Ayahs 70:22–44نیک لوگوں کی صفات
تشریح : ایک اچھے پکے اور صالح جنت کے حقدار کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں جو کہ کافی دفعہ وضاحت سے پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں یہاں پھر مختصراً بیان کیا جارہا ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ انسان فطرتاً کمزور طبیعت یعنی غلطیوں کا پتلا سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ ہے ہی۔ مگر اس کی اصلاح کے لئے ہی تو قرآن اور اللہ کے رسول ﷺ کا بندوبست کیا گیا ہے۔ تو جو شخص اپنے نفس پر پورا اختیار رکھتا ہے تو وہی بہادر انسان ہے وہ خود کو شیطان کے چنگل سے نکال کر بندگانِ الٰہی میں شامل ہوسکتا ہے۔ کیونکہ عمل بہت ضروری ہے۔ اگر زبانی ایمان لے آنا کافی ہوتا تو پھر منافق دوزخ کے نچلے درجے میں کیوں ڈالے جاتے۔ خواہشات سے مرعوب ہوجانا یعنی شکست کھا جانا ہی خرابی کی جڑ ہے لہٰذا اس جڑ کو تناور درخت بننے سے پہلے ہی کاٹ دینا چاہئے، یہی عقل مندی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کو اپنا طابع بنالے اور موت کے بعد کے لئے عمل کرے اور احمق وہ ہے جس کا نفس اپنی خواہشات کی پیروی کرے اور اللہ سے امیدیں باندھے۔ انسان کو موت اور آخرت کا خیال ہی اللہ کا خوف دلا سکتا ہے اور جس میں خوف خدا پیدا ہوجائے وہ سب سے پہلے اللہ کی بندگی اختیار کرتا ہے جس میں اول نمبر پر۔
1 ۔ ایمان باللہ اور نماز آتی ہے۔ نماز بھی ایسی کہ جو پورے ذوق و شوق، پابندی اور خشوع و خضوع کے ساتھ پڑھی جائے۔
2 ۔ سورة زاریٰت میں گزر چکا ہے۔ ان کے مالوں میں سائل اور محروم کا حق ہے۔ (19) اپنے مال جو اللہ نے ان کو دے رکھے ہیں ان میں بخیلی نہ کریں بلکہ زکوٰۃ کے علاوہ سفید پوش، خود دار اور محروم یعنی جو کسی حادثہ یا مجبوری کی وجہ سے تنگ دست ہوگیا ہو۔ ایسے لوگوں کی اور ہر حقدار عزیز دوست کی مدد خوشدلی سے کرے بغیر احسان جتائے ہوئے۔
3 ۔ آخرت پر یقین کامل رکھنا۔ قرآن و حدیث میں یہ بار بار ذکر کیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت صرف بدترین آدمیوں پر بپا ہوگی۔ (بخاری)
4 ۔ اللہ کا خوف۔ سورة مومنون میں تفصیل گزر چکی ہے۔ سورة الانبیاء میں فرمایا اور ہم کو امید اور خوف سے پکا را کرتے تھے اور ہمارے آگے عاجزی کیا کرتے تھے۔ (آیت 90 الانبیاء) جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اس کے اندر بےپناہ جرات اور طاقت پیدا ہوجاتی ہے۔ اور ایسا ہی پر اعتماد بندہ اللہ کا مقبول ترین بندہ ہوتا ہے۔
5 ۔ عریانی یا زناء سے بچنا۔ سورة مومنون، نور اور احزاب میں تفصیلات گزرچکی ہیں۔ بہر حال دنیا میں خواری اور آخرت میں ناکامی کا ایک بہت بڑا سبب ہے بےپردگی۔
مختصراً یہ ہے کہ معاشرے کی اصلاح کے لئے اسلام کا یہ قانون کہ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو اور جانوروں کی طرح جگہ جگہ منہ ماری نہ کرو بلکہ اپنی جنسی خواہشات کو صرف اپنی جائز عورتوں تک ہی محدود رکھو۔ طبی لحاظ سے بھی یہ ثابت ہوچکا ہے کہ خود کو جنسی خواہشات کی تکمیل کے لئے حدود میں رکھو۔ پردہ عورت کی عصمت، عفت اور پارسائی کا بہترین محافظ ثابت ہوچکا ہے۔
6 ۔ عہدو پیمان کی حفاظت چاہے وہ اللہ سے ہو یا بندوں سے اور امانت داری۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خبردار رہو، جس میں امانت نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں، اور جو عہد کا پابند نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔ (از بیہقی فی شعب الایمان)
خاندان، معاشرہ اور ملک کی طرف سے ہر شخص پر خود بخود کچھ ذمہ داریاں اور عہد قائم ہوجاتے ہیں ان کو پورا کرنا ہر شخص کا فطری اور شرعی فرض ہے۔ کیونکہ یہ خود انسان اور اس کے ارد گرد کی بہتری کا ضامن بن جاتا ہے۔
7 ۔ سچی گواہی دینا۔ اصل میں گواہی دینا بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ اس کے بارے میں حدیث ہے۔ میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈر اور بات سچی کیا کر۔ (ابی نعیم)
گواہی دیتے ہوئے کسی رشتہ داری اور دوستی کو مد نظر رکھتے ہوئے غلط گواہی ہرگز نہ دو یہ بڑا سخت گناہ ہے اللہ نے فرمایا ہے۔ جب بات کہو تو انصاف کا ساتھ دو خواہ فریق مقدمہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ (انعام)
8 ۔ نماز ہی ایمان کی نشانی ہے۔ تفہیم القرآن میں بڑی خوبصورت وضاحت ہے۔ نمازی ہونا پہلی صفت ہے، نماز کا پابند رہنا دوسری صفت اور نماز سنت کے مطابق پڑھنا۔ تیسری صفت اور نماز کی حفاظت کرنا آخری صفت ہے۔ نماز انسان کی اخلاقی، روحانی، معاشرتی اور جسمانی اصلاح کی جڑ بنیاد ہے۔ اسی لئے غار حرا میں سیدناجبرائیل (علیہ السلام) نے آپ ﷺ کو عبادت کا جو طریقہ سکھایا وہ نماز ہی ہے اسی لئے اصطلاحی معنوں میں نماز، اللہ کی عبادت کا مقررہ اسلامی طریقہ ہے۔
نماز کی ایک اہمیت یوں بھی ثابت ہوتی ہے کہ مکی زندگی کے 13 برس میں صرف نماز ہی فرض تھی باقی عبادات بعد میں مدنی زمانہ میں ہوئیں۔ اسی طرح تمام عبادات بہترین ہیں۔ متقی کی تمام صفات اس کو جنت کا وارث بناتی ہیں۔ کیونکہ اسلام احترام انسایت سکھاتا ہے۔ کیونکہ آداب زندگی میں پہلے نمبر پر یہ حکم آتا ہے جب ایک دوسرے سے ملوتو اسلام ُ علیکم کہو اور جواب میں وعلیکم السلام کہو۔ یعنی ایک دوسرے کے لئے سوائے دُعا اور جذبہ خیر سگالی کے اور کچھ نہ ہو۔ لہٰذا ایسے اچھے اور مقبول لوگوں کے لئے ہی اللہ نے فرمایا ہے۔ یہی لوگ بہشت کے باغوں میں عزت و اکرام سے ہوں گے۔ (آیت 35 )
آیت 36 سے 44 تک کی تشریح میں ہم درس قرآن کی تفسیر سے مدد لینا چاہیں گے۔ لکھتے ہیں۔ ارشاد ہے کہ انسان کی نجات کی صورت تو ہم بتاچکے ہیں، اب ان کافروں کا یہ حال کیا ہے کہ تیری طرف ہر طرف سے جتھے کے جتھے دوڑے چلے آتے ہیں تاکہ تیری مخالفت کریں اور ہنسی اڑائیں کیا انہیں یہ امید ہے کہ بغیر ایمان اور عمل صالح کے انہیں جنت میں آرام و آسائش والے باغ مل جائیں گے ؟ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔ ہم نے انسان کو جیسا اور جس سے بنایا ہے، یہ بھی جانتے ہیں۔ پھر بےقاعدہ کام کیوں ہونے لگا۔ اس کی بنا وٹ میں کم ہمتی اور بزدلی داخل ہے اس میں اصل ہمت انہی باتوں سے پیدا ہوگی جن کا اوپر بیان ہوا۔ اس کے سوا کوئی بات نہیں۔ میں (اللہ تعالیٰ ) مشرقوں اور مغربوں کے رب کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہم ایسا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں کہ ان کو یہاں سے چلتا کردیں، اور ان کے بدلے ان سے بہتر لوگ لا بسائیں ہمیں کوئی نیچا نہیں دکھا سکتا کہ یہ ہمارے قابو سے نکل جائیں اور ہم عاجز ہو کر رہ جائیں۔
ارشاد ہے کہ جب ہم انہیں سب کچھ بتا چکے اور انہوں نے نہ مانا تو اب ان سے کچھ نہ کہو انہیں اپنی ہنسی، دل لگی، کھیل کود میں مصروف رہنے دو ۔ عنقریب وہ دن آنے والا ہے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے جب آجائے گا سب اپنی اپنی قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جلدی جلدی بھاگیں گے گویا ایک نشان مقرر کردیا گیا ہے اور سب اس کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ڈر کے مارے آنکھیں جھکی ہوں گی، ذلت نے ہر طرف سے ڈھانک رکھا ہوگا۔ لو یہ ہے وہ دن جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ (از مولانا خواجہ عبدالحیی، مولانا حافظ مرغوب احمد، الحاج عبدالواحد )
خلاصہ سورة المعارج
اس سورت میں انسان کو اس کی پیدائش سے لے کر مرنے تک کے تمام احوال بڑی تفصیل سے بتا دیئے گئے ہیں پھر ان فطری کمزوریوں سے آگاہ کرتے ہوئے وہ راستے اور وہ طریقے بھی اچھی طرح سمجھادیئے گئے ہیں جن کی بدولت وہ دنیا و آخرت میں سرخرو ہوسکتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا بیشک یہ دنیا بڑی شیریں، شاداب اور دل کش ہے، اللہ نے اس میں تمہیں جانشین مقرر کیا ہے، تاکہ وہ تمہیں جانچے کہ تم کیا روش اختیار کرتے ہو۔ پس دنیا سے بچ بچ کر رہو۔ (مسلم)
آخرت تو یقینی ہے اور میدان حشر میں ہم سب کی حاضری بھی یقینی ہے کیونکہ اس دن ہر طرف سے لوگ قبروں سے نکل کر اللہ کے حضور حاضر ہونے کے لئے دوڑے چلے جائیں گے اور عجیب سماں ہوگا۔ کسی کو کسی کی ہوش نہ ہوگی، اس کا اندازہ آپ اپنی زندگی میں پیش آنے والے کسی شدید حادثہ سے کرسکتے ہیں۔ مثلاً 1988 میں راولپنڈی پاکستان میں اچانک اسلحہ کے ڈپو میں حادثہ پیش آگیا، جسکے نتیجہ میں میزائل خود بخود چلنے شروع ہوگئے جنہوں نے راولپنڈی اور اسلام آباد (پاکستان) کے شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ دھماکے شروع ہوگئے اور میزائلوں کی بارش ہونے لگی۔ واقعی لوگ اس قدر بدحواس ہوگئے کہ گھروں سے نکل کر بےتحاشہ بھاگنے لگے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس دوران کئی عورتوں کے حمل گِر گئے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ کئی مائیں بدحواسی میں بچوں سے علیحدہ ہوگئیں۔ وہ سماں واقعی قیامت کا سماں تھا۔ لیکن نہیں، قیامت کا سماں اس سے کئی درجہ زیادہ خوفناک ہوگا۔ کیونکہ اس میں زندگی کے اس نتیجہ ملنے کا خوف بھی شامل ہوگا جو زندگی بھر کیا جا چکا ہوگا، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ حشر کے میدان میں ہر شخص سے پانچ سوال کئے جائیں گے اور جب تک وہ ان پانچ سوالوں کے جواب نہ دے لے گا مجال نہیں کہ وہ اللہ کے حضور سے قدم ہٹا سکے۔
1 ۔ اس نے اپنی زندگی کن کاموں میں لگائی۔
2 ۔ اپنی جوانی کو کِن کاموں میں کھپایا۔
3 ۔ مال و دولت کن ذرائع سے حاصل کیا۔
4 ۔ مال و دولت کن کاموں میں خرچ کیا۔
5 ۔ اور جو علم حاصل تھا اس پر کہاں تک عمل کیا (جامع ترمذی )
یقین کرلیجئے کہ وہ دن بالکل قریب ہے۔ دنیا کی زندگی بہت مختصر اور فانی ہے اور آخرت کی زندگی ہمیشہ رہنے والی ہے۔ تعلیمات اسلامی یہی سکھاتی ہیں کہ جینے کے لئے نام پیدا کرو اور مرنے کے لئے مقام پیدا کرو ـ۔
موت کو ہمیشہ یاد رکھو مگر موت کی آرزو نہ کرو۔ دُعا ہے۔ اے ہمارے رب ! جب تو ہمیں ہدایت کرچکا تو ہمارے دلوں کو نہ پھیر اور اپنے ہاں سے ہمیں رحمت عطا فرما، بیشک تو بہت زیادہ دینے والا ہے۔ (آل عمران 8 )
بفضل اللہ سورة المعارج مکملہو گئی۔ الحمد للہ۔