Ayah 14:4169۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے لئے اور مومنین کے حق میں دعاء مغفرت کرنا تو ایک صاف اور سیدھی سی بات ہے البتہ شبہ اس میں پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے اپنے کافر والد کے حق میں دعائے مغفرت کیسے کردی ؟ سو اگر یہ دعاء آپ (علیہ السلام) نے ان کی زندگی ہی میں کی تھی جب تو آپ (علیہ السلام) کی مراد یہی ہوگی کہ انہیں توفیق ہدایت دے کر ان کی مغفرت کا سامان کردیاجائے۔ اور اگر بعد وفات یہ دعا کی تھی تو یہ دعاء ان کی ایمان کے ساتھ (علم الہی میں) مشروط ہوگی، یعنی اے پروردگار اگر تیرے علم میں ان کا خاتمہ ایمان پر ہوا ہے تو ان کی مغفرت کردے۔ (آیت) ” اغفرلی “۔ غفر کے معنی ہیں رحمت الہی کا ڈھانپ لینا، اور اس کی حاجت جس طرح عاصی کور ہتی ہے، معصوم کو بھی رہتی ہے اس لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے حق میں طلب مغفرت کرنے سے ان کا غیر معصوم ہر نا ہرگز لازم نہیں آتا۔
Ayah 14:4270۔ (اے مخاطب) الخطاب لغیر الرسول (علیہ السلام) (مدارک) خطاب لکل من توھم غفلتہ تعالیٰ (روح) (آیت) ” الظلمون “۔ سے یہاں مراد کافر ہیں۔ آیت کا مطلب یہ ہوا کہ ان معاند کافروں کو جو فورا سزا نہیں مل رہی ہے تو یہ اس لیے ہرگز نہیں کہ حق تعالیٰ ان کی طرف سے غافل ہے۔ اس کا توا حتمال بھی نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مصالح تکوینی سے جزاء وسزا کو ایک وقت مقرر کیلئے اٹھا رکھا ہے۔
Ayah 14:4371۔ (شدت ہول وہراس سے) سارا منظر یوم حشر کی ہولناکی کی اور دہشت انگیزی کا ہے۔ (آیت) ” تشخص فیہ الابصار “۔ یعنی کافروں کی نگاہیں فرط حیرت وہیبت سے پھٹی رہ جائیں گی، (آیت) ” مھطعین “۔ یعنی موقف حساب کی طرف دوڑ رہے ہوں گے (آیت) ” مقنعی رء وسھم “۔ یعنی فرط حیرت سے کسی اور طرف نہ نظر جائے گی نہ خیال (آیت) ” لایرتد الیھم طرفھم “۔ یعنی آنکھ جھپکے گی تک نہیں، بس ٹکٹکی بندھ کر رہ جائے گی :۔
Ayah 14:4472۔ حشر میں جب انکشاف حقائق درجہ تام میں ہوجائے گا اور غفلت کے پردے ہر طرح چاک ہوجائیں گے، بدنصیب کافر عرض کریں گے کہ اب ہم نے خوب مزہ چکھ لیا اب ایک بار پھر ہمیں مہلت حیات عطا ہو کہ ہم دنیا میں جا کر از سرنوزندگی بسر کریں اور اب کی اپنی پوری فرماں برداری اور اطاعت شعاری کا ثبوت دیں۔ (آیت) ” الذین ظلموا “ مراد کفار ہیں۔ اے الکفار (مدارک)
73۔ (اس دنیا میں) ان کے جواب میں ارشاد ہوگا کہ دنیا میں رہنے کی تمہیں مہلت قلیل تو نہیں مدت طویل ملی تھی، پھر تم نے اس سے کیا فائدہ اٹھایا بلکہ تم تو الٹے قسمیں کھا کھا کر بڑے زور اور دعوی کے ساتھ کہا کرتے تھے کہ یہ حشر ونشر کا قصہ سب ڈھکوسلا ہے وجود جو کچھ ہے صرف اسی مادی دنیا اور اسی مادی زندگی سے، اس کے آگے کچھ بھی نہیں ہوسکتا ہے کہ بعض لوگوں نے اپنی زبان سے یہ سب تقریر نہ کی ہو۔ ، جب بھی زبان حال سے تو وہ بھی یہی کہتے رہے تھے۔ لعلھم اقسموا بطرا وغرورا اودل علیہ حالھم (بیضاوی) اوبالسنۃ الحال ودلالۃ الافعال (روح) (آیت) ” من زوال “۔ میں من تاکید نفی کے لئے ہے۔ ومن صلتہ لتاکید النفی (روح)
Ayah 14:4574۔ یہ خطاب زمانہ مابعد کی نسلوں سے ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ تم تو بعد کو آئے پھر نہ اپنے پیش رو کفار معاندین ومنکرین آخرت کے عبرتناک انجام اور تباہی و بربادی سے کوئی عبرت ونصیحت تم نے حاصل کی اور نہ کتب سابقہ کی ہدایتوں فہمایشوں سے تم ذرا بھی بیدار ہوئے، تمہارے لئے تو انکار کے نہیں، منع انکار کے اتنے زبردست اسباب اکٹھے تھے، پھر بھی تم اپنی شامت سے راستہ وہی ہلاکت وبد انجامی ہی کا اختیار کئے رہے، (آیت) ” وسکنتم۔۔۔ انفسھم “۔ یعنی تم روئے زمین کے انہی خطوں، قطعوں، علاقوں میں تو آباد ہو جہاں تم سے پیشتر اور منکرین ومعاندین رہ چکے تھے۔ (آیت) ” تبین۔۔۔ بھم “۔ یعنی تمہیں تاریخ سے، روایات و حکایات سے، پوری طرح ان منکروں کی سزایابی، ہلاکت و بربادی کا حال معلوم ہوچکا تھا۔ (آیت) ” ضربنالکم الامثال “۔ یہ اشارہ سابقہ کتب آسمانی کی جانب ہے، انہی کے ذریعہ سے بار بار تنبی ہیں ہوچکی تھیں،۔
Ayah 14:4675۔ (لیکن حق پھر بھی غالب رہا، اور ان کی ساری چالیں خود انہی پر الٹ گئیں) (آیت) ” وقد مکروا مکرھم “۔ دین حق کو مٹادینے کے لئے وہ کبھی کبھی زبردست چالیں چلتے رہے (آیت) ” وعنداللہ مکرھم “۔ اللہ سے یہ چالیں کچھ مخفی تو رہ نہیں سکتی تھیں، سب اس کے علم میں تھیں، (آیت) ” لتزول منہ الجمال “۔ پہاڑوں کے ٹل جانے “ کا استعارہ عربی اسلوب بیان میں کسی شے کی انتہائی قوت کے اظہار کے لئے آتا ہے۔ ولیس المقصود من ھذا الکلام الاخبار عن وقوعہ بلالتعظیم والتھویل (کبیر) اے وان کان مکرھم فی غایۃ الشدۃ والمھانۃ وعبرعن ذلک بکونہ معدی لازالۃ الجبال عن مقارھا لکونہ مثل فی ذلک (روح) والذی یظھران زوال الجبال مجاز ضرب مثلا لمکر قریش وعظمہ والجبال لاتزول وھذا من باب الغلو والایغال والمبالغۃ فی ذم مکرھم (بحر) لیکن بجائے استعارہ کے اگر اسے لفظی ہی معنی میں لیا جائے جب بھی اب تو اس میں کوئی امر محال رہا نہیں، پہاڑوں کے توڑنے اور اڑا دینے کی تدبیریں ” جدید ومہذب “ انسان نے نکال ہی لی ہیں۔
Ayah 14:4776۔ (اور اس تاخیر عذاب سے شبہ میں پڑ کر اے مخا طب ! )
77۔ اس کی قوت بھی کامل، جزاوسزا پر قدرت بھی اسے پوری حاصل، پھر وعدہ خلافی کی اس کے ہاں گنجایش وامکان ہی کیا !
Ayah 14:4878۔ یعنی قیامت کے دن جب یہ آسمان و زمین بدلے ہوئے ہوں گے اور جس آسمان و زمین سے ہم واقف ہیں ان کے بجائے دوسرے ہی موجود ہوں گے۔ وھی ھذہ علی غیر الصفۃ المالوفۃ کماجاء فی الصحیحین (ابن کثیر) مفسر تھانوی (رح) نے لکھا ہے کہ یہ تبدیلی ذات وصفات دونوں کے لحاظ سے صحیح ہوسکتی ہے اور حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض تبدیلیوں کے وقت اہل حشر زمین پر نہ ہوں گے بلکہ پل صراط پر ہوں گے۔ والتبدیل قدیکون فی الذات وقد یکون فی الصفات والایۃ الکریمۃ لیست بنص فی احد الوجھین (روح)
79۔ یعنی اس خدائے قدوس کے حضور میں جو سب پر برتر، سب پر غالب ہے، کوئی اس پر حاکم و متصرف نہیں، اور وہ عدد، ذات، صفات ہر لحاظ سے واحد لاشریک لہ ہے، توحید خالص کی اس پر اجلال وپاکیزہ تعلیم کی پوری قدر اس وقت ہوگی جب اس کے مقابل انجیل کا یہ بیان پیش نظر رکھا جائے :۔” جب ابن آدم (علیہ السلام) اپنے جلال میں آوے گا، اور سب فرشتہ اس کے ساتھ آویں گے تو اس وقت وہ اپنے جلال کے تخت پر بیٹھے گا اور سب قومیں اس کے ساتھ جمع کی جائیں گی اور وہ ایک کو دوسرے سے جداکرے گا۔ “ (متی۔ 25: 31۔ 32) یہ حال جب ” اہل کتاب “ مدعیان توحید کی کتاب کا ہے تو مشرک غریبوں کا تو ذکر ہی نہیں۔ (آیت) ” الواحد القھار “۔ وہی ایک اکیلا، جو سب پر غالب ہے، اور جس کے سب ہی تابع و محکوم ہیں۔ ای الذی قھر کل شیء و غلبہ ودانت لہ الرقاب وخضعت لہ الالباب (ابن کثیر) الذی یفعل مایشاء ویحکم مایرید (معالم)
Ayah 14:4980۔ (اے مخاطب) (آیت) ” المجرمین “۔ یعنی کفار ومنکرین کو۔ (آیت) ” مقرنین “۔ یعنی ایک جرم کے مجرمین ایک ساتھ جکڑے ہوئے ہوں گے، کفر و انکار کی ہر نوعیت کے مجرمین کی ٹولی الگ الگ ہوگی، ضم کل لمشار کہ فی کفرہ وعملہ (روح) ولمراد ان تلک النفوس لاشقیۃ والارواح المکدرۃ الظلمانیۃ لکونھا متجانسۃ متشاکلۃ ینضم بعضھا الی بعض وتنادی ظلمۃ کل واحدۃ منھا الی الاخری (کبیر)
Ayah 14:5081۔ (آیت) ” قطران “ کے مشہور معنی تو گندھک کے ہیں، دوسرے معنی پگھلے ہوئے تانبے کے کیے گئے ہیں، بہرحال دوزخیوں کے جسم پر لباس ایسا ہوگا جو آگ کو خوب اور زیادہ تیزی کے ساتھ قبول کرلے۔
Ayah 14:5182۔ (تو اس کے لیے تنہا مجرموں کا فیصلہ آنافانا کر ڈالنا کیا مشکل ہے) (آیت) ” لیجزی “۔ میں ل تعلیل کا ہے یعنی یہ سب کچھ اس غرض سے ہوگا کہ ہر مجرم اپنے کیفر کردار کو پہنچ جائے۔
Ayah 14:5283۔ (آیت) ” اولوا الالباب “۔ پر حاشیہ صفحہ 546 نمبر 42 میں گزر چکا۔ (آیت) ” ھذابلغ للناس “۔ یہ قرآن لوگوں کے لیے ایک پیام ہے کہ وہ پیام اور پیامبر دونوں کی تصدیق کریں۔ (آیت) ” بلغ “۔ میں تنوین تعظیم کی ہے۔ یعنی یہ پیام معظم لوگوں کی ہدایت کے لیے بالکل کافی ہے۔ (آیت) ” ولینذروا بہ “۔ یعنی تاکہ اس کے ؔ ذریعہ اور واسطہ سے وہ عذاب الہی سے ڈرائے جائیں۔ (آیت) ” للناس “۔ میں ناس کا عموم لائق لحاظ ہے یعنی یہ پیام ہدایت ساری نوع انسانی کے لیے، کسی مخصوص قوم یا ملک کے لیے نہیں۔ (آیت) ” ولیذکر اولوالالباب “۔ آیت سے ادھر بھی اشارہ ہوگیا کہ انسان کو درجہ شرف وفضیلت جو کچھ بھی حاصل ہے وہ عقل اور اس کے صحیح استعمال ہی سے ہے۔ ھذہ الایۃ دالۃ علی انہ لافضیلۃ للانسان ولا منقبۃ الابسبب عقلہ لانہ تعالیٰ بین انہ انما انزل ھذہ الکتاب وانما بعث الرسول لتذکیر اولی الالباب (کبیر)