Ayah 89:23(26) دوزخ کی نقاب کشائی اور منکرین کی یاس و حسرت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز دوزخ کو لایا جائے گا، اور اس روز انسان پوری طرح سمجھ اور جان لے گا حق اور حقیقت کو "۔ کہ اس روز سب کچھ اس کے سامنے آشکار ہوچکا ہوگا، اور تمام غیبی حقائق پردہ خفا سے نکل کر پوری طرح واضح اور سب پر عیاں ہوچکے ہوں گے، اور اس طور پر کہ ہر کوئی ان کے ماننے اور تسلیم کرنے پر مجبور ہوگا اور غفلت کے سب پردے اس سے ہٹ اور چھٹ چکے ہوں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، مریم 38 پ 16) یعنی " کیا ہی خوب سنتے اور دیکھتے ہوں گے یہ لوگ اس دن لیکن آج یہ ظالم کھلی گمراہی میں ڈوبے پڑے ہیں "۔ مگر اس روز ان کا یہ سننا ماننا ان کے کچھ کام نہ آسکے گا کہ یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد ہوگا جو کہ ایمان بالمشاہدہ یا ایمان بالشہود کہلاتا ہے، جبکہ اصل مقصود مطلوب وہ ایمان ہے جو کہ بن دیکھے ہو، یعنی ایمان بالغیب۔ اور اس امر کی نصوص کتاب و سنت کے ذریعے طرح طرح سے تصریح فرمائی گئی ہے۔ مثلا سورة محمد میں ارشاد ہوتا ہے ( آیت، محمد 18 پ 26) یعنی " کیسے کام دے سکے گا ان کو اس نصیحت کا قبول کرنا جبکہ آپہنچے گی ان پر قیامت کی وہ ہولناک گھڑی "۔ سو مطلب و مقصود وہ ایمان ہے جو انسان اس دنیا میں لائے، اور ان غیبی حقائق کو مانے جو کہ آج پردہ خفا میں ہیں، اور وہ ان پر اللہ کی کتاب عزیز اور اس کے رسول امین کی تعلیمات مقدسہ و ارشادات عالیہ کے مطابق ایمان لائے، اور جس کو ایمان بالغیب کہا جاتا ہے، نہ کہ وہ ایمان جو کہ کشف حقائق اور ظہور نتائج کے بعد لایا جائے گا۔ جبکہ سب کچھ سامنے آچکا ہوگا کہ وہ ایمان ایمان بالغیب نہیں بلکہ ایمان بالشہود اور ایمان بالمشاہدہ ہوگا کہ اس وقت تو ہر کوئی ماننے پر مجبور ہگا۔ پس اصل قدروقیمت ایمان بالغیب کی ہے جس سے سرفرازی کا موقع اس دنیاوی زندگی میں ہے، اور بس۔ بہرکیف اس ارشاد سے اس روز دوزخ کی حاضری اور اس کی نقاب کشائی اور منکرین کی یاس و حسرت کو واضح فرما دیا گیا، سو جنت اور دوزخ کا اس روز ظہور ہوگا جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشا فرمایا گیا ( آیت، النازعات 36 پ 30) یعنی ظاہر کردی جائے گا اس روز دوزخ کو ہر اس شخص کے لیے جو دیکھے، اوپر سے ذکر چونکہ معاندین کا چلا آرہا ہے اس لیے سب سے پہلے ذکر دوزخ کا فرمایا گیا ہے، جنت کا ذکر بعد میں آرہا ہے۔ اللھم انا نسئلک الجنۃ وما یقرب الیھا من القول، والعمل، ونعوذبک من النار وما یقرب الیھا من القول والعمل۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین، ویا ارحم الرحمین۔
(27) منکرین کے لیے مایوسی کا اعلان وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز انسان خوب سمجھ لے گا مگر کہاں کام آسکے گا اس کو اس روز کا سمجھنا "۔ کہ سننے اور ماننے کا وقت اس وقت بہرحال بیت چکا ہوگا۔ اور حق و ہدایت کو قبول کرنے کی فرصت اس کے ہاتھ سے نکل چکی ہوگی، جو کہ دنیوی زندگی کی فرصت محدود اور حیات مستعار ہے، جو کہ اصل میں انسان کو مرحمت ہی اس لیے فرمائی گئی ہے کہ وہ اس میں ایمان و یقین کے شرف سے مشرف ہو کر اور عمل صالح کی پونجی کما کر اپنی آخرت کا سامان کرسکے، اور وہاں اس کی حقیقی اور دائمی و ابدی سعادت سے سرفراز ہوسکے۔ اللہ نصیب فرمائے، آمین ثم آمین۔ اور جو کوئی دنیا میں اس سعادت سے محروم رہا، والعیاذ باللہ العظیم۔ تو اس کے لیے وہاں پر حسرت و ندامت کے سوا اور کچھ نہ ہوگا، اور وہ اپنی دنیوی زندگی کے ضیاع اور اس میں ایمان و یقین کے حصول کے لیے کوتاہی برتنے اور اپنی محرومی پر رہ رہ کر افسوس کرے گا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( ایت، الزمر 56 پ 24) یعنی باز آجاؤ اور صدق دل سے اپنا لو تم لوگ راہ حق و ہدایت کو اس سے پہلے کہ کسی کو ( بصد حسرت و افسوس) یوں کہنا پڑے کہ ہائے افسوس میری اس تقصیر و کوتاہی پر جو میں اللہ کی جناب اقدس و اعلی میں برتتا رہا، اور ( میری بدقسمتی کا یہ عالم تھا کہ) میں الٹا مذاق اڑانے والوں میں شامل تھا، والعیاذ باللہ العظیم۔ پس باز آجاؤ تم اے لوگو اپنی اس روش سے قبل اس سے کہ حیات دنیا کی فرصت محدود تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور تمہیں ہمیشہ کے لیے کف افسوس ملنا پڑے۔ دنیاوی زندگی کی اس عظیم الشان نعمت کی قدر کرو جو آج تم لوگوں کو حاصل و میسر ہے اور اس کے ایک ایک لمحے کو تم اپنے خالق ومالک اور اپنے رب کی رضا و خوشنودی کی راہ میں صرف کرو، والعیاذ باللہ العظیم، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال۔
Ayahs 89:24–25(28) زندگی اصل میں آخرت ہی کی زندگی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور محروم و منکر انسان کی اس روز کی یاس و حسرت کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز انسان کہے گا کہ کاش میں اپنی زندگی کے لیے سامان کرلیتا "۔ یعنی اس زندگی کے لیے جو کہ اب شروع ہورہی ہے، اور جو کہ اصل حقیقی اور ابدی زندگی ہے، دنیوی زندگی تو سفر انسانی کے لیے ایک پڑاؤ جو کہ انسان کو حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے دراصل آخرت کی اس اصل اور حقیقی زندگی کی کمائی اور تیاری ہی کے لیے بخشا گیا تھا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، العنکبوت 64 پ 21) یعنی یقینا آخرت کا وہی گھر ہی حقیقی زندگی کا گھر ہوگا، کاش یہ لوگ جان لیتے، مگر افسوس کہ غافل انسان آج اس حقیقت کو ماننے اور تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا، اور اس کی آنکھوں پر ایسا پردہ پڑا ہوا ہے کہ وہ دنیائے دوں کی اس عارضی اور ناقص زندگی ہی کو سب کچھ سمجھے ہوئے ہے، اور وہ اسی کے لیے جیتا اور اسی کے لیے مرتا ہے۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔ سو ہی لوگ جو آج آخرت سے آگاہ اور خبردار کرنے والوں کو بیوقوف ٹھہرا رہے ہیں کہ اس روز وہ رہ رہ کر اپنی کوتاہی اور بےراہ روی پر افسوس کریں گے اور ایسا افسوس اور اس قدر حسرت کہ وہ ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائیں گے کہ ہم نے حق والوں کی بات کیوں نہ مانی۔ اور رسول پیروی کیوں نہ اختیار کی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی اس طرح تصریح فرمائی گئی ہے۔ ( آیت، الفرقان 27 پ 19) یعنی اس دنا کو یاد کرو جس دن ظالم انسان اپنے ہاتھ کاٹ کر کھائے گا اور کہے گا کہ اے کاش میں نے رسول کے ساتھ ساتھ راستہ بنایا ہوتا، مگر بےوقت کے اس افسوس کا ایسے شخص کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا سوائے آتش حسرت میں اضافے اور تیزی کے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس ارشاد سے اس عظیم الشان اور انقلاب آفرین حقیقت سے آگاہی بخش دی گئی کہ اصل اور حقیقی زندگی آخرت ہی کی زندگی ہے۔ پس عقل و خرد کا تقاضا یہی ہے کہ انسان ہمیشہ اسی کو اور اس کے تقاضوں کو اپنے پیش نظر رکھے، اور اسی کو بنانے سنوارنے اور اسی کی کامیابی کے حصول اور اس سے سرفرازی کو اپنا اصل مقصد و نصب العین بنائے۔ سو یہی حق و ہدایت کی صراط مستقیم اور سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب، جل وعلا۔
Ayahs 89:26–28(29) یوم قیامت کی شدت اور ہولناکی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور یوم قیامت کی شدت اور ہولناکی کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز نہ کوئی اس کے عذاب جیسا عذاب دے سکے گا اور نہ ہی کوئی اس کے جکڑنے جیسا جکڑ سکے گا "۔ کہ وہاں پر منکر انسان ایسے ہولناک طوقوں اور زنجیروں میں جکڑا ہوا ہوگا جن کا اس دنیا میں اور اپنے طور پر کسی کے لیے سوچنا اور تصور کرنا بھی ممکن نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس سے وہاں کے عذاب کی شدت اور اس کی ہولناکی اور بےپناہی کو بیان فرمایا گیا ہے کہ اس دن اور اس جہاں میں اللہ جو عذاب دے گا والعیاذ باللہ۔ اس طرح کا عذاب کوئی نہیں دے سکتا، اور جس طرح کا باندھنا وہ باندھے گا اس طرح کا باندھنا کسی اور کے لیے ممکن نہیں، اور یہ حقیقت نفس الامری کا بیان ہے، اس لیے کہ اس دنیا کی لذتوں کی طرح اس کی تکلیفیں اور اذیتیں بھی فانی اور وقتی ہیں، بڑی سے بڑی تکلیف بھی کوئی دے گا تو موت سے تو بہرحال اس کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اور لمبی سے لمبی قید میں بھی کوئی ڈالے گا والعیاذ باللہ، تو موت کا فرشتہ اس سے رہائی دلوا دے گا، لیکن آخرت کے اس ہولناک عذاب اور وہاں کی اس شدید قید سے چھڑانے اور دہائی دلانے کی کوئی صورت کسی کے لیے ممکن نہیں ہوگی، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو فکر وہاں کے اس ہولناک عذاب سے بچنے ہی کے لیے کرنی چاہیے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، آمین ثم آمین یا رب العالمین، واکرم الاکرمین۔
Ayah 89:29(31) اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کی معیت ورفاقت ایک عظیم الشان نعمت : سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کی معیت ورفاقت کا ایک عظیم الشان انعام و احسان ہے اسی لیے یہاں پر اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ نفوس مطمئنہ والوں سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اور اس کے خاص بندوں کی معیت کی نعمت سے سرفرازی کی بشارت کے طور پر ان سے کہا جائے گا کہ " پس اب تو شامل ہوجا میرے بندوں میں "۔ یعنی میرے ان خاص بندوں میں جو میری خاص رحمتوں اور عنایتوں سے سرفراز و سرشار ہیں۔ پس میرے ان خاص نصیب بندوں میں داخل ہو کر تم بھی میری ان خاص نعمتوں اور عنایتوں سے مستفید و متمتع ہوجاؤ جن سے میں نے ان کو سرفراز کیا ہے، اللھم اجعلنا منھم۔ سو دنیا کے دار الامتحان میں تم نے صبرو ثبات اور سکون و اطمینان کی جس راہ کو اپنایا، اور تم جو عسر و یسر اور سختی اور نرمی کے ہر حال میں راضی و مطمئن رہے، تو تم اس امتحان میں پاس ہوگئے، اب تمہارے لیے سدا بہار نعمتیں اور ہمیشہ کی کامیابی ہے۔ پس اب تم میرے خاص بندوں کے زمرے میں شامل ہوجاؤ، سو نیک بندوں کے زمرے میں داخل اور شامل ہوجانا ایک عظیم الشان نعمت ہے۔ اسی لیے یہاں پر اس کا بطور خاص ذکر وبیان فرمایا گیا، اور اسی لیے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بےمثال حکومت و بادشاہی سے سرفرازی کے باوجود اللہ تعالیٰ سے اس نعمت کے حصول اور اس سے سرفرازی کی دعا و درخواست کی تھی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی اس طرح تصریح فرمائی گئی ہے ( آیت، النمل، 19 پ 19) یعنی تو اے میرے رب داخل فرما دے مجھے اپنے نیک بندوں میں۔ جعلنا اللہ منھم بمحض منہ وکرمہ واحسانہ و ھو ارحم الرحمین، واکرم الاکرمین، سبحانہ و تعالیٰ ۔ فعلیہ نتوکل و بہ نستعین، وفی کل ان و حین۔
Ayah 89:30(32) دخول جنت کے حکم و ارشاد کے مژدہ جانفزا کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ارشاد ہوگا کہ " داخل ہوجا تو میری جنت میں "، ان سدا بہار اور ابدی نعمتوں سے سرفراز و فیضیاب ہونے کے لیے جو میں نے وہاں تیار کر رکھی ہیں۔ جو نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کسی کان نے سنیں، اور نہ ہی کسی دل پر ان کا گزر ہی ہوا۔ اللھم اجعلنا من النفوس المطمئنہ الراضیۃ المرضیۃ، برحمتک و عنایتک، و ادخلنا برحمتک فی عبادک الصالحین۔ و شرفنا بنعیم جنتک المقیم، بمحض منک وکرمک یا ارحم الرحمین، ویا اکرم الاکرمین۔ یا من لا تضرہ الذنوب والمعاصی ولا ینقصہ العفو والغفران، ھب لی مالا ینقصک واغفرلی ما لا یضرک، واجعلنا من الذین یقال لھم۔ یا ایتھا النفس المطمئنہ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، و یا ارحم الرحمین واکرم الاکرمین، تبارکت وتعالیت۔ واخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین، فی کل ان و حین، وھو العزیز الرحیم۔ ذو القوۃ المتین۔