحکم ہو اس کے لیے نصرت مومنین میں تعجب کی کونسی بات ہے) رات جیسی مہیب، سنسان، کامل تاریکی والی ہستی کو روز روشن میں، اور دن جیسی چہل پہل، ہنگامہ و حرکت اور روشنی کامل والی ہستی کو شب تاریک میں تبدیل کرنا، قدرت کا کوئی معمولی نہیں، نہایت درجہ غیر معمولی کرشمہ ہے۔ بےحسی اس کی طرف سے ہم میں صرف اس سبب سے پیدا ہوگئی ہے کہ اس دائمی معجزہ کو دن رات آنکھوں کے سامنے دیکھتے رہتے ہیں۔ 107۔ وہ ظالموں کے اقوال کو سن رہا ہے، ان کے اعمال کو دیکھ رہا ہے، اسی طرح مظلوم کی مظلومیت قولی وفعلی سب اس پر روشن ہے۔
Ayah 22:62

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 22:62 in the Quran reader

یہ (نصرت) اس لئے بھی (ہوگی) کہ اللہ ہی تو بس حق ہے اور اس کے سو ایہ جس کے سوا یہ جس کو بھی پکار رہے ہیں وہ (بالکل) باطل ہے،108۔ اور اللہ ہی تو عالی شان ہے سب سے بڑا ہے،109۔

108۔ ابھی ابھی قبل والی آیت میں مضمون یہ بیان ہوا ہے کہ اللہ کی اطلاع بھی کامل، قدرت بھی کامل، اب بیان یہ ہورہا ہے کہ وہی تو ایک کامل موجود ہستی ہے، واجب الوجود، اس کے مقابلہ میں جن معبودوں کی حمایت ونصرت پر بھروسہ کیے یہ اہل شرک بیٹھے ہیں، وہ تو خود ہیچ محض ہیں، وہ کسی کی نصرت وحمایت کیا کریں گے۔ 109۔ قدرت اسی کی کامل، نصرت اسی کی حقیقی، اختیارات اسی کے اصلی۔
Ayah 22:63

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١٘ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌۚ Open ayah 22:63 in the Quran reader

کیا تو یہ نہیں دیکھتا کہ اللہ ہی آسمان سے پانی برساتا ہے سو زمین سرسبز ہوجاتی ہے بیشک اللہ بڑا مہربان ہے بڑا خبر رکھنے والا ہے،110۔

110۔ وہی اپنے بندوں کی ساری ضرورتوں سے خواہ انفرادی ہوں یا اجتماعی، قومی ہوں یا ذاتی، جسمانی ہوں یاروحانی، مادی ہوں یا اخلاقی، ذرہ ذرہ واقف ہے۔ اور انہیں کی مناسبت سے یہ کمال مہربانی بڑے بڑے باریک طریقوں سے انتظام کرتا رہتا ہے۔ جاہل و مشرک قوموں ہی نے نہیں، بعض جاہلی فلاسفہ نے بھی خدا کی قدرت وعلم کو محدود وناقص تسلیم کیا ہے اس قسم کی آیتیں ایسے ہی عقائد ترید میں ہیں۔
Ayah 22:64

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 22:64 in the Quran reader

اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور بیشک اللہ ہی بےنیاز ہے اور ہر تعریف کا سزاوار،111۔

111۔ یعنی وہی سب کا مالک بھی ہے اور وہی ہر ضرورت سے، ہر حاجت سے پاک و بالاتر ہے۔ اور ہر ایک کی عبادت سے اور اعانت سے بےنیاز، اور وہی سرتاسر محمود ستودہ صفات ہے۔ جامع کمالات ہے۔
Ayah 22:65

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 22:65 in the Quran reader

کیا تو نے اس پر نظر نہیں کی کہ اللہ نے تمہارے واسطے کام میں لگارکھا ہے اس کو بھی جو کچھ زمین پر ہے اور کشتی کو بھی کہ وہ اس کے حکم سے سمندر میں چلتی ہے اور وہی آسمان کو اس سے روکے ہوئے ہے کہ وہ زمین پر گرپڑے مگر ہاں کہ اسی کا حکم (ہوجائے) ،112۔ بیشک اللہ انسانوں پر بڑا شفقت والا ہے بڑا رحمت والا ہے،113۔

112۔ یعنی اس سارے خارخانہ حیات کو انسان کے کام میں لگا دینے والا، بحری قوتوں کو انسان کا مسخر کردینے والا، زمین آسمان کو ان کی موجودہ ہیئتوں کے ساتھ موجودہ حالتوں پر قائم و برقرار رکھنے والا، سب وہی اکیلا ہے، کوئی اور دیوی دیوتا ان کاموں میں شریک نہیں جیسا کہ بہت سی مشرک قوموں کا مفروضہ ہے۔ اصل مقصود توحید ہی پر استدلال ہے۔ باقی سماء سے مراد بارش اور ابر دونوں بھی ہوسکتے ہیں۔ وسمی المطر سماء لخروجہ منھا (راغب) السماء السحاب والسماء المطر (لسان) قیل للسحاب السماء لانھا عالیۃ (لسان) سمی السحاب سماء لعلوھا (عن الزجاج) وسمی المطر سماء لخروجہ من السماء (تاج) 113۔ اس کی صفات رافت و رحمت کی تجلیاں ہیں جو انسان کو گا رگاہ حیات میں اس منزل و مرتبہ پر قائم رکھے ہوئے ہیں۔
Ayah 22:66

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ١٘ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ Open ayah 22:66 in the Quran reader

وہ وہی تو ہے جس نے تم کو زندگی دی پھر تمہیں موت دے گا پھر تم کو چلائے گا بیشک انسان بڑا ناشکرا ہے،114۔

114۔ (کہ اس یکتا وقابل پر ستش معبود کی توحید کی ناقدری کرکے کفر وشرک کی طرف ڈھل جانا ہے۔ (آیت) ” ھو ........ یحییکم “۔ یہاں اس عقیدہ کا اثبات ہے کہ پیدا کرنے، مارنے اور پھر جلا اٹھنے کی ساری قوتیں ایک ہی معبود یکتا کی ذات بےہمتا میں جمع ہیں، اور سارے تصرفات کی مرکز اسی کی ذات ہے۔ اور اس میں ہندی مشرکوں کے اس عقیدہ کا رد آگیا کہ پیدا کرنے والا کوئی اور ہے، اور باقی رکھنے والا کوئی اور، ہلاک کرنے والا اس کے بھی علاوہ کوئی اور۔
Ayah 22:67

لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ١ؕ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:67 in the Quran reader

ہم نے ہر امت کے واسطے ایک طریقہ (ذبح و عبادت کا) مقرر کر رکھا ہے کہ وہ اس پر چلنے والے ہیں سو انہیں نہ چاہیے کہ آپ سے جھگڑا کریں (اس) امر میں،115۔ اور آپ ان کو اپنے پروردگار کی طرف بلاتے رہیے بیشک آپ ہی سیدھے راستے پر ہیں،116۔

115۔ یعنی یہ منکرین تو تقلید محض کے پجاری ہیں، انہیں اصلا کیا حق آپ پر اعتراض و گرفت کا ہے۔ (آیت) ” منسکا ھم ناسکوہ “۔ منسک سے مراد خصوصی اگرچہ موضع ذبح ہے لیکن لفظ جملہ عبادات کے لیے عام ہے۔ قال عکرمۃ ذبائح ھم ذابحوہ (جصاص) ولیس یمنع ان یکون المراد جمیع العبادات ویکون الذبح احد ماارید بالایۃ (جصاص) محققین نے کہا ہے کہ منسک یہاں شریعت کے مرادف ہے۔ قال ابن عباس یعنی شریعۃ ھم عاملون بھا (معالم) (آیت) ” فی الامر “۔ یعنی مسئلہ جو از ذبیحہ میں۔ یعنی فی امر الذبائح (معالم) شان نزول کی روایتوں میں آتا ہے کہ بعض مشرکوں نے مسلمانوں سے یہ عجیب کٹھ حجتی شروع کی تھی کہ تم لوگ اپنے مارے ہوئے (ذبح کئے ہوئے) کو جائز اور اللہ کے مارے ہوئے (مردار) کو ناجائز سمجھتے ہو۔ 116۔ انہیں آپ کو ٹوکنے کا کوئی حق نہیں۔ البتہ آپ کو حق انہیں ٹوکنے کا ہے کہ آپ تو راہ صحیح پر ہیں۔ آنکھوں والے پر فرض ہے کہ وہ اندھوں کو راستہ بتلائے۔ اندھوں کو یہ حق آنکھوں والوں کے مقابلہ میں نہیں پہنچتا۔ (آیت) ” وادع الی ربک “۔ یعنی اپنے پروردگار کے دین کی طرف بلائیے اے الی الایمان بربک (معالم)
Ayah 22:68

وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 22:68 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ آپ سے جھگڑے نکالتے رہیں تو آپ کہہ دیجیے کہ اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو،117۔

117۔ (اور آپ خود زیادہ رد وقدح میں نہ پڑیے) صوفیہ عارفین نے منکر معاند سے جو طالب حق نہ ہو، ترک جدال کا جو طریقہ اختیار کیا ہے اس کا مبنی و ماخذ منجملہ اور آیتوں کے یہ آیت بھی ہے۔
Ayah 22:69

اَللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 22:69 in the Quran reader

اللہ تمہارے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کردے گا اس باب میں جس میں تم اختلاف کرتے رہتے ہو،118۔

118۔ فیصلہ سے مراد عملی مشاہد فیصلہ ہے۔ ورنہ دلائل و شواہد کے لحاظ سے تو فیصلہ دنیا ہی میں ہوچکا ہے۔
Ayah 22:70

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 22:70 in the Quran reader

کیا تمہیں علم نہیں کہ اللہ واقف ہے ہر اس چیز سے جو آسمان اور زمین میں ہے یہ سب نامہ اعمال میں (بھی درج) ہے بیشک یہ (یعنی فیصلہ) اللہ کے نزدیک آسان ہی ہے،119۔

119۔ یعنی جب حکومت کے ساتھ ساتھ علم بھی اللہ کا کامل ہے تو اسے فیصلہ صادر کرنے میں دیر ہی کیا لگ سکتی ہے۔ کتاب سے مراد لوح محفوظ بھی ہوسکتی ہے۔ یعنی اللوح المحفوظ (معالم) اس وقت ذلک سے مراد معلومات الہی لی جائیں گی۔
Ayah 22:71

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ مَا لَیْسَ لَهُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ Open ayah 22:71 in the Quran reader

اور یہ لوگ اللہ کے سوا ایسوں کی عبادت کرتے ہیں جن (کے جواز عبادت) پر اللہ نے کوئی حجت نہیں اتاری ہے اور نہ ان کے پاس اس کے لئے دلیل ہے اور نہ ان ظالموں کا کوئی مددگار ہوگا،120۔

120۔ یعنی جن کو یہ خدا کا شریک ٹھہرائے ہوئے ہیں، ان کی معبودیت پر نہ کوئی دلیل اللہ نے اپنی کتابوں، صحیفوں کے ذریعہ سے نازل کی ہے۔ نہ اس پر کوئی دلیل علمی وعقلی قائم ہے اور ان معبودوں کی بیکسی اس سے ظاہر ہے کہ قیامت کے دن ان کی ذرا بھی مدد نہ کرسکیں گے۔
Ayah 22:72

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ١ؕ یَكَادُوْنَ یَسْطُوْنَ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ؕ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ اَلنَّارُ١ؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:72 in the Quran reader

اور جب ان پر ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو آپ کافروں کے چہروں پر برے آثار دیکھتے ہیں،121۔ گویا یہ لوگ ان پر حملہ کربیٹھیں گے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں،122۔ آپ کہہ دیجیے کہ کیا میں تمہیں اس سے بڑھ کر ناگوار چیز بتاؤں ؟ ،123۔ (وہ) دوزخ ہے اللہ نے اس کا کافروں سے وعدہ کر رکھا ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے

121۔ (ان کی ناگواری اور غصہ کو ظاہر کرنے والے، مثلا ان کے تیور پر بل پڑجانا) قرآن مجید کے واضح احکام وہدایات سے تسلی حاصل کرنے کے بجائے شدت عناد سے الٹے غصہ سے بھر بھر جاتے تھے۔ اور ان کے دلی بغض کے آثار ان کے چہرے بشرے سے ظاہر ہوہوکر رہتے تھے۔ آج بھی بہت سے دشمنان دین اور بعض ” روشن خیالوں “ کے چہروں کا انقباض سے کیا حال ہوجاتا ہے جب ان پر احکام الہی کی تبلیغ کی جاتی ہے۔ 122۔ (آیت) ” یکادون “۔ کے لفظی معنی کسی فعل یا عمل کے قریب ہوجانے کے ہیں۔ منکرین معاندین جب قرآن کی آیتیں سنتے تو غصہ سے بھر جاتے۔ معلوم ایسا ہونے لگتا کہ بس اپنے سنانے والوں پر حملہ کر ہی بیٹھیں گے۔ اور کبھی کبھی حملہ کربیٹھتے بھی۔ 123۔” ناگوار تر تمہارے نقطہ خیال سے “ یعنی تم پر اس قرآن سے بڑھ کر گراں گزرنے والی، قرآن سے جو ناخوشی پیدا ہوتی ہے، اس کا تو خیر کچھ تدارک کر ہی لیتے ہو، دوزخ کے بےپناہ عذاب کے مقابلہ میں کیا کروگے۔ اے اکرہ لکم من ھذا القران الذی تستمعون (معالم)
Ayah 22:73

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ١ؕ وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ١ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ Open ayah 22:73 in the Quran reader

اے لوگو ایک بڑی بات بیان کی جاتی ہے،124۔ سو اسے سنو جن لوگوں کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی (تک تو) پیدا کر نہیں سکتے چاہے سب ہی اس غرض کے لئے جمع ہوجائیں اور اگر مکھی ان کے سامنے سے کچھ چھین لے جائے تو وہ اس سے چھڑا تک نہی سکتے،125۔ لچر ہے (ایسا) طالب (بھی) اور (ایسا) مطلوب (بھی

124۔ جو بالکل واضح ہے اور ہر ایک کی سمجھ میں آجانے والی ہے۔ 125۔ تو ایسی عاجز، درماندہ مخلوق کو معبود ٹھہرالینا کس درجہ حماقت وسفاہت ہے۔ یہ ساری مورتیاں مل ملا کر ایک مکھی جیسی حقیر وبے حقیقت مخلوق کو پیدا بھی تو نہیں کرسکتیں اور پیدا کرنا تو پھر بڑی چیز ہے، ان کے آگے نذر اور چڑھا وے کے جو ڈھیر لگے رہتے ہیں ان میں سے اگر وہ کچھ اٹھایا چاہے تو ان میں اتنی سکت بھی تو نہیں کہ اسی کو اس سے واپس لے لیں۔
Ayah 22:74

مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:74 in the Quran reader

ان لوگوں نے تعظیم نہ کی اللہ کی جو اس کی تعظیم کا حق ہے،126۔ بیشک اللہ بڑا قوت والا ہے غالب ہے،127۔

126۔ یعنی اس کی وہ عظمت جو اس سے رشتہ عبدیت وتعلق عبودیت پیدا کرنے کے لیے کافی ہے۔ انسان اسی کا مکلف ہے اور اسی درجہ کی عظمت نہ محسوس کرنے کا کافروں پر الزام ہے۔ باقی اللہ کی شایان شان، اور سزاوار الوہیت عظمت کا اندازہ تو وہ کون کرسکتا ہے۔ اور نہ اس کا کوئی بشر یا کوئی مخلوق مکلف ہے۔ آیت کے مخاطب تمام منکرین توحید ہیں، خواہ ثنویہ ہوں یا اہل تثلیث ہوں یا مشرکین ہوں۔ 127۔ معبودیت والوہیت کا حق صرف اسی کو پہنچتا ہے نہ کہ بےقدرت، بےبس مخلوقات میں سے کسی کو۔
Ayah 22:75

اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌۚ Open ayah 22:75 in the Quran reader

اللہ انتخاب کرلیتا ہے فرشتوں میں سے پیام پہنچانے والے اور آدمیوں میں سے بھی،128۔ بیشک اللہ خوب سننے والا ہے خوب دیکھنے والا ہے،129۔

128۔ (آیت) ” من المآئکۃ رسلا “۔ فرشتے اللہ کا پیغام انبیاء تک لانے والے اور انہیں اور احکام پہنچانے والے۔ (آیت) ” ومن الناس “۔ اور نوع انسان میں سے اللہ کا پیغام نوع انسانی کو پہنچانے والے، اور اسے اس کے احکام سنانے والے (اصطلاحی نام انہیں کا رسل وانبیاء ہے) (آیت) ’ اللہ یصطفی “۔ ان دونوں قسم کے پیغمبروں کا انتخاب تمامتر دست خداوندی میں ہے وہ جس کا بھی چاہے انتخاب کرے۔ ملائکہ میں سفیر اعلی حضرت جبرئیل ہیں، قرآن مجید تمامتر انہیں کا لایا ہوا ہے باقی نفس سفارت کچھ انہیں پر منحصر وموقوف نہیں۔ 129۔ وہی سب کی ظاہری وباطنی صلاحیتوں سے خوب واقف ہے۔ اور اس کے انتخاب میں کسی غلطی کا امکان نہیں۔
Ayah 22:76

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 22:76 in the Quran reader

وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے،130۔ اور اللہ ہی پر (تمام) کاموں کا مدار ہے

130۔ اس پر سب کا مستقبل وماضی مثل حال کے عیاں و روشن ہے۔
Ayah 22:77

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَ افْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ۩ Open ayah 22:77 in the Quran reader

اے ایمان والوں رکعوع کیا اور سجدہ کیا کرو اور اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہو اور (اور) نیکی کرتے رہو، تاکہ کچھ فلاح پاجاؤ،131۔

131۔ یعنی یہ سب اعمال اصل ایمان کی شاخیں ہیں۔ قبول اسلام کے بعد نماز اور اور سب عبادتوں کو بجالاتے رہو۔ اور دوسروں نیکیوں میں بھی لگے رہو۔ (آیت) ” وافعلوا الخیر “۔ ہر فعل مباح، نیت عبادت کرلینے کے بعد مفہوم پیدا کردے گا۔
Ayah 22:78

وَ جَاهِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ١ؕ هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ١ؕ مِلَّةَ اَبِیْكُمْ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِیْنَ١ۙ۬ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ هٰذَا لِیَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِیْدًا عَلَیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ١ۖۚ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِ١ؕ هُوَ مَوْلٰىكُمْ١ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ۠ Open ayah 22:78 in the Quran reader

اور اللہ (کے کام) میں کوشش کرتے رہو جو اس کی کوشش کا حق ہے،132۔ اس نے تمہیں برگزیدہ کیا،133۔ اور اس نے تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں کی،134۔ تم اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت (پر قائم رہو) ،135۔ اسی نے تمہیں مسلم قرار دیا پہلے بھی اور اس (قرآن) میں بھی،136۔ تاکہ رسول تمہارے اوپر گواہ ہوں،137۔ اور تم (سب) لوگوں کے مقابلہ میں گواہ ٹھہرو،138۔ سو تم لوگ نما زکی پابندی رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہو،139۔ اور اللہ ہی کو مضبوط پکڑے رہو وہی تمہارا کارساز ہے سوکیسا اچھا کارساز ہے،140۔ اور کیسا اچھا مددگار ! ،141۔

132۔ مطلب یہ ہے کہ دین کے کاموں میں سستی اور بےدلی کو دخل نہ دو ، بلکہ ہر کام اللہ کا کام سمجھ کر پوری مستعدی، توجہ و استحضار قلب اور اخلاص نیت کے ساتھ ہو۔ قال الضحاک یعنی اعملوا بالحق للہ عزوجل (جصاص) قال اکثر المفسرین حق الجھاد ان تکون بینۃ خالصۃ صادقۃ للہ عزوجل (معالم) اے جھاد فیہ حقا خالصا لوجھہ (بیضاوی) (آیت) ” فی اللہ “ کو یہاں للہ کے بھی مرادف لیا گیا ہے۔ اے للہ من اجلہ (بیضاوی) (آیت) ” حق جہادہ “۔ کی ترکیب معکوس سمجھی گئی ہے اور حق کی اضافت جھاد کی طرف تاکید اور زور کلام کے لیے خیال کی گئی ہے۔ عکس واضیف الحق الی الجھاد مبالغۃ (بیضاوی) صوفیہ عارفین نے لکھا ہے کہ یہ آیت ہر قسم کے مجاہدات پر شامل ہے۔ مثلا مجاہدہ نفس، مجاہدۂ روح، مفسرین بھی اسی طرف گئے ہیں۔ جاھدوا اعداء ومنہ الظاہر ۃ کا ھل الزیغ والباطنۃ کا لھوی والنفس (بیضاوی) قال عبداللہ بن المبارک حق جھادہ مجاھدۃ النفس والھوی والاولی ان یحمل ذلک علی کل التکالیف فکل ما امربہ ونھی عنہ فالمحافظۃ علیہ جھاد (کبیر) 133۔ (دوسری امتوں اور قوموں کے مقابلہ میں، اور تمہیں عالمگیر دعوت توحید کا حامل بنایا) اور ساری دینی دعوتیں جغرافی یا نسلی قیود سے محدود رہیں، صرف اسلام ہی کی دعوت ان قیود وحدود سے بالاتر، صحیح معنی میں عالمگیر دعوت ہے۔ فقہاء مفسرین نے لکھا ہے کہ اس میں مدح صحابہ اور ان کی تطہیر ثابت ہوتی ہے۔ وفی ذلک مدح للصحابۃ المخاطبین بذلک و دلیل علی طھارتھم (جصاص) 134۔ یعنی اسے دوسرے ادیان مروج کی طرح محدود ومقید نہیں رکھا۔ دنیا جن مذہبوں کو جانتی پہچانتی ہے، ان میں کثرت سے تو مذاہب شرکیہ ہی ہیں۔ مثلا ہندو مذہب، بودھ مذہب، مجوسی مذہب، عیسائی مذہب، اور شرک نام خود محدودیت وتنگ نظری کا ہے۔ مشرک کے مطمح نظر میں ہمہ گیر وسعت پیدا ہی نہیں ہوسکتی۔ مذاہب توحید لے دے کر صرف دو ہیں۔ ایک یہودیت دوسرے اسلام۔ یہودیت کا غیر تبلیغی ہونا اور نسل اسرائیل تک محدود رہنا بالکل ظاہر ہے۔ اس کی تعلیم چھوٹے بڑے ہر انسان کے لیے ہے۔ پھر اس عالمگیری کے ساتھ ہمہ گیری تعلیم اسلام کی ہے۔ یعنی زندگی کا ہر شعبہ چھوٹے سے چھوٹا بھی اس کے دائرہ سے باہر نہیں بعض صوفیہ نے اس نفی حرج سے استدلال کیا ہے تربیت میں سالکین کی سہولت پر۔ 135۔ اسلام دوسرا نام ہے ملت ابراہیمی کا۔ (آیت) ” ابیکم ابرھیم “۔ قرآن کے مخاطبین اول یعنی اہل عرب تو نسل ابراہیم (علیہ السلام) سے تھے ہی اور ان کے لیے یہ استشہاد دلادینے سے ایک خاص پہلو تشویق وترغیب کا بھی نکل رہا ہے۔ یعنی یہ مذہب کوئی انوکھا اور بیرونی نہیں، یہ تو عین تمہارے جد محترم ہی کا ہے۔ اور اگر مخاطب عامہ مسلمین سمجھے جائیں تو اس لفظ کے لانے سے خاص تعلیم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے تعظیم واحترام کی مل رہی ہے۔ قیل خاطب بہ جمیع المسلمین وابراھیم اب لھم علی معنی وجوب احترامہ وحفظ حقہ کما یجب احترام الاب (معالم) روی عن الحسن انہ ارادان حرمۃ ابراھیم علی المسلمین کحرمۃ الوالد علی (جصاص) پہلے حکم ہوا تھا ایمان لانے کا اب حکم مل رہا ہے اس دین پر قائم رہنے گا۔ محققین نے شروع فقرہ میں کوئی فعل مثلا اتبعوا یا الزموا محذوف مانا ہے۔ 136۔ (آیت) ” ھو سمکم “۔ ضمیر ھو سے مراد اللہ تعالیٰ ہے، ابراہیم (علیہ السلام) مراد نہیں، خود سیاق کلام بھی اسی کا مقتضی ہے اور حضرت ابن عباس ؓ اور متعدد تابعین سے منقول بھی یہی ہے۔ اے اللہ تعالیٰ کما روی عن ابن عباس و مجاھد والضحاک وقتادۃ وسفیان ویدل علیہ ماسیأتی بعد فی الایۃ (روح) (آیت) ” من قبل “۔ یعنی قرآن مجید سے پہلے۔ (آیت) ” وفی ھذا “۔ یعنی قرآن مجید میں۔ قال مجاہد من قبل القران وفی القران (جصاص) یعنی من قبل نزول القران فی الکتب المتقدمۃ وفی ھذا الکتاب ھذا قول اکثر المفسرین (معالم) 137۔ رسول اللہ ﷺ کی پاک وپاکیزہ سیرت، مکمل زندگی بطور معیار کے کام دے گی، حشر میں تمہیں اسی معیار سے جانچا جائے گا کہ تم نے اپنی زندگیوں کو کہاں تک اس نمونہ پر ڈھالا۔ 138۔ یعنی دوسری امتوں اور قوموں کے مقابلہ میں۔ مسلمانوں کو دین حق کی تبلیغ رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سے ہوئی ہے۔ اور مسلمانوں کے واسطہ سے دین حق ساری نسل انسانی کو پہنچا ہے۔ 139۔ اس میں خلاصہ اور لب لباب آگیا تمام بدنی اور مالی عبادتوں کا۔ 140۔ عزم وہمت کو قائم رکھنے والی اور کشاکش حیات میں ہر مصلحت نفس پر غالب رکھنے والی چیز یہی عقیدۂ توحید ہے۔ جس قدر یہ اعتماد علی اللہ قوی ہوگا، اسی درجہ میں انسان مراتب معرفت وقرب میں ترقی کرتا جائے گا اور ہر غیر الہی قوت کے مقابلہ میں دلیر تر ہوتا جائے گا۔ 141۔ انسان کو ضمیر کی پابندی سے ہٹانے والی چیز ہمیشہ یہی خوف ہوتا ہے کہ اگر فلاں کو میں نے خوش نہ رکھا تو وہ مجھے نقصان پہنچا دے گا۔ قرآن نے بار بار ضرب کاری اسی گمان فاسد پر لگائی ہے، اور بار بار اعلان کیا ہے کہ کام بنانے والا اور ہر طرح کی نصرت واعانت کرنے والا تو صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے کسی اور کی طرف خیال لے جانا بھی حماقت ونادانی ہے۔