Ayah 67:2126 : روزی کا معاملہ بھی اللہ ہی کے اختیار میں : سبحانۃ وتعالیٰ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ رزق و روزی کا معاملہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ بھلا وہ کون ہے جو تمہیں روزی دے سکے اگر وہ خدا رحمٰن اپنی روزی بند کر دے ؟ : یعنی اس کے اسباب و ذرائع کو کاٹ کر مثلاً آسمان سے بارش بند کر دے، ہاؤں کا چلنا روک لے، زمین سے اس کی اگانے کی قوت و خاصیت سلب کرلے، یا پانی کے سوتے بند کر دے، یا پانی کے ذخائر کو کھارا کر دے، یا سورج سے ملنے والی گرمی اس سے چھین لے، جس سے ان کی طرح طرح کی یہ فصلیں پکتی اور تیار ہوتی ہیں، وغیرہ وغیرہ سو اگر اس طرح کی کسی بھی صورت سے وہ خدائے رحمٰن تم لوگوں سے اپنی روزی بند کر دے تو پھر کون ایسا ہوسکتا ہے جو تمہیں روزی دے سکے ؟ سو ان باتوں کا تقاضا ہے کہ انسان ہمیشہ اور دل و جان سے اپنی اس خالق ومالک کے حضور جھک جائے اور ہمیشہ جھکا ہی رہے۔ یہ اس خالق ومالک کا اس کے بندوں پر حق ہے اور اسی میں اس کے بندوں کا بھلا ہے دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہان میں بھی۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید علی مایحب ویرید۔ بہر کیف اس ارشاد سے اس مراہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرمایا دیا گیا کہ ایسا کوئی بھی نہیں اور کوئی بھی نہیں ہوسکتا جو خدائے رحمان کے مقابلے میں کسی کو روزی دے سکے اور یہ امر ظاہر ہے کہ اس کا یارا کسی میں بھی نہیں ہوسکتا، کہ وہ اس وحدہ لاشریک کی اس طرح کی کسی بھی روک اور بندش کے آگے رکاوٹ بن سکے، تو پھر عبادت و بندگی کی کسی بھی شکل کا حقدار کوئی اور کیسے اور کیونکر ہوسکتا ہے ؟ پس معبود برحق وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے، اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور ہر شکل اسی کا اور صرف اسی کا حق ہے سبحانہ و تعالیٰ ، سو اس خدائے قادر وقیوم سے بےنیازی برتنا اور اعراض و روگردانی سے کام لینا کس قدر سنگنی جرم ہے، والعیاذ باللہ۔ سو جن لوگوں نے اپنے خود ساختہ بتوں اور اپنی من گھڑت دیویوں دیوتاؤں اور فرضی سرکاروں وغیرہ کو اپنا روزی رساں سمجھ رکھا ہے وہ سب جھوٹے اور افترا پرواز ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہر کیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ کفر و انکار کے لئے کوئی وجہ نہیں نہ عقل سلم کے نزدیک اور نہ فطرت مستقم کے نزدیک مگر کافر و منکر لوگ اس کے باوجود آڑے ہوئے ہیں سرکشی اور گریز و فرار پر۔ اور بغیر کسی وجہ اور بدوں کسی عذر و معقولیت کے یہ لوگ یونہی کشی پر اڑے وہئے ہیں اور اپنی ہلاکت و تباہی کی اسی راہپر اندھے اور بہرے بن کر چلے جا رہے ہیں، نہ کسی طرح کا کوئی احساس ذمہ داری ہے اور نہ اپنے مآل و انجام کی کوئی فکر و پرواہ، والعیاذ باللہ جل و علا سو اگر یہ لوگ سوچنے سمجھنے والے ہوتے تو بات سمجھائی جاسکتی تھی، لیکن عناد اور ہٹ دھرمی کا کیا کیا جائے کہ میں نہ مانوں کا تو بہرحال کوئی علاج نہیں، سو اس ارشاد میں ان لوگوں کی ضد اور ہٹ دھرمی پر اظہار افسوس ہے کہ اوپر کئے گئے سوالات میں سے کسی کا جواب بھی یہ لوگ اثبات میں نہیں دے سکتے، ان کو تسلیم کئے بغیر ان کو چارہ نہیں مگر اس کے باوجود یہ لوگ اپنی سرکشی اور حق بیزاری پر اڑے ہوئے ہیں۔ سو ہٹ دھرمی اور محرومیوں کی محرومی اور فساد و بگاڑ کی جڑ بنیاد ہے۔ والعیاذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 67:2227 کافر و مشرک اندھے اور اوندھے، والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ کافر اور مشرک کی مثال اوندھے انسان کی ہے۔ پس یہ مثال کافر اور مشرک کی ہے، جو ایمان و توحید کی سیدھی اور سچی راہ سے محروم ہو کر اوندھے منہ الٹا چلا جا رہا ہے، یہاں تک کہ اپنی اسی الٹی روش اور اوندھی چال کے نتیجے اور انجام میں کل آخرت کے اس ابدی جہاں میں جو کہ کشف حقاق کا جہاں ہوگا، یہ اپنے منہ کے بل چل کر دوزخ کی آگ میں گرے گا والعیاذ باللہ، آنضحرت ﷺ سے جب اس بارہ عرض کیا گیا کہ یہ لوگ وہاں پر منہ کے بل کیسے چلیں گے ؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس ذات نے ان کو پاؤں کے بل چلایا ہے وہ ان کو منہ کے بل چلانے پر بھی قادر ہے، (صحیح بخاری کتاب التفسیر، تفسیر سورة الفرقان، ابن کثیر، جامع البیان وغیرہ) سو یہ لوگ اس کتے کی مانند اپنی خواہشوں کے غلام ہیں جو ہر وقت اپنی ناک زمین سے لگائے سونگھتا ہوا چلتا ہے کہ شاید کوئی چیز کھانے کو مل جائے، وہ سر اٹھا کر دیکھتا ہی نہیں اور جب اس کو اپنی نسل کا کوئی دوسرا فرد مل جاتا ہے تو یہ فوراً جا کر اپنا منہ اس کی پیشاب گاہ پر لگاتا اور اس کو سونگھتا اور چاٹتا ہے جس سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ خواہشات نفس کا بندہ اور غلام ہے۔ سو یہی حال ہے نور حق و ہدایت سے منہ موڑنے والے کافروں، منکروں اور دوسرے باطل پرستوں کا کہ ان کی زندگی کا مشن اور قمصد بھی بطن و فرج کی خواہشات کی تکمیل اور ان کی غلامی اور بس۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین
28-× مومن راہ راست اور فطرت سلیمہ پر قائم والحمد اللہ : سو مومن کی مثال سر اٹھا کر سیدھی راہ پر چلنے والے انسان کی ہے : پس یہ مثال مومن موحد کی ہے کہ اس کا راستہ بھی صحیح ہے کہ وہ ایمان و توحید کا راستہ ہے جو کہ عقل و نقل اور دین و فطرت کے عین مطابق ہے اور یہ چلتا بھی اس پر سماوی ہدایات و تعالیم کے مطابق ہے، اس لئے یہ بغیر کسی خوف و خطر کے کامیابی اور جنت کی راہ پر گامزن ہ، سبحان اللہ کتنی اونچی اور کس قدر پاکیزہ اور انمول دولت ہے یہ ایمان و یقین کی دولت جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار و بہرہ ور کرتی ہے۔ فالحمد للہ الذی شرقنا بھذہ النعمۃ نعمۃ الذین والایمان اللھم زدنا منہ وثبتنا علیہ سو حق و ہدایت کی دولت اسی کو ملتی ہے جو سیدھی راہ پر سر اٹھا کر داہنے بائیں اور آگے پیچھے دیکھتا ہو اور اپنے اگر دو پیش کا جائزہ لیتا ہوا چلتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسی لیے انسان کو مستوی القامت یعنی سیدھے وجود والا پیدا کیا ہے، اس کو جانوروں کی طرح زمین کی طرف جھکا ہوا نہیں پیدا کیا، لیکن بہت سے انسان ہیں کہ اپنے شرف و امتیاز کو بھلا کر جانوروں ہی کی تقلید کرتے ہیں اور اسی طرح وہ اپنی اس اعلیٰ خصوصیت اور امتیازی شان کو کھو بیٹھتے ہیں، جو انسان کا اصلی شرف اور تحفہ امتیاز ہے، اسی لیے قرآن پاک میں جگہ جگہ خواہشات کے پیچھے چلنے والوں کی مثال جانوروں خاص کر کتوں سے دی گئی ہے، جو ہر وقت اپنی ناک زمین پر ہی لگائے رکھتا ہے کہ یہی اس کا منتہائے مقصود ہوتا ہے اور بس، والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 67:2329 ۔ قوائے علم و ادراک کی قدردانی کی تعلیم و تلقین : سو اس ارشاد سے کان آنکھ اور دل و دماغ وغیرہ ذرائع علم و ادراک اور عظیم الشان نعمتوں کی قدردانی کی طرف توجہ مبذول کرنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ جو کہ علم و ادراک کے عظیم الشان ذرائع و وسائل ہیں، تاکہ ان کے ذریعے تم لوق حق اور حقیقت کی دولت سے بہرہ ور ہو سکو اور دین حق کو اپنا کر اور اپنے خالق ومالک کے حضور صدق دل سے جھک کر تم دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ ور ہو سکو، مگر تم لوگوں نے اس کے برعکس ان عظیم الشان نعمتوں اور ادرک حق و حقیقت کے لئے بخشے گئے ان ذرائع و وسائل کو بطن و فرج کی شہوات کی تحصیل و تکمیل میں لگا کر اپنے آپ کو شرف انسانیت سے گرا کر قعر مذلت میں ڈال دیا اور انکو حضیض حیوانیت کے حوالے کردیا اور اس طرح تم لوگ اپنے کفر و انکار اور بغاوت و سرکشی کی بناء پر خیر البریۃ (بہترین مخلوق) کی بجائے شرالبریۃ (بدترین مخلوق) بن کر رہ گئے اور ہمارے بخشے ہوئے ان ذرائع و وسائل کو تم لوگ ہمارے ہی خلاف استعمال کرنے کی جسارت تک پر اتر آئے، اور ہماری ایسی ایسی عظیم الشان عنایات کو بھول کر تم لوگ اپنی اس گمراہی کو صحیح اور درست ثابت کرنے کے لئے طرح طرح کی فلسفہ طرازیوں اور عقلی ڈھکو سلوں سے کام لینے لگے ہو، سو اس سے بڑھ کر ظلم اور بےانصافی و ناشکری اور کیا ہوسکتی ہے ؟ " وضرب لنا مثلا ونسی خلقہ قال من یحییٰ العظام وہی رمیم " (یٰسین :78) سو اس ارشاد عظیم میں یہ درس عظیم بھی ہے کہ اپنے خالق ومالک اور اس معبود برحق کو پہچاننے اور اس کی معرفت سے سرفرازی کے لئے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں، بلکہ اس کے لئے تم لوگ خود اپنے اندر جھانک کر دیکھ لو جیسا کہ دسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ " وفی انفسکم افلا تبصرون " (الذاریات : 21) سو وہ معبود برحق وہی ہے جس نے تم سب کو پیدا فرمایا، تمہیں کان بخشے، آنکھیں عطا فرمائیں اور تمہیں دل دیئے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ نیز یہ بھی کہ اللہ پاک کی بخشی ہوئی ان عظیم الشان نعمتوں کے بارے میں تم لوگوں نے بہرحال پوچھ ہوگی جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ ان السمع والبصر والقوادکل اولئک کان عنہ مسؤلا (بنی اسرائیل : 36) ۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید،
Ayahs 67:24–2530 یوم حساب و معاد کی تذکیرو یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ وہ اللہ وہی ہے جس نے پھیلایا تم سب کو اے لوگو، زمین میں اور آخر کار تم سب کو اسی کی طرف جانا ہے اکٹھے ہو کر اور وہاں تم نے اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا حساب دینا اور اس کا پھل پانا ہے، تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے بھرپور طریقے سے پورے ہو سکیں، پس تم خود ہی دیکھ اور سوچ لو کہ اس یوم عظیم کے لئے تم نے کیا تیاری کی ہے اور وہاں کے لئے کیا کمایا اور جمع کیا ہے۔ اللھم وقفنا لماتحب وترضی و ماینفعنا فی ذالک الیوم العظیم الرھیب۔ سو جس طرح اس نے تم سب کو اپنی زمین میں پھیلایا، بکھیرا، اسی طرح وہ تم سب کو اکٹھا کر کے اپنے حضور لائے گا، کوئی چاہے یا نہ چاہے، مانے یا نہ مانے، اپنے وقت پر ایسے بہرحال ہو کر رہے گا، سو عقل و نقل کا تقاضا یہی ہے کہ انسان اس یوم عظیم و رہب اور اس کے تقاضوں کو میشہ اپنے پیش نظر رکھے، وباللہ التوفیق سو اس ارشاد میں یوم حساب و معاد کی تذکیرو یاد دہانی بھی ہے اور اس کے ساتھ ہی ایک واقعاتی دلیل و شہادت بھی کہ حس نے تم سب کو اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے اس قدر پر حکمت طریقے سے اپنی اس زمین میں پھیلایا بکھیرا ہے وہی تم کو ایک دن اکٹھا کر کے اپنے حضور لائے گا۔ کیونکہ ایک کسان جب پوری محنت و مشقت اور نگرانی و حفاظت سے کھیتی تیار کرتا ہے تو پھر وقت آنے پر وہ اس کو اپنے کھلیان میں اکٹھا کرتا ہے اور پھر دانوں اور بھوسے کو الگ الگ کردیتا ہے۔ سو اسی طرح تمہارا خالق ومالک قیامت کے اس یوم حساب میں تم سب کو اٹکھا کرے گا اور پھر تم سب کی اس موقع پر چھانٹی کرے گا۔ سبحانہ و تعالیٰ
Ayah 67:2631 ۔ پیغمبر کا کام صرف انذار وتبشیر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کہو میں تو محض ایک خبردار کرنے والا ہوں حقیقت امر کو کھول کر۔ تاکہ حق تمہارے سامنے پوری طرح واضح ہوجائے اور تمہارے لئے کسی عذر کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے اور کل تم پر یہ نہ کہہ سکو کہ ہمیں کسی نے بتایا نہیں تھا۔ " ان تقولوا ماجاء نامن بشیر ولا نذیر (المائدہ :19) اس سے بڑھ کر نہ میری کوئی ذمہ داری ہے اور نہ کوئی علم و اختیار، رہ گئی یہ بات کہ قیامت کب آئے گی اور تم پر وہ عذاب کء آئے گا ؟ جس کے مستحق تم لوگ اپنے کفر و انکار کی بناء پر بن چکے ہو تو اس کا علم تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے، میرے نہ بس میں ہے اور نہ ہی میرے علم میں، انما کے کلمہ حصر کے اعادہ و تکرار سے ان سب ہی معافی کی تاکید فرما دی گئی ہے۔ سو پیغمبر کا اصل کام لوگوں کو خبردار کردینا ہوتا ہے ان کے انجام سے۔ اس کے بعد جو لوگ پیغمبر کی دعوت کو قبول کرتے ہیں ان کے پیغمبر بشارت دیتے ہیں ان سرفرازیوں کی جو ایسے لوگوں کو ان کے ایمان و عمل کے نتیجے میں نصیب ہوں گی۔ سو پیغمبر کا اصل کام اور ان کا فرض منصبی یہی دو چیزیں ہوتی ہیں۔ یعنی انذار اور تبشیر۔ اس سے آگے بڑھ کر یہ بات کہ لوگوں کو راہ حق و ہدایت پر ڈال دیا جائے یا نہ ماننے والوں کو عذاب میں مبتلا کردیا جائے وغیرہ وغیرہ تو ان میں سے کوئی بھی چیز نہ پیغمبر کے بس میں ہوتی ہے اور نہ ہی ان کے اختیار میں اور نہ ہی پیغمبر ایسی کسی چیز کا کبھی دعویٰ ہی کرتے ہیں کہ ان سب کا تعلق خدائی اختیار سے ہے نہ کہ پیغمبر کے فرائض منصبی سے۔ (علیہ السلام)
Ayah 67:2732 ۔ قیامت کے روز منکرین کے حال بد کی تصویر ذکر وبیان، سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب یہ اس کو قریب دیکھیں گے تو ان کا حال بہت برا ہوگا۔ یعنی آخرت کے اس ہولناک عذاب کو جس نے اپنے وقت پر بہرحال آ کر رہنا ہے تو اس وقت ان کے ہوش ٹھکانے آجائیں گے اور حقیقت حال ان کے سامنے خود منکشف اور پوری طرح آشکارا ہوجائے گی، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ " ویدالھم سیات ماعملوا وحاق بھم ماکانوا بہ یستھزء ون (الجاثیۃ :33) تب ان سے ان کی تقریع و توبیخ کے طور پر کہا جائے گا، ھذا الذی کنتم بہ تدعون (یہی ہے وہ حقیقت جس کا تم لوگ بار بار مطالبہ کیا کرتے تھے) سو تم اس کے لئے جلدی مت مچاؤ کہ اس نے اپنے وقت پر بہرحال آ کر رہنا ہے، بلکہ اس کے لئے تیاری کی فکر و کوشش کرو، کہ اس کے لئے پھر تم کو کوئی موقع نہیں مل سکے گا۔ بہر کیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قیامت کے روز لہروں سے ہو رہی ہوگی، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جب یہ لوگ اس عذاب کو قریب سے دیکھیں گے تو اس وقت بگڑ جائیں گے ان منکروں کے چہرے کو ان کے انکار کے علم الرم ان کو وہی کچھ دیکھنا پڑگیا جس کا وہ عمر بھر خم ٹھونک کر انکار کرتے رہے تھے۔ والعیاذ باللہ۔ سو آج تو یہ لوگ بڑے طنطنے اور تکبر کے ساتھ اس عذاب کے لانے اور دکھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ لیکن کل جس وقت وہ آپہنچے گا تو اس وقت ان کی یہ ساری شیخی ہرن ہوجائے گی، ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور انکا حال بہت برا ہوگا، سو ان پر کفر و انکار کی سیاہی اور انتہائی ہولناک ذلت و رسوائی چھائی ہوگی جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ " ووجوہ یومئذ علیھا غبرۃ ترھقھا قترۃ " (عبس : 40-39) والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے اور ہر قسم کے سرور و فتن سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور ہمیشہ بہرحال میں اور ہر اعتبار سے اپنا ہی بنائے رکھے۔ آمین ثم آمین
33 منکرین کی تذلیل و تحقیر کے ایک منظر کا ذکر وبیان : سو ان بدبختوں کی تذلیل و تحقیر کے اور منظر کے ذکر وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اس وقت ان سے یوں کہا جائے گا۔ یعنی ان کی تقریع و توبیخ اور تذلیل و تحقیر کے طور پر اور اس طرح ان کے احتراق اور ان کی جلن میں اور اضافہ ہوگا اور یہ دوزخ کی ظاہری آگ کے ساتھ ساتھ حسرت ویاس کی اس باطنی آگ سے بھی جلیں گے، اور ان کا عذاب دو چند ہوجائے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم سو اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ چیز جس کا تم لوگ مطالبہ کیا کرتے تھے اور بار بار کہا کرتے تھے، تو اب تم اس کو دیکھتے ہی بدحواس کیوں ہوگئے ہو ؟ یہ تو تمہاری اپنی مانگی ہوئی مراد ہے سو اب تم اس کا مزہ چکھو۔ سو جس طرح ان بدختوں نے دنیا میں حق کا مذاق اڑایا تھا اور اللہ کے رسولوں اور ان کی دعوت کے ساتھ استہزاء کیا کرتے تھے اسی طرح ان کے ساتھ اس روز مذاق و استہزاء ہوگا جو کہ اصل میں ان کے اس مذاق و استہزاء کا صلہ و بدلہ اور اس کا طبعی نتیجہ ہوگا جو کشف حقائق کے اس جہان غیب میں ان کے سامنے اس طرح ظاہر ہوگا۔ قرآن حکیم نے اپنی رحمتوں بھری تعلیمات کے ذریعے اس سے اس طرح پیشگی خبر کردی تاکہ جس نے بچنا ہو بچ جائے۔ بہرکیف اس سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ قیامت کے وز منکرین کے لئے ظاہری اور حسی عذاب کے ساتھ ساتھ باطنی اور معنوی عذاب بھی ہوگا اور وہ دوہرے عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ والعیاذ باللہ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہی وہ چیز جس کا تم لوگ بار بار مطالبہ کیا کرتے تھے اور تم تکذیب و استہزاء کے طور پر اس کے لئے جلدی مچایا کرتے تھے اور بار بار کہا کرتے تھے کہ آخر کب پوری ہوگی (قیامت کے بارے میں) تمہاری یہ دھمکی، اگر تم سچے ہو ! (اپنے دعوے میں) (متی ھذا الوعد ان کنتم صادقین) سو اب تم لوگوں کو اپنی منہ مانگی مراد مل گئی، لہٰذا اب اس کا مزہ چکھو اور چکھتے رہو کہ تم لوگوں نے اپنید نیاوی زندگی کو بغاوت و سرکشی اور کفر و انکار ہی کے ساتھ گزارا اور اسی کے ساتھ لوگوں نے دنیا سے کوچ کیا تو اب تم اپنے زندگی بھر کے اپنے کئے کرائے کا بھگتان بھگتو اور بھگتتے ہی رہو۔ سو اس طرح وہ بدبخت ظاہری اور حسی آگ کے ساتھ ساتھ باطنی اور معنوی آگ میں بھی جلیں گے اور دوہرے عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے اور ہر قسم کے عذاب سے محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین
Ayah 67:2834 ۔ منکرین کے قلوب و ضمائر سے ایک سوال کا ذکر وبیان سو منکرین کو معاندانہ سوچ کی بجائے حقیقت پسندی کو اپنانے کی دعوت کے طور پر ان کے قلوب و ضمائر سے یہ جھنجوڑنے والا سوال کیا گیا کہ تم لوگ سو چو کہ اگر اللہ ہلاک کر دے مجھے بھی ان میرے ساتھیوں کو بھی۔ جیسا کہ تم لوگ چاہتے ہو اور اس کے لئے تم طرح طرح کے حیلے حوالے اور جتن بھی کرتے ہو، ٹونے ٹوٹکے کرتے، جنتر منتر سے کام لیتے، بددعائیں کرتے، اور قتل تک کی سازشیں کرتے اور منصوبے بناتے ہو اور صاف کہتے بھی ہو کہ ہم تو ان کی موت کی انتظار میں ہیں (نتریص بہ ریب المنون) مگر تم لوگ ذرہ سوچو تو سہی اور یہ تو بتاؤ کہ اس سے آخر تمہیں کیا فائدہ پہنچے گا ؟ کیا اس طرح تم لوگ اپنے کئے کرائے کے انجام سے بچ جاؤ گے ؟ جب نہیں اور ہرگز و یقیناً نہیں، تو پھر تمہارے لئے بہتری اور سلامتی کی راہ ایک اور صرف ایک ہے کہ تم اپنی فکر کرو اور ایمان و ہدایت کی دولت کو اپناؤ تاکہ اس طرح تم دائمی عذاب سے بچ جاؤ، اور اس کے لئے فرصت عمر کی اس نعمت کو غنیمت جانو جو آج تمہیں میسر ہے اور جو شدہ شدہ تمہارے ہاتھ سے نکلی جا رہی ہے، سو میں تو سراسر تمہاری بھلائی اور خیر خواہی میں لگا ہوں، اور تم ہو کہ میری بدخواہی کے در پے ہو، تم کیسے بےانصاف اور کس قدر ناشکرے لوگ ہو، والعیاذ باللہ العظیم سو اس ارشاد سے ان لوگوں کو معاندانہ سوچ کی بجائے حقیقت پسندی کو اپنانے کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ سو اس ارشاد میں یہ اہم اور اصولی ہدایت بھی ہے کہ انسان دوسروں کی برائی اور بدخواہی سے پہلے یہ سوچے کہ اس میں میرا کیا فائدہ اور مجھے اس سے کیا ملے گا ؟ اور اس مثبت اور اصولی سوچ کے نتیجے میں وہ بہت سی ہلاکتوں سے بچ جائے گا۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویریدو علی مایحب ویریدو ہوالہادی الی سواء السبیل
35 دوسروں کا برا چاہنے کی بجائے اپنے بھلے کی فکر کا درس : سو منکرین کے ضمیروں کو جھنجھوڑتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے پوچھو کہ اگر اللہ ہلاک کر دے مجھے بھی اور ان سب کو بھی جو میرے ساتھ ہیں تو کون بچائے گا کافروں کو درد ناک عذاب سے ؟ جس سے انہوں نے اپنے کفر و انکار کی بناء پر بہرحال دوچار ہونا ہے، والعیاذ باللہ اعلظیم، سو فرض کرو کہ اگر ہمارے بارے میں تمہارا گمان ہی سچ ثابت ہوتا ہے اے منکرو، اور ہم گردش ایام کا شکار ہوجاتے ہیں جیسا کہ تمہاری خواہش اور چاہت ہے، تو تم یہ تو سوچو کہ آخر اس میں تمہارے لئے تسلی کا کیا پہلو ہے ؟ آخر تم کو اللہ تعالیٰ کے قہر و غضب سے کون بچا سکے گا ؟ اور اس کے عذاب سے تم کو کون پناہ دے سکے گا ؟ قیامت تو بہرحال ایک ہو کر رہنے والی چیز ہے، اس کے ہونی شدنی ہونے کے دلائل اٹل ہیں، سزا و جزا بہرحال ایک قطعی اور یقینی امر ہے، تو کافروں کو آخر اس درد ناک عذاب سے آخر کون بچائے گا ؟ سو تم لوگوں کو دوسروں کا برا چاہنے کی بجائے اپنے بھلے کی فکر کرنی چاہئے۔ یہی تقاضا ہے عقل و نقل کا اور اسی میں تمہارا بھلا ہے دنیا و آخرت میں جیسا کہ ابھی اوپر وال حاشیے میں بھی گزرا۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویریدو علی مایحب ویرید۔ سبحانہ و تعالیٰ
Ayah 67:2936 خدائے رحمان کی حمت کی تذکیر و یاد دہانی : سو اس سے خدائے مہربان اور اس کی رحمت بےنہایت کی تذکیرو یاد دہانی فرمائی گئی ہے۔ چناچہ سو ارشاد فرمایا گیا ہے ان سے کہو وہی ہے جو سب سے بڑا مہربان ہے۔ جس کی رحمتوں اور مہربانیوں کا بہرحال کوئی کنارہ نہیں اور وہ اپنی رحمت بےپایاں اور کرم بےنہایت سے یہی چاہتا ہے کہ اس کے بندے دوزخ کے اس ہولناک عذاب سے بچ جائیں اور وہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار و سرفراز ہوجائیں، سو اسی بناء پر اس نے اپنے بندوں کی ہدایت و راہنمائی کے لئے طرح طرح کے انتظام فرمائی اور اپنے انبیاء بھیجے اور اپنی کتابیں نازل فرمائیں۔ مگر اس کا کیا کیا جائے کہ یہ بےقدرا، اور ناشکرا انسان حق و ہدایت کی اس روشنی سیم نہ موڑ کر کفر و انکر، اور بغاوت و سرکشی کی راہ ہی کو اپناتا ہے، والعیاذ باللہ اور اس طرح یہ سعادت و کامرانی کی بجائے دائمی ہلاکت اور تباہی کی راہ پر چلتا ہے والعیاذ باللہ اعلظیم، سو ہم اپنے مستقبل کے بارے میں کوئی دعویٰ نہیں کرتے کہ ہمارے ساتھ کیا ہوگا کہ اس کا علم اللہ ہی کو ہے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ ہمارا رب بڑا ہی مہربان ہے، ہم اس پر ایمن لائے ہیں اس لئے ہمیں اس سے رحمت و عنایت ہی کی امید ہے کہ وہ اپنے کرم بےپایاں اور رحمت بےنہایت کی بناء پر ہم سے رحم و کرم ہی کا معاملہ فرمائے گا، سبحانہ و تعالیٰ کہ اس کی رحمت بےپایاں کا تقاضا بھی یہی ہے اور اس کے اپنے بارے میں تعلیم و ہدایت بھی یہی ہے کہ وہ اپنے بندوں کے ساتھ ان کے ظن و گمان کی مطابق معاملہ فرماتا ہے جیسا کہ حدیث قدسی میں اس کا ارشاد و فرمان اس طرح وارد ہوا ہے انا عندظن عبدی بی یعنی میں اپنے بندے کے ساتھ وہی معاملہ کرتا ہوں جس کا وہ میرے بارے میں گمان رکھتا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ اس لئے ہم نے اسی بھروسہ کر رکھا ہے اور اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے بھروسہ کرنے والوں کو اس کے سوا باقی سب ادہام وطنوں ہیں والعیاد
37 خدائے رحمان پر بھروسے و اعتماد کا درس : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کو کہ وہی خدائے رحمان ہے ہم اس پر ایمان لائے اور ہم نے اسی پر بھروسہ کر رکھا ہے کہ بھروسہ و اعتماد اور توکل کے لائق وہی وحدہ لاشریک ہے جو کہ خالق ومالک ہے سب کا، اور تمام اسباب و وسائل کی باگ ڈور اسی کے ہاتھ میں ہے، سبحانہ و تعالیٰ سو بڑے ہی خطا کار اور بھولے بھٹکے ہیں وہ لوگ جو اس خالق ومالک مختار سے منہ موڑ کر اس کی عاجز و بےبس مخلوق پر توکل و اعتماد کرتے ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر وہ طرح طرح کی بےبنیاد اور وہمی چیزوں اور خود ساختہ و فرضی سرکاروں اور ہستیوں پر اعتماد کرتے اور انہی کی پوجا پاٹ کرتے ہیں اور اس طرح وہ اپنی ہلاکت و بربادی اور تذلیل و تحقیر کا سامان خود اپنے ہاتھوں کرتے ہیں والعیاذ باللہ، سو اس کی رحمت و عنایت اور اس پر اپنے ایمان و توکل کی بناء پر ہمیں اس کی بارگہ اقدس و اعلیٰ سے امید یہی ہے کہ وہ ہمارے حال پر رحم فرمائے گا، پھر بھی اگر تم لوگ اس معاملے میں ہم سے جھگڑتے ہو تو تم انتظار کرو، عنقریب تمہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کھلی گمراہی میں کون ہے ہم یا تم ؟ بہرکیف اس ارشاد سے اعتماد علی اللہ کا درس دیا گیا ہے کہ بھروسہ اور توکل کے لائق وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اس لیے قرآن حکیم میں جا بجا اور طرح طے سے توکل علی اللہ کا درس دیا کیا ہے مثلاً سورة فرقان میں ارشاد فرمایا گیا کہ بھروسہ ہمیشہ اسی ذات پر رکھو جو ہمیشہ کے لئے زندہ ہے اور اس پر کبھی متو نہیں آتی۔ " وتوکل علی الحیی الذی لایموت " (الفرقان)
38 منکرین کے لئے آخری جواب : سو اس سے منکرین کو آخری جواب دے دیا گیا کہ اگر تم لوگ پھر بھی نہیں مانتے تو تمہاری مرضی۔ عنقریب تمہیں معلوم ہو جئے گا کہ کھلی گمراہی میں کون ہے ؟ : جب تم ابتئا و آزمائش کے اس جہاں سے گزر کر کشف حقائق اور ظہور نتائج کے اس جہاں میں پہنچو گے، کہ اس وقت ہر چیز اپنی اصلی شکل میں سامنے آجائے گی اور تم رہ رہ کر افسوس کرو گے کہ مینے راہ حق و صواب کو کیوں نہ اختیار کیا، مگر بےوقت کے اس افسوس سے تمہیں کوئی فائدہ نہ و گا، بجز اپنی یاس و حسرت میں اضافے کے، والعیاذ باللہ العظیم اس روز ظالم انسان مارے حسرت و افسوس کے اپن ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائے گا جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ہے، ویوم یعض الظالم علی یدیہ یقول یالیتنی اتخذت مع الرسول سبیلاً (الفرقان :27) سو اس میں منکرین کے لئے تہدید و تخویف ہے کہ باز آجاؤ تم لوگ اپنے کفر و باطل سے قبل اس سے کہ فرصت خیات تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور تمہیں ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہونا پڑے۔ والعیاذ باللہ العظیم
Ayah 67:3039 ۔ منرین کے دلوں پر ایک دستک : سو اس سے منکرین کے قلوب و ضمائر پر ایک دستک کے طور پر اور ان کو جھنجھوڑنے کے لئے ان سے ایک اور سوال کیا گیا۔ سو اس ضمن میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ کیا تم نے کبھی سوچا کہ اگر تمہارا پانی نیچے چلا جائے ؟ اور اتنا نیچے چلا جائے کہ نہ تمہاری رسیاں اور تمہارے ڈھول وہاں تک پہنچ سکیں اور نہ تمہایر پائپوں اور نلکوں کی وہاں تک رسائی ہو سکے اور نہ تمہاری مشینیں اور تہارے ٹیوب ویل اس کو کھینچ کر اوپر لاسکیں، جیسا کہ بعض اوقات ایسے ہوتا ہے کہ وہ پانی جو کہ عام طور پر چند فٹ کی گہرائی پر نکل آتا ہے، وہ سینکڑوں فٹوں کی کھودائی پر بھی نہیں مل سکتا، جس سے باغات وغیرہ خشک ہنے لگتے ہیں، سو جس خالق ومالک نے پانی قدرت کاملہ، رحمت شاملہ اور حکمت بالغہ سے پانی کے اتنے بڑے بڑے ذخائر تمہارے لئے سطح زمین کے نیچے اس کثرت وبہتات سے سٹور کر رکھے ہیں، جن سے تم لوگ جگہ جگہ اور طرح طرح سے اور نہایت سہولت اور آسانی کے ساتھ مستفید ہوتے ہو، اسی کو بھول جانا یا اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرلینا کس قدر ظلم اور کتنی بڑی ناانصافی ہے، والعیاذ باللہ العظیم سو کیا تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا اور اس بارے غور کیا کہ اگر یہ پانی اتنا نیچے چلا جائے کہ تمہیں جان کے لالے پڑجائیں تو تمہیں یہ کون لا کر دے گا ؟ سو پانی کی یہ عظیم الشان نعمت جو تم لوگوں کو اس قدر آسانی اور اتنی سہولت اور فراوانی سے مل رہی ہے اگر اسی کے بارے میں تم لوگ صحیح معنی میں سوچ اور غور و فکر سے کام لو تو تم دل و جان سے اپنے اس خالق ومالک کے آگے جھک اؤ اور ہر وقت اس کے حضور جھکے ہی رہو۔ مگر مشکل اور مشکلوں کی مشکل یہ ہی کہ تم لوگ اس بارے سوچتے ہی نہیں ہو بلکہ محض حیوانوں کی طرح اس سے فائدہ اٹھاتے ہو۔ والعیاذ باللہ العظیم
40 پانی کی نعمت قدرت ایک عظیم الشان عنایت : سو پانی کی نعمت اور اس سے سرفرازی اللہ تعالیٰ ہی کی رحمت و عنایت کا نتیجہ و ثمر ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے پوچھو کہ کیا تم لوگوں نے اس بارے بھی کبھی سوچا کہ اگر تمہارا یہ پانی جس پر مشتق ہے جس کے معنی کثرت سے نکلنے والے پانی کے ہیں، یعنی میٹھا صاف اور بکثرت نکلنے والا پانی، اس صورت میں یہ فعیل بمعنی فاعل ہوگا اور یا یہ عین سے مشتق و ماخوذ ہے، جس کے معنی چشمے کے بھی آتے ہیں اور آنکھ کے بھی، تو تب یہ فعیل بمعنی مفعول ہوگا اور اس کے معنی ہوں گے ایسا پانی جو ظاہری آنکھوں سے نظر آسکے، (قرطبی وغیرہ) بہرکیف پانی جو کہ مابہ الحیاۃ ہے اور جس پر ہر ذی روح کی زندگی کا دار و مدار اور انحصار ہے، اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے، اس سے وہ قادر مطلق نہایت پر حکمت طریقے سے اپنی مخلوق کو نوازتا ہے، ورنہ سوائے اس خدائے رحمٰن اور قادر مطلق سبحانہ و تعالیٰ کے اور کون ہے جو ایسا کرسکے اور صاف و ستھرے پانی کی سوتیں جاری کرسکے، تو پھر اسی ودہ لاشریک کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرانے کا استحقاق کسی اور کسی اور کیونکر ہوسکتا ہے ؟ حدیث شریف میں وارد ہے کہ اس آیت کریمہ کی تلاوت پر انسان کو کہنا چاہئے اللہ رب العالمین، یعنی اللہ رب العالمین ہی اس کو لاسکتا ہے اور کسی کے بس میں نہیں، (معارف وغیرہ) قللہ الحمد والشکر کما یحث ویرضی جل جلالہ۔