Ayah 39:41اِنَّآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ (ہم نے آپ پر یہ کتاب اتاری) الکتاب سے قرآن مجید مراد ہے۔ لِلنَّاسِ (لوگوں کیلیے) لازم اجلیہ ہے یعنی کیونکہ لوگوں کو اس کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس سے بشارت و انذار کا کام لے سکیں اور اطاعت اختیار کرنے کے دواعی مضبوط ہوں اور دواعی بمعصیت کی حوصلہ شکنی ہو۔ بِالْحَـقِّ ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَلِنَفْسِهٖ (جو حق کو لیے ہوئے ہے پس جو شخص راہ راست پر آئے گا تو اپنے نفع کے واسطے) پس جس شخص نے ہدایت کو اختیار کرلیا اس نے اپنے نفس کو فائدہ پہنچایا۔ وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا (اور جو شخص بےراہ رہے گا تو اس کا بےراہ ہونا اسی پر پڑے گا) جس نے گمراہی کو چن لیا اس نے اپنے نفس کو نقصان میں ڈالا۔ وَمَآ اَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيْلٍ (اور آپ ان پر مسلط نہیں کیے گئے) الوکیل یعنی محافظ و نگہبان۔
Ayah 39:42ربط : اگلی آیت میں خبر دی کہ اللہ تعالیٰ حفیظ و قدیر ہیں۔
قبض نوم اور موت : اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا (اللہ تعالیٰ ہی قبض کرتا ہے جانوں کو موت کے وقت) ھا کی ضمیر الانفس کی طرف راجع ہے۔ 1 ۔ جملے اسی ترتیب سے جیا کہ ہیں توفی سے اماتت انفس مراد ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ انفس جس چیز کے ساتھ زندہ، حساس اور مدرت ہیں وہ چیز چھین لی جائے۔ 2 ۔ وَالَّتِيْ سے پہلے یتوفی کا فعل محذوف مانا جائے۔ تقدیر کلام اس طرح قرار دیا جائے۔ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا ای یتوفاھا حین تنام اور اللہ تعالیٰ جانوں پر پورا قبضہ کرلیتا ہے۔ جو جانیں مرتی نہیں اپنی نیند میں یعنی ان پر پورا قبضہ کرلیتا ہے خواب میں سونے والوں کو موتی کے ساتھ مشابہت حاصل ہے اس طرح کہ وہ نہ تمیز کرسکتے ہیں اور نہ تصرف کرسکتے ہیں جیسا کہ مردے تصرف وتمیز نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں اسی بات کو ذکر فرمایا وھو الذی یتوفاکم بالیل (الانعام :60) ۔ فَيُمْسِكُ (پس وہ ان جانوں کو روک لیتا ہے) الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ (جن پر موت کا حکم فرما چکا ہے) جن کے متعلق موت حقیقی کا فیصلہ فرما چکا ہے۔ اس وقت ان کو زندگی کی صورت میں نہیں لوٹا تاوَيُرْسِلُ الْاُخْرٰٓى (اور باقی جانوں کو رہا کردیتا ہے) جو کہ سونے والا ہوتا ہے۔ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى (ایک معین وقت تک کیلئے) جو اس کی موت کیلئے مقرر کیا گیا ہے۔
ایک قول : یتوفی الانفس کا معنی ان کو پورا پورا لیتا اور قبض کرلیتا ہے۔ یہ وہی نفوس ہیں جن کے ساتھ حیات و حرکت ہوتی ہے اور ان نفوس کو قبض کرلیتا ہے جو اپنی نیند میں نہیں مرے۔ اس نفس سے مراد نفس تمیز۔ ہے کہا گیا ہے کہ نیند میں جس نفس کو قبض کیا جاتا ہے۔ وہ یہی تمیز والا نفس ہے اور نفس حیات نہیں کیونکہ نفس حیات کے زائل ہونے سے سانس زائل ہوجاتا ہے حالانکہ سونے والا سانس لیتا ہے۔
دو نفس : ہر انسان کے دو نفس ہیں، نفس حیات اور یہ وہی ہے جو موت کے وقت جدا ہوتا ہے۔ 2 ۔ نفس تمیز یہ وہی ہے جو نیند کے وقت جدا ہوتا ہے۔
قول ابن عباس ؓ : کہ ابن آدم میں نفس و روح دو چیزیں ہیں ان کے مابین ایک شعاعی تعلق ہے جو شعاع شمس کی طرح پس نفس وہی ہے جس سے عقل وتمیز حاصل ہوتی ہے اور روح وہ ہے جس سے سانس اور حرکت ہے جب انسان سو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے نفس کو قبض کرلیتے ہیں اس کی روح کو قبض نہیں کرتے۔
قول علی ؓ : نیند کے وقت روح نکل جاتی ہے اور اس کی شعاع جسم میں باقی رہتی ہے اسی سے وہ خواب دیکھتا ہے جونہی نیند سے بیدار ہوتا ہے روح اس کے جسم کی طرف ایک پل سے بھی پہلے لوٹ آتی ہے۔ اور حضرت علی ؓ کا ہی قول ہے سونے والے کی روح جو آسمان میں دیکھتی ہے وہ سچا خواب ہے (یعنی عالم مثال میں روح عالم مثال کے مطالعہ کی طرف متوجہ ہوتی ہے) اور جو وہ بدن کی طرف چھوڑنے کے وقت دیکھتی ہے۔ جبکہ شیاطین اس کو القاء کرتے ہیں وہ خواب جھوٹے ہوتے ہیں۔
قول سعید بن جبیر (رح) : زندوں اور مردوں کی ارواح نیند میں آپس میں ملتی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ چاہتا ہے وہ آپس میں متعارف ہوتی ہیں۔ پھر جن کے متعلق موت کا فیصلہ ہوتا ہے وہ وہیں رہ جاتی ہیں اور دوسری کو ان کے اجساد کی طرف مدت زندگی پورے ہونے تک بھیج دیا جاتا ہے۔ روایت کیا گیا ہے مومنوں کی ارواح نیند کے وقت آسمان کی طرف عروج کرتی ہیں۔ جو ان میں سے پاک روح ہوتی ہے اس کو سجدہ کی اجازت مل جاتی ہے۔ اور جو پاک نہیں ہوتی اس کو اس کی اجازت نہیں ملتی۔
اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ (بیشک اس میں) انفس کے قبض کرنے میں خواہ بصورت موت ہوں یا بصورت نوم اور ان کے روک لینے اور ایک وقت تک چھوڑ دینے میں۔ لَاٰيٰتٍ (اللہ تعالیٰ کے علم وقدرت کی نشانیاں ہیں) لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ (ان لوگوں کیلئے جو سوچنے کے عادی ہیں) وہ اپنی سوچ و فکر کو اس میں لگاتے اور عبرت حاصل کرتے ہیں۔
Ayah 39:43اَمِ اتَّخَذُوْا (ہاں ! کیا ان لوگوں نے قرار دے رکھا ہے) ۔
نحو : ام یہ بل کے معنی میں ہے۔ اور ہمزہ استفہام انکار کا ہے۔
مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ (اللہ تعالیٰ کے سواء) اس کی اجازت کے بغیر شفعاء (سفارشی) جبکہ وہ کہتے ہیں ھؤلاء شفعاؤنا عند اللہ۔ حالانکہ اس کی اجازت کے بغیر اس کے ہاں کوئی سفارش نہ کرسکے گا۔ قُلْ اَوَلَوْ كَانُوْا لَا يَمْلِكُوْنَ شَـيْـــــًٔا وَّلَا يَعْقِلُوْنَ (کہہ دیجیے اگرچہ وہ کچھ بھی قدرت اور عقل نہ رکھتے ہوں) معنی یہ ہے کیا پھر بھی وہ سفارش کریں گے جبکہ وہ کسی ایک چیز کے بھی مالک نہ ہوں اور نہ ان میں عقل ہو۔
Ayah 39:44قُلْ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيْعًا (کہہ دیجیے سفارش تو تمام تر اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے)
نحو : جمیعا حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (تمام آسمانوں و زمین کی سلطنت اسی ہی کی ہے) یہ للہ الشفاعۃ کو اور پختہ کرنے کیلئے لایا گیا۔ کیونکہ جب بادشاہی ہر چیز پر اسی ہی کی ہے۔ اور شفاعت بھی ملک سے ہے۔ تو شفاعت کا مالک وہی ہوا۔ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ (پھر تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے) یہ ماقبل سے متصل ہے مطلب یہ ہوا۔ آسمان و زمین کا مالک آج کے دن وہی ہے۔ پھر تم قیامت کے دن اسی کی بارگاہ میں لوٹائے جاؤ گے۔ پس اس دن بادشاہی اسی ہی کیلئے ہوگی جو دنیا وآخرت کا مالک ہے۔
Ayah 39:45وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ (جب فقط اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے) ، یہاں معنی کا مدار وحدہ پر ہے۔ مطلب یہ ہے جب فقط اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اور اس کے ساتھ ان کے معبودوں کا ذکر نہیں کیا جاتا ہے۔ آیت (منقبض ہوتے ہیں) نفرت کرتے اور گھٹتے ہیں۔ آیت (ان لوگوں کے دل جو آخرت کا یقین نہیں رکھتے اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر آتا ہے) اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے معبودوں کا تذکرہ بھی کیا جاتا ہے۔ یا ذکر نہ کیا جائے۔ آیت (تو اسی وقت وہ لوگ خوش ہوجاتے ہیں) کیونکہ وہ ان پر مفتون ہیں یا جب ان سے کہا جاتا ہے لا الہ الا اللہ وحدہ لا شیک لہ، تو بھاگ کھڑے ہوتے ہیں کیونکہ اس میں ان کے معبودوں کی نفی ہے۔
نکتہ : آیت میں استبشار (خوش ہونا) اور اشمزاز، منقبض ہونا، کو ایک دوسرے کے بالمقابل ذکر کیا گیا ہے۔ کیونکہ ان میں سے ہر ایک اپنے سلسلہ میں انتہاء ہے، پس استبشار اس خوشی کو کہتے ہیں جس سے اس کا دل سرور و خوشی سے اس قدر پر ہو کہ خوشی اس کے چہرہ کی رونق بن رہی ہو۔ اور خوشی سے چہرہ تمتما رہا ہو۔ اور اشمزاز اس گھٹن کو کہتے ہیں جس سے اس کا دل غم و غیظ سے اس قدر پر ہو کہ وہ انقباض اس کے چہرے کے بلوں میں نمایاں ہو رہا ہو (کذا قال البیضاوی)
نوحی : اذا زکر میں عامل وہی ہے جو اذا مفاجاتیہ میں عامل ہوا کرتا ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے وقت ذکر الذین من دونہ فاجوا وقت الاستبشار۔ اس کے سوا اوروں کے تذکرہ کے وقت اچانک وہ نہایت خوش ہوجاتے ہیں۔
Ayah 39:46بارگاہ الٰہی میں مشرکین کے خلاف محاکمہ : آیت، کہہ دیجیے کہ اے اللہ آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے۔ ای یا فاطر یہ وصف نہیں جیسا مبرد و فراء کہتے ہیں۔ آیت، ظاہر و باطن کے جاننے والے، پوشیدہ اور اعلانیہ کو جاننے والے۔ آیت، آپ ہی فیصلہ فرمائیں گے، آیت، اپنے بندوں کے درمیان ان امور میں فیصلہ فرمائیں گے جن میں وہ باہم اختلاف کرتے تھے، ہدایت اور گمراہی میں سے، ایک قول یہ ہے یہ پیغمبر ﷺ کی طرف سے مشرکین کے متعلق اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں محاکمہ ہے۔
قول ربیع بن المسیب۔ یہ آیت ان آیات میں سے ہے جس کے پڑھنے وقت کی جانے والی دعا قبول ہوتی ہے۔ ربیع بن خثیم یہ بہت کم گفتگو کیا کرتا تھا۔ اس کو قتل حسین ؓ کی خبر دی گئی۔ لوگ کہنے لگے اب یہ بات کرتے گا مگر اس نے آہ کہی اور کہنے لگے کیا انہوں نے ایسا کردیا ہے ؟ اور یہ آیت پڑھی ایک روایت میں یہ ہے کہ ربیع نے سن کر کہا۔ وہ قتل ہوگئے جن کو حضور ﷺ گود میں بٹھاتے اور ان کے منہ پر اپنا منہ رکھتے تھے۔
Ayah 39:47آیت، اور اگر ظلم کرنے والوں کے پاس دنیا بھر کی تمام چیزیں ہوں۔ آیت، اور ان چیزوں کے ساتھ اتنی چیزیں اور بھی ہوں تو وہ لوگ قیامت کے دن سخت عذاب۔ آیت، سے چھوٹ جانے کیلئے ان کو دینے لگیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو وہ معاملہ پیش آئے گا جس کا ان کو گمان بھی نہ تھا۔ مثلہ کی ہ ضمیر ما کی طرف لوٹتی ہے۔ سوء العذاب سے شدت عذاب مراد ہے۔ بدالہم ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور اس کا وہ عذاب سامنے آئے گا۔ جو ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ اور نہ ان کے نفوس میں کبھی بات آئی تھی۔ ایک قول یہ ہے۔ انہوں نے ایسے اعمال کیے جن کو وہ نیکیاں سمجھ کر کرتے رہے مگر وہ سیئات نکلیں۔
قول سفیان ثوری (رح) ۔ انہوں نے اس آیت کو پڑھا اور فرمایا ریا کاروں کیلئے ہلاک ہو ریاء کار تباہ ہوں۔ ان کے لیے خرابی ہی خرابی ہے۔ محمد بن منکدر (رح) موت کے وقت گھبرائے تو ان کو کہا گیا۔ کیوں گھبراتے ہو۔ تو کہنے لگے میں اللہ تعالیٰ کی کتاب سے ایک آیت سے خطرہ محسوس کرتا ہوں پھر یہ آیت پڑھی اور کہنے لگے مجھے ڈر ہے کہ میں جس عمل کا گمان بھی نہیں کرتا وہ کہیں قیامت کے دن ظاہر نہ ہوجائے۔
Ayah 39:48آیت، اور ان کے تمام برے اعمال ظاہر ہوجائیں گے، یعنی ان کے ان اعمال کی برائی جو وہ کیا کرتے تھے یا ان کی کمائی کی برائیاں جبکہ ان کے نامہائے اعمال پیش ہوں وہ ان پر پہلے مخفی تھے یا ان برائیوں کی سزا ظاہر کردی جائے گی۔ آیت، وحاق بہم، اور وہ ان کو آ کر گھیرے گی، اور ان پر اتر پڑے گی اور ان کا احاطہ کرے گی۔ آیت، جس کے ساتھ وہ استہزاء کرتے تھے، ان کے تمسخر کے بدلہ میں۔
Ayah 39:49آیت، پھر جب آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے، تو ہم کو پکارتا ہے اور جب ہم اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت عطاء فرما دیتے ہیں۔ خول کا معنی ہم اس کو بطور فضل دے دیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے خولنی، یعنی جبکہ وہ بغیر بدلے کے تمہیں دے دے۔ نعمۃ منا، اس پر وقف نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ اذا کا جواب۔ آیت، تو کہتا ہے کہ تو مجھے تدبیر سے ملی ہے۔ یعنی میرے علم سے کہ میں اس کے ملنے کا استحقاق و فضیلت رکھتا تھا یا میرے ذرائع آمدنی کی وساطت سے جیسا کہ قارون نے کہا، علی علم عندی، (القصص :78) ۔ یہاں اوتیتہ میں ضمیر لائے جبکہ ضمیر مذکر اور مرجع مونث ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نعمت کے معنی کے پیش نظر ضمیر لائے کیونکہ نعمۃ منا کچھ نعمت اور نعمت کی ایک قسم مراد ہے۔ پس ضمیر لانا درست ہوگیا۔ نمبر 2، ایک قول یہ ہے ما انما میں موموصلہ ہے کافہ نہیں ہے، اور ضمیر اس ما کی طرف راجع ہے ای ان لاذی اوتیتہ علی علم۔ بیشک وہ چیز جو میں دیا گیا ہوں وہ علم کی بناء پر ہے۔ آیت، بلکہ وہ ایک آزمائش ہے۔ اس میں اس کی بات کا انکار ہے گویا اس طرح فرمایا ہم نے تجھے نعمت اس بناء پر نہیں دی جو تو کہہ رہا ہے۔ بلکہ آزمائش و امتحان کیلئے دی ہے۔ اس میں تیرا امتحان اور ابتلاء ہے کہ آیا تو شکر کرتا ہے یا ناشکری ؟
نحو، جب خبر مونث تھی یعنی فنتۃ، تو اس کے لیے مبتدا بھیھی مونث لایا گیا ہے۔
قراءت : یہ ایک قراءت میں انما اوتیتہ کے مطابق ھو فتنۃ بھی پڑھا گیا ہے۔
آیت، لیکن اکثر لوگ سمجھتے نہیں۔ کہ یہ فتنہ و آزمائش ہے۔
فق واؤ، فاء : اس آیت میں عطف فاء کے ذریعہ لائے اور اسی طرح کی آیت شروع سورت میں گزری اس میں واؤ سے عطف کیا گیا ہے۔ یہ آیت اذا ذکر اللہ وحدہ اشمازت کے جواب میں آرہی ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہوگی۔ انہم یشمئزون عن ذکر اللہ و یستبشرون بذکر الاہۃ فاذا مس احدہم ضر دا من اشماز عن ذکرہ دون من استبشر بذکرہ وہ اللہ تعالیٰ کا تذکرہ سن کر منقبض ہوتے ہیں اور الہہ کے تذکرہ سے وہ خوش ہوتے ہیں۔ پس جب ان میں سے کسی کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اس کو پکارتا ہے جس کے تذکر سے منقبض ہوا تھا۔ ان کو نہیں پکارتا جن کی یاد سے خوش ہوا تھا۔ اور درمیان والی آیات تمام اعتراضی جملے ہیں۔
سوال : اگر یہ کہا جائے کہ جملہ تو تب لایا جاتا ہے جبکہ وہ جملے جن کے درمیان یہ حائل ہوتا کیدات سے موکد ہوں ؟
جواب : یہ ہے کہ اعتراض والے جملوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو اپنے حکم سے دعا کا حکم دیا۔ اور قول یہ ہے انت حکم بین عبادک۔ پھر اس کے بعد بہت بڑی سخت وعید کا ذکر کیا۔ اور ان کے اشمئز اور استبشار اور شدائد میں معبودوں کی بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع پر انکار کی تاکید کی گئی ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا قل یا رب لا یحکم بینی و بین ھؤلاء الذین یجترؤون علیک مثل ھذہ الجراۃ الا انت۔ کہہ دیں اے میرے رب میرے اور ایسے لوگوں کے درمیان جو آپ کے متعلق اس قسم کی جرات کرنے والے ہیں تو ہی فیصلہ کرنے والا ہے۔ اور ولو ان للذین ظلموا کا ارشاد ان کو بھی شامل ہے۔ اور انہی کی طرح کے دیگر ظالموں کو بھی شامل ہے۔ اگر اس کو عام قرار دیا جائے یا اگر وہ مراد ہوں تو پھر خاص ہوجائے گا گویا کلام اس طرح ہوگی۔ ولو ان لھؤلاء الظالمین ما فی الارض جمیعا و مثلہ مع لافتدوا حین احکم علیہم بسوء العذاب۔ اگر ان ظالموں کے لیے ساری زمین کے خزانے ہوں اور ان کی مانند اور بھی ہو تو یہ ضرور فدیہ میں دے ڈالیں۔ جبکہ ان کے متعلق سخت عذاب کا فیصلہ کیا جائے گا۔ آیت اول کیونکہ مسبب نہیں بن رہی۔ وہ تو ایک جملہ کی طرح ہے جو دوسرے مناسب جملہ کے ساتھ لایا جاتا ہے۔ اس لیے واؤ کے ساتھ عطف کردیا گیا جیسے کہتے ہیں قام زید و قعد عمرو۔ اور اس آیت کی سببیت کی وضاحت اس طرح ہے تم کہو۔ زید مومن باللہ فاذا مسہ ضر التجا الیہ پس اس کا سبب ہونا تو ظاہر ہے۔ پھر اس طرح کہیں زید کافر باللہ فاذا مسہ ضر التجاء الیہ۔ پس فاء کا اس جگہ لانا اسی قبیل سے ہے گویا کہ کافر جب ضرر میں اس طرح التجاء کرتا ہے جیسا مومن التجاء کرتا ہے تو التجاء کے سبب بنانے کے لیے اس کے کفر کو ایمان کے مقام پر قرار دیا گیا۔
Ayah 39:50آیت، یہ بات ان لوگوں نے بھی کہی تھی، وہ بات یہی ہے انما اوتیتہ علی علم (الزمر :49) ۔
آیت، ان لوگوں نے جو ان سے پہلے ہوئے۔ یعنی قارون اور اس کے حواری جب کہ اس نے کہا انما اوتیتہ علی علم عندہ اور اس کے حواری اس پر راضی اور خوش تھے گویا کہ انہوں نے بھی کہی تھی۔ اور یہ بھی درست ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہوں جو ان سے پہلے گزرے انہوں نے بھی اسی طرح کے کلمات کہے۔
آیت، پس ان کی کارروائی ان کے کچھ کام نہ آئی، ما یکسبون سے متاع دنیا اور جو اموال اس سے جمع کرتے تھے۔
Ayah 39:51آیت، پھر ان کی تمام بد اعمالیاں ان پر آپڑیں، ان کے برے اعمال کرنے کی سزا یا جزاء سیئہ کو سیئہ ملے ہوئے ہونے کی وجہ سے کہہ دیا جیسا کہ اس ارشاد میں فرمایا وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلہا (الشوری :40) ۔ آیت، اور ان میں بھی جو ظالم ہیں۔ ظالم سے کافر مراد ہیں من ھؤلاء سے مشرکین قریش کی طرف اشارہ ہے۔ آیت، ان کی بد اعمالیاں ابھی پڑنے والی ہیں۔ ان کو اسی طرح کا عذاب و سزا پہنچے گا جیسا ان کو ملا چناچہ بدر میں صنادید قریش مارے گئے۔ رزق کی تنگی آگئی سات سال کے قحط میں مبتلا ہوئے۔ آیت، اور یہ ہرا نہیں سکتے۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نکلنے والے نہیں پھر ان پر وسعت کردی گئی سات سال بارشیں کی گئیں پھر ان کو کہا گیا۔
Ayah 39:52آیت، کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں ہوا کہ اللہ تعالیٰ ہی جس کو چاہتا ہے۔ آیت، زیادہ رزق دیتا ہے اور وہی تنگی بھی کردیتا ہے۔ تنگی رزق کردیتا ہے۔
ایک قول : وہ خوراک کی مقدار میں کردیتا ہے۔ آیت، اس میں ایمان والوں کیلئے نشانیاں ہیں۔ کیونکہ کوئی اللہ تعالیٰ کے سوا قابض و باسط نہیں۔
Ayah 39:53یہ آیت دنیا اور مافیہا سے بڑھ کر ہے :
قل، کہہ دیجیے۔ اے محمد ﷺ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، آیت، اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنے اوپر زیادتیاں کی ہیں۔ گناہوں میں اسراف و غلو اختیار کر کے اپنے اوپر زیادتیاں کرلی ہیں۔ آیت، تم اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید مت ہو یقینا اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو معاف فرما دے گا۔ لاتقنطوا کا معنی مایوس نہ ہو۔
قراءت۔ علی، بصری نے لاتقنطوا نون کے کسرہ سے پڑھا ہے۔ الذنوب سے شرک کے علاوہ گناہ مراد ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کی قراءت میں یغفر الذنوب جمیعا ولا یبالی ہے اور مبالات کی نفی کی نظیر خوف کی نفی ہے جو اس آیت میں پائی جاتی ہے۔ ولا یخاف عقباھا (الشمس : 15) ۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ وحشی بن حرب، قاتل حمزہ ؓ کے متعلق اتری۔ ارشاد رسالت یہ ہے۔ یہ آیت دنیا اور اس کے اندر جو کچھ ہے ان سب سے بڑھ کر ہے۔ آیت، بیشک وہ بڑا بخشنے والا ہے۔ وہ بڑے بڑے گناہوں کو چھپا دیتا ہے۔ الرحیم، بڑی رحمت کرنے والا ہے۔ شدید دکھوں کو کھول دیتا ہے۔
Ayah 39:54آیت، اور تم اپنے رب کی طرف رجوع کرو۔ یعنی توبہ کرو، آیت، اور اس کی فرماں برداری کرو۔ اس کی خاطر مخلصانہ عمل کرو۔ آیت، اس سے قبل کہ تم پر عذاب واقع ہونے لگے پھر تمہاری کوئی مدد نہ کی جائے گی۔ اگر تم نزول عذاب سے قبل توبہ نہ کرو گے۔
Ayah 39:55آیت، اور تم اپنے رب کے پاس آتے ہوئے اچھے اچھے حکموں پر چلو۔ یہ آیت اس آیت کی طرح الذین یسمتعون القول فیتبعون احسنہ (الزمر : 18) اور ارشاد الٰہی، آیت، اس سے قبل کہ تم پر اچانک عذاب آپڑے اور تم کو خیال بھی نہ ہو۔ یعنی تم اچانک پکڑ لیے جاؤ اور تم حالت غفلت میں ہو گویا تمہارا حال یہ ہے کہ تم شدت غفلت میں کسی چیز کا خطرہ محسوس نہیں کرتے ہو۔
Ayah 39:56قیامت کے دن حکم الٰہی میں کوتاہی کا اعتراف : آیت، کبھی کوئی شخص کہنے لگے۔ یہ اصل میں لئلا تقول ہے۔ نفس، نفس کو یہاں نکرہ لائے۔ کیونکہ اس سے مراد تمام نہیں بلکہ بعض ہیں اور وہ نفوس کافرہ ہیں۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ اس سے وہ چنے ہوئے لوگ مراد ہوں۔ جو کفر پر شدید مصر ہوتے ہیں۔ یا بڑے عذاب کیلئے ان کو چن لیا گیا اور یہ بھی درست ہے کہ اس سے کثرت مراد لی جائے۔ یحسرتی، کہ افسوس میری اس کوتاہی پر، یائے متکلم کو الف سے بدل دیا۔
قراءت : یہ یا حسرتی اصل کی بنیاد پر پڑھا گیا ہے اور یا حسرتای بھی پڑھا گیا اس میں یاء کے عوض میں لائی جانے والی الف اور خود یاء کو جمع کردیا گیا ہے۔ آیت، جو میں کی، فرط کوتاہی کرنا، ما مصدریہ ہے اس کی مثال سورة توبہ میں موجود ہے بما رحبت (التوبہ :25) ۔ آیت، اللہ تعالیٰ کی جناب میں۔ 1 ۔ اللہ تعالیٰ کے حکم میں یا اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں یا اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں قول ابن مسعود ؓ اور عبداللہ بن مسعود ؓ کے حروف میں فی ذکر اللہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی یاد میں الجنب جانب و طرف۔ کہتے ہیں، ان افی جنب فلان و جانبہ وناحیتہ و فلان لین الجانب والجنب۔ پھر کہتے ہیں۔ فرط فی جنبہ وفی جانبہ اس سے انکا مقصد اس کے حق میں کوتاہی مراد ہوتا ہے۔ اور یہ درحقیقت کنایہ ہے کیونکہ جب تم نے امر کو آدمی اور اس کے مقام کی جگہ ثابت کردیا تو گویا تم نے اس آدمی کو اس میں ثابت کردیا اور اس ارشاد نبوی کا یہی مطلب ہے کہ شرک خفی یہ ہے کہ آدمی کسی کے مرتبہ کی وجہ سے نماز پڑھے (رواہ احمد) اب مکان الرجل سے مراد لاجل الرجل ہے اس آدمی کی خاطر۔
قول زجاج (رح) ۔ اس کا معنی یہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستہ میں کوتاہی کی ہے اور وہ طریق توحید باری تعالیٰ اور نبوت محمد ﷺ کا اقرار ہے۔ آیت، اور میں تو تمسخر ہی کرتا رہا، ساخر کا معنی استہزاء کرنے والا۔
قول قتادہ (رح) : اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو ضائع کرنے پر اکتفاء نہ کیا بلکہ اطاعت کرنے والوں سے تمسخر پر اتر آیا۔
نحو۔ ان کنت حال کی وجہ سے محل نصب میں ہے گویا اس طرح فرمایا۔ فرطت وانا ساخر ای فرطت فی حال سخریتی۔ میں نے اپنے تمسخر کی حالت میں زیادتی کی ہے۔
Ayah 39:57آیت، یا کوئی یوں کہنے لگے کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے ہدایت کرتا۔ یعنی ہدایت دینتا، آیت، تو میں بھی پرہیز گاروں میں سے ہوتا، ان لوگوں میں سے ہوتا جو شرک سے بچتے ہیں۔
شیخ ابو منصور (رح) کا قول : یہ کافر معتزلہ کی بنسبت اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو زیادہ جاننے والا ہے اور اسی طرح وہ کفار بھی ان سے زیادہ ہدایت الٰہی سے آگاہ ہیں جنہوں نے اپنے متبعین کو یہ کہا، لو ھدانا اللہ لھدینا کم، وہ یہ کہیں گے اگر ہمیں اللہ تعالیٰ ہدایت کی توفیق دیتے اور ہدایت عنایت فرماتے تو ہم تمہیں بھی اس کی طرف دعوت دیتے اور بلاتے۔ لیکن اس نے ہم سے ضلالت وغوایت کا اختیار کرنا جانا، پس ہمیں ذلیل کردیا اور ہمیں توفیق نہ دی۔ اس کے برخلاف قول معتزلہ یہ ہے بلکہ ان کو ہدایت دی اور توفیق بھی عنایت فرمائی لیکن انہوں نے ہدایت نہ پائی۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مہربانی و عنایت ہے جس پر وہ مہربانی ہوگئی اور وہ ہدایت پا گیا اور اسی مہربانی کا نام توفیق و عصمت ہے اور جس کو توفیق میسر نہ ہوئی وہ گمراہ ہوا اور پھسل گیا۔ اس کا عذاب کو پسند کرنا اور حق کو ضائع کرنا اس کے بعد کہ اس کے حصول پر پوری قدرت دی گئی اسی بناء پر ہے۔
Ayah 39:58آیت، یا کوئی عذاب دیکھ کر یوں کہنے لگے کہ کاش۔ آیت، کہ میں واپس لوٹ جاؤ۔ کرۃ کا معنی دنیا کی طرف لوٹنا۔ آیت، فاکون من المحسنین، پھر میں نیک بندوں میں سے ہوجاؤ۔ المحسنین یہاں موحدین کے معنی میں ہے۔
Ayah 39:59آیت، (ہاں بیشک تیرے پاس میری آیات پہنچی تھیں پس تو نے ان کو جھٹلادیا۔ اور تو نے تکبر کیا اور کافروں میں شامل رہا) بلی قدجاء تک آیاتی و بینت لک الھدایۃ من الغرابۃ وسبیل الحق من الباطل و مکنتک من اختیار الہدایۃ علی الغوایۃ واختیار الحق علی الباطل۔ ولکن ترکت ذلک وضیعتہ واستکبرت عن قبلہ واثرت الضلالۃ علی الھدی واشتغلت بضد ما امرت بہ فانما جاء التضییع من قبلک فلا عذر لک۔ ہا تیرے پاس میری آیات پہنچیں اور ہدایت وغوایت کو تیرے سامنے کھول دیا گیا اور حق کو باطل سے ممتاز کردیا گیا اور ہدایت کو گمراہی کے مقابلے میں اختیار کرنے پر تجھے میں نے قدرت دی اور حق کو باطل کے مقابلے میں چناؤ کرنے کا موقعہ دیا لیکن تو نے حق کو چھوڑ دیا اور ضائع کردیا قبول حق سے بڑائی اختیار کرلی اور گمراہی کو ہدایت کے بالمقابل ترجیح دی اور میرے مامورات کے مخالف تو مشغول رہا۔ پس حق کو ضائع کرنے کا معاملہ تیری جانب سے پیش آیا۔ اس لیے تیرا کوئی عذر قابل قبول نہیں۔ اور بلی یہ تقدیری نفی کا جواب ہے کیونکہ لو ان اللہ ھدانی کا معنی یہ ہے ماھدیت (مجھے ہدایت نہ دی گئی) جواب کو اس کے ساتھ نہیں ملایا کیونکہ نفس کے اقوال کی حکایت اس کی ترتیب کے مطابق ضروری ہے پھر جواب انکے دوران اقتضاء جواب کے مطابق دیا۔
Ayah 39:60آیت، اور قیامت کے دن آپ دیکھیں گے جنہوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولا تھا، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی وہ صفات بیان کیں جو اس کے لائق نہیں کہ اس کا شریک اور بیٹا بنادیا اور حقیقی صفات کی نفی کرتے رہے۔ آیت، ان کے چہرے سیاہ ہونگے۔ وجوہہم مبتداء اور مسودۃ خبر ہے اور یہ جملہ محل نصب میں حال ہے جبکہ تری کو رویت بصر سے لیا جائے۔ اور اگر رویت سے رویت قلب مراد ہو تو پھر یہ جملہ محل نصب میں مفعول ثانی بنے گا۔ آیت، کیا ٹھکانہ جہنم میں نہیں ہے۔ للمتکبرین، ان متکبرین کا، اس میں استکبرت کے قول کی طرف اشارہ ہے۔ اور مثوی بمعنی مکان و ٹھکانہ۔
Ayah 39:61ایمان والوں کی کامیابی۔ وینجی اللہ، اور اللہ تعالیٰ نجات دے گا، چھٹکارا، وینجی بھی پڑھا گیا۔ الذین اتقوا، ان لوگوں کو جو بچتے تھے۔ یعنی شرک سے۔ بمفازتہم، کامیابی کے ساتھ، فلاح کے ساتھ۔ کہا جاتا ہے فاز بکذا جبکہ وہ اپنی مراد کو پالے اور اس کو پانے میں کامیاب ہوجائے۔ لا یمسہم السوء (ان کو تکلیف نہ پہنچے گی) یہ مفازۃ کی تفسیر ہے۔ السوء سے آگ مراد ہے۔ ولا ھم یحزنون (اور نہ وہ غمگین ہوں گے) گویا اس طرح کہا گیا کہ ان کی کامیابی کیا ہے، تو جواب دیا گیا کہ ان کو تکلیف چھو تک نہ سکے گی، یعنی ان کی نجات ان سے نفی سوء و حزن سے ہوگی مطلب یہ ہوا ان کے ابدان کو ایذاء مس نہ کرے گی اور نہ ان کے دلوں کو غم چھو سکے گا۔ یا باء کو سببیہ مان لیں ان کے نجات پانے کے سبب جیسا کہ اس ارشاد میں وارد ہے۔ فلا تحسبنہم بمفازۃ من العذاب (آل عمران) ۔ کہ کسی سبب سے وہ اس سے چھوٹنے والے ہیں کیونکہ نجات سب سے بڑی کامیابی ہے اور ان کی نجات کا سبب عمل صالح ہے۔ اسی لیے ابن عباس ؓ نے تفسیر اس طرح فرمائی المفازۃ بالاعمال الحسنۃ (کامیابی اعمال حسنہ کے ذریعہ ہوتی ہے) 2 اور یہ بھی جائز ہے بسبب فلاحہم۔ ان کی فلاح کے سبب کیونکہ عمل صالح یہ فلاح کا سبب ہے۔ اور فلاح دخول جنت ہے ل۔ 3 ۔ اور یہ بھی درست ہے کہ عمل صالح ہی کو بذات خود مفازہ کہہ دیا جائے کیونکہ عمل صالح کامیابی کا سبب ہے۔ لایمسہم کا کوئی محل اعراب نہیں جبکہ تفسیر اول تسلیم کریں اس صورت میں یہ جملہ مستانفہ ہے اور دوسری تفسیر کی صورت میں یہ محل نصب میں حال واقع ہے۔
قراءت : حفص کے علاوہ کوفی قراء نے بمفازاتہم پڑھا ہے۔
Ayah 39:62اللہ خالق کل شیء۔ اللہ تعالیٰ ہی پیدا کرنے والا ہے ہر چیز کا۔ اس میں فرقہ معتزلہ اور ثنویہ پر رد کیا گیا۔ وھو علی کل شیء وکیل اور وہی ہر چیز کا نگہبان ہے۔ وکیل بمعنی حافظ ہے۔
Ayah 39:63لہ مقالید السموات والارض، اسی کے اختیار میں ہیں کنجیاں آسمانوں اور زمین کی۔ یعنی وہ ان کے معاملے کا مالک اور ان کا محافظ ہے۔ یہ باب کنایہ میں سے ہے۔ کیونکہ خزانوں کے محافظ اور خزانوں کے معاملات کی تدبیر کرنے ولا ہی خزانوں کی چابیوں کا مالک ہوتا ہے۔ عرب کہتے ہیں فلان القیت الیہ مقالید الملک۔ میں نے فلاں کو ملک کی چابیاں سپرد کردیں۔ المقالید جمع قلید اس کا معنی چابیاں۔ ایک قول یہ ہے کہ لفظاً اس کا واحد مستعمل نہیں۔ یہ لفظ اصلاً فارسی ہے۔ آیت والذین کفروا بایت اللہ اولئک ہم الخسرون، اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی آیات نہیں مانتے وہ بڑے خسارہ میں رہیں گے۔ یہ ینجی اللہ الذی اتقوا سے متصل ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ متقوین کو ان کی کامیابی کے سبب نجات دیں گے اور جو لوگ کافر ہیں وہ خسارہ میں رہیں گے۔ اور ان کے مابین جملہ معترضہ لائے کہ وہ ہر چیز کا خالق اور نگہبان ہے۔ اس پر اعمال مکلفین کا کوئی عمل مخفی نہیں اور جن اعمال پر ان کو بدلہ دیا جائے گا (وہ بھی اس کے سامنے ہیں) یا اس آیت کا تعلق قریب سے ہے کہ ہر شیء آسمان و زمین کی اس کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور اس کے دروازے کا کھولنے والا ہے اور لوگ جنہوں نے معاملہ اس طرح تسلیم نہ کیا وہ لوگ کفر و انکار کرنے والے ہیں وہی نقصان اٹھائیں گے۔
ایک روایت ہے کہ عثمان ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے لہ مقالید السموات والارض کی تفسیر دریافت کی۔ آپ نے فرمایا اے عثمان ! تم سے پہلے اس کے متعلق کسی نے سوال نہیں ! اس کی تفسیر لا الہ اللہ، اللہ اکبر سبحان اللہ وبحمدہ، واستغفر اللہ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ ھو الاول والآخر والظاھر والباطن بیدہ الخیر یحییٰ ویمیت وھو علی کل شیء قدیر (رواہ البیہقی فی الاسماء والصفات) ۔ اور اس تفسیر کے مطابق آیت کا مطلب یہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات کیلئے یہ کلمات ہیں ان سے اس کی وحدانیت ظاہر ہوتی ہے اور بزرگی کی بیان کی جاتی ہے یہ آسمانوں و زمین کی خیر و بھلائی کی کنجیاں ہیں۔ متقین میں جس نے یہ کلمات زبان سے کہے وہ اس خیر کو پالے گا۔ اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرنے والے ہیں اور اس کی توحید و تمجید کے کلمات نہیں مانتے وہی خسارہ پانے والے ہیں۔
Ayah 39:64قل، کہہ دیجیے، اس کو جو آپ کو اپنے آباء کے دین کی طرف بلائے۔ افغیر اللہ تامرونی، کیا پھر بھی تم مجھ کو غیر اللہ کی عبادت کرنے کی فرمائش کرتے۔
قراءت، مکی نے تامرونی، شامی نے اصل پر تامروننی پڑھا، مدنی نے تامرونیَ ۔
نحو، اور افغیر، اعبد کی وجہ سے منصوب ہے اور تامرونی جملہ معترضہ ہے اور اس کا معنی افغیر اللہ اعبد باکم بعد ھذا البیان۔ اس بیان کے بعد میں کیا تمہارے حکم و فرمائش سے غیر اللہ کی عبادت کروں۔ ایہا الجاہلون، اے جاہلو، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت سے۔
Ayah 39:65وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ، اور آپ کی طرف بھی اور وہ پیغمبر جو آپ سے پہلے ہو گزرے ہیں۔ وحی بھیجی جا چکی یعنی انبیاء (علیہم السلام) کی طرف۔
کلام علی سبیل الفرض : لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ ، کہ اے عام مخاطب اگر تو شرک کرے گا تو تیرا کیا کرایا کام غارت ہوجائے گا، اور تو خسارہ میں پڑے گا۔ اور بلاشبہ فرمایا لئن اشرکت علی التوحید، صیغہ مخاطب مفرد کا استعمال کیا۔ حالانکہ انبیاء (علیہم السلام) تو بہت بڑی جماعت ہے۔ کیونکہ اس کا معنی اس طرح ہے اوحی الیک لئن اشرک لیحطبن عملک والی الذین من قبلک مثلہ آپ کی طرف وحی کی گئی اگر بالفرض تم نے شریک ٹھہرایا ضرور بضرور تمہارے عمل ضائع ہوجائیں گے اور ان لوگوں کی طرف بھی آپ سے پہلے ہوئے اس کی مثل وحی کی گئی۔ لئن کی لام قسم محذوف کی تمہید کیلئے لائی گئی ہے اور دوسری لام جواب قسم کیلئے ہے۔ اور یہ لیحطبن کا جواب دو جوابوں کے قائم مقام ہے۔ میرا مطلب دو جوابوں سے قسم و شرط کا جواب ہے یہ کلما صحیح ہے یا وجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول (علیہم السلام) اس کے ساتھ شریک نہیں ٹھہراتے، کیونکہ اس میں صیغہ خطاب نبی کریم ﷺ کیلئے لایا گیا ہے۔ اور مراد اس سے آپ کا غیر ہے۔ اور یہ بھی وجہ ہے کہ یہ کلام علی سبیل الفرض ہے اور محالات کو فرض کرنا درست ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اگر سر میں میرے سوا اور کی طرف جھانکا تو وہ سر جو میرے اور تمہارے مابین ہے وہ ختم ہوجائے گا۔
Ayah 39:66بَلِ اللّٰهَ فَاعْبُدْ ، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرنا۔ اس میں کفار کی طرف سے ملنے والی دعوت کہ ہمارے آلہہ کی تم پوجا کرو۔ اس کی تردید ہے گویا تقدیر کلام اس طرح ہے۔ تم مت عبادت کرو جن کے عبادت کی وہ فرمائش کرتے ہیں بلکہ اگر تم عبادت کرو تو اللہ تعالیٰ ہی کی کرو۔ پس شرط کو حذف کردیا اور اس کے بدلے میں مفعول کو مقدم کردیا۔ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ ، اور شکر گزار رہنا ان انعامات پر جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر فرمائیں کہ آپ کو سید ولد آدم بنایا۔
Ayah 39:67وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ (اور ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی کچھ عظمت نہ کی جیسی عظمت کرنا چاہیے) ۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی تعظیم کا حق پورا نہیں کیا۔ جبکہ آپ کو دعوت دے رہے ہیں کہ غیر اللہ کی عبادت کرو۔ جب سب سے بڑی ذات کو انسان صحیح پہچانتے اور اس کی عظمت کا حق جانتے ہوئے نہ قدر کرے تو کہا جاتا ہے مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ ۔ پھر اس کی عظمت و جلال کے متعلق بطریق تخییل خبر دار کیا۔ وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِهٖ (حالانکہ ساری زمین اسی کی مٹھی میں ہوگی قیامت کے دن اور تمام آسمان لپٹے ہوں گے اس کے داہنے ہاتھ میں) ۔ اس کلام سے مراد اللہ تعالیٰ کی جلالت و عظمت کو ظاہر کرنا ہے اور اس سے اس قبضہ اور یمین جہت نہ حقیقتاً مراد ہے اور نہ مجازاً ۔ الارض سے مراد ساتوں زمینیں ہیں۔ اس کی شہادت جمیعاً کے لفظ سے ہوتی ہے اور اسی طرح والسموات سے کیونکہ موقعہ بھی عظمت کو ظاہر کرنے کا ہے اس لیے مبالغہ کو مقتضی ہے۔
نحو : الارض مبتداء قبضتہ، یہ اس کی خبر ہے جمیعاً حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے تقدیر کلام اس طرح ہے والارض اذا کانت مجتمعۃ قبضتہ یوم القیامۃ۔ اور زمین اس حالت میں کہ وہ ساری کی ساری قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی۔
Ayah 39:68نفخہ صعق کا منظر : وَنُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَاۗءَ اللّٰهُ ، اور صور میں پھونک مار دی جائے گی۔ پس تمام آسمان اور زمین والوں کے ہوش اڑ جائیں گے۔ مگر جس کو خدا چاہے۔ صعق یہ موت کے معنی ہے۔ من شاء اللہ سے مراد جبرئیل، میکائیل، اسرافیل اور ملک الموت (علیہم السلام) مراد ہیں۔ ایک قول حملۃ العرش مراد ہیں۔
ایک قول : داروغہ جنت رضون، حور، مالک اور زبانیہ دوزخ مراد ہیں۔ ثُمَّ نُفِخَ فِيْهِ اُخْرٰى، پھر اس میں پھونک ماری جائے گی۔ اخری، یہ محل رفع میں ہے کیونکہ کلام اس طرح ہے ونفخ فی الصور نفخۃ واحدۃ ثم نفخ فیہ نفخۃ اخروی صور میں ایک مرتبہ پھونک ماری جائے گی پھر اس میں دوسری مرتبہ پھونک ماری جائے گی اس کو حذف اس لیے کردیا کیونکہ اخری کا لفظ دلالت کے لیے کافی ہے۔ اور غیر مقام پر ذکر کرنے کی وجہ سے وہ خود معلوم میں آگیا۔ فَاِذَا هُمْ قِيَامٌ يَّنْظُرُوْنَ ، تو دفعۃ سب کے سب دیکھنے میں لگ جائیں گے۔ اپنی آنکھوں کو چاروں طرف دوڑائیں گے جیسا کوئی مبہوت اچانک مصیبت آجانے کی وجہ سے کرتا ہے یا ان میں اللہ تعالیٰ کا حکم دیکھیں گے۔
مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نفخات دو ہیں۔ اول نفخہ موت اور دوسرا نفخہ بعث۔ قول جمہور یہ ہے کہ نفخات تین ہیں۔ نمبر 1 ۔ نفخہ فزع جیسا کہ فرمایا۔ ویم ینفخ فی الصور ففزع من فی السموات الایۃ (النمل : 87) ۔ 2 ۔ دوسرا موت اور تیسرا بعث کیلئے۔
Ayah 39:69زمین اس کے عدل سے مزین ہوجائے گی : وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا، اور زمین اپنے رب کے نور سے روشن ہوجائے گی۔ اشرقت کا معنی اضاءت (روشن ہونا) ۔ نور سے مراد عدل الٰہی ہے جس کو بطریق استعارہ نور فرمایا گیا ہے جیسا کہ ملک عادل کو کہتے ہیں اشرقت الافاق بعدلک و اضاءت الدنیا بقسطک۔ کہ تیرے انصاف سے دنیا روشن ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے۔ اظلمت البلاد بحور فلان۔ فلان کے ظلم سے ملک اندھیر ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا الظلم ظلمات یوم القیامۃ (رواہ البخاری 2447، مسلم 2579) ۔ رہا زمین کی طرف اضافت کا سوال تو اس کی وجہ یہ ہے زمین کو اپنے عدل سے مزین فرماتا ہے اور زمین میں اپنے انصاف کے میزان قائم کرتا ہے اور زمین والوں کے مابین وہ حق سے فیصلے فرماتا ہے۔ زمین کے وہ حصے جہاں انصاف ہوتا ہے۔ وہ سب سے زیادہ زینت والے اور سب سے زیادہ آباد ہیں۔
شیخ ابو منصور (رح) کا قول : یہ بھی درست ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت کوئی نور پیدا فرما دے جو موقف کو منور فرما دے۔ اور نور کی اضافت رب کی طرف پھر بیت اللہ اور ناقۃ اللہ کی طرح بنے گی۔
وَوُضِعَ الْكِتٰبُ ، اور نامہ عمل رکھ دیا جائیگا۔ یعنی صحائف اعمال رکھ دیے جائیں گے۔ لیکن یہاں اسم جنس پر اکتفاء کیا گیا اور الکتاب فرما دیا۔ یا لوح محفوظ مراد ہے۔ وَجِايْۗءَ بِالنَّـبِيّٖنَ (اور پیغمبروں کو حاضر کیا جائے گا) تاکہ اللہ تعالیٰ ان سے تبلیغ رسالت کے متعلق سوال فرمائے ان زمانوں کے متعلق جن جن میں ان کی بعثت ہوئی۔ وَالشُّهَدَاۗءِ ، اور گواہ، حفاظتی فرشتے۔
ایک قول : ہر زمانہ کے ابرابر وہ اہل زمانہ کے متعلق گواہی دیں گے۔ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ ، اور ان کے مابین فیصلہ کیا جائے گا۔ ھم سے بندے مراد ہیں۔ بالحق، ٹھیک ٹھیک، انصاف کے ساتھ، وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ ، اور ان پر ذرا ظلم نہ ہوگا۔
مسئلہ، آیت کا اختتام ظلم کی نفی سے فرمایا جیسا کہ اس کی ابتداء اثبات عدل سے فرمائی تھی۔
Ayah 39:70وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ ، اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ ماعملت سے جزائے عمل مراد ہے۔
وَهُوَ اَعْلَمُ بِمَا يَفْعَلُوْنَ ، وہ سب کے کاموں کو خوب جانتا ہے۔ بغیر لکھے اور بغیر گواہ کے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت و ھم لا یظلمون کی تفسیر ہے۔ تقدیر کلام یہ ہوگا۔ ووفیت کل نفس ما عملت من خیر و شر لا یزاد فی شر ولا ینقص من خیر کہ ہر نفس کو جو اس نے عمل کیا خواہ خیر ہے یا شر اس کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ نہ شر میں اضافہ ہوگا اور نہ خیر میں کمی کی جائے گی۔
Ayah 39:71وَسِيْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا، اور کافر جہنم کی طرف گروہ گروہ کر کے ہانکے جائیں گے۔ زبردستی ان کو چلایا جائے گا جیسا کہ قیدیوں سے کیا جاتا ہے اور بادشاہ کے خلاف بغاوت کرنے والوں سے کیا جاتا ہے۔ جب کہ ان کو قید میں ڈالا جانا ہو۔ یا قتل کرنا ہو۔ زمراً ، یہ حال ہے، یعنی ایک دوسرے کے پیچھے متفرق جماعتوں کی صورت میں۔
حَتّىٰٓ اِذَا جَاۗءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا : یہاں تک کہ جب وہ دوزخ کے پاس پہنچیں گے تو اس کے دروازے کھول دیے جائیں گے، قراءت : کوفی نے فُتِحَتْ میں دونوں میں تخفیف پڑھی ہے۔
ابواب جہنم سات ہیں : ابواب جہنم سات ہیں، وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَــتُهَآ، ان کو جہنم کے محافظ کہیں گے، خزنۃ سے جہنم کے حفاظتی فرشتے مراد ہیں۔ وہ فرشتے جہنمیوں کو عذاب دینے پر مقرر ہیں۔ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ ، کیا تمہارے پاس تم ہی لوگوں میں سے پیغمر نہ آئے تھے۔ منکم سے مراد اولاد آدم میں سے۔
يَتْلُوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ رَبِّكُمْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا، جو تم کو تمہارے رب کی آیات پڑھ کر سنایا کرتے تھے اور تم کو تمہارے پاس دن کے پیش آنے سے ڈرایا کرتے تھے۔ یوم سے وقت مراد ہے۔ اور اس سے دخول نار کا وقت ہے قیامت کا دن مراد نہیں ہے۔ قَالُوْا بَلٰى، کافر کہیں گے ہاں، وہ ہمارے پاس آئے اور انہوں نے ہم پر اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھیں۔ وَلٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ ، لیکن عذاب کا وعدہ کافروں پر پورا ہو کر رہا۔ لیکن ہم پر اللہ تعالیٰ کی آیات لازم آگئیں وہ یہ ہے۔ لاملان جہنم : السجدۃ :13، ہماری بد اعمالیوں کے باعث جیسا کہ دوسرے مقام پر ہے۔ ربنا غلبت علینا شقوتنا و کنا قوما ضالین (المومنون :106) ۔ اس میں انہوں نے اس عمل کا ذکر کیا جو عذاب کو لازم کرنے والا تھا اور وہ کفر و گمراہی ہے۔
Ayah 39:72قِيْلَ ادْخُلُوْٓا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا، کہا جائے گا کہ جہنم کے دروازوں میں داخل ہو ہمیشہ اس میں رہا کرو۔
نحو : یہ حال مقدرہ ہے یعنی انکے لیے خلود کو مقدر کردیا گیا۔
فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ ، (پس تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانہ ہے) ۔ اس میں لام جنس کا ہے۔ کیونکہ مثوی المتکبرین یہ بئس کا فاعل ہے۔ اور بئس کا فاعل معرف باللام ہوا کرتا ہے یا معرف باللام کی طرف مضاف ہوتا ہے اور مخصوص بالذم محذوف ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ فبئس مثوی المتکبرین جہنم۔ متکبرین کا ٹھکانہ جہنم بہت ہی برا ہے۔
Ayah 39:73سوریوں کو جنت کی طرف لے جایا جائے گا : وَسِيْقَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا، اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے تھے ان کو گروہ گروہ جنت کی طرف روانہ کیا جائے گا۔ اس سے مراد ان کی سواریوں کا جنت کی طرف روانہ ہونا ہے۔ کیونکہ ان کو عزت و رضا کے مقام کی طرف سوار کر کے لے جایا جائے گا۔ جیسا کہ ان کے ساتھ کیا جاتا ہے جن کا اکرام کیا جاتا ہے اور جن کو بادشاہوں کی خدمت میں پہنچنے میں مشرف باد کیا جاتا ہے۔ حَتّىٰٓ اِذَا جَاۗءُوْهَا، یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچیں گے۔ یہ آمد وہی ہے جس کو بعد والے جملے بیان کر رہے ہیں۔ وہ محکیہ جملے اگرچہ شرطیہ ہیں۔ مگر ان کی جزاء کو حذف کیا گیا ہے اور بلاشبہ ان کو حذف اس لیے کیا گیا کہ وہ اہل جنت کے ثواب کے سلسلہ میں ہیں اور ان کا حذف دلالت کر رہا ہے کہ یہ ایسی چیز ہے جس کا احاطہ وصف بیان سے نہیں کیا جاسکتا۔
قول زجاج (رح) : اس کی تقدیر کلام یہ ہے، حتی اذا جاءھا و فتحت ابوابہا وقال لہم خزنتھا سلام علیکم طبتم فادخلوھا خالدین دخلوھا۔ پس دخلواھا کو حذف کردیا کیونکہ کلام میں اس پر دلالت موجود ہے۔
وَفُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَـــتُهَا سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِيْنَ ، اور اس کے دروازے کھلے ہوئے ہوں گے اور وہاں کے محافظ ان سے کہیں گے السلام علیکم تم مزے میں رہو پس اس میں ہمیشہ رہنے کے لیے داخل ہوجاؤ۔ ایک جماعت نے کہا یہ اس طرح حتی اذا جاءوھا و جاءوھا پس ان کے نزدیک جاءوھا محذوف ہے۔ معنی یہ ہوگا یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچیں گے ان کی آمد دروازوں کے کھلنے کے ساتھ واقع ہوگی۔ ایک قول یہ ہے جہنم کے دروازے اس وقت کھولے جائیں گے، جبکہ اہل جہنم اس میں داخل ہوں اور جنت کے دروازے وہ پہلے کھولے جائیں گے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جنات عدن مفتحۃ لہم الابواب (ص :50)
نکتہ واؤ : اسی لیے یہاں واؤ کے ساتھ لائے گویا کلام اس طرح ہے۔ حتی اذا جاءوھا و قد فتح لہم ابوبہا یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچیں گے تو اس کے دروازوں کو کھلا پائیں گے۔ طبتم پاک رہو گناہوں کی میل کچیل سے اور غلطیوں کی گندگی سے صاف کردیے گئے۔
قول زجاج (رح) ہے کہ کنتم طیبیب فی الدنیا ولم تکونوا خبیثین تم دنیا میں پاک تھے۔ یعنی تم خباثتوں والے نہ تھے۔ قول ابن عباس ؓ ہے کہ طاب لکم المقام تمہارے لیے یہ ٹھہرنا مزے کا ہوگا۔
جنت دار الطیبین : دخول جنت کو پاکیزگی اور طہارت کا مسبب قرار دیا گیا ہے کیونکہ جنت دار الطیبین اور پاکیزہ لوگوں کا گھر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو ہر میل سے پاک کردیا ہوگا۔ اور گندگی سے ستھرا کردیا ہوگا۔ پس جنت میں تو جو اس کے مناسب و موافق ہوگا وہی داخل ہوگا اور ان صفات سے موصوف ہوگا جو اہل جنت کی ہیں۔
Ayah 39:74آیت وقالوا الحمد للہ الذی صدقنا وعدہ، اور وہ کہیں گے تمام تعریفیں اس ذات کیلئے ہیں جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچا کیا، یعنی وہ وعدہ پورا فرما دیا جو آخرت کی نعمتوں کے متعلق فرمایا تھا۔ آیت و اور ثنا الارض (اور ہم کو اس سرزمین کا وارث بنایا) ، الارض سے جنت کی زمین مراد ہے اور ان کو اس کا وارث بنایا جائے گا یعنی مالک بنایا جائے گا۔ اور اس کا بادشاہ بنایا جائے گا۔ اور جیسا چاہیں گے اسی طرح ان کو آزادانہ تصرف کی اس میں اجازت ہوگی۔ جیسا کہ وارث کو اپنی جائیداد میں تصرف اور پورا پورا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ نتبوا، ہم قیام کریں۔ یہ حال ہے۔
مِنَ الْجَــنَّةِ حَيْثُ نَشَاۗءُ ، جنت میں ہم جہاں چاہیں، یعنی ہر جنتی کے لیے اتنی وسیع جنت ہوگی جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اور حاجت سے بہت ہی زائد ہوگی پس وہ اپنی جنت میں جہاں چاہے گا ٹھکانہ اور مقام بنائے گا۔
فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِيْنَ ، غرض عمل کرنے والوں کا اچھا بدلہ ہے، جو دنیا میں عمل کرتے رہے۔ اجر سے مراد جنت ہے۔
Ayah 39:75فرشتے عرش کے گرد صف اندھنے ہوں گے اور حق کا فیصلہ کردیا جائے گا۔ وَتَرَى الْمَلٰۗىِٕكَةَ حَاۗفِّيْنَ ، اور آپ فرشتوں کو دیھیں گے کہ حلقہ باندھے ہوں گے۔
نحو : حافین یہ الملائکہ سے حال ہے۔
مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ ، عرش کے گردا گرد، یعنی اس کے گرد نظریں جمائے ہوں گے۔ من یہ ابتدائے غایت کیلئے ہے یعنی ان کے حلقہ باندھنے کی ابتداء عرش کے گردا گرد سے شروع ہو کر وہاں تک ہوگی جہاں تک اللہ تعالیٰ چاہیں گے۔ يُسَبِّحُوْنَ ، وہ تسبیح کرنے والے ہوں گے۔
نحو : یہ حافین کی ضمیر سے حال ہے۔
بِحَمْدِ رَبِّهِمْ ، اپنے رب کی تحمید کے ساتھ، یعنی وہ کہہ رہے ہوں گے۔ سبحان اللہ، والحمد للہ، ولا الہ الا اللہ، واللہ اکبر، یا کہیں گے، سبوح قدوس رب الملائکۃ والروح۔ یہ کہنا بطور تلذذ ہوگا بطور تعبد نہ ہوگا کیونکہ جہانِ تکلیف چلا گیا۔
وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ ، اور تمام بندوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے گا۔ انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی امتوں کے درمیان۔ اہل جنت اور اہل نار کے درمیان۔
بِالْحَقِّ ، ٹھیک ٹھیک، عدل و انصاف کے ساتھ۔
وَقِيْلَ الْحَـمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ، اور کہا جائے گا کہ ساری خوبیاں اللہ تعالیٰ کے لائق ہیں۔ جو تمام عالم کا پروردگار ہے۔ یہ اہل جنت کہیں گے بطور شکریہ جبکہ وہ جنت میں داخل ہوچکیں گے۔ اور ان کے متعلق وعدہائے الٰہی پورے ہوجائیں گے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا۔ وآخر دعواہم ان الحمد للہ رب العالمین (یونس : 10) ، حدیث میں وارد ہے جس کو امام احمد (رح) نے اور ترمذی و حاکم نے روایت کیا ہے۔ کہ رسول اللہ ﷺ ہر رات سورة بنی اسرائیل اور الزمر پڑھتے تھے۔