Ayahs 74:39–4132 آخرت کی نجات و فلاح صرف اصحاب یمین کیلئے : سو ایسے خوش نصیبوں کا اسثناء کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا " مگر دائیں بازو والے۔ کہ وہ اس گرفتاری سے آزاد اور جنت کی نعمتوں سے سرشار ہوں گے " اللھم اجعلنآ منھم بمحض منک وکرمک یا ارحم الراحمین " سو اس روز کی نجات و فلاح صرف انہی خوش نصیبوں کو ملے گی اور اس سے مراد وہ لوگ ہیں ‘ جنہوں نے آخرت اور اس کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھ کر زندگی گزاری ہوگی ‘ انہی خوش نضیبوں کو ان کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھوں میں دیئے جائیں گے۔ سو یہ حضرات نہ صرف یہ کہ اپنی نیکیوں کا پورا پورا بدلہ پائیں گے ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے خاص فضل و کرم سے بھی نوازے گا۔ سو دوسرے لوگ تو اپنے اعمال کے بدلے میں بندھے ہوں گے لیکن اصحاب یمین کا معاملہ اس سے مختلف ہوگا کہ ایسے خؤش نصیب لوگ اپنے اعمال صالحہ کی بنا پر اپنا فک رہن کراچکے ہوں گے۔ یعنی جس طرح راہن قرضہ ادا کرکے اپنا رہن مرتہن سے آزاد کرالیتا ہے اسی طرح اصحاب الیمین کے ان خوش نصیبوں نے اپنے ان اعمال صالحہ کی بناء پر جو کہ انہوں نے دنیا میں انجام دیئے ہوں گے اور ان کے عوض انہوں نے اپنے آپ کو دوزخ کی آگ سے آزاد کرالیا ہوگا۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 74:4234 دخول دوزخ کے اسباب سے متعلق سوال : سو اہل جنت دوزخیوں سے دخول دوزخ کے سبب کے بارے میں پوچھتے ہوئے ان سے کہیں گے کہ کس چیز نے داخل کردیا تم لوگوں کو دوزخ کی اس دہکتی بھڑکتی آگ میں ؟ اور یہ سوال ان کی تذلیل و تحقیر کیلئے ہوگا ورنہ اہل جنت کو تو اچھی طرح معلوم ہوگا کہ یہ لوگ دوزخ میں کیوں گئے۔ سو اس طرح سوال و جواب سے جہاں اہل دوزخ کی تحقیر و تذلیل ہوگی وہیں اس سے اہل جنت کیلئے خوشی و مسرت کا خاص سامان ہوگا کہ جنت اور دوزخ کے ان دونوں انجاموں کو سامنے دیکھ کر اہل جنت سراپا شکر وسپاس بن جائیں گے اور پکار اٹھیں گے کہ اس اللہ کا شکر جس نے ہمیں دوزخ کے اس ہولناک انجام سے بچا کر جنت کی ان ابدی اور سدابہار نعمتوں سے سرفراز فرما دیا۔ جیسا کہ قرآن حکیم کے دوسرے مختلف مقامات پر اس کو طرح طرح سے واضح فرمایا گیا ہے۔ جعلنا اللہ منہم۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 74:4335 ترک نماز دخول دوزخ کا پہلا بڑا سبب۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس سوال کے جواب میں دوزخ میں پڑے وہ مجرم اپنے جرم کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہم نماز پڑھنے والوں میں نہیں تھے۔ کہ ہم تو سرے سے ایمان کی دولت ہی سے محروم تھے، والعیاذ باللہ، اور ہم نماز کی فرضیت ہی کے قائل ہی نہیں تھے، سو اس سے یہ امر واضح ہوگیا کہ ترک نماز دخول دوزخ کا پہلا بڑا سبب ہوگا جس کا اظہار و اقرار اس موقع پر دوزخی لوگ کریں گے۔ والعیاذ باللہ جل و علا۔ بہرکیف اس طرح وہ ظالم اعتراف کریں گے کہ ہمارے اعمال ہی ہمیں لانے والے بنے ہیں ‘ سو قصور سب ہمارا اپنا ہی ہے کسی دوسرے کا نہیں۔ مگر بےوقت کے اس اعتراف و اقرار سے ان لوگوں کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا سوائے ان کی اپنی آتش یاس و حسرت میں اضافے کے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس سے نماز کی اہمیت و عظمت واضح ہوجاتی ہے۔ پس جس طرح عقائد میں سب سے پہلا درجہ توحید کا ہے اسی طرح اعمال میں سب سے مقدم نماز ہے۔ اسی لئے ہر پیغمبر نے ایمان کے بعد سب سے پہلے اسی کی تعلیم و تلقین فرمائی۔ اور اسی کے اہتمام اور ترک پر پورے دین کا مدارو انحصار ہے۔ اور اسی حقیقت کے ذکر وبیان کیلئے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ نماز دین کا ستون ہے۔ جس نے اس کو قائم کیا اس نے پورے دین کو قائم کیا اور جس نے اس کو گرا دیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اس نے پورے دین کو گرا دیا (الصلوۃ عماد الدین من اقامھا فقد اقام الدین ومن ھدمھا فقد ھدم الدین) والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ ہر حال میں ‘ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ اور ہر قسم کے ذیغ و ضلال اور شرور و فتن سے ہمیشہ محفوظ رکھے ‘ آمین۔
Ayah 74:4436 مسکینوں کی خبر گیری سے غفلت و لاپرواہی دخول دوزخ کا دوسرا بڑا سبب، والعیاذ باللہ جل و علا : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ترک صلوۃ کے بعد دوزخ کا دوسرا بڑا سبب مسکینوں کی خبر گیری سے غفلت و لاپرواہی برتنا، اور ان کو کھانا نہ کھلانا اور عدم انفاق فی سبیل اللہ ہوگا۔ والعیاذ باللہ جل و علا۔ سو وہ مجرم کہیں گے اور نہ ہی ہم مسکینوں کو کھانا کھلایا کرتے تھے۔ سو اس سے واضح کردیا گیا کہ ترک صلوٰۃ کے بعد دوزخ کا دورا بڑا سبب عدم انفاق ہے۔ سو وہ بدبخت اعتراف کریں گے کہ ہم نے نہ تو عبادت و بندگی کرکے اپنے رب کا حق ادا کیا، اور نہ احسان و بھلائی کرکے اس کے بندوں کا حق ادا کیا ‘ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو جس طرح عقائد میں سب سے پہلا درجہ توحید کا ہے، اسی طرح اعمال میں سب سے پہلا درجہ نماز کا ہے، اسی لئے ہر پیغمبر نے سب سے پہلے اسی عمل کی دعوت دی اور اس کے اہتمام کو دین کی بنیاد قرار دیا۔ جیسا کہ ابھی اوپر والے حاشیے میں بھی گزرا۔ سو نماز اور انفاق سبیل اللہ دو متلازم اور عظیم الشان عمل ہیں جن سے انسان دنیا و آخرت کی سعادتوں اور خیرات و برکات سے سرفراز و فیض یاب ہوتا ہے، کیونکہ نماز وہ عظیم الشان عبادت ہے جس سے انسان کا اس کے خالق ومالک کے ساتھ صحیح تعلق قائم ہوتا ہے جبکہ انفاق فی سبیل اللہ سے اپنے خالق ومالک کی رضا و خوشنودی سے سرفرازی کے ساتھ ساتھ اس کی مخلوق کے ساتھ بھی صحیح تعلق قائم ہوتا ہے۔
Ayahs 74:45–4637 حق کے خلاف باتیں بنانا ہلاکت و تباہی کی جڑ بنیاد۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو وہ بدبخت اپنے دخول دوزخ کے اسباب کے ذکر وبیان کے سلسلے میں مزید کہیں گے اور ہم حق کے خلاف باتیں بنانے میں لگے رہتے تھے : خوض کے اصل معنی آتے ہیں کژۃ الکلام یعنی زیادہ باتیں کرنا مگر اس کا زیادہ تر استعمال باطل ہی کیلئے ہی ہوتا ہے (صفوۃ البیان ‘ التسہیل العلوم التنزیل وغیرہ) اور یہ ماخوذ ہے خوض فی الماء سے جس کے معنی پانی میں گھسنے کے ہیں، سو اس کا مطلب ہوتا ہے کسی بات میں میں میکھ نکالنا ‘ نکتہ چینی کرنا ‘ بات کو کہیں سے کہیں پہنچا دینا اور اس کو فتنہ بنادینا ‘ وغیرہ وغیرہ۔ سو حق کے خلاف باتیں بنانا اور نکتہ چینی کرنا ہلاکت و تباہی کی جڑ بنیاد اور محرومیوں ہے۔ کیونکہ اس کے نتیجے میں انسان نور حق و ہدایت سے محروم ہو کر لا ابالی بن کر رہ جاتا ہے۔ اور وہ انسانیت کے منصہ شرف سے گر کر حیوانیت کے قعر مذلت میں گر جاتا ہے۔ جس کے بعد اس کی زندگی کا مشن و مقصد خواہشات بطن و فرج کی پوجا کرنا رہ جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayahs 74:47–4838 موت ایک اٹل اور قطعی حقیقت : اور ایسی اٹل اور قطعی حقیقت کہ اس کا انکار اور اس سے مفر کسی کیلئے بھی ممکن نہیں خواہ وہ مومن ہو یا کافر، نیک ہو یا بد، کہ اس کا مزہ ہر کسی نے بہرحال چکھنا ہے، چناچہ دوزخی لوگ اس موقع پر اپنے اعتراف و اقرار جرم کے سلسلے میں مزید کہیں گے کہ ہم ایسے ہی رہے یہاں تک کہ آپہنچی ہم کو موت۔ جو ایک ایسی اٹل حقیقت ہے کہ اس سے کسی کو بھی انکار نہیں ہوسکتا، بڑے سے بڑے اور کٹے سے کٹے کافر کو بھی اسے مانے بغیر چارئہ کار نہیں، نیز موت کے آنے کے بعد چونکہ مابعد الموت کے تمام حقائق انسان کے سامنے ایسے روشن ہوجاتے ہیں کہ منکر سے منکر انسان بھی ان کو ماننے اور تسلیم کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے، اسی لئے موت کو دوسرے مختلف مقامات کی طرح اس موقع پر بھی یقین کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ سو موت کو یقین کے لفظ سے تعبیر کرنا دراصل لازم بول کر ملزوم مراد لینے کے قبیل سے ہے جو کہ بلاغت کلام کا ایک اہم اور معروف اسلوب ہے۔ سو دوزخیوں کے اس اقرار و اعتراف سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح کردیا گیا کہ جنت و دوزخ کا تعلق حسب و نسبت سے نہیں بلکہ انسان کے اپنے ایمان و عقیدے اور عمل و کردار سے ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویریدو ھوالہادی الی سواء السبیل۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق و صواب پر قائم رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayahs 74:49–5039 منکرین کے حال پر اظہار تعجب و افسوس : سو منکرین کے حال پر اظہار تعجب و افسوس کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ہوگیا ان لوگوں کو جو اس عظیم الشان نصیحت و یاددہانی سے منہ موڑے ہوئے ہیں ؟ یعنی قرآن حکیم سے۔ جس جیسی جامع ‘ کامل اور ابدی نصیحت نہ کوئی ہوئی ہے نہ ہوسکتی ہے ‘ نہ ہوسکے گی۔ جس کو رب رحمن و رحیم نے اپنی رحمت بےپایاں کے تقاضوں کے مطابق نازل فرمایا ہے تاکہ اس کے ذریعے یہ لوگ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہوسکیں ‘ مگر یہ ہیں کہ اس سے اس طرح بھاگتے ہیں جس طرح جنگلی گدھے شیر کو دیکھ کر بھاگتے ہیں۔ واضح رہے کہ تذکرۃ کے اصل معنی یاد دہانی کے آتے ہیں قرآن حکیم چونکہ انسان کو اہم بنیادی حقائق کی یاددہانی کراتا ہے۔ چناچہ یہ اس کو اپنے خالق ومالک کی ذات وصفات کے بارے میں تباتا اور حقیقت حال سے کامل طور پر آگاہ کرتا ہے ‘ انسان کو اس کے مقصد حیات سے آگاہ کرتا ‘ اور اس کو اس کی فطرت کے تقاضوں کی یاددہانی کراتا ہی اور ہر شر کے عواقب سے خبردار کرتا ہے۔ اور اس کو اس کے مال و انجام کار کی تذکیر و یاددہانی کراتا اور سعادت ابدی کی راہیں بتاتا ہے ‘ غرضیکہ اس کو ہر خیر کی تذکیر و یاددہانی کراتا ہے اس لئے اس کو ذکر ذی الذکر اور تذکرہ جیسی صفات سے موسوم فرمایا گیا ہے ‘ کہ حق و ہدایت اور اصلاح و فلاح کی جو اور جیسی رہنمائی اور یاددہانی یہ کتاب عظیم کرتی ہے وہ اس ویسی رہنمائی اور تذکیر و یاددہانی کسی اور کتاب اور ہدایت نآمے سے نہ ہوئی ہے، نہ ممکن ہے ‘ اس لئے یہ اس کا خاص امتیازی وصف ہے ‘ سو اس عظیم الشان تذکیر و یاددہانی سے منہ موڑنا کس قدر محرومی اور کتنے بڑے خسارے کا کام ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔
Ayahs 74:51–5240 منکرین کی وحشت و نفرت کی تمثیل کا ذکر وبیان : سو ان کو جنگلی گدھوں سے تشبیہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ گویا کہ یہ جنگلی گدھے ہیں جو بھاگ کھڑے ہوئے ہوں شیر کے ڈر سے۔ جو کہ خطرے کی ہوا سونگھتے ہی بدحواس ہو کر ایسے چوپٹ بھاگ کھڑے ہوتے ہیں کہ مڑ کر دیکھنے کو بھی تیار نہیں ہوتے ‘ سو یہی حال ان منکرین و مکذبین حق کا ہے ‘ تو ایسے میں حق اور ہدایت کی آواز ان کے کانوں میں پڑ ہی کیسے سکتی ہے ؟ یہاں پر یہ امر ملحوظ رہے کہ جب کوئی حقیقت اتنی واضح ہو کہ آدمی کا دل اس کے انکار کرنے پر مطمئن نہ ہو ‘ اور وہ اس کو قبول کرنے کیلئے تیار نہ ہو ‘ تو اس سے اس کے گریز و فرار کی شکل یہی ہوتی ہے جو اس مثال سے واضح فرمائی گئی ہے ‘ ایسے شخص کی خواہش اور کوشش یہی ہوتی ہے کہ کسی طرح اس پر کوئی اثر نہ پڑنے پائے جو اس کو اس حقیقت کی یاد دلا دے، سو یہ ایک بڑی بلیغ تشبیہہ و تمثیل ہے۔ بہرکیف منکرین کی حق سے نفرت اور وحشت کو اس تمثیل سے پوری طرح آشکارا کردیا ہے۔ اور جن کو حق سے ایسی اور اس قدر نفرت ہو ان کے حق سے سرفراز ہونے کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ اور ان کیلئے محرومی اور بدبختی سے بچ کر نکلنا کیسے اور کیونکر ممکن ہوسکتا ہے ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ بکل حال من الاحوال۔ سو ق سورة کے ایک معنی شیر کے کئے گئے ہیں ‘ جیسا کہ حضرت ابن عباس اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے ‘ اور دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ یہ جمع ہے قسور کی جس کے معنی شکار اور تیر انداز کے آتے ہیں ‘ جیسا کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ ، سعید بن جبیر ؓ ، عکرمہ ؓ اور مجاہد وغیرہ سے مروی ہے اور بعض نے کہا کہ قسورۃ تیر اندازوں کی جماعت اور گروہ کو کہا جاتا ہے ‘ اور یہ ایسی جمع ہے جس کا مفرد کوئی نہیں (خازن، قرطبی، مدارک ‘ محاسن ‘ مراغی وغیرہ) حاصل بہرحال ایک ہی ہے کہ یہ لوگ آواز حق سے اس طرح بھاگتے ہیں جس طرح جنگلی گدھے شکاری یا شیر کو دیکھ کر بھاگتے ہیں۔ بہرکیف اس سے ان لوگوں کی حق سے نفرت اور وحشت کی تصویر پیش فرما دی گئی ہے۔ اور جو لوگ حق کی طرف لپکنے اور اس کے آگے جھکنے کی بجائے اس سے اس قدر نفرت کرتے اور وحشت رکھتے ہوں ان کے نور حق و ہدایت سے سرفرازی اور بہرہ مندی کا سوال ہی پیدا ہوسکتا ہے جبکہ نور حق و ہدایت سے سرفرازی کیلئے اولین شرط طلب صادق ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ صراط مستقیم اور اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayahs 74:53–5642 خوف آخرت سے محرومی ‘ محرومیوں کی محرومی۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہرگز نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ خوف و اندیشہ نہیں رکھتے آخرت کی گرفت و پکڑ کا۔ سو اس سے ان کے راہ حق سے گریز و فرار کی اصل علت کی نشاندہی فرما دی گئی۔ پس ان کے گریز و فرار کی اصل علت یہ نہیں جس کو یہ لوگ ظاہر کرتے ہیں ‘ بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ آخرت سے نہیں ڈرتے کہ یہ اس کے وقوع کی توقع ہی نہیں رکھتے ‘ جس کی بناء پر یہ ایسے بےہودہ مطالبات کرتے ‘ اور اس طرح واہی تباہی بکتے ہیں ‘ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ آخرت کے عقیدہ و یقین اور خوف خداوندی کے بغیر آدمی قطعی طور پر ایک غیر ذمہ دار اور لا ابالی شخص بن کر رہ جاتا ہے ‘ والعیاذ باللہ اور عقیدہ آخرت ہی انسان کو صحیح راہ پر ڈالتا اور اس کو ایک ذمہ دار شخص بناتا ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے ان لوگوں کے راہ حق سے گریز و فرار کی اصل علت کی نشاندہی فرما دی گئی۔ سو منکرین دراصل انکار آخرت کے رویے کو اپناکر نچنت اور بےفکر ہو کر بےنتھے بیل کی طرح بےقید حیوانی زندگی گزارنا چاہتے ہیں تاکہ شتر بےمہار بن کر جدھر چاہیں منہ اٹھا کر چل دیں۔ کوئی روک ٹوک ایسی نہ ہو جو ان کی اس حیوانی زندگی میں رکاوٹ بنے۔ تو پھر ایسوں کو نور حق و ہدایت ملے تو کیسے اور کیونکر ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ الہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین۔