Ayahs 77:41–50نیکوکاروں کے لیے رحمتیں
تشریح : اللہ بڑا ہی رحمن و رحیم ہے وہ سب کو اپنی نعمتیں دیتا ہے جو شکر گزار اور عبادت گزار ہیں ان کے لیے اس نے بہترین جنت میں ٹھکانے دینے کا وعدہ کر رکھا ہے جو ضرور پورا ہوگا اور جو اس کے نافرمان اور ناشکرے لوگ ہیں اور باوجود رسول ﷺ کے بتانے کے بھی ایمان نہیں لاتے اللہ کو رسول ﷺ کو اور حساب کے دن، یعنی آخرت کو نہیں مانتے تو پھر ایسے لوگوں کے لیے اللہ جبار اور قہار بھی ہے اسی لیے ان لوگوں کے لیے جہنم کے بدترین ٹھکانے کی بری خبر کا اعلان کیا گیا ہے۔ جو ان کو مل کر رہے گا۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں یہ بات سمجھ لینی بڑی آسان ہے کہ قیامت ضرور آئے گی۔ قیامت کا تصور موجودہ Cosmology کا بڑا اہم موضوع ہے مگر کیونکہ یہ واقعہ مستقبل سے تعلق رکھتا ہے لہٰذا اس کے بارے میں ماہرین کا کسی حتمی نتیجہ کا اعلان کردینا ممکن نہیں مگر قرآن پاک ایک واحد مذہبی آسمانی کتاب ہے جس میں اس کے بارے میں بڑے وثوق مثالوں اور دلیلوں کے ساتھ اعلان کردیا گیا ہے کہ قیامت ضرور آئے گی اس کے آنے کی نشانیاں اور اس کے واقع ہونے کی صورت بڑی اچھی طرح بیان کردی گئی ہے۔ بیشمار سورتیں قرآن پاک میں جگہ جگہ ملتی ہیں اور اس بات کا اعلان سائنس بھی پکی طرح ضرور کر دے گی۔ کیونکہ سائنس کے تجربات اور فیصلے اکثر تبدیل ہوتے رہتے ہیں جب کہ قرآن میں کہی گـئی بات کبھی بھی نہ تبدیل ہوسکتی ہے نہ غلط ثابت ہوسکتی ہے سورة المرسلات میں آیت 8 سے 10 تک بڑا زور دیکر اس بات کا یقین دلایا گیا ہے۔ عقل مندی اسی میں ہے کہ اپنی اس زندگی کو قیامت اور حیات بعد الموت کو سامنے رکھ کر گزارا جائے۔
خلاصہ سورة المرسلات
یہ پوری سورت اللہ اور انسان کے رشتہ کے بارے میں دکھائی دیتی ہے کیونکہ اس میں روح اسلام کی وضاحت کی گئی ہے۔ اور وہ ہے اللہ کا خوف۔ اللہ ” رسول ﷺ اور آخرت پر ایمان لانا۔ اور یہی اعتقادات ہیں جو انسان کو اپنی اصلیت اور اللہ کی بندگی کا اصل مفہوم سمجھاتے ہیں۔ اور یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ انسانی معاملات انسانوں تک ہی محدود نہیں بلکہ ہر معاملہ بالآخر اللہ کے سامنے آنے والا ہے۔ یہ تصور انسان کے اندر سے بہت سی خرابیوں کو دور کردیتا ہے۔ مثلاً : غرور، نخوت، حسد، بغض، بےانصافی، نفرت اور جاہ پسندی۔ ایک چھوٹا ساواقعہ ملاحظہ ہو۔ سیدناابو مسعود ؓ انصاری مدینہ کے ایک مسلمان تھے۔ ایک روز کسی بات پر اپنے غلام سے بگڑ گئے اور اس کو ڈنڈے سے مارنے لگے۔ عین اس وقت ادھر سے رسول اللہ ﷺ کا گزر ہوا۔ آپ ﷺ نے دیکھ کر فرمایا اے ابو مسعودجان لو کہ اللہ تمہارے اوپر اس سے زیادہ قابو رکھتا ہے جتنا تم اس غلام پر قابو رکھتے ہو۔ یہ سنتے ہی ابو مسعود ؓ کے ہاتھ سے ڈنڈا چھوٹ کر گرگیا اور انہوں نے کہا کہ آج سے یہ غلام آزاد ہے۔ امید ہے اس چھوٹے سے واقعہ سے یہ حقیقت واضح ہوگئی ہوگی کہ مسلم معاشرے کی تمام سماجی برائیاں اسلامی عقائد سے ہی ختم ہوسکتی ہیں۔ اللہ ہمیں سچے انسان بننے کی توفیق دے آمین اور ہماری موت ایمان پر ہو۔ اور رب العزت ہمیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس حقیقت کو دل سے ماننے والے بنائے رکھے کہ اسلام امن و سلامتی اور انسانیت سکھانے والا مذہب ہے۔ کیونکہ اللہ کے بارے میں اصولی تصور توحید ہے اور مخلوق خدا کے بارے میں اصولی تصور انسانیت ہے۔ کیونکہ جو شخص توحید کے عقیدہ پر قائم ہوجاتا ہے۔ اس کے اندر عزت نفس، ہمت، جرات، جوانمردی اور بےخوفی پیدا ہوجاتی ہے۔ ایسا ہی شخص دنیا کو کفر وشرک اور ناانصافی سے پاک کرسکتا ہے۔ ایسا ہی مرد آہن اپنی تمام دنیاوی خوشیاں اللہ کی رضا کے لیے قربان کرسکتا ہے۔ نیکی، بدی، جھوٹ اور سچ کی جنگ تو شروع دن سے چلی آرہی ہے۔ مگر فتح تو سچ ہی کی ہوتی ہے۔ اگر نیت صاف ہو۔
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفویٰ سے شرار بو لہبی
علامہ اقبال (رح)
الحمد للہ سورة المرسلات مکمل ہوئی۔