76. Surah Al-Insaan

الانسانMan · 31 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 76:26

وَ مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا Open ayah 76:26 in the Quran reader

اور رات کا کچھ حصہ بھی اسی کے حضور سجدہ ریز رہا کرو اور رات کا ایک بڑا حصہ اسی کی تسبیح (و تقدیس) میں لگے رہا کرو

34 رات کی سجدہ ریزی حکم و ارشاد : سو اس سے رات کے اوقات میں بھی اپنے رب کے حضور سجدہ ریزی کا حکم و ارشاد فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور رات میں اس کے حضور سجدہ ریز رہا کرو کہ اس کی یاد دلشاد اس کی عبادت و بنڈگی اور اس کے حضور سجدہ ریزی ہی مومن کیلئے وہ عظیم الشان شرف اور سعادت ہے ‘ جس کے ذریعے بندئہ مومن مشاکل و مصائب پر قابو پاتا اور غلبہ حاصل کرتا ہے، اور اپنے خالق ومالک کی تائید و نصرت کے شرف سے مشرف ہوتا ہے اسی لئے نبیٔ اکرم ﷺ کا طریقہ تھا کہ جب کوئی معاملہ پیش آتا اور کوئی مشکل نمودار ہوتی ‘ تو آپ ﷺ نماز کی طرف رجوع فرماتے (اذا حزبہ امر فزع الی الصلوۃ) مگر افسوس کہ آج مسلمان اس سے غافل و بیخبر ہے الا ماشاء اللہ حالانکہ مشکلات سے نکلنے اور بچنے کے لئے سب سے اہم اصل اور حقیقی ذریعہ و وسیلہ یہی ہے کہ بندہ نماز کے ذریعے اپنے خالق ومالک سے مدد مانگے اللھم کن لنا واجعلنا لک بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ بہر کیف صبح و شام اپنے رب کی یاد سے سرشار رہنا حصول صبر کا ایک اہم ذریعہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی یاد دلشاد کا ذکر وبیان جب مختلف اوقات کی تحدید و تعین کے ساتھ آتا ہے جیسا کہ یہاں پر اس آیت کریمہ میں ہے، تو اس سے اشارہ دراصل پنجگانہ نمازوں کی طرف ہوتا ہے، جن کی تفصیل پیغمبر نے اپنے قول و فعل سے فرمائی ہے۔ جس کے مطباق ہر مومن اپنی پنج وقتہ نماز ادا کرتا ہے۔ سو اس سے یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ حدیث رسول کے بغیر قرآن حکیم سمجھنا ممکن نہیں۔ سو حدیث رسول قرآن حکیم کا بیان، اس کی تفصیل و تشریح اور اس کی تفسیر ہے اور اس کی حیثیت دین حنیف میں وہی ہے جو انسانی جسم کے اندر ریڑھ کی ہڈی کی ہے۔ پس حدیث کا انکار دراصل قرآن حکیم اور پورے دین کا انکار ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم اللہ تعالیٰ ہر قسم کے زیغ و ضلال سے ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین 35 تسبیح شب کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا اور رات کے ایک طویل حصے میں بھی اس کی تسبیح کرو۔ جس کی بہترین شکل تہجد ہے، اکثر علماء کرام نے اس ارشاد سے اسی طرح پانچوں نمازوں اور تہجد کی طرف اشارے مراد لئے ہیں جیسا کہ ہم نے ابھی اوپر عرض کیا، (تفسیر کبیر اور جامع البیان وغیرہ) اور یہی مروی ہے عکرمہ وغیرہ سے، (ابن کثیر، مراغی وغیرہ) صبح و شام کا ذکر احاطہ وقت کے لئے بھی ہوتا ہے اور لفظ ذکر یہاں عام ہے جو نماز اور ذکر دونوں کو شامل ہے۔ سو قرآن حکیم کا عام طریقہ اور ضابطہ یہی ہے کہ جہاں بھی منکرین و مخالفین کے مقابلے میں صبر و ثبات کی تلقین فرمائی گئی ہے ہواں پر اس کے فوری بعد نماز کا حکم و ارشاد فرمایا گیا ہے جس سے یہ اہم اور بنیادی حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ دشمنان حق کی مزاحمتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے جس طاقت و قوت کی ضرورت ہوتی ہے وہ نماز ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویریدو علی مایحب ویریدو ہوالہادی الی سواء السبیل۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین
Ayah 76:27

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَ یَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا Open ayah 76:27 in the Quran reader

اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ محبت کرتے ہیں اس جلد ملنے والی چیز (یعنی دنیا) سے اور چھوڑتے (اور نظر انداز کرتے) ہیں اپنے آگے آنے والے ایک ایسے دن کو جو بڑا ہی بھاری (اور نہایت ہولناک) دن ہے

36 منکرین کی اصل بیماری کی نشاندہی : سو اس سے حق کے مخالفین و منکرین کی اصل بیماری کی نشاندہی فرما دی ہے کہ وہ حب دنیا ہے کہ یہ لوگ اسی کے لئے جیتے اور اسی کے لئے مرتے ہیں اور یہی ہے فساد اور خربای کی وہ جڑ بنیاد، جس سے آگے طرح طرح کی خرابیاں پیدا ہوتی اور قسما قسم کے مفاسد جنم لیتے ہیں اور اسی کی بنائ پر انسان انسانیت کے منصفہ شرف سے گر کر حیوانیت محضہ کے گڑھے میں گرجا پہنچتا ہے اور وہ صرف پیٹ اور خواہشات نفس کی تکمیل کے لئے جینے کا خوگر ہوجاتا ہے اور اس طرح وہ سنجیدگی اور معقولیت کی صفات سے عاری اور خالی ہو کر رہ جاتا ہے، جس کے بعد وہ نہ حق بات کو سننے ماننے کو تیار ہوتا ہے اور نہ ہی اس بارہ کسی غور و فکر ہی کا روادار ہوتا ہے اور اس طرح وہ خسر الدنیا والاخرۃ کا مصداق بن جاتا ہے، والعیاذ باللہ العظیم سو یہ لوگ آپ کے انداز اور تبلیغ پر جو شبہات وارد کرتے ہیں یہ سب کچھ محض اصل حقیت پر پردہ ڈالنے کی کوشش اور محض سخن سازی اور بہانہ بازی ہے۔ ورنہ ان لوگوں کا اصل مرض یہ ہے کہ حب دنیا کے مہلک مرض کے مریض اور متاع دنیا ہی کے پرستار اور اس کے پجاری ہیں اور یہ لذت عاجل کو آخرت کی خاطر چھوڑنے کا حوصلہ نہیں کرسکتے اور اپنی اس دنیا پرستی کو چھپاء رکھنے کے لئے یہ لوگ قیامت کے بارے میں بناوٹی قسم کے شبہات کا اظہار کرتے ہیں سو اس طرح ایسے لوگ دنیا والوں کو تو دھوکہ دے سکتے ہیں اور بالفل دے بھی رہے ہیں لیکن حضرت حق۔ جل مجدہ سے کس طرح چھپ سکتے ہیں جو کہ علام الغیوب اور علیم بذات الصدور ہے ؟ سبحانہ و تعالیٰ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر قائم رکھتے۔ آمین 37 ۔ آخرت کے یوم ثقیل کو بھلا دینا خساروں کا خسارہ، والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا اور یہ لوگ نظر انداز کر رہ ہیں اپنے آگے آنے والے ایک بڑے ہی بھاری دن کو۔ جس سے وہ اس کے لئے نہ کوئی تیاری کرتے ہیں نہ پرواہ، حالانکہ اسی کی کامیابی حیقی کامیابی ہے اور اسی کی ناکامی اصل اور دائمی ناکامی ہے، والعیاذ باللہ اور ان کی ساری دوڑ دھوپ اور تگ و دو اسی دنیا فانی اور اس کے اسباب اور متاع حقیر کے لئے وقف ہو کر رہ جاتی ہے اور بس اور یہ آخرت کی حقیقی اور دائمی زندگی اور اس کی سعادت و کامیابی کو بھول کر او اس کے تقاضوں کو پس پشت ڈال کر اسی فانی دنیا کی عارضی اور فانی لذتوں پر فریفتہ اور لٹو ہو رہے ہیں اور یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں والعیاذ باللہ العظیم فصدق اللہ القائل قل ھل نبئکم بالاخسرین اعمالا الذین ضلع سعیھم فی الحیاۃ الدنیا وھم یحسبون انھم یحسنون صنعا (الکہف 103-104) والعیاذ باللہ الذی لا الہ الہ ھو سبحانو و تعالیٰ بہر کیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ لوگ دنیا کی عارضی لذتوں اور وقتی وفانی فائدوں میں منہمک ہو کر آخرت کے ہولناک دن اور اس کے تقاضوں کو بھولے ہوئے ہیں اور اس طرح یہ اپنے لیے نہایت ہی ہولناک خسارے کا سامان کر ہے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو حب دنیا خرابیوں کی خرابی اور محرومیوں کی محرومی ہے اور آخرت کے اس یوم عظیم اور یوم ثقیل کو بھول جانا اور اس کے تقاضوں کو فراموش کردینا خساروں کا خسارہ اور ہولناک ہلاکت و تباہی کا باعث ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 76:28

نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ١ۚ وَ اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِیْلًا Open ayah 76:28 in the Quran reader

ہم ہی نے پیدا کیا ان کو (اپنی قدرت کا ملہ اور حکمت بالغہ سے) اور مضبوط کئے ان کے جوڑ بند اور ہم جب چاہیں ان (کو ہلاک کر کے ان) کی جگہ اور لوگ لے آئیں

38 ۔ انسان کی خود اپنی تخلیق میں بڑے در سہائے عبرت و بصیرت، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ہی نے ان سب کو پیدا کیا اور مضبوط کئے ان کے جوڑ بند اور ایسے پر حکمت طریقے سے کہ دنیا کی ہر مشین کے پرزے تو استعمال سے گھست اور خراب ہوتے ہیں، لیکن انسانی جسم کی اس خدائی مشین کے کل پرزے محنت و مشقت اور تمرین و ریاضت سے اور مضبوط ہوتے ہیں، اسی لئے جسمانی ورزش کو انسانی صحت کے لئے ایک اہم عنصر قرار دیا جاتا ہے، تاآنکہ بڑھاپے میں جب قدرت کے اپنے نظام کے مطابق یہ جوڑ پٹھے کمزور ہونے لگتے ہیں، تو گرتے گرتے زیرو پوائنٹ پر واپس آجاتے ہیں اور اس طرح کہ کسی کے بس میں نہیں ہوتا کہ وہ ان تغیرات کو روک سکے، یہاں تک کہ انسان اس مقام تک پہنچ جاتا ہے کہ جب وہ سب کچھ جاننے کے بعد کچھ بھی نہیں جانتا اور وہ حواس علم و ادراک تک سے محروم ہوجاتا ہے اور ارذل عمر (گھٹیا ترین عمر) تک پہنچ کر وہ قادر مطلق کی قدرت مطلقہ کے ایک اور نمونے کا مظہر بن جاتا ہے، فصدق اللہ القائل و منکم من یرد الی اردل العمر لکی لایعلم بعد علم شیئا " (النحل :71) بہرکیف اس ارشاد سے جہاں ایک طرف حضرت حق جل مجدہ کی قدرت بےنہایت اور رحمت و عنایت بےغایت کے ایک عظیم الشان نمونے اور مظہر کو پیش فرمایا گیا ہے، وہیں پر اس سے دوسری طرف منکرین قیامت کے سب سے بڑے شبہ کا بھی رد فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ ان لوگوں کو بعث بعد الموت کے بارے میں بڑا شبہ جیسا کہ قرآن حکیم میں مختلف مقامات میں ذکر فرمایا گیا ہے یہی تھا کہ جب ہم لوگ مرمٹ کر ختم ہوجائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر اور چورا بن جائیں گے تو پھر ہمیں دوبارہ کیونکر اور کس طرح اٹھایا جائے گا ؟ تو اس کے رد اور جواب میں ارشاد فرمایا گیا کہ جب ہم نے ان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور ان کے جوڑ بند اور رگ پٹھے مضبوط اور درست کئے، تو پھر ان کو دوبارہ پیدار دینا آخر ہمارے لئے کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ حالانکہ عام قاعدے کے مطابق پہلی بار بنانا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔
Ayah 76:29

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 76:29 in the Quran reader

بلاشبہ یہ (جو کچھ مذکور ہوا) ایک عظیم الشان نصیحت (اور یاد دہانی) ہے سو جس کا جی چاہے راستہ اختیار کرلے اپنے رب کی طرف جانے کا1

39 قرآن حکیم اور عظیم الشان اور بےمثال نصیحت : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ قرآن حکیم ایک عظیم الشان نصیحت سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ یہ ایک عظیم الشان تذکیرو یاد دہانی ہے۔ پس اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کرے۔ تاکہ اس طحر وہ خود ارین کی سعادتوں سے بہرہ ور ہو سکے، ورنہ وہ اپنا ہی نقصان کرے گا، والعیاذ باللہ العظیم۔ جو قیامت کے اس یوم عظیم میں جو کہ فضل وتمیز کے دن وہ گا ظاہر ہو کہ رہے گا کیونکہ وہاں ہر کسی نے اپن زندگی بھر کے کئے کرائے کا بدلہ پانا ہے، خبر کا بھی اور شر کا بھی تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاض پورے ہو سکیں اور بدرجہ تمام اور کمال پورے ہوں وباللہ التوفیق لمایحب ویرید وعلیٰ نجبا ورہے بکل جان متن الاحوال و فی کل موطن میں المواطن فی الحیال یعنی اس عظیم الشان تذکیرو یاد دہاین کے بعد راہ حق و صواب پوری طرح واضح ہوگئی ہے، اب جس کی مرضی اپنے رب کی طرف جانے کا رستہ اختیار کرلے کہ میں نفع و فائدہ بہرحال اسی کا ہے، اس لئے اس بارہ کسی پر کوئی جبر واکراہ نہیں، سو اس میں ایک طرف تو اس کلام حکیم کی عظمت شان کا ذکر وبیان ہے اور دوسری طرف اس میں لوگوں سے اظہار بےنیازی بھی ہے کہ ان کو یہ جو یہ آگہی سنائی جا رہی ہے، تو محض ان لوگوں کی خیر خواہی اور انہی کے بھلے کے لئے سنائی جا رہی ہے، ورنہ اس میں نہ اللہ تعالیٰ کا کوئی نفع ہے اور نہ اس کے رسول کی کوئی ذاتی غرض۔ بس اب جس کی مرضی وہ اس راہ حق و صواب کو اپنا لے، ورنہ اس بھگتان کے بھگتنے کے لئے تیار ہوجائے جس سے یہ کتاب حکیم خبردار کر رہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین
Ayah 76:30

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۗۖ Open ayah 76:30 in the Quran reader

اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا مگر یہ کہ اللہ چاہے بیشک اللہ سب کچھ جانتا بڑا ہی حکمت والا ہے

40 ۔ مشیت الٰہی کی تذکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے اسلوب و انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا مگر یہ کہ اللہ چاہے۔ بیشک اللہ بڑا ہی علم والا نہایت ہی حکمت والا ہے، پس وہی ہے جو اپنے علم بےنہایت اور اپنی حکمت بےغایت سے ٹھیک ٹھیک اور پوری طرح جانتا ہے کہ کس کے لئے کب اور کیا مناسب ہے، سبحانہ و تعالیٰ ، سو اس کا ہر کام اور ہر حکم و ارشاد سراسر علم و حکمت پر مبنی ہوتا ہے اور وہ حق و ہدایت کی دولت سے انہی کو نوازتا ہے، جو صدق دل سے اس کی طرف رجوع کرتے اور ہدایت چاہتے ہیں سو اللہ تعالیٰ کی اس کائنات میں مشیت ومرضی اسی وحدہ لاشریک کی چلتی ہے اور ہوتا وہی ہے جو اس کو منظور ہوتا ہے۔ بندے کا کام اور اس کا اختیار اس کی نیت و ارادہ کے اختیار تک ہے اور بس اس کے بعد اصل معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے اور اس کی ہر مشیت علم و حکمت کے تقاضوں کے عین مطابق ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ بڑا ہی علیم اور نہایت ہی حکیم ہے اور یہ شان اس وحدہ لاشریک ہی کی ہے اس میں دوسری کوئی بھی ہستی اس کی شریک ہے نہ ہوسکتی ہے کہ وہ ہر لحاظ سے یکتا ہے اور وہی ہے معبود برحق، سبحانہ و تعالیٰ
Ayah 76:31

یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 76:31 in the Quran reader

وہ داخل فرماتا ہے اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے اور ظالموں کے لئے اس نے تیار کر رکھا ہے ایک بڑا ہی (ہولناک اور) دردناک عذاب2

41 ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے سرفرازی اسی کی توفیق و عنایت سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے داخل فرماتا ہے کہ وہی جانتا ہے کہ کون کس کے لائق ہے کہ وہ ہر کسی کی صلاحیت و استعداد سے بھی پوری طرح واقف ہے اور سب کی نیتوں اور ارادوں کو بھی وہ پویر طرح جانتا ہے جس کے نتیجے میں وہ ہر کسی کے ساتھ وہی معاملہ کرتا ہے، جس حق و ہدایت کی توفیق سے انہی کو نوازتا ہے جو اس کی طر سے بخشی گئی قدرتوں اور عنایتوں کی قدر کرتے ہیں اور اس کے بخشے ہوئے قوائے سمع و بصر، صحیح کام لیتے ہیں اور تمیز خیر و شر اور حق و باطل کے درمیان فرق و امتیاز سے متعلق اس قوت وقدرت کی قدر و حفاظت کرتے ہیں جو حضرت فاطر حکیم کی طر سے ان کی فطرت کے اندر ودیعت فرمائی گئی ہوتی ہے۔ وباللہ التوفیق۔ 42 ۔ ظالموں کے لئے بڑا ہی درد ناک عذاب۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ظالموں کے لئے اس نے ایک بڑا ہی درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے جو کہ ان کے ظلم کا طبعی تقاضا اور منطقی نتیجہ ہوگا اور یہی تقاضا ہے حضرت خالق حکیم جل جلالہ کے کمال عدل و انصاف اور اس کی قدرت و حکمت جو قیامت کے اس یوم عظیم میں جو کہ فصل وتمیز کا دن ہوگا ظاہر ہو کر رہے گا، کیونکہ وہاں ہر کسی نے اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا صلہ وبدلہ پانا ہے، خیر کا بھی اور شرکا بھی، تاکہ اس طرح عدل اور انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں اور بدرجہ تمام و کمال پورے ہوسکیں۔