Ayah 13:4181۔ (ان کے حق میں) یعنی یہ مغرور اور سرکش اتنی موٹی بات بھی نہیں دیکھتے کہ ہم برابر ہر جنگ میں کچھ نہ کچھ ملک اور حصہ زمین ان کے ہاتھ سے نکال نکال کر اسے اہل ایمان کے قبضے میں دیتے جاتے ہیں، عذاب دنیوی یہ اگر نہیں تو اور کیا ہے ؟ ایک ایسا انسان جو بظاہر تمامتر تائیدی اسباب سے محروم ومعزا تھا، اس کا رفتہ رفتہ اتنا غالب آجانا اگر تائید غیبی کا نتیجہ نہیں تو اور کیا ہے ؟ سورة مکی ہے، ہوسکتا ہے کہ یہ خاص آیت مدنی ہو، مکی سورتوں کے اندر ملی جلی مدنی آیتوں کی مثالیں قرآن مجید میں کثرت سے مل جاتی ہیں۔ لیکن آیت اگر مکی ہی ہو جب بھی اشکال وارد نہیں ہوتا اسلام پھیل تو برابر رہا تھا اور مسلمانوں کی آبادی، مغلوبیت ومظلومیت کے باوجود بہرحال بڑھتی ہی جاتی تھی۔
82۔ پہلی آیت میں یہ بتایا کہ حساب کی ذمہ داری اللہ پر ہے، اب یہ بیان ہوا کہ حساب کتاب میں دیر نہ لگے گی۔ اللہ بہت ہی جلدسب کا حساب چکا دینے والا ہے۔ اور کوئی قوت اس کی مشیت و ارادہ کی راہ میں حائل نہیں ہوسکتی (جیسا کہ احمق مشرکین سمجھ رہے ہیں)
Ayah 13:4283۔ (اپنے اپنے رسول وقت کے مقابلہ میں اور بری طرح ناکام بھی رہ رہ چکے ہیں) یہ رسول اللہ ﷺ اور مومنین کو قدیم مثالوں کے ذریعہ سے سمجھایا ہے کہ ان کے معاصر کافروں کی بھی ناکامی یقینی ہے۔
84۔ (آیت) ” سیعلم “۔ ابھی علم ہوا جاتا ہے۔ یعنی اپنی موت کے وقت۔ س، دلالت قرب کے لیے ہے، بعض نے کہا ہے کہ س تاکید کا ہے کہ س تاکید کا ہے یعنی ایسا یقیناً واقع ہو کر رہے گا۔ قیل السین لتاکید وقوع ذلک وعلمہ بہ (روح) (آیت) ” فللہ المکر جمیعا “۔ چناچہ وہی ان کافروں کی چالبازیوں کو چلنے نہیں دیتا۔ مکر کا لفظ جب اللہ تعالیٰ کی جانب منسوب ہوتا ہے تو بہ طریق مشاکلت آتا ہے اور معنی جواب مکر کے ہوتے ہیں۔ اس پر حاشیہ کئی بار گزر چکا۔ محاورۂ اردو میں مکر صرف برائی کے موقع پر ہے۔ عربی زبان میں اس کا استعمال عام ہے اچھائی اور برائی ہر موقع کے لئے۔
Ayah 13:4385۔ (آیت) ” ومن عندہ ام الکتب “۔ یعنی محققین اہل کتاب۔ ھم اھل الکتاب من الیھود والنصاری (ابن جریر، عن ابن عباس ؓ اناس من اھل الکتاب۔ کانوا یشھدون بالحق ویقرون بہ (ابن جریر عن قتادہ) اللہ کی گواہی تو وہ ہوئی جو آپ ﷺ کی امانت سے، دیانت سے، صداقت سے، پاکبازی وپارسائی سے، غرض آپ ﷺ کی عملی زندگی کے گوشہ گوشہ سے ظاہر ہورہی تھی، اور اہل کتاب کی گواہی سے اشارہ ہے ان پیشگوئیوں اور بشارتوں کی طرف جو آپ ﷺ کے متعلق کتب سابق میں موجود تھیں۔ (آیت) ” یقول الذین کفروا “۔ یہ کہنے والے اہل کتاب ہی تھے۔ قیل قالہ رؤساء الیھود (روح) قرآن مجید کی انداز بیان خود کہے دے رہا ہے کہ اہل کتاب ہی مراد ہیں، وہی کہتے تھے کہ سلسلہ نبوت برحق، ایک پیغمبر آخر الزمان کا آنا درست لیکن (آیت) ” لست مرسلا “۔ تم وہ پیغمبر مرسل نہیں ہو، تمہارا دعوی نبوت صحیح نہیں، ، ، ورنہ محض مشرکوں کے جواب میں اہل کتاب کی شہادت پیش ہونا لاحاصل تھی :۔