79. Surah An-Naazi'aat

النازعاتThose who drag forth · 46 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 79:39–41

فَاِنَّ الْجَحِیْمَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 79:39 in the Quran reader

تو یقینا دوزخ ہی ہوگی اس کا ٹھکانا

وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰىۙ Open ayah 79:40 in the Quran reader

اور جو ڈرتا رہا ہوگا (اپنی زندگی میں) اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے اور اس نے روکے رکھا ہوگا اپنے نفس کو خواہشات (کی پیروی) سے

فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 79:41 in the Quran reader

تو بلاشبہ جنت ہی ہوگی اس کا ٹھکانا

(29) دوزخیوں کی تعیین و تشخیص کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور دوزخیوں کی تعیین و تشخیص اور ان کی نشاندہی کی طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " جن لوگوں کی سرکشی ہوگی اور دنیاوی زندگی کو آخرت پر ترجیں دی ہوگی ان کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا "۔ والعیاذ باللہ۔ سو اس سلسلے میں یہ ہے وہ بنیادی نقطہ اور فیصلہ کن مرحلہ کہ انسان اپنی اس دنیاوی زندگی میں ترجیح کس کو دیتا ہے ؟ دنیا کو یا آخرت کو ؟ پس جو دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں اسی کو انہوں نے اپنا اصل مقصد قرار دے دیا، وہ اسی کے لیے جیتے اور اسی کے لیے مرتے ہیں، وہ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی تمیز اٹھا کر دنیا سمیٹنے میں لگ جاتے ہیں کہ ان کا مطمع نظر یہی ہوتا ہے دنیا ملے اور زیادہ سے ملے، اور جس طرح ہوسکے حاصل ہوجائے، آخرت کی ان کو کوئی پرواہ نہیں۔ ایسے لوگوں کو اپنے رب تعالیٰ کی رضا اور ناراضگی کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ آخرت کے بناؤ بگاڑ کی ان کو کوئی فکر نہیں ہوتی، دنیا کے حطام زائل اور متاع فانی کو جوڑنے سمیٹنے کے علاوہ ان کی زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہوتا۔ اور وہ اسی دنیا کے لیے جیتے اور اسی کے لیے مرتے ہیں سو ایسوں کا دائمی ٹھکانہ دوزخ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اس کے برعکس جو لوگ آخرت کو ترجیح دیتے ہیں دنیا پر وہ دنیا کماتے تو ہیں مگر اس شرط اور احتیاط کے ساتھ کہ اپنی آخرت نہ بگڑے، اپنا خالق ومالک ناراض نہ ہوجائے، کہ اصل اور اولین مقصد تو اسی وحدہ لا شریک کی رضا و خوشنودی اور آخرت کی فوز و فلاح اور وہاں کی کامیابی ہے۔ جو کہ اصل اور حقیقی کامیابی ہے۔ سو معاملے کا دارومدار اور اس کا انحصار اسی نکتہ پر ہے کہ انسان ترجیح (Prefrance) کس کو دیتا ہے ؟ اپنی کو یا آخرت کو ؟ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید سبحانہ و تعالیٰ ۔
Ayah 79:42

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَاؕ Open ayah 79:42 in the Quran reader

پوچھتے ہیں یہ لوگ آپ سے (اے پیغمبر ! ) قیامت کے بارے میں (تعجب و انکار کے طور پر) کہ آخر کب آکر ٹھہرے گی وہ ؟

(30) جنتیوں کی تعیین و تشخیص کا ذکر وبیان : سو دوزخیوں کے مقابلے میں جنتیوں کے بارے میں واضح فرما دیا گیا کہ جنت سے سرفرازی کے لیے دو بنیادی شرطیں ہیں۔ یعنی خوف خدا اور ترک ھوی۔ کہ راستے اصل میں دو ہی ہیں۔ ایک اتباع ھدی کا راستہ، جو کہ مومن مخلص کا اور اللہ والوں کا راستہ ہے، اور دوسرا اتباع ھوی یعنی خواہش پرستی کا راستہ، پس اصل دنیا میں جن لوگوں نے اس بات کا خیال رکھا اور احتیاط برتی کہ ہمارا رب ہم سے ناراض نہ ہوجائے، اور انہوں نے خواہشات نفس کی پیروی کرنے اور متاع دنیا کے پیچھے دوڑنے کی بجائے نفس کو کنٹرول میں رکھا اور آخرت کی کامیابی کو اپنا اصل مقصد بنایا، اور اتباع ھوی کی بجائے اتباع ھدی کی راہ کو اپنایا تو ان کا ٹھکانا جنت ہی ہوگا۔ جس میں وہ خوش نصیب ہمیشہ رہیں گے، کبھی ان کو اس سے محروم نہیں کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے آمین ثم آمین، یا رب العالمین۔ سو جنت دوزخ دونوں کا مدارو انحصار انسان کے اپنے عقیدہ و عمل پر ہے نہ کہ کسی قبیلے و خاندان اور حسب نسب وغیرہ پر۔ جیسا کہ یہود و نصاری وغیرہ کا کہنا اور ماننا تھا کہ " ہم اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں " اور یہ کہ دوزخ کی آگ ہمیں چھوئے گی بھی نہیں سوائے گنتی کے کچھ دنوں کے، سو اس طرح کی سب باتیں من گھڑت اور بےبنیاد ہیں۔ یہاں پر دوزخیوں کے بارے میں بتادیا کہ جس نے بھی سرکشی کی اور دنیا کو آخرت پر ترجیح دی ہوگی وہ دوزخی ہوگا خواہ وہ کوئی بھی ہو اور کہیں کا بھی ہو، اور اس کے مقابلے میں جو اپنے رب کے حضور پیشی سے ڈرتا رہا ہو اور اس نے اپنے آپ کو خواہشات نفس سے روکے رکھا ہو وہ جتنی ہوگا۔ خواہ وہ کوئی بھی ہو اور کہیں کا بھی ہو۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر قائم رکھے۔ آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین، و یا ارحم الرحمین، واکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ وھو العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب، سبحانہ و تعالیٰ ۔ (31) منکرین کے قیامت کے بارے میں طنزیہ سوال کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ پوچھتے ہیں آپ سے اے پیغمبر ! اس گھڑی کے بارے میں کب آکر ٹھہرے گی وہ " ؟ یعنی وہ گھڑی جس کی اتنے زمانوں سے خبر دی جارہی ہے۔ آخر وہ آتی کیوں نہیں ؟ اس کو کس نے روک رکھا ہے ؟ اور آخر وہ کب لنگر انداز ہوگی ؟ سو یہ دراصل نتیجہ ہے انسان کی اپنی تنگ نظری اور ناقص ذہنیت کا کہ وہ قدرت کے امور کو اپنے محدود پیمانوں سے ناپتا ہے اور انہی کے مطابق سوچتا اور دیکھتا ہے، جبکہ قدرت کے امور و معاملات قرنوں کے دوائر پر مشتمل اور محیط ہوتے ہیں، سو جس کو لوگ ہزار برس کا طویل زمانہ قرار دیتے ہیں وہ حضرت حق جل مجدہ کے پیمانے کے مطابق صرف ایک دن ہوتا ہے، ارشاد ہوتا ہے وَیَسْتَعْجِلُونَکَ بالْعَذَابِ وَلَن یُخْلِفَ اللَّہُ وَعْدَہُ وَإِنَّ یَوْماً عندَ رَبِّکَ کَأَلْف سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ (الحج 47 پ 17) یعنی تمہارے رب کے یہاں کا ایک دن تم لوگوں کی گنتی کے حساب سے ایک ہزار برس کا ہوتا ہے، اور اس سے بھی مراد گنتی کے ہزار برس نہیں بلکہ محاورہ وبیان کے مطابق یہ کثرت سے کنایہ ہے جس کی اصل حقیقت اللہ پاک ہی کے علم میں ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اس سے منکرین کے اس سوال کا ذکر فرمایا گیا ہے جو وہ طنز و مزاح اور انکار و استہزاء کے طور پر کیا کرتے تھے، " ایان " کا لفظ جیسا کہ ہم نے اپنے ترجمے کے اندر بھی اختیار کیا ہے مستقبل کے بارے میں سوال کے لیے آتا ہے، اور " مرسی " کے معنی لنگر انداز ہونے کے ہیں، سو یہاں پر پر اس لفظ کے استعمال میں ایک قسم کا طنز مضمر ہے، یعنی جس قیامت کے ڈراوے اور اس کی دھمکیاں سنتے سنتے ہمارے کان پک گئے، اور جس کے دیکھتے دیکھتے ہماری آنکھیں پتھرا گئیں، آخر اس کا سفینہ کب آ لنگر انداز ہوگا ؟ وغیرہ، اور یہی حال ہوتا ہے ان لوگوں کا جو ایمان و یقین کی دولت سے محروم ہوتے ہیں۔ والعیاذ باللہ، اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین ویا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب ملھم الصدق والصواب۔
Ayah 79:43

فِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَاؕ Open ayah 79:43 in the Quran reader

آپ کو کیا لگے اس کے (وقت کے) بیان سے

(32) قیامت کے وقت وقوع کی خبر دینا پیغبر کا کام نہیں : سو منکرین کے اس سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ کو کیا لگے اس کے ذکر سے " کہ یہ نہ تو آپ کی ذمہ داری ہے اور نہ ہی آپ کے بس اور اختیار میں، کہ اس کا علم تو من جملہ ان غیوب کے ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ خاص فرما رکھا ہے، اور سلف سے لے کر خلف تک علماء مفسرین کا کہنا ماننا یہی ہے کہ قیامت کا علم ان علوم غیب سے ہے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی نہیں جانتا، بطور نمونہ چندہ حوالے ملاحظہ ہوں۔ " لانھا من الغیوب التی استاثر اللہ بعلمہ لیس لاحد منہ شی کائنا من کانا "۔ ( صفوۃ التفاسیر) یعنی قیامت کے وقت کا علم ان غیب میں سے جن کا علم اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے خاص کرلیا ہے، مخلوق میں سے کسی کو بھی اس کا کوئی علم نہیں، خواہ کوئی بھی ہو۔ ای لیس علیک ذکر ھا لانھا من الغیوب فلا معنی لسوالھم ایاک عنھا ( روح) یعنی اپ پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں، کیونکہ یہ ان غیوب میں سے ہے جن کا علم اللہ ہی کو ہے، پس آپ سے اس کے بارے میں سوال کرنے کا کوئی معنی و مطلب ہی نہیں۔ فلا یوجد عند غیرہ تعالیٰ لیس علمھا الیک ولا الی احد من الخلق بل مردھا و مرجعھا الی اللہ، عز وجل، فھو الذی یعلم وقتھا علی الیقین ( ابن کثیر) یعنی اس کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کو بھی نہیں ہوسکتا، کیونکہ اس کا علم نہ آپ کو ہے اور نہ ہی مخلوق میں سے کسی کو بھی اس کا کوئی علم ہے، بلکہ اس کا حال اور انجام اللہ ہی کی طرف ہے، وہی اس کا یقینی علم رکھتا ہے۔ فلا یعلم وقت قیامھا احد غیرہ جل وعلا ولم یعط علمہ لملک مقرب ولا لنبی مرسل ( تفسیر المراغی) یعنی اس کے قیام کے وقت کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور نہیں جان سکتا، اور اس کا علم نہ ملک مقرب کو دیا دیا ہے اور نہ کسی نبی و مرسل کو۔ ای لیس علیک ذکرھا لانھا من الغیوب فلا معنی لسوالھم ایاک عنھا۔ (محاسن التاویل) یعنی اس کے وقت وقوع کا ذکر کرنا آپ ﷺ کے ذمے نہیں، کیونکہ اس کا تعلق غیب سے ہے، اس لیے ان لوگوں کے آپ سے اس کے بارے میں سوال کرنے کا کوئی معنی اور مطلب ہی نہیں ہوسکتا وغیرہ وغیرہ۔ سو جمہور مفسرین کرام کی ان تصریحات کو دیکھئے اور پھر اہل بدعت کے ایک بڑے تحریف پسند کی منطق بھی ملاحظہ ہو، جو موصوف نے اس آیت کریمہ سے متعلق بگھاری ہے۔ چناچہ موصوف اس مقام پر اپنے حواشی میں لکھتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں حضور کو بتانے سے منع فرمایا گیا ہے۔ ورنہ مسلمانوں کو حضور ﷺ نے قیامت کا دن تاریخ مہینہ سب بتادیا، اس کے آگے مزید لکھتے ہیں کہ اس کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ " فیما سوالھم انت من ذکرھا " کہ ان کا یہ سوال کس شمار میں ہے ہم خود قیامت یاد دلانے والوں سے ہیں " الخ۔ " بلفظہ " سو تحریف بھی دیکھیے اور موصوف کی عربی دانی کی بھی داد دیجیے۔ جملہ کیا بنایا جس کا نہ کوئی سر ہے نہ پیر، نہ معنی نہ مفہوم، ایسی بےجوڑ تک بندی کہ ایک مبتدی کو بھی اس پر بےاختیار ہنسی آجائے۔ یہ ہے عربیت اور یہ ہے مبلغ علم۔ اور دعوی و زعم ہے کہ موصوف یہ اور یہ ہیں، اور یہ اور یہ القاب رکھتے ہیں، اور پتہ نہیں اور خدا جانے کیا کیا ہونے کا زعم اور گھمنڈ ہے، اور جو جرات و جسارت ملاحظہ ہو کہ کس بےباکی سے کتاب الہی میں تحریف کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، فی کل زمان و مکان، وانت العزیز الوھاب، جل وعلا۔
Ayah 79:44

اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰىهَاؕ Open ayah 79:44 in the Quran reader

آپ کے رب ہی کی طرف ہے اس (کے علم) کی انتہا

(33) وقوع قیامت کا وقت اللہ تعالیٰ ہی کے علم میں : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے اسلوب و انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ کے رب ہی کی طرف سے ہے اس کی انتہا " یعنی وہی اس کے وقت کو جانتا ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس کا علم آپ کے رب ہی کے پاس ہے۔ یہ بات نہ تو اپ کے علم میں ہے اور نہ ہی آپ کے بس میں، اور نہ یہ اپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ لوگوں کو بتائیں کہ قیامت کی وہ ہولناک گھڑی کب اور کتنے عرصے کے بعد آئے گی، کہ یہ غیب کے ان علوم میں سے ہے جن کو آپ کے رب کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ تو جس سوال کا آپ سے تعلق ہی نہ ہو وہ آپ سے کرنے کی آخر تک ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ اور آپ کو اس کی کھود کرید میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے ؟ پس اپ اس کا معاملہ اللہ ہی کے حوالے کردیں کہ وہی اس کو جانتا ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو " فیم انت من ذکراھا " یعنی " آپ کو اس کے ذکر اور اس کی بحث سے کیا لگے ؟ " کے ارشاد سے یہ واضح فرما دیا گیا کہ اس وقت وقوع کے بارے میں بحث و تمحیص اور کھود کرید آپ کا کام نہیں، ایسی تمام باتوں کا علم تمہارے رب کے سوا اور کسی کے پاس نہیں، اپ کا کام یہ نہیں کہ آپ اس کے وقت وقوع سے لوگوں کو آگاہ کریں، آپ کا اصل کام اور حقیقی ذمہ داری تو لوگوں کو اس کی آمد کے بارے میں خبردار کردینا ہے کہ وہ ایک ایسی قطعی حقیقت ہے جس نے اپنے وقت پر بہرحال آکر رہنا ہے۔ پس عقل و نقل کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اس کے لیے تیاری کرے اس کے آنے سے پہلے، نہ کہ اس کے لیے جلدی مچائے، یا اس کا مذاق اڑائے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ من کل زیع و ضلال، و سوء وانحراف، ومن کل شائبۃ من شوائب الکفر والانکار ومن کل نوع من انواع العذاب،۔
Ayah 79:45

اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ یَّخْشٰىهَاؕ Open ayah 79:45 in the Quran reader

آپ کا کام تو صرف خبردار کردینا ہے ہر اس شخص کو جو اس سے ڈرتا ہو

(34) پیغمبر (علیہ السلام) کے کام انذار و تبلیغ اور بس : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ آپ ﷺ کا کام تو خبردار کردینا ہے اور بس، تاکہ لوگ اپنی اصلاح کی فکر و سعی کرسکیں۔ اور آپ کا یہ انذار ہے تو سب لوگوں کے لیے عام، لیکن اس سے مستفید و فیضیاب وہی ہوسکے گا جو ڈرتا ہو اپنے رب کی گرفت و پکڑ سے، کہ ایسے ہی لوگ حق بات پر کان دھرتے اور اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، رہ گئے وہ لوگ جو غائبانہ اور بن دیکھے ڈرنے کی بجائے قیامت کو دیکھ کر ہی ماننا چاہتے ہیں، تو ان پر ایسے انذار کا نہ کوئی اثر ہوسکتا ہے اور نہ ہی ان کو سنانا اور منوانا آپ ﷺ کی ذمہ داری ہے، سو ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کردو، وہ ان سے خود نمٹ لے گا، اور عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق نمٹے گا، سبحانہ و تعالیٰ ۔ آپ کا کام اور آپ کی اصل ذمہ داری انذار و تخویف ہے اور بس۔ یعنی لوگوں کو ان کے ہولناک انجام سے ڈرانا اور خبردار کردینا اور بس، سو اس وقت وقوع کا علم رکھنا نہ آپ کے بس میں ہے اور نہ یہ آپ کی ذمہ داری ہے، پس جس چیز کے آپ ذمہ دار اور مکلف ہی نہیں اس کو چھوڑ دیں اور جس کے آپ مکلف اور ذمہ دار ہیں اس کی فکر اور اس کا اہتمام کریں ( تفسیر المراغی وغیرہ) سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ قیامت کے وقت وقوع کا علم اللہ کے سوا اور کسی کو بھی نہیں، جیسا کہ دوسرے مقامات پر اور مختلف نصوص میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ مثلا سورة اعراف میں ارشاد فرمایا گیا ( آیت، الاعراف 187 پ 9) یعنی " کہو کہ اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے اس کو اپنے وقت پر کوئی ظاہر نہیں کرے گا سوائے اس کے "۔ نیز اسی آیت کریمہ میں تھوڑا آگے چل کر اسی حقیقت کو دوبارہ اس طرح فرمایا گیا اور پہلے کی طرح یہاں بھی حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا یَسْأَلُونَکَ عَنِ السَّاعَۃِ أَیَّانَ مُرْسَاہَا قُلْ إِنَّمَا عِلْمُہَا عندَ رَبِّیْ لاَ یُجَلِّیْہَا لِوَقْتِہَا إِلاَّ ہُوَ ثَقُلَتْ فِیْ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ لاَ تَأْتِیْکُمْ إِلاَّ بَغْتَۃً یَسْأَلُونَکَ کَأَنَّکَ حَفِیٌّ عَنْہَا قُلْ إِنَّمَا عِلْمُہَا عند اللّہِ وَلَـکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یَعْلَمُون (الاعراف 187 پ 9) یعنی " کہو کہ اس کا علم اللہ ہی کے پاس ہے "۔ سو قیامت کے وقت وقوع کا علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے، اس کے سوا اس کو کوئی بھی نہیں جانتا۔ سبحانہ و تعالیٰ ، جل وعلا۔
Ayah 79:46

كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَهَا لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا عَشِیَّةً اَوْ ضُحٰىهَا۠ Open ayah 79:46 in the Quran reader

جس دن یہ لوگ اسے دیکھیں گے تو انہیں یوں محسوس ہوگا کہ گویا یہ (اس دنیا میں) نہیں ٹھہرے تھے مگر ایک شام یا اس کی صبح

(35) وقوع قیامت پر منکرین کے حال کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز ان کو یوں لگے گا کہ گویا کہ یہ دنیا میں نہیں ٹھہرے تھے مگر ایک صبح یا شام "۔ یعنی آج اس کے لیے جلدی مچانے والوں کو اس روز یوں لگے گا کہ وہ دنیا میں اتنا تھوڑا وقت ٹھہرے تھے اور اپنی یہ عمریں جن کو آج ایسے لوگ بڑی لمبی سمجھتے ہیں اس روز ان کو اتنی معمولی معلوم ہوں گی، سو آج اگر ان کو وہ دکھائی نہیں جاتی یا اس کی مقرر تاریخ ان کو بتلائی نہیں جاتی تو اس سے ایسے لوگ مغالطے میں نہ رہیں کہ وہ بہت دور ہے۔ اس لیے ابھی اس کے بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔ جس دن یہ اس کو دیکھیں گے تو اس دن ان کو یوں لگے گا کہ گویا وہ دنیا میں ایک دن کے پہلے یا اس کے پچھلے حصے سے زیادہ نہیں ٹھہرے تھے۔ پس اس کے لیے جلدی مچانے کی بجائے اس کے لیے تیاری کریں قبل اس کے کہ فرصت عمر ان کے ہاتھ سے نکل جائے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من لاحوال وفی کل موطن من الموطن فی الحیاۃ، الذی بیدہ ازمۃ الخیر کلھا، سبحانہ و تعالیٰ ، واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔