70. Surah Al-Ma'aarij

المعارجThe Ascending Stairways · 44 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 70:40–41

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَ الْمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوْنَۙ Open ayah 70:40 in the Quran reader

پس نہیں میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے رب کی کہ بلاشبہ ہم پوری طرح قادر ہیں

عَلٰۤى اَنْ نُّبَدِّلَ خَیْرًا مِّنْهُمْ١ۙ وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ Open ayah 70:41 in the Quran reader

اس بات پر کہ ہم ان کی جگہ ان سے بہتر لوگ لے آئیں اور ہم سے کوئی بازی نہیں لے جاسکتا

36 ۔ منکرین کے ایک اور زعم باطل کی تردید کا ذکر وبیان : سو منکرین کے اس زعم باطل کی تردید میں کہ ہمیں دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا ارشاد فرمایا گیا پس نہیں، یعنی معاملہ ایسے نہیں جیسا کہ ان لوگوں نے سمجھ رکھا ہے کہ ہم یونہی مر مٹ کر ختم ہوجائیں گے، اور کوئی حساب و کتاب وغیرہ نہیں ہوگا، اور اگر ہوا بھی تو وہاں بھی کامیابی اور جنت ہماری ہی ہوگی، اور ہم جنت میں یونہی چلے جائیں گے کہ آج دنیا جو ہمیں ملی ہوئی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ سو ایسے نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ حقیقت امر وہ ہے جو کہ ہم بیان کرتے ہیں سو اس طرح کا حرف لا جو قسم سے پہلے آتا ہے نہ یہ زائدہ ہوتا ہے، جیسا کہ بعض مفسرین حضرات کہہ دیا کرتے ہیں اور نہ ہی یہ نفی قسم کے لیے ہوتا ہے، جیسا کہ بعض دوسرے لوگوں کا کہنا ماننا ہوتا ہے، بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ لاء لاء نفی ہوتا ہے جو قسم سے پہلے اس بات کی تردید کے لیے آتا ہے جس کے لیے قسم کھائی گئی ہوتی ہے، جیسا کہ اس سے پہلے سورة الحاقہ میں بھی گزر چکا ہے، مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو سورة الحاقہ حاشیہ نمبر 38 اور 39 ۔ بہرکیف اس ارشاد سے منکرین کے اس زعم باطل کی تردید فرمائی گئی ہے، اللہ تعالیٰ زیغ و ضلال کے ہر شائبے سے ہمیشہ اور ہر اعتبار سے محفوظ رکھے، آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، فی کل زمان و مکان وانت العزیز الوھاب۔ 37 ۔ مشارق و مغارب کے رب کی قسم : سو اللہ تعالیٰ نے مشارق و مغارب کے رب ہونے کی حیثیت سے اپنی ذات کی قسم کھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے رب کی، چونکہ سورج اور اسی طرح چاند وغیرہ دوسرے سیارات کا طلوع و غروب روزانہ ایک نئے مقام سے ہوتا ہے، نیز کرہ ارض چونکہ ہر وقت حرکت میں رہتا ہے اس لیے سورج چاند وغیرہ کا طلوع غروب بھی ہر وقت ادلتا بدلتا رہتا ہے، ایک جگہ غروب ہوتا ہے تو دوسری جگہ طلوع، جس کے باعث مشارق و مغارب بیشمار بنتے ہیں، اس لیے یہاں پر جمع کا صیغہ استعمال فرمایا گیا ہے، لیکن عام اعتبار سے چونکہ طلوع و غروب سردیوں اور گرمیوں میں دو جگہ سے ہی ہونا محسوس ہوتا ہے، اس لیے دوسری جگہ مشرقین اور مغربین یعنی تثنیہ کا صیغہ استعمال فرمایا گیا ہے، نیز اس اعتبار سے بھی کہ کرہ ارضی کے ایک حصے پر جب رات ہوتی ہے تو دوسرے حصے پر اسی وقت دن ہوتا ہے، جس سے دو مشرق اور دو مغرب بنتے ہیں، اس لیے دوسرے مقام پر " رب المشرقین و رب المغربین " فرمایا گیا ہے اور اگر مطلقا شمال و جنوب کے اعتبار سے دیکھا جائے تو صرف ایک مشرق ہے اور ایک مغرب ہوتا ہے اس لیے ایک اور مقام پر " رب المشرق و رب المغرب " فرمایا گیا ہے اور چودہ سو برس قبل کے اس زمانے میں جب کہ ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا اور جدید دور کی تحقیقات و انکشافات کا دور دور تک کوئی نام و نشان بھی نہ تھا اور حقائق کا یہ بیان بھی ایسے ٹھوس اور اٹل ادناز میں فرمایا گیا کہ تحقیقات و انکشافات صدیوں کی مسافت طے کرنے کے باوجود اب تک بھی ان کا پوری طرح طرح احاطہ و ادراک نہیں کرسکیں اور نہ آئندہ کرسکیں گی، فالحمدللہ رب العالمین الذی لاحد لعلمہ و قدرتہ سبحانہ وتعالی۔ بہرکیف یہاں پر مشارق و مغارب کے رب ہونے کی حیثیت سے اللہ پاک نے اپنی ذات کی قسم کھا کر اپنی قدرت بےپایاں کا ذکر و اظہار فرمایا ہے کہ وہ جب چاہے گا لوگوں کو ان کے مر کھپ جانے کے بعد دوبارہ اٹھا کھڑا کرے گا، اور اس کو اپنے ارادے کی راہ میں کوئی مشکل اور رکاوٹ پیش نہیں آئے گی، سو جس قادر وقیوم سبحانہ وتعالی کے حکم و ارشاد کے مطابق شمس و قمر اور کروڑوں اربوں نجوم و کواکب دن رات میں طلوع و غروب ہوتے رہتے ہیں، اور لگاتار اور پوری پابندی کے ساتھ ہوتے رہتے ہیں اس کے لیے آخر انسانوں کو مر کھپ جانے کے بعد دوبارہ اٹھانا کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ جبکہ اس کی شان " علی کل شیء قدیر " کی شان ہے، پس وہ جو چاہے اور جیسا چاہے کرے، اس کے لیے کسی مشکل کا کوئی سوال نہیں، سبحانہ وتعالی۔ 38 ۔ اللہ پاک کے کمال قدرت کا حوالہ و ذکر، سبحانہ و تعالیٰ : سو اوپر والی قسم کے جواب کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ہم اس بات پر قادر ہیں کہ ان سے بہتر مخلوق لے آئیں، اور ہم عاجز آنے والے نہیں کہ کوئی ہماری قدرت سے باہر ہوجائے یا ہماری گرفت سے نکل بھاگے، اور جب مشرقوں اور مغربوں کے خالق ومالک ہم اور صرف ہم ہی ہیں تو پھر کسی میں یہ برتہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ ہمیں عاجز کردے، پس جب ایسا نہیں اور یقینا نہیں تو ہر انسان کے لیے سلامتی و نجات کی راہ یہ اور صرف یہی ہے کہ وہ اپنے خالق ومالک کی رضا کے حصول کی فکر و کوشش میں رہے اور اس کی گرفت و پکڑ سے اسی کی پناہ مانگے۔ اللھم انا نعوذبک منک، بہرکیف اللہ تعالیٰ نے یہاں پر اپنی ذات کی قسم مشرقوں اور مغربوں کے رب ہونے کے اعتبار سے کھا کر اپنی قدرت لامحدود اور عظمت بےپایاں کا اثبات فرمایا ہے، پس جب وہ ایسی لا محدود وقدرت والا ہے تو وہ سب لوگوں کو مر کھپ جانے کے بعد از سر نو زندہ کرسکتا ہے، نہ اس کے لیے یہ بات کچھ مشکل ہے اور نہ ہی کوئی اس کے ارادہ و معشیت میں آڑے آسکتا ہے، سو جب اس کائنات میں سورج چاند اور کروڑوں اربوں نجوم و کواکب اس کے حکم و ارشاد سے برابر طلوع و غروب ہوتے رہتے ہیں، اور وہ ان کو غائب کردینے کے بعد دوبارہ نمودار کردیتا ہے تو اس کے لیے تمام انسانوں کو مر کھپ جانے کے بعد دوبارہ زندہ کردینا کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ہم اس پر قادر ہیں کہ ان کی جگہ ان سے بہتر مخلوق لے آئیں، جو اللہ کے دین کو ماننے والی ہو، اور دوسرا مطلب اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم اس بات پر قادر ہیں کہ ان کو دوبارہ اس سے بہتر صورت میں پیدا کردیں۔ مطلب یہ کہ جب ہم ان کو اس سے بہتر صورت میں پیدا کرنے پر قادر ہیں تو بعینہ ان کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا ہمارے لیے آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ یہ دونوں مطلب اس ارشاد کے بن سکتے ہیں، زیادہ تر حضرات اہل علم نے پہلا مطلب ہی لیا ہے، لیکن سورت کے موضوع یعنی اثبات بعث بعد الموت کے ساتھ زیادہ مناسبت اس دوسرے مطلب کی ہے۔ والعلم عنداللہ سبحانہ و تعالی، فھو اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب۔
Ayah 70:42

فَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَ یَلْعَبُوْا حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 70:42 in the Quran reader

پس چھوڑ دو ان کو کہ یہ یونہی پڑے رہیں اپنی بےہودہ باتوں اور اپنے (لایعنی) کھیل تماشوں میں یہاں تک یہ پہنچ جائیں اپنے اس دن کو جس کا وعدہ ان سے کیا جا رہا ہے

39 ۔ پیغمبر کے لیے تسلیہ و تسکین اور منکرین کے لیے تہدید ووعید : سو پیغمبر کے لیے تسلی و تسکین کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ پس چھوڑ دو ان لوگوں کو یونہی لگے رہیں اپنے کھیل تماشوں میں یہاں تک کہ یہ پہنچ کر رہیں اپنے اس دن کو جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے، کہ ہٹ دھرموں کا آخری علاج یہی ہے کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ پس آپ ان کی فکر میں نہ پڑیں کہ انذار اور تبلیغ حق کا جو فریضہ آپ کے ذمے تھا وہ آپ نے ادا کردیا، بتمام و کمال ادا کردیا، اب رہ گیا معاملہ ان لوگوں کے راہ راست پر آجانے اور پیغام حق کو قبول کرنے کا، تو وہ نہ تو آپ کی ذمہ داری میں شامل ہے اور نہ ہی یہ آپ کے بس اور اختیار میں ہے، بلکہ وہ ہمارے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے، پس اب چھوڑ دو ان لوگوں کو ان کے حال پر تاکہ یہ اپنا بھگتان وقت آنے پر خود بھگتیں سو اس میں ایک طرف تو پیغمبر کے لیے تسلی کا سامان ہے، اور دوسری طرف اس منکرین و مکذبین کے لیے سخت تہدید اور وعید ہے کہ تم لوگ اگر حق بات سننے اور ماننے کے لیے تیار نہیں ہو تو پھر اپنے اس آخری اور ہولناک انجام کے لیے تیار ہوجاؤ، جو تمہارے کفر و انکار کا طبعی تقاضا اور لازمی نتیجہ ہے، اور جس کا بھگتان تم لوگوں کو بہرحال بھگتنا ہوگا، والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر لحاظ سے راہ حق و صواب پر مستقیم و ثابت قدم رہنے کی توفیق بخشے اور ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ 40 ۔ منکرین کو ان کے انجام کی تذکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ پہنچ جائیں اپنے اس دن کو جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے، سو اس دن حقیقت حال ان کے سامنے پوری طرح واضح ہوجائے گی اور یہ اپنے انجام کو خود دیکھ لیں گے، اس روز یہ مارے حسرت و افسوس کہ اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائیں گے، مگر بےوقت کے اس پچھتاوے کا ان کو کوئی فائدہ بہرحال نہ ہوگا سوائے ان کے افسوس اور صدمے میں اضافے کے، بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ اگر نہیں سنتے اور ماتنے تو ان کو چھوڑ دو ان کے حال پر، تاکہ یہ جن سخن سازیوں اور دلفریبیوں میں لگے ہوئے ہیں ان میں لگے رہیں، یہاں تک کہ اپنے اس آخری دن اور فیصلہ کن مرحلے پر پہنچ کر رہیں اور وہاں پر یہ اپنے آخری اور ہولناک انجام سے دور چار ہو کر رہیں، سو اس ارشاد میں منکرین کے لیے بڑی سخت تنبیہ و تذکیر ہے کہ انہوں نے اگر راہ حق و ہدایت کو نہ اپنایا تو ان کا انجام بڑا ہی ہولناک اور ہمیشہ ہمیش کے خسارے والا ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، تبارکت وتعالیت نستغفرک و نتوب الیک۔
Ayah 70:43

یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰى نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَۙ Open ayah 70:43 in the Quran reader

جس دن کہ یہ لوگ اپنی قبروں سے نکل نکل کر ایسے دوڑے جا رہے ہوں گے جیسے کہ وہ اپنے بتوں کے استھانوں کی طرف (لپک لپک کر) دوڑے جا رہے ہوں

41 ۔ نصب کا معنی و مطلب : " نصب " جمع ہے " نصیب " کی جیسے " رھن " جمع ہے " رھین " کی اور " انصاب " جمع ہے " نصب " کی یعنی وہ " نصیب " کی جمع الجمع ہوگئی اور " نصیب " کے معنی گاڑھے ہوئے پتھر کے ہیں اور گاڑھے ہوئے پتھر سے مارد وہ پتھر بھی ہوسکتے ہیں جن کو مشرکین اپنی نیازوں اور نذرانے پیش کرنے کے لیے گاڑھ دیا کرتے تھے، اور وہ پتھر بھی ہوسکتے ہیں جو دوڑ وغیرہ کے مقابلے کے لیے نشانی کے طور پر گاڑھ دیے جاتے ہیں ( روح، قرطبی، محاسن وغیرہ) نصیب کے اصل معنی گاڑھ دینے کے ہیں جیسا کہ اردو میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے یہاں پر نصب سے مراد میں علماء کرام کے اقوال مختلف ہیں۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد وہ آستانے ہیں جہاں یہ لوگ بتوں کو گاڑھ کر ان کی پوجا پاٹ کرتے اور نذرانے و صول کر کے اپنے کاروبار چلایا کرتے تھے جیسا کہ ترجمہ میں اس معنی کو اختیار کیا گیا ہے اور بعض حضرات کا کہنا ہے کہ اس سے مراد وہ نشانات ہیں جو لوگ مقابلہ کے لیے گاڑھ دیتے ہیں، اور ایک دوسرے سے پہلے ان تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، مطلب دونوں صورتوں میں تقریبا ایک ہی رہتا ہے کہ اس روز ان کی اس اکڑفوں کا کوئی شائبہ بھی باقی نہیں رہے گا جس کی بناء پر آج دنیا میں یہ لوگ حق سے منہ موڑتے اور اس کا انکار کرتے ہیں، بلکہ اس روز یہ تیز دوڑتے ہوئے حاضر ہوں گے اور تسبیح کرتے ہوئے اپنے رب کی پکار پر لبیک کہیں گے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا کہ جس روز وہ تم کو پکارے گا تو تم اس خدائے واحد کی پکار پر اس کی حمد وثناء اور تسبیح کرتے ہوئے دوڑ پڑو گے، يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا (بنی اسرائیل 52 پ 15) سو اس یوم رہیب میں ان لوگوں کے یہ کس بل سب کے سب پوری طرح نکل جائیں گے، اور اس طور پر ان کی اس اکڑفوں کا کوئی نام و نشان باقی نہیں رہے گا جس کی بنا پر آج یہ لوگ حق بات سننے اور ماننے کو تیار نہیں ہوتے، مگر اس روز یہ رہ رہ کر کہیں گے کہ ہم نے مان لیا اور تسلیم کرلیا، لیکن بےوقت کے اس ماننے کا ان کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز یہ لوگ قبروں سے نکل کر ایسے دوڑ رہے ہوں گے جیسے نشانوں کی طرف دوڑ رہے ہیں، اوفض، استوفض اور وفض کا معنی ایک ہی ہے، یعنی تیز دوڑنا (روح، قرطبی وغیرہ) یعنی اس روز یہ لوگ اپنے رب کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ایسے دوڑ کر پہنچیں گے جیسا کہ دنیا میں اپنے بتوں اور آستانوں کی طرف دوڑ کر پہنچا کرتے تھے، یا جیسا کہ نشانات مسابقت و مقابلہ میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے لیے دوڑ لگایا کرتے تھے، کاش کہ دنیا میں اپنے رب کے حکم کی تعمیل میں یہ اسی طرح دوڑتے اور لبیک کہتے تو دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ ور ہوجاتے۔ بہرکیف اس روز ان کی کوئی کجی اور ٹیڑھ باقی نہیں رہ جائے گا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا يَوْمَىِٕذٍ يَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِيَ لَا عِوَجَ لَهٗ ۚ وَخَشَعَتِ الْاَصْوَات للرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا هَمْسًا (طہ 108 پ 16) یعنی جس دن کہ یہ اس داعی کی آواز پر بغٰر کسی کجی کے دوڑ پڑیں گے سو اس روز ان کی سب اینکڑی پینکڑی ہرن ہوچکی ہوگی۔
Ayah 70:44

خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ ذٰلِكَ الْیَوْمُ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ۠ Open ayah 70:44 in the Quran reader

(اس روز) ان کا حال یہ ہوگا کہ (مارے شرم کے) جھکی ہوئی ہوں گی ان کی نگاہیں اور چھا رہی ہوگی ان (کے چہروں) پر ایک ہولناک (سیاہی اور) ذلت یہ ہے وہ دن جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا1

42 ۔ منکرین کی بدحالی کی تصویر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز مارے شرم کے جھکی ہوئی ہوں گی ان کی نگاہیں اور ان پر چھا رہی ہوں گی ایک نہایت ہی ہولناک ذلت و خواری، ان کے اس کبر و غرور اور استکبار و انکار کی سزا کے طور پر، اور ان کے اس اعراض و انکار کے بدلے اور نتیجے میں جس سے یہ بدنصیب دنیاوی زندگی میں قبول حق و ہدایت کی دولت وسعادت سے محروم رہے تھے سو ان کی وہ محرومی اور باطن کی وہ سیاہی اس دن ان کے چہروں پر ظاہر و ہوید اور رقص کناں ہوگی کہ وہ ناکامی سب سے بڑی اور انتہائی ہولناک ناکامی ہوگی اور اتنی اور اس قدر کہ اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال ممکن ہی نہیں، والعیاذ باللہ العظیم، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، اور ہر قسم کے شرور و فتن سے ہمیشہ محفوظ رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ 43 ۔ منکرین کی تذلیل و تقبیح کا ایک اور منظر : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ اس روز ان سے کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ دن جس سے ان کو ڈرایا جاتا تھا اور جس کے لیے یہ جلدی مچایا کرتے تھے، اور اس کا مذاق اڑاتے اور اس کا بار بار مطالبہ کیا کرتے تھے، سو اب وہ دن پہنچ گیا اپنی تمام ہولناکیوں کے ساتھ سبحان اللہ۔ رب رحمن کس کس طرح سے خبردار کرتا اور اس انجام اخیر اور مصیر محتوم سے آگہی بخشتا ہے، تاکہ لوگ اس سے بچنے کے لیے فکر اور کوشش کرسکیں قبل اس سے کہ فرصت حیات ان کے ہاتھوں سے نکل جائے، اور یہ اس ہولناک انجام سے دو چار ہوجائیں، مگر دنیا ہے کہ اس سب کے باوجود اس سے بےفکر و لاپرواہ اور خوب غفلت میں ڈوبی پڑی ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ اللھم فخذ بنواصینا الی مافیہ حبک ورضاک واحفظنا من کل سواء و زیغ و ضلال برحمتک یا ارحم الرحمین و یا اکرم الاکرمین۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر ہی مستقیم و گامزن رکھے اور نفس و شیطان کے ہر مکرو فریب سے ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین و یا اکرم الاکرمین۔