75. Surah Al-Qiyaama
القيامةThe Resurrection · 40 ayahsتفسیرِ مدنی
ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ Open ayah 75:38 in the Quran reader
پھر یہ ایک لوتھڑا بنا پھر اس (قادر مطلق) نے اس کا جسم بنایا اور اس کے اعضا درست کئے
فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىؕ Open ayah 75:39 in the Quran reader
اس نے پھر اس سے (اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے) دو قسمیں بنائیں مرد اور عورت
36 زوجین کا وجود قدرت کا ایک اور کرشمہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر اس نے اس سے اس کا جوڑا بنایا نر اور مادہ : اور اس قدر عجیب و غریب طریقے سے ‘ اور حیرت انگیز طور پر کہ ان دونوں میں سے ہر ایک کے اندر وہ خصائص رکھے جو دوسرے کیلئے گویا کہ باعث تکمیل ہیں ‘ اور ایک عظیم الشان اور سعادت مند زندگی کیلئے لازم و ملزوم ہیں ‘ تو پھر یہ انسان بےمقصد اور غیر ذمہ دار کیونکر قرار دیا جاسکتا ہے ؟ کہ یہ کیڑے مکوڑوں اور برساتی مینڈکوں کی طرح یونہی مرکھپ کر ختم ہوجائے ‘ کلاثم کلا ہرگز ایسے نہیں ہوسکتا ‘ سو اس ارشاد ربانی میں انسان کیلئے خود اس کے اپنے مراحل تخلیق و تکمیل میں غور و فکر کی دعوت ہے ‘ کہ اس کے خالق ومالک نے اپنے کمال قدرت و حکمت اور اپنی بےپایاں رحمت و عنایات سے اس کو کہاں سے کہاں پہنچایا ؟ انسان کی پیدائش پانی کی ایک بوند سے ہوتی ہے ‘ جس کو رحم مادر میں ٹپکا دیا جاتا ہے اور اس کو ٹپکانے کے بعد یہاں پر یمنی کے صیغہ مجمول سے ذکر فرمایا گیا ہے ‘ جس سے اس کے عدم اعتناء و اہتمام کی طرف اشارہ ہوتا ہے ‘ کہ ٹپکانے والا ایک بوند ٹپکا کر الگ ہوجاتا ہے ‘ پھر اس کو کچھ خبر نہیں ہوتی کہ وہ بوند کہاں اور کس حال میں ہے ‘ اور نہ ہی اس ماں کو کچھ پتہ ہوتا ہے جس کے رحم کے اندر یہ بوند مختلف مراحل سے گزرتی ہے ‘ کہ اس پر کس باریکی سے کیا تبدیلی رونما ہو رہی ہے ‘ سو اس قادر مطلق کی قدرت مطلقہ اور حکمت بالغہ سے یہ تہ بہ تہ تاریکیوں کے انڈر اپنی بےمثال صنعت و کاریگری کے ذریعہ اس کو پایہ تکمیل تک پہنچاتی ہے اور اس کو بچے یا بچی کی صورت میں وجود میں لاتی ہے ‘ سو انسان اگر اسی میں صحیح طور سے غور کرے تو اس کا راستہ سیدھا ہوجائے اور وہ دل و جان سے اپنے اس خالق ومالک کے حضور جھک جھک جائے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس طرح وہ سعادت دارین سرفراز و سرخرو ہوجائے۔
اَلَیْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى۠ Open ayah 75:40 in the Quran reader
تو کیا وہ اللہ (جس نے یہ سب کچھ کیا) اس پر قادر نہیں کہ (پھر سے) زندہ کر دے مردوں کو ؟1
37 انسان کا وجود خود اعادئہ خلق کا ثبوت و شاہد : سو اس حقیقت کے اثبات و اقرار کے طور پر استفہام تقریری کی صورت میں ارشاد فرمایا گیا کیا وہی خداوند قدوس اس پر قادر نہیں کہ وہ مردوں کو زندہ کرے ؟ ہاں وہ اس پر قادر ہے ‘ اور ضرور قادر ہے سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور وہ ایسا کرے گا اور اکمل طریقے سے کرے گا ‘ جل شانہ و عز برہانہ سو جب وہ اپنی قدرت مطلقہ اور حکمت بالغۃ سے انسان کو اس طرح حیظہ عدم سے نکال کر منصہ شہود پر لے آیا اور برابر لارہا ہے ‘ اور یہ سب کچھ تمہارے سامنے ہو رہا ہے اور لگاتار ہو رہا ہے ‘ تو پھر اس کیلئے اس انسان کو دوبارہ پیدا کرنا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ سبحانہ و تعالیٰ صحیح احادیث میں وارد ہے کہ اس آیت کریمہ کی تلاوت پر یوں کہنا چاہیے : " سبحانک اللھم فبلی فزدنا اللھم ایمانا بک و یقینا ‘ و خشوعا لک و خضوعا یا ذالجلال والاکرام و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔ "