69. Surah Al-Haaqqa

الحاقةThe Reality · 52 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 69:41

وَّ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 69:41 in the Quran reader

اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں کم ہی ایمان لاتے ہو تم لوگ

35 قرآن کسی شاعر کا کلام نہیں ہوسکتا : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں۔ جیسا کہ دشمنان اسلام اور منکرین حق کا کہنا ہے اور اس کو شعر کہنے سے مراد ان لوگوں کی یہ تھی کہ یہ کلام شاعر نہ کلام کی طرح محض خیالی باتوں پر مشتمل ہے ورنہ شعر کے معروف معنی کے اعتبار سے تو وہ بھی اس کو شعر نہیں کہہ سکتے تھے ‘ سو اس پر ایسے لوگوں سے فرمایا گیا کہ یہ کلام کلام حق ہے کوئی شاعرانہ کلام یا خیالی باتوں کا مجوعہ نہیں ‘ اور ہرگز نہیں ‘ اے لوگو ‘ بلکہ یہ تو اٹل اور ابدی حقائق پر مشتمل اور دائمی اور اٹل حقائق کی خبر دینے والا ایک عظیم الشان اور بےمثل کلام ہے ‘ سو یہ کسی شاعر یا کاہن کا کلام نہ ہے نہ ہوسکتا ہے ‘ اور ایسا کہنے والے لوگ اس طرح کی باتوں سے خود ہی اپنی حماقت و محرومی اور ہٹ دھرمی کا ثبوت دیتے رہے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو یہ سراسر اتارا ہوا اور اللہ رب العالمین ہی کا کلام ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ 36 خرابی کی جڑ بنیاد ارادئہ و نیت کی خرابی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ارشاد فرمایا کیا کہ تم لوگ کم ہی ایمان لاتے ہو یعنی تم لوگ ایمان لانا چاہتے ہی نہیں یعنی ایمان یہاں پر ارادئہ ایمان کے معنی میں ہے اور فعل کا ارادئہ فعل کے معنی میں استعمال ہونا ایک معروف اسلوب ہے جو شائع و ذائع ہے جیسا کہ اذا قمتم الی الصلاۃ میں ہے سو تم لوگوں کا حال یہ ہے کہ کبھی اس کلام معجز نظام کی تاثیر کی بجلی جب تمہارے دل و دماغ میں کوندتی ہے تو وقتی طور پر تم کسی حد تک اس کو ماننے پر مجبور ہوجاتے ہو مگر بعد میں تمہاری پھر وہی کیفیت ہوجاتی ہے ‘ تو ایسے ایمان قلیل کا کیا اعتبار ہوسکتا ہے ؟ اور دوسرا احتمال اس میں یہ ہے کہ یہاں پر قلت بمعنی عدم کے ہو یعنی تم لوگ ایمان نہیں لاتے اور عربی میں قلت بمعنی عدم مستعمل ہوتا ہے ‘ چناچہ عرب کہتے ہیں فلان قلما یاتین اور اس سے ان کا مقصود یہ ہوتا ہے کہ انہ لا یاتینا مطلب یہ کہ وہ ہمارے یہاں نہیں آتا (المراغی ‘ جامع القرآن وغٔرہ) سو اس طرح تم لوگ اس کلام حق ترجمان سے منہ موڑ کر اپنی محرومی کا سامان کرتے ہو ‘ والعیاذ باللہ۔ سو ارادئہ و نیت کی خرابی و فساد جڑ بنیاد ہے تمام خرابیوں اور فساد کی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 69:42

وَ لَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 69:42 in the Quran reader

اور نہ ہی یہ کسی کاہن کا قول ہے کم ہی غور کرتے ہو تم لوگ

37 منکرین کے فساد باطن کی نشاندہی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ کم ہی غور کرتے ہو۔ ورنہ اگر تم لوگ صحیح معنوں میں اور اچھی طرح سے غور سے کام لیتے تو تم کبھی اس کو کسی شاعر یا کاہن کا کلام قرار دینے کی جسارت نہ کرے ‘ بلکہ تم اس کلام معجز نظام کے آگے دل و جان سے جھک جاتے ‘ جو خدائے رحمن و رحیم نے اپنی رحمت بےپایاں سے بنی نوع انسان کیلئے اور خود تمہارے بھلے کیلئے نازل فرمایا ہے ‘ تاکہ تم دارین کی سعادت اور فوز و فلاح سے بہرہ ور ہوسکو ‘ اور بعض حضرات اہل علم نے کہا کہ قلیلاً ماتومنون اور قلیلاً ما تذکرون دونؤں میں فعل بمعنی ارادہ فعل کے ہے ‘ جیسا کہ ابھی اوپر والے حاشیے میں بھی گزرا۔ یعنی تم لوگ ایمان لانا اور نصیحت قبول کرنا چاہتے ہی نہیں ہو تو پھر تم کو ہدایت و دولت ملے تو کیسے اور کیونکر ؟ سو اس میں منکرین و مکذبین کے باطن کی تعبیر پیش فرمائی گئی ہے کہ ایسے لوگ حق اور حقیقت کو سمجھنے اور اس کو اپنانا چاہتے ہی نہیں کہ اس طرح ان کی خواہشات کی پیروی کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوجاتی ہے۔ جو ان کیلئے ناقابل قبول اور ناقابل برداشت ہے۔ خواہشات نفس کے پجاریوں اور بطن و فرج کے غلاموں کا یہی حال کل تھا اور یہی حال آج ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 69:43

تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 69:43 in the Quran reader

یہ تو سراسر (اور پورے کا پورا) اتارا ہوا ہے پروردگار عالم کی طرف سے

38 قرآن حکیم خالص اللہ رب العالمین کا کلام ہے : سو ارشد فرمایا گیا کہ یہ سراسر اتارا ہوا کلام ہے اللہ رب العالمین کی طرف سے۔ سو یہاں پر نازل یا منزل وغیرہ جیسا کوئی مشتق لفظ استعمال فرمانے کی بجائے تنزیل فرمایا گیا ہے جو کہ مصدر ہے یعنی یہ سراسر نازل شدہ کتاب ہے جسے پر ورگردار عالم نے اپنی رحمت بےکراں سے نازل فرمایا ہے اس میں کسی انسانی فکر و کاوش کے کسی دخل یا آمیزش کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ‘ پس غلط ہے وہ بات جو یورپ کے اندھے اور دوسرے دشمنان اسلام کہتے ہیں کہ یہ محمدی کتاب (Muhammad Book) ہے ‘ کیونکہ یہ کتاب آنحضرت ﷺ کی فکر و کاوش کا نتیجہ یا آپ ﷺ کی تصنیف و تالیف کردہ کتاب نہیں بلکہ یہ خالصتاً اللہ تعالیٰ کا کلام معجز نظام ہے جس کو اس نے اپنی رحمت بےپایاں سے اپنے بندوں کی ہدایت و رہنمائی کیلئے اور ان کو دارین کی سعادت و سے ہمکنار و بہرہ ور کرنے کیلئے آنحضرت ﷺ پر نازل فرمایا ہے ‘ سو نہ یہ کتاب محمدی کتاب ہے بلکہ کتاب الٰہی ہے اور نہ یہ دین دین محمدی ہے بلکہ یہ دین خداوندی ہے جس کو محمد ﷺ نے جوں کا توں دنیا کے سامنے پیش فرمایا ہے۔ اسی لئے اس کو دین اسلام کہا جاتا ہے اور نہ ہی یہ شریعت محمد ﷺ کی تصنیف کردہ شریعت (Muhammad Law) ہے ‘ بلکہ یہ شریعت شریعت خداوندی ہے اور اسی لئے اس کو شریعت اسلامیہ کہا جاتا ہے اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اللہ پاک کی اتاری ہوئی اس کتاب حکیم قرآن مجید کو ‘ اور اس کے بخشے ہوئے اس دین حق اسلام کو ‘ اور اس کی نازل فرمودہ اس شریعت مقدسہ ‘ شریعت اسلامیہ کو جوں کا توں خلق خدا تک پہنچایا ہے ‘ سلوات اللہ وسلامہ علیہ اور دین اسلام نظام مصطفیٰ نہیں نظام خداوندی ہے ‘ جس کی حضور نے تبلیغ فرمائی کہ آپ ﷺ کو اس کا حکم و ارشاد فرمایا گیا ہے " یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک الا لہ " (المائدہ :67) ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ یہ سراسر اتارا ہوا کلام ہے پروردگار عالم کی طرف سے۔
Ayah 69:44

وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِۙ Open ayah 69:44 in the Quran reader

اور اگر یہ (پیغمبر) از خود کوئی بات بنا کر ہمارے ذمے لگا دیتے

39 کفار کے ایک الزام کی تردید بڑے مؤثر انداز میں : سو اس اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اگر پیغمبر بفرض محال کوئی من گھڑت بات ہمارے ذمے لگاتے تو ان کو ہم اس طرح اور اس طرح سزا دیتے۔ یعنی نبی برحق ایسی کوئی بات نہیں کرسکتے ‘ ورنہ اس کا انجام یہ ہوتا جو یہاں بیان فرمایا گیا ہے ‘ اور جب ایسے نہیں ہوا تو یہ امر اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ آپ اللہ کے سچے نبی اور رسول ہیں اور آپ ﷺ نے اس کی نازل فرمودہ وحی میں کسی طرح کی کوئی آمیزش نہیں کی ‘ پس قادیانی دجال کا اس سے اپنے دجل کیلئے استدلال کرنا باطل و مردود ہے کیونکہ یہ ضابطہ نبی برحق کیلئے ہے ‘ نہ کہ ہر جھوٹے مدعی نبوت کیلئے ‘ جیسے اگر ملک کا وزیراعظم قانون و دستور کے خلاف کسی بات کا کوئی اعلان کردے تو اس کی فوری طور پر گرفت ہوگی لیکن اگر کوئی عام گرا پڑا آدمی یا کوئی مجنون و دیوانہ اور بھنگی چرسی اس طرح کی ایک چھوڑ دس باتیں کرے تو کوئی اس کو پوچھے گا بھی نہیں ‘ کہ اس طرح کے عام گرے پڑے لوگوں کی ایسی کسی بات کی کوئی حیثیت و اہمیت ہی نہیں سمجھی جاتی ‘ بہرکیف اس میں کفار کے اس الزام کا جواب ہے ‘ جو وہ حضور ﷺ پر لگاتے تھے کہ یہ صاحب یہ سب کچھ اپنی طرف سے گھڑ کر لاتے ہیں ‘ اور ہم پر دھونس جمانے کیلئے کہتے ہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے ‘ جو وحی کے ذریعے ان پر نازل کیا جاتا ہے ‘ سو اس الزام کی تردید اور اس کے جواب کیلئے ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے کبھی نہیں ہوسکتا ‘ کیونکہ اللہ جس کو اپنا رسول بناتا ہے وہ اسی کا سفیر اور اس کی وحی کا امین و پاسدار ہوتا ہے ‘ اور وحی کی اس عظیم الشان امانت کے حامل اور اس کے امین و پاسدار ہونے کی بنا پر ان کی نگرانی بھی نہایت سخت ہوتی ہے ‘ مجال نہیں کہ وہ اپنی طرف سے اس میں کوئی ردوبدل کرسکے ‘ وہ اگر ذرہ برابر بھی کوئی بات ہم سے غلط منسوب کرے ‘ تو ہم اس کو سخت پکڑ میں پکڑیں اور اس کی شہہ رگ ہی کاٹ دیں ‘ پھر کوئی ان کو ہم سے بچانے والا نہ بن سکے اور جب ایسی کوئی بات بھی نہیں ہوئی تو یہ اس بات کا کھلا اور واضح ثبوت ہے کہ یہ کلام خالص اللہ کا کلام ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ جس کو حضور ﷺ نے بتمام و کمال لوگوں تک پہنچایا ہے۔
Ayahs 69:45–48

لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْیَمِیْنِۙ Open ayah 69:45 in the Quran reader

تو ہم یقینا پکڑ لیتے ان کو داہنے ہاتھ سے

ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِیْنَ٘ۖ Open ayah 69:46 in the Quran reader

پھر سختی کے ساتھ کاٹ ڈالتے ہم ان کی رگ جان کو

فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰجِزِیْنَ Open ayah 69:47 in the Quran reader

اس صورت میں تم میں سے کوئی بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا نہ ہوتا

وَ اِنَّهٗ لَتَذْكِرَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 69:48 in the Quran reader

اور بلاشبہ یہ (قرآن) قطعی طور پر ایک عظیم الشان نصیحت (اور یاد دہانی) ہے پرہیزگاروں کے لئے

40 قرآن حکیم ایک عظیم الشان نصیحت و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ یہ ایک عظیم الشان نصیحت اور یاد دہانی ہے۔ ایسی عظیم الشان کہ اس کی کوئی نظیر و مثال نہ اس سے پہلے کبھی ہوئی ہے ‘ نہ آئندہ قیامت تک کبھی ہوسکے گی۔ ایسی عظیم الشان کہ اس کی عظمت شان کا کوئی کنارہ نہیں۔ پس جس نے صدق دل سے اس کو گلے لگایا اس کا اپنآ بھلا ‘ اور جس نے اس سے منہ موڑا اس کا اپنا ہی خسارہ و نقصان ‘ والعیاذ باللہ سو بےخیرے اور محروم القسمت لوگ اگر اس کلام مجید کی قدر نہیں کرتے تو یہ ان کی اپنی بدبختی اور محرومی ہے ‘ مگر جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں وہ اس سے نصیحت اور یاددہانی حاصل کرتے ہیں ‘ اور کریں گے ‘ وہی اصل مقصود ہیں اور یہ نعمت دراصل اتاری بھی انہی کیلئے گئی ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ قرآن حکیم ایک عظیم الشان نصیحت اور یاددہانی ہے جو انسان کو خیر و شر کے درمیان فرق وتمیز سے آگاہ کرتی اور حق و باطل کی حدود سے واقف کرتی ‘ اس کو اپنے خالق ومالک کے حقوق سے آگہی بخشتی اس کو اس کے مال و انجام کی تذکیر و یاد دہانی کراتی اس کو مہالک سے خبردار کرتی اور دائمی فوز و فلاح کے راستوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ سو اس جیسی دوسری کوئی تذکیر و یاددہانی نہ ہوئی ہے نہ کبھی ہوسکتی ہے۔ یہ اپنی مثال آپ اور سعادت دارین کی کفیل وضامن ہے۔ اس سے مستفید و فیضیاب وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو تقویٰ و پرہیزگاری کی دولت رکھتے ہوں ‘ سو اس پر اہم اور بنیادی حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ تقویٰ و پرہیزگاری باعث نجات و سرفرازی ہے ‘ چنانثہ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ کتاب حکیم عظیم الشان نصیحت و یاد دہانی ہے پرہیزگاروں کیلئے کہ اس سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں ‘ ورنہ اس کی ہدایت تو دنیا جہاں کے سب لوگوں کیلئے عام ہے ‘ کہ اس کی شان ہے ھدی للعالمین اور اس کے لانے والے پیغمبر کی شان ہے رحمۃ اللعالمین ﷺ لیکن جو لوگ اس سے اعراض و روگردانی ہی برتیں اور اس منہلصافی سے مستفید و فیض یاب ہونے کیلئے اس کی طرف رجوع ہی نہ کریں ‘ ان کو اس کا فیض آخر کیسے اور کیونکر پہنچ سکتا ہے ؟ سو اس میں ایک طرف پیغمبر ﷺ کیلئے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے ‘ کہ اگر ناقدرے اس کی قدر نہیں کرتے تو آپ اس سے دلبرداشتہ نہ ہوں کہ اس کی قدر کرنے والے بھی موجود ہیں اور ایسے عمدہ صفات اور پاکیزہ خصال لوگ موجود ہیں۔ دوسری طرف اس میں اس سے استفادہ کرنے والوں کی نشاندہی اور اس کی اہلیت کیلئے ضروری صفت کو بھی واضح فرما دیا گیا کہ وہ صفت ہے تقویٰ و پرہیزگاری کی صفت۔ اور وہ لوگ ہیں متقی و پرہیزگار لوگ۔ اور تیسری طرف اس سے محروم لوگوں اور ان کے سبب محرومی کا پتہ بھی دے دیا کہ اس کی ہدایت و نور سے محروم لوگ وہ ہیں جو دولت ‘ تقویٰ و پرہیزگاری سے محروم اور تہی دامن ہیں۔ سبحان اللہ ! صحت و سلامتی کی صحیح راہ بھی بتادی گئی اور سلیم الفطرت اور فائز المرام لوگوں کا پتہ بھی بتادیا گیا اور اس کے برعکس محروم و بدبخت اور سقیم الفطرت لوگوں کی نشاندہی بھی فرما دی گئی اور ان کی بیماری اور اس کے سبب و باعث سے بھی آگہی بخش دی گئی۔ فالحمدللہ رب العالمین۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر قائم اور گامزن رکھے۔ آمین۔
Ayah 69:49

وَ اِنَّا لَنَعْلَمُ اَنَّ مِنْكُمْ مُّكَذِّبِیْنَ Open ayah 69:49 in the Quran reader

اور ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ تم میں سے کچھ لوگ جھٹلانے والے بھی ہیں

41 منکرین و مخالفین کیلئے ایک تہدید و وعید : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ تم میں کچھ جھٹلانے والے بھی ہیں۔ پس وہ اپنی اس تکذیب کے انجام اور اس کے بھگتان سے بچ نہیں سکیں گے ‘ لہٰذا آپ اے پیغمبر ! ان کا معاملہ ہم پر ہی چھوڑ دیں ہم ان سے خود نمٹ لیں گے اور ٹھیک ٹھیک نمٹ لیں گے " ذرنی ومن یکذب بھذا الحدیث " سو اس میں مخالفین کیلئے تہدید و وعید ہے کہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ تمہارے اندر جھٹلانے والے بھی موجود ہیں ‘ وہ ہماری پکڑ سے بہرحال بچ نہیں سکیں گے ‘ سو انہیں جو ڈھیل ملی ہوئی ہے اس سے کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہئے کہ وہ بہرحال ایک ڈھیل ہے جو بالآخر اپنے وقت پر ختم ہو کر رہے گی۔ اس وقت ان کو اپنے کفر و انکار اور تکذیب حق کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا اور بھرپور طور پر اور عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق بھگتنا ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 69:50

وَ اِنَّهٗ لَحَسْرَةٌ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 69:50 in the Quran reader

اور بلاشبہ یہ (کلام حق) قطعی طور پر حسرت (و یاس) ہے کافروں کے لئے

42 قرآن حکیم کافروں کیلئے باعث حسرت : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ یہ قطعی طور پر حسرت ہے کافروں کیلئے۔ ایسی بڑی حسرت کہ یہ اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائیں گے کما قال تعالیٰ ۔ " یوم یعض الظالم علی یدیہ " (الفرقان :27) مگر اس وقت کے اس پچھتاوے سے ان لوگوں کو حسرت و یاس میں اضافے کے سوا اور کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو آج تو اس کو جھٹلانے والے اپنے طور پر بڑے مست و مگن ہیں مگر وقت آنے پر ان کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کتنی بڑی حسرت اور محرومی کا سامان کر رہے تھے ‘ اور مارے افسوس کے وہ اپنے سر پیٹیں گے ‘ اور اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائیں گے ‘ کہ انہوں نے اس کلام حق کی تکذیب کرکے اپنے لئے کتنی بڑی شامت بلائی تھی ‘ والعیاذ باللہ۔ اور یہ حسرت ان بدبختوں کو اس دنیا میں بھی ہوتی ہے جب یہ اسلام کا غلبہ دیکھتے ہیں اور جب اپنے کفر و انکار کے نتیجے میں یہ حیات طیبہ پاکیزہ زندگی کی سعادت سے محروم ہو کر اپنی اندرونی گھٹن اور طرح طرح کی پریشانیوں کا شکار ہوتے ہیں اور اس وقت بھی جبکہ جانکنی کے وقت فرشتے ان کی جان نکال رہے ہوں گے اور نہایت سختی کے ساتھ ان سے کہہ رہے ہوں گے کہ نکالو اپنی جان اب تم کو ذلت کا عذاب دیا جائے گا۔ اس بنا پر کہ تم لوگ اللہ پر ناحق باتیں کہا کرتے تھے اور اس بنا پر کہ تم لوگ اپنی بڑائی کے زعم اور گھمنڈ میں اس کی آیتوں سے منہ موڑا کرتے تھے جیسا کہ سورة کی آیت نمبر 94 میں اس کی تصریح فرمائی گئی اور سب سے بڑی حسرت اور افسوس ان کو اس وقت ہوگا جبکہ آخرت کے اس ابدی اور حقیقی جہاں میں اہل ایمان جنت کی سدا بہار نعمتوں سے سرفراز ہوں گے اور ان کو دوزخ کا ہولناک عذاب بھگتنا پڑے گا اور ہمیشہ کیلئے بھگتنا پڑے گا۔ سو کفر و انکار خساروں کا خسارہ اور دارین کی ہلاکت و تباہی ہے اور ایسا ہولناک خسارہ جس جیسا دوسرا کوئی خسارہ ممکن نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 69:51–52

وَ اِنَّهٗ لَحَقُّ الْیَقِیْنِ Open ayah 69:51 in the Quran reader

اور بلاشبہ یہ قطعی طور پر یقینی حق ہے

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 69:52 in the Quran reader

پس آپ تسبیح کرتے رہیں اپنے رب کے نام کی جو بڑا ہی عظمت والا ہے1

43 قرآن حکیم قطعی طور پر حق ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ یہ قطعی طور پر یقینی حق ہے۔ جس میں کسی شک شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ‘ اور جس روز جزا کی یہ تمام کلام حق ترجمان خبر دے رہا ہے ‘ وہ لازماً پیش آکر رہے گا ‘ پس صحت و سلامتی زور حق و انصاف کی بات یہ ہے کہ انسان صدق دل سے اس پر ایمان لاکر اس کی تعلیمات مقدسہ کو حرز جاں بنائے ‘ سو کوئی مانے یا نہ مانے ‘ تسلیم کرے یا نہ کرے حق بہرحال یہی اور صرف یہی ہے اور اس کے سو اکتاب حق اور کوئی ہے ہی نہیں اور ہوسکتی ہی نہیں۔ پس اس کتاب حق میں جو کچھ فرمایا گیا وہ سب سراسر حق اور سچ ہے اور جو لوگ اس پر ایمان لانے سے محروم ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ وہ حق و صدق کی دولت سے محروم اور اندھیروں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ نہ ان کو اپنے خالق ومالک کے حقوق اور اس کی صفات کا پتہ ہے نہ ان کو اپنے مقصد حیات سے کچھ علم و آگہی اور نہ اپنے مال و انجام کے بارے میں کچھ خبر۔ بلکہ حیوان محض بلکہ اس سے بھی فروتر اور بدترین مخلوق شرالبریہ ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔