Ayah 78:38(33) قیامت کے روز کوئی اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر اس کے حضور بول بھی نہیں سکے گا، سبحانہ و تعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ وہاں پر بول بھی نہیں سکیں گے، جب تک کہ ان کو خدائے رحمن کی طرف سے اس کی اجازت نہ مل جائے اور وہ بات بھی صحیح نہ کہیں، اور جب فرشتوں کو بھی باوجود اتنی عظمت شان کے اس کا یارا، اور اس کی ہمت اور گنجائش نہ ہوگی تو پھر اور کون ہے جو وہاں بول سکے ؟ (المراغی وغیرہ) یا اڑ کے بیٹھ جائے اور مطالبہ منوا کر چھوڑے جس طرح کے کھلے مشرکوں کے علاوہ کلمہ گو مشرکوں کا بھی کہنا ہے۔ سو مشرکین نے جو اپنے زعم باطل کے مطابق فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دے کر انہی پر اعتماد کر رکھا تھا اور وہ انہی کی پوجا پاٹ پر تکیہ کیے ہوئے تھے، ان کے اس مشرکانہ عقیدہ کی اس ارشاد سے جڑ نکال دی گئی کہ فرشتے نہ خدا کی بیٹیاں ہیں اور نہ ان کو کوئی زور اور قوت حاصل ہے، پس اس طرح کی تمام خرافات مشرکوں کی اپنی ذہنی اختراع کا نتیجہ ہیں، ان میں سے کوئی بھی بات کسی کے کچھ بھی کام آنے والی نہیں اور جنہوں نے ایسی خرافات پر تکیہ کر رکھا ہے وہ سراسر دھوکہ میں ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اس روز معاملہ سب کا سب اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہوگا جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا یَوْمَ لَا تَمْلِکُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَیْْئاً وَالْأَمْرُ یَوْمَئِذٍ لِلَّہِ ( الانفطار 19 پ 30) یعنی اس روز معاملہ سب کا سب اللہ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہوگا۔ اللہ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں بات کرنے کے لیے دو شرطیں ضروری ہوں گی، ایک اذن اور دوسرے یہ کہ وہ بات بھی درست کرے، کہ وہ شفاعت اور سفارش اس شخص کے حق میں کرے جو سا کا اہل ہو، جس کے لیے اولیں اور بنیادی شرط یہ ہے کہ وہ مومن ہو، کہ کافر اور مشرک کے لیے شفاعت کی اجازت نہ ہوگی جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا یَوْمَئِذٍ لَّا تَنفَعُ الشَّفَاعَۃُ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَہُ الرَّحْمَنُ وَرَضِیَ لَہُ قَوْلاً (طہ 109 پ 16) یعنی اس روز سفارش کچھ کام نہ آسکے گی سوائے اس شخص کے جس کو خدائے رحمان نے اجازت دی ہو اور وہ بات بھی ایسی کرے جو اس وحدہ لا شریک کو پسند ہو، پس جو مشرک اس طرح کے کسی خبط میں مبتلا ہیں کہ ان کے خود ساختہ شرکاء و شفاء خداوند قدوس کے یہاں اڑ کر بیٹھ جائیں گے اور ان کو بخشوا کر چھوڑیں گے اور وہ نازو تدلل سے اپنی بات منوا کر رہیں گے۔ اور یہ کہ ان کے حق میں ان کی سفارش رد نہیں کی جائیں گے وغیرہ۔ تو یہ سب کچھ خام خیالی اور دھوکے کا سامان ہے، اور جو لوگ اس طرح کی خام خیالیوں میں مبتلا ہیں وہ بڑے ہولناک خسارے میں پڑے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رحمت رضا و خوشنودی کی راہوں پر قائم رکھے۔ آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین، و یا ارحم الراحمین، ویا اکرم الاکرمین۔
Ayah 78:39(34) آزادی ارادہ و اختیار کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ہے وہ برحق دن، یعنی وہ یوم حق جس کے احوال و اھوال میں سے کچھ کا ذکر یہاں ہوا اور جس نے اپنے وقت پر بہرحال آکر رہنا ہے، اب جس کا جی چاہے وہ اپنے رب کے پاس ٹھکانا بنا لے کہ اس میں خود اسی کا بھلا ہے، کسی کے ماننے یا نہ ماننے سے اس یوم عظیم کے حق اور واقع ہونے میں کوئی فرق نہیں آسکتا۔ بلکہ یہ ماننا یا نہ ماننا انسان کے اپنے ہی نفع و نقصان کی بات ہے اور بس، بہرکیف وہ یوم عظیم جس کے بارے میں خبردار کیا جارہا ہے وہ ایک امر شدنی ہے، اس نے اپنے وقت مقرر پر بہرحال آکر اور واقع ہو کر رہنا ہے، نہ کوئی اس کو ٹال سکتا ہے اور نہ اس میں کسی طرح کا کوئی دخل دے سکتا ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے برات ذمہ کا اعلان فرما دیا گیا کہ اس یوم عظیم و رہیب کی آمد اور اس میں پیش آنے والے حقائق سے آگاہ کرنا ضروری تھا۔ تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں اس کی خبر نہیں تھی۔ سو یہ کام کردیا گیا۔ اب یہ لوگوں کی اپنی ذمہ داری اور ان کا اپنا ارادہ و اختیار ہے کہ وہ اس کے بارے میں کون سا اور کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، و علی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال و فی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ بہر کیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اس یوم عظیم کے بارے میں آگہی بخش دی گئی۔ پس اب جس کا جی چاہے اپنے رب کے پاس ٹھکانا بنا لے، اس پر صدق دل سے ایمان لاکر، اور اس کی اطاعت و بندگی کے شرف سے مشرف ہوکر، اور اپنی اہواء و خواہشات کو ترک کرے اس کی ہدایت وتعلیمات کے مطابق اپنی زندگی گزار کر اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق وسعادت سے نوازے، آمین۔ سو جب اس یوم عظیم کے بارے میں یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ اس نے اپنے رب کے پاس اپنا ٹھکانا بنا لے، کہ اس کے احوال سے بچنے کے لیے صرف اللہ ہی کی پناہ کام آسکے گی۔ اللہ اور اس کے رسول کے ذمے تو لوگوں کو حق اور حقیقت سے آگاہ کردینا ہے اور بس۔ اور اس کی تکمیل کردی گئی۔ آگے لوگوں کو ارادہ واختیار کی آزادی حاصل ہے۔ اپنے ارادہ و اختیار سے وہ جونسا راستہ چاہیں اختیار کریں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا فَمَن شَاء فَلْیُؤْمِن وَمَن شَاء فَلْیَکْفُرْ ( الکہف۔ 29 پ 15) یعنی اب وہ چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے کفر کرے ہر کوئی اپنے کیے کرائے کا صلہ و بدلہ پائے گا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ اس روز پناہ اللہ ہی کی طرف سے مل سکے گی۔ اور اس کی پناہ کے حصول اور اس سے سرفرازی کا ذریعہ یہی ہے کہ اس کی بتائی ہوئی راہ کو اپنایا جائے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید۔
Ayah 78:40(35) عذاب قریب سے انذار و آگہی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور منکرین کے لیے آخری تنبیہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ بلا شبہ ہم نے خبردار کردیا تم سب لوگوں کو قریب آلگنے والے عذاب سے۔ نصح و خیر خواہی کے ہر پہلو اور ہر اعتبار سے تاکہ تم لوگ بچ سکو برے انجام سے، قبل اس سے کہ فرصت حیات تمہارے ہاتھ سے نکل جائے، اور تم لوگوں کو ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہونا پڑے، آگے ماننا نہ ماننا تمہارے اپنے ارادہ و اختیار پر موقوف ہے، اگر صدق دل سے اس کو مان کر اس عذاب قریب سے بچنے کی فکر وسعی کروگے، قبل اس کے کہ فرصت حیات تمہارے ہاتھوں سے نکل جائے، پس ایمان و اطاقت میں تو تمہارا اپنا ہی بھلا ہوگا ورنہ تم خود دائمی نقصان و خسران میں جا پڑو گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس سے منکرین کو آخری تنبیہ فرما دی گئی کہ ہم نے تم لوگوں کو اس عذاب سے خبردار کردیا ہے جو قریب ہی آلگا ہے۔ اب بھی جو لوگ اس کو نہیں مانیں گے اور اس کی پروا نہیں کریں گے وہ اپنے ہولناک انجام کے ذمہ دار خود ہوں گے۔ کیونکہ اس کے بعد ان کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہ گیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے آمین۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا اور اس عذاب قریب سے انذار و آگہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلا شبہ ہم نے تم لوگوں کو خبردار کردیا ایک قریب آلگنے والے ہولناک عذاب سے۔ کہ اس نے بہرحال آکر رہنا ہے اور آنیو الی ہر چیز بہرحال قریب ہی ہوتی ہے، خواہ وہ کتنی ہی دور کیوں نہ ہو، جیسا کہ کہا جاتا ہے " کل ما ھو ات قریب "۔ دوسرے اس اعتبار سے بھی کہ تمہاری آخرت اور قیامت تو تمہاری اپنی موت ہی ہے، اور وہ ہر کسی کے سر پر کھڑی ہے، کوئی نہیں جانتا کہ وہ اس کو کب، کہاں، اور کیسے آدبوچے، اور اس طرح اس کو اس دنیا سے کوچ کرنا پڑجائے، اس لیے اس کو ہر وقت اور ہر طرح سے اپنے اس انجام اور آخرت کے لیے تیار رہنا چاہیے اور تیسرا پہلو اس عذاب کے قریب ہونے کا ایک اور ہے اور وہ یہ کہ انسان کا احساس اور اس کی فیلنگ (Feeling) جو بھی کچھ ہے وہ سب اسی دنیاوی زندگی تک ہے اور بس۔ اس کے بعد اس کو کچھ پتہ نہیں ہوگا کہ کتنا زمانہ اس پر گزر گیا یہاں تک کہ وہ جب مدتوں قبر میں رہنے کے بعد حشر میں اٹھے گا تو حیرت زدہ ہو کر کہے گا ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے اٹھا دیا۔ قَالُوا یَا وَیْْلَنَا مَن بَعَثَنَا مِن مَّرْقَدِنَا ہَذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمَنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُونَ ( یس 52 پ 23) سو یہ لوگ تو اپنی غفلت و لاپرواہی کی بنا پر اس کو بڑا دور سمجھ رہے ہیں لیکن ہم اس کو بڑا قریب دیکھ رہے ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا إِنَّہُمْ یَرَوْنَہُ بَعِیْداً ۔ وَنَرَاہُ قَرِیْباً ( المعارج 6، 7 پ 29) اور اس عذاب قریب کے مختلف نمونے ہم اس دنیا میں خود دیکھتے ہیں اور دن رات دیکھتے ہیں اور جگہ جگہ اور طرح طرح سے دیکھتے ہیں۔ مختلف زلزلوں، سیلابوں اور طوفانوں وغیرہ کی شکل میں۔ اور جو مرگیا اس کی قیامت تو قائم ہوگئی کہ اس نے پھر اس دنیا میں بہرحال واپس نہیں آنا۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے " من مات فقد قامت قیامتہ " تو پھر یہ غفلت اور لاپرواہی کیسی اور کیونکر ؟ والعیاذ باللہ، اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے آمین ثم آمین، یا رب العالمین۔
(36) قیامت کے روز منکروں کی انتہائی یاس و حسرت کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز کافر کہے گا کہ کاش کہ میں مٹی ہوتا، اور میں پیدا ہی نہ ہوتا، تاکہ مجھے یہ دن نہ دیکھنا پڑتا اور دوسرا ترجمہ اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میں مٹی ہوجاتا، یعنی مٹی میں مل جاتا، اور دوبارہ نہ اٹھایا جاتا، تاکہ اس انجام سے دوچار نہ ہونا پڑتا، بہرکیف یہ تعبیر ہے اس کے انتہائی صدمے اور افسوس کی، جو ہر کافر و منکر شخص کو وہاں لاحق ہوگا، مگر اس کا کیا فائدہ ؟ کہ اس کا وقت تو بہرحال گزر چکا ہوگا، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو کافر اور منکر لوگ جب اس ہولناک عذاب کو اپنے سامنے دیکھیں گے تو وہ اپنی محرومی اور بدبختی پر سر پیٹیں گے اور اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائیں گے، اور وہ رہ رہ کر یہ تمنا و آرزو کریں گے کہ کاش کہ ہم پیدا ہی نہ ہوئے ہوتے، یا مٹی میں مل کر مٹ مٹا گئے ہوتے، تاکہ اس ذلت و رسوائی اور ہولناک عذاب اور برے انجام سے سابقہ نہ پڑتا، مگر بےوقت کے اس افسوس اور پچھتاوے سے ان کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا، سوائے ان کی آتش یاس و حسرت میں اضافے کے، سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ قرآن حکیم کا دنیا پر یہ کس قدر بڑا احسان ہے کہ اس نے اس قدر صراحت و وضاحت کے ساتھ اتنا پیشگی خبردار کردیا ہے، تاکہ جو بچنا چاہیں وہ بچ جائیں، مگر دنیا ہے کہ پھر بھی اس سے غافل ہے، اور ایسی کہ پیغام حق و ہدایت کو سننے کے لیے تیار نہیں ہوتی بلکہ وہ الٹا حق اور اہل حق کی دشمن بنی ہوتی ہے۔ الا ماشاء اللہ سبحانہ و تعالیٰ فایاہ نسائل التوفیق لما یحب ویرضی و علی ما یحب ویرضی سبحانہ و تعالیٰ